53.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“‘ دادو جان آج کوئی اسپیشل ڈے ہے کیا جو سب آج ایک ساتھ موجود ہیں۔۔۔۔ اور بہت خوش بھی لگ رہے ہیں “‘
ھاد کے معصوم سوال پہ ڈائنک ٹیبل پہ موجود سبھی فرد اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے
اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے
“‘ جی بیٹا جب سب ایک ساتھ ہنسی خوشی موجود ہوتے ہیں تو وہ دن اسپیشل ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور دیکھو آج تو آپکے مصطفیٰ مامو بھی یہاں موجود ہیں “‘
حیات صاحب کی جگہ حفصہ نے اسکی بات کا جواب دیا جس پہ اس نے ایک نظر اپنے بلکل سامنے بیٹھے مصطفیٰ کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
آج حفصہ نے سب کے لئے ڈنر پلان کیا ہوا تھا جس میں اس نے مصطفیٰ اور حورین کو بھی شامل کیا تھا ویسے بھی بہت پریشانیوں کے بعد ان لوگوں کی زندگی میں کچھ سکون کے پل ملے تھے
اسلئے آج وہ سب ایک ساتھ موجود تھے
“‘ میرے مصطفیٰ مامو تو بیسٹ ہیں ۔۔ اور انکا لایا ہوا گفٹ بھی “‘
وہ آنکھوں میں چمک لئے بولا جبکہ اسکی بات پہ سب لوگوں کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آ گئی تھی
آج سب کے ایک ساتھ ہونے پہ سب سے زیادہ خوشی جس کو تھی وہ ھاد تھا
اور اسکی خوشی کا سبب مصطفیٰ تھا وہ مصطفیٰ کے آنے پہ ہمیشہ ایسے ہی خوش ہوتا تھا پچھلے کچھ دنوں سے اسکی غیر موجودگی سے وہ اداس تھا مگر آج اپنے مامو کو دیکھ کر وہ جیسے کھل سا گیا تھا
“‘ اچھا جی مامو کے آنے پہ پارٹی بدل لی ۔۔۔ اور سارا دن جو چاچو چاچو کرتے رہتے ہو اسکا کیا ۔۔۔ مامو کے گفٹ کے سامنے چاچو کو بھول گئے “‘
ھاد کی بات پہ کب سے خاموش بیٹھا حدید بیچارہ سا منہ بناتا ہوا بولا جبکہ اسکی بات اور بیچاری سی شکل دیکھ کر اس بار سبکا قہقا پورے ڈائنک روم میں گونج اٹھا تھا
“‘ اگر تم کنجوسی چھوڑ کر تھوڑے پیسے خرچ کرو تو شاید میرے بیٹے کو پارٹی نہ بدلنی پڑے “‘
اس بار اسفند شرارت سے اپنے بھائی کی جانب دیکھتا ہوا بولا جس پہ حدید آنکھیں گھما کر رہ گیا تھا
“‘ ” نہیں حدید چاچو آپ بھی بیسٹ ہیں ۔۔ آپ میرے ساتھ میرے فیورٹ گیمز کھلتے ہیں اور مصطفیٰ مامو میرے لئے میرے پسند کے تحفے لاتے ہیں ۔۔۔ اسلئے آپ دونوں بیسٹ ہیں “‘
وہ اپنے چاچو کا اداس چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ اسکے لئے دونوں ہی عزیز تھے اسلئے فورا اسکی سائیڈ لی تھی
“‘ کیا میں بھی تمہاری اس بیسٹ لسٹ میں شامل ہو سکتا ہوں “‘
حدید جو ان لوگوں کو کوئی جواب دینے والا انجانی آواز پہ اسکے ساتھ ساتھ سب نے داخلی دروازے کی جانب دیکھا تھا
ہارون کے ساتھ رخسار بیگم کو وہاں کھڑا دیکھ کر سب حیران ہوتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے
“‘ امی آپ آ گئی “‘
حفصہ تیزی سے اپنی ماں کی طرف لپکی اور انکے سینے سے جا لگی تھی
ایک سکون تھا جو دونوں کو خود میں اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
“‘ جب مجھے معلوم ہوا کہ اس گھر میں میری ایک نہیں دو بیٹی ہیں تو میں خود کو یہاں آنے سے روک نہیں پائی ۔ “‘
وہ حفصہ کو خود سے الگ کرتی ہوں دور کھڑی حورین کو محبت بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی
جب حفصہ نے انہیں فون پہ حورین کے بارے میں بتایا تو وہ کتنے ہی لمحے سکت کھڑی رہ گئی تھی انہیں تو پہلے ہی شق تھا کہ انکے شوہر نے ان سے زرین اور حورین کے بارے میں بھی یقیناً جھوٹ بولا ہوگا اور آج انکا شق سچ ثابت ہوا تھا
