Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“‘ تم لوگوں کو ایک کام دیا تھا میں نے اور کل سے تم لوگوں سے وہ کام نہیں ہوا ایک لڑکی کو ڈھونڈھ نہیں پائے تم لوگ “‘
ابراھیم خان کی گرجدار آواز پورے خان ولا میں گونجی تھی انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے کھڑے اپنے آدمی کا قتل ہی کر دیتا
“‘ خان ہم نے سب جگہ تلاش کر لیا پر بی بی جی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے ابھی میرے اور بھی آدمی انکی تلاش میں لگے ہوئے ہیں “‘
وہ ابراھیم خان کا خاص آدمی تھا اس لئے اسکے سامنے بولنے کی ہمّت کر گیا ورنہ باقی تو خاموشی سے سر جھکائے کھڑے ہوئے تھے کسی میں اپنے مالک کے سامنے بولنے کی گستاخی نہیں کی تھی
“‘ کچھ بھی کرو رحیم پتہ لگاؤ مجھے کسی بھی قیمت پر حفصہ یہاں موجود چاہیے واپس میری نظروں کے سامنے ورنہ تم لوگ اپنی خیر منانا”‘
ابراھیم خان غصّے سے اپنی مٹھی بھینچتا ہوا بولا کل سے انکی یہی حالت تھی کل رات سے وہ ایک لمحہ بھی سکون سے بیٹھے نہیں تھے اور کیسے بیٹھتے انکی بیٹی جو انکا سکون اپنے ساتھ لے گئی تھی
“‘ تم انکے ساتھ کچھ کرو یا نہ کرو ابراھیم پر اگر یہ لوگ حفصہ کو تلاش نہیں کر پائے تو ان لوگوں کو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا اس لئے ان لوگوں کی بہتری اسی میں ہے کہ یہ لوگ اپنا کام اچھے سے کریں”‘
کب سے اپنے غصّے کو خاموشی سے ضبط کرتا شمس خان اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہی غرایا تھا
آج دوسری بار حفصہ نے اسکو ٹھکرایا تھا اسکو اتنے لوگوں کے سامنے ذلیل کیا تھا
وہ اسکا سالوں سے خواہشمند تھا اور اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے ابراھیم خان اور اسکی کمپنی کو اس مقام پر لاکر کھڑا کر دیا کہ وہ اسکے پرپوزل کو انکار کر ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ابراھیم خان کے لئے دولت اپنی اولاد کی خوشی سے زیادہ معنے رکھتی تھی
اسکو بےصبری سے اس لمحے کا انتظار تھا جب وہ اس لڑکی کا گھمنڈ مٹی میں ملا دیتا جس گھمنڈ سے اس نے پہلی بار شمس کو ٹھکرایا تھا مگر ایک بار پھر وہ اسکی تذلیل کرکے اسکے ہاتھ سے نکل گئی تھی
“‘ شمس تم فکر نہ کرو میں اسکو ڈھونڈھ لونگا اور تمہارے سامنے لاکر کھڑا کرونگا بس مجھے وقت دو”‘
ہارون اسکے غصّے کو دیکھتے ہوئے بہت آرام سے بولا جتنا غصّہ اسکے باپ کو حفصہ کے نکاح سے بھاگ جانے پر تھا اس سے کئی زیادہ اسکو تھا
“‘ فکر مجھے نہیں تمھیں کرنی چاہیے ہارون ابراھیم خان تمہاری بہن کے بھاگ جانے سے نقصان تمہارا ہوگا میرا نہیں “‘
چہرے پر ایک مغرور سی مسکراہٹ لئے وہ طنزیہ انداز میں بولا تھا
جبکہ اسکی بات پر ابراھیم خان پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا کچھ سالوں سے انکی کمپنی کو بہت نقصان ہو رہا تھا
شمس کا حفصہ کے لئے آیا پرپوزل انہونے فوراً قبول کر لئے یہ جاننے کے باوجود بھی کہ اسکی معشرے میں اسکی عزت کتنی خراب تھی وہ ایک عئیاش قسم کا آدمی تھی
پر ابراھیم خان کے لئے اگر دنیا میں کچھ عزیز تھا وہ اپنی کمپنی اور نام جس کے لئے وہ اپنی بیٹی زندگی کے بارے میں بھی نہیں سوچ رہا تھا
“‘ ویسے تم گھبراؤ مت میں اپنی ہونے والی بیوی کو کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑنے والا اتنی بےعزتی کے بعد تو بلکل نہیں اگر حفصہ ابراھیم خان کا نکاح ہوگا تو صرف شمس خان سے “‘
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا اس کمرے میں موجود ہر فرد کی طرف دیکھتا ہوا بولا اسکے لہجے اور انداز میں سے چنگاریاں نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
