Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
حورین جو اسکی شدتوں کو سہ کر تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی تھی صبح اپنے اوپر بوجھ کو محسوس کر کے اسکی آنکھ کھلی تھی
اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا مصطفیٰ اسے مکمل اپنے حصار میں لئے بڑے آرام سے اسکے سینے پہ سر رکھے سو رہا تھا
نیند میں بھی اسکی پکڑ حورین پر مضبوط تھی شاید اسے نیند میں بھی ڈر تھا کہ کہیں وہ اسکو چھوڑ کر نہ چلی جائے
حورین کتنے ہی لمحے بس اسکو دیکھتی رہی جو اس وقت سوتے ہوئے کسی معصوم بچے کی طرح لگ رہا تھا
اسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ مصطفیٰ ان دونوں کے درمیاں رشتے کی نئی شروعات کر چکا ہے بلکہ اسے سے اپنی محبت کا اعتراف بھی کر چکا ہے
وہ چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ لئے بہت محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی اپنی سوچوں میں گم تھی اس بات سے بےخبر کہ مصطفیٰ کی نظریں اسی کے چہرے پر جمی ہوئی تھی
“‘ اگر تم اسی طرح میرے بالوں میں ہاتھ چلاتی رہی نہ تو مجھے رات والا مصطفیٰ بننے میں دیر نہیں لگے گی “‘
اسکی خمار آلودہ آواز حورین کے سماعت سے ٹکرائی تو اس نے بےسختہ نظر اٹھا کر مصطفیٰ کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں بے پناہ تپیش لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا مصطفیٰ کے بالوں میں چلتا اسکا ہاتھ یکدم رک سا گیا تھا دھڑکنے یکدم سے تیز ہوئی تھی
“‘ ویسے مجھے لگتا ہے تمھیں رات کی طرح اب بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔۔ ہے نہ “‘
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا تھوڑا سا اوپر ہوا تھا اس وقت اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی کچھ نیند کا خمار تھا کچھ حورین کی قربت کا
جبکہ اسکی بات اور اسکے خطرناک ارادے جان کر حور نے گھبرا کر اسے اپنے ہاتھوں سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی مگر بےسود مصطفیٰ اسکی دونوں کلائی کو تھام کر اسکے چہرے پہ جھک گیا تھا
دونوں کے چہرے کے درمیاں کا فاصلہ انچ بھر کا تھا رات کی طرح حور اسکی قربت سے گھبرا رہی تھی
اس نے اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کی تو وہ اسکے چہرے پہ جھک کر باری باری اسکے گال چومنے لگا
اسکے لمس میں اتنی شدّت تھی کہ حور بوگھلا گئی تھی
“‘ تمہاری یہ بوگھلاہٹ گھبراہٹ مجھے مزید گستاخی کرنے پر اکسا رہی ہے “‘۔
وہ اسکے کان کی طرف جھک کر خمار بھری سرگوشی کرنے لگا اور اسکی کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں لیکر ہلکا سا دبایا تھا
اسکے اس علم پر حورین نے اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو قابو کرنے کی کوشش کی مگر یہ تو رات کی طرح صحیح معنوں میں اسکو مارنے کی قدار پہ تھی
مصطفیٰ حورین کی دل کی دھڑکنوں کو اچھے سے محسوس کر سکتا تھا اسکی خود کی دھڑکنے بھی معمول سے زیادہ دھڑک رہی تھی
وہ حورین کی پھولی ہوئی سانسوں کی حدت اپنے ہونٹوں پہ کسی نرم گرم ہوا کی صورت میں محسوس کر رہا تھا
اسکی لرزجتی پلکیں کپکپاتے گلابی لب شرم سے سرخ پڑتا چہرہ اسے پھر سے گستاخی کرنے پہ آمادہ کر رہا تھا
“‘ تمہاری یہ شرم اور گھبراہٹ مجھے میرا حق لینے سے روک نہیں سکتی “‘
وہ خمار آلودہ نگاہوں سے اسکی انکھوں میں جھاکتے ہوئے اسکے لبوں پر اپنی دہکتے لب رکھ چکا تھا
مکمل اسکی قربت کے نشے میں چور وہ آہستہ آہستہ اسکی سانسوں کی خوشبو کو خود میں اتار رہا تھا
