Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
“‘ اگر تم یہاں میری حالت کا مذاق بنانے آئی ہو یا پھر مجھ پہ ترس کھانے آئی ہو تو یہاں سے فورا چلی جاؤ ۔۔۔ “‘
وہ جیل کی چار دیواری پہ نظریں جمائے سخت لہجے بولا
اس نے ایک بار بھی آنے والے کی طرف پلٹ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی
“‘ ” جو خود قبل رحم ہے وہ دوسرو کا کیا مذاق بنائے گی ۔۔۔۔ اسلئے تم فکر مت کرو میں یہاں تمہارا مذاق بنانے یا تم پر ترس کھانے نہیں آئی ہوں “‘
آج اسکے لہجے میں کسی قسم کی کاٹ نہیں تھی طنز نہیں تھا جسے شمس خان بخوبی محسوس کر سکتا تھا
“‘ ” تو تم یہاں کیوں آئی ہو ۔۔۔ چلی جاؤ یہاں سے میں تمہار شکل تک دیکھنا نہیں چاہتا تم سے بات کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔۔ آج اگر میں اس حالت میں ہوں تو اسکی وجہ صرف تم ہو رباب زمان شاہ ۔۔۔۔ صرف تم “‘
اس بار جھٹکے سے اسکی جانب پلٹتا ہوا وہ غرایا تھا جبکہ اسکا اتنا شدید رد عمل دیکھ کر رباب ایک لمحے کے لئے گھبرا سی گئی تھی
“‘ ” جو کچھ ہم نے کیا تھا ساتھ مل کر کیا تھا مگر اسکی سزا صرف مجھے ملی ہے ۔۔ اور تم آرام سے اپنی زندگی گزار رہی ہو ۔۔۔ اور میں یہاں اس قید میں ہوں “‘
وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اسکے غیر کانونی کام کی خبر پولیس تک پہنچانے والا اور کوئی نہیں اسفند ہی تھا
اس نے بہت دماغ کے ساتھ گیم کھیلا تھا اور وہ اسکے پلان سے انجان تھا
اگر وہ اپنی ضد چھوڑ کر رباب کی باتوں میں نہ آتا تو وہ اس وقت یہاں موجود نہ ہوتا
اور اب وہ بری طرح پچھتا رہا تھا مگر اب سب کچھ اسکے ہاتھ سے نکل چکا تھا
“‘ ” تم تو کچھ مہینے اس جیل میں رہ کر اپنی سزا کاٹ لوگے ۔۔۔ یا شاید تمھیں یہاں اتنے دن بھی نہ رہنا پڑے کیونکہ تمہارے ڈیڈ کچھ نہ کچھ کر کے تمھیں یہاں سے نکال لینگے ۔۔۔ مگر میں “‘
وہ اپنی بات کہہ کر ایک لمحے کے لئے رکی اور شمس کی جانب دیکھا جسکے چہرے پہ پچھتاوا صاف ظاہر ہو رہا تھا
“‘ ” میری سزا تو زندگی بھر کی ہے شمس ۔۔۔۔ جو شاید کبھی ختم نہیں ہوگی ۔۔۔ اپنی محبت میں اندہ ہوکر میں بہت کچھ غلط کر چکی ۔۔۔
“‘ ایک کی میں نے عزت برباد کر دی۔۔۔ ایک کی میری وجہ سے جان بھی جا سکتی تھی “‘
وہ چہرے پہ شرمندگی لئے اسکے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کر رہی تھی
جبکہ شمس چہرے پہ حیرانی لئے اسے دیکھ رہا تھا
کیونکہ آج پہلی بار اس نے اس رباب زمان شاہ کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تھے جو دوسروں کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیتی تھی
“‘ ” اور میری یہی سزا ہے کہ میں ایک بیٹا اور ایک بھائی ہونے کے باوجود اکیلے زندگی گزارو “‘
وہ ایک نقتے پہ نظریں جمائے ہوئے بول رہی تھی
“‘ ” رباب زمان شاہ اپنے گناہ خود قبول کر رہی ہے ۔۔ ان سب باتوں پہ یقین کرنا تھوڑا مشکل لگ رہا ہے “‘
شمس اس بار خود کو روک نہیں پایا اس لئے فورا بولا تھا
“‘ کل اپنے بھائی اور وہاں موجود لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں نے زندگی میں کبھی محبت حاصل ہی نہیں کی صرف اپنی خوشی کے بارے میں سوچا ۔۔۔۔اسلئے فیملی ہوتے ہوئے بھی میں آج بلکل تنہا ہوں “‘
اس بار اسکی آواز میں ایک درد تھا جو شمس بھی محسوس کر سکتا تھا
“‘ ” اپنے بھائی کی آنکھوں اور لفظوں میں چھپی نفرت کو میں بھول نہیں پا رہی ہوں ۔۔۔۔ “‘۔
اس نے آہستہ سے اپنے رخسار پہ پھسلا آنسوں صاف کیا اور شمس کی جانب دیکھا جسکی آنکھوں میں اب اسکے لئے نفرت نہیں تھی
“‘ خیر میں بس یہاں ایک آخری بار تم سے ملنی آئی تھی کیونکہ کل میں لندن واپس جا رہی ہوں ۔۔۔ شاید زندگی میں پھر کبھی ملاقات نہ ہو “‘
اپنی بات کہہ کر اس نے مسکرانا چاہا مگر اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی
“‘ ” کیا تم اس بار ہمیشہ کے لئے جا رہی ہو “‘
اسے رباب کے حالت دیکھ کر دکھ تو ہوا تھا مگر وہ صرف افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا تھا
“‘ اگر میرے کسی اپنے نے مجھے معاف کر دیا تو شاید واپسی کا سوچ لوں ۔۔۔ پر میں جو سب کے ساتھ اتنا کچھ کر چکی ہوں اسکے بعد شاید ہی کوئی مجھے معاف کر پائے “‘