جبکہ اسکی بات پر کمرے کے ایک کونے میں کھڑی رخسار بیگم نے افسوس بھری نظر اپنے بیٹے اور شوہر پر ڈالی انکے لئے حفصہ کی خوشی اسکے آنسو اتنے معنے نہیں رکھتے تھے جتنا اس نکاح سے ملنے والا فائدہ
اب انکو حفصہ کو یہاں سے بھگانے کا کوئی افسوس نہیں ہو رہا تھا اور انکے لئے یہ بات بھی سکون کا بائس بنی تھی کہ ابراھیم کو ان پر کوئی شک نہیں ہوا اس طرف سے وہ بلکل مطمین ہو چکی تھی
وہ لوگ مزید بھی کچھ بول رہے تھے مگر رخسار بیگم سے وہاں رکا نہیں گیا وہ اپنی سسکی دباتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی
انکی بیٹی ان لوگوں سے دور تھی یہی انکے لئے کافی تھا
💥💥💥
“‘ حورین ۔۔حوریننننن”‘
وہ غصّے میں دندناتا گھر میں داخل ہوا اس وقت اسکی گرزدار آواز پورے شاہ ہاؤس میں گونج رہی تھی
“‘ حورین باہر آؤ فورا اس طرح چھپنے سے تم مجھ سے بچ نہیں سکتی “‘
وہ سیڑھیاں چڑھتا اپر اسکے کمرے کی جانب بڑھا جانتا تھا اس وقت وہ کمرے میں ہی موجود ہوگی
“‘ مصطفیٰ رک جاؤ اس وقت تم بہت غصّے میں ہو اور وہ بھی ڈری ہوئی ہے اس وقت اس سے بات کرنا صحیح نہیں ہوگا “‘
داؤد حسن کی آواز پر اسکے تیزی سے بڑھتے قدم رکے تھے
“‘ یہ جاننے کے باوجود کہ میں اس وقت کہاں اور کیا کر کے آ رہا ہوں تم مجھے کیسے روک سکتے ہو “‘
وہ انکی جانب پلٹتا ہوا گویا ہوا اگر اس وقت داؤد کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اسکی بات نہیں سنتا پر سامنے کھڑا شخص اسکی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا تھا اسکے لئے وہ اسکی ماں باپ دونوں تھے
“‘ میں سب جانتا ہوں پر تم اسکی حالت دیکھو جب سے اسکو معلوم ہوا کہ اسکے یونی سے نکلنے کی خبر تمھیں لگ چکی ہے تو اسکا رو رو کر برا حال ہو گیا اس وقت وہ بہت ڈری ہوئی ہے اور تم سے خوفزدہ بھی ہے “‘
داؤد حسن بہت راسان سے اسکو سمجھا رہے تھے پر اسکا غصّہ ابھی کم ہونے والا نہیں تھا
“‘ اگر اس لڑکی کی یہی حرکتیں رہیں نہ تو ایک دن یہ لڑکی کسی اور کے نہیں میرے ہی ہاتھوں فنا ہو جائے گی “‘
اس نے حورین کے کمرے کے دروازے کے ہینڈل کو سختی سے پکڑا تھا
“‘ اگر اسے معلوم ہو جائے تم یہ سب اسکے لئے کیوں کر رہے ہو تو وہ کبھی ایسی حرکت نہیں کرے گی اس لئے آرام سے بات کرنا ‘”
وہ اسکو مزید ھدایت دیتے وہاں سے چلے گئے تو اسکا غصّہ پھر سے بڑھ گیا اس نے سختی سے اسکے کمرے کا دروازہ بجایا تھا
“‘ حورین دروازہ کھولو مجھے معلوم ہے تم مجھے سن رہی ہو “‘
اسکی آواز میں پھر سے سختی آئی تھی پر اندر سے کوئی جواب وصول نہیں ہوا تو اس سے پھر سے دروازہ بجايا تھا
“‘ تمھیں کیا لگتا ہے کہ یہ بےجان دروازہ مجھے تم تک پہنچنے سے روک سکتا ہے”‘
حورین جو خاموشی سے کھڑی دروازے کو دیکھ رہی تھی اس بار بند درواز ے کے دوسری طرف سے آتی اسکی سرد آواز پر وہ جی جان سے کانپ گئی تھی ڈھڑکنے پہلے سے بھی زیادہ تیز ہو گئی
اس وقت اسکو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میلوں کا سفر طے کرکے آئی ہو
“‘ اگر تم ایسا سوچتی ہو تو یہ تمہاری بہت بڑی بھول ہے اس لئے دروازہ کھولو ورنہ مجھے اپنا طریقہ آتا ہے اسے کھولنے کے لئے””
اس بار اسکی آواز کے ساتھ ساتھ اسکا لہجہ بہت سخت ہوا تھا اور اسکے لہجے کی سختی سے دروازے سے لگی کھڑی حورین کو اپنی ٹانگو سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
وہ جانتی تھی کہ غلطی اسنے کی تھی پر وہ اس وقت اپنی ملنے والی سزا سے ڈر رہی تھی اور ڈرتی بھی کیوں نہ دروازے کے اس پار کھڑا وہ ہارٹ آف سٹون اپنی ایک غصیلی نظر سے اسکی روح تک فنا کر سکتا تھا
“‘ اللّه میں اب کیا کروں پلز کسی کو میری مدد کے لئے بھیج دو پلز “”
وہ اپنی نازک انگلیوں کو موڑتی واشروم کی جانب بڑھی تھی جانتی تھی کہ یہ دروازہ کسی بھی وقت کھل سکتا تھا اور وہ اس وقت اسکے سامنے آنے سے خوفزدہ تھی جو خطرناک حد تک غصّے میں لگ رہا تھا
ابھی اسنے قدم بڑھایا ہی تھا کہ دھاڑ کی آواز پر اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اسنے گھبرا کر مڑ کر دیکھا تو اسکے قدم اپنی ہی جگہ جم گئے تھے
سامنے ہی وہ کھڑا تھا قہرآلود نظروں سے اسکو گھورتا
غصّے کی وجہ سے آنکھیں حد درجہ لال ہو چکی تھی اور دروازہ پوری طاقت لگا کر کھولنے کی وجہ سے وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا جبکہ دونوں ہاتھوں کی سختی سے مٹھی بھینچے وہ اپنا غصّہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا
“” دیکھیں ۔۔۔مے ۔۔میری ۔۔کو۔۔کوئی ۔۔غل۔غلطی۔۔ن۔۔نہیں۔۔۔وو۔۔وہ۔۔۔مجھ۔۔ میں نے بہت منع بھی کیا تھا”
اسکو اپنے قریب بڑھتا دیکھ وہ بمشکل اپنی بات مکمل کر پائی تھی جبکہ وہ اسکی وضاحت کو نظرانداز کرتا آہستہ آھستہ اسکی جانب بڑھ رہا تھا
“” لیکن پھر بھی تم گئی یہ جاننے کے باوجود کے تم غلطی کر رہی ہو اور تمہاری اس غلطی کی تمھیں سزا مل سکتی ہے “‘
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا اسکے نزدیک جا رہا تھا اور وہ ڈر خوف کی وجہ سے اپنے قدم پیچھے کی جانب بڑھا رہی تھی
“‘ پلز معاف کر دیں می۔۔مجھے میں نہیں جانا چاہ رہی تھی پر۔۔۔”‘
اسکے پاس جیسے لفظ ختم ہو گئے تھے اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے
مگر جب اسکی کمر واشروم کے دروازے سے ٹکڑائی تو وہ اپنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتی ہوئی بولی نگاہیں ادھر ادھر اپنے بچنے کی کوئی راہ تلاش کر رہی تھی جبکہ وہ اسکی ایک ایک حرکت کو نوٹ کرتا اسکے نازک وجود کے ارد گرد بازو رکھتا اسکی فرار کی راہ بند کر چکا تھا
اس وقت اسکو اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھ کر اسکو کتنا سکون ملا تھا یہ وہی جانتا تھا اگر آج اسکو ذرا سی چوٹ بھی لگ جاتی تو وہ نہ جانے وہ کیا کر بیٹھتا
“‘ اگر آج تمہاری بیوقوفی کی وجہ سے تمھیں کچھ ہو جاتا یا تم کسی مشکل میں پڑتی تو “‘
وہ اپنی بات کہتا ایک لمہے کے لیے رکا اور اسکے ڈر سے زرد پڑتے چہرے کو غور سے دیکھا
“‘ تو تمہاری قسم آج تمہارا وہ حال کرتا کہ تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔۔ ۔۔کوئی بھی نہیں”‘
اسکے لہجے میں واضع وارننگ تھی جبکہ اسکا آخری جملہ سن کر اس نازک لڑکی کا حلق تک خشک پڑ گیا تھا
وہ اسکو سخت نظروں سے گھورتا مزید اسکے قریب ہوا اب دونون کے درمیان فاصلہ کافی کم رہ گیا تھا
جبکہ اسکی اس قدر قربت پر اس معصوم کا دل بری طرح دھڑکنے لگا خوف کی جگہ ایک عجیب سے احساس نے جگہ لے لی تھی
“‘ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔م۔۔میں وعدہ کرتی ہوں “‘
اسکی اتنی قربت سے وہ گھبرا رہی تھی اس سٹون مین کے آگے ہمیشہ ہی اسکی حالت ایسی ہی ہو جاتی تھی
“‘ میں آئندہ ایسی نوبت ہی نہیں آنے دونگا مائی لٹل پرنسیس”
اسکی کانپتی آواز سنکر وہ طنزیہ مسکرایا اور اس سے ایک انچ کے فاصلے پر آ روکا تھا جبکہ وہ ناسمجهی سے اسکی طرف دیکھنے لگی
“‘ کیا ۔۔کیا مطلب ہے آپکا “‘
اسکی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر کے اسے اپنے چہرے سے آگ سی نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
“‘ مطلب یہ کہ آج سے تمہارا یونی جانا بند تم گھر سے ہی پڑھائی کروگی اور ایک ہفتے کے لئے تم اس کمرے سے باہر نہیں نکل سکتی “‘
وہ اسکی پیشانی پر موجود نشان پر اپنی انگلی پھیرتا ہوا بولا اسکے اس خوبصورت چہرے پر یہ نشان اسکی وجہ سے ہی تھا
“‘ آپ۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے “‘
اسکی انگلی کا پرہدت لمس اپنی پیشانی