ایک ہاتھ سے حورین کے چہرے کو تھامے دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر پہ اپنی گرفت سخت کرتا وہ مکمل اسکے وجود کو اپنے حصار میں لے چکا تھا
حورین کو لگ ریا تھا وہ رات کی طرح اسکی ہونٹوں کو آزادی نہیں دیگا مگر شاید اسے اس پر رحم آ گیا تھا وہ اسے سے جدا ہوتا حورین کے ایک ایک نقش پر اپنا لمس چھوڑنے لگا
حورین کا سانس سینے میں ہی کہیں اٹک سا گیا تھا جب مصطفیٰ کے ہونٹوں کا لمس اسے اپنے سینے پر محسوس ہوا
“‘ مصطفیٰ “‘۔
وہ اپنی بےترتیب سانسوں کے درمیاں اسے پکار اٹھی تھی وہ جو اسکی قربت میں مدہوش ہوا جا رہا تھا حورین کی کانپتی آواز پر اپنا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا
“‘ بولو جان مصطفیٰ میں تمہارے ان لبوں سے اپنے لئے محبت بھرے لفظ سننے کا منتظر ہوں “‘
وہ نرمی سے اسکے نچلے لب کو سہلاتا ہوا بولا اور گہری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا جو شرم کی وجہ سے اسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی کیونکہ وہ اس وقت بغیر شرٹ کے تھا اور وہ خود اسکی شرٹ میں موجود تھی
“‘ مصطفی ٰ ۔۔۔۔ وہ۔ وہ۔ ۔مجھے بھوک لگی “‘
وہ اپنا نچلا لب دباتی بمشکل بول پائی تھی کیونکہ وہ اسکو اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا
“‘ کھا لینا جان مصطفیٰ پہلے تم میری بھوک کا علاج کر دو اسکے بعد “‘
وہ معنی خیزی سے بولتا اسکے اوپر سے کمفرٹر کو ہٹانے لگا
“‘ اپکی بھوک کا علاج مطلب “
وہ ناسمھجی سے اسکو دیکھتی ہوئی بولی جبکہ اسکی معصومیت پر مصطفیٰ کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا
“‘ میری بھوک کا علاج ۔۔۔ مطلب یہ “”
وہ اسکے اوپر سے کمفرٹر کو مکمل ہٹا کر ایک بار پھر اسکے اوپر جھکا اور اپنے لب اسکی صراہی دار گردن پہ رکھ دئے تھے
وہ اسکی گردن پر جبجا اپنا لمس چھوڑتا رات والے موڈ میں آ چکا تھا
اسکی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر حورین نے اسکے چھوڑے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکے نازک ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیکر باری باری اسکی نازک انگلیوں کو چومنے لگا اور ساتھ ہی اسکی ایک انگلی کو اپنے منہ نے لیکر اتنی زور سے دبایا کہ حورین کے منہ سے کراہ سی نکلی تھی
“” آپ ۔۔ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں نہ “‘
وہ اپنی انگلی میں اٹھتی تکلیف کو محسوس کر کے اس بار اسکی طرف دیکھ کر بولی تھی جبکہ اسکی بات پر مصطفیٰ سوالیہ نظروں سے اسکو دیکھنے لگا
“‘ رات سے اب تک تمھیں اندازہ نہیں ہوا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں “‘
وہ اسکے اوپر جھکا دلچسپی سے اسکے چہرے کو دیکھتا اس سے سوال کر رہا تھا
“‘ اگر اتنی محبت کرتے ہیں تو پھر مجھے تکلیف کیوں دے رہے ہیں “‘
وہ اپنی انگلی کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی جس پر مصطفیٰ کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
“” اگر تم پھر سے مجھے خود سے دور کرنے کی کوشش کروگی تو ایسی ہی تکلیفوں کو برداشت کرنا پڑے گا اسلئے میرے کام میں مجھے ڈسٹرب مت کرنا*””
اس بار وہ اسکی شہ رگ کو چومتا ایک بار پھر اسکے لبوں کو اپنا نشانہ بنا چکا تھا
”’ مصطفیٰ پلیز جانے دیں “”
وہ اسکے لبوں پر جھکا اپنی تشنگی مٹانے لگا جب حورین کو اسکے ہاتھ اپنی شرٹ کے بٹنز کھولتے ہوئے محسوس ہوئے تو اس نے پھر سے احتجاج کیا جس پر وہ اسکی دونوں کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا اسکی کوششوں کو ناکام بنا چکا تھا
“‘ چلی جانا تھوڑی دیر بعد “‘
وہ اپنے ہونٹ اسکی گردن پر رکھتا پھر سے خود کو سیراب کرنے لگا اس وقت وہ اسکی سننے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا
حورین نے ایک دو بار پھر سے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی پکڑ اس پر سخت کرتا پھر سے اسکو روک چکا تھا اب حور میں مزید ہمّت نہیں نہیں بچی تھی اسکو روکنے کی وہ خود کو اسکے سپرد کرکے اسکی شدتوں میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگی تھی
💥💥
(ماضی )
“‘ خان ابھی یہ سب کرنا ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ اگر آپ نے کوئی غلطی کی تو اس بار سب کا شق یقین میں بدل جائے گا “‘
کریم اپنے مالک کا اگلا حکم سنتے ہی پریشانی سے بولا وہ سالوں سے اسکا وفادار تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکا مالک اپنی غلطی کی وجہ سے کسی بھی پریشانی میں مبتلا ہو
“‘ تو تم کیا چاہتے ہو کریم میں خاموشی سے بیٹھا سب دیکھتا رہوں “‘
کریم کی بات سن کر ابراھیم خان غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا اسکے مقابل آ کھڑا ہوا اور سخت نظروں سے اسکو گھورنے لگا جس پر کریم بس خاموشی سے اپنے مالک کو دیکھتا رہ گیا تھا
“‘ بولو کریم خاموش کیوں ہو گئے بتاؤ مجھے کیا میں ایسے ہی خاموشی سے زرین کو کورٹ میں اپنے خلاف کیس کرتا ہوا دیکھتا رہوں اور پھر ایسے ہی خاموشی سے بیٹھے بیٹھے اپنی سزا کا انتظار کرتا رہو “‘
وہ اپنی گرزدار آواز میں اس سے مخاطب ہوا جو خاموشی سے کھڑا اسکو غصّے میں کھولتا ہوا دیکھ رہا تھا
“‘ جانتے ہو نہ اگر آج میں نے اسے نہیں روکا تو میں برباد ہو سکتا ہوں سب کچھ ختم ہو سکتا ہے “‘
وہ پھر سے ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور اپنے آفس میں موجود ٹو سیٹر صوفہ پر آ بیٹھا اور سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھنے لگا جیسے وہ اس سے اپنے سوال کا جواب مانگ رہا ہو
“‘ میں سب جانتا ہوں مالک انکے کورٹ جانے سے آپکو ہی نقصان ہوگا پر یہ بھی تو سوچئے اگر آپ نے انہیں بھی اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے ختم کروا دیا تو سب کو جو آپ پر شق ہے کہ آپکے بھائی کو ختم کروانے میں آپکا ہاتھ ہے وہ یقین میں بدل جائے گا کیونکہ آپکے بھائی کی بیوی کے مرنے سے بھی آپکو ہی فائدہ ہوگا نہ “‘
کریم اسکو تفصیل سے ساری بات سمجھاتا ہوا بولا جو ابراھیم خان کو سمجھ بھی آ گئی تھی
یہ سچ تھا اس نے دولت کے لئے اپنے چھوٹے بھائی کا قتل کروایا تھا اس بھائی کا جو انکے باپ کی دوسری بیوی سے تھا
ابراھیم خان کو شروع سے ہی اپنے سوتیلے بھائی ادریس سے نفرت تھی وجہ انکے باپ کی محبت جو وہ ان سے زیادہ ادریس سے کرتے تھے اور اسی محبت کی وجہ سے وہ اپنی زیادہتر پراپرٹی بھی ادریس کے نام کرکے گئے تھے جس سے ابراھیم خان کی نفرت انکے لئے مزید بڑھ گئی اور اپنی اسی نفرت میں آکر انہونے اپنے بھائی کو بھی ختم کروا دیا یہ سوچے بغیر کہ وہ کسی کا شوہر اور ایک چھوٹی سی بچی کا باپ بھی تھا
ادریس کو شروع سے ہی اپنے بھائی کی نفرت کا اندازہ تھا اسلئے انہونے اپنی بیوی زرین کو ابراھیم خان کی نفرت اور انکے ارادوں سے باخبر رکھا ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ زرین اپنے شوہر ادریس کی موت کا زمہ دار ابراھیم خان کو ہی مانتی تھی جو غلط بھی نہیں تھا اسلئے وہ کورٹ سے انصاف چاہتی تھی وہ چاہتی تھی کہ ابراھیم خان کو سزا ملے جس نے دولت کی وجہ سے انکے شوہر کی جان لی تھی
رخسار بیگم بھی اپنے شوہر کے اس گناہ سے باخبر تھی پر وہ بیچاری کچھ نہیں کر سکتی تھی اسلئے بس خاموشی سے اپنے شوہر کی نظروں میں آئے بغیر زرین کی مدد کر دیتی تھی جس پر زرین انہیں بہت منع کرتی تھی کیونکہ وہ اپنی وجہ سے رخسار بیگم کو کسی مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی تھی
ابراھیم خان کو جب سے زرین کے ارادے معلوم ہوئے تب سے انکا یہی حال تھا وہ کسی بھی قیمت پر زرین کو کورٹ جانے نہیں دے سکتے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں سچ سامنے نہ آ جائے
“‘ تو اب تم ہی مجھے بتاؤ کریم مجھے کیا کرنا چاہیے ایسا کیا کروں کہ میرا کام بھی ہو جائے اور کسی کو ختم بھی نہ کرنا پڑے “‘
کریم کی ساری بات سن لینے کے بعد ابراھیم خان پر سوچ انداز میں بولا
وہ جلد سے جلد اس معاملے کو ختم کرنا چاہتا تھا
“‘ مالک میری آپکے لئے بس یہ ہی راۓ ہے فلحال آپ خاموش رہے اود کچھ نہ کریں ابھی معملا گرم ہے آپکی ایک غلطی آپکو بہت نقصان پہونچا سکتی ہے “‘
وہ سر کو جھکائے بہت سلجھے ہوئے انداز میں بول رہا تھا اسکی بات سن کر ابراھیم خان کا غصّہ تھوڑا کم ہوا تھا کیونکہ وہ جو کہہ رہا تھا بلکل صحیح کہہ رہا رہا تھا
“‘ اور رہی بات زرین کی اسکو میں دیکھ لونگا آپ بےفکر رہیں وہ کورٹ تو چلی جائے گی مگر وہ یہ ثابت نہیں کر سکتی ہے اور نہ ہی اسکے پاس کوئی ثبوت ہے جب یہ سارا معملا ختم ہو جائے گا تو آپکا حکم پورا کر دیا جائے گا “‘
وہ اپنے مالک کی طرح چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا جس پر اس بار ابراھیم خان بھی مسکرا دیا تھا
“‘ زرین کے ختم ہونے کے بعد میرا راستہ بلکل صاف ہوگا وہ سب پراپرٹی میری ہوگی جس پر ہمیشہ سے صرف میرا حق تھا صرف میرا “‘
وہ زوردار قہقا لگا کر ہنسا تھا مگر اسکی ہنسی یکدم سے غائب ہوئی تھی جب اسے اپنے روم کے باہر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے کریم کو اشارہ کیا جس پر وہ دروازے کی جانب بڑھا مگر اس سے پہلے کہ وہ دیکھتا کہ کون ہے کوئی تیزی سے وہاں سے بھاگا تھا
“‘ پکڑو اسے فورا “‘
ابراھیم خان زرین کو وہاں سے بھاگتا ہوا دیکھ چکا تھا کریم کو حکم دیتا خود بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا تھا
زرین جو یہاں اپنے وکیل کے ساتھ ابراھیم خان کو آخری وارننگ دینے آئی تھی کہ وہ اپنا گناہ قبول کر لے مگر اسکے وکیل کو آنے میں ٹائم لگتا اسلئے وہ اسکا انتظار کرنے لگی مگر ان دونوں کی آواز سن کر وہ دروازے میں ہی رک گئی تھی
اس نے جو کچھ بھی سنا وہ اسکے لئے ناقبل برداشت تھا اسے لگتا تھا وہ صرف اسکے شوہر کی جان کا دشمن تھا مگر وہ غلط تھی
انہیں اب اپنے لئے فیصلے پر افسوس ہو رہا تھا کیونکہ انکے ساتھ انکی بیٹی حور کی زندگی بھی جڑی ہوئی تھی اگر انہیں کچھ ہو جاتا ہے تو اسکا کیا ہوگا
زرین نے اپنی گود میں موجود ایک نظر حور کو دیکھا اور تیزی سے ابراھیم کے آفس سے نکلی تھی جبکہ ابراھیم اور کریم بھی انکے پیچھے تھے
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی حور کو لئے سڑک پر ڈور رہی تھی انہیں ڈر تھا کہ ابراھیم خان انکے ساتھ ساتھ انکی بیٹی کو بھی نقصان نہ پہنچا دے
وہ بس اپنی بیٹی کو انکی پہنچ سے دور لے جانا چاہتی تھی انہیں کسی بھی طرح بس ان لوگوں سے دور جانا تھا
بھاگتے بھاگتے انہونے ایک نظر مڑ کر دیکھا وہ لوگ ابھی بھی اسکے پیچھے آ رہے تھے
انکو اپنے قریب آتا دیکھ زرین کے قدموں میں مزید تیزی آ گئی تھی
“‘ اگر زرین نے سب سن لیا ہوگا تو ہمارے لئے اچھا نہیں ہوگا اسلئے کریم اسے پکڑو “‘
ابراھیم خان سخت لہجے میں بولا اور ساتھ ہی زرین کا پیچھا کرنے لگے
وہ بھاگتے بھاگتے کافی دور آ گئی تھی حور انکی گود میں تھی جس وجہ سے اب ان سے مزید بھاگا نہیں جا رہا تھا
رات کا پہر سنسان سڑک انہیں خوفناک لگ رہی تھی مگر انہیں اپنی اور اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لئے بھاگنا تھا
وہ اتنی تیزی اور بےدھیانی میں بھاگ رہی تھی کہ انہونے سامنے سے تیز سپیڈ سے آتی کار پر انکا دھیان ہی نہیں گیا تھا
کار پوری رفتار سے ان سے ٹکڑائی اور وہ زمین پہ جا گری تھی
ابراھیم اور کریم جو انکا پیچھا کر رہے تھے انہونے دور سے ہی یہ منظر دیکھا تھا وہ دونوں چپ کر دوسری کار سے ایک لڑکے کو نکلتا ہوا دیکھنے لگے
ابراھیم خان دور سے ہی اس چھوٹے بچے کو پہچان گیا تھا کیونکہ وہ لڑکا شہر کے جانے مانے بزنس مین زمان شاہ کا بیٹا تھا جسے وہ زمان شاہ کے ساتھ دیکھ چکا تھا
وہ دونوں جتنی خاموشی سے وہاں کھڑے سب دیکھ رہے تھے اتنی خاموشی سے وہاں سے نکل گئے کیونکہ انکے مشکل کو کوئی اور ہی انکے راستے سے صاف کر چکا تھا
💥💥
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے کمرے میں بےچینی سے سے ادھر سے ادھر ٹہلتی اسفند کا انتظار کر رہی تھی وہ کل رات سے گھر نہیں آیا تھا حالانکہ وہ حیات صاحب کو فون کرکے بتا چکا تھا کہ وہ رات کو گھر نہیں آئے گا مگر حفصہ گھر میں اسکی غیر موجودگی سے پریشان ہو رہی تھی
اس دن سچ بتانے کے بعد سے وہ اسکی طرف دیکھنا تک پسند نہیں کر رہا تھا اسکا یہ رویہ حفصہ کے دل کو چوٹ پہونچا رہا تھا
مگر اسکے باوجود حفصہ نے ایک بار پھر سے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر جس بےدردی سے اس نے حفصہ کو کمرے سے نکالا تھا اسکے بعد سے حفصہ نے پھر سے اسے کچھ بھی کہنے کی ہمّت نہیں کی تھی کیونکہ اسے اپنے اللّه پر یقین تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اسکے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال دیگا بس اسے صبر کرنا تھا
ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر دیوار پہ لگی گھڑی پر پڑی جو اس وقت رات کے آٹھ بجا رہی تھی پتہ نہیں وہ کہاں تھا وہ تو اتنا بھی حق نہیں رکھتی تھی کہ اسکو فون کرکے پوچھ لے نہ ہی اسے نے حفصہ کو ایسا کوئی حق دیا تھا
“‘ میں ڈیڈ سے بولتی ہوں وہ فون کرکے معلوم کر لینگے شاید آج بھی گھر آنے کا ارادہ نہ ہو “‘
وہ خود سے مخاطب ہوتی ہوئی دروازے کی طرف پلٹی تھی کہ جبھی اسکے بیڈروم کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا
حفصہ نے دروازے کے جانب ابھی قدم بڑھایا ہی تھا کہ اسفند کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ اسکے قدم اپنی جگہ رک گئے تھے وہی دوسری طرف حفصہ کو اپنے سامنے دیکھ اسفند بھی اپنی جگہ جم سا گیا تھا
دونوں کچھ فاصلے پر کھڑے بس خاموشی سے ایک دوسرے کو تک رہے تھے
حفصہ کی آنکھوں میں اپنے لئے شکوہ دیکھ کر آج پہلے بار اسفند نظریں چرا گیا تھا
اس وقت وہ شرمندگی کی وجہ سے اسکی آنکھوں میں دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ بھاگ کر اسکو اپنے سینے سے لگا لے اس سے معافی مانگے اسکو بتائے کہ وہ کتنی بڑی غلطی کر چکا ہے اسکی بات نہ سن کر اس پر بھروسہ نہ کر کے
اپنی اس سوچ پر عمل کرتے ہوئے وہ تیزی سے آگے بڑھا اور دونوں کے درمیاں فاصلہ ختم کرتے ہوئے خاموش کھڑی حفصہ کو سختی سے اپنے سینے سے لگا لیا تھا
اس نے حفصہ کے گرد اپنے مضبوط بازوں کا حصار سختی سے باندھ لیا جیسے وہ کہیں اسکو چھوڑ کر چلی نہ جائے
حفصہ جو کمرے سے باہر جانے کا ارادہ کر رہی تھی اسفند کی اس حرکت پر شاک سی کی کیفیت میں کھڑی رہ گئی تھی
اسفند کی یہ حرکت خلاف توقع تھی
“‘ مجھے معاف کر دو حفصہ میں بہت برا انسان ہوں ۔۔ میں نے بہت غلط کیا تمہاری بات نہ سن کر تم پر شک کر کے “‘
وہ اسکو اپنے سینے سے لگائے نم لہجے میں بول رہا تھا اس وقت اسے حفصہ کے ساتھ کیا اپنا ایک ایک غلط رویہ یاد آ رہا تھا جنہیں وہ چاہے بھی تو کبھی بدل نہیں سکتا تھا
