Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
بقلم اقراء شیخ
” ” میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے مصطفیٰ میں کیا کروں اس وقت میرا دماغ بلکل ماؤف ہو چکا ہے “‘
اسفند اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا ہوا بولا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
حفصہ کے منہ سے اتنا بڑا سچ سننے کے بعد اس وقت اسکے اندر ایک طوفان سا چل رہا تھا جو کسی بھی طرح کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
اسلئے آج وہ مصطفیٰ کے پاس موجود تھا اسے لگ رہا تھا اس وقت صرف وہی تھا جو سچ جاننے میں اسی مدد کر سکتا تھا
“‘ تم ہی بتاؤ مصطفیٰ میں اسکے لفظوں پر یقین کروں یا اس سچ پر جو میں چھ سال پہلے دیکھ چکا ہوں “‘
وہ اپنا رخ مصطفیٰ کی جانب کرتا ہوا اس سے مخاطب ہوا جو پہلے ہی کسی گہری سوچ میں گم بیٹھا تھا
اسکی نظریں ایک نقطے پر جمی ہوئی تھی اسفند کی باتیں سنتے ہوئے اسکی اپنی سوچوں کا سلسلا جاری تھا
“‘کن سوچوں میں گم ہو مصطفیٰ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں “”
اسکی مسلسل خاموشی پر جھنجھلا کر اس بار اسفند نے اسکے شانے پر ہاتھ مارا تھا
اسفند کے اس طرح سے کرنے پر وہ جیسے اپنی سوچوں کی دنیا سے باہر نکلا اور اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا خود کو تیار کرتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے مقابل آ کھڑا ہوا
“‘ حفصہ نے تم سے جو کچھ بھی کہا ہے سچ کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بول رہی اسفند “‘
وہ اپنی بات کہتا ہوا ایک لمحے کے لئے رکا اور ایک نظر اسفند کی جانب دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسکو تک رہا تھا
شاید یہ صحیح موقع تھا اسکے پاس اسفند کو سچ بتانے کے لئے کیونکہ جب سے اسے معلوم ہوا تھا کہ یہ حفصہ وہ ہی حفصہ تھی جسکے ساتھ اسکی بہن غلط کر چکی تھی اس نے تب سے ہی سوچ لیا تھا کہ وہ اسفند کو سچ بتا دیگا
“‘ بلکہ چھ سال پہلے تم نے جو دیکھا وہ جھوٹ تھا فریب تھا جو رباب نے تمھیں دکھایا تھا “‘
اس نے اپنی بات مکمل کر کے ایک گہرا سانس فضا میں چھوڑا تھا
اس نے اتنا بڑا راز آج تک اس سے چھپا تھا کر رکھا تھا اور وہ جانتا تھا سچ جاننے کے بعد اسفند اس سے نفرت کریگا
مگر اب وہ اس راز کو مزید اس سے چھپا کر نہیں رکھنا چاہتا تھا کیونکہ اسفند کو پورا حق تھا جاننے کا کہ اسکے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ ہو چکا ہے
اسفند کو یہ بات نہ بتا کر وہ چھ سال پہلے ایک بھائی کا فرض تو پورا کر چکا تھا اور اب اسے ایک دوست ہونے کا فرض پورا کرنا تھا
دوسرا اس نے ھاد کے لئے بھی یہ سب کیا تھا اور آج بھی وہ ھاد کے لئے یہ سب کر رہا تھا کیونکہ اسے لگتا تھا ھاد کے لئے رباب سے بہتر ماں حفصہ ہے اور وہ سچ بتا کر اسفند کے دل سے حفصہ کے لئے اس غلطفہمی کو نکالنا چاہتا تھا جو اسکی بہن پیدا کر چکی تھی
“‘ یہ۔۔یہ تم کیا کہہ رہے ہو “‘
وہ کسی شاک سی کی کیفیت میں کھڑا اسکی جانب دیکھ رہا تھا اسے لگ رہا تھا مصطفیٰ شاید اسکے ساتھ کوئی مذاق کر رہا ہے مگر اسکے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی
“‘ یہ سچ ہے اسفند حفصہ سچی ہے اس نے تمھیں کبھی دھوکہ دیا ہی نہیں اگر تمہارا کوئی مجرم ہے تو وہ رباب ہے اور اسکے اس جرم کو چھپانے کے لئے میں بھی تمہارا مجرم ہوں “‘
