Tarap Dil Ki By Ramsha Hayat Readelle 50058 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
شیزا آج میری کس کس کے ساتھ میٹنگز ہیں؟ارسم نے اپنے سر کو ہاتھ کی دو انگلیوں سے دباتے ہوئے پوچھا۔
تو شیزا جو اس کی سیکرٹری تھی۔اس کی میٹنگز کے بارے میں بتانے لگی۔
ساری میٹنگز کینسل کر دو اور خان کہاں ہے؟
ارسم نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے پوچھا۔
وہ اپنے روم میں ہیں۔
شیزا نے کہا۔
ٹھیک ہے ارسم کہتے ہی اُٹھ کر اپنے آفس سے باہر چلا گیا۔
دروازہ ناک کرتے ارسم خان کے روم میں داخل ہوا جو عروہ کی کوئی بات سن رہا تھا۔
عروہ کو دیکھتے ہی اس نے حیرانگی سے خان کی طرف دیکھا۔
عروہ ایک نظر ارسم کو دیکھتے وہاں سے چلی گئی تھی آج اس نے پہلی بار ارسم کو آفس میں دیکھا تھا اور اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔
خان یہ تمھاری نئی سیکرٹری ہے؟ ارسم نے لہجے میں حیرانگی لیے پوچھا۔
ہاں لیکن تم اتنے حیران کیوں ہو رہے ہو؟ خان نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
نہیں تمھاری سیکرٹری کا حلیہ اس بار کافی مختلف ہے۔اس لیے تھوڑا عجیب لگا۔لیکن خوبصورت تو ہے۔
ارسم نے خان کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔
تم مجھے اُس کے آس پاس نظر نہیں آؤ گئے ارسم جتنا ہو سکے اس سے دور رہنا خان نے اسے وارن کرتے کہا۔
کہی یہی وہ لڑکی تو نہیں جس کی وجہ سے تم نے دادا جان کو رشتہ ختم کرنے کا کہا؟
ارسم نے مشکوک انداز میں پوچھا کیونکہ وہ کافی دنوں بعد آفس آیا تھا۔
شٹ اپ اپنے دماغ کو تھوڑا پرسکون بھی ہونے دیا کرو ہمیشہ الٹا ہی سوچتے ہو۔
خان نے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
میں نے تو صرف پوچھا۔اور لڑکی تو پیاری ہے۔اور خوبصورتی کی تعریف کرنی چاہیے۔
ارسم نے اسے چڑھانے والے انداز میں کہا۔
ارسم اگر تمہیں کوئی کام ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جاؤ یہاں سے کیونکہ تمھاری بیکار کی باتیں سننے کا میرے پاس وقت نہیں ہے۔خان نے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظریں جمائے سنجیدگی سے کہا۔
ضروری بات ہی کرنے آیا تھا لیکن پھر تمھاری سیکرٹری نظر آگئی۔
ارسم نے خان کو دیکھتے کہا جس نے اسے گھوری سے نوازہ تھا۔
اچھا ٹھیک ہے اب کچھ نہیں کہوں گا۔
مجھے تم سے اپنے نکاح کی بات کرنی تھی۔
تو کیا تم میری مدد کرو گئے یا مجھے خود ہی کچھ نا کچھ کرنا پڑے گا؟ ارسم نے سنجیدگی سے خان کو دیکھتے پوچھا۔
اگر وہ لڑکی حمزہ سے شادی کر بھی لیتی ہے تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ جہاں تک مجھے لگتا ہے حمزہ اُس لڑکی کو پسند کرتا ہے اور اُس کا اچھے سے خیال رکھے گا۔خان نے لیپ ٹاپ بند کرتے ارسم کو دیکھتے کہا۔
تمہیں لگتا ہے کہ حمزہ کبھی سدھر سکتا ہے اور یہ بات تم تو اچھی طرح جانتے ہو۔
اُس انسان سے اچھے کی امید نہیں رکھی جا سکتی اور میں نہیں چاہتا کہ اُس کی وجہ سے کسی معصوم کی زندگی خراب ہو۔ارسم نے کہا تو خان ہلکا سا مسکرا پڑا تھا۔
اور جو تم اُس لڑکی کی مدد کرنے کے چکر میں اُس سے زبردستی نکاح کرو گئے کیا وہ تمہارے بارے میں اچھے خیالات رکھے گی؟
