51.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

ارسم یہ سب کچھ کیا تھا؟
ارسم اپنے کمرے میں داخل ہوا تو ملائکہ نے حیرانگی سے اسے دیکھتے پوچھا۔
خدا کی بندی اس وقت تمہیں گھونگھٹ نکال کر میرا انتظار کرنا چاہیے تھا اور تم یہاں کھڑی میرے سے سوال کر رہی ہو؟ ارسم کے اسے دیکھتے گھور کر کہا۔
یہ سب کچھ اُس وقت کرتے ہیں جب شادی لڑکا اور لڑکی دونوں کی رضا مندی سے ہوئی ہو۔ملائکہ نے رخ موڑے کہا۔
ملائکہ کی بات پر ارسم کا چہرہ سیریس ہوا تھا۔
ملائکہ ارسم نے سنجیدگی سے اسے پکارا۔
ملائکہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور اسے یہ دیکھ کر حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا کہ ارسم اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانو کو پکڑا ہوا تھا۔
مسز ارسم کیا آپ اپنے شوہر کی آخری غلطی سمجھ کر اسے معاف کر دیں گی؟ میں وعدہ کرتا ہوں آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔
ارسم نے اس قدر سنجیدگی سے کہا کہ نا چاہتے ہوئے بھی ملائکہ ہنس پڑی تھی۔
وہ بھی ارسم کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
اس وقت آپ مجھے اس طرح کان پکڑے بیٹھے بہت پیارے لگ رہے ہیں۔بلکل ایک چھوٹے سے بچے کی طرح ملائکہ نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
مسز اب میں پوری رات تو ایسے نہیں بیٹھ سکتا۔پلیز اپنے شوہر کو معاف کر دو ارسم نے معصومیت سے کہا۔
ٹھیک ہے۔لیکن ایک شرط پر میں معاف کرو گی آپ ہمیشہ میری بات مانے گئے۔اگر میں کبھی کوئی غلطی کرتی ہوں تو آپ مجھے کبھی نہیں ڈانٹے گئے۔
ملائکہ نے مسکرا کر کہا۔
مجھے منظور ہے۔
تمھاری ہر بات منظور ہے۔
ارسم نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے پیار سے کہا۔
تو ٹھیک ہے میں نے بھی آپ کو معاف کیا۔
ملائکہ نے گردن اکڑا کر کہا۔
ارسم اس کا چہرہ دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
اس نے کھڑے ہوتے ملائکہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔
ارسم یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ملائکہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
ارسم نے اسے آرام سے بیڈ پر بیٹھایا اور اور خود بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
ملائکہ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
جانتی ہو تمھارے گفٹ نے کتنا مجھے خوار کیا۔مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ میں تمھارے لیے کیا لوں پھر میں نے سوچا کہ کیوں نا تمہیں اپنا کریڈٹ کارڈ دے دوں تمھارا جو دل کرے تم وہ لے لینا۔
اور پھر یہ آئیڈیا مجھے ٹھیک بھی لگا تو یہ ہے میرا کریڈٹ کارڈ تو جو تمھارا دل کرے لے لینا۔
ارسم نے ملائکہ کے سامنے اپنا کریڈٹ کارڈ کرتے کہا۔
مجھے یہ نہیں چاہیے مجھے گفٹ ہی چاہیے آپ منہ دکھائی کا تحفہ نہیں لائے؟ لائبہ نے گھورتے ہوئے کہا۔
ارسم اس کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا۔
میڈم تمھارا منہ تو میں کئی بار دیکھ چکا ہوں اور اب تم کون سا گھونگھٹ نکال کر بیٹھی تھی۔
ارسم نے بھی ڈبل گھوری سے نوازتے ہوئے کہا اس کا ارادہ شاید ملائکہ کو تنگ کرنے کا تھا۔اور اسے مزہ بھی آرہا تھا۔
آپ شادی کی پہلی رات مجھے تانے مارنے لگے ہیں ابھی تو پوری زندگی پڑی ہے۔پھر کیا کریں گئے آپ ؟ ملائکہ نے دانت پیستے ارسم کو دیکھتے کہا۔
