51.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

قسط 1

” ہمارے کنٹریکٹ میں بچے کا ذکر نہیں تھا مسٹر صفوان اور اب آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو بچہ بھی چاہیے؟“ عروہ نے کرخت لہجے میں صفوان کو دیکھتے پوچھا۔مقابل کے خیالات جان کر تو اس کی جان لبوں پر آگئی تھی۔
مس عروہ میں کنٹریکٹ میں یہ لائن بھی لکھ دیتا ہوں۔پھر تو آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا نا؟؟؟؟
لیکن مجھے بچہ ہر حال میں چاہیے صفوان نے دوٹوک انداز میں عروہ کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھتے کہا۔
” آپ اس قدر گھٹیا انسان بھی ثابت ہو سکتے ہیں مجھے امید نہیں تھی۔میں آپ کا کھلونا نہیں ہوں سمجھے آپ
اور میرا نہیں خیال کے آپ کے لیے یہ کام مشکل ہو گیا کسی بھی لڑکی کو آپ اس کام کے لیے ہائیر کر سکتے ہیں۔
عروہ نے تمسخرانہ انداز میں صفوان کو دیکھتے کہا جس کا ذلت اور توہین کے مارے چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
ٹھیک کہا مس عروہ میرے لیے مشکل نہیں ہے لیکن مجھے کسی اور سے نہیں بلکہ آپ سے بچہ چاہیے۔تمھارا اور میرا پیار سا بچہ جو میرے جیسا ہو گا۔صفوان نے تیکھے لہجے میں عروہ کی آنکھوں میں دیکھتے مزید کہا۔
نکاح میں ہو تم میرے اور میں کچھ بھی کر سکتا ہوں تم مجھے روک نہیں سکتی۔
صفوان نے آنکھوں میں چمک لیے عروہ کے سرخ چہرے کو دیکھتے ڈھٹائی سے کہا۔

اگر آپ نے میرے قریب آنے کی کوشش کی یا مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں اپنی جان لے لوں گی۔
عروہ نے انگلی اٹھائے صفوان کو تنبیہ کرتے اپنے قدم پیچھے لیتے سرد لہجے میں کہا۔
صفوان اس کی طرف ہی آرہا تھا۔

ٹھیک ہے مجھے انتظار رہے گا جانم کہ کب تم اپنی جان لیتی ہو۔لیکن ابھی صفوان نے عروہ کے قریب پہنچتے اسے کمر سے پکڑ کر خود کے قریب کرتے اس کے کان کے پاس جھکتے سرگوشی نما انداز میں بات کو ادھورا چھوڑتے گھمبیر لہجے میں کہا۔اور اس کی بات کا مطلب سمجھ کر عروہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
💜 💜 💜 💜 💜 💜

سر آپ کو دادا جان بلا رہے ہیں۔ملازم نے کمرے میں داخل ہوتے خود پر پرفیوم چھڑکتے خان کو دیکھتے نظریں جھکا کر کہا۔
وہ جو خود کے عکس کو آئینے میں دیکھتے چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا تھا اور اس کی نظریں اپنے ہاتھ میں پکڑی پرفیوم کی بوتل پر جمی تھیں۔اس نے بنا مڑے کرخت لہجے میں کہا۔
میری اجازت کے بنا تم اندر کیسے آئے؟ خان نے بھاری لہجے میں کہا۔
سو سوری سر وہ مجھے خیال نہیں رہا۔مجھے معاف کر دیں۔ملازم نے جلدی سے نظریں جھکائے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
تمھاری آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں کیونکہ تم دادا جان کے پرانے اور وفادار لوگوں میں سے ایک ہو لیکن اگلی بار تمھاری غلطی معاف نہیں کی جائے گی۔
خان نے سنجیدگی سے اپنا کوٹ پکڑتے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔
ملازم جو سانس روکے کھڑا تھا۔
