55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

                              💥💥

“‘ بیٹا میں آپ سے آخری بار بول رہی ہوں کار ابھی روکو ورنہ اچھا نہیں ہوگا”‘
انہونے فاسٹ ڈرائیونگ کرتے اپنے پندرہ سالہ بیٹے کی طرف ناراضگی سے دیکھتے ہوئے کہا
پر سامنے والے پر انکی ناراضگی اور دھمکی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوا تھا
“‘ مام آپ تو ایسے ڈر رہی ہیں جیسے میں ایک چھوٹا بچہ ہوں اب میں بڑا ہو گیا ہوں اور دیکھیں نہ میں کتنی اچھی ڈرائیونگ کر رہا ہوں “
وہ لاپرواہی کہتا کار کی سپیڈ مزید تیز کر چکا تھا جس پر مسز زمان شاہ اپنا دل تھام کر رہ گئی تھی
“‘ آپ ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے ہے کہ اچھے سے کار چلا سکیں چلو جلدی کار سائیڈ پر روکو اور مجھے ڈرائیونگ کرنے دو میں دیکھ چکی ہوں کہ آپ کار چلانا سیکھ گئے ہو “‘
اس بار وہ تھوڑا سختی سے بولی
پچھلے کچھ دنوں سے وہ اپنی ماں کے پیچھے پڑا ہوا تھا کہ وہ اسکی ڈرائیونگ دیکھیں پر مسز شاہ ہر بار اسکی بات ٹال دیتی تھی پر آج اسکے ضد کے آگے وہ ہار گئی تھی پر اب اسکی بات مان کر وہ اب پچھتا رہی تھی
“‘ نہیں مام ابھی نہیں ابھی آپکو اور دیکھنی ہے “‘
وہ ضدی لہجے میں بولا تھا کار کی سپیڈ ہنوز تیز تھی جانے کیوں مسز شاہ کو یکدم سے گھبراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی
“‘ بیٹا ہم کافی دور آ گئے ہیں چلو گھر چلتے ہیں گھر پر تمہاری بہن داؤد انکل کے ساتھ اکیلی ہے وہ ہمارے لئے پریشان ہو رہی ہوگی “‘
انہونے ونڈو سے باہر جھاکتے ہوئے کہا وہ لوگ کافی دور آ گئے تھے
رات کی تاریکی میں سنسان سڑک کے دونوں طرف موجود جنگل دیکھ کر انہیں ڈر سا محسوس ہو رہا تھا
اوپر آسمان میں چمکتی بجلی اس ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھی
“‘ اسکے پاس داؤد انکل تو ہیں نہ آپ فکر نہ کریں بس کچھ دیر اور “”
ابکہ بار اس نے سپیڈ مذید تیز کی اس وقت وہ بلکل اپنے آپ میں نہیں لگ رہا تھا وہ بس اپنی ماں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ اب بچہ نہیں رہا ہے کیونکہ اسکی ماں ہمیشہ اسے ایک چھوٹے بچے کی طرح ٹریٹ کرتی تھی جو اسے سخت نہ پسند تھا
“‘ گھر واپس جانے دو میں داؤد سے پوچھوں گی کہ انہونے تمھیں میری اجازت کے بغیر کار چلانا کیسے سیکھا دیا اور خدا کے لئے بیٹا سپیڈ کم کرو “‘
اس وقت انکے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی
انہیں اپنے بیٹے کے جنونی انداز سے ڈر لگ رہا تھا اگر اسے کسی چیز کی ضد ہو گئی تو وہ اسے پورا کرتا تھا پھر کسی میں ہمّت نہیں تھی اسے روکنے کی
“‘ سپیڈ تو آج کم نہیں ہوگی مام “‘
وہ چہرے پر ایک عجیب سے مسکراہٹ لئے کار چلا رہا تھا ہر بدلتے وقت کے ساتھ کار کی سپیڈ بھی بڑھ رہی تھی
“‘ تم ایسے نہیں مانو گے مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا “‘
وہ اسکے ضدی لہجے کو دیکھتے ہوئے انہونے خود ہی کچھ کرنا چاہا تھا اور یہی ان سے غلطی ہوئی تھی