وہ اپنی بات کہہ کر جانے کے لئے پلٹی تھی مگر شمس کی آواز پہ اسکے قدم اپنی جگہ رکے تھے
“‘ ” یہاں سے نکلنے کے بعد میں تم سے رابطہ کرونگا۔۔ آخر ہم دوست تو ہے ہی “‘
شمس کی بات پہ وہ ہولے سے مسکرا دی اور جانے کے لئے پلٹ گئی شمس وہاں کھڑا اسکے اسکو جاتا دیکھتا رہا جب تک وہ اسکی نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی
🔥🔥
(پانچ سال بعد )
“‘ ” کیا ہوا ھاد بیٹا آپ یہاں ایسے اداس کیوں بیٹھے ہیں۔۔۔”‘
حفصہ جو ابھی کچن کے کام سے فارغ ہوکر لاؤنج میں داخل ہوئی ھاد کو صوفہ پہ منہ لٹکائے بیٹھا دیکھ فکرمندی سے اسکے قریب آئی تھی
“‘ ” اور یہ سب کیا ہے حال بنا رکھا ہے آپ نے اپنی بکس کا ۔۔۔یہ سب ایسے کیوں بکھری پڑی ہوئی ہیں “‘
اسکی نظر جب ٹیبل پہ بکھری پڑی ھاد کی بکس پہ پڑی تو اس بار وہ تھوڑا حیرانی سے بولی
“‘ ” یہ سب میں نے نہیں کیا ماما ۔۔ میری بکس کا یہ حال بنانے والی اینجلز ہیں “‘
وہ حفصہ کے سوال کا جواب معصومیت سے دیتا ٹیبل پہ بکھری اپنی چیزوں کو اٹھانے لگا
جبکہ اسکے منہ سے اینجلز کا سن کر حفصہ گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی
اسکی اینجلز اور کوئی نہیں اسکی جڑوا چھوٹی بہنے اسوہ اور عروہ تھی
چار سالہ اسوہ اور عروہ جو ہر وقت اپنی شرارتوں سے اپنے دس سالہ بڑے بھائی کو تنگ کرتی رہتی تھی
“‘ اور ان دونوں نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔ آپ نے انہیں ڈانٹا کیوں نہیں ۔۔۔ میں خبر لیتی ہوں ان دونوں کی اپنے بھائی کو کون ایسے تنگ کرتا ہے “‘
حفصہ اسکے ساتھ سب بکس سیمٹتی ہوئی تھوڑا ناراضگی سے بولی
جبکہ اسکے منہ سے اپنی اینجل پہ ڈانٹ پڑنے کا سن کر وہ تھوڑا گھبرا سا گیا تھا
“‘ “نہیں ماما آپ انہیں ڈانٹئے گا مت دراصل وہ دونوں میرے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی پر مجھے اسکول کا ہوم ورک کرنا تھا ۔۔۔”‘
“‘ بس میرے منع کرنے پہ وہ دونوں مجھے سے ناراض ہو گئی اسلئے انہونے ایسا کیا “‘
اس نے فورا ان دونوں کی سائیڈ لی تھی
اپنی بہنوں کی غلطی ہونے کے باوجود اسے انکی سائیڈ لیتا دیکھ حفصہ نے بہت محبت سے اسکی طرف دیکھا تھا
وہ اپنی چھوٹی بہنوں سے بہت محبت کرتا تھا انکے نکھرے اٹھاتا
وہ دونوں ہمیشہ اسے تنگ کرتی رہتی تھی مگر وہ اف تک نہ کرتا
حفصہ کو آج بھی یاد ہے جب پہلی بار اس نے اپنی بہنوں کو دیکھا اس دن ھاد کی خوشی دیکھنے لائق تھی اسکی دو بہنوں کی فرمائش جو پوری ہو گئی تھی
اس دن سے آج تک وہ ایک بڑے بھائی کی طرح انکا خیال رکھتا تھا
حالانکہ وہ خود ایک دس سالہ بچہ تھا مگر اپنی بہنوں کے لئے وہ بڑا بھائی تھا
اسکی اسوہ اور عروہ کے لئے اتنی محبت دیکھ کر اسفند اور حفصہ کے ساتھ ساتھ حیات صاحب کا دل مطمئن ہو جاتا تھا
اگر وہ دونوں کچھ غلطی بھی کر دیتی تو وہ حفصہ کو انہیں کچھ کہنے نہیں دیتا تھا اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا
وہ حدید کے بیٹے دو سالہ اسد سے بھی بہت محبت کرتا تھا مگر حدید نے اپنا بزنس ملک سے باہر سیٹ کر لیا جس وجہ سے وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ وہیں سیٹل ہو گیا تھا
ہر دوسرے مہینے وہ سب سے ملنے آتے رہتے تھے
“‘ ” اچھا ٹھیک ہے میں انہیں کچھ نہیں کہتی ۔۔ اسلئے تمھیں اب انہیں چھپانے کی ضرورت نہیں ہے “‘
اسکا اسکول بیگ اچھی طرح سیٹ کرنے کے بعد وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی اور ٹو سیٹر صوفہ کے پیچھے سے نظر آتے ننھے وجود کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ ھاد اسے روکتا ہی رہ گیا تھا
وہ دونوں شرارت کرکے اپنی ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے ہمیشہ ایسے ہی چپ جاتی تھی
“‘ ” جب آپ دونوں کو ماما کی ڈانٹ سے اتنا ڈر لگتا ہے تو آپ دونوں اتنی شرارت کیوں کرتی ہو۔۔۔ اور اپنے بھائی کی بکس کیوں خراب کی آپ دونوں نے ؟ “‘
وہ ان دونوں کے نازک ہاتھوں کو تھامتی ہوئی ھاد کے قریب صوفہ پہ آ بیٹھی اور باری باری دونوں سے سوال کرنے لگی جو ماں کے سخت لہجے پہ ڈر رہی تھی