اس نے جلدی سے اپنا سانس بحال کیا۔
خان کتنا کھڑوس اور غصے کا تیز انسان تھا گھر میں سب لوگ جانتے تھے۔اور کافی ملازمین کو وہ نکال چکا تھا۔
وہ زیادہ کسی سے بات بھی نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی سرد آنکھیں ہی مقابل کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیتی تھیں۔
کہاں جانے کی تیاری ہے خان؟ دادا جان نے خان کو تیار دیکھتے ماتھے پر سلوٹیں لیے سنجیدگی سے پوچھا۔
ایک ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں۔جان نے دادا جان کو دیکھتے کہا۔
آج ہمیں تمھارے سسرال جانا ہے کیا تمہیں یاد نہیں ہے؟ دادا جان کی آواز اونچی ہو گئی تھی سامنے کھڑا شخص ہمیشہ اپنی من مانی کرتا تھا۔اور ان کے صبر کا امتحان لیتا تھا۔
یاد ہے دادا جان اسی لیے تو باہر جا رہا ہوں خان نے بے تاثر لہجے میں کہا۔
دادا جان اس کی صاف گوئی پر حیران ہوئے تھے۔
اپنے سسرال والوں کے سامنے تم ہمیں شرمندہ کرنا چاہتے ہو؟ آخر تم چاہتے کیا ہو؟ اگر تمہیں اُس لڑکی سے شادی نہیں کرنی تو رشتہ ختم کیوں نہیں کر دیتے کیوں اُس لڑکی کو اپنے نام سے باندھ کر تم نے رکھا ہوا ہے؟ جب سے واپس آئے ہو ایک بار بھی تم اپنے سسر سے ملنے نہیں گئے۔دادا جان نے سرد لہجے میں کہا۔

آپ لوگوں کو ہی تو شوق تھا دونوں خاندانوں کو ایک ساتھ جوڑنے کا تو اب مسئلہ کیا ہے؟
خان نے سامنے دروازے کی طرف اپنی نظریں گارڈھتے پوچھا۔
خان تم کرنا کیا چاہتے ہو؟ کیا وہ لڑکی ساری زندگی تمھارے نام سے جڑی رہے گی؟ ٹھیک ہے اس رشتے میں تمھاری مرضی نہیں تھی۔لیکن اب میں تمھاری اس خاموشی سے تنگ آگیا ہوں۔یا تو سیدھے طریقے سے شادی کرو یا اُس لڑکی کو اپنے نام سے جڑے رشتے سے آذاد کر دو. دادا جان نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
آذاد ہی تو نہیں کر سکتا دادا جان
خان نے لہجے میں نفرت لیے کہا۔
اور پھر وہاں بنا دادا جان کا جواب سنے وہاں سے چلا گیا۔
دادا جان نے بےبسی سے اپنے پوتے ہو دیکھا تھا۔
وہ خود نہیں جانتے تھے کہ وہ چاہتا کیا ہے۔
💜 💜 💜 💜💜

صفوان بیٹا کہاں جا رہے ہو؟ اپنے بھائی کو بھی ساتھ کھیلنے کے لیے لے جاؤ ورنہ وہ میرا سر کھائے گا۔
صفوان کی امی نے اپنے لاڈلے کو دیکھتے کہا. جو ہاتھ میں گیند پکڑے باہر جانے کی تیاری میں تھا۔
ماما وہ میرا سارا کھیل خراب کر دیتا ہے میں اُسے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گا۔اور ابھی اُسے کھیلنا بھی نہیں آتا۔صفوان نے منہ بسوڑتے اپنی ماں کو دیکھتے کہا جو اپنے بیٹے کی بات سن کر ہنس پڑی تھی۔
بیٹا جب آپ چھوٹے تھے تو آپ کو بھی کھیلنا نہیں آتا تھا۔لیکن آپ کے پاپا پھر بھی آپ کے ساتھ کھیلتے تھے تو اب اگر آپ کے بھائی کو کھیلنا نہیں آتا تو آپ اُسے سیکھا دو پھر دونوں بھائی مل کر کھیلنا۔صفوان کی امی نے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے ماما میں اُسے ساتھ لے جاتا ہوں۔صفوان نے اپنی ماں کو دیکھتے مسکرا کر کہا۔
اس کی ماں کا مسکراتا چہرہ دھندلا ہو جاتا جا رہا تھا۔
ماما….