میں نے کب تانا مارا۔میڈم اسے تانہ مارنا نہیں کہتے صحیح والے تانے تو تمھاری ساسوں ماں مارے گی۔
ارسم نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔
اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ساسوں ماں اچھی ملی ہیں لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ساسوں ماں کا کام میرے شوہر سر انجام دیں گئے۔
ملائکہ نے کہتے ہی وہاں سے اٹھنا چاہا جب ارسم نے اس کا ہاتھ پکڑے اسے دوبارہ بیڈ پر بیٹھایا تھا۔
فکر مت کرو مسز میں صرف شوہر والا کام ہی سر انجام دوں گا۔
ارسم نے ملائکہ کے سرخ ہونٹوں پر اپنی نظریں گاڑھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا۔
ملائکہ ایک دم گھبرا گئی تھی۔
مجھے چینج کرنا ہے۔ملائکہ نے جلدی سے کہا۔
اپنا گفٹ تو لیتی جاؤ۔ارسم نے کہا اور دو سونے کے کنگن ملائکہ کی خوبصورت کلائی پکڑے اس میں پہنانے لگا۔
یہ تمھاری ساسوں میں نے دیے ہیں سنبھال کر رکھنا۔
انہوں نے جب میں چھوٹا تھا تو ڈیڈ کے ساتھ ضد کرکے گئی تھی کہ ارسم کی دلہن کے لیے بنوانے ہیں بعد میں زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ارسم نے ملائکہ کی طرف دیکھتے کہا اور آخر میں چہرے پر تکلیف دہ مسکراہٹ لیے ہنس پڑا۔
ملائکہ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اس وقت اچانک ارسم کے دماغ میں ایک خیال آیا اس نے مسکراہٹ دباتے جھک کر ہلکا سا ملائکہ کو ہونٹوں کو چھوا اور ڈریسنگ کی کی طرف چینج کرنے چلا گیا۔
ملائکہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔لیکن جیسے ہی سمجھ سمجھ آئی اس نے ڈریسنگ کے بند دروازے کی طرف گھور کر دیکھا اور خود فریش ہونے چلی گئی۔
💜 💜 💜 💜
خان چینج کرکے واپس آیا تو عروہ ابھی تک وہی کھڑی ہاتھوں کو مڑوڑ رہی تھی۔
آپ نے ابھی تک چینج نہیں کیا؟ یا یہ ڈریس آپ کو کچھ زیادہ ہی پسند آیا ہے؟ خان نے سینے پر ہاتھ رکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
وہ میں تو گھر سے اپنا کوئی سوٹ ہی نہیں لائی۔
عروہ نے اپنی پریشانی بیان کرتے کہا۔
اوہ یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہو گیا۔اب آپ کیا کریں گی عروہ؟ خان نے مصنوعی پریشانی سے عروہ کو دیکھتے کہا جو خود پریشان لگ رہی تھی۔
آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ کیا کرنے والے ہیں؟ اور امی بھی اکیلی ہوں گی اُنکو بھی میں نے کچھ نہیں بتایا۔عروہ نے پریشانی سے کہا تو خان چلتا ہوا عروہ کے قریب گیا۔
اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود کے قریب کیا۔
آپ کی امی پریشان نہیں ہو رہی ہوں گی۔اُن سے میں رخصتی کی اجازت لے چکا ہوں۔
اور اُن کے پاس ملازمہ ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
خان نے کہا تو عروہ نے حیرانگی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔
پہلے وہ خان کے قریب آنے پر گھبرائی تھی اور اب گھبراہٹ کی جگہ حیرانگی نے لے لی تھی۔
آپ نے اُن کو نکاح کا بتا دیا؟ عروہ نے پوچھا تو خان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
آپ نے اُن سے کیا کہا؟ وہ تو غصے میں ہوں گی۔عروہ نے پریشانی سے کہا۔