کل سے اسکی یہی حالت تھی شرمیدگی کی وجہ سے اس میں حفصہ کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی پر آج وہ اپنے اندر ہمّت جمع کرکے آج اسکے سامنے موجود تھا
“‘ مجھے معاف کر دو حفصہ میں تم سے محبت کرتا تھا مجھے کم از کم اس محبت کا تو مان رکھنا چاہئے تھا پر میں نے وہ بھی نہیں کیا “‘
وہ اپنی ایک ایک غلطی کو قبول کر رہا تھا
حفصہ جو اب تک ناسمجھی کی کیفیت میں تھی اسفند کے لفظ سن کر اسے ساری بات سمجھ آ گئی تھی کہ وہ اس سے کس بات کی معافی مانگ رہا تھا
“‘ تمھیں چھوڑ کر میں نے ان لوگوں پر بھروسہ کیا جن لوگوں نے میرے ساتھ دھوکہ کیا اور جو اب تک کرتے آ رہے تھے ۔۔۔ ۔میرا دوست مصطفیٰ جسے میں اپنا بھائی سمجھتا تھا اس نے آج تک مجھ سے اتنا بڑا سچ چھپا کر رکھا ہوا تھا “‘
اسفند کے مزید اعتراف پہ حفصہ کو ساری بات سمجھ آ گئی تھی کہ اسکو یہ بات کہیں اور سے بھی معلوم ہوئی ہے تبھی وہ یوں کھڑا اس سے معافی مانگ رہا تھا
“” میں جانتا ہوں میں غلط تھا پر کیا تم اپنے اسفند کو معاف کر دوگی صرف ایک بار “‘
وہ اب اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس سے التجا کر رہا تھا
اس وقت اسکے لہجے کے ساتھ ساتھ اسکی آنکھیں بھی نم تھی اور اسکی آنکھوں کی نمی حفصہ کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی
“‘ بولو جواب دو حفصہ معاف کر دوگی نہ تم اپنے اسفند کو “”
اسکی خاموشی سے گھبرا کر اسفند پھر سے اس سے مخاطب ہوا اور اسکے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کرنا چاہا مگر حفصہ بےدردی سے اسکے ہاتھ جھٹک چکی تھی
“” میں نہیں جانتی مصطفیٰ بھائی یہ سب کیسے جانتے ہیں اگر آج وہ تمھیں سچ نہ بتاتے تو تم کبھی میری بات پر یقین ہی نہ کرتے “”
وہ سپاٹ چہرہ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ اسکا لہجہ برف کی طرح بلکل سرد تھا جسے محسوس کر کے اسفند گنگ کھڑا رہ گیا تھا
“” بولو جواب دو اسفند خاموش کیوں ہو گئے تمھیں یہ کہتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ تم مجھ پر ذرا بھی اعتبار نہیں کرتے تھے اسلئے میرا کہا ہر لفظ تمہارے لئے کوئی معنے نہیں رکھتا تھا “”
وہ آج اپنے دل کا غبار نکال رہی تھی اسکے رویے کی وجہ سے وہ بھی اس سے بدگمان ہو چکی تھی
اس نے اسکی بات پر اعتبار نہیں کیا تھا یہی بات اسکی تکلیف کا سبب تھی کیا تھا کہ وہ اس پر اعتبار کر لیتا انکی محبت کا ماں رکھ لیتا مگر اس نے تو ایسا بھی نہیں کیا تھا
“‘ میں مانتا ہوں حفصہ میں غلطی پہ تھا مجھے تمہارا اعتبار کرنا چاہیے تھا مگر وقت اور حالات ایسے تھی کہ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا “‘
آج وہ بھی اس جگہ پر موجود تھا جہاں کچھ دن پہلے حفصہ تھی اور اب وہ اسکی حالت سمجھ رہا تھا کہ وہ بھی اس وقت کتنی مجبور تھی
“‘ نہیں اسفند محبت کی سب سے پہلی سیڑھی اعتبار ہوتی مگر تم نے میرا اعتبار نہیں کیا میرے کہے ہر لفظ کو جھوٹا ٹھرایا اتنا سب کرنے کے باوجود تم مجھ سے معافی کی امید کیسے کر سکتے ہو “”
وہ اس بار چیخی تھی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر اسکے رخسار سے پھسل کر زمین میں جذب ہو رہے تھے
“‘ اگر آج مصطفیٰ بھائی تمھیں سب نہ بتاتے تو کیا تم کبھی میری بات پر اعتبار کرتے نہیں نہ تو پھر تم مجھ سے اتنی آسانی سے معافی کی امید بھی کیسے رکھ سکتے ہو”‘
وہ اسے حقیقت کا وہ آئینہ دکھا رہی تھی جو وہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ وہ جو کہہ رہی تھی کہیں نہ کہیں سچ ضرور تھا
“‘ حفصہ پلیز بس ایک بار خود کو میری جگہ رکھ کر سوچوں تو شاید تمھیں مجھے معاف کرنے میں آسانی ہو جائے گی کیونکہ اس وقت میں بھی ایک دھوکے میں ہی جی رہا تھا “”
اس نے آہستہ سے آگے بڑھ کر پھر سے اسکے ہاتھوں کو تھامنا چاہا مگر اس بار پھر سے حفصہ نے بےدردی سے اسکے ہاتھوں کو جھٹک دیا تھا
“‘ اگر ایسی بات ہے تو تم بھی خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچوں اسفند یہاں تک کہ تم تو زبردستی مجھ سے اپنا حق بھی لے چکے ہو اس سب کے باوجود میرے لئے بھی تمھیں معاف کرنا اتنا آسان نہیں ہے “‘
وہ اس نے دو قدم فاصلے پر جا کھڑی ہوئی تھی اسفند کو اسکا یوں دور جانا بہت تکلیف دے رہا تھا مگر کیا کرتا غلطی تو اسکی بھی تھی جسکی سزا اب اسے بھی ملنی تھی
“‘ ہمارے درمیان جو محبت تھی اس محبت کی خاطر مجھے معاف کردو اپنے اسفی کو معاف کرو حفصہ “”
وہ مزید اسکے قریب ہوا تو وہ پھر سے اس سے دور جا کھڑی ہوئی تھی
“” ایک بار تم نے کہا تھا کہ وہ اسفی مر چکا ہے مجھ سے محبت کرتا تھا اس دن تم نے بلکل سچ کہا تھا اسفند کیونکہ میرا اسفی میرے ساتھ کبھی ایسا نہ کرتا کبھی بھی نہیں “‘
اسکے دل کا درد جب حد سے زیادہ بڑھ گیا تو اس سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تھا وہ اپنی سسکی کو دباتی ہوئی واشروم میں جا گھسی تھی جبکہ اسفند کتنی ہی دیر خاموشی سے کھڑا بند دروازے کو دیکھتا رہا کتنے ہی آنسوں ٹوٹ کر اسکی شرٹ میں جذب ہو گئے تھے
لوگ اپنی غلطی اور غلطفہمی کی وجہ سے اپنی زندگی کی قیمتی چیز کھو دیتے ہے اور وہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھا
💥💥
“‘ تمہاری غلطی کی وجہ سے سب برباد ہو گیا کیسے مرد ہو تم کہ تم سے ایک لڑکی بھی سنبھال نہ سکے”‘
وہ دندناتی ہوئی شمس کے آفس میں داخل ہوئی اور اپنے بزنس پارٹنرز کے ساتھ بیٹھے کچھ ڈسکس کرتے شمس کے کالر کو اپنی مٹھی میں جکڑ کر جنونی انداز میں چلائی تھی اس بات سے بےخبر کہ اسکے آفس میں موجود لوگ عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
“‘ یہ کیا حرکت ہے رباب زمان شاہ یہ میرا آفس ہے تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرو “‘
شمس جو اس آفت کے لئے تیار نہ تھا رباب کی اس حرکت پر ماتھے پر لاتاداد شکنیں لئے نگواری سے اسکی طرح دیکھتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور جھٹکنے کے انداز میں اسکے ہاتھوں سے اپنے کالر کو آزاد کروایا اور ساتھ اپنے آفس میں موجود لوگوں کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا جس پر وہ اسکی بات کو سمجھتے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے
“‘ آج تو تم نے یہ حرکت کر دی رباب اگر آئندہ تم نے ایسی حرکت غلطی سے بھی کی نہ تو میں بغیر کوئی وجہ جانے تمہارے ہاتھوں کو تمہارے جسم سے الگ کر دونگا “‘
وہ خونخار نظروں سے اسکو گھورتا ہوا بولا اگر اس وقت رباب کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اس حرکت کی ایسی سزا دیتا کہ زندگی بھر یاد رکھتا
“‘ اگر تم اپنا یہ غصّہ اس حفصہ اور اسکے باپ کے سامنے دکھاتے تو آج حالات کچھ اور ہوتے ایک لڑکی کو تو حاصل نہیں کر پائے تم مجھے کیا سزا دوگے “‘
وہ طنزیہ انداز میں بولتی شمس کے غصّے کو مزید بھڑکا رہی تھی
“‘ بس خاموش ہو جاؤ رباب ورنہ میں تمہارا وہ حال کرونگا کہ یاد رکھو گی “‘
وہ اپنی ہاتھوں کی مٹھی کو سختی سے بھینچتا ہوا غرایا تھا یہ لڑکی اسکے صبر کا امتحان لے رہی تھی
“‘ تم میری فکر چھوڑو شمس اپنی فکر کرو جسے تم شہر بھر میں تلاش کرتے پھر رہے ہو نہ وہ اسفند کے گھر میں اسکی بیوی کی حثیت سے موجود ہے اب مجھے یہ بتاؤ یہ حقیقت جان کر تم اسکا کیا حال کروگے”‘
اس نے جیسے اپنی طرف سے شمس کے سر پہ بم سا پھوڑا تھا
اسکی بات سن کر شمس کتنے ہی لمحے خاموش کھڑا رہ گیا تھا شاید اسکے پاس بولنے کے لئے الفاظ ہی نہیں تھے