بیڈ پر لیٹے صفوان نے آنکھیں میچی ہوئی تھیں ماتھے پر بل ڈالے اس وقت اس کا پورا چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔
علی…
صفوان چیختے ہوئے نیند سے جاگا اور گہرے سانس لیتے سامنے دیوار کو دیکھنے لگا۔جو اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آرہی تھی۔
پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
کھڑکی سے چاند کی روشنی کمرے میں جھانک رہی تھی۔ صفوان نے گہرا سانس لیتے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ کو اٹھایا اور گلاس میں پانی ڈال کر ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گیا۔
پرانی اور تکلیف دہ یادوں نے آج تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔اس کا بھائی بار بار اس کے خواب میں آتا تھا۔
کاش وہ اُس وقت اپنی فیملی کو بچا سکتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔
بہت انتظار کر لیا میں نے اب باری بدلہ لینے کی ہے۔وہ لوگ سکون سے کیسے رہ سکتے ہیں جنہوں نے مجھ سے میری ساری خوشیاں چھین لی۔
صفوان اب کسی کو نہیں چھوڑے گا۔کسی کو بھی نہیں صفوان نے غصے سے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو دیکھتے کہا اور اپنا موبائل پکڑے ٹیریس کی طرف چلا گیا کیونکہ اب اسے نیند تو آنی نہیں تھی۔اور پھر سے اس نے پوری رات جاگ کر گزارنی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
عروہ میری بچی کیا ہوا؟ تمھاری طبعیت تو ٹھیک ہے نا؟ بلقیس نے عروہ کے پیلے پڑتی رنگت کو دیکھتے حیرانگی سے پوچھا۔
وہ اماں مجھے ایسا لگا کوئی میرے پیچھے آرہا ہے۔میں ڈر گئی تھی۔
عروہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
میں دیکھتی ہوں بلقیس نے کہا اور عروہ کو دروازے سے پیچھے کرتے باہر گلی میں نکلتے دیکھا لیکن دوپہر کے وقت گلی میں کوئی نہیں تھا۔
عروہ پاس والے سکول میں پڑھانے جاتی تھی وہی سے واپس آرہی تھی جب اسے لگا جیسے کوئی ایسے دیکھ رہا ہو۔ کچھ ہی فاصلے پر اس کا گھر تھا اس لیے پیدل چل کر آتی تھی۔
اس نے اپنے سر پر لی چادر کو تھوڑا آگے کی جانب کیا اور بڑے بڑے قدم لیتی گھر کی جانب چل پڑی لیکن پھر اسے ایسا لگا کہ کوئی اس کے پیچھے آرہا ہے اس نے بنا پیچھے دیکھے وہاں سے دوڑ لگا دی اور گھر آکر سانس لیا۔لیکن اس کے پیچھے کوئی بھی نہیں تھا یہ اس کا وہم تھا۔اور یہ آج کی بات نہیں تھی ہر دوسرے دن ایسا ہی ہوتا تھا۔عروہ کو ایسا لگتا تھا کوئی اسے دیکھ رہا ہے یا پیچھا کر رہا ہے۔اور کبھی کبھار تو وہ اتنا ڈر جاتی کہ کی دن تک اپنے کمرے میں بند رہتی۔بلقیس بھی اس کی وجہ سے بہت پریشان تھی اس نے کافی علاج بھی کروایا۔لیکن کوئی فرق نہیں پڑا اور بلقیس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ کسی بڑے ہسپتال میں عروہ کو لے کر جا سکتی۔