اسے اس وقت مصطفیٰ کو سب بتاتے ہوئے بہت شرمندگی ہو رہی تھی اس نے اپنے بھائی جیسے دوست کو دھوکہ دیا تھا
“‘ کیا مطلب ہے تمہارا مصطفیٰ کھل کر بتاؤ مجھے کیا چھپایا ہے تم نے مجھ سے اور تم یہ سب کیسے جانتے ہو “‘
اس بار اسفند کا صبر جواب دے گیا تھا وہ حلق کے بل چلاتا ہوا اس سے کچھ فاصلے پر جا کھڑا ہوا تھا اس وقت ضبط کی وجہ سے اسکی آنکھیں لال انگارہ ہو چکی تھی
مصطفیٰ کو اس وقت اسکی حالت پر رحم آیا تھا وہ بمشکل خود پر قابو پاتا ایک گہرا سانس چھوڑ کر اسکو سب بتاتا چلا گیا
اسکا ایک ایک لفظ سن کر اسفند حیرانگی بےیقینی سے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جسے وہ اپنے بھائی کا درجہ دیتا تھا
اسکے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسکے ساتھ ایسا کر سکتا تھا
مصطفیٰ تو اسکو سب بتا کر خاموش ہو گیا تھا مگر سب جاننے کے بعد اسکے اندر کا شور مزید بڑھ گیا تھا کیا کچھ نہیں یاد آ رہا تھا اسے
حفصہ کے آنسوں
اسکی پکار
اسکی آنکھوں میں التجا
سب کچھ کسی فلم کے سین کی طرح اسکے سامنے چل رہا تھا جس وجہ سے وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا تھا
کتنے ہی لمحے ان دونوں کے درمیاں خاموشی سے گزر گئے تھے
ایک شرمندگی کی وجہ سے کچھ بول نہیں پا رہا تھا دوسرا اپنے بھائی جیسے دوست سے ملنے والے دھوکے کی وجہ سے
اس وقت مصطفیٰ کے آفس میں مکمل خاموشی تھی
“‘ رباب نے میرے ساتھ جو کیا مجھے اسکا اتنا افسوس نہیں ہے مصطفیٰ کیونکہ وہ اپنے پیار میں اندھی ہو چکی تھی مگر کیا یہ سب چھپاتے ہوئے تمھیں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا ۔”‘
“‘ کیا تم نہیں جانتے تھے میں حفصہ سے کتنی محبت کرتا تھا “‘
مصطفیٰ کی پوری بات سن لینے کے بعد اسفند خود کو نارمل کرتا گہرے دکھ سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا
اسے مصطفیٰ سے اس بات کی امید ہرگز نہیں تھی اسکا دوست اسے دھوکہ دے سکتا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
“‘ اسفند میں اس وقت مجبور تھا مجھے ڈر تھا تم رباب کی غلطی کی سزا اسکے بچے کو نا دو “‘
اس نے ایک کمزور سے کوشش کی تھی اسے اپنی بات سمجھانے کی پر وہ جانتا تھا جو وہ کر چکا ہے اسکے بعد وضاحتوں کی کوئی جگہ نہیں تھی
“‘ ھاد میری بھی اولاد ہے مصطفیٰ میں رباب کی غلطی کی سزا اسکو کیوں دیتا “
اسکی بات کاٹ کر وہ یکدم سخت لہجے میں اس سے بولا تھا
“‘ اگر تم اس وقت سب بتا دیتے تو شاید آج حالات کچھ اور ہوتے مگر اس وقت تم نے ایک بہن بھائی میں سے نہیں صحیح اور غلط میں سے غلط کا انتخاب کیا تھا “‘
وہ سپاٹ چہرہ لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
اسکی اس سرد مہری سے مصطفیٰ کو گہرا دکھ ہوا تھا
“‘ اسفند ایک بار مجھے سمجھنے کی کوشش تو کرو”‘
مصطفیٰ اپنی بات کہتا اسکی جانب بڑھا تھا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے روک چکا تھا
“‘ اب سمجھنے اور سمجھانے کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے مصطفیٰ مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمھیں اپنے بھائی کی طرح سمجھا “‘
وہ اپنی بات کہتا دروازے کی طرف بڑھا تھا جبکہ اسکے لفظوں میں چھپی نفرت اور غصّے کو محسوس کر کے مصطفیٰ کے قدم اپنی جگہ جم سے گئے تھے
“‘ تمہارے ایک غلط فیصلے نے سب ختم کر دیا مصطفیٰ سب کچھ “‘
اپنی بات کہتا وہ وہاں رکا نہیں زور سے دروازہ بند کرتا اسکے آفس سے نکلتا چلا گیا تھا