“‘ دور کیوں کھڑی ہو حورین ۔۔ یہاں آؤ اپنی تائی جان کے گلے نہیں لگو گی “‘
وہ اپنی باہیں پھیلائے بہت محبّت سے اسے پکار رہیں تھیں اور انکی اتنی محبت دیکھ کر حورین تڑپ کے انکے سینے سے آ لگی تھی
آج پہلی بار اس نے ماں کی محبت کو محسوس کیا تھا
رخسار بیگم کتنے ہی دیر تک اسے اپنے سینے سے لگائے کھڑی رہیں تھیں انہیں یہ افسوس تھا کہ وہ زرین اور حور کے لئے کچھ نہیں کر سکی تھی مگر آج حور کو دیکھ کر انکے دل کو بہت سکون ملا تھا
یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود سبھی کی آنکھیں نم ہوئی تھی سب حورین کے لئے بہت خوش تھے
‘” میں جانتا ہوں کہ میں ایک اچھا بھائی کبھی نہیں بن پایا اپنی بہن کو تحفظ نہیں دے پایا جو ایک بھائی سے اسے ملتا ہے “‘
رخسار بیگم نے جب حورین کو خود سے الگ کیا تو کب سے خاموشی سے یہ منظر دیکھتا ہارون حفصہ سے مخاطب ہوا جو حورین کے آنسوں صاف کر رہی تھی
اسکی بات پہ حفصہ کے ساتھ حورین بھی اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی
“‘ پر کیا تم اپنے بھائی کو معاف کر کر مجھے ایک اور موقع دوگی ۔۔۔کیونکہ میں تم دونوں کے لئے ایک اچھا بڑا بھائی بننا چاہتا ہوں “‘
وہ شرمیدگی سے حفصہ کی طرف دیکھ کر بولا اپنے باپ کی باتوں میں آکر اس نے کبھی اپنی بہن کی طرف توجہ نہیں دی تھی
اس دن جب اسفند حفصہ کو گھر لیکر آیا تھا تب پہلی بار اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا اور اسکا احساس مزید بڑھ گیا جب اسے اپنے باپ کی حرکتوں کے بارے میں معلوم ہوا
وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکا باپ اتنی گھٹیا حرکت بھی کر سکتا ہے اسلئے آج وہ یہاں موجود تھا تاکہ اپنے غلطی کی معافی مانگ سکے اپنی بہن سے
“‘ ” آپ ایک اچھے بھائی ہو ہارون بھائی ۔۔۔ آپکو بننے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ اور ویسے بھی غلطیاں انسان سے ہی ہوتی ہے آپکو مجھ سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ سے کوئی شکایات نہیں ہے” “‘
اسکو شرمندہ دیکھ حفصہ نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لئے تھے
اسکی بات سن کر ہارون نے خوش ہوتے ہوئے حفصہ کے ساتھ حورین کو بھی اپنے گلے لگا لیا جس پہ سبھی مسکرا دئے تھے
“‘ ” یہاں تو بہن بھائی کا ملن ہو رہا ہے ۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے یہاں میری کمی تھی جسے میں پورا کرنے آ گئی ہوں “‘
رباب کی آواز پہ اس بار پھر سے سب نے دروازے کی جانب دیکھا تھا جو چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ لئے سب کو دیکھ رہی تھی جبکہ اسکی موجودگی سے اسفند کے ساتھ مصطفیٰ کے ماتھے پہ بل پڑ گئے تھے
“‘” تمہاری کمی نہ تو کبھی تھی اور نہ ہوگی ۔۔۔ اسلئے بہتر ہے تم یہاں سے چلی جاؤ “‘
مصطفیٰ غصّے میں دندناتا اسکے پاس آیا اور سختی سے اسکا بازو کھینچ کر اسے وہاں سے نکالنا چاہا تھا
“‘ میں تمہاری بہن ہوں تم میرے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھ سکتے “‘
سب کچھ اسکے ہاتھوں سے نکل چکا تھا اسلئے آج وہ یہاں اسفند سے بس اپنا بیٹا مانگنے آئی تھی مگر سب کے سامنے اپنی اتنی تذلیل پہ اسکا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا تھا
“‘ “‘ صحیح کہا تم میری بہن ہو اسلئے تمہارے ساتھ ایسا کر رہا ہوں ۔۔۔۔ جو گھٹیا حرکت تم کر چکی ہو اسکے بعد اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اس وقت زندہ نہ ہوتا “‘