عروہ باہر کوئی نہیں ہے۔تم منہ ہاتھ دھو کر آؤ میں کھانا لگاتی ہوں۔بلقیس نے سنجیدگی سے کہا۔
نہیں اماں عروہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن بلقیس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھتے خاموش ہو گئی اور چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
پتہ نہیں یہ لڑکی کب ٹھیک ہو گی نجانے کون سا ڈر اس کے دماغ میں بیٹھ گیا ہے۔
بلقیس نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے پریشانی سے کہا۔
اور چھوٹے سے بنے ہوئے کچن کی طرف چلی گئی۔
یہ گھر چھوٹا سا تھا۔جو دو کمروں اور ایک کچن پر مشتمل تھا۔صحن میں ایک چارپائی بچھائی ہوئی تھی۔
دو لوگوں کے لیے یہ گھر بلکل ٹھیک تھا۔
بلقیس کے شوہر کی بہت پہلے کیسز کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔
عروہ کو کچھ ماہ پہلے ہی سکول میں جاب ملی تھی۔
شام میں وہ گلی کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔
گھر کا گزارا اچھے سے ہو رہا تھا۔
بلقیس گھر میں سلائی کرتی تھی لیکن عروہ کی جاب لگنے کے بعد اُس نے بلقیس کو منع کر دیا تھا۔
💜 💜 💜 💜
ثانیہ کہاں جانے کی تیاری ہے؟ بیٹا آج تمھارے سسرال والے آرہے ہیں۔تمہیں گھر پر رکنا چاہیے۔
عظمیٰ بیگم نے ثانیہ کو تیار دیکھتے کہا۔
موم کیا فائدہ میرے رکنے کا؟ کون سا میرا منگیتر بھی ساتھ آرہا ہے وہ تو منگنی کرکے بھول ہی گیا ہے کہ اُس کی ایک عدد منگیتر بھی ہے۔اور مجھے اُس کے دادا جان کے پاس بیٹھنے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے۔
ثانیہ نے سرد لہجے میں اپنی ماں کو دیکھتے کہا۔
اُس کی خالہ بھی ساتھ آرہی ہیں۔وہ کیا سوچے گی۔عظمیٰ نے پریشانی سے کہا۔
تو کیا ہوا موم آپ ہیں گھر میں اور بھی لوگ ہیں میرا یہاں رکنا اتنا ضروری نہیں ہے میری فرینڈ کی سالگرہ ہے میرا وہاں جانا ضروری ہے۔
ثانیہ نے اپنے کندھے پر آئے بالوں کو پیچھے جھٹکتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
کیا جواب دوں گی میں اس کے باپ کو عظمیٰ نے پریشانی سے کہا۔
ثانیہ کی منگنی کچھ سال پہلے خان سے ہوئی تھی۔
خان منگنی کرواتے ہی ملک سے باہر چلا گیا تھا۔اس نے منگنی اپنے دادا کے کہنے پر کی تھی۔لیکن اب دور دور تک اس کا شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
ثانیہ خان کو پسند کرتی تھی وہ کسی بھی قیمت پر خان کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی اس لیے آج تک اُس کے نام پت بیٹھی ہوئی تھی لیکن اب پانچ سال گزر چکے تھے۔خان نے اسے اپنی شکل نہیں دکھائی تھی۔
لیکن اب وہ واپس پاکستان آگیا تھا۔لیکن ثانیہ کو اس کا بات کا علم نہیں تھا۔
💜 💜 💜 💜

لڑکی اندھی ہو کیا؟ دیکھ کر نہیں چل سکتی؟ تمھاری وجہ سے میرا موبائل ٹوٹ گیا ہے۔
