No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
قسط 3
کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا؟ وہاج نے اس بار پیار سے بسمہ کو دیکھتے پوچھا۔وہ اسے اپنے کمرے میں لے آیا تھا کیونکہ اگر باہر بات کرتا تو کوئی نا کوئی دیکھ کر چھوٹی سی بات کو رائی کا پہاڑ بنا لیتا اور خاص طور پر اس کی اپنی پھوپھو جو شاید کسی ایسے موقع کے تلاش میں ہی رہتی تھی۔
کچھ نہیں ہوا بسمہ نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے گال کو رگڑتے ہوئے کہا۔
اور یہ حرکت کرتی ہوئی وہ وہاج کو بہت معصوم لگی تھی۔
وہاج بسمہ کو پسند کرتا تھا لیکن وہ اس بات سے غافل تھی۔ایک وہاج ہی تھا جس کے ساتھ وہ نارملی بات کر لیتی تھی ورنہ باقی سب تو اسے کھڑوس ہی لگتے تھے۔
تو پھر رو کیوں رہی ہو؟ وہاج نے اپنی ہاتھ کی انگلی سے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے اوپر کرتے پوچھا۔
میں آپ کو کیوں بتاؤں؟ بسمہ نے منہ بسوڑتے پوچھا۔
کیونکہ میں خود تم سے پوچھ رہا ہوں میڈم تو بتانا آپ پر فرض ہے۔
وہاج نے مسکراہٹ دباتے کہا۔
سامنے کھڑی لڑکی اس کے دل کے بہت قریب تھی اس کا رونا یا پریشان ہونا اسے برداشت نہیں تھا۔
یہ ایک طرفہ محبت تھی ناجانے وہاج کی قسمت میں سامنے کھڑی لڑکی کا ساتھ لکھا بھی تھا یا نہیں۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا اور میں جا رہی ہوں امی کو اگر میں کچن میں نا ملی تو؟ بسمہ نے پریشانی سے کہا اور جلدی سے وہاں سے جانے لگی جب وہاج نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روکا۔بسمہ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
رویا مت کرو تمھاری آنکھوں میں آنسو دیکھنا میرے لیے دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔
وہاں نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
بسمہ کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے تھے۔وہاج جانتا تھا کہ بسمہ کو اس کی بات سمجھ نہیں آئی اس لیے اس نے بسمہ کا ہاتھ چھوڑ دیا جو کندھے اچکاتے وہاں سے چلی گئی۔
پتہ نہیں اس لڑکی کو میری آنکھوں میں اپنے لیے جذبات نظر کیوں نہیں آتے وہاج نے نفی میں سر ہلاتے خود سے کہا اور خود بھی کمرے سے باہر نکل گیا۔
💜 💜 💜 💜
بیس لاکھ بیس لاکھ میں کہاں سے لے کر آؤں گی؟ میں کیا کرو؟ میرے پاس تو پچاس ہزار بھی نہیں ہیں اور بیس لاکھ اگر اُس نے وہ ویڈیو پولیس کو دے دی تو مجھے پولیس پکڑ کر لے جائے گی۔ نہیں مجھ مجھے کچھ کرنا ہو گا۔عروہ نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے خود سے کہا۔
جب سے اس نے ویڈیو دیکھی تھی اُس وقت سے چکر لگاتی کچھ نا کچھ سوچ رہی تھی۔
خوف سے اس کا رنگ سفید ہو گیا تھا۔
پتہ نہیں کون تھا جو اسے بلیک میل کر رہا تھا۔اسے تو لگا تھا اُس وقت ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں ہے لیکن کسی تیسرے کو کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ اُس دن کمرے میں کیا ہوا تھا۔
سوچ سوچ کر اب تو درد سے اس کا دماغ پھٹنے لگا تھا۔