نہیں وہ غصے میں نہیں ہیں اور میں چاہتا تھا آپ خود ہمارے نکاح کا اُن کو بتائیں لیکن آپ کے ارادے دیکھ کر تو مجھے لگ رہا تھا آپ کو اگر پوری زندگی بھی اس حقیقت کو چھپانا پڑا تو آپ چھپائیں گی۔اس لیے آپ پریشان نا ہوں وہ ساری حقیقت جانتی ہیں اور اُن کو اس نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
خان نے تحمل سے عروہ کو ساری بات بتاتے کہا۔
وہ جانتی تھی کہ صفوان کبھی جھوٹ نہیں بولتا تو جو کچھ اس نے کہا وہ سب سچ ہی ہو گا۔اور اس کی ماں کو اس نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اس احساس نے ہی اسے پرسکون کر دیا تھا۔
خان عروہ سے پیچھے ہوتے چلتا ہوا الماری کے پاس گیا اور اور اندر سے ایک سوٹ نکال کر عروہ کی طرف بڑھایا۔
الماری میں اور بھی کپڑے موجود تھے۔
یہ باقی سب بھی میرے سوٹ ہیں؟ عروہ نے الماری کی طرف اشارہ کرتے پوچھا۔
مسز میرے بیڈ روم میں میری بیوی کے علاوہ کس کے کپڑے ہو سکتے ہیں؟ خان نے الٹا سوال کیا تو عروہ اس کے سوال پر ایک دم بوکھلا گئی تھی۔
جائیں اور فریش ہو جائیں۔میں آپ کے لیے کھانا منگواتا ہوں آپ نے ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا۔
خان نے کہا جب عروہ جلدی سے بول پڑی تھی۔مجھے بھوک نہیں ہے۔عروہ نے کہا تو خان نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔
عروہ میں نے آپ سے پوچھا نہیں ہے آپ کو بتایا ہے جلدی سے چینج کرکے آئیں۔خان نے تھوڑا سخت لہجے میں کہا تو عروہ فورا چینج کرنے بھاگ گئ خان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
ثانیہ نے گھر جاتے ہی اپنے کمرے کی ساری چیزیں توڑ دی تھیں۔
وہ لڑکی کیسے میرے خان کو مجھ سے چھین سکتی ہے میں اُس کی جان لے لوں گی۔
ثانیہ نے چیختے ہوئے کہا۔
کوثر وہی رک گئی تھی اور عظمیٰ اپنی بیٹی کو روکنے کے چکر میں ہلکان ہو رہی تھی جو اس وقت پاگل بنی چیزیں توڑ رہی تھی۔
موم مجھے کیسی بھی حال میں خان چاہیے۔
ثانیہ نے اپنی ماں کو. دیکھتے کہا۔
اتنے میں رحمان وہاں آگیا تھا۔
اس نے سنجیدگی سے کمرے کی حالت دیکھی اور ثانیہ کی طرف اپنے قدم بڑھائے۔
ڈیڈ خان نے مجھے دھوکہ دیا ہے مجھے خان کسی بھی حال میں چاہیے۔ثانیہ نے بےبسی سے روتے ہوئے اپنے باپ ہو کہا۔
میری طرف دیکھو ثانیہ اور رونا بند کرو۔رحمان نے پیار سے ثانیہ کو دیکھتے کہا۔
جس نے سرخ آنکھوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھا تھا۔
مجھ پر یقین رکھو تمھارا باپ تمھاری خوشی لے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔تمہیں بس تھوڑا سا صبر کرنا ہے۔
رحمان نے پیار سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
آپ خان کو لے آئے گئے نا؟ ثانیہ نے کنفرم کرنا چاہا۔
ہاں بلکل خان صرف تمھارا ہے ابھی تم آرام کرو ہم. اس بارے میں کل بات کرتے ہیں ٹھیک ہے؟ رحمان نے کہا تو ثانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
عظمیٰ خاموش کھڑی باپ بیٹی کی باتیں سن رہی تھی۔اب ناجانے رحمان کیا کرنے والا تھا۔
لیکن رحمان جو بھی کرتا اُس میں ثانیہ تو خوشی ہو جاتی اگر کسی کا نقصان ہونا تھا تو وہ عروہ کا تھا۔
عظمیٰ خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکل گئی
تھوڑی دیر بعد رحمان بھی کمرے سے باہر آگیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ملازمہ کھانے کی ٹرے رکھ کر چلی گئی تھی۔
عروہ نے سادہ سا سفید رنگ کا سوٹ پہنا اور باہر آئی۔
خان اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