ارسم جو اپنے دھیان موبائل کان سے لگائے مارکیٹ کے اندر داخل ہو رہا تھا سامنے سے آتی ملائکہ سے اس کا زبردست تصادم ہوا۔اور ارسم کے ہاتھ میں پکڑا موبائل زمین پر گر گیا۔غلطی دونوں کی تھی۔لیکن ارسم اپنا قصور مان لے یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اور اس کا موبائل بھی زمین پر گرا اپنی قسمت پر رو رہا تھا۔
ملائکہ نے سہمی ہوئی نظروں سے ارسم کی طرف دیکھا۔اور ایک نظر پیچھے ڈالی۔
سوری ملائکہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا اور وہاں سے بھاگنے لگی۔
سوری؟ ارسم نے غصے سے ملائکہ کو بازو سے پکڑ کر سامنے کھڑا کیا۔ملائکہ جو پہلے ہی ڈری ہوئی تھی ولید کے چھونے پر ایک دم کپکپا گئی۔اس نے بنا سوچے سمجھے سامنے کھڑے ارسم کے چہرے پر تھپڑ دے مارا۔وہ شاید پہلے ہی کسی سے ڈر کر بھاگ رہی تھی۔اور اب ارسم کا اسے چھونا اس کے رہے سہے صبر کو بھی ختم کر گیا تھا۔
ارسم نے بے یقینی سے سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا۔جو ہولے ہولے کپکپا رہی تھی۔
آس پاس کے لوگ رک کر دونوں کو دیکھنے لگے تھے۔ملائکہ نے چادر کے پلو کو تھوڑا مزید آگے کیا اور وہاں سے بھاگ گئی۔
ارسم ابھی بھی بےیقینی کی کیفیت میں کھڑا تھا۔کوئی لڑکی اس پر ہاتھ اٹھا سکتی ہے وہ بھی بھری مارکیٹ میں اسے یقین نہیں آرہا تھا۔اور اس نے تو اُس لڑکی کو ابھی کچھ کہا بھی نہیں تھا۔
چہرہ تو اس نے بھی اُس لڑکی کا نہیں دیکھا تھا جس نے چادر کے پلو سے اپنے چہرے کو چھپایا ہوا تھا۔لیکن اس کی ڈری اور سہمی ہوئی کالی آنکھیں صاف نظر آرہی تھیں۔
ہوش میں آتے ہی ارسم نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کو میچتے سرخ ہوتی آنکھوں سے زمین پر گرے موبائل کو دیکھا اور مارکیٹ کے اندر جانے کی بجائے اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا۔
تم نے ارسم خان پر ہاتھ اٹھا کر دنیا کی سب سے بڑی غلطی کی ہے لڑکی۔
اور یہ غلطی تمہیں میں کبھی بھولنے بھی نہیں دوں گا۔
ارسم نے گاڑی میں بیٹھتے سرد لہجے میں کہا۔ڈرائیور نے اپنے مالک کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے ارسم صاحب غصے کے کتنے تیز ہیں۔اس لیے کوئی سوال نہیں کیا۔
💜 💜 💜 💜

اگلے دن عروہ کافی بہتر تھی۔پورا دن کمرے میں بند رہنے کے بعد وہ فجر کے وقت اپنے کمرے سے باہر آئی تھی۔
بچوں کو اس نے چھٹی دی تھی اس لیے آرام سے فجر کی نماز کے بعد باہر آئی تھی باہر بلقیس بیٹھی تھی۔
امی مجھے بھوک لگی ہے۔
عروہ نے اپنے بالوں کا جوڑا بناتے اپنی ماں سے کہا۔
ابھی بھی کمرے میں بند رہنا تھا بیٹا باہر آنے کی کیا ضرورت تھی؟ تم نے تو قسم کھائی ہوئی ہے اپنی ماں کو پریشان کرنے کی۔بلقیس نے طنزیہ لہجے میں کہا تو عروہ ہنس پڑی۔
امی مجھے معاف کر دیں میرا مقصد آپ کو پریشان کرنا نہیں تھا۔عروہ نے اپنی ماں کی گود میں سر رکھتے کہا۔بلقیس جانتی تھی کہ ہمیشہ عروہ ایسے ہی کرتی تھی۔اور بعد میں اپنی ماں سے سوری بولتی۔
عروہ….