اگر مجھے لون مل جائے اگر میں بنک سے لون لے لوں تو؟ عروہ کے دماغ میں اچانک خیال آیا تھا لیکن پھر خود ہی اپنے خیال کو جھٹک دیا۔
مجھ جیسی کنگال کو لون کون دے گا اور بنک کی شرائط کو کون پورا کرے گا۔بیس لاکھ کی اقساط ہر مہینے کون دے گا؟میری تو اتنی تنخواہ بھی نہیں ہے۔
یا اللہ میں کیا کروں؟ امی کو بتا دوں لیکن اُن کو وجہ کیا بتاؤں گی۔عروہ نے خود سے کہا۔لیکن کسی بھی طرح اسے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔
مجھے ایک بار پرنسپل سے بات کرنی چاہیے ہو سکتا ہے وہ کوئی راستہ بتا دیں۔اُن کے تو کافی لوگ جاننے والے ہوں گئے۔عروہ نے اپنے قدموں کو بریک لگاتے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ہاں ہو سکتا ہے وہ میرا مسئلہ حل کر دیں عروہ نے خوشی سے کہا۔اتنا سوچنے کے بعد اسے تھوڑی تسلی ہوئی تھی ابھی وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی لیکن پرسکون ہوئی ہی تھی جب اس کا موبائل رنگ ہوا۔
پھر سے اس کے چہرے پر خوف کا سایہ لہرایا تھا۔اس نے موبائل کو پکڑا وہی نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا۔
عروہ نے اس بار کال اٹھانے کی بجائے اپنا موبائل ہی بند کرکے اسے بیڈ پر پھنک دیا۔
اسے بس صبح کا انتظار تھا۔اس لیے سونے کے لیے لیٹ گئی لیکن نیند تو اس کی آنکھوں سے کو سو دور تھی۔
پوری رات اس نے جاگ کر گزارنی تھی۔
💜 💜 💜 💜
داجی کے تین بچے تھے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔
داجی کے بڑے بیٹے رحمان کی شادی بعد میں جبکہ سلطان جو کہ داجی کا چھوٹا بیٹا تھا اُسکی شادی پہلے ہوئی تھی۔لیکن رحمان کو اللہ نے پہلے اولاد جیسی نعمت سے نوازہ تھا۔
بیٹی جس کا نام ثمینہ تھا وہ وہ کالج میں اپنے کلاس فیلو کو پسند کرتی تھی اس بات کو لے کر گھر میں بہت ہنگامہ ہوا تھا۔
داجی نے معلوم کروایا تو اُن کو پتہ چلا کہ وہ لڑکا اچھا نہیں ہے۔داجی نے انکار کر دیا تو ثمینہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی۔لیکن یہ شادی زیادہ دیر تک نہیں چلی لڑکے کے گھر والوں نے بھی اسے گھر سے نکال دیا تھا اس لیے وہ لڑکا شادی کے ایک سال بعد ہی ثمینہ کو طلاق دے کر ناجانے کہاں چلا گیا تھا۔
ثمینہ روتی ہوئی داجی کے گھر آئی۔داجی بھی بےبس تھے کیونکہ ثمینہ اُن کا اپنا خون تھا اس لیے اُسے معاف کر دیا۔
ثمینہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
داجی کے جانے کے بعد پیچھے کا سارا نظام رحمان اور سلطان نے سنبھالا تھا۔
رحمان کی بیوی کا نام عظمی تھا۔ان کی ایک بیٹی اور بیٹا تھا۔
بڑے بیٹے کا نام حمزہ اور چھوٹی بیٹی کا نام ثانیہ تھا۔
رحمان سے چھوٹے بیٹے سلطان کے دو بیٹے تھے جو ان کی پہلی بیوی میں سے تھے۔ دوسری شادی ان کی کوثر کے ساتھ ہوئی تھی۔
سلطان کے بڑے بیٹے کا نام آفاق تھا جو حمزہ سے ایک سال چھوٹا تھا اور چھوٹے بیٹے کا نام وہاج تھا۔
وہاج اور آفاق کی نیچر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
وہاج کوثر کی بہت عزت کرتا تھا اور اُسے ماں ہی پکارتا تھا لیکن آفاق تو سیدھے منہ کوثر سے بات بھی نہیں کرتا تھا۔
💜 💜 💜 💜
