55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


💥💥
(چھ سال پہلے ) (_ماضی )
اسکے روم کا دروازہ یکدم سے دہاڑ کی آواز کے ساتھ تھا وہ جو آئنے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لے رہی تھی گردن موڑ کر دیکھا تو مصطفیٰ کو دروازے میں کھڑا پاکر وہ حیران ہوئی تھی
“‘ بھائی آپ یوں اچانک یہاں سب خیریت تو ہے نہ “‘
وہ ایک لمحے کے لئے مصطفیٰ کی لہو رنگ آنکھیں دیکھ کر گھبرا تو گئی تھی مگر فورا سنبھال کر اسکے قریب آئی تھی
جو شعلہ بار نظروں سے کھڑا اسکو گھور رہا تھا جو رباب کے لئے اچھی خبر نہیں تھی
“‘ کیا ہوا بھائی آپ ایسے کیوں دیکھ “‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی چٹاخ کی آواز کمرے کی خاموشی میں گونج اٹھی تھی
وہ حیرانی اور بےیقینی کی کیفیت میں رخسار پر ہاتھ رکھے اپنے سامنے کھڑے مصطفیٰ کو دیکھ تھی جو کھا جانے والی نظروں سے اسکو گھور رہا تھا
‘ ” بھائی آپ نے مجھے پر ہاتھ اٹھایا مگر ک۔۔ “‘
اس بار بھی اسکا جملہ دوسرے تھپڑ کی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا
اور اس بار کا تھپڑ اتنی زور کا تھا کہ رباب کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
وہ آنکھوں میں پانی لئے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی جسکا غصّہ دو تھپڑ مارنے کے بعد بھی کم نہیں ہوا تھا
“‘ بھائی میں نے آخر ایسا کیا کیا ہے کہ آپ میری کوئی بات سنے بغیر مجھے پر ہاتھ اٹھا دیا “‘
اس بار غصّے کی وجہ سے چیخ اٹھی تھی اسکی تو یہ بات برداشت کے باہر تھی کہ اسکے بھائی نے پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا تھا
“‘ تم جو کر چکی ہو نا رباب اسکے آگے یہ دو تھپڑ کچھ بھی نہیں ہے میرا بس چلتا تو میں تمہارا قتل کر دیتا “‘
وہ غصّے سے اپنی مٹھی سختی سے بھینچتا ہوا بولا ورنہ اسے لگ رہا تھا کہ اسکا ہاتھ پھر سے اٹھ جائے گا اور وہ یہاں اسفند کے گھر کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا
“‘ میں نے ایسا کیا دیا بھائی جو آپ نے مجھے مارنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچا “‘
وہ اپنا رخسار سہلاتی ہوئی بولی جتنی طاقت لگا کر مصطفیٰ نے اسے تھپڑ مارا تھا رباب کو پورا یقین تھا کہ اسکا بھاری ہاتھ اسکے نازک رخسار پر اپنا نشان چھوڑ چکا ہوگا
“‘ ایک لڑکی کی عزت برباد کرکے تم مجھ سے پوچھ رہی ہو تم نے کیا کیا ہے تمھیں کیا لگتا ہے رباب مجھے خبر نہیں لگے گی تم کتنا بڑا کام کر چکی ہو “”
وہ غصّے میں پھر سے اسکی جانب بڑھا مگر اسکا غصّہ دیکھ کر رباب ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی
آج صبح جب وہ اپنے کام کے سلسلے سے باہر جا رہا جب اپنے آدمی کے منہ سے رباب کا نام سن کر اسکے قدم اپنی جگہ تھم سے گئے تھے
اسے تفتیش ہوئی تھی اسلئے وہ مزید سننے کے لئے وہاں رک گیا حورین کا گارڈ اسکے دو آدمیوں کو کچھ رقم دے رہا تھا جو رباب نے انہیں بھیجی تھی
رباب انہیں کس کام کے لئے اتنی رقم دے رہی تھی بس یہی جاننے کے لئے وہ اس حال میں داخل ہوا تھا وہ لوگ پہلے تو اسے دیکھ کر گھبرا گئے تھے مگر وہ بھی مصطفیٰ زمان شاہ تھا اس سے کچھ بھی چھپانا ان لوگوں کے لئے ناممکن تھا اسلئے وہ لوگ اپنی جان بخشوانے کے لئے سب کچھ اسے بتاتے چلے گئے تھے سب جان لینے کے بعد وہ غصّے میں کھولتا اسکے پاس آیا تھا
مصطفیٰ کو شاید کبھی خبر ہی نہیں ہوتی کہ اسکی بہن کیا کر چکی ہے اگر آج وہ ان لوگوں کی باتیں نہ سن لیتا
“‘ بھائی آپ کیا کہہ رہے ہیں میں کچھ سمجھی نہیں آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں “‘