“‘ مام ہٹیں پیچھے “‘
اپنی ماں کو کچھ بھی کرنے سے روکنے کے لئے اسکا دھیان ڈرائیونگ سے ہٹا اور تیز سپیڈ سے چلتی کار کا بیلنس پل میں خراب ہوا تھا
“‘ بیٹا سامنے دیکھو “‘
جیسے ہی انکی نظر اپنی کار کے سامنے آتے وجود پر پڑی وہ یکدم سے چلائی تھی پر بہت دیر ہو چکی تھی انکی کار اس وجود سے ٹکرا چکی تھی
اس بچے سے کار سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا
انکی کار تیز سپیڈ سے روڈ کی دوسری سائیڈ موجود بڑے سے پیڈ سے ٹکرانے سے پہلے مسز شاہ کی چیخ اس کار میں گونجی تھی
جانے کتنا وقت یوں ہی گزر گیا اس سنسان سڑک پر بلکل خاموشی تھی
جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو
سر میں اٹھتی درد کی ٹیسوں سے بمشکل اسکی آنکھ کھلی تھی اپنے سر سے نکلتے خون کو دیکھ کر سارا واقع سمجھنے میں اسے کچھ ہی دیر لگی تھی
“‘ مام ۔۔مام آپ ٹھیک ہیں آنکھیں کھولیں مام “‘
وہ ہمّت کرکے اپنی مام کی طرف پلٹا جنکا سر پوری طرح سے خون سے لت پت تھا اسکے خود کو بھی چوٹ لگی تھی پر اسے فکر کہاں تھی
“‘ م۔۔مص۔۔مصطفیٰ بیٹا میں ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو “‘
حالانکہ انہیں کافی چوٹ لگی تھی پر انہیں اپنے بیٹے کی فکر تھی
“‘ مام آپ فکر نہ کریں میں آپکو کچھ نہیں ہونے دونگا میں داؤد کو فون کرتا ہوں ابھی “‘۔
وہ اپنا موبائل تلاش کرنے لگا جب اپنی ماں کی بات پر اسکے ہاتھ اپنی جگہ پر رکے تھے
” ” بیٹا اسے دیکھو جاکر کیا وہ بھی زندہ ہے میں ٹھیک ہوں تم میری فکر مت کرو “‘
وہ بمشکل بول پائی تھی انکی بات پر وہ بچہ اپنے درد کو نظرانداز کرتا ٹوٹی کار سے باہر نکلا تھا
سڑک پہ بےسدھ پڑے وجود کو دیکھ کر اسکی ٹانگے کانپنا شروع ہو گئی تھی
اسے لگ رہا تھا وہ چل نہیں پائے گا
جتنا وہ قریب جا رہا تھا اسکی ڈھرکنے مزید تیز ہوتی جا رہی تھی
قریب آ کر اسے معلوم ہوا کہ وہ زمین پر پڑا وجود اکیلا نہیں ہے اس سے کچھ فاصلے پر ایک اور ننھا سا وجود موجود تھا
اسے لگ رہا تھا کہ اسکا دل نکل کر باہر آ جائے گا وہ آہستہ سے زمین پہ گرے اس وجود کے قریب بیٹھا جو درد میں تڑپ رہا تھا شاید اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا
“‘ آنکھیں کھویں “‘
وہ اس عورت کے خون سے لتپت چہرے کو دیکھ کر گھبرا گیا تھا
جو بہت بری طرح سے زخمی تھی
اسکی آواز پر اس عورت نے اس بچے کی طرف دیکھا تھا
“‘ م۔۔۔میری۔۔۔بیٹی ۔۔اسکو بچا لو ۔۔ میری حورین کی حفاظت کرو اسکی جان کو خطرہ ہے “‘
وہ عورت بمشکل اپنی بات کہہ پائی تھی اس وقت اسکے منہ سے بھی خون نکل رہا تھا
تکلیف کی شدّت سے وہ درد سے کراہ رہی تھی
اس عورت کی بات پر اس بچے نے کچھ فاصلے پہ زخمی پڑے اس ننہے وجود کو دیکھا تھا
“‘ مجھے نہیں لگتا میں مزید زندہ رہ سکتی ہوں تم میری بیٹی کی حفاظت کرنا اسے اسکے اپنوں سے خطرہ ہے “‘
اور یہی وہ آخری الفاظ کہنے کے بعد وہ عورت اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر چکی تھی