اگلے دن عروہ جلدی سکول کے لیے نکل گئی تھی۔خوف اور پریشانی کے مارے وہ پوری رات نہیں سوئی تھی۔
پرنسپل سے اس نے بات کی کہ اسے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔
پرنسپل نے اسے کہا کہ وہ کسی کو جانتی ہے جو اس کی مدد کر سکتا ہے۔پرنسپل کو لگا کہ اسے گھر میں پیسوں کی ضرورت ہو گی اس لیے زیادہ سوال جواب نہیں کیے۔
لیکن پرنسپل نے جس کا نام لیا اُس کا چہرہ جیسے ہی عروہ کی نظروں کے سامنے آیا اس نے خوف کے مارے جھرجھری لی تھی۔
میڈم کیا وہ مجھے دس لاکھ تک پیسے دے سکتے ہیں؟ عروہ نے پریشانی سے پوچھا۔
تمہیں اتنے پیسے کیوں چاہیے؟ میڈم نے حیرانگی سے پوچھا۔اُن کو لگا زیادہ سے زیادہ اسے پچاس ہزار تک پیسے چاہیے ہوں گئے۔
وہ میری امی میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو لڑکے والوں نے جو ڈیمانڈ کی میں اُسے پورا کرنا چاہتی ہوں میں نہیں چاہتی میری امی میری وجہ سے پریشان ہوں۔عروہ کے منہ میں جو آیا اسنے بول دیا۔
تو تمھاری امی وہاں تمھاری شادی کیوں کر رہی اگر ابھی انہوں نے ایسی ڈیمانڈ کی ہے تو بعد میں بھی کریں گئے میڈم نے کہا تو عروہ نے دل میں سوچا کہ یہ اُن نے کیا بونگی مار دی ہے لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
خیر یہ تمھارا پرسنل معاملہ ہے۔میں اتنا کر سکتی ہوں تمھارے لیے میں صفوان سے بات کر لوں گی۔
تم نے کہا کہ ایک سال بعد تمھاری شادی ہے تو اگر ایک سال تم صفوان کے آفس میں کام کرو تو ساری اقساط چکا سکتی ہو وہ تمہیں میرے کہنے ہر سیلری بھی اچھی دے گا۔
میڈم نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا۔
میڈم کو یہ لڑکی شروع میں ہی بہت اچھی لگی تھی جو اپنے کام کے ساتھ بہت مخلص تھی اور آج جب عروہ نے پیسوں کی بات کی تو ان کے دل نے کہا تھا کہ اس لڑکی کی مدد کریں اس لیے اس نے عروہ کو صفوان کا بتایا۔
تھینک یو تھینک یو سو مچ میڈم آپ نے میری بہت بڑی مشکل حل کر دی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں عروہ نے تشکرانہ انداز میں کہا۔
سچ میں میڈم نے اس کی سب سے بڑی مشکل حل کر دی تھی۔
اس کی ضرورت نہیں ہے جیسے یہاں دل لگا کر کام کرتی تھی وہاں بھی ایسے ہی کام کرنا۔
میڈم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
جی اور میڈم کیا میں آج ہی انٹرویو کے لیے کا سکتی ہوں؟
عروہ نے جلدی سے پوچھا۔
آج؟ ہاں ایسا کرو تم چلی جاؤ میں اُسے کال کرکے بتا دیتی ہوں میڈم نے تھوڑا سوچنے کے بعد کہا تو عروہ نے ایک بار پھر سے پرنسپل کا شکریہ ادا کیا اور اپنی چیزیں لینے کے بعد سکول سے چلی گئی۔
اس نے جتنا بھی وقت یہاں گزارا اچھا گزارا تھا۔لیکن اس نے یہاں کوئی دوست نہیں بنائی تھی نا کسی سے بات کرتی تھی۔اس لیے بنا کسی سے ملے وہاں سے آگئی۔
صفوان کا سوچ کر اسے ڈر تو لگ رہا تھا لیکن جو مصیبت اس کے سر پڑی تھی اُسکے سامنے صفوان کا خوف تو معمولی سا تھا۔
💜 💜 💜 💜
خان ارسم کہاں ہوتا ہے؟نظر نہیں آتا۔
دادا جان نے چائے کا کپ پکڑتے پوچھا اس سے پہلے خان کوئی جواب دیتا ارسم کندھے پر کوٹ لٹکائے وہاں آیا تھا۔
اور خان کے دائیں جانب آکر بیٹھ گیا۔
آتے ہی اس نے سب کو مشترکہ سلام کیا تھا۔