وہ اسکو بازو سے کھینچتا ہوا وہاں سے لیکر نکلا تھا اسکے پیچھے سب لوگ تھے
“‘ ” ہاتھ چھوڑو میرا مصطفیٰ میں بس یہاں اپنے بیٹے کو مانگنے آئی ہوں ۔۔۔ مجھے بس میرا بیٹا دے دو میں تم لوگوں کی زندگی سے چلی جاؤ گی “‘
وہ اسکی گرفت سے اپنا بازو آزاد کروانے کی کوشش کرتی ہوں بولی مگر اسکی پکڑ بہت سخت تھی
“‘ کورٹ کا آرڈر تمھیں سمجھ نہیں آتا تمہارا اس پہ اب کوئی حق نہیں ہے ۔۔ اسلئے تم یہاں سے چلی جاؤ اکیلی اور پھر کبھی یہاں پلٹ کر مت دیکھنا “‘
مصطفیٰ نے بہت بےدردی سے رباب کو دروازے کے باہر دھکا دیا جس پہ زمین پہ گری تھی
اپنے بھائی کی آنکھوں میں نفرت دیکھ کر پہلی بار رباب کی آنکھوں میں آنسوں آئے تھے
سب کو رباب کی حالات پہ رحم تو آ رہا تھا مگر مصطفیٰ کا غصّہ دیکھ کر کسی میں آگے بڑھنے کی ہمّت نہیں تھی
“‘ آج سے میرا تم سے ہر رشتہ ختم ۔۔۔اور میں ایسی خود غرض لڑکی کا بھائی نہیں بننا چاہتا جو اپنے فائدے کے لئے کسی کی زندگی کے بارے میں بھی نہ سوچے ۔۔۔”‘
اسلئے آج سے تمہارے لئے تمہارا بھائی مر گیا ۔۔۔ ہماری زندگی سے چلی جاؤ ہمیشہ کے لئے “‘
وہ اسکے منہ پہ زور دار آواز کے ساتھ دروازہ بند کرتا ہوا پلٹا اور اپنی آنکھوں میں آئے آنسوں کو بےدری سے صاف کرتا سب کی طرف دیکھے بغیر ڈائننگ روم کی طرف بڑھ گیا
🔥🔥
“‘ کیا بات ہے حورین میں نوٹ کر رہا ہوں جب سے ہم وہاں سے واپس آئے ہیں تم اداس لگ رہی ہو ۔۔۔ کسی نے کچھ کہا ہے تم سے ؟ ۔”‘
وہ بیڈ پہ نیم دراز لیٹا اس پہ نظریں جمائے ہوئے بولا جو ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی بے دلی سے اپنی چوڑیا اتار رہی تھی
جب سے وہ لوگ اسفند کے گھر سے واپس آئے تھے تب سے حورین بلکل خاموش تھی سارا راستہ تھی اس نے کوئی بات نہیں کی اب اسکی خاموشی سے گھبرا کر وہ اپنے من میں چلتا سوال پوچھ بیٹھا تھا
“‘ آج میرا وہاں رکنے کا بہت من تھا اور سب لوگ بھی کتنا اسرار کر رہے تھے ۔۔۔ پر آپ نے کسی کی نہیں سنی خود تو آ گئے ساتھ میں مجھے بھی لے آئے “‘
مصطفیٰ کی آواز پہ اسکا ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکا اور آئنے میں نظر آتے اسکے عکس کو دیکھ کر تھوڑا ناراضگی سے بولی تھی
اسکی خاموشی کی وجہ جان کر مصطفیٰ کھل کر مسکرایا تھا
“‘ یہاں ادھر آؤ میرے پاس “‘
وہ ہاتھ بڑھا کر اسکو اپنے قریب آنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا تو حورین چہرے پہ ناراضگی لئے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکی جانب بڑھی تھی
وہ جانتی تھی احتجاج کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اگر وہ منع کرتی تو وہ اسے اپنے طریقے سے اپنے پاس لے آتا جو یقیناً اسکے لئے اچھا نہیں تھا
“‘ تم دس دن اپنی بہن کے پاس رہ کر آئی ہو اسکے بعد بھی تمہارا دل نہیں بھرا جو آج بھی وہاں رکنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ “‘
مصطفیٰ نے اسکی کلائی تھام کر بغیر اسکو کوئی موقع دئے ایک جھٹکے میں اسے اپنی جانب کھینچا تھا
حورین جو اس حملے کے لئے تیار نہ تھی اپنا بیلنس برکرار نہ رکھ سکی اور سیدھا اسکے سینے پہ آ گری تھی
“‘ ” یا پھر تمھیں اپنے شوہر کے قریب رہنا پسند نہیں ہے “‘
وہ اپنے ایک ہاتھ سے اسکی کمر پہ گرفت مضبوط کرکے دوسرے ہاتھ سے اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو پیچھے کرتا ہوا تھوڑا خفگی سے بولا تھا