اور اس سب کا زمہدار وہ تھا اس نے قرب سے اپنی آنکھیں بند کی تھی
وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس بچی کے قریب جاکر بےہوش بچی کو اپنی گود میں اٹھایا
اسکے بھی کافی چوٹ لگی ہوئی تھی پیشانی سے خون نکل رہا تھا اس نے بےساختہ اسکے زخم پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
اور یہی وہ لمحہ تھا جب اسے اپنی زندگی کا مقصد ملا تھا
اور یہی وہ لمحہ تھا جب اسکی وجہ سے دو لوگوں کی جان گئی تھی اور اسی لمحے سے اسکی زندگی مکمل طور پہ بدل گئی تھی
وہ گہری نیند میں تھا جب گھبرا کر اسکی آنکھ کھلی اس وقت اسکا پورا جسم پسینے میں شروبار تھا
اس نے کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی روشنی میں گھڑی کی طرف دیکھ جو اس وقت تین بجا رہی تھی
گزرے سالوں میں وہ یہ رات آج تک نہیں بھول پایا تھا
وہ اپنے منہ پہ ہاتھ پھیرتا اٹھ بیٹھا اور گردن گھما کر بیڈ کی جانب دیکھا جہاں حورین اسکی حالت سے بےخبر سکون سے سو رہی تھی
بھاری قدم اٹھاتا بیڈ کی طرف بڑھا اور حورین کے قریب بیٹھ کر وہ اسکے چہرے کو تکنے لگا
“‘ اگر تمھیں حقیقت معلوم ہو گئی تو تم مجھ سے نفرت کروگی حورین اور تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے نفرت میں برداشت نہیں کر پاؤ گا”‘
وہ اسکی پیشانی پہ موجود اس چوٹ کے نشان پہ اپنے دہکتے ہوئے لب رکھتا ہوا بولا
اور مزید اسکے قریب بیٹھ کر اسے سکون سے سوتا ہوا دیکھنے لگا
کیونکہ وہ جانتا تھا اس خواب کے بعد اسے اب سکون کی نیند نہیں آنے والی تھی
💥💥
“‘ کیا تم اپنے قیمتی وقت میں سے تھوڑا سا مجھے دے سکتے ہو کیونکہ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے “‘
وہ بیڈ پہ بیٹھی اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہی تھی جو صوفہ پہ لیپ ٹاپ لئے بیٹھا اپنے آفس کا کام میں مصروف نظر آ رہا تھا
مگر اسکا کام تھا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا
کچھ دیر تو وہ بیٹھی اسکے فری ہونے کا انتظار کرتی رہی پر جب اسکا انتظار طویل ہو گیا تو وہ چڑ کر اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے قریب آ کھڑی ہوئی تھی
“‘ اگر ھاد کے بارے میں بات کرنی ہے تو میرے پاس وقت ہی وقت ہے کہو کیا کہنا چاہتی ہو “‘
وہ اپنے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسکی جانب دیکھتا ہوا بولا
ڈارک گرین کلر کے کاٹن کے سادہ سے سوٹ میں وہ اسکو بہت ہی پیاری لگی تھی
اس نے فورا ہی اپنے دل کو ڈپٹا اور اپنے چہرے کے تاثرات بدلے تھے
“‘ نہیں مجھے اپنے بارے میں بات کرنی ہے “‘ مطلب ہمارے بارے میں ”
اسکی توجہ اپنے اوپر ہٹنے سے پہلے وہ فورا بولی تھی
“‘ جہاں تک مجھے معلوم ہے ہمرے درمیاں ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے جسکے بارے میں بات کی جائے یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اس لئے بہتر ہے فالتو کی باتوں میں میرا وقت برباد مت کرو”‘