مصطفیٰ کے منہ سے یہ سب سن کر رباب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی اسکے تو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسکے بھائی کو اس سب کی خبر لگ جائے گی اسلئے انجان بنتی ہوئی بولی تھی
“‘ چلو اگر تمھیں یاد نہیں ہے تو میں یاد دلا دتا ہوں میں حفصہ کی بات کر رہا ہوں اس لڑکی کی جس سے اسفند محبت کرتا تھا جسے اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے تم نے کڈنیپ کرا کر اسکی عزت برباد کر دی اسے یہ ملک جھوڑنے پر مجبور کر دیا “‘
“‘ میں اس لڑکی کی بات کر رہا ہوں رباب کچھ یاد آیا تمھیں “‘۔
اس نے اپنی آواز آہستہ ہی رکھی ہوئی تھی مگر اسکا لہجہ اسکی غصّے کی وجہ سے تنی ہوئی رگیں صاف طور پر واضح ہو رہی تھی جو اسکے شدید غصّے میں ہونے کا پتا دے رہی تھی
“‘ میں نے کچھ غلط نہیں کیا بھائی اپنی محبت کو پانے کے لئے مجھے جو صحیح لگا میں نے وہ کیا ہے “‘
وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے الٹا خود کو صحیح ثابت کر رہی تھی
اسکے جواب سے مصطفیٰ کو بہت دکھ ہوا تھا اسے لگا تھا کہ شاید وہ کہہ دے اس نے نہیں کیا یا اس سے غلطی ہوئی مگر وہ شرمندہ ہونے کے بجائے ایسے بول رہی تھی جیسے اس نے جو کچھ کیا تھا وہ غلط نہیں ہے
“‘ اگر تمھیں ایسا لگتا ہے کہ تم نے جو کیا صحیح کیا تو پھر اب میں بھی وہی کرونگا جو مجھے صحیح لگتا ہے”‘
مصطفیٰ کو اپنی بہن سے ہرگز ایسی امید نہیں تھی اسے اس وقت بہت افسوس ہو رہا تھا کہ اسکی بہن کی وجہ سے اسفند اپنی محبت سے دور تھا
“‘ کیا مطلب آپ کیا کریں گیں “‘
مصطفیٰ کی بات پر رباب کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی تھی
“‘ میں ابھی اور اسی وقت اسفند کو جاکر سب سچ بتا دونگا کہ تم اسکے ساتھ کیا کر چکی ہو اسکے بعد وہ کوئی بھی فیصلہ لے تمھیں اسے قبول کرنا ہوگا “‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا رباب کا سکون برباد کر گیا تھا اسکے وہم گمان میں بھی اپنے بھائی سے ایسی امید نہیں تھی
“‘ نہیں بھائی آپ اپنی بہن کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے سب حقیقت جاننے کے بعد اسفند کا کیا فیصلہ ہوگا آپ اچھی طرح جانتے ہیں “‘
وہ پریشانی سے اپنی بھائی کی جانب بڑھی تھی آنکھوں میں یکدم جھوٹے آنسوں آ گئے تھے
“‘ تمہارے یہ آنسوں مجھے نہیں روک سکتے رباب میں پہلے انکی وجہ سے ایک غلطی کر چکا ہوں لیکن اب نہیں “‘
وہ بےدردی سے اس سے اپنا ہاتھ چھوڑتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا تھا
“‘ بھائی میں پریگنینٹ ہوں اگر آپ نے اسفند کو سچ بتا دیا تو وہ مجھے چھوڑ دیگا “‘
رباب نے اپنی ایک آخری چال چلی تھی اور اسکی بات سن کر مصطفیٰ کے دروازے کی طرف بڑھتے قدم رک گئے تھے
جب سے اسے یہ معلوم ہوا تو وہ تب سے ہی ناخوش تھی کیونکہ وہ ابھی ماں بننے کے لئے تیار نہیں تھی اس لئے اس نے سوچا تھا بغیر کسی کو خبر دئے وہ اسے ختم کر دیگی مگر اسے مصطفیٰ کو روکنے کے لئے ایک یہ ہی راستہ ملا تھا شاید بچے کا سن کر وہ اسفند کو کچھ نہ بتائے
“‘ آپ اس بار میرے بارے میں نہ صحیح کم از کم اس بچے کے بارے میں سوچیں “‘
وہ اسکو التجائی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی مگر مصطفیٰ اب اسکے اصل چہرے سے اچھی طرح واقف ہو چکا تھا
“‘ تمہارے پاس دو راستے ہیں رباب یا تو تم خود جاکر اسفند کو سب سچ بتا دو “‘
وہ اپنی بات کہتا ایک لمحے کے لئے رکا تھا
“‘ یا تم اس بچے کی پیدائش کے بعد بچا اسفند کو دیکر اسکی زندگی سے ہمیشہ کے لئے چلی جاؤ بغیر اسے اپنے جانے کی وجہ بتائے بغیر تاکہ وہ ساری زندگی تم سے یہ سوچ کر نفرت کرے کہ تم اسے اور اسکے بچے کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر چلی گئی “‘