“‘ ” نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔ وہ وہاں سب تھے تو اسلئے میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں انکے ساتھ اور وقت گزارو “
اسکی اتنی قربت پہ حورین کو اپنا چہرہ سرخ ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
دھڑکن یکدم تیز ہوئی تھی
“” کل تک مجھے لگتا تھا کہ میں بلکل تنہا ہوں میرا کوئی رشتہ موجود نہیں ہے ۔۔ مگر اب مجھے ایک بہن ایک بھائی اور ایک ماں مل چکی ہیں ۔۔ میری فیملی کمپلیٹ ہو گئی ہے “‘
وہ جانتی تھی کہ وہ اسکی بات سے خفا ہو گیا ہے اسلئے وہ نظریں جھکائے اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتی ہوئی نرم لہجے میں بول رہی تھی
“‘ ‘ بس اسلئے تھوڑا سا وقت انکے ساتھ گزرنا چاہتی تھی “‘
اس بار اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ مصطفیٰ کی خود پہ جمی گہری نظروں کو محسوس کر کے گڑبڑا سی گئی اور ساتھ ہی اس نے اسکے اوپر سے اٹھنا چاہا مگر وہ اتنی جلدی اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا
“‘ تمہاری تو فیملی کمپلیٹ ہو گئی مگر میری فیملی تو ابھی تک انکمپلیٹ ہے اسے کب پورا کرنے کا ارادہ ہے تمہارا “‘
اس بار وہ اسکے نازک وجود کو مکمل اپنے حصار میں لیتا ہوا شرارت سے بولا مگر حورین اسکی شرارت سمجھ نہیں پائی تھی
“‘ اگر رباب آپی سدھار جائے اور سب سے معافی مانگ لیں تو آپکی بھی فیملی کمپلیٹ ہو جائے گی “‘
وہ معصومیت سے بولتی مصطفیٰ کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
“‘ میں رباب کی بات نہیں کر رہا میری ناسمجھ بیوی”‘
اس بار وہ اسکے نازک وجود کو بہت احتیاط سے بیڈ پہ لیٹاتا اسکے اوپر جھکا تھا
اسکی اس حرکت پہ حورین کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا وہ اپنے خشک لب تر کرتی ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگی تھی
“‘ میں اپنی فیملی کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔ جس میں ہوں تم ہوں اور ہمارے چھوٹے چھوٹے چار پانچ بچے تب جاکر ہوگی نہ میری فیملی کمپلیٹ “‘
وہ مزے سے اسے بتا رہا تھا جبکہ اسکی منہ سے بچوں کا سن کر حورین کا چہرہ ٹماٹر کی طرح لال سرخ ہو چکا تھا جسے چھپانے کے لئے وہ مصطفیٰ کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی تھی
“‘ ” آپ کتنے بے شرم ہیں مصطفیٰ “‘
اسکی شرمائی اور گھبرائی ہوئی آواز پہ مصطفیٰ کھل کر مسکرایا اور اسکے چہرہ تھام کر اپنے سامنے کیا تھا
“‘ بے شرمی کی کیا بات ہے بیوی ۔۔ چار پانچ بچے تو مجھے چاہئے “‘
وہ شرارت سے کہتا اسکے چہرے پہ جھکا اور بہت ہی نرمی سے اسکے لبوں کو چھوا تھا
اسکی شرارت پہ حورین سختی سے اسکی شرٹ کو اپنی مٹھی میں جکڑ چکی تھی
“‘ تو بتاؤ راضی ہو چار پانچ بچوں کے لئے “‘
اسکی شہ رگ کو چومتا وہ اسکی دھڑکنوں کو بڑھا تھا جبکہ اسکے منہ سے پھر سے چار پانچ بچوں کا سن کر حورین کی آنکھیں حیرت سے مزید کھلی تھی
“‘ ” پانچ بچے تو بہت زیادہ ہیں میں کیسے سنبھال پاؤ گی انہیں “‘
معصوم سی شکل بنا کر اس نے احتجاج کیا جس پہ مصطفیٰ مسکراتا ہوا اب اسکی گردن پہ اپنا لمس چھوڑنے لگا
اسکی بڑھی ہوئی شیو کی چبھن سے حورین کو اپنی سانسیں بھی بےترتیب ہوتی محسوس ہوئی تھی
“‘ ” کتنے کرنے ہیں یہ بعد میں دیکھ لینگے پر فلحال تو مجھے ایک پیاری سی بیٹی چاہئے جو بلکل تمہاری طرح ہوگی “‘