وہ سرد مہری سے کہتا پھر سے اپنے لپ ٹاپ پر جھک چکا تھا
“‘ نہیں آج تمھیں میری بات سننی ہی ہوگی اسفند بس ایک بار میری بات سن لو پھر اسکے بعد میں تم سے کچھ نہیں مانگوں گی “‘
وہ اسکا لیپ ٹاپ ایک ہی جست میں ٹیبل سے اوٹھا چکی تھی
وہ جب بھی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی وہ ہمیشہ ہی اسکو بےدردی سے منع کر دیتا تھا
پر اب حفصہ اسکی نفرت برداشت نہیں کر پا رہی تھی
وہ اسے سچ بتانا چاہتی تھی پھر چاہے وہ اس پر یقین کرتا یا نہیں بس وہ یہ بوجھ اپنے دل پر مزید نہیں رکھ سکتی تھی
“” یہ کیا حرکت ہے حفصہ میرا لیپ ٹاپ واپس کرو فورا “‘
وہ سخت تیوری لئے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھا
“‘ پہلے تمھیں میری بات سننی ہوگی اسفند میں بیوی ہوں تمہاری بس ایک بار سن لو “‘
وہ التجائی انداز میں بولی لہجے میں آنسوؤں کی نمی گھل گئی تھی
“‘ تم میری بیوی صرف تب تک ہو جب تک رباب یہاں سے نہیں چلی جاتی اور میرے بیٹے کی کسٹڈی مجھے نہیں مل جاتی اسکے بعد میرے اور تمہارے راستے الگ ہے بےشک تم مجھ سے طلاق لے سکتی ہو “‘
وہ بغیر سوچے سمجھے بےدردی سے کہتا اپنا لیپ ٹاپ جھپٹنے کے انداز میں آگے بڑھا مگر حفصہ اسکا ارادہ بھانپ کر اس سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی
“‘ نہیں اسفند پہلے میری بےوقوفی کی وجہ سے ہم الگ ہو چکے ہیں مگر اب بغیر سچ جانے میں تمہیں یہ غلطی نہیں کرنے دونگی چھ سال پہلے میں نے جو کیا اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی میں مجبور تھی”‘
وہ تیزی سے اپنی بات بولتی اسکو اپنے قریب آتے دیکھ پیچھے کی جانب قدم بڑھا رہی تھی
“‘ تم چھ سال پہلے تم کیا تھی کیا نہیں مجھے اب اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے حفصہ تم چپ چاپ میرا لیپ ٹاپ واپس کرنا ورنہ دوسری سورت میں اچھا نہیں ہوگا “‘
وہ اسکو شولہبار نظروں سے گھورتا سخت انداز میں بولا
اسکی ابھری نسے واضع طور پر نظر آ رہی تھی جو اسکے غصّے میں ہونے کا پتہ دے رہی تھی
“‘ اسفند تم نہیں جانتے اس وقت میرے ساتھ کیا ہوا تھا میں کن حالات سے گزر
رہی تھی اور اس سب کی ذمہ دار صرف ربا”‘
ابھی اسکا جملہ مکمل نہیں ہو پایا تھا کہ وہ پھرتی سے اسکے قریب ہو اور جھپٹنے کے انداز میں اپنا لیپ ٹاپ اس نے چھیننا چاہا تھا
مگر حفصہ جو اسکے اس عمل کے لئے تیار نہ تھی اس سے بچنے کے لئے جیسے ہی پیچھے ہوئی اپنا بیلنس برکرار نہ رکھ پائی خود کو گرنے سے بچانے کے لئے اسکا کالر تھاما مگر اسکے ساتھ ساتھ اسفند بھی بیڈ پر حفصہ کے اوپر آ گرا تھا
یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ دونوں ہی سنبھال نہ پائے تھے
اسفند حفصہ کی کلائی تھامے اس پر گرا ہوا تھا اور لیپ ٹاپ حفصہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر بیڈ پہ گر چکا تھا
“‘ اسفند پلیز ایک بار میری بات تو سننے کی کوشش کرو میں “‘