بلقیس نے عروہ کے بالوں میں ہاتھ چلاتے دھیمے لہجے میں پکارا۔
جی امی عروہ نے کہا تو بلقیس نے گہرا سانس لیتے اس کی طرف دیکھا۔
کس سے ڈر کر بھاگ رہی ہو؟ بلقیس کے سنجیدگی سے پوچھے گئے سوال نے عروہ کو کپکپانے پر مجبور کر دیا تھا۔
ک کیا مطلب امی؟ عروہ فوراً اُٹھ کر بیٹھی اور اپنی ماں کو دیکھتے پوچھا۔
میرے کہنے کا مطلب ہے تمہیں کوئی پریشان کر رہا ہے؟ کوئی تمھارا پیچھا کرتا ہے؟ بلقیس کے سوال پر عروہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
کیا تم نے کسی کو دیکھا ہے؟ بلقیس نے تحمل سے پوچھا۔
مجھے کبھی کوئی نظر نہیں آیا لیکن امی عروہ نے اپنی ماں کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے کہا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے۔
لیکن عروہ نے بےبسی سے بات کو ادھورا چھوڑتے کہا۔
لیکن بیٹا پوری دنیا تو تمھارا پیچھا نہیں کر سکتی نا اور تمہیں تو لگتا ہے ہر کوئی تم پر نظر رکھے ہوئے ہے ہر کوئی تمھارا پیچھا کر رہا ہے۔
یہ تمھارا وہم ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں بلقیس نے سنجیدگی سے کہا۔
امی یہ میرا وہم نہیں ہے ہاں میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن کوئی تو ہے جو مجھ پر نظر رکھتا ہے۔عروہ نے بےبسی سے کہا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جس طرح اپنی ماں کو سمجھائے۔
بلقیس ایک دو بار خود عروہ کے ساتھ سکول تک گئی تھی لیکن اسے ایسا بلکل بھی محسوس نہیں ہوا کہ کوئی ان کو دیکھ رہا ہو یا پیچھا کر رہا ہو لیکن عروہ وہاں سے گزرتے ہر انسان کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی آگر کوئی ان کے پیچھے چل رہا ہوتا تو اسے لگتا کہ وہ انسان اس کا پیچھا کر رہا ہے لیکن آگے جاکر وہ اپنے راستے چل پڑتا۔تو بلقیس کو اب یہی لگتا تھا کہ یہ عروہ کا وہم ہے۔اور بلقیس نے نوٹ کیا تھا کہ عروہ زیادہ مردوں سے ڈرتی ہے۔بات کرنا تو دور اُن سے بات کرتے ہوئے بھی اسے خوف محسوس ہوتا تھا۔
میں تمھارے لیے ناشتہ لگاتی ہوں پھر تمھیں سکول بھی جانا ہے۔بلقیس نے وہاں سے اٹھتے ہوئے کہا۔
عروہ خاموش ہو گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد اسکی ماں ناشتہ لے آئی دونوں نے خاموشی سے ناشتہ کیا اور پھر عروہ تیار ہونے چلی گئی۔
آج اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی۔کالی چادر کو سر پر اچھی طرح سیٹ کیے وہ باہر آئی تو بلقیس کی نظریں اس ہر ٹھہر گئی۔
عروہ میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے سفید رنگ مت پہنا کرو۔بلقیس نے تھوڑا غصے سے کہا۔
کیوں امی اس میں کیا برائی ہے؟
عروہ نے منہ بسوڑتے پوچھا۔
میں نے منع کیا ہے نا عروہ تو بحث مت کرو اور جاکر تبدیل کرو۔
بلقیس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
امی ابھی تو مجھے بہت دیر ہو رہی ابھی میں جا رہی ہوں۔عروہ نے اپنی ماں کی بات ہو نظر انداز کرتے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
بلقیس پیچھے سے آوازی دیتی رہ گئی لیکن عروہ نے ایک بھی آواز نہیں سنی۔

عروہ سکول پہنی تو اسے پتہ چلا کہ آج پرنسپل کے کچھ خاص مہمان آرہے ہیں اور سکول بھی اُن کے والد نے بنایا تھا۔
عروہ نے اس بات پر زیادہ غور نہیں کیا اور اپنی کلاس کی طرف چلی گئی۔
عروہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔
اب بھی بریک میں سٹاف میں سب سے الگ بیٹھی اپنا کام کر رہی تھی جب دو ٹیچرز جو لگ بھگ اس کی عمر کی ہی تھیں اس سے کچھ فاصلے پر آکر بیٹھی۔
یار میڈم کے گیسٹ تو بہت ہینڈسم ہیں۔وہ جب آئے تو میں آفس میں ہی تھی لیکن میڈم نے مجھے باہر بھیج دیا۔
پہلی والی نے افسردگی سے کہا۔
ناچاہتے ہوئے بھی عروہ کا دھیان بھٹک کر ان کی باتوں کی طرف جا رہا تھا۔
لیکن انہوں نے تو مجھے ایک نظر بھی نہیں دیکھا۔لیکن وہ چھوٹے بچوں سے ملنے کلاس میں آئے گئے میڈم بتا رہی تھی۔
عروہ نے جب یہ سنا تو اسکے پیپر پر چلتے ہاتھ ایک دم کپکپائے تھے۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ کیوں وہ اتنا ڈر رہی ہے۔لیکن وہ یہ سن کر نجانے کیوں خوفزدہ تھی۔
مجھے نہیں ڈرنا وہ میڈم کے گیسٹ ہیں اور یہ سکول انکے والد نے ہی بنایا تھا وہ کلاس میں آئے گئے بچوں سے ملے گئے اور چلے جائے گئے اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے۔عروہ نے خود کو دل میں تسلی دیتے ہوئے کہا۔
کیونکہ وہ چھوٹے بچوں کو ہی بڑھاتی تھی اسے بچے پسند تھے اس لیے جب وہ انٹرویو دینے آئی تو پرنسپل نے اس سے پوچھا تھا کہ آپ کون سی کلاس کو پڑھا سکتی ہیں تو اس نے یہی کہا تھا کہ وہ چھوٹے بچوں کو پڑھانا چاہتی ہے۔اور چھوٹی کلاسز کے لیے ہی ٹیچر کی ضرورت تھی اس لیے پرنسپل کو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
عروہ نے ٹیبل سے اپنی چیزیں اٹھائی اور سٹاف روم سے باہر نکل آئی۔
اسے پیچھے سے ایک بچے نے آواز دی تو عروہ اُس کی طرف رخ موڑے اُس بچے کی بات سننے لگی۔
بچے سے بات کرنے کے بعد جیسے ہی عروہ پیچھے مڑی تو پیچھے کھڑے صفوان کے سینے کے ساتھ زور سے جا ٹکرائی اس کے ہاتھ میں پکڑے پیپرز زمین پر گر گئے تھے اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی صفوان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے گرنے سے بچایا۔
عروہ آنکھیں میچے چہرے پر خوف لیے صفوان کی بانہوں میں قید کھڑی تھی۔
صفوان کی سرد آنکھیں اس کی بند آنکھوں سے ہوتے ہوئے اس کے ہونٹوں کے نیچے تل پر ٹھہر گئی تھی۔اس کے ہونٹ کے دائیں جانب تھوڑا نیچے ایک تل تھا۔
عروہ نے جب محسوس کیا کہ وہ زمین پر نہیں گری تو اس نے جلدی سے آنکھیں کھولی اور مقابل کو دیکھ کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
💜 💜 💜 💜