وہ اسکی چھوٹی سی ناک کو چومتا ہوا اب اسکی تھوڈی پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
وہ اسکے چہرے پہ جھکا اسکے ہر ایک نقش پہ اپنا لمس چھوڑ رہا تھا
“‘ ” مصطفیٰ دیکھیں شاید اپکا فون بج رہا ہے “‘
اسکی چھوٹی چھوٹی گستاخی جب مزید بڑھنے لگی تو حورین نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا جس پہ مصطفیٰ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا تھا اور موقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حورین پل میں اسکی گرفت سے آزاد ہوتی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“‘ حورین یہ کیا حرکت ہے فورا واپس آؤ “‘
اسکی شرارت سمجھ کر مصطفیٰ نے اسے گھورا تھا
“‘ آپ آرام سے لیٹ کر یہ سوچیں کے ہماری بیٹی میں مجھ جیسا کیا کیا ہونا چاہئے اتنے میں چینج کر لوں۔۔۔۔ اب میں اس ہیوی سوٹ میں سو تو نہیں سکتی نہ ۔۔۔”‘
وہ اسکی طرف منہ بناتی ہوئی واشروم میں جا گھسی جبکہ مصطفیٰ بیڈ پہ لیٹا واشروم کے دروازے کو گھورتا رہا تھا
🔥🔥
“‘یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔ اور کس کی اجازت سے تم نے اتنا بڑا فیصلہ لے لیا ۔۔۔ “‘
ابراھیم خان کی گرزدار آواز پورے لاؤنج میں گونجی تھی جسے سن کر کچن میں کام کرتی رخسار بیگم ملازمہ کو ہدایت دیتی لاؤنچ میں داخل ہوئی جہاں انکا شوہر قہر آلودہ نظروں سے اپنے سامنے کھڑے ہارون کو گھور رہے تھے مگر ہارون کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے جیسے اسے اپنے باپ کی بات بلکل پسند نہیں آ رہی تھی
“‘ ” میں نے کچھ غلط نہیں کیا بابا ۔۔۔ اور کچھ صحیح کرنے کے لئے مجھے نہیں لگتا کہ مجھے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے۔۔۔”‘
وہ تلخی سے کہتا اپنے باپ کی طرف دیکھ رہا تھا اسکے لفظوں میں چھپی کاٹ کو محسوس کرکے ابراھیم خان کا غصّہ مزید بڑھ گیا تھا
“‘ میری کمپنی کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے تمھیں میری اجازت کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ تم ابھی کہ ابھی اس اسفند کے ساتھ کی گئی ڈیل کو ختم کر رہے ہو یہ میرا آخری فیصلہ ہے “‘
وہ اسے حکم دینے والے انداز میں بولے مگر اس بار ہارون پہ اپنے باپ کی کسی بھی بات کا کوئی اثر نہیں ہونے والا تھا
“‘آپ اسفند کا احسان ماننے کا بجائے یہ ڈیل ختم کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے آپکو تو اسکا شکر گزار ہونا چاہئے جس نے ہمیں بینک کروپٹ ہونے سے بچا لیا ورنہ آج ہمرے سر کے اپر یہ چھت بھی نہ ہوتی اگر وہ ہماری کمپنی میں انویسٹ کرکے ہمارا پارٹنر نہ بنتا “‘
ہارون نے اپنے باپ اسفند کا کیا احسان یاد دلا کر اسکو شرم دلانی چاہی تھی مگر اسے اس بات سے کوئی فرک نہیں پڑتا تھا
“‘ وہ حفصہ کا شوہر ہے جس نے ہماری عزت مٹی میں ملا دی تم اس انسان سے کیسے مدد لے سکتے ہو۔۔ “‘
ابراھیم خان ایک نظر خاموش کھڑی اپنی بیوی کی طرف دیکھ کر پھر سے غصّے میں بولا تھا
“‘ اور آپ جانتے بھی ہیں میری بہن کی عزت خراب کرنے میں جس انسان کا ہاتھ تھا آپ اسی انسان سے اسکا نکاح کروا رہے تھے ۔۔۔۔ میں ایک بھائی ہوکر بھی اسکی بات نہ سن سکا وہ تو شکر ہے حفصہ خود ہی یہاں سے چلی گئی ورنہ نہ جانے وہ شمس خان اسکے ساتھ کیا کرتا “‘
اس بار ہارون کے لہجے میں دکھ تھا اپنی بہن کی حفاظت نہ کرنے کا افسوس تھا
“‘ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔ دماغ ٹھیک بھی ہے تمہارا “‘