تحریم بھی وہی بیٹھی تھی۔
اور بسمہ کب میں چائے ڈال رہی تھی۔
بھائی آپ چائے پیے گئے؟ بسمہ نے ارسم کو دیکھتے پوچھا۔
بلکل اپنی بہن کے ہاتھوں کی چائے بنی میں ضرور پیوں گا۔ارسم نے بسمہ کو دیکھتے کہا۔
بسمہ نے حیرانگی سے ارسم کی طرف دیکھا تھا۔
آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ چائے میں نے بنائی ہے؟ بسمہ نے پوچھا تو ارسم ہنس پڑا۔
کیونکہ میں نے اپنی چھوٹی سی بہن کو کبھی کام کرتے نہیں دیکھا تو آج وہ اگر چائے ڈال کر دے رہی ہے تو یقیناً اُس نے خود بنائی ہو گی۔ارسم نے کہا تو یہ سن کر وہاں بیٹھے سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
بلکل ٹھیک اندازہ لگایا آپ نے آج میں نے خود چائے بنائی ہے۔ بسمہ نے خوشی سے چائے کا کپ ارسم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
خان بھی بسمہ کو خوش دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔وہ ایسے ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جایا کرتی تھی۔
واہ چائے تو سچ میں بہت مزےدار ہے۔ارسم نے چائے کا پہلا سیپ لیتے کہا۔
مجھے معلوم تھا کہ آپ کو بہت پسند آئے گی۔
بسمہ نے اپنی ماں کے پاس بیٹھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
بچوں اگلے ہفتے رحمان کی پوری فیملی ہمارے ہاں آرہی ہے۔خان واپس آگیا ہے اس لیے وہ لوگ یہاں آرہے ہیں تاکہ اس سے مل لیں یہ تو جائے گا نہیں وہاں دادا جان نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
نانا جان ہفتے والے دن آرہے ہیں نا؟ ارسم نے پرسکون انداز میں پوچھا۔
خان خاموش تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ ارسم کیا کہنے والا ہے۔
ہاں کیوں کیا ہوا؟ دادا جان نے حیرانگی سے پوچھا۔
تو ہفتے کا پورا دن مجھے باہر گزرانا پڑے گا خان تم میرے ساتھ آنا چاہو گی؟ ارسم نے خان کی طرف دیکھتے پوچھا۔
خان نے سنجیدگی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔دادا جان بت بنے دونوں کی شکلوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔تحریم نے مسکرا کر دونوں شیطانوں کی طرف دیکھا تھا۔
اگر تم لوگوں نے ہفتے کے دن ایک بھی قدم گھر سے باہر نکالا تو پھر دونوں سے میں پوری زندگی بات نہیں کروں گا۔
دادا جان کے پاس آخر میں یہی ہتھیار بچا تھا۔
نانا جان یار کوئی بلیک میل کرنا آپ سے سیکھے۔ارسم نے پیچھے صوفے سے ٹیک لگاتے پرسکون سے انداز میں کہا۔
خان اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔
اب تم کہاں جا رہے ہو؟ ایک گھر آتا تو دوسرا گھر سے نکل جاتا دادا جان نے تپے ہوئے لہجے میں خان کو دیکھتے پوچھا۔
ایک ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں جلدی واپس آجاؤ گا خان نے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔
پتہ نہیں اس کے ضروری کام کب ختم ہونگے دادا جان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔
بھائی ہم لوگ پیزا کھانے چلیں؟ بسمہ نے ارسم کو دیکھتے پوچھا۔
ہاں چلتے ہیں چلو ارسم نے فوراً ہامی بھرتے کہا۔بسمہ گھر میں واحد تھی جس کی بات کی نفی یا انکار خان اور ارسم نے کبھی نہیں کیا تھا۔