وہ سخت لہجے میں بولتا رباب کی طرف بڑھا تھا
“‘ اگر میں ان میں ایک بھی نہ کرو تو “‘۔
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی تھی اسکی یہ حرکت مصطفیٰ کے غصّے کو مزید بڑھا گئی تھی
“‘ تو میں خود جاکر اسفند کو سب سچ بتا دونگا اسکا بعد پتا ہے کیا ہوگا وہ تمھیں تو طلاق دیگا ہی اس بچے اور تم سے نفرت کرے گا اسلئے اس معصوم کی زندگی خراب کرنے سے بہتر ہے تم اسے خود ہی چھوڑ کر چلی جاؤ کیونکہ تم جیسی لڑکی اسفند کے ساتھ رہنے کے لائق نہیں ہے “‘
مصطفیٰ یہ صرف اس بچے کے لئے کر رہا تھا اسے ڈر تھا رباب کی حرکت کی وجہ سے وہ اس بچے کو اپنانے سے انکار نہ کر دے
“‘ بھائی ہوکر آپ اپنی بہن کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں “‘
وہ بےیقینی سے اسے دیکھتی ہوئی بولی جس نے اسکے سامنے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا
“‘ شکر کرو ایک بھائی ہونے کی وجہ سے میں اسے کچھ نہیں بتا رہا اسلئے تم چپ چاپ اسکی زندگی سے چلی جاؤ اس میں تمہاری بہتری ہے “‘
مصطفیٰ کی بات پر رباب صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی تھی کیونکہ اسکی خاموش رہنے میں ہی بھلائی تھی
💥💥
“‘ نہیں اسفند تم لوگوں کو یہاں آنے کی ضرورت نہیں ہے حور بلکل ٹھیک ہے بس بےہوش گولی بس اسے چھو کر گزری تھی “
مصطفیٰ روم میں ادھر سے ادھر ٹہلتا فون پر بات کر رہا تھا اسکی آواز ہی تھی جس سے حورین کی آنکھ کھلی تھی
فون کان سے لگائے وہ اسکے بیڈ کے سامنے کھڑا تھا اسکی پشت حورین کی جانب تھی اسلئے وہ اسے ہوش میں آتا ہوا دیکھ نہیں پایا تھا
“‘ نہیں زیادہ پریشان ہونے والی بات نہیں ہے ویسے بھی ڈاکٹر نے کہا ہے میں اسے شام تک گھر بھی لے جا سکتا ہوں “‘
وہ اپنی بات کہتا جیسے ہی اسکی جانب پلٹا تو حورین کو ہوش میں آتا دیکھ اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا
“‘ اسفند میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں حور ہو ہوش آ گیا ہے “‘
وہ کال کٹ کرتا بےچینی سے اسکی جانب بڑھا اور حورین نے لیٹے ہوئے مکمل اسکا جائزہ لیا تھا وہ اسی دن والی شرٹ میں مبلوس تھا آستین کہنی تک فولڈ کی ہوئی تھی
بکھرے بال ۔۔
چہرے پر تھکن تھی جس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ ایک لمحے کے لئے بھی سکون سے نہ رہا ہو
“‘ خدا کا شکر ہے حورین تمھیں ہوش آ گیا میں تو ڈر ہی گیا تھا “‘
وہ اسکے بیڈ کے قریب ہی رکھی چیئر پر بیٹھتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا اور حور کا سائیڈ پر رکھا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام چکا تھا
“‘ اگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کرتا کبھی بھی نہیں “‘
وہ بےچینی سے بولتا حور کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگا کر جبجا اپنے نرم گرم لبوں کا لمس اسکے ٹھنڈے ہاتھوں پر چھوڑ رہا تھا
اسکی اتنی شدّت پر حورین کی پلکیں نم ہوئی تھی وہ بس ایک ٹک اسکو تک رہی تھی جو اب اسکے ہاتھوں کو کسی قیمتی چیز کی طرح اپنے لبوں سے چھو کر اپنے چہرے سے لگا رہا تھا
“‘ کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو زیادہ تکلیف ہو رہی ہے تمھیں “‘
حور کی سسکی جب مصطفیٰ کے سماعت سے ٹکرائی تو وہ اپنا چہرہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھا بےچینی سے پوچھتا اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام چکا تھا
“‘ آپکو تو خوش ہونا چاہئے تھا اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو آپکو مجھ سے اور اس رشتے سے آزادی مل جاتی “‘
