110.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

تڑپدلکی

رمشا_حیات

قسط 7

امی مجھے آپ کو ایک بات بتانی تھی۔
عروہ نے اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
ہاں کہو کیا بات ہے۔اور آج تم سکول بھی نہیں گئی خیریت؟ تمھاری طبعیت ٹھیک ہے؟ بلقیس نے عام سے لہجے میں پوچھا۔
جی امی میں ٹھیک ہوں میں نے وہ جاب چھوڑ دی ہے۔
عروہ نے جلدی سے اپنی بات کہہ دی۔
بلقیس نے حیرانگی سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تھا۔
کیا مطلب؟ کوئی مسئلہ ہوا تھا؟ بلقیس نے حیرانگی سے پوچھا اب اس کا پورا دھیان عروہ کی طرف تھا۔
امی وہاں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔لیکن آپ کو معلوم ہے کہ میں نے کافی جگہ اپنی سی وی بھیجی تھی تو ایک بہت بڑی کمپنی سے مجھے انٹرویو کے لیے کال آئی تھی۔
میں نے سوچا کہ انٹرویو دے دیتی ہوں کیونکہ مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ میری جاب وہاں ہو گی۔
لیکن انہوں نے انٹرویو کے بعد مجھے بلا لیا اور سیلری بھی اچھی دے رہے ہیں۔اس لیے میں نے سکول کی جاب چھوڑ دی۔
پک اینڈ ڈراپ بھی کمپنی دے رہی ہے اگر آپ چاہے تو میرے ساتھ چل کر دیکھ سکتی ہیں۔
عروہ نے سوچی سمجھی کہانی اپنی ماں کو سنا دی اُسے جھوٹ بولتے ہوئے برا تو بہت لگ رہا تھا لیکن اس وقت وہ مجبور تھی۔
بیٹا جی ابھی بھی مجھے بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور تمہیں تو یہاں تک جانے میں ڈر لگتا تھا تو اتنی دور کیسے جاؤ گی؟ بلقیس نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
امی میں ہمیشہ ایسے ڈر کر تو نہیں رہ سکتی نا عروہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اپنا خیال رکھنا اور کب سے جانا ہے تم نے؟ بلقیس نے پوچھا۔
پرسوں سے اور امی ملائکہ تو دن میں اتنے چکر لگاتی ہے اب آئی کیوں نہیں؟ عروہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
ہاں میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہی اُس کی طبعیت خراب نا ہو۔تم اُس کی خیریت معلوم کر آؤ بلقیس نے کہا۔
جی امی عروہ کہتے ہی اپنی جگہ سے اُٹھی لیکن اس کے جانے سے پہلے ہی ملائکہ وہاں آگئی تھی اس کے سر کا زخم اب ٹھیک تھا لیکن ہاتھ میں ابھی بھی درد تھا۔
تمہیں کیا ہوا؟ عروہ نے ملائکہ کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
بلقیس نے بھی اس کی طرف دیکھا تھا۔
کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔
ملائکہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ایک پورا دن وہ کمرے میں بند رہی تھی۔
وہ خود نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ وہ کس طرح کی مصیبت میں پھنس چکی ہے۔
ایک کو تو اُس نے تھپڑ مارا تھا اور دوسرے نے اس کی مدد کی تھی۔لیکن دونوں اس کے لیے اجنبی تھے۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ باہر جانا چھوڑ دے گی نا باہر جائے گی نا اُن دونوں میں سے اسے کوئی ملے گا اور یہ فیصلہ کرتے وہ کافی حد تک مطمئن ہو گئی تھی۔
تم اپنا خیال رکھا کرو اگر زیادہ چوٹ لگ جاتی تو؟ بلقیس نے پریشانی سے کہا۔
جی آنٹی ملائکہ نے مسکرا کر کہا۔
عروہ اس کو بازو سے پکڑے اپنے کمرے میں لے گئی۔
تمھارے ایڈمیشن کا کیا بنا؟ عروہ نے ملائکہ کو دیکھتے پوچھا۔
اُس کا کیا بننا تھا۔مجھے آگے نہیں پڑھنا۔
ملائکہ نے نظریں چراتے کہا۔
کیا مطلب؟ تم تو آگے پڑھنا چاہتی تھی تمھارا شوق تھا۔
تو پھر کیا مسئلہ ہو گیا؟