جبکہ مصطفیٰ اپنی جگہ کھڑا کتنی ہی دیر اس دروازے کو کھڑا تکتا رہا تھا
اسفند نے صحیح کہا تھا اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ اپنے دوست کو کھو چکا تھا جسکے افسوس اسے زندگی بھر رہے گا
💥💥
“‘ تم یہاں کھڑی کیا کر رہی حورین تمھیں ڈاکٹر نے آرام کرنے کے لئے بولا ہے تمھیں آرام کرنا چاہئے “
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا حور کو وارڑراب کے پاس کھڑا دیکھ کر تھوڑا ناراضگی سے بولتا اسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا مگر اسکو وارڑراب سے اپنے کپڑے نکالتا ہوا دیکھ وہ ناسمجھی سے اسکو دیکھنے لگا
مگر وہ اسکی بات اور اسکی موجودگی کو ایسے ہی نظرانداز کئے وارڑراب میں منہ دئے کھڑی رہی اس نے مصطفیٰ کی بات کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا
“‘یہ تم کیا کر رہی ہو اپنے کپڑے کیوں نکال رہی ہو “‘
اسکی خاموشی پر وہ ماتھے پر لاتاداد شکنیں لئے پھر سے اس سے مخاطب ہوا اور آہستگی سے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا
جب سے وہ ہسپتال سے واپس آئی تھی اسکو نظرانداز کر رہی تھی اگر وہ اس سے کچھ بھی پوچھتا تو وہ اسکی بات کا جواب بے رخی سے دے رہی تھی جس پر مصطفیٰ خود پہ ضبط کر کے رہ جاتا
اسکو حورین کا یہ رویہ بلکل پسند نہیں آ رہا تھا اسکے دل کو تکلیف ہو رہی تھی ساتھ ہی اسکی بےرخی پر غصّہ بھی آ رہا تھا جسے وہ بڑی مشکل سے ضبط کئے ہوئے تھا کیونکہ کہیں نہ کہیں حور کے اس رویے کا زمہ دار وہ خود تھا
“‘میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں حور جواب دو مجھے “‘
اس بار وہ اسکی خاموشی پر جھنجھلا کر بولا اور ساتھ ہی سختی سے اسکے بازو کو اپنی گرفت میں لیا تھا
حور جو قریب رکھے بیگ میں اپنے کپڑے رکھ رہی تھی مصطفیٰ کے جھٹکا دینے پر اسکے ہاتھ سے کپڑے چھوٹ کر فرش پر گر گئے تھے
“‘ جو آپ چاہتے تھے میں وہی کر رہی ہوں جب آپکے دل میں میرے لئے جگہ نہیں ہے تو مجھے لگتا ہے مجھے اس کمرے سے بھی چلے جانا چاہئے “‘
وہ اسکی طرف دیکھے بغیر بولی اور اسکی سخت گرفت سے اپنے بازو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر اسکی اس بات پر مصطفیٰ کی گرفت مزید سخت ہوئی تھی
“‘ کس کی اجازت سے تم اس روم سے جا رہی ہو “‘
حورین کی بات سے اسے دکھ تو ہوا تھا وہ مگر وہ خود پر ضبط کرتا ہوا بولا
“‘ مجھے اس روم سے جانے کے لئے آپکی اجازت کی ضرورت نہیں ہے آپ پہلے ہی میرا فیصلہ کر چکے ہیں”‘
اس نے اپنا بازو آزاد کرانے کی پھر سے کوشش کی مگر وہ اس بار اسکا دوسرا بازو بھی تھام چکا تھا
“‘ تم کہیں نہیں جا رہی حورین یہ میرا آخری فیصلہ ہے اپنا سامان واپس رکھو فورا “‘
وہ اس بار تھوڑا سخت لہجے میں بولا
اس نے ہمیشہ ہی اپنی زندگی سے سبکو کھویا تھا آج ہی تو وہ اپنے دوست کو کھوکر آیا تھا اور اب وہ حور کو خود سے دور جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا
وہ جانتا تھا یہ فیصلہ اسی کا تھا مگر اب وہ خودغرض ہوکر سوچ رہا تھا
“‘ اور میں بھی آپکے ساتھ نہیں رہوں گی یہ میرا آخری فیصلہ ہے “”
وہ ضدی لہجے میں بولتی اسکی سخت پکڑ میں مچل رہی تھی مگر مقابل کی پکڑ ہنوز تھی
“‘ تم ایک قدم باہر نکال کر دکھاؤ اس کمرے سے پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں “‘
وہ اسکو وارن کرنے والے انداز میں بولا تھا جس پر حور کو اس پر مزید غصّہ آیا تھا کیا تھا یہ شخص جو خود اسکو دور رہنے کے لئے بولتا رہتا تھا اور اب وہ دور جا رہی تھی تو اسکو دور جانے بھی نہیں دے رہا تھا
