Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Last updated: 28 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Talab Ishq
By Iqra Sheikh
"' آپ یہاں بیٹھے ہیں اور میں آپکو پورے گھر میں تلاش کر رہی ہوں چلئے چل کر کھانا کھا لیجئے ٹھنڈا ہو رہا ہے "' رخسار بیگم لان میں ایک طرف خاموشی سے چیئر پر بیٹھے ابراھیم خان سے مخاطب ہوئی تھی وہ کافی دیر سے انہیں پورے گھر میں تلاش کرتی پھر رہیں تھی انہیں یہاں بیٹھا دیکھ کر رخسار بیگم کو اطمینان سا ہوا تھا وہ جانتی تھی کہ انکے شوہر کے دل میں انکے لئے نہ محبت ہے نہ ہی عزت پر انکے لئے ابراھیم صاحب ہی سب کچھ تھے "' تمہاری بیٹی میرا چین سکون تباہ کر کے چلی گئی ہے اور تمھیں کھانے کی پڑی ہے "' وہ قہربرساتی نظروں سے انکی طرف دیکھتے ہوئے جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے انکے اس قدر شدیش ردعمل پر رخسار بیگم سہم کر ان سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی اتنے سال انکے ساتھ گزارنے کے بعد بھی وہ آجتک انکے اس رویہ کی عادی نہیں ہوئی تھی "' دس دن وہ گئے ہیں پورے دس دن تمہاری اس بیٹی کا کچھ پتہ نہیں چلا جو دوسری بار معشرے میں میری عزت خراب کر کے چلی گئی ہے "' انہونے غصّے میں سختی سے اپنی مٹھی بھینچی تھی انکی اس الزام پر رخسار بیگم نے تڑپ کر انکی طرف دیکھا تھا "' اپنی بیٹی کے بارے میں ایسا نہ بولیں ابراھیم اگر اس بار وہ اپنی مرضی سے گئی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے جو ہوا اس میں ہماری حفصہ کی کوئی غلطی تھی "' انہونے اپنی بیٹی کے دامن پر لگے داغ کو مٹانا چاہا تھا جو لوگ اس پر لگا چکے تھے "' تمہارے کچھ بھی کہنے سے وہ سب نہیں بدلنے والا رخسار پہلے کی طرح اس بار بھی تمہاری بیٹی کی ہے غلطی ہے"' انکے زہر خند لہجے پر رخسار بیگم کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی تھی کیسا باپ تھا وہ جو اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے بول رہا تھا وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ انہیں حفصہ کی فکر سے زیادہ شمس کے ساتھ ہونے والے پارٹنرشپ ٹوٹ جانے کا ڈر تھا "' اسے تو شکر کرنا چاہیے تھا کہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی شمس اس سے نکاح کرنے کے لئے راضی ہے ورنہ وہ جو کر چکی ہے اسکے بعد تو کوئی بھی عزت دار گھر کے لوگ ہم سے رشتہ بھی جوڑنا پسند نہیں کریں گے پر اس خودغرض لڑکی کو دیکھو بھاگ گئی اپنے باپ کی عزت کا بھی خیال نہیں کیا اس نے"' انکی باتیں کسی تیر کی طرح رخسار بیگم کے دل میں لگ کر انکے دل کو زخمی کر رہی تھی "' اپنی بیٹی کے بارے میں ایسا مت بولیں ابراھیم ہماری حفصہ ایسی نہیں ہے آپ اسکے باپ ہوکر ایسی باتیں کیسے کر سکتے ہیں"' انہیں معلوم تھا انکا شوہر پتھر دل ہے پر اپنی بیٹی کے لئے بھی انکے دل میں ذرا بھی جذبات نہیں تھے "' باپ ہوں اس لئے اتنا کچھ کرنے کے باوجود اسکا قتل کرنے کے بجائے میں نے اسے اس گھر میں رہنے دیا اسکا نکاح کرانے کا سوچا لیکن نہیں وہ نکاح سے بھی بھاگ گئی "' اگر وہ خود ایک خودغرض باپ نہ ہوتے تو یقیناً اپنی بیٹی کی تکلیف کو ضرور سمجھتے تھے "' یہاں کھڑے ہوکر رونے سے اچھا ہے تم جاکر دعا کرو کی تمہاری بیٹی مل جائے میں تو شاید اسے بخش دوں پر شمس نہیں بخشے گا "' اپنی بات کہتے وہ وہاں رکے نہیں تھے تیزی سے قدم اٹھاتے اندر کی جانب چلے گئے جبکہ رخسار بیگم وہیں زمین پر بیٹھ کر روتی چلی گئی تھی ۔۔ 💥💥