حفصہ نے پھر سے اپنی بات شروع کرنی چاہی مگر اسفند کی اسکی کلائی پہ ہوتی سخت پکڑ نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا
اسکی سختی سے حفصہ کے منہ سے سسکی نکلی تھی
“‘ ایک لفظ اور نہیں ۔۔تمھیں کیا لگتا ہے کہ تمہارے کسی بھی جھوٹ پہ میں آنکھ بند کر کے یقین کر لونگا ۔۔۔
“‘ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوگا “‘
وہ سخت لہجے میں بولا
مگر اپنی سختی سے اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر اسفند کا بےچین ہوا تھا
وہ اس پر یوں ہی جھکا اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا اپنی موجودہ پوزیشن سے بےخبر دونوں جیسے کسی اور ہی دنیا میں گم ہو گئے تھے
دونوں کے چہرے بےحد قریب تھے کہ وہ ایک دوسرے کی سانسیں اپنے چہرے پہ محسوس کر رہے تھے
“‘ ایک بار اپنی اس حفصہ پہ یقین کر کے دیکھو اسفی جس حفصہ سے تمھیں بےانتہا محبت تھی “”
وہ نرمی سے اپنا دوسرا ہاتھ اسکے رخسار پہ رکھتی بہت مان سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی تھی
“‘ صرف ایک بار اپنے اس دل کی سن لو جو کبھی میرے لئے دھڑکتا تھا “‘
اسکا ہاتھ رخسار سے ہوتا ہوا اسکے چوڑے سینے پہ آ رکا تھا
اس وقت دونوں کی دھڑکنے بےترتیب ہو رہی تھی اسفند کو لگ رہا تھا اگر وہ یوں ہی کچھ دیر ایسے دیکھتے رہے تو وہ سب بھول جائے گا
پر وہ اتنی جلدی اسکا دیا زخم بھولنا نہیں چاہتا تھا ہرگز نہیں
محبت کی راہ میں اسکی بیچ راستے میں چھوڑنے والی وہ تھی
اور وہ اسے یوں معاف نہیں کر سکتا تھا
“‘ میں نے پہلے ہی کہا تھا اپنا وقت برباد مت کرو میں تمہاری کسی بھی بات پہ یقین نہیں کرنے والا “‘۔
وہ سیدھا کھڑا ہوتا ہوا بولا اور اسکے قریب پڑا اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر پھر سے اپنی پہلے والی جگہ پہ آ بیٹھا
جبکہ حفصہ جانے کتنی دیر اسی پوزیشن میں لیٹی چھت کو گھورتی رہی تھی
💥💥
“‘ تم صحیح سے نہیں سمجھا رہے ہو ضرار اس لئے مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے “‘
حورین کی جھنجھلائی ہوئی آواز پر اپنی اسٹڈی کی جانب اسکے قدم اپنی جگہ رکے تھے
اس نے لاؤنج میں جھانکا تو سامنے ہی وہ ٹو سیٹر صوفہ پہ بیٹھی نظر آئی اسکے قریب ہوئی اسکا باڈی گارڈ ضرار موجود تھا جو اس وقت بیٹھا پڑھائی میں اسکی مدد کر رہا تھا
یہ اسی کا حکم تھا کہ ضرار پڑھائی میں اسکی ہیلپ کر دیا کریگا
پر آج اسے یوں کسی اور کہ پاس بیٹھا دیکھ کر مصطفیٰ کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا
“‘ میم پہلے آپ کو سر مصطفیٰ ہیلپ کر دیتے تھے اس لئے آپ کو میرے پڑھانا سمجھ نہیں آ رہا ہے”‘
وہ بہت ادب سے اس سے بات کرتا تھا یہ مصطفیٰ کے ہی آرڈر تھے
اسکے منہ سے مصطفیٰ کا نام سن کر حورین نے اپنے لب بھینچ لئے اس دن کے واقع کے بعد سے وہ اس سے ناراض تھی
جس بےدردی سے اس نے اسکو خود سے دور کیا تھا وہ بھول نہیں پائی تھی
“‘ میم کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئی آپ “‘