“‘ آخر آپ خود کو سمجھتے کیا ہیں جب آپکا دل کریگا خود سے دور کریں گے اور جب آپکا دل کریگا تو دور جانے نہیں دیں گے””
وہ حلق کے بل چلاتی ہوئی اپنا آپ اس سے چھوڑا کر فاصلے پر جا کھڑی ہوئی تھی جبکہ اسکے دور جانے پر مصطفیٰ ایک قدم مزید اسکے قریب ہوا اور اسے دیکھنے لگا جسکا جسم چلانے کی وجہ سے ہولے ہولے کانپ رہا تھا
“‘ آپ مجھے اس کمرے میں رہنے کے لئے مجبور نہیں کر سکتے آخر سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھے “‘
اسکا سانس بری طرح پھول چکا تھا مگر آج وہ خاموش نہیں رہنا چاہتی تھی
“‘ خاموش ہو جاؤ حور میں مزید ایک اور لفظ سننا نہیں چاہتا “‘
وہ مزید اسکے قریب ہوتا اسکو دونوں بازو کو اپنی گرفت میں لیتا اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا جبکہ لہجہ تھوڑا سخت بھی تھا
“‘ نہیں میں خاموش نہیں ہونگی اور اس معملے میں آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے میں آپکے ساتھ اس کمرے میں مزید نہیں “‘
اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ بولتی مصطفیٰ دونوں کے درمیاں باقی کا فاصلہ ختم کرتا اسکے لبوں پر جھک کر اسکا باقی کا جملہ اسکے منہ میں ہی دبا گیا تھا
اسکی اس گستاخی پر حورین نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر لی اور اپنے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کو اسکے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر اسکی اس مزاحمت پر مصطفیٰ کی گرفت میں ہی نہیں اسکے عمل میں بھی سختی آ گئی تھی
اسکے عمل میں اتنی شدّت تھی کہ حور کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر وہ اسکی حالت سے بے خبر یونہی اسکے لبوں پر جھکا اسکی سانسوں کو اپنے اندر اوتار رہا تھا
حور کو جب اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا تو وہ اسکے لبوں کو آزادی بخشتہ اس سے دور ہوا تھا
“‘ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ حور میں بلکل تنہا ہو جاؤنگا “‘
وہ اپنے انگوٹھے سے اسکے لبوں کو نرمی سے سہلاتا ہوا بولا اور اسکے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھنے لگا
حور جو آنکھیں بند کئے اپنی بےترتیب سانسوں کو درست کر رہی تھی مصطفیٰ کے اعتراف پر اپنی جھکی پلکیں اٹھا کر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی
“‘ پر یہ آپکا ہی تو فیصلہ تھا مجھے خود سے دور “‘
اس بار بھی اسکا جملہ ادھورا رہ گیا تھا جب وہ پھر سے اسکے چہرے پر جھک کر اسکے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا
وہ حور کے منہ سے دور جانے کا لفظ سننا بھی نہیں چاہ رہا تھا تو وہ اسکو خود سے دور جانے کیسے دے سکتا تھا
اس بار اسکے عمل میں اتنی شدّت تھی کہ حور کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
وہ اسکی کمر پر اپنی گرفت مزید سخت کرتا اسے اسے لئے پیچھے کی جانب بڑھا اس دوراں وہ ایک لمحے کے لئے بھی اس سے جدا نہیں ہوا تھا
اپنی کمر پر اسکے مضبوط ہاتھوں کے بڑھتے دباؤ کے ساتھ جب حورین کو اپنی شرٹ کی زپ کھلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی تو اس نے گھبرا کر اپنا آپ اس سے آزاد کروایا تھا
“‘ مصطفیٰ یہ آپ “‘
شرم حیا کی وجہ سے اس بولا بھی نہیں جا رہا تھا اپنے تیزی سے دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے وہ بمشکل بول پائی تھی