عروہ نے حیرانگی سے ملائکہ کو دیکھتے پوچھا۔
بس اب میرا موڈ نہیں ہے۔
میں تو سوچ رہی ہو شادی کروا لیتی ہوں شادی زیادہ بہتر ہے تم کیا کہتی ہو؟ ملائکہ نے بات کو بدلتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
ضرور کوئی بات ہوئی ہے ورنہ تمھارا فیصلہ ایک دن میں بدل نہیں سکتا لیکن میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ کسی کی بھی وجہ سے اپنی خواہشات کو ادھورا مت چھوڑنا۔
میں تمھارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہو عروہ نے سنجیدگی سے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
ملائکہ نے گہرا سانس لیا تھا اب وہ اسے کیا بتاتی کہ کیوں وہ یونی جانا نہیں چاہتی۔
💜 💜 💜 💜💜

آفاق اور حمزہ کے علاوہ باقی سب لوگ دادا جان کی طرف آئے تھے ویسے تو کسی کو امید نہیں تھی کہ وہ لوگ یہاں آئے گئے لیکن وہ آئے تھے۔
خان اور ارسم بھی گھر پر ہی تھے۔بسمہ نے پلان بنایا تھا کہ پوری فیملی باہر کھانا جائے گئے۔لیکن اب پلان کنسل ہو گیا تھا۔
ثانیہ تو اچھی طرح تیار ہو کر آئی تھی لیکن پھر بھی خان نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔
ثمینہ بیٹھی بسمہ کو گھور رہی تھی۔
اور بسمہ ان کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔
وہاج کو تو اگر کوئی ساتھ چلنے کا نا بھی کہتا تو اُس نے ساتھ ضرور آنا تھا۔
دادا جان مجھے آپ سے معافی مانگنی تھی اور بسمہ اس سے پہلے رحمان بسمہ کو دیکھتے کچھ کہتے خان بول پڑا تھا۔
بسمہ جاؤ یہاں سے خان نے سنجیدگی سے کہا تو بسمہ اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے چلی گئی۔
بسمہ کو اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں اور نا ہی اُسے کچھ پتہ چلنا چاہیے۔
خان نے رحمان کو دیکھتے کہا۔
یہ تو اچھی بات ہے رحمان نے ہنستے ہوئے کہا۔
لیکن دادا جان میں آپ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔
مجھے آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔
ثانیہ کو غلط فہمی ہوئی تھی۔میں شرمندہ ہوں اور میں خود یہاں آکر آپ سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔
اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ بسمہ کو اپنی بیٹی بنا لوں اگر آپ کو مناسب لگے تو رحمان نے جیسے ہی کہا تو وہاج جس نے لبوں سے پانی کا گلاس لگایا ہوا تھا۔زور زور سے کھانسنے لگا۔
خان نے سنجیدگی سے وہاج کی طرف دیکھا تھا۔
آرام سے بیٹا کوثر نے وہاج کو دیکھتے کہا۔
وہاج کی بےساختہ نظر پر پڑی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا۔
اسے کیا ہوا؟ سلطان نے کوثر کو دیکھتے پوچھا۔جس نے سر نفی میں ہلا کر لاعلمی کا مظاہرہ کیا تھا۔
دادا جان نے خان کی طرف دیکھتے اسے اشارے سے کچھ بھی بولنے سے باز رکھا تھا۔
دیکھو رحمان تمھاری بیٹی نے جو الزام لگایا۔وہ چھوٹا نہیں تھا۔
آج اُس نے یہ کہا ہے آگے جا کر اور بھی کچھ کہہ سکتی ہے تم تو اپنی بیٹی کی ہی بات پر ہی یقین کرو گئے لیکن مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگا کہ آگے جاکر میرے بچوں کو کسی کی بھی غلط بیانی کی وجہ سے تکلیف پہنچے۔
دادا جان نے سنجیدگی سے کہا۔
دادا جان میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں پلیز مجھے معاف کر دیں آئندہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ثانیہ نے اپنے لہجے میں شرمندگی لاتے کہا۔
دادا جان خاموش رہے تھے۔
تو دادا جان بسمہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔
اور میں سوچ رہا تھا بسمہ کے نکاح کے ساتھ ثانیہ کا نکاح بھی کر دیا جائے۔
رحمان نے مسکراتے ہوئے کہا ارسم نے خان کی طرف دیکھا تھا جو ابھی بھی آرام سے بیٹھا باتیں سن رہا تھا۔
دیکھو رحمان بسمہ کی پسند بھی ضروری ہے اور جہاں تک بات ہے اُس کی شادی کی تو یہ فیصلہ اُس کے بھائی کریں گئے کیوں تحریم بیٹا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا؟ دادا جان نے تحریم کو دیکھتے پوچھا۔
جی بلکل دادا جان اس کے بھائی ہی فیصلہ کریں گئے اور مجھے پوری امید ہے وہ دونوں جو بھی فیصلہ کریں گئے۔میری بیٹی کے حق میں بہتر ہو گا۔
تحریم نے مسکراتے ہوئے کہا۔اور یہ سن کر کوثر تھوڑی پرسکون ہوئی تھی۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہاج بسمہ کو پسند کرتا ہے۔
اور خان کب نکاح کرنا چاہتا ہے یہ وہی تمہیں بتا سکتا ہے دادا جان نے خان کو دیکھتے کہا۔
جو ان کی چالاکی کو سمجھ گیا تھا۔
سب لوگوں کی نظریں خان پر جمی تھیں۔
کھانا تیار ہے بسمہ نے اندر آتے ہی کہا۔
ثانیہ نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
پہلے کھانا کھا لیتے ہیں یہ باتیں تو ہوتی رہے گی۔ارسم نے جلدی سے کہا۔
ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو۔ثمینہ نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا تو باقی سب کو بھی وہاں سے اٹھنا پڑا۔
ثانیہ نے گھور کر اپنی پھوپھو کو دیکھا تھا اس سے زیادہ وہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتی تھی۔پھوپھو کو بھوک لگی تھی۔اس لیے وہاں سے چلی گئی۔
کھانے کے بعد سب لوگ باتیں کر رہے تھے۔ارسم رحمان کو شادی کی بات کی طرف آنے نہیں دے رہا تھا۔
ثانیہ خان سے بات کرنے کا موقع تلاش کر رہی تھی جو اسے مل گیا۔
خان شاید کسی سے بات کر رہا تھاجب ثانیہ وہا‌ں آگئی خان نے کال کٹ کی اور وہاں سے جانے لگا۔
خان ثانیہ نے جلدی سے اس کا بازو پکڑتے اسے پکارا۔خان نے رک کر پہلے اپنے بازو کی طرف دیکھا پھر ثانیہ کی طرف دیکھا جس نے اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا تھا۔
تم شادی سے بھاگ کیوں رہے ہو؟ ثانیہ نے خان کے چہرے کی طرف دیکھتے پوچھا۔
تمہیں کس نے کہا کہ میں شادی سے بھاگ رہا ہوں؟ جب مجھے کوئی لڑکی پسند آگئی تو ضرور میں اُس سے شادی کروں گا۔
خان نے عام سے لہجے میں کہا۔
اور میں؟ ثانیہ نے بےیقینی سے پوچھا۔
تم بھی شادی کر سکتی ہو میں نے تمہیں روکا نہیں ہے۔خان کہتے ہی وہاں سے جانے لگا۔جب ثانیہ نے غصے سے خان کو بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنے سامنے کیا اور ہاتھ اٹھائے اُسے تھپڑ مارنے لگی۔
خان نے اس کا وہی ہاتھ پکڑا اور مڑوڑتے ہوئے پیچھے کمر تک لے گیا۔
تکلیف کے مارے ثانیہ کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔
تمھاری اوقات کیا ہے جو تم مجھ پر یعنی خان پر ہاتھ اٹھا رہی ہو؟ تمھارے اس ہاتھ کو مجھے توڑ دینا چاہیے تاکہ تم دوبارہ ایسی غلطی نا کرو۔
خان نے ثانیہ کے ہاتھ پر مزید دباؤ ڈالتے سرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
جس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
خان تم جنگلی انسان ہو چھوڑو میرا ہاتھ ثانیہ نے بےبسی سے کہا۔
معافی مانگو ابھی اور اسی وقت خان نے پرسرار لہجے میں کہا۔
سوری مجھے معاف کر دو ثانیہ نے بنا کوئی بحث کیے جلدی سے معافی مانگ لی کیونکہ اسے لگ رہا تھا اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی۔
دوبارہ ایسی غلطی مت کرنا خان نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
ثانیہ نے اپنا ہاتھ دیکھا تھا جع سرخ ہو رہا تھا۔
تمہیں تو پاگل خانے ہونا چاہیے تھا جنگلی انسان ثانیہ نے پیچھے سے چیختے ہوئے کہا لیکن خان جا چکا تھا۔
💜 💜 💜 💜
بسمہ یہ سب چھوڑو مجھے تم سے بات کرنی ہے۔وہاج نے کچن میں آتے بسمہ کے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو نیچے رکھتے سنجیدگی سے کہا۔
بسمہ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
کیا تم کسی کو پسند کرتی ہو؟ وہاج نے بےچینی سے پوچھا۔اسے اپنے تایا کی بات بلکل بھی پسند نہیں آئی تھی۔اور حمزہ اُس سے پوچھے بغیر اُس کا باپ اُس کے رشتے کی بات کر رہا تھا۔
ہاں بہت سے لوگ ہیں جن کو میں پسند کرتی ہو۔لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ بسمہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
میں وہ والی پسند نہیں دوسری والی پسند کی بات کر رہا ہوں۔
وہاج نے پریشانی سے کہا۔
کیا مطلب؟ پسند تو پسند ہوتی ہے۔
اور آپ کی بات مجھے سمجھ نہیں آرہی مجھے ابھی کام ہے۔بسمہ نے مصروف سے انداز میں کہا۔
میری ایک بات یاد رکھنا بسمہ
وہاج نے اسے بازو سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا۔
تم کسی بھے ایرے غیرے سے شادی کرنے کے لیے کبھی ہامی نہیں بھرو گی۔
اگر تم نے ایسا کیا تو پھر میں کچھ برا کر گزروں گا۔
وہاج نے غصے سے کہا۔اس کے قریب آنے پر بسمہ اپنی سانسیں روکے کھڑی ہوئی تھی۔
جیسے ہی وہاج پیچھے ہوا بسمہ نے اپنا روکا ہوا سانس بحال کیا تھا۔
وہ وہاج کی بات تو سمجھ نہیں پائی تھی لیکن اس کے قریب آنے پر گھبرا ضرور گئی تھی۔
وہاج کو کچن سے نکلتے کوثر نے دیکھا تھا۔اُس نے سوچا تھا کہ وہ تحریم سے بات کرے گی لیکن ٹینشن اسے اس بات کی تھی کہ اگر خان مان بھی جاتا تو ارسم کبھی نہیں مانے گا۔
اسی بات کی فکر اسے کھائی جا رہی تھی۔
وہاج نے ایک نظر کوثر کو دیکھا اور وہاں سے چلا گیا۔
کوثر بھی گہرا سانس لیتے کچن کے اندر داخل ہوگئی تھی۔
💜 💜 💜 💜
رحمان لوگ گھر واپس آگئے تھے، لیکن ثانیہ کے نکاح کی بات پھر بھی نہیں ہو پائی تھی۔
ڈیڈ آپ کیسے بنا مجھ سے پوچھے میرے ہی رشتے کی بات کر سکتے ہیں؟
حمزہ کو جب سے پتہ چلا تھا اس کا غصہ کسی بھی طرح کم نہیں ہو رہا تھا۔
تو اس میں برائی کیا ہے؟ رحمان نے اپنے بیٹے کو دیکھتے پوچھا۔
برائی؟ شادی مجھے کرنی ہے تو اس بات کا فیصلہ بھی میں ہی کروں گا کہ مجھے کس سے شادی کرنی ہے اور اُس لڑکی میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
میں اُسی لڑکی سے شادی کروں گا جو مجھے پسند ہو گی۔
حمزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
میں تمھارا باپ ہوں مجھے پورا حق ہے فیصلہ کرنے کا رحمان نے غصے سے کہا۔
نہیں ڈیڈ یہ میری زندگی ہے تو اپنی زندگی کا اتنا اہم فیصلہ کرنے کا حق بھی صرف مجھے ہی ہے۔اور امید کرنا ہے اب آپ اس بارے میں مجھ سے دوبارہ بات نہیں کریں گئے۔
حمزہ نے بات کو ختم کرتے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
میری دی ہوئی چھوٹ کی وجہ سے آج تم میری بات بھی نہیں مان رہے لیکن میں بھی تمھارا باپ ہوں دیکھتا ہوں کیسے تم اُس لڑکی سے شادی نہیں کرتے رحمان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور فریش ہونے چلا گیا۔
💜 💜 💜 💜
عروہ کا آج آفس میں پہلا دن تھا۔اس نے اُس انسان کو کال پر کہا تھا وہ ایک ماہ بعد اسے سارے پیسے دے دیں گی تو اُس سے پہلے اسے کال کرکے کے تنگ نا کرے۔
تو تم ہو سر کی نئی پرسنل سیکرٹری؟ اُسی لڑکی نے عروہ کو دیکھتے تھا جو اُس دن آفس میں اسے ملی تھی۔
ویسے تم میں سیکرٹری والی کوئی بات نہیں ہے پھر بھی سر نے تمہیں اپنی سیکرٹری رکھ لیا۔اُس لڑکی نے عروہ کی سادہ سی شلوار سوٹ کو دیکھتے تیکھے لہجے میں کہا۔
کیوں یہاں صرف وہی لوگ کام کر سکتے ہیں جنہوں نے واہیات کپڑے پہنے ہو؟
عروہ نے الٹا اس کے کپڑوں کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا جس نے سفید کلر کی تنگ شرٹ ساتھ بلیک کلر کی پنٹ پہنی ہوئی تھی۔
تم اس سے پہلے وہ لڑکی غصے میں کچھ کہتی صفوان کی سرد آواز وہاں گونجی تھی۔
وہ دونوں کی باتیں سن چکا تھا اور عروہ کے جواب نے تو اسے مسکرانے پر مجبور کر کر دیا تھا۔
مس شیزا میری سیکرٹری کے آس پاس آپ دوبارہ نظر نا آئیں۔صفوان نے سنجیدگی سے کہا تو شیزا اثبات میں سر ہلاتے وہاں سے غصے سے چلی گئی۔
چلیں میرے ساتھ صفوان نے ایک نظر عروہ کو دیکھتے کہا اور اپنے روم کی طرف چلا گیا۔
میں آپ کی سیکرٹری نہیں بننا چاہتی۔
عروہ نے روم میں داخل ہوتے ہی صفوان کو دیکھتے کہا۔
کیوں سیکرٹری بننے میں کیا برائی ہے۔
صفوان نے حیرانگی سے پوچھا۔
وہ میں نے پڑھا ہے ایک ناول میں سیکرٹری اپنے بوس پر ڈوڑے ڈالتی ہے اور بوس اُس سے دور بھاگتا دوسری طرف بوس اپنی سیکرٹری کو پسند کرتا وہ اُس سے دور بھاگتی اور کچھ تو سیکرٹری اچھی بھی نہیں ہوتی عروہ نے پریشانی سے کہا وہ خود نہیں جانتی کہ کتنا فضول وہ بول چکی ہے۔
صفوان کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات تھے۔
مجھے لگتا ہے کہ آپ نے بہت زیادہ اس قسم کی کہانیاں پڑھی ہوئی ہیں۔اسی لیے آپ کو اتنی معلومات ہے۔
صفوان نے اپنے قدم عروہ کی طرف بڑھاتے سنجیدگی سے کہا۔
نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
عروہ نے صفوان کو اپنی طرف آتے دیکھا تو پریشانی سے کہا۔
مس عروہ آپ کے سارے خدشات درست ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی لیکن ہماری بات الگ ہے۔تو جیسا آپ سوچ رہی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔میں آپ پر کبھی فدا نہیں ہونے والا اور آپ بھی مجھ پر ڈوڑے مت ڈالیے گا۔
تو سب کچھ ٹھیک رہے گا۔
اور صفوان نے عروہ کے دائیں جانب ہاتھ رکھتے گھمبیر لہجے میں کہا۔
اگر آپ کا دل مجھ پر آگیا تو پھر میں کچھ نہیں کر سکتا یہ آپ کی غلطی ہو گی۔مجھے آپ اس بات کا الزام نہیں دیں گی۔ہمارے دوران ایک کنٹریکٹ ہوا ہے تو بہتر یہی ہے کہ ہم دونوں پروفیشنل کی طرح کام کریں۔صفوان نے عروہ کے ہونٹوں پر نظریں گاڑھتے ہوئے کہا۔
تو پروفیشنل میں بوس اپنے ایمپلائے کے اتنے قریب آکر بات نہیں کرتا۔
عروہ کے جواب نے صفوان کو لاجواب کر دیا تھا۔
بلکل ٹھیک کہا۔میں کچھ زیادہ ہی قریب آگیا تھا۔
چلیں آپ کام پر لگ جائیں۔
میری سیکرٹری آپ کو بتا دے گی کہ آپ کو کیا کچھ کرنا ہے تین دن تک آپ کو وہ سیکھا دے گی۔اُس کے بعد وہ چلی جائے گی کام میں میں کسی قسم کی کوتاہی کو پسند نہیں کرتا تو آپ کوشش کیجیے گا کہ کوئی غلطی نا ہو، صفوان کی ٹون ایک سیکنڈ میں تبدیل ہوئی تھی۔
وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا اس کی وجہ سے پہلے والی سیکرٹری کو نکالا لیکن صفوان کا موڈ دیکھ کر اس میں پوچھنے کی ہمت نہیں تھی۔
اتنے میں صفوان کی پہلی سیکرٹری بھی وہاں آگئی اور عروہ کو وہاں سے لے گئی۔
صفوان رخ موڑے کھڑا تھا۔مجھے خود کو کنٹرول کرنا ہو گا۔صفوان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
💜 💜 💜 💜