“‘ “ھاد بھائی ہمارے ساتھ کھیلنے سے منع کر رہے تھے ۔۔ اور ہمارے ساتھ کھیلنے والا اور کوئی نہیں ہے تو ہم کس کے ساتھ کھیلتے “‘
جواب عروہ کی طرف سے آیا تھا جو اسوہ کے مقابلے زیادہ بولتی تھی
“‘ “آپ دونوں جانتی ہیں جب ھاد بھائی کی ٹیچر انکی خراب بک دیکھیں گی تو آپکے ھاد بھائی کو ڈانٹ پڑے گی ۔۔ آپکو اچھا لگے گا جب انکی ٹیچر انہیں ڈانٹے گی ؟ “‘
وہ ان دونوں کے معصوم چہروں کو دیکھتی ہوئی سوال کر رہی تھی جس پہ ان دونوں نے اپنی گردن زور زور سے نفی میں ہلائی تھی
“‘ ” تو آپ دونوں آئندہ ایسا نہیں کریں گی ۔۔۔ چلو اب دونوں اچھے بچوں کی طرح جلدی سے بھائی سے سوری بولو “‘
ان دونوں کے رخسار پہ ہاتھ پہرتی وہ بہت محبت سے انہیں سمجھا رہی تھی
“‘ ” سوری ھاد بھائی ۔۔۔ ہم دونوں اب ایسا نہیں کریں گے ۔۔۔۔ اب تو آپکی ٹیچر آپکو نہیں ڈانٹے گی نہ “‘
دونوں اپنی جگہ سے اٹھ کر ھاد کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور چہرے پہ دنیا جہاں کی معصومیت لئے اس سے معافی مانگ رہی تھی جس پہ ھاد کے ساتھ حفصہ بھی مسکرا دی تھی
“‘ ” نہیں اب نہیں ڈانٹے گی “‘
وہ باری باری دونوں کے پھولے ہوئے گالوں کو چومتا ہوا بولا تو دونوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تھے
” ” اچھا ماما ہم کھیلنے جا رہے ہیں ۔۔ بھائی جب آپکا کام ہو جائے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھیلنے آ جانا “‘
معافی ملتے ہی دونوں وہاں رکی نہیں اپنی بات کہتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی جبکہ حفصہ انہیں آوازیں دیتی رہ گئی تھی
“‘ بہت شرارتی ہوتی جا رہی ہیں دونوں میری تو سنتی ہی نہیں ۔۔۔ “
انکی تیزی وہ پریشانی سے بولی تو ھاد اسکی بات پہ مسکرا دیا تھا
“‘ ” ارے ہاں بیٹا ھاد میں نے تم سے کل کہا تھا کہ اپنی مام سے بات کر لینا تم نے کر لی تھی نہ ۔۔۔ پچھلے کچھ دن سے تم انہیں کال نہیں کر رہے ہو “‘
حفصہ کے یکدم سے یاد آیا تو وہ اس سے پوچھ بیٹھی تھی
پچھلے دو سال سے رباب حفصہ کے ٹچ میں تھی لندن جانے کے تین سال بعد وہ حفصہ کے ساتھ باقی تمام لوگوں سے معافی مانگنے کی ہمت کر پائی تھی سب اسے معاف کر چکے تھے سوائے مصطفیٰ کے
اس نے حفصہ اور اسفند سے اجازت لی تھی اپنے بیٹے سے بات کرنے کی جو حفصہ نے خوشی خوشی دے دی تھی
اسفند کو جب معلوم ہوا تو اس نے اعتراض کیا مگر حفصہ اسے یہ کہہ کر خاموش کروا چکی تھی کہ وہ اس سے ھاد کی ماں ہونے کا حق نہیں چھین سکتی وہ صرف اس سے بات کرنا چاہتی ہے اور وہ اسکے لئے اتنا تو کر ہی سکتی تھی
“‘ ” ٹھیک ہے ماما میں اپنا ورک کرنے کے بعد کر لونگا”‘
ھاد اپنی ماں سے محبت تو نہیں کرتا تھا مگر اب اسکی عزت کرنے لگا تھا وہ بھی حفصہ کی باتوں کا ہی اثر تھا اور اسی کے کہنے پہ وہ اس سے بات بھی کر لیتا تھا
“‘ ” میرا پیارا بیٹا۔۔ اب آپ اپنا ورک کمپلیٹ کر لو میں ان دونوں کو دیکھ لوں ذرا تمہارے ڈیڈ بھی آنے والے ہیں “‘
وہ محبت سے اسکی پیشانی چومتی اپنی جگہ سے اٹھ کر لان کی طرف بڑھی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اسکی دونوں شہزادیاں اس وقت وہی موجود ہونگی
🔥🔥
” “‘ ضیغم بیٹا پلیز یہ دودھ فنش کر لو ماما آپکے بابا سے بولیں گی کہ آپکو نیو کار لاکر دیں “‘
پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ اپنے بیٹے کو پیار سے بہلانے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ وہ دودہ پی لے مگر اس نے اب تک گلاس کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا
یوں ہی منہ پھلائے بیٹھا حورین کو مشکل میں ڈال رہا تھا
“‘ میں کہہ رہا ہوں نہ کہ مجھے دودھ نہیں پینا تو نہیں پینا ۔۔ اور نہ ہی مجھے کوئی کار چاہئے “‘
وہ روٹھا ہوا اس سے رخ پھیر گیا تھا جبکہ اسکی ضدی انداز پہ حورین اپنا سر پکڑ کر رہ گئی تھی
چار سالہ ضیغم میں اسکی اور مصطفیٰ کی جان تھی
وہ حفصہ کی بیٹیاں عروہ اور اسوہ سے تین مہینے چھوٹا تھا مگر اپنی حرکت اور باتوں کی وجہ سے وہ کہیں سے بھی چار چار سال کا نہیں لگتا تھا
شرارتی اتنا تھا کہ پورے دن حورین کی ناک میں دم کرکے رکھتا
جبکہ ضد اور غصّے میں تو بلکل اپنے باپ پر گیا تھا اگر کوئی چیز پسند آ گئی تو حورین اور مصطفیٰ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا جب تک وہ اسے وہ چیز لاکر نہیں دیتے تھے