“‘ میں آج اپنا لیا ہر فیصلہ بدل رہا ہوں حورین کیونکہ میں تم سے دور نہیں رہ سکتا “‘
وہ اسے بیڈ پر لیٹاتا اس پہ جھکتا ہوا جذبات سے بولا اسکے آنکھوں اور لہجے میں حور اپنے لئے محبت بخوبی محسوس کر رہی یہ اسکی دعا آج پوری ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی
“‘ تم میرے لئے بہت ضروری ہو اتنا کہ میں تمہارے بغیر رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا “‘
وہ اپنے ہونٹ اسکے کان کے قریب لے جا کر سرگوشی کے انداز میں بولتا اسکے کان کی لؤ کو چومنے لگا
مصطفیٰ نے اپنے ہونٹ اسکی گردن پہ رکھے تو حورین نے شرم کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی اسکی اتنی قربت سے وہ گھبرا رہی تھی
جب اسے اپنے کاندھے سے شرٹ سرکتی ہوئی محسوس ہوئی وہ آنکھیں بند کئے مصطفیٰ کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن کے بعد اپنے کندھوں پر محسوس کر رہی تھی
“‘ محبت کرتی ہو نہ مجھ سے “‘
مصطفیٰ کی آواز پر اس نے آھستہ سے اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو آنکھوں میں بےپناہ محبت لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
شرم حیا کے وجہ سے اس سے کچھ بولا نہ گیا تو اس نے اپنی پلکیں جھکا کر سر اقرار میں ہلا دیا تھا
اور اسکے اقرار کو سن کر مصطفیٰ اپنی شرٹ اوتارتا ایک بار پھر اسکے وجود پہ قابض ہو گیا تھا
ابکہ بار حورین کا دل نہ صرف بری طرح دھڑکا تھا بلکہ اسے اپنی جان بھی نکلتی ہوئی محسوس ہوئی
وہ یونہی ساری رات اسے پر اپنی محبت کی بارش کرتا رہا
حور نے ایک ایک لمحہ اسکی محبت کو محسوس کرتے ہوئے گزارا تھا
اسکی حد سے زیادہ بڑھتی شدتوں سے حور گھبرا بھی رہی تھی مگر وہ اپنی نرمی سے اسکے ڈر ختم بھی کر رہا تھا
اسکے ہر ایک عمل کو محسوس کرکے حور سمجھ گئی تھی کہ وہ بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتا تھا جتنی وہ اس سے کرتی تھی یا اس سے بھی زیادہ
💥💥
“‘ اے سنو جاؤ جاکر ھادی کو بلا کر لاؤ اس سے کہنا کہ اسکی مام اس سے ملنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔ اسکی اصلی ماں “‘
وہ کسی آدھی طوفان کی طرح دندناتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی اور لاؤنج میں کام کرتی ملازم کو ایسے حکم دیا تھا جیسے وہ اسکی کوئی غلام ہو
“‘معاف کرنا بیگم صاحبہ مگر اسفند صاحب نے ھاد بیٹے سے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں دی ہے “‘
ملازمہ نظریں جھائے اسے اسفند کا حکم سنا رہی تھی جو وہ گھر کے سبھی ملازموں کو دے چکا تھا کیونکہ اسے لگتا تھا رباب کیس جیتنے کے لئے ھاد کے پاس آکر اسکو مینٹلی ٹارچر ضرور کریگی تاکہ وہ کورٹ میں کنفیوز ہو جائے اور اسکا کیس مضبوط ہو جو کہ اسفند کسی بھی قیمت پر نہیں چاہتا تھا
“‘ وو مجھے میرے بیٹے سے ملنے سے نہیں روک سکتا میرا ابھی بھی اس پر حق ہے جاؤ جاکر بلا کر لاؤ ورنہ میں خود چلی جاؤ گی “‘
اسفند کا حکم سن کر اسکا پارو ہائی ہوا تھا وہ ملازمہ کو سخت نظروں سے گھورتی ہوئی بولی
اسکا وکیل اسے بول چکا تھا کہ اسفند کے نکاح سے وہ یہ کیس مکمل ہار چکی ہے لیکن وہ اتنی جلدی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی اسلئے وہ آج یہاں موجود تھی
وہ یہاں اپنی باتوں سے ھاد کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھی آخر وہ اسکی ماں تھی پر یہ بات الگ تھی گزرے پانچ سالوں میں اسے اپنے بیٹے کا ایک لمحے کے لئے بھی خیال نہیں آیا تھا