وہ اپنے شانے پر ہوتی تکلیف کو برداشت کرتی نم لہجے میں بولی
ایک آنسوں ٹوٹ کر اسکے بالوں میں جذب ہوا تھا
“‘ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسلئے فالتو کی باتیں سوچ کر اپنے دماغ پر زور مت ڈالو “‘
اسکا لہجہ سخت ہوا تھا ساتھ ہی اسکے چہرے پر اسکی پکڑ سخت ہوئی تھی مگر وہ اسے کوئی تکلیف نہیں دے رہا تھا
“‘ یہ فالتو کی باتیں نہیں ہے مصطفیٰ انھیں باتوں کی وجہ سے ہم دونوں خوش نہیں رہ پا رہے ہیں اچھا ہوتا وہ گولی مجھے صرف چھو کر نہ گزرتی اور ہم دونوں کی مشکل آسان ہو جاتی “‘
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہمّت سے بول رہی
کیونکہ یہ درد اس درد سے زیادہ تھا جو وہ پچھلے دنوں اسکی بےرخی اسکے دوری کی وجہ سے برداشت کر رہی تھی
اپنے شانے میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو وہ مکمل نظرانداز کے ہوئے وہ بول رہی تھی اس بات سے بےخبر کی اسکی باتیں مصطفیٰ کے غصّے کو بڑھا رہی تھی جو وہ مشکل سے ضبط کئے ہوئے
“‘ خاموش ہو جاؤ حور بلکل خاموش اب میں مزید ایک اور لفظ برداشت نہیں کرونگا “‘
وہ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے سختی سے اپنی آنکھیں بند کرتا اپنی پیشانی اسکی پیشانی پر رکھ کر گہرے گہرے سانس لے رہا تھا جیسے اپنے اندر اٹھتے طوفان کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
“‘ تم نہیں جانتی حور میں کل سے اب تک کس حالت سے گزرا ہوں تمھیں اس حال میں دیکھ کر میں ہزار موت مرا ہوں “‘
وہ اپنی آنکھیں بند کئے اس لمحے کو بھولنے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ بےسدھ خون سے لتپت اسکی باہوں میں تھی
وہ لمحہ اسکے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھا
“‘ مصطفیٰ کیا آپکو کبھی بھی مجھ سے محبت نہیں ہوئی “”
حورین نے اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو ابھی بھی اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکائے اسکے چہرے پر جھکا اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے کھڑا تھا
حورین نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے کو نرمی سے چھوا تھا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کے وہ حقیقت میں اسکے اتنے قریب کھڑا ہے اور یہ کوئی خواب نہیں ہے
مصطفیٰ جو اپنی آنکھیں بند کئے کھڑا اسکو محسوس کرکے خود کو یہ یقین دلا رہا تھا کہ وہ بلکل صحیح سلامت اسکے پاس ہے حورین کی بات اور اسکے ہاتھ کا لمس اپنے رخسار پر محسوس کر کے اس نے یکدم اپنی کھول کر دیکھا جو آنکھوں میں پانی لئے اسے ہی تک رہی تھی
“‘ آپ میری اتنی فکر کرتے ہیں میرے لئے اتنا پریشان رہتے ہیں اس سب کے باوجود بھی کبھی آپکو مجھ سے محبت نہیں ہوئی “‘
وہ پھر سے اپنا سوال دوہرا رہی تھی
اور مصطفیٰ اسکے سوال پر یکدم اس سے دور ہوا تھا جس سے حورین کے آنسوں میں مزید رونی آ گئی تھی
“‘ جن سوالوں کے جواب سے تمھیں ہوگی ان سوالوں کو کرکے مزید خود کو اذیت مت دو “‘
وہ بےتاثر چہرہ لئے اسکی طرف دیکھ رہا تھا حور کے آنسوں اسے تڑپا رہے تھے مگر وہ خود پر ضبط کئے پتھر بنا کھڑا اسکو دیکھتا رہا
“‘ میرے سوال کا جواب مجھے جب تک نہیں ملے گا میں تب تک سوال کرتی رہوں گی “‘
وہ بھی ضدی لہجے میں بولی تھی
آج وہ صاف صاف جان لینا چاہتی تھی آخر مصطفیٰ کے دل میں اسکے لئے کیا ہے
اسکے چہرے اسکے ہر انداز سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے مگر وہ لفظوں میں کہتا ہوا جانے کیوں ڈرتا تھا
“‘ میں آج آپ سے آخری بار پوچھ رہی ہوں مصطفیٰ اگر آپکے دل میں میرے لئے محبت ہے تو میرا ہاتھ تھام لیجئے “‘