وہ بس بےیقینی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات لئے اسکو دیکھ رہا تھا جسکی چہرے پر اسکی حالت دیکھ کر استہزیہ مسکراہٹ تھی
“‘ نہیں یہ نممکن ہے ایسا نہیں ہو سکتا وہ دونوں کیسے مل سکتے ہیں اتنا سب ہونے کے بعد اسفند اس سے نکاح نہیں کر سکتا “”
وہ گردن نفی میں ہلاتا ہوا اس سے کچھ فاصلے پہ جا کھڑا ہوا تھا
اسکے لئے یہ یقین کرنا مشکل تھا بلکہ نممکن تھا
“‘ ایسا ہو چکا ہے مسٹر شمس خان اسفند اس سے نکاح کر چکا ہے میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئی ہوں وہ اسکے گھر میں موجود تھی بلکہ اس نے ہی مجھے اپنے نکاح کی خوشخبری سنائی تھی “”
وہ آہستہ آہستہ سے اسکو سب بتاتی چلی گئی تھی جسے سن کر شمس کی غصے کی وجہ سے رگئیں تن سی گئیں تھی
“‘ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ اتنی آسانی سے میرے ہاتھ سے نہیں نکل سکتی ،،، میں ایسا نہیں ہونے دونگا ۔۔”‘
وہ غصّے میں اپنی ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا بولا جس وجہ سے ٹیبل پر موجود سامان اور ساری فائلز رباب کے قدموں میں آ گری تھی
اسکی حالت دیکھ کر رباب کو اب اپنے اندر سکون اترتا ہوا محسوس ہوا تھا
“‘ ایسا ہو نہیں سکتا بلکہ ہو چکا ہے وہ بہت آسانی نہ صرف تمہارے ہاتھ سے نکل گئی ہے بلکہ اتنی ہی آسانی سے اسفند کی زندگی میں شامل بھی ہو چکی ہے “”
اسکے اندر جلتی آگ کسی بھی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی بار بار اسکی نظروں کے سامنے حفصہ کے چہرے پر موجود مسکراہٹ گھوم رہی تھی یہ سب اسکی برداشت کے باہر ہو رہا تھا
“” اور جانتے ہو ایسا صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے شمس اگر وقت پر تم اسے حاصل کر لیتے تو یہ سب نہ ہوتا ایک لڑکی کو سنبھال نہیں سکے تم اور خود کو مرد کہتے ہو وہ تمہاری ناک کے نیچے سے نکل گئی اور تم اسکا پتہ بھی نہ لگا سکے “‘
وہ اپنے غصّے میں بولتی جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کی اسکی باتیں شمس کے غصّے کو ہوا دے رہی تھی
“‘ ارے تم سے اچھی تو میں رہی کم از کم اسفند کو حاصل تو کر لیا تھا مگر تم ،،،، تم سے تو یہ بھی “‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنے زہرخند لفظوں سے اسکے غصّے کو مزید بڑھاتی شمس کا بھاری مضبوط ہاتھ اسکی گردن دبوچ چکا تھا جو اسکے لفظوں کے ساتھ ساتھ اسکی آواز کو بھی دبا گیا تھا
“‘ بہت کہہ دیا تم نے اور بہت سن لیا میں نے اب ایک اور لفظ تمہارے منہ سے نکلا تو آج میرے آفس سے تمہاری لاش واپس جائے گی “‘
وہ قہر آلودہ نظروں سے اسکو گھورتا ہوا وارننگ دینے والے انداز میں بولا اور ساتھ ہی رباب کی گردن پر اپنی پکڑ سخت کی تھی جس پہ وہ کسی بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی ہوئی خود کو اسکے شکنجے سے آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی تھی
“‘ میرا کہنا تمھیں اتنا ۔۔۔برا لگا رہا ہے تو جاکر اسکو سزا دو نہ جو اس سب کی زمہ دار ہے “‘
وہ ایک جھٹکے میں اپنی گردن اسکے ہاتھوں سے آزاد کرواتی ہوئی بمشکل بولی تھی
وہ کسی بھی قیمت پر حفصہ اور اسفند کو ایک ساتھ خوش نہیں دیکھ سکتی تھی
“‘ اسکو بھی سزا ملے گی میرے ساتھ دھوکہ کرنے والوں کو میں آسانی سے نہیں چھوڑتا “‘
وہ ایک نظر رباب کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو اپنی گردن سہلاتی ہوئی اسکو گھور رہی تھی جبکہ اسکی بات پر رباب کو کچھ سکون سا ملا تھا اگر وہ ان دونوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی تھی تو شمس تو کچھ نہ کچھ کر ہی سکتا تھا
💥💥
(جاری ہے )