اسکو خاموش دیکھ کر ضرار نے اسے مخاطب کیا تھا
اپنے ذکر پر حورین کی خاموشی کو دروازے میں کھڑے مصطفیٰ نے بخوبی محسوس کیا تھا
“‘ تم جاؤ ضرار آج کی تمہاری ڈیوٹی ختم ہو گئی میں حورین کو پڑھا دونگا “‘
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی مصطفیٰ کی آواز پر اس نے گردن موڑ کر دیکھا جو اسکے صوفہ کے قریب ہی کھڑا تھا
اسکا گارڈ حکم ملتے ہی وہاں سے چلا گیا اب اس وقت لاؤنج میں صرف وہ دونوں ہی موجود تھے
“‘ لاؤ مجھے دکھاؤ کیا سمجھ نہیں آ رہا ہے تمھیں”‘
وہ اس ٹو سیٹر صوفہ پہ اسکی قریب بیٹھتا ہوا بولا اور ٹیبل پر پڑی اسکی بک کو اٹھا کر دیکھنے لگا
“‘ نہیں شکریہ آپ رہنے دیجئے میں خود ہی سمجھ لونگی “‘
وہ ناراضگی سے کہتی اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی جب وہ اسکی نازک کلائی اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام چکا تھا
“‘ بیٹھ جاؤ حورین جب میں کہہ رہا کہ میں سمجھا دونگا “‘
اس بار اسکے لہجے میں سختی در آئی اور وہ جھٹکے سے اس بار اسے اپنے بےحد قریب بیٹھا چکا تھا
اسکے مضبوط ہاتھ کی پکڑ اپنی کلائی پہ محسوس کر کے حورین کے دل کی دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی اوپر سے اسکی اتنی قربت اسکی جان ہوا ہونے لگی تھی
اسے اپنے دل پہ غصّہ بھی آیا جو زیادہ وقت تک اس سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا
“‘ ابھی میرا پڑھنے کا من نہیں ہے میں بعد میں سمجھ لوں گی “‘
وہ اس سے نظریں چراتی یوئی بولی اس دن والی اسکی گھستاخی یاد آئی تو چہرہ یکدم شرم کی وجہ سے ٹماٹر کی طرح لال ہو چکا تھا
“‘ من نہیں ہے یا مجھ سے پڑھنا نہیں چاہتی”‘
وہ اسکی بک ٹیبل پر رکھتا اسے بازو سے تھام کر خود کے مزید قریب کر چکا تھا
اب ان دونوں کے درمیاں فاصلہ نہ کے برابر تھا
وہ چاہے کتنی ہی کوشش کرتا اس سے دور رہنے کی پر وہ اپنے دل کو نہیں سمجھا سکتا تھا جو صرف اسکے قریب رہنا چاہتا تھا
حورین جو پہلے ہی اسکے اتنے قریب آنے پر گھبرا رہی تھی
اسکے جسم سے آتی مردانہ پرفیوم کی خوشبوں اپنے چہرے پر پڑتی اسکی گرم سانسیوں سے اسکی پیشانی عرق آلودہ ہو گئی تھی
“‘ آپ نے بولا تھا آپ سے دور رہنے کے لئے اس لئے”‘
وہ اپنی بکھری سانسوں کو سنبھالتی بمشکل بول پائی تھی
اسکی بات پر مصطفیٰ مسکرایا اور مزید اسکے قریب ہوتے ہوئے اپنا چہرہ اسکے بالوں میں چھپایا تھا
اسکے اس درعمل پہ حورین اپنی جگہ سکت بیٹھی رہ گئی تھی
اسکی گرم سانسیں اپنی گردن پہ محسوس کرکے حورین نے سختی سے اپنی مٹھی بھینچ لی
اسے لگ رہا تھا وہ سانس لینا بھول گئی ہے ٹانگوں میں کپکپاہٹ سی ہونے لگی تھی
مگر وہ حورین کی حالت سے بےخبر اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپائے اسکے بالوں سے آتی خوشبوں کو اپنے اندر اتار رہا تھا
“‘ تم نے اپنا شیمپو چینج کیا ہے الگ خوشبوں ہے ؟'”
اسکے جواب کو نظرانداز کرتا وہ اسکے بالوں میں اپنا چہرا چھپائے گھمبیر لہجے میں بولا
ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھا اسکی جان نکال رہا تھا
وہ دونوں ہی شاید بھول گئے تھے کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے
“‘ جی وو۔۔وہ عیڈ دیکھ کر نیا آرڈر کیا تھا “‘
اسکا سوال حورین کی توقع سے پرے تھا اوپر سے اسکا گھمبیر لہجہ حورین کی دھڑکنے مزید تیز کر گیا
وہ اپنے خشک لبوں کو تر کرتی وہ بمشکل بول پائی تھی
حورین کا جواب سن کر وہ اس سے دور ہوا
اور اب اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اب انکی خوشبوں کو خود میں اتارنے لگا
اسکے مضبوط ہاتوں میں اسکے نازک ہاتھ کپکپا کر رہ گئے تھے
وہ حیرانی بےیقینی سی کی کیفیت میں بیٹھی اسکی حرکت کو نوٹ کر رہی تھی وہ جو خود اسکو دور کرتا رہتا تھا آج خود اسکے قریب آ رہا تھا
“‘ تم سے پہلے جیسے ہی خوشبوں آ رہی ہے مطلب باڈی واش چینج نہیں کیا “‘
وہ اب اپنی گہری کالی آنکھیں اس پر جمائے بولا نہ جانے اس کی نظروں میں ایسا کیا تھا کہ وہ بری طرح خود کو جکڑا یوا محسوس کر رہی تھی
وہ اسکی خوشبوں کو بھی پہچانتا تھا
پر وہ اسے خود سے درو کیوں کرتا تھا یہ بات اسے تکلیف دیتی تھی
“‘ جی یہ چینج نہیں کیا”‘
اسکی آواز اتنی آہستہ تھی کہ اگر وہ اسکے اتنے قریب نہ بیٹھا ہوا تو وہ بھی سن نہ پاتا
“‘ گڈ ۔۔ تم اپنا پہلے والا ہی شیمپو یوز کرو یہ والا اچھا ہے مگر اسکی خوشبوں زیادہ اچھی تھی”‘
اب وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا اسکو ہدایت کر رہا تھا
اسکے اٹھتے ہی حورین کو یکدم سے خالیپن کا احساس ہوا تھا
“‘ جی ٹھیک ہے “‘
وہ سر جھکا کر بس اتنا ہی کہہ سکی تھی
“‘ اور ہاں آخری بات “‘
وہ جاتے جاتے یکدم پلٹا تھا اور حورین نے اس بار نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا جسکی نظریں ٹیبل پر موجود بک پر جمی ہوئی تھی
“‘ تم خود کے لئے بہت اچھا کر رہی ہو مجھ سے دور رہ کر”‘
اپنی بات کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا اور وہ وہاں بیٹھی اسکی پشت کو دیکھتی رہی تھی
وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا وہ اسکے لئے بھی اچھا کر رہی اس سے دور رہ کر
پر وہ اسے بغیر کوئی موقع دئے وہاں سے چلا گیا تھا
💥💥
“‘ جانتے بھی ہو کیا بکواس کر رہے ہو تم اگر یہ خبر غلط ہوئی تو تم میں تمہارا کیا حال کرونگا اس بات کا تمھیں اندازہ تو ہوگا ہی”‘
اپنے آدمی کی بات سن کر وہ یکدم بھڑک اٹھا تھا
بات ایسی ہی تھی کہ اسکا اتنا غصّہ ہونا لازمی تھا
“‘ میں جانتا ہوں خان پر خبر بلکل پکّی ہے مصطفیٰ حورین سے نکاح کر چکا ہے “‘
کریم اپنے مالک کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو اس خبر کو سننے کے بعد اپنے غصّے کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا
“‘ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کریم اس مصطفیٰ نے حورین سے نکاح کرکے میرا پورا بنا بنایا پلان بگاڑ دیا”‘
وہ اپنے ہاتھوں کی میٹھیاں سختی سے بھینچے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
“‘ اتنے سالوں سے میں اس لمحے کا انتظار کر رہا تھا مصطفیٰ کی ایک غلطی اور حورین میری گرفت میں ہوتی پر یہ مصطفیٰ ہر بار کی طرح اس بار بھی مجھ سے دو قدم آگے نکل گیا “‘
وہ اپنی ٹیبل پر موجود فائل کو ایک طرف پھینکتا ہوا بولا
“‘ کاش”‘ کاش کریم میں اس رات اس لڑکے کو حورین کو لے جانے نہیں دیتا یا وہ اس رات اپنی ماں کی طرح مر جاتی تو آج مجھے اس جائیداد کے لئے اتنا انتظار نہیں کرنا پڑتا “‘
وہ آج تک اپنی اس غلطی پہ پچھتا رہا تھا اپنی ایک غلطی کی وجہ سے اسے اتنے سال انتظار کرنا پڑ رہا تھا
“‘ خان اس وقت آپکو معلوم نہیں تھا کہ جو آپکو چاہیے اس تین سالہ بچی کے پاس ہے اس لئے اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں ہے “‘
کریم سالوں سے اسکا وفادار تھا ہر اچھے برے کام میں اسکے ساتھ برابر کا شریک تھا
“‘ آپکا آدمی بلکل صحیح کہہ رہا ہے خان صاحب “‘
اس بار کب سے خاموش بیٹھا خان کا وکیل ان دونوں سے مخاطب ہوا تھا
اسکی آواز پر خان اور کریم کی توجہ اسکی جانب پلٹی تھی
“‘ ساری جائیداد شروع سے ہی اسکے نام تھی اور اگر اسکی مرضی یا اسکی مرضی کی خلاف جائیداد ٹرانسفر کرنے کی کوشش کرتے تو سب ٹرسٹ کے نام ہو جاتی اس لئے حورین کو حاصل کرکے کچھ فائدہ نہیں تھا تمہارے بھائی نے مرنے سے پہلے بہت سوچ سمجھ کر یہ ساری ول بنائی تھی “‘
اسکا وکیل اب انکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا
“‘ یہ نئی بات نہیں ہے میں یہ سب جانتا ہوں مجھے اس مصلے کا حل بتاؤ “”
وہ اپنی وکیل کی بات پر خاصہ غصّہ ہوا تھا ایک تو پہلے ہی اسکا دماغ خراب ہو چکا تھا اب دوسرا اس وکیل کی باتیں اسکے غصّے کو مزید بڑھا رہی تھی
“‘ اگر آپ حورین کو ہی راستے سے ہٹا دو تو آپکا کام آسان ہو جائے گا “‘
اسکے وکیل کا شیطانی دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا جبکہ اسکی بات پر خان نے ابرو اچکا کر اسکی طرف دیکھا تھا
“‘ صاف صاف بولو کیا کہنا ہے الجھی ہوئی باتیں مجھے بلکل پسند نہیں ہے “‘
اب وہ اپنی جگہ پر بیٹھتا ہوا بے تاثر چہرہ لئے اسکی طرف دیکھ کر بولا
اس بار کریم کی توجہ بھی مکمل طور پہ اسکی جانب ہوئی تھی
“‘ اگر آپکو اسکی ساری جائیداد چاہئے تو حورین کو مار دو آپکا راستہ بلکل صاف بس ہمیں پروف کرنا ہوگا کہ وہ مر چکی ہے پھر سب آپکا ہوگا”‘
وہ بڑے اطمینان سے کہتا خان کے سامنے والی چیئر پہ آ بیٹھا
اور اپنے وکیل کی بات سن کر اتنے وقت میں پہلی بار خان کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی تھی
“‘ تم جانتے ہو کریم تمھیں کیا کرنا ہے”‘
وہ اب اپنے سامنے کھڑے کریم کی طرف دیکھ کر خباثت سے ہنسا تھا
“‘اگر پہلے ہی تم میری بات آسانی سے سمجھ جاتے تو تمہاری طرح سے آج تمہاری بیٹی کو بھی یوں شہید نہیں ہونا پڑتا “‘
وہ اپنی سوچ میں اپنے بھائی سے مخاطب ہوا تھا جسکی وہ سالوں پہلے اسی جائیداد کی وجہ سے جان لے چکا تھا
💥💥
(جاری ہے)