لیکن بچوں کھانا تیار ہے تحریم نے جلدی سے کہا۔
کوئی بات نہیں خالہ رات میں کھا لیں گئے۔ارسم نے مسکراتے ہوئے کہا اور دونوں وہاں سے چلے گئے۔
ابو جان آپ کے لیے کھانا لگا دوں؟ تحریم نے دادا جان سے پوچھا وہ بھی کوثر کی طرح دادا جان کو ابو ہی کہتی تھی۔
ہاں اور ساتھ اپنا کھانا بھی لے آنا مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے دادا جان نے سنجیدگی سے کہا اور اُٹھ کر وہاں سے چلے گئے۔تحریم بھی کچن کی طرف چلی گئی تھی۔
💜 💜 💜 💜 💜
عروہ نے حیرانگی سے سامنے بڑی سی عمارت کو دیکھا تھا۔
وہ انسان تو پھر سچ میں بہت زیادہ امیر ہے۔
عروہ نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا۔اور آفس کے اندر داخل ہوئی۔
عروہ نے بڑی سی کالی چادر لی ہوئی تھی۔آفس میں سب لوگ اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔پرنسپل نے اسے صفوان کا کی کمپنی کا کارڈ دیا تھا۔جو اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔
سب لوگوں کی خود پر جمی نظریں دیکھ کر اس نے کارڈ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔
عروہ ارد گرد ہی دیکھ رہی تھی کہ اب کیا کرے کیونکہ اتنا بڑا آفس تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں جائے جب ایک لڑکی اس کے پاس آئی۔
آپ کا نام عروہ ہے؟ لڑکی نے آنکھوں میں حیرانگی لیے عروہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا اسے حیرانگی ہو رہی تھی کہ اس کے کھڑوس باس نے اس لڑکی کے انتظار میں اسے ایک گھنٹے سے اسے یہاں کھڑا کیا ہوا تھا اور جو حلیہ اس کے باس نے اسے بتایا تھا وہ لڑکی عروہ کو دیکھ کر ہی پہچان گئی تھی کہ یہی وہ لڑکی ہے۔
جی میں ہی عروہ ہوں۔عروہ نے اُس لڑکی کو دیکھتے کہا جو اس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے نظروں سے سالم نگل جائے گی۔
چلیں میرے ساتھ اُس لڑکی نے سرد لہجے میں کہا تو عروہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔
اُس لڑکی نے دروازے ناک کیا اور عروہ کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔
عروہ گہرا سانس لیتے کمرے میں داخل ہوئی جو کافی بڑا تھا۔ہر چیز کو خوبصورتی سے رکھا گیا تھا۔
صفوان دائیں جانب بنی کھڑکی کے پاس کھڑا باہر کا نظارہ دیکھ رہا تھا۔
عروہ اندر تو آگئی لیکن اب اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے مقابل کو مخاطب کرے۔لیکن صفوان نے اس کا مسئلہ حل کر دیا۔
بیٹھ جائیں۔صفوان کی سنجیدہ آواز کمرے میں گونجی تھی۔
عروہ جلدی سے بیٹھ گئی تو صفوان نے رخ موڑے ایک بھر پور نگاہ عروہ پر ڈالی جس کے چہرے کو دیکھ کر ہی لگ رہا تھا کہ وہ کافی گھبرائی ہوئی ہے۔
صفوان چلتا ہوا عروہ کے سامنے بیٹھ گیا۔
عروہ میں ہمت نہیں تھی کہ وہ سامنے بیٹھے انسان کو دیکھ سکے۔
آپ کی کوالیفیکیشن کیا ہے؟ صفوان نے ہاتھ میں پکڑے پن کو گھماتے ہوئے عروہ سے پوچھا۔نظریں ابھی بھی اس کے چہرے پر جمی تھیں۔
گریجویٹ ہوں میں عروہ نے نظریں جھکائے ہی کہا۔
آپ کی سی وی کہاں ہے؟ صفوان نے اگلا سوال کیا۔
وہ… عروہ نے اب اپنا چہرہ اوپر کیا تھا۔لیکن صفوان کے چہرے پر چھائی سرد مہری دیکھ کر اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
میرے پاس نہیں ہے۔عروہ نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔جلدی کے چکر میں وہ سی وی لانا بھول گئی تھی۔
آپ انٹرویو دینے آئی ہیں اور ساتھ سی وی نہیں لائی؟ آپ تو ابھی سے غیر زمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں بعد میں کیا کریں گئی؟
صفوان نے چیئر پر جھولتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
لیکن عروہ نے فوراً فیصلہ کیا تھا کہ وہ یہاں کام نہیں کرے گی اگر وہ ایک دن بھی یہاں رہی تو جو اسکا دل خوف سے سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا اُس نے خوف سے پھٹ جانا تھا کیونکہ سامنے بیٹھے انسان کی باتیں ہی اسے خوف میں مبتلا کر رہی تھیں۔
تو آگے ناجانے کیا کرتا۔
مجھے یہ جاب نہیں چاہیے شکریہ
عروہ نے کہا اور جلدی سے اُٹھ کر وہاں سے جانے لگی۔
پرنسپل بتا رہی تھیں آپ کو پیسوں کی ضرورت ہے۔صفوان نے عام سے لہجے میں کہا۔
عروہ کے پیروں کو وہی بریک گی تھی۔
آپ کو جتنے پیسے چاہیں میں دینے کو تیار ہوں لیکن صفوان نے بات کو ادھورا چھوڑتے کہا۔
عروہ نے مڑ کر صفوان کی طرف دیکھا تھا۔
جو اپنی جگہ سے اُٹھ کر چلتا ہوا عروہ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
کتنے پیسے آپ مجھے دے سکتے ہیں؟ عروہ نے پوچھا۔پیسوں کا سوچ کر پھر سے وہ رک گئی تھی۔
جتنے آپ کو چاہیے۔صفوان نے اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے کہا۔
کیا آپ مجھے بیس لاکھ دے سکتے ہیں؟ عروہ نے کہا تو ایک پل کے لیے صفوان کے چہرے پر حیرانگی آئی تھی لیکن صرف ایک پل کے لیے
اگر آپ تیس لاکھ بھی مانگے گی تو میں آپ کو دے دوں گا۔صفوان کی اس بات نے عروہ کو حیران کیا تھا۔
لیکن آپ مجھے اتنے پیسے کیوں دے رہے ہیں؟ آپ تو مجھے جانتے بھی نہیں ہیں۔اگر میں آپ کے پیسے لے کر بھاگ گئی تو؟
عروہ نے سنجیدگی سے پوچھا۔صفوان سے بات کرتے اس کا ڈر کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔
دنیا میں کوئی بھی کام مفت میں نہیں ہوتا اُس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔اور جہاں تک بات ہے میری تو میں کسی کے پاس اپنا ایک روپیہ بھی نا رہنے دوں بیس لاکھ تو بہت بڑی رقم ہے۔لیکن میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اپنی چیز واپس کیسے لینی ہے تو ایک شرط پر میں آپ کو پیسے دے سکتا ہوں۔
صفوان نے کہا تو عروہ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
کیسی شرط؟ عروہ نے پوچھا۔
صفوان کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آگئی تھی اس نے اپنے اور عروہ کے درمیان نا ہونے کے برابر فاصلے کو ختم کیا اور اس کے قریب آیا۔
عروہ گھبرا کر پیچھے ہونے لگی لیکن دیوار کی وجہ سے ہو نہیں پائی۔
صفوان عروہ کے کان کے پاس جھکا۔عروہ کا چہرہ پھر سے خوف سے زر پڑ گیا تھا۔
مجھ سے نکاح کرنا ہو گا۔صفوان نے گھمبیر لہجے میں کہا۔
عروہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
💜 💜 💜 💜 💜