وہ بھیگے لہجے میں کہتی آنکھوں میں امید لئے اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھایا تھا
“‘ اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے ہیں تو آپ ابھی اسی وقت یہاں سے چلے جائے کیونکہ اس وقت میں اس شخص کا ساتھ چاہتی ہوں جو مجھ سے محبت کرتا ہو نہ کہ اپنی زمہ داری نبھا رہا ہو “‘
اس نے اپنی نظریں دروازے کی طرف کرتے ہوئے کہا جبکہ اسکا ہاتھ ابھی بھی اسکی جانب بڑھا ہوا
وہ منتظر نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی جو کبھی اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھتا تو کبھی اسکے چہرے کی طرف
“‘ اگر تم ایسا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے “‘
وہ اپنی بات کہتا ایک قدم آگے بڑھا جو حور کے چہرے پر ایک خوشی کی چمک لے آیا تھا مگر اگلے ہی لمحے وہ پلٹا تھا
“‘ میں جا رہا ہوں اگر میری ضرورت ہو تو ایک آواز دے دینا میں آ جاؤں گا “‘
وہ اپنی بات کہتا وہاں رکا نہیں تھا اپنے بھاری قدموں میں اسکا دل روندتا ہوا اس روم سے نکل گیا
حورین بھیگی پلکوں سے اسکو دور جاتا ہوا دیکھتی رہی تھی
💥💥
وہ گنگناتی اپنی اور اسفند کی وارڑراب صحیح کر رہی تھی آج اسکا موڈ کافی خشگوار تھا اور اسکے اس اچھے موڈ کی وجہ اسکی ماں تھی جن سے آج اسکی بات ہوئی تھی
ان سے بات کر کے حفصہ مطمئن ہوئی اس نے اپنی ماں کو سب بتا دیا تھا رخسار بیگم پہلے تو اسکے نکاح کا سن کر پریشان ہوئی تھی مگر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ اسکا نکاح اسفند سے ہوا ہے تو انکے اندر ایک سکون سے اتر گیا تھا کیونکہ وہ حفصہ کی محبت سے واقف تھی
اسکے دل پہ جو بوجھ تھا وہ آج اپنی ماں سے بات کرکے ہلکا محسوس کر رہی تھی بس اب اسے اسفند کو سب بتانا تھا جس وجہ سے وہ آج تک اس سے اتنی نفرت کرتا آ رہا تھا
وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ بےوفا نہیں مجبور تھی
وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتی تھی جب رباب کے آزاد کرنے کے بعد وہ گھر آئی اس نے اپنے باپ بھائی کو سچ بتانے کی کوشش کی مگر کسی نے اسکی نہ سنی صرف اسکی ماں کو اس پہ اعتبار تھا پر اس گھر میں اسکی ماں کی کون سنتا تھا
اسکی وجہ سے اسکے ساتھ ساتھ اسکے باپ کی عزت خراب ہوئی تھی اسلئے ابراھیم خان نے لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لئے اسے باہر بھیج دیا اس بیچ اس نے اسفند سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی
اسکے پاس اپنے باپ کی بات ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا
پانچ سال وہ اپنی ماں اپنے گھر سے دور رہی اور پھر جب اسکے باپ نے اسے واپس بلایا تو وہ کتنا خوش ہوئی تھی مگر جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اسکے باپ نے شمس سے اسکا نکاح کرانے کے لئے واپس بلایا تھا تو اسکی خوشی مزید نہ رہ سکی تھی
وہ اس شخص سے کیسے نکاح کر سکتی تھی جس نے رباب کے ساتھ مل کر اسکے ساتھ یہ سب کیا تھا اسلئے وہ وہاں سے بھاگ آئی تھی
اسکا اور اسفند کا ملنا قسمت میں لکھا تھا اسلئے آج وہ اس گھر میں اسکی بیوی کی حثیت سے موجود تھی
اسکی سوچوں کا سلسلہ تب ٹوٹا جب اسکی نظر وارڑراب میں موجود لاکڈ خانے پر پڑی وہ اکثر اسے لاکڈ ہی دیکھتی تھی
“‘ اسکی چابی کہاں ہو سکتی ہے “‘
جانے کیوں آج اسے اس لاکڈ خانے کو کھولنا چاہا تھا وہ دیکھنا چاہتی تھی آخر اس میں ایسا کیا تھا جس وجہ سے اسفند اس لاکڈ رکھتا تھا
وہ اسفند کی سائیڈ میں اسکی چابی تلاش کرنے لگی اور قسمت سے وہ اسے دوسرے دراز میں مل ہی گئی تھی