ابراھیم خان ماتھے پہ بل ڈالے سخت نظروں سے اسکو گھور رہا تھا
اسے لگ رہا تھا کہ اسفند نے اسکے دماغ میں یہ سب باتیں ڈالی ہیں اسلئے وہ اس سب پہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا
“‘ یہ بکواس نہیں حقیقت ہے بابا ۔۔۔۔ آپکو کیا لگتا ہے آج جو شمس خان کے ساتھ ہوا ہے وہ اتفاق ہے “‘
وہ لمحے کے لئے رکا اور اپنے باپ کی طرف دیکھا جسکے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے
“‘ اسکی کمپنی کو برباد کرکے اسے غیر کانونی کام کی وجہ سے جیل میں پہونچانے والا اور کوئی نہیں اسفند ہی ہے۔۔۔۔۔۔ اس نے چھ سال پہلے ہماری حفصہ کے ساتھ جو کیا تھا اسکا بدلہ لیا ہے اسفند نے اس سے “‘
ہارون نے جیسے ابراھیم خان کے سر پہ بم سا پھوڑا تھا
اسکے تو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ شمس خان اسکی بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ کر چکا ہے
اسکی ہمیشہ سے ہی انکی بیٹی پہ غلط نظر تھی اور وہ پہچان بھی نہیں سکا تھا
“‘ جو کام آپکو یا مجھے کرنا چاہئے تھا وہ کام اسفند نے کیا ہے ۔۔۔ یہ دیکھ کر مجھے تو بہت شرم آتی ہے بابا آپکو بھی آنی چاہئے کیونکہ آپکے گناہوں کی سزا آپکی بیٹی کو ملی ہے “‘
اس بار ہارون کا لہجے سخت تھا
اسکی بات پہ رخسار بیگم کی آنکھیں نم ہوئی تھی
“‘ تم کن گناہوں ہی بات کر رہے ہو میں کچھ سمجھا نہیں “‘
اس بار ابراھیم خان تھوڑا گڑبڑا سا گیا تھا جبکہ اپنے باپ کی بات پہ ہارون طنزیہ مسکرایا تھا
“‘ اپنے بھائی کو جان سے مارنے کا گناہ ۔۔۔۔ پھر چند پراپرٹی کے لئے اپنے اسی بھائی کی بیٹی کا جان کا دشمن بننے کا گناہ ۔۔۔ ۔۔۔ اور نہ جانے آپ نے کتنے گناہ کئے ہونگے بابا جن سے آج تک ہم انجان ہیں “‘
زندگی میں پہلی بار اسے اپنے باپ سے نفرت سی محسوس ہو رہی تھی
وہ اپنے باپ کی باتوں میں آکر بھٹک گیا تھا مگر وقت رہتے اسکی آنکھیں کھل گئی تھی
“‘ کیا ہوا اب خاموش کیوں ہو گئے ۔۔۔ بول دیں کہ یہ سب جھوٹ ہے آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔ “‘
وہ تلخی سے بولتا اپنی آنسوں بہاتی ماں کے قریب آیا اور بہت نرمی سے انکے آنسوں صاف کئے تھے
“‘ آج تک آپ نے صرف خود سے محبت کی ہے بابا ۔۔۔ نہ آپ ایک اچھا شوہر بن پائے اور نہ ہی ایک اچھے باپ ۔۔۔ اور آج مجھے آپکو اپنا باپ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے “‘
وہ اپنی ماں کے گرد اپنے بازو حائل کرتا انہیں ساتھ لئے آگے بڑھا تھا
“‘ اور ہاں ایک اور آخر بات ۔۔۔ “‘
جاتے جاتے وہ رکا اور پلٹ کے اپنے باپ کی جانب دیکھا جو کسی بت کی طرح خاموش کھڑے تھے
“‘ آپکو جو چاہئے تھا آپکو مل چکا ہے اسلئے میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ میری دونوں بہنوں کی خوشیا برباد نہ کریں انہیں اکیلا چھوڑ دیں ۔۔۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو مجبورا مجھے ہی کوئی قدم اٹھانا پڑے گا جو آپکے لئے اچھا نہیں ہوگا “‘
مضبوط لہجے میں بولتا وہ اپنی ماں کو لئے وہاں سے نکل گیا
جبکہ اسکا کہا ایک ایک لفظ ابراھیم خان کے کانوں میں کتنی ہی دیر تک گونجتے رہے تھے
🔥🔥
ھاد کو سلا کر وہ دروازہ بند کرتی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی اسفند کو بیڈ پہ نیم دراز دیکھ کر اسکے ہونٹ ہولے سے مسکرا دئے
ھاد کو سلانے کی وجہ سے وہ اکثر اپنے بیڈروم میں دیر سے آتی تھی اور اسفند کا روز کا معمول تھا وہ ایسے ہی بیڈ پہ لیٹ کر اسکا بیڈروم میں آنے کا انتظار کرنا