کبھی کبھی تو مصطفیٰ بھی اسکی ضدی پن کی وجہ سے اس سے گھبرا جاتا اور حورین کو الزام دینے لگتا کہ اسکے لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا جبکہ حورین اس الزام پہ بس اسکو دیکھ کر رہ جاتی
کیونکہ اسے اتنا ضدی بنانے والا مصطفیٰ خود تھا اب اسے الزام دیتا تھا
“‘ ” تھوڑا سا تو پی لو بیٹا آپ نے شام سے کچھ نہیں کھایا ہے ۔۔۔اگر آپ دودھ نہیں پیو گے تو سٹرانگ کیسے بنو گے “
اس ایک اور بار کوشش کرنی چاہی مگر اسکی گردن نفی میں ہلتی دیکھ حورین گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی
“‘ ” مجھے نہیں پینا کیونکہ میں آپ سے ناراض ہوں ۔۔آپ اچھی ماما نہیں ہیں “‘
وہ خفا سا بولتا حورین کو بہت پیارا لگا مگر وہ اس سے کس بات سے ناراض تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی
“‘ ” اور آپ ماما سے کیوں ناراض ہیں “‘
اس بار سوال مصطفیٰ کی طرف سے کیا گیا تھا جو ابھی آفس سے لوٹا اور دونوں ماں بیٹے کو ڈھونڈتے ہوئے کچن میں داخل ہوا تھا
مصطفیٰ کی آواز پہ حورین کے ساتھ ضیغم نے بھی پلٹ کر جو اب آہستہ سے چلتا ہوا انکے قریب آیا ضیغم سلیپ پہ بیٹھا ہوا تھا جبکہ حورین اسکے قریب دودھ کا گلاس لئے ہوئے کھڑی تھی
“‘ ” دیکھیں نہ ڈیڈ جب بھی میں حفصہ خالہ کے جاتا ہوں تو عروہ اور اسوہ ھاد بھائی کی ٹیم میں شامل ہو جاتی ہے تو میں اکیلا رہ جاتا ہوں کیونکہ میرا کوئی بھائی بہن نہیں ہے ۔۔۔
۔۔۔ اسلئے میں نے ماما سے بولا تھا کہ مجھے بہت سارے بہن بھائی چاہئے پھر میری بھی ٹیم بڑی ہوگی مگر یہ میری بات سنتی نہیں اسلئے میں ان سے ناراض ہوں “‘
وہ چہرے پہ معصومیت لئے اسے تفصیل سے اپنی پریشانی بتا رہا تھا
اسکی بات پہ جہاں مصطفیٰ نے اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکا وہیں دوسری طرف اسکی پوری بات سمجھ آنے پہ حورین نے ایک گھیرا سانس خارج کیا تھا
پچھلے کچھ دنوں سے اسے بہن بھائی کی ایک نئی ضد لگی ہوئی تھی وہ اسے کتنی بار سمجھا بھی چکی تھی کہ وہ دعا کریں کہ اللّه اسے بہن بھائی دے مگر ٹھرا باپ کی طرح بے صبر انسان ایک بات سمجھ ہی نہیں آتی تھی
اب بچے مارکیٹ میں تو ملتے نہیں تھے جو وہ انہیں خرید کر اسکی ضد پوری کر دیتی
“‘ ” یہ تو بہت بڑا مثلا ہے میرے بیٹے کے لئے ۔۔۔ پر اب تم فکر مت کرو تمہارے ڈیڈ تمہارے لئے بہن بھائی کی ایک پوری ٹیم تیار کریں گے ۔۔۔۔ “‘
وہ حورین کی گھوری کو نظرانداز کرتا گلاس اسکے ہاتھ سے لیتا اب ضءغم کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا
“‘ آپ سچ کہہ رہے ہیں ڈیڈ “‘
اپنے باپ کی بات سن کر ضیغم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا
“‘ ہاں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔ مگر اسکے لئے تمھیں یہ دودھ فنش کرنا ہوگا “‘
وہ گلاس اسکی طرف بڑھاتا ہوا بولا جس پہ وہ خوشی خوشی اپنے باپ کے ہاتھ سے گلاس لیکر اسے چند سانسوں میں ختم کر چکا تھا
“‘ “میں یہ بات دادو کو بتاتا ہوں جاکر “‘
مصطفیٰ نے جیسے ہی اسے سلیپ سے اتارا تو وہ بھاگتا ہوا کچن سے نکل گیا
وہ داؤد صاحب کو دادو بلاتا تھا جو آج بھی مصطفیٰ کے ساتھ رہتے تھے انکا بھی مصطفیٰ کے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں تھا
“‘ ” ہر گزرتے دن کے ساتھ اسکی ضدے بھی بڑھتی جا رہی ہے “‘
حورین خالی گلاس سنک میں رکھتی ہوئی اب اسکی جانب پلٹی تھی جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“‘ ” آخر بیٹا کس کا ہے “‘
وہ شوخی سے بولا تو حورین آنکھیں گھوما کر رہ گئی تھی
ضد میں تو وہ اپنے باپ کا بھی باپ تھا
“‘ ” آج رباب آپی کا فون آیا تھا کم از کم آپ ایک بار تو انکی کال رسیو کر لو “‘
اسکی نظر جب سلیپ پہ رکھے اپنے موبائل پہ پڑی تو یکدم اسے رباب کا خیال آیا تھا جو پچھلے دو سال سے اپنے بھائی سے بات کرنے کے لئے تڑپ رہی تھی مگر مصطفیٰ اسے معاف کرنے کے لئے تیار نہ تھا
حورین نے جب اسے بتایا کہ وہ نکاح کرکے اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہے اور اسکے ایک سال کی بیٹی بھی جسے سن کر مصطفیٰ کو سکون تو ملا تھا مگر اس نے ایک بار بھی اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی
رباب ہر روز اسی امید کے ساتھ اسے کال کرتی کہ شاید وہ اس سے بات کر لے مگر ہر روز ہی وہ اسکی امید کو توڑ دیتا تھا
“‘ سب اپنے گناہ کی سزا پا چکے ہیں اب آپ رباب کی سزا بھی ختم کر دیں مصطفیٰ وہ اب سدھار چکی ہے اسکو ایک موقع تو دیں “‘
وہ ہر روز کی طرح اب بھی بہت آرام سے اسکو سمجھا رہی تھی
وہ دونوں اپنی زندگی میں بہت خوش تھے مگر کہیں نہ کہیں حورین کو لگتا تھا کہ مصطفیٰ ابھی بھی کسی کی کمی کو محسوس کرتا ہے اور وہ کس کی کمی تھی حورین اچھی طرح جانتی تھی
وہ چاہتی تھی کہ وہ رباب کو معاف کرکے اپنے پاس بلا لے اور وہ آج کل اسی کوشش میں لگی ہوئی تھی
“‘ ہم کسی کو بھی سزا دینے کا حق نہیں رکھتے مصطفیٰ کیونکہ یہ کام اللّه کا ہے اور مجھے لگتا ہے رباب کو انکی سزا مل چکی ہے “‘
وہ اسکے بازو پہ ہاتھ رکھتی ہوئی اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
اور پہلی بار مصطفیٰ نے اسکے کہے لفظوں پہ غور کیا تھا
ابراھیم خان کے گناہ کی سزا اللّه نے انہیں دی انہیں ایک دردناک موت دیکر ۔۔۔کیونکہ انہونے نا حق حورین کے بابا کی جان لی تھی
شمس بھی اپنی سزا جیل میں کاٹ کر باہر نکل چکا ہے اور یہ ملک چھوڑ کر بھی چلا گیا کیونکہ اس نے رباب کے ساتھ مل کر حفصہ کے ساتھ غلط کیا تھا
باقی رہ گئی رباب اسکا بچہ اسے اپنی ماں نہیں سمجھتا اس سے بری سزا اسکے لئے اور کیا ہو سکتی ہے
حورین صحیح کہہ رہی تھی سب کو انکے کئے کی سزا مل چکی ہے تو وہ کون ہوتا ہے کسی کو بھی سزا دینے والا
یہ سوچ آتے ہی اس نے جیسے فیصلہ لے لیا تھا اور آج اسے فیصلہ لینے آسان بھی لگا
“‘ ” رباب کا اب جب بھی فون آئے تو اس سے کہہ دینا کہ اسکا بھائی اسکو اپنے پاس بلا رہا ہے “‘
مصطفیٰ کے لفظ سن کر حورین کتنے ہی لمحے بےیقین سے اسکو دیکھتی رہی پھر یکدم سے خوشی ہوتی ہوئی اسکے سینے سے آ لگی جس پہ مصطفیٰ ہولے سے مسکرا دیا تھا
🔥🔥
“‘ ” بچوں کو تو تیار کر دیا ہے میں نے اور میری بھی تیاری مکمل ہے ۔۔۔ مگر تمہاری اسفند بھائی ابھی تک آفس سے نہیں آئے ہیں “‘
وہ موبائل پہ حورین سے بات کرتی ہوئی آئنے کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور ڈریسنگ ٹیبل سے لپ اسٹک اٹھا کر اپنے ہونٹوں پہ لگی ریڈ لپ سٹک کو مزید ڈارک کرنے لگی
“‘ ” اچھا ٹھیک ہے تم بھی جاکر ضیغم کو تیار کر لو ۔۔۔ چلنے سے پہلے میں تمھیں کال کر دونگی سب لوگ وہاں ایک ساتھ جاکر ہارون بھائی کو سرپرائز دینگے “‘
وہ دوسری طرف حورین کو ہدایت دیتی کال کٹ کر چکی تھی
آج ہارون کی شادی کی دوسری سالگرہ تھی عنایہ نے اپنے شوہر ہارون کے لئے ایک سرپرائز پارٹی پلان کی تھی جس میں صرف گھر کے فرد شامل تھے
“‘ ” کال کر کے پوچھ لیتی ہوں آخر آج اتنی دیر کیوں ہو گئی ہے “‘
اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد اس نے جیسے ہی ڈریسنگ پہ رکھا اپنا موبائل اٹھایا کہ تبھی اسکے بیڈروم کا دروازہ کھلا تھا
حفصہ نے پلٹ کر دیکھا تو اسفند اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا
اسکے چہرے کو دیکھ کر حفصہ ہولے سے مسکرا دی جس پہ تھکن صاف ظاہر ہو رہی تھی
“‘ ” مجھے تو لگا تھا کہ تم شاید پارٹی کے بارے میں بھول ہی گئی ہو۔۔۔۔ اتنی دیر لگا دی آنے میں “‘
وہ اپنی ساڑھی سنبھالتی ہوئی اسکی طرف بڑھی تھی
اسفند جو ٹیبل پہ اپنا لیپ ٹاپ اور آفس بیگ رکھ رہا تھا حفصہ کی آواز پہ اسکی طرف متوجہ ہوا اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسکی نظروں نے پلٹنے سے انکار کر دیا تھا
ڈارک ریڈ کلر کی ساڑھی میں اسکا حسن دہک رہا تھا بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کیا ہوا تھا ہاتھوں میں بھری بھری لال چوڑیاں اسفند کے جذبات میں ہلچل مچا رہی تھی
وہ کتنے ہی لمحے دمبخود کھڑا بس اسکے تکتا رہا تھا
” ” مجھے لگتا ہے آج پارٹی کے بارے میں بھولنا ہی پڑے گا ۔۔۔ اور تم بھی بھول جاؤ کی آج کوئی پارٹی بھی ہے “‘
وہ اسکو گہری نظروں سے دیکھتا ہوا اسکے قریب بڑھا تھا