اس نے جلدی سے چابی اس دراز میں لگا کر اسکا لاک کھولا تھا دل اندر سے اسفند کے آ جانے سے ڈر بھی رہا تھا
اس نے اپنا خشک حلق تر کرتے ہوئے دراز کھولا مگر اس میں رکھی چیزے دیکھ کر وہ اپنی جگہ کھڑی ہی رہ گئی تھی
اس دراز میں اسکی تصویر تھی اور کچھ چیزے جو وہ اسفند کو گفٹ کر چکی تھی
وہ چہرے پر حیرانے اور بےیقینی کے تاثرات لئے ان چیزوں کو اٹھا کر دیکھنے لگی
اس نے اب تک اسکی اور حفصہ کی یادوں کو سنبھال کر رکھا ہوا اسکا مطلب صاف تھا اسکے دل میں آج بھی حفصہ کے لئے جذبات تھے وہ اس سے کبھی نفرت کر ہی نہیں پایا اگر کرتا تو اسکی چیزیں یوں اس طرح کسی قیمتی چیز کی طرح سنبھال کر نہ رکھتا
“‘ تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میری پرسنل چیزوں کو ہاتھ لگانے کی اور کس کی اجازت سے تم نے اس دراز کو کھولا “‘
وہ جو نم آنکھوں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی اسفند کی بھاری اور سرد آواز پر وہ اسکی جانب پلٹی تھی جو قہر برساتی نظروں سے اسے گھور رہا تھا
“‘ تم نے آج تک میری دی ہوئی چیزوں کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے مجھ سے اتنی کرنے کے باوجود تم اس بات سے انکار کیوں کرتے ہو “‘
وہ اسکے لہجے اور اسکے سوال کو نظرانداز کرتی ہوئی وارڑراب بند کرکے ہاتھ میں وہ سب سامان لئے اسکی جانب بڑھی تھی
“‘ یہ سب میں نے اسلئے سنبھال کر رکھی ہوئی ہے کیونکہ یہ مجھے تمہارے دئے ہوئے دکھ کو یاد کراتی ہے یہ مجھے یہ یاد کرواتی ہے کہ تم بےوفا تھی دھوکےباز تھی “‘
وہ جھٹنے کے انداز میں اس سے سب سامان لیتا ان سب کو بیڈ پر پھینکتا ہوا غرایا تھا
وہ اسکے سامنے یہ کبھی قبول نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اسکی یادوں سے کبھی پیچھا نہیں چھوڑا سکا تھا ان سب کو دیکھ کر اسے تکلیف بھی ہوتی تھی مگر کہیں نہ کہیں سکون بھی ملتا تھا
“‘ میں بےوفا نہیں تھی اسفند اور نہ ہوں میں بس اس وقت مجبور تھی بےبس تھی “‘
وہ بھی اسکی کے انداز میں چیخی تھی
اسفند کے پاس اسکی دی ہوئی چیزیں دیکھ کر اسے لگ رہا تھا اسفند آج بھی اس سے محبت کرتا ہے اور اگر وہ اسے سب بتا دے تو شاید وہ اسکا یقین بھی کر لے
“‘ ایسی کون سی مجبوری آ گئی تھی تمھیں جو تمھیں مجھے چھوڑ کر اس شمس سے منگنی کرنی پڑی اور اسکے بعد چپ چاپ ملک بھی چھوڑ کر چلی گئی اپنی بےوفائی کو مجبوری کو نام مت دو حفصہ بیگم میں کوئی بچہ نہیں ہوں “‘
وہ تلخی سے کہتا سختی سے اسکا بازو دبوچ کر اسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا
اسکی پکڑ میں اتنی سختی تھی کہ حفصہ کے منہ سے سسکی سی نکلی تھی
“‘ یہ جھوٹ ہے میری شمس سے کبھی منگنی نہیں ہوئی “‘
وہ اپنے بازو میں اٹھتی درد کی ٹیسوں کو نظرانداز کرتی بامشکل بول پائی اور اسکی آنکھوں میں دیکھا جو چہرے پہ سخت تاثرات لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“‘ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے تم اور کتنے جھوٹ بولو گی حفصہ کہہ دو کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ تمہارا نکاح شمس سے نہیں ہو رہا تھا “‘
اب اب اسکا دوسرا بازو بھی سختی سے اپنی گرفت میں لیتا ہوا بولا تھا
وہ کافی وقت سے یہ جاننے میں لگا ہوا تھا کہ اسکا نکاح کس سے ہو رہا تھا اور جب اسے معلوم ہوا تو یہ سچ سن کر اسکی غصّے سے رگیں تن گئیں تھی مگر اسکی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی تھی آخر وہ اس نکاح سے بھاگ کر کیوں آئی تھی
“‘ کیا ہوا خاموش کیوں ہو گئی بول دو یہ بھی جھوٹ ہے “‘۔
وہ اسکی خاموشی پر طنزیہ مسکرایا تھا