عروہ تھوڑا جھجھکتے ہوئے آگے بڑھی آج تو اسے صفوان الگ ہی طرح کا انسان لگ رہا تھا۔
خان نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو عروہ اسکے سامنے بیٹھ گئی۔
اسے بھوک تو لگی تھی لیکن جو کچھ اس کے ساتھ آج ہوا تھا۔وہ سب اس کے لیے بلکل نیا تھا جس کے لیے وہ تیار بھی نہیں تھی۔اس لیے ٹھیک سے کھانا نہیں کھا پائی۔
آپ خود کھانا کھائیں گی یا میں اپنے ہاتھوں سے آپ کو کھلاؤں؟
خان نے عروہ کے چہرے کی طرف دیکھتے پوچھا۔
نہیں میں خود کھا لوں گی۔عروہ نے جلدی سے کہا۔اور کھانا کھانے لگی۔خان کی نظر اس کے ہاتھ کی انگلی پر پڑی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
عروہ اپنے چہرے پر خان کی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔
آپ مجھے گھورنا بند کریں گئے؟
عروہ نے آخر میں اکتا کر کہا۔خان اس کی بات سن کر قہقہہ لگائے ہنس پڑا تھا۔
اس سے پہلے خان کچھ کہتا اس کا موبائل رنگ ہوا تھا۔
اس نے کال اٹینڈ کی مقابل وہ انسان تھا جسے خان نے وہاج کی دیکھ بھال کے لیے رکھا تھا۔اس نے بتایا کہ وہاج کو ہوش آگیا ہے۔
یہ سنتے ہی خان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
میں آرہا ہوں خان نے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
عروہ بھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
مجھے ایک ضروری کام سے جانا پڑ گیا ہے ۔
آپ آرام کریں صبح جلدی میں واپس آجاؤں گا۔خان نے موبائل رکھتے عروہ کو دیکھتے کہا۔
سب ٹھیک ہے؟ عروہ نے جلدی سے پوچھا۔
جی بلکل اب سب ٹھیک ہے۔اور آپ یہ مت سمجھنا کہ میں کسی لڑکی کے پاس جا رہا آپ کو رات کے اس پہر چھوڑ کر خان نے کھڑے ہوتے اسے گہری نظروں سے دیکھتے کہا۔
میں نے تو ایسا سوچا بھی نہیں ہے۔عروہ نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا۔اس وقت وہ خان کو بہت کیوٹ سی بچی لگی تھی۔
اس نے آگے بڑھتے جھک کر عروہ کے ماتھے پر بوسہ دیا۔آپ کبھی ایسا سوچیں گی بھی نہیں کیونکہ خان صرف ایک لڑکی کو پسند کرتا ہے اور وہ ہے آپ جو اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہوئی ہیں۔اب مجھے کسی اور کی ضرورت نہیں ہے۔خان نے کہا اور پھر اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
عروہ نے اس کے جاتے ہی اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
جہاں ابھی بھی خان کا لمس محسوس تھا۔اس کے چہرے پر بےساختہ مسکراہٹ آگئی تھی جس کے بارے میں اسے بھی معلوم نہیں تھا۔
عروہ نے بیڈ پر لیٹتے سکون سے آنکھیں موندھ لی تھیں۔
💜 💜 💜 💜
رحمان اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا اور ثانیہ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔وہ ایسا کیا کرے کہ خان عروہ کو چھوڑ دے۔
اچانک اس کا موبائل رنگ ہوا اس نے نمبر دیکھتے موبائل کان سے لگایا۔
تم واپس آگئے؟
رحمان نے سیدھے ہوتے بیٹھتے بےیقینی سے پوچھا۔
تم مجھے کل ملو مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔
رحمان نے کہتے ہی ایک دو اور باتیں کرتے فون بند کر دیا۔اب وہ پرسکون تھا۔
کیسا لگے گا جب ایک باپ اپنی ہی بیٹی کی جان لے گا۔
رحمان نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لیے کہا۔
اس کے ادارے بہت خطرناک تھے۔
اپنے مطلب کے لیے وہ بہت سے گناہ کر چکا تھا جس کا اسے احساس نہیں تھا۔
اور نا کبھی ہونا تھا۔
💜 💜 💜 💜