“‘ تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو جاؤ جاکر بلا کر لاؤ اسے”‘
ملازمہ کو ایسے ہی کھڑا دیکھ کر وہ چلائی تھی اسکا غصّہ دیکھ کر بیچاری ملازمہ ایک پل کے لئے ڈر سی گئی اور اپنی جگہ کھڑی گئی وہ اس وقت کشمکش کا شکار تھی اگر وہ ھاد کو بلا لائی تو اسفند اس پر غصّہ ہوگا اور وہ اپنے مالک کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی
“‘ تمھیں سنائی نہیں دے رہا میں تم سے کیا کہہ رہی ہوں “‘
اس ملازمہ کا وہی کھڑا رہنا رباب کو مزید غصّہ دلا گیا تھا وہ سخت تیوری لئے اسکی طرف بڑھی تھی
“‘ جب تمھیں بول دیا گیا ہے کہ ھاد کو انجان لوگوں سے ملنے کی اجازت نہیں ہے تو کیوں تم فضول میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہو رباب زمان شاہ”‘
اس سے پہلے کہ وہ اس ملازمہ کو مزید کچھ بولتی کسی کی آواز اسکے سماعت سے ٹکرائی تو وہ ایک جھٹکے میں اس جانب پلٹی تھی
وہ پلٹ تو گئی تھی مگر اسے لگا تھا کہ وہ اپنے سامنے کھڑی ہستی سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پائے گی جانے کتنے ہی لمحے یوں ہی سرک گئے تھے
وہ یوں ہی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑی حفصہ ابراھیم کو دیکھ رہی تھی
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا
“‘ تم ۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔ اور تم ہوتی کون ہو
مجھے میرے بیٹے سے ملنے سے روکنے والی “‘
حفصہ کی اسفند کے گھر میں موجودگی سے اسکے ذہن میں بہت سارے سوال چلنا شروع ہو گئے تھے جنکے جواب وہ جلد سے جلد جاننا چاہتی تھی
“‘ کمال ہے میرے گھر میں کھڑی ہوکر تم مجھ سے ہی سوال کر رہی ہو کہ میں یہاں کیا کر رہی ہوں جبکہ یہ سوال تو مجھے تم سے کرنا چاہئے “‘
حفصہ چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لئے بولتی ہوئی اسکی جانب بڑھی جبکہ رباب کے چہرے کے بدلتے تاثرات اسے بہت سکون دے رہے تھے
“‘ کیا مطلب ہے تمہارا گھر “‘ یہ میرے شوہر کا گھر ہے میرا گھر “‘
وہ اپنی کیفیت پر بمشکل قابو پاتی ہوئی اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہوئی بولی تھی جسے سن کر حفصہ کا قہقہ پورے لاؤنج میں گونج اٹھا تھا جس پر رباب نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا
ایک تو اسے حفصہ کی اسفند کے گھر میں موجودگی ہضم نہیں ہو رہی تھی دوسرا اسکی بات پر اسکا اس طرح سے ہنسنا رباب کو تیش دلا گیا تھا
“‘ تمہاری میموری بہت ویک ہے رباب یا تمھیں بھولنے کی عادت خیر کوئی بات نہیں میں تمھیں یاد دلا دیتی ہوں “‘
وہ اپنی بات کہتی عین اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی تھی اس وقت دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کے لئے نفرت تھی جسے دونوں میں سے کسی نے بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی
“‘ یہ گھر تمہارا تھا اب نہیں ہے اور اسی طرح اسفند تمہارا شوہر تھا اور اب نہیں ہے اسلئے اب تمہارا اس گھر پر اور اسفند پر کوئی حق نہیں ہے “‘
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہوئی بول رہی تھی اسکے منہ سے نکلے لفظ رباب کے اندر کے غصّے کو مزید بڑھا رہے تھے
“‘ اگر یہ گھر میرا نہیں ہے تو تمہارا بھی نہیں ہے جب اسفند آئے گا تو وہ تمھیں بھی اس گھر میں ایک لمحے کے لئے بھی کھڑا نہیں ہونے دیگا “‘