“‘ ویسے مجھے حیرانی نہیں ہوئی یہ جان کر کہ تم اسے بھی نکاح والے دن چھوڑ کر بھاگ آئی جانتی ہو کیوں ؟ “‘
وہ ایک لمحے کے رکا جیسے کچھ سوچ رہا ہو
“‘ کیونکہ تمہاری تو عادت ہے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کا ہاتھ تھام نے کی مگر بدقسمتی سے تمہارا راستہ پھر سے میرے پاس آکر رک گیا “‘
اسکے زہر خند لہجے پر حفصہ نے تڑپ کر اسکی طرف دیکھا اور اپنی پوری طاقت لگا کر اس سے اپنے آپ آزاد کروایا تھا
“‘ ہاں میں بھاگی تھی اپنے نکاح سے کیونکہ میں اس شخص سے مر کر بھی نکاح نہیں کر سکتی تھی جس نے میرا کڈنیپ کروا کر میری عزت میری زندگی برباد کر دی صرف مجھے حاصل کرنے کے لئے “”
وہ چیختی ہوئی ایک سانس میں بولتی چلی گئی تھی
اس وقت اسکا پورا بدن لرز رہا تھا آنکھوں سے آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے
جبکہ اتنے بڑے انشفاک پر اسفند بےیقینی سی کیفیت میں کھڑا اسکو دیکھتا رہ گیا تھا
“‘ چھ سال پہلے ہمیں الگ کرنے کے لئے بہت بڑا کھیل کھیلا گیا تھا اسفند “‘
وہ کانپتی ہوئی آواز میں اسے اس سچ سے آگاہ کر رہی تھی جو اب تک اس سے چھپا ہوا تھا
“‘ بس حفصہ خاموش ہو جاؤ تمھیں کیا لگتا ہے کہ پانچ سال بعد تم میرے سامنے آ جاؤگی اور کچھ بھی بولوگی میں اس پر یقین کر لونگا “‘
وہ انگلی اٹھا کر اسکو خاموش رہنے کا اشارہ کرتا ہوا بولا جبکہ آنکھیں اس وقت قہر برسا رہی تھی
اس وقت وہ اسکی باتوں سے بلکل الجھ سا گیا تھا
“‘نہیں اسفند تمھیں سننا ہوگا کیونکہ اس کھیل میں شمس اکیلا نہیں تھا کوئی اور بھی اسکے ساتھ شامل تھا اور جانتے ہو وہ کون تھا”‘
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اسکے قریب ہوئی تھی
اسفند کی بےاعتباری سے اسے دکھ تو ہوا تھا مگر وہ اب مزید خاموش نہیں رہنا چاہتی تھی
“‘ اور وہ شخص اور کوئی نہیں رباب تھی اس نے اور شمس نے ساتھ مل کر یہ سب کیا تھا “‘
وہ آہستہ سے بولتی مزید اسکے قریب ہوئی مگر اگلے ہی لمحے اسکا بازو پھر سے اسفند کی گرفت میں تھا
“‘ بس بہت ہو گیا حفصہ اب ایک لفظ اور نہیں میں کیسے یقین کر لوں تم جو کچھ بھی کہہ رہی ہو سچ ہے “‘
وہ سخت نظروں سے اسکو گھورتا ہوا بولا تھا
اسکا دل کہہ رہا تھا وہ اسکی بات پر یقین کر لے مگر دماغ انکاری تھا
“‘ اسلئے میں آج تک تم سے سچ کہتے ہوئے ڈرتی تھی اسفند پر ایک بار میری آنکھوں میں دیکھو کیا تمھیں لگتا ہے کہ میں اتنا بڑا جھوٹ بول سکتی ہوں اگر مجھے شمس سے شادی کرنی ہوتی تو میں نکاح والے دن کیوں بھاگتی “‘
وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بول رہی تھی جبکہ اسکی آنکھوں میں سچائی دیکھ کر ایک لمحے کے لئے اسفند کو اسکی بات پر یقین سا آیا تھا مگر اگلے ہی لمحے وہ جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑ کر اس سے دور ہوا تھا اور بغیر اسے کچھ بھی کہے کمرے سے نکل گیا
اسے لگ رہا تھا اگر وہ کچھ دیر اور وہاں رکتا تو وہ حفصہ کی بات پر یقین کر لیتا مگر وہ اتنی آسانی سے وہ تکلیف کیسے بھول سکتا تھا جو وہ سہہ چکا تھا
اسے سب سے پہلے اس بات کا پتا لگانا تھا کہ وہ جو کہہ رہی تھی وہ سچ تھا یا نہیں
💥💥
“‘یہاں میرے سامنے نظریں نیچے کر کے کھڑے ہونے سے میرا غصّہ کم نہیں ہوگا کریم ”
” ایک کام بس ایک کام دیا تھا میں نے تمھیں لیکن وہ بھی تم صحیح سے نہیں کر پائے “‘
وہ اپنے خاص آدمی کریم کو سخت نظروں سے گھورتا ہوا غصّے سے بولا تھا
اگر اس وقت اسکا کوئی اور آدمی ہوتا تو وہ اپنی آخری سانسیں گن رہا ہوتا مگر سامنے کھڑا شخص اسکے لئے خاص تھا
زندگی کے ہر برے وقت میں وہ اسکے ساتھ رہتا تھا اسلئے وہ چاہ کر بھی اس پر اپنا غصّے نکال نہیں سکتا تھا