کبھی کبھی تو وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کے لئے دیر سے آتی جس پہ وہ کافی جھنجھلا جاتا اور اس وقت حفصہ بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کر پاتی تھی
“‘ ” یہ ھاد کو آج کل کچھ دیر سے نیند نہیں آنے لگی ہے ۔۔۔ ورنہ پہلے تو بہت جلدی سو جاتا تھا “‘
وہ اٹھ کر بیٹھ کر حفصہ کی جانب مشکوک نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
اسکا سوال سن کر حفصہ کو ہنسی تو بہت آئی مگر وہ اپنی ہنسی دباتی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی
“‘ ” بچہ ہے جب زیادہ تھاکہ ہوا ہوتا ہے تو جلدی سو جاتا ہے ۔۔۔اور آج تو اسے نیند نہیں آ رہی تھی ابھی بھی بہت مشکل سے سلا کر آئی ہوں “‘
آج وہ کوئی جھوٹ نہیں بول رہی تھی کیونکہ آج ھاد کو واقعی نیند نہیں آ رہی تھی
بار بار وہ بس اس سے ایک ہی سوال کر رہا تھا کہ اسکی بہن کب آئے گی اب بھلا وہ اسکے اس سوال کا کیا جواب دیتی ۔۔ بس آہستہ سے مسکرا دیتی
مگر وہ بھی اپنے باپ کی طرح بلکل ضدی تھا اسے آج ہی اپنے سوال کا جواب چاہئے تھا
بس کیا تھا اسکے سوال سے تھک ہار کر حفصہ کو کہنا ہی پڑا کہ اسکے نیکسٹ برتھڈے پر اسکی بہن اسکے پاس ہوگی جس پہ وہ خوش ہوتا سونے کے لئے لیٹ گیا جس پہ حفصہ نے سکون کا سانس لیا تھا
“‘ ” مجھ سے بہن کی فرمائش تو کر دی مگر اب خود ہی اپنی فرمائش کو پوری نہیں ہونے دے رہا ہے “‘
اسفند ایک ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا بولا اور ایک نظر حفصہ پہ ڈالی جو اب اپنی چوڑیا اتار کر اپنے بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھی
اسکے مسکراتے ہونٹ بتا رہے تھے کہ وہ اسکی بڑبڑاہٹ کو سن چکی ہے
کچھ دیر تو وہ بیٹھا اسکو گہری نظروں سے دیکھتا رہا مگر حفصہ کی سستی پہ جھنجھلاتا بیڈ سے اٹھ کر اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا
“‘ بہت ہنسی آ رہی ہیں نہ میری حالت پہ ۔۔۔ جبکہ تم اچھی طرح جانتی ہو تمھیں تمہاری یہ ہنسی بہت مہنگی بھی پڑ سکتی ہے “‘
وہ پیچھے سے اسکو اپنے حصار میں لیتا ہوا خمار آلودہ لہجے میں بولا اور اسکی کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں لیکر ہلکا سا دبایا جس پہ حفصہ کے منہ سے ہلکی سی سسکی نکلی تھی
“‘ “‘ بہت برے ہو تم اسفند کوئی ایک موقع نہیں چھوڑتے مجھے تنگ کرنے کا “‘
وہ آئنے میں اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی جو اب اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپائے اسکی خوشبو کو خود میں اتار رہا تھا
“‘ اور تم جو مجھے ہر وقت تنگ کرتی رہتی ہو اسکا کیا ۔۔۔۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں تم روز جان بوجھ کر دیر سے بیڈروم میں آتی ہو “‘
وہ اسکے پیٹ پر اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اپنے لب اسکی گردن پہ رکھ دئے تھے
حفصہ جو اپنے پروٹیسٹ میں کچھ کہنے والی تھی اسفند کی بڑھتی جسارتوں پہ اسکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا
کتنا ہی وقت یوں ہی گزر گیا دونوں سحر انگیز لمحات میں کھو سے گئے تھے
کمرے کی معنی خیزی خاموشی کو دروازے پہ ہونے والی دستک نے توڑا تھا
دروازے پہ ہوئی دستک پہ وہ دونوں جیسے ہوش میں آئے تھے اسفند نے یکدم اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا
“‘ اس وقت کون ہو سکتا ہے “‘