جبکہ حفصہ اسکی باتوں کا مطلب سمجھے بغیر اسکے الفاظ سن کر حفصہ حیرانی سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی
“‘ ” ایسے کیسے بھول جاؤ ۔۔۔ عنایہ نے اتنی تیاری کی ہوئی ہے وہاں پر ۔۔۔۔ امی بھی ہمارا انتظار کر رہی ہیں اور تم کہہ رہے ہو کہ ہم پارٹی بھول جائے “‘
وہ اب اسکی طرف دیکھ کر ناراضگی سے بول رہی تھی حفصہ کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ تھکا ہوا ہونے کی وجہ سے جانے سے منع کر رہا ہے
جبکہ اسفند بڑے مزے سے کھڑا اپنی بات کی وجہ سے اسکے بکڑے ہوئے تیور دیکھ رہا تھا اسکا یوں سکون سے دیکھنا حفصہ کو غصّہ دلا گیا تھا
“‘ ” اگر تمھیں نہیں جانا ہے تو مت جاؤ میں بچوں کو لیکر چلی جاتی ہوں ۔۔۔۔بےفکر رہو وہاں پر میں تمہارے نہ آنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دونگی “‘
اسکی خاموشی پر وہ اس بار غصّے سے کہتی وہاں سے جانے کے لئے جیسے ہی آگے بڑھی اسفند اتنی ہی تیزی سے اسکو کمر سے پکڑ اسے روک چکا تھا
“‘ ” یار تم میری بات سمجھے بغیر غصّہ ہو گئی ۔۔۔”‘
وہ اپنی دونو بازو اسکی نازک کمر کے گرد حائل کرتا اسے خود سے قریب کر چکا تھا
“‘ میرا کہنے کا یہ مطلب تھا کہ آج تم اتنی اچھی لگ رہی ہو کہ میرا دل کر رہے ہے کہ پارٹی میں جانے کے بجائے ہم یہی بیڈروم میں اپنی پارٹی کرتے ہیں نہ “‘
وہ شوخی سے کہتا اسکے چہرے پہ کوئی شرارت کرنے کے لئے جیسے ہی جھکا مگر حفصہ اسکا ارادہ بھانپ کر اسکے چوڑے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے روک چکی تھی
“‘ ” نہیں ہرگز نہیں ۔۔۔ تم جاؤ جلدی جاکر تیار ہو جاؤ حورین کا دو بار فون آ چکا ہے “‘
اسکے پلان پہ پانی ڈالتی وہ اسے ہری جھنڈی دکھا چکی تھی مگر وہ
” ” کتنی ظالم بیوی ہو یار تم ۔۔۔ ایک تو تمھیں اتنا تیار نہیں ہونا چاہئے تھا ۔۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ میں وہاں خود پہ کیسے قابو رکھ پاؤ گا “‘
وہ بیچارگی سے بولا تو اسکی بات پہ حفصہ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا
“‘ ” اسفند تم دن با دن بےشرم ہوتے جا رہے ہو ۔۔۔ کچھ تو شرم کیا کرو تین بچوں کے باپ ہو “‘
اس نے جیسے اسے اپنی طرف سے شرم دلانی چاہی تھی
وہ ایسا ہی تھا اپنی باتوں اور حرکتوں سے حفصہ کو تنگ کرتا رہتا تھا
وہ اسکی شرارتوں پہ بس اسکو گھور کر رہ جاتی تھی
“‘ ” تین کیا اگر دس بھی بچے ہو گئے تو بھی میں اپنی بےشرمی کم نہیں کرنے والا “”
وہ اسکے بلاؤز کی ڈوری سے کھیلتا ہوا شرارت پہ آمادہ تھا
وہ اسکی ڈوری کھولتا اب اسکی سراحی دار گردن پہ جبجا اپنا لمس چھوڑنے لگا تو حفصہ نے گھبرا کر اپنا آپ اس سے آزاد کروانا چاہا مگر وہ اپنی گرفت مزید سخت کر چکا تھا
“‘ ” اسفند پلیز چھوڑ مجھے ہمیں دیر ہو رہی ہے “‘
اسکی بڑھتی جسارتوں پہ وہ بمشکل بول پائی تھی
مگر وہ اسکی حالت سے محظوظ ہوتا اب اسکی بیوٹی بون پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
وہ اسکی گردن پہ جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا حفصہ کو اسے روکنا مشکل لگ رہا تھا
“‘ ” اسفند پلیز ۔،۔۔۔ ہمیں پہلے ہی دیر ہو چکی ہے اب مزید دیر مت کرو “‘
وہ اپنی پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان بولی تو اس بار اسکی آواز سنتا وہ اس سے دور ہوا تھا
“‘ ” ایک شرط پہ جاؤ گا ۔۔۔۔ تمھیں مجھے اچھی سی کس کرنی ہوگی تاکہ مجھے انرجی مل جائے خود کو قابو میں رکھنے کی “‘
وہ اسکے سرخ لبوں پر نظریں جمائے بولا جنہیں چھونے کے لئے اسکا دل باغی ہو رہا تھا
“‘ ” اسفند تمھیں مجھے پر رحم نہیں آتا کیا “‘
وہ رونی صورت بناتی ہوئی بولی مگر وہ بھی اسفند تھا اسکی باتوں میں آنے والا نہیں تھا
“‘ ٹھیک ہے تم نہیں کر رہی تو میں خود ہی کر لیتا ہوں ۔۔۔”‘”
وہ اسکے احتجاج اور گھوری کو نظرانداز کرتا اسکے لبوں پہ اپنے لب رکھتا بقول اسکے اپنے اندر انرجی سٹور کرنے لگا
ایک ہاتھ اسکے رخسار پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر پہ اپنی پکڑ سخت کئے وہ اسکی سانسوں کو خود میں قید کئے ہوئے تھا
اسکی لپسٹک کو اچھی طرح خراب کرنے کے بعد وہ اس سے دور ہوتا چہرے پر مسکراہٹ لئے اسے دیکھ رہا تھا