“‘ میں نے سب سے اچھے شوٹر کو ہائیر کیا تھا مگر جانے کیسے اسکا نشانہ چوک گیا “‘
کریم اپنی پیشانی مسلتا ہوا پریشانی سے بولا یہ تو اسکی بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا اسکے شوٹر سے غلطی کیسے ہو گئی تھی
”’ اور اب کہاں ہے تمہارا وہ سب سے بیسٹ پولیس کی نظروں سے اسکو بچا کر رکھو مجھے کوئی گڑبڑ نہیں چاہئے “‘
خان نے اسے یاد دلانا ضروری سمجھا تھا یقیناً اس حادثے کے بعد پولیس بھی اس میں انولو ہو گئی ہوگی اور وہ اس میں پھسنا نہیں چاہتا تھا
“‘ کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی خان کیونکہ جس سے تمھیں خطرہ ہے میں اسکو ہی ختم کر چکا ہوں “‘
اسکے آفس روم میں آتی اس انجانی آواز پر خان کے ساتھ کریم نے بھی پلٹ کر دیکھا تو مصطفیٰ کو دروازے میں کھڑا پایا جو ماتھے پہ لاتاداد شکنے لئے ان دونوں کو کھڑا گھور رہا تھا
“‘ کیا ہوا مجھے یہاں دیکھ کر حیران ہو گئے “‘
وہ ان دونوں کو اپنی جانب حیرانی سے دیکھتا ہوا پاکر طنزیہ انداز میں بولتا اسکے آفس میں داخل ہو چکا تھا
“‘ تمہاری ہمّت کیسی ہوئی یہاں آنے کی اور کس نے اجازت دی تمھیں اندر آنے کی “‘
خان اپنی حیرانی پہ قابو پاتے ہوئے سخت لہجے میں بولا
اتنے سال میں یہ پہلی بار تھا جب مصطفیٰ زمان شاہ اسکے آفس میں اسکے سامنے موجود تھا
“‘ ہمّت کی تم بات کر رہے ہو تو تمھیں بتا دیتا ہوں کہ ابھی میں تمہارے اس آدمی کو موت کی نیند سلا کر آیا ہوں جس نے میری حور کو تکلیف دی “‘
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا غرایا تھا
“‘ اور رہی اجازت کی بات تو مصطفیٰ زمان کو تم سے ملنے کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے “‘
وہ اپنی آنکھیں اس پر گاڑے ہوئے بولا جو خطرناک حد تک سرخ ہو رہی تھی
“‘ تم کس آدمی کی بات کر رہے ہو میں سمجھا نہیں”‘
خان اپنے لہجے کو نارمل کرتا ہوا بولا وہ کچھ بھی کہہ کر بات خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
“‘ میں کس آدمی کی بات کر رہا ہوں تم اچھے سے جانتے ہو میں بس تمھیں یہاں وارننگ دینے آیا ہوں اگر آئندہ تم نے حور کو تکلیف دینے کی کوشش کی تو تمہارا وہ حال کرونگا کہ زندگی بھر یاد رکھو گے “‘
وہ اپنی بات کہتا دروازے کی جانب بڑھا پھر کچھ سوچ کر خان کی طرف پلٹا جو سخت نظروں سے اسکو گھور رہا تھا
“‘ حورین سے دور رہو کیونکہ تمہاری بہتری اسی میں ہے ورنہ میں تمہارا وہ حال کرونگا کہ تم میرے قہر سے پناہ مانگو گے ابراھیم خان میری یہ بات یاد رکھنا””
وہ اپنی بات کہتا وہاں رکا نہیں تھا جبکہ اسکے جانے کے بعد ابراھیم خان نے سختی سے اپنے سامنے موجود ٹیبل پر پنچ مارا تھا
مصطفیٰ کی اسکے آفس میں موجودگی سے ظاہر ہو گیا تھا کہ وہ اس بات سے واقف تھا کہ حور کی جان کا دشمن اور کوئی نہیں ابراھیم خان تھا اسکا تایا
“‘ اس مصطفیٰ کا کچھ کرنا ہوگا کریم ورنہ یہ ہمارے راستے کی مشکل بنا رہے گا “‘
وہ ابھی بھی اس دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے مصطفیٰ نکلا تھا
انکے بیچ اب چوہے بلی کا کھیل ختم ہو چکا تھا
“‘ اگر حور کو ختم کرنا ہے تو ہمیں اسے مصطفیٰ سے دور کرنا ہوگا خان “‘
کریم اپنے مالک کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو اس وقت غصّے میں کھول رہا تھا
“‘ ہاں صحیح کہا اور میں یہ اچھے سے جانتا ہوں کہ حورین کو مصطفیٰ سے کس طرح دور کیا جائے “‘
کریم کی بات سن کر ابراھیم کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی تھی جسے دیکھ کر اسکے ساتھ کھڑا کریم بھی مسکرا دیا
💥💥
(جاری ہے )
کیسی لگی قسط لائک اور کمنٹ لازمی کریں اور پوسٹ کو شیئر لازمی کریں
نیست انشاءلله جلدی پوسٹ ہوگی