اُسے تو اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے وہ تو تمہیں ہی غلط سمجھے گی۔خان نے ناسمجھی سے کہا۔
مجھے فرق نہیں پڑتا خان مجھے بس اُس سے نکاح کرنا ہے بس ایک بار نکاح ہو جائے پھر وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔
ارسم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی تمہیں جس طرح کی بھی مدد کی ضرورت ہو گی میں کروں گا۔لیکن اُس لڑکی کا تمہیں شوہر کی طرح ہی خیال رکھنا ہو گا اور جب حمزہ کو نکاح کا پتہ چلے گا تو وہ کسی بھی طرح آرام سے نہیں بیٹھے گا۔
خان نے پر سوچ انداز میں کہا۔
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی خان فلحال تو میں اُس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ابھی نکلتا ہوں۔مجھے ایک ضروری کام ہے ارسم نے کھڑے ہوتے کہا۔
تم اُس لڑکی سے محبت تو نہیں کرتے۔ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟ خان نے ارسم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ٹھیک کہا تم نے میں اُس سے محبت نہیں کرتا کیونکہ ہماری پہلی ملاقات میں ہی اُس لڑکی نے بنا سوچے سمجھے بھری مارکیٹ میں مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا۔مجھے صرف اُس لڑکی سے ہمدردی ہے۔ارسم نے کندھے اچکاتے کہا اور وہاں سے نکلنے لگا جب عروہ دروازہ ناک کرتے اندر آئی۔
مس بیوٹی کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں؟ ارسم نے خان کو دیکھتے عروہ سے پوچھا۔
خان کھا جانے والی نظروں سے ارسم کو دیکھ رہا تھا۔
عروہ
عروہ نے ارسم کو دیکھتے کہا۔
بہت خوبصورت نام ہے بلکل تمھاری طرح اور اس سے پہلے ارسم مزید عروہ کی تعریفوں کے پل باندھتا خان کی سرد آواز کمرے میں گونجی تھی۔
ارسم تم یہاں سے جاؤ گئے یا میں خود تمھیں باہر تک چھوڑنے آؤں؟
خان نے دانت پیستے کہا۔
نہیں صفوان خان اس کی ضرورت نہیں ہے میں خود چلا جاؤں گا۔
ارسم نے مسکراہٹ دباتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔عروہ حیرانگی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
مس عروہ آپ کو کوئی کام تھا؟ صفوان خان نے عروہ کو دیکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
جی سر عروہ کہتے ہی صفوان کی طرف بڑھی جب کوئی آندھی طوفان کی طرح دروازہ کھولے اندر آیا تھا۔
صفوان کے ساتھ عروہ نے بھی دروازے کی طرف دیکھا۔جہاں ثانیہ سرخ چہرہ لیے اندر آئی ثانیہ کو دیکھتے ہی خان کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
تمھاری ہمت کیسے ہوئی مسٹر صفوان خان اس رشتے کو توڑنے کی میں اتنے سالوں تک تمھارے نام سے جڑے بیٹھی رہی اور اب تم نے اتنی آسانی سے رشتہ ختم کر دیا؟
ثانیہ نے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے خان کی طرف جھکتے ہوئے غصے سے کہا۔
عروہ تو ثانیہ کو کھڑی دیکھ رہی تھی آخر یہ کون تھی جو خان سے اس لہجے میں بات کر رہی تھی۔
اور تم باہر جاؤ یہاں کیوں کھڑی ہو؟ ثانیہ نے عروہ کو دیکھتے سرد لہجے میں کہا۔
جو اثبات میں سر ہلائے وہاں سے جانے لگی۔
جب تک میں نا کہوں تم کہی نہیں جاؤ گی۔خان نے عروہ کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
عروہ نے بےبسی سے جان کو دیکھا تھا۔