“‘ ” اسفند تم بہت برے ہو ۔۔تمھیں تو میں ۔۔ “‘
اس سے پہلے حفصہ اسکے سینے پر مکا مارتی اسکے تینوں بچے دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئے تھے
“‘ ” ماما ۔۔ ڈیڈ کب آئے گے ہم لوگ کب سے انکا انتظار کر “‘
ھاد اپنی دونوں بہنوں کے ہاتھ تھامے ہوئے بولتا ہوا اندر داخل ہوا مگر اپنے باپ پہ نظر پڑتے ہی اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا
جبکہ اپنی تینوں بچوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اسفند کے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکراہٹ پھیل گئی تھی
وہ ان تینوں کو جب بھی دیکھتا تھا اللّه کا شکر ادا کرتا تھا جس نے اسے اولاد جیسی نعمت سے نوازا تھا
“‘ ” ماما آپکے چہرے پہ لپسٹک لگی ہیں ۔۔ آپکو اچھے سے لپسٹک لگانی نہیں آتی “‘
حفصہ جو ھاد کو کوئی جواب دینے لگی تھی عروہ کی بات پہ اسکا چہرے شرم سے سرخ ہوا جبکہ اسفند مسکراتا ہوا اپنی دونوں بیٹیوں کو گود میں اٹھا چکا تھا
“‘ ” بیٹا آپکی ماما آپ کوئی کام ٹھیک سے کرنا نہیں آتا ۔۔ انہیں تھوڑا سکھانا پڑیگا “‘
وہ شرارت سے اسکی طرف آنکھ دباتا ہوا بولا تو حفصہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا
“‘ ” تم مجھے بعد میں سیکھا دینا پہلے جاکر تم تیار ہو جاؤ ہم پہلے ہی تمہاری وجہ سے کافی لیٹ ہو چکے ہیں “‘
وہ عروہ اور اسوہ کو باری باری اسکی گود سے اتار کر اسے واشروم کی طرف دھکیلنے لگی جبکہ اسکی حرکت پہ اسفند ارے ارے ہی کرتا رہ گیا مگر حفصہ نے اسے واشروم بھیج کر ہی دم لیا تھا
جبکہ اپنی ماں کی حرکت پہ تینوں بچے کھل کھلا کر ہنس دئے تو حفصہ نے بھی شرارت سے انکی آنکھ دبائی تھی
🔥🔥
ضیغم کو سلا کر وہ اپنے بیڈروم میں داخل ہوئی جو اسکے نرسری روم سے اٹیچ تھا
اسکو وقت پہ سلانا بھی حورین کے لئے سب سے بڑا مثلا تھا جسے وہ کسی نہ کسی طرح حل کر ہی لیتی تھی
ابھی وہ چینج کرنے کا ارادہ کر ہی رہی تھی کہ اسکی نظر مصطفیٰ پہ پڑی جو روم میں موجود ٹو سیٹر صوفہ پہ بیٹھا ہوا تھا
اپنی پشت صوفہ کی بیک سے ٹکائے وہ حورین کی موجودگی سے بےخبر آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھا تھا وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اپنی نظریں اس پہ ٹکائے اسکے قریب جانے لگی
ان گزرے سالوں میں وہ ایک اچھا باپ ہونے کے ساتھ ایک اچھا شوہر بھی ثابت ہوا تھا حورین کے لئے اسکی محبت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید اضافہ ہوتا جا رہا تھا
وہ مسکراتی ہوئی اپنے شوہر کے قریب آئی اور تھوڑا سا جھک کر اسکی پیشانی پہ بھکرے بالوں کو بہت آہستہ سے پیچھے کیا تو اسکی نازک انگلیوں کا لمس اپنی پیشانی پہ محسوس کر کے اس نے اپنی آنکھیں کھولی تو اپنی بیوی کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ایک سکون سا اسکے اندر اترا تھا
“‘ ” کیا بات ہے تھکے ہوئے لگ رہے ہو آج بھی زیادہ کام تھا آفس میں ؟ “‘
وہ اسکے رخسار کو نرمی سے چھوتی ہوئی بہت محبت سے بولی تھی
“‘ “پہلے تھاکہ ہوا تھا مگر تمھیں دیکھ کر ساری تھکان ختم ہو گئی “‘
وہ اسکے ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا اور اپنا ایک بازو اسکی کمر میں حائل کرتے ہوئے اسکے نازک وجود کو ہلکا سا جھٹکا دیا تھا
حورین جو اس پہ جھکی کھڑی تھی مصطفیٰ کے جھٹکا دینے پہ سیدا اسکی گود میں آ بیٹھی تھی
“‘ ” میں چاہے کتنا بھی تھاکہ ہوا ہوں یا پریشان ہوں تمھیں اور ضیغم کو دیکھ کر میری ساری تھکن اور ساری پریشانی ختم ہو جاتی ہے “‘
وہ اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپتا ہوا بولا اسے آج بھی حورین کے بالوں سے آتی خوشبو بہت پسند تھی
“‘ ” مصطفی ٰ ویسے میرے پاس آپکے لئے ایک گڈ نیوز ہے “‘
وہ اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی ہوئی بولی جبکہ اسکی بات سن کر مصطفیٰ یکدم سے سیدھا ہو بیٹھا
“‘ ” گڈ نیوز مطلب ۔۔۔ کیا میں پھر سے ڈیڈ بننے والا ہوں ۔۔۔ سچ میں حورین ایسا ہے کیا “‘
وہ حورین کے پیڑ پہ ہاتھ رکھتا ہوا خوشی سے چور لہجے میں بولا
حورین کے گڈ نیوز والی بات سے وہ تو جیسے کھل ہی گیا تھا جبکہ اسکی بات پر حورین ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی تھی