چہرے پہ پریشانی لئے وہ ایک نظر حفصہ کی طرف دیکھتا دروازے کی طرف بڑھا مگر دروازے پہ کھڑی ہستی کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا
“‘کیا بات ہے ھاد بیٹا آپ سوۓ کیوں نہیں ۔۔۔ کوئی برا خواب دیکھا آپ نے “‘
وہ اس وقت ھاد کو یہاں دیکھ کر تھوڑا پریشان ہوا اور جھک کر اسکو اپنی گود میں اٹھا کر دروازہ بند کرتا کمرے میں لے آیا
” ارے ھاد بیٹا کیا ہوا ۔۔۔ نیند نہیں آ رہی آپکو “‘
اسکو جاگتا ہوا دیکھ کر حفصہ بھی پریشانی سے اسکی طرف بڑھی تھی
“‘ ” ڈیڈ اور ماما میں آپ دونوں سے ایک بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں ۔۔۔ اور اسکو کئے بغیر مجھے نیند نہیں آئے گی “‘
وہ ایک نظر دونوں کی طرف دیکھتا سنجیدگی سے بولا جبکہ اسکی بات پہ حفصہ اور اسفند ناسمجھی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے
جانے ایسی کیا بات تھی جو وہ کرنے والا تھا
“‘ ” ایسی کون سے ضروری بات ہے بیٹا جسے کئے بغیر آپکو نیند نہیں آ رہی ہے “‘
اسفند اسکو گود میں لئے بیڈ پہ آ بیٹھا اور حفصہ کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پہ وہ بھی اسکے برابر میں بیٹھ چکی تھی
“‘ وہ بات یہ ڈیڈ کہ مجھے اب ایک نہیں دو بہنے چاہئے ۔۔ جس طرح ہارون مامو کی دو بہنے ہیں ماما اور حورین مامی بلکل اسی طرح مجھے بھی دو بہنے چاہئے “‘
وہ معصومیت سے کہتا ہوا انکی طرف دیکھنے لگا جبکہ اسکی نئی فرمائش پہ حفصہ کی آنکھیں مزید کھل گئی اسکے تاثرات دیکھ کر اسفند نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا
وہ ابھی اپنے بیٹے کی ایک بہن کی فرمائش کو پوری نہیں کر پایا تھا اور یہ دوسری بہن کی فرمائش کرنے آ گیا
“‘ ٹھیک ہے بیٹا آپکا حکم سر آنکھوں پہ آپکی یہ نئی فرمائش کو میں ضرور پورا کرونگا “‘
وہ محبت سے اسکی پیشانی چومتا آنکھوں میں شرارت لئے حفصہ کی طرف دیکھنے لگا جو اسکی بات پہ اسے گھور رہی تھی
“‘ ڈیڈ آپ گریٹ ہو ۔۔۔ اور ماما آپ بھی “‘
اپنے باپ کی بات سن کر وہ خوشی سے جھوم اٹھا تھا
“‘ اور ڈیڈ ایک اور بات ۔۔۔ میں آج رات آپ دونوں کے پاس سونا چاہتا ہوں مجھے آج وہاں نیند نہیں آ رہی ہے “‘
وہ اسفند کی گود سے اتر کر بیڈ پہ لیٹتا ہوا بولا اور اسکی بات سن کر اس بار ہنسنے کی باری حفصہ کی تھی
مگر ھاد کی موجودگی کو محسوس کر کے وہ اپنی ہنسی دبا گئی
“‘ تمھیں تو میں بعد میں دیکھتا ہوں “‘
وہ اپنی جگہ سے اٹھاتا ہوا حفصہ کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا اور لائٹ بند کرتا اپنی جگہ پہ جانے لگا تھا کہ ٹیبل پہ رکھا اسکا موبئل بج اٹھا
“‘ اس وقت کس کا فون ہو سکتا ہے “‘
اسے حیرانی ہوئی تھی وقت دیکھ کر جبکہ حفصہ جو لیٹ چکی تھی موبائل کی آواز سن کر اٹھ بیٹھی تھی
“‘ ہاں بولو ہارون اس وقت فون کیوں کیا سب خیریت تو ہے نہ “‘
ہارون کی کال ریسیو کرتے ہی وہ پریشانی سے بولا مگر جواب میں ہارون نے جو کہا اسے سن کر وہ اپنی جگہ سکت کھڑا رہ گیا تھا
“‘ ٹھیک ہیں ہم آ رہے ہیں تم حوصلہ رکھو “‘
فون کٹ کرتا وہ مڑا ہی تھا مگر حفصہ کو اپنے پیچھے کھڑا دیکھ کر رکا تھا
“‘ کیا ہوا کیا کہہ رہے تھے ہارون بھائی “‘
اسکے انداز میں بےچینی صاف ظاہر ہو رہی تھی جو اسفند بخوبی محسوس کر سکتا تھا
“‘ تمہارے بابا کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔۔۔ انکے بچنے کی امید نہیں ہے ہمیں جلدی چلنا ہوگا “‘
اسفند نہ جانے اور کیا کہہ رہا تھا مگر حفصہ تو یہ خبر سن کر اسکی باہوں میں جھول گئی تھی
🔥🔥
(جاری ہے)