تم نے ہر ایک کو مجھ پر فوقیت دینی ہوتی ہے چاہے وہ تمہارے گھر کے ملازم ہو یا آفس کے ثانیہ نے چیختے ہوئے کہا۔
خبردار اگر تم نے ان کے لیے ملازم کا لفظ استعمال کیا تمھاری زبان کھینچ کر نکال لوں گا۔اور ابھی میرے آفس سے نکلو ورنہ گارڈ کو بلا کر دھکے دے کر باہر نکلوا دوں گا۔
خان نے کھڑے ہوتے کرخت لہجے میں کہا۔
تم مجھے یہاں سے نکواؤ گئے؟ ثانیہ نے بےیقینی سے پوچھا۔
عروہ کو لگ رہا تھا اس نے ثانیہ کو کہی دیکھا ہے۔
لیکن کہاں اسے یاد نہیں آرہا تھا۔
تم جا رہی ہو یا گارڈ کو بلواؤں؟ خان نے کھڑے ہوتے دروازے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
میری ایک بات یاد رکھنا صفوان خان مرتے دم تک میں تمھارا پیچھا نہیں چھوڑوں گی۔
ثانیہ نے غصے سے کہا اور پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔
عروہ ابھی بھی وہی کھڑی تھی۔
یہ کون تھی؟ عروہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
میری منگیتر صفوان نے عام سے لہجے میں کہا۔
بہت خوبصورت ہے۔عروہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
لیکن اس کی بڑبڑاہٹ صفوان سن چکا تھا۔
اس سے بچ کر رہنا آگے جاکر یہ تمھاری دشمن بننے والی ہے۔صفوان چلتا ہوا عروہ کے پاس آیا اور تھوڑا اس کے کان کے پاس جھک کر کہتے ہی وہاں سے چلا گیا۔
میری دشمن وہ کیوں بنے گی؟ عروہ نے حیرانگی سے سوچا پھر کندھے اچکا کر خود بھی وہاں سے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
خان کا پورا نام صفوان خان تھا۔اس کے والدین کا بہت پہلے انتقال ہو گیا تھا۔اس کا ایک بھائی بھی تھا۔
وہ بھی ایک حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔
خان پڑھائی کے لیے بہت سا عرصہ باہر رہا تھا لیکن ایسا دادا جان اور باقی سب کو لگتا تھا لیکن کچھ سال باہر گزارنے کے بعد خان واپس پاکستان آگیا تھا اور اس بارے میں صرف ارسم کو معلوم تھا۔
یہاں آتے اس نے اپنے بزنس کو مزید کامیابی کی بلندیوں تک پہنچایا اور آج ان کی کمپنی کا شمار ملک کی بڑی کمپنیوں میں ہوتا تھا۔
آج وہ جانا مانا بزنس مین تھا۔
لیکن کچھ خیالات اسے سکون سے جینے نہیں دے رہے تھے۔
کچھ خواب آج بھی اس کا پیچھا کرتے تھے اور ان دور بھاگتے ہوئے صفوان تھک گیا تھا۔
اب وہ سب چیزوں کا مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔
اُس سب لوگوں کو ختم کر دینا چاہتا تھا جس نے اس کے اپنوں کو تکلیف دی تھی۔
عروہ خان کے ساتھ چل رہی تھی اس نے بھی بلیک کلر کا سوٹ پہنا تھا اور خان نے بھی بلیک کلر کی پینٹ شرٹ پہنی تھی جس بھی وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔
مس عروہ آپ اندر کیوں نہیں آرہی؟ صفوان نے لفٹ میں داخل ہوتے عروہ کو باہر کھڑے دیکھا تو پوچھا۔
وہ سر میں سیڑھیوں سے آجاتی ہوں۔
عروہ نے جلدی سے کہا شاید صفوان کے ساتھ اکیلے جانے میں اسے ڈر لگ رہا تھا۔
صفوان نے آگے بڑھتے اسے بازو سے کھنچ کر لفٹ کے اندر کیا۔
اگر مجھے آپ کے ساتھ کچھ کرنا بھی ہوگا تو میں موقع تلاش نہیں کروں گا۔بلکہ کر گزروں گا۔اس لیے اپنے چھوٹے سے دماغ میں فضول کے خیالات نا لایا کریں۔
صفوان نے سامنے دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔
عروہ کو اپنی سوچ پر شرمندگی تو ہوئی تھی لیکن وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہی وجہ تھی جو میں لفٹ میں نہیں آرہی تھی؟
عروہ نے صفوان کو دیکھتے پوچھا۔
تو پھر مجھ سے دور بھاگنے کی کیا وجہ تھی مس عروہ؟ صفوان نے اچانک عروہ کی طرف اپنا رخ موڑا اور اس کی جانب اپنے قدم بڑھانے لگا۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ عروہ نے صفوان کو خود کے قریب آتے دیکھا تو بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا۔
آپ کا جواب سننا چاہتا ہوں۔آپ مجھ سے دور کیوں بھاگتی ہیں؟ صفوان نے عروہ کے قریب آتے دائیں جانب دیوار پر ہاتھ رکھتے گہرے لہجے میں پوچھا۔
وہ عروہ کے اس قدر قریب آگیا تھا کہ اس کے تیز پرفیوم کی خوشبو کو اپنے بےحد قریب محسوس کر سکتی تھی۔
میں آپ سے دور نہیں بھاگ رہی۔عروہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
مس عروہ آپ کیا اتنی معصوم ہیں یا بننے کا ڈرامہ کرتی ہیں؟
صفوان کی نظریں بھٹکتے ہوئے عروہ کے ہونٹوں کی طرف جا رہی تھیں۔
آپ عروہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہے صفوان کے قریب آنے پر اس کی اپنی حالت عجیب ہو رہی تھی۔
مس عروہ مجھ سے دور رہا کریں۔کیونکہ جب آپ میرے قریب آتی ہیں تو میں اپنے ارادوں سے بھٹک جاتا ہوں۔
صفوان نے گہرے لہجے میں عروہ کو دیکھتے کہا۔جو سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
صفوان اس کے خوفزدہ چہرے کو دیکھتے پیچھے ہو گیا۔
عروہ نے اپنا سانس بحال کیا تھا۔
لفٹ کے رکتے ہی عروہ جلدی سے باہر آئی لیکن جتنی جلدی وہ وہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔ اتنی ہی تیزی سے سامنے آتے انسان کو دیکھتے دوبارہ لفٹ میں آگئی۔
صفوان جو لفٹ سے نکل رہا تھا عروہ کے ٹکرانے سے دوبارہ لفٹ میں آگیا۔
لیکن صفوان حمزہ کو دیکھ چکا تھا اور عروہ کے چہرے کا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
عروہ بوکھلائے ہوئے انداز میں لفٹ کے بٹن دبانے لگی۔
صفوان کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
اس نے آگے بڑھتے عروہ کو کلائی سے پکڑتے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
لفٹ کا دروازہ دوبارہ سے بند ہو گیا تھا۔
مجھے بتانا پسند کریں گی آپ کہ کس سے اتنا خوفزدہ ہو رہی ہیں آپ؟ صفوان نے عروہ کی خوف سے پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیتے پوچھا۔
جو اتنا ڈر گئی تھی کہ اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔
وہ.. اس سے پہلے عروہ کچھ کہتی اسے اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آتا محسوس ہوا اور وہی صفوان کی بانہوں میں بےہوش ہو گئی۔
صفوان سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔اسکی نظر اس کے گردن کے نشان پر پڑی تھی۔
اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر عروہ کے نشان کو اپنی انگلی کی پور سے چھوا۔
یہ نشان تمہیں بہت تکلیف دیتا ہے۔
صفوان نے اس کے نشان کو دیکھتے کہا۔اور اپنا موبائل نکالے ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا کہتے ہی عروہ کو اپنا بانہوں میں اٹھائے وہاں سے لے گیا۔
💜 💜 💜 💜