بیٹا اور باپ دونوں کے دماغ میں بس ایک ہی چیز چلتی رہتی تھی
“‘ ” نہیں گڈ نیوز یہ ہے کہ میں نے رباب آپی کو آپکا جواب دے دیا جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئی اسلئے وہ اگلے مہینے اپنی بیٹی اور شوہر کے ساتھ یہاں آ رہی ہیں ۔۔ “‘
حورین پرجوش انداز میں بول رہی تھی اسکی بات سن کر مصطفیٰ کو بھی خوشی محسوس ہوئی تھی
“‘ ” یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔ پہلی بار ہماری فیملی ایک ساتھ ہوگی “‘
حورین مصطفیٰ کے لہجے میں چھپی خوشی کو بخوبی محسوس کر سکتی تھی
“‘ ” کتنا مزہ آئے گا نہ مصطفیٰ ۔۔۔ میں نے تو سوچ لیا ہے جب رباب آپی آئے گی تو ہم سب کہیں گھومنے بھی جائے گے ۔۔ کافی وقت ہو گیا ہے آپکی مصروفیت کی وجہ سے ہم کہیں گئے بھی نہیں ہے ۔۔ اسفند بھائی کو دیکھو وہ حفصہ آپی اور بچوں کو کہیں نہ کہیں لیکر جاتے رہتے ہیں “‘
وہ بڑے آرام سے اسکی گود میں بیٹھی اسے اپنے پلان بتا رہی تھی اور ساتھ ہی شکوہ بھی کر ڈالا تھا
مصطفیٰ جو اسے بولتے ہوئے ایک ٹک دیکھ رہا تھا حورین کے شکوہ کرنے پہ اس نے اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکا تھا
” ” آنے دو رباب کو میں اس بار تمہاری ساری شکایاتیں دور کر دونگا ۔۔۔ تمھیں جہاں جہاں جانا ہے اسکی ایک لسٹ بنا لو “‘
وہ اسکو اپنی باہوں میں بھرتا ہوا شرارتی انداز میں بولتا ہوا اسکی گردن پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
اسکی گھستاخی پہ حورین اسکی باہوں میں ہلکا سا کسمسائی اور ساتھ ہی اسکی پکڑ سے آزاد ہونا چاہا مگر اسکا ارادہ بھانپ کر وہ اس پہ اپنی گرفت مضبوط کر چکا تھا
“‘ ” ویسے ضیغم کو تم سے جو شکایات ہے اسکو دور کرنے کے بارے میں کیا ارادہ ہے تمہارا “‘
وہ خمار آلودہ لہجے میں بولتا اسکی کان کی لؤ کو چومنے لگا جبکہ اسکے منہ سے ضیغم کی شکایات والی بات سن کر حورین گڑبڑا سی گئی تھی
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کس بارے میں بات کر رہا ہے
“‘ ” ویسے میں بھی ضیغم کی بات سے اتفاق رکھتا ہوں ۔۔۔ اب ہمیں اسکی بہن یا بھائی کی کمی کو پورا کر دینا چاہئے “‘
وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا اسکے لبوں پہ نظریں جمائے ہوئے بولا تھا
حورین جو اسکی بڑھتی گھستاخی سے گھبرا رہی تھی اسکے ارادے جان کر اسکی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا
“‘ ” ضیغم ابھی چھوٹا ہے اور وہ ہی میرا سارا دن پاگل بنا کر رکھتا ہے ۔۔۔۔ دوسرے کو کیسے سنبھال پاؤ گی “‘
وہ بہت بچارگی سے بولی مصطفیٰ کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا
“‘ ” میں ہوں نہ ہم دونوں ساتھ مل کر سنبھال لیں گے”‘
وہ بہت محبت سے بولا اپنے اسی محبت کو دکھانے کے لئے وہ اسکے لبوں پہ جھک گیا جو بار بار اسکی توجہ اپنی جانب کھینچ رہے تھے
مصطفیٰ کی اچانک اس حرکت پہ حورین نے مضبوطی سے اسکے بازو کو تھام لیا تھا
وہ اسکے اوپر جھکا اپنے تھکن مٹا رہا تھا اسکی
وہ اسکے لمس اور قربت میں اتنی کھو سی گئی تھی کہ اسے خبر بھی نہیں ہوئی کہ وہ کب اسے صوفہ پہ لیٹا چکا تھا
اسکی بڑھتی شدّتوں پہ حورین کو سانس لینا جب مشکل لگا تو اس نے اپنی نازک کپکپاتے ہاتھوں سے اسے دور کیا تھا
“‘ ” تو بتاؤ ضیغم کو بہن بھائی کی ایک ٹیم دینے کے لئے تیار ہو “”
وہ پھر سے اسکے لبوں کو نرمی سے چھوتا ہوا بولا تو حورین نے اسکے سینے پہ زوردار مکا مارا جس پہ مصطفیٰ مسکراتا ہوا اسکے نازک وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا
“‘ ” ویسے اس بار مجھ بیٹی ہی چاہئے ۔۔۔ جو بلکل تمہاری طرح ہونی چاہیے ۔۔۔ بہت حسین اور معصوم جسکا میں دیوانہ ہوں “‘
وہ اسے بیڈ پہ لیٹا ہوا پھر سے اسکے اپر جھکا تو اس بار حورین سکون سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
بیٹا ہو یا بیٹی اللّه جو اسے دیگا وہ خوشی خوشی قبول کر لیگی
اور دوسری طرف بہن اور بھائی کو پاکر کم از کم اسکا بیٹا اسے سکون کی سانس تو لینے دیگا کیونکہ اسکی ٹیم میں شامل ہونے کے لئے اسکے پاس بہن یا بھائی تو موجود ہوگا
🔥🔥
(ختم شد )