وہ اس بار چہرے پر عجیب سے مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
وہ اب تک حفصہ اور اسفند کے نکاح کی بات سے بے خبر تھی اسلئے اپنی غلطفہمی میں خوش ہو رہی تھی
“‘ تم آج تک اسی غلطفہمی میں مبتلا ہو رباب کی تم اسفند کی زندگی سے مجھے نکال چکی ہو کوئی بات نہیں تمہاری آج یہ غلطفہمی بھی دور ہو جائے گی آنے دو اسفند کو پھر دیکھ لینا وہ کس کو اس گھر سے باہر نکالتا ہے اور کس کو نہیں “‘
حفصہ اس بار کھل کر مسکرائی تھی
چھ سال پہلے وہ جیت کر بھی ہار گئی تھی اور دوسری طرف وہ تھی جس نے صبر کیا تھا اور آج وہ ہار کر بھی جیت گئی تھی
“‘ کیا مطلب ہے تمہارا کس غلطفہمی کی بات کر رہی ہو تم “‘
ابکہ بار حفصہ کی باتوں سے اسے تفتیش ہوئی تھی کچھ تو تھا جو اسے معلوم نہیں تھا حفصہ کا لہجہ اسکا انداز اسے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس رہا تھا جس سے وہ اب تک بے خبر ہے
“‘ مطلب یہ کہ تمہارے چاہنے سے کچھ نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا کیونکہ ہوگا وہی جو اللّه کو منظور ہوگا اور دیکھو چھ سال پہلے تم نے مجھے اسفند کی زندگی سے نکالا تھا اور آج چھ سال بعد میں اسکی بیوی کی حثیت سے تمہارے سامنے موجود ہوں “‘
حفصہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہو گئی تھی مگر رباب کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے محسوس ہو رہے تھے اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا
اتنا سب کچھ ہو گیا تھا اور اسے خبر کیسے نہیں ہوئی
“‘ نہیں ۔۔۔۔ یہ۔۔یہ جھوٹ ہے تم جھوٹ بول رہی ہو ایسا کیسے ممکن ہے وہ تم سے شادی نہیں کر سکتا “‘
وہ بےیقینی سے اسکو دیکھ رہی تھی وہ حفصہ کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اسکے چہرے پر لکھی سچائی اسے یہ قابول کرنے پر مجبور کر رہی تھی
اسفند نے ھاد کی کسٹڈی کے لئے جس سے نکاح کیا تھا وہ لڑکی کوئی اور نہیں حفصہ تھی
“‘ ایسا ہو چکا ہے رباب زمان شاہ تمہاری وجہ سے میں اسفند سے الگ ہوئی اور آج تمہاری ہی وجہ سے میں اس سے پھر سے مل گئی مجبوری میں ہی صحیح مگر وہ مجھ سے رشتہ جوڑ چکا ہے “‘
وہ اپنے سینے پر دونوں ہاتھ باندھے اسے تک رہی تھی جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو ہی دیکھ رہی تھی اس وقت اسکے اندر کیا طوفان چل رہا ہے حفصہ بہت اچھے سے سمجھتی تھی
اسکی یہ حالت دیکھ کر اسے اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
“” وہ تم سے رشتہ تو جوڑ چکا ہے مگر یاد رکھنا وہ تمہاری بات پر کبھی یقین نہیں کرے گا اسلئے زیادہ خوش مت ہو تم کبھی اسفند کی محبت کو حاصل نہیں کر پاؤ گی”‘
وہ اپنی حالت پر قابو پاتی زہرخند لہجے میں بولی اگر وہ خوش نہیں تھی تو وہ کسی کو بھی خوش نہیں ہونے دیگی یہ اس نے سوچ لیا تھا
“‘ مجھے میرے اللّه پر یقین ہے جس نے میرا یہاں تک ساتھ دیا ہے وہ آگے بھی میری اسی طرح مدد کرے گا اور رہی بات تمہاری تو پلز تم اب میرے گھر سے چلی جاؤ میرے شوہر آنے والے ہونگے اور یقیناً انہیں تمہاری یہاں موجودگی پسند نہیں آئے گی “‘
وہ اس انداز میں بولی کہ رباب کے پورے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی وہ یہاں کھڑے رہ کر اس لڑکی سے اپنی بےعزتی نہیں کروا سکتی تھی جسے وہ اپنے بات کرنے کے قابل بھی نہیں سمجھتی تھی اسلئے وہ ایک نفرت بھری نظر حفصہ پر ڈالتی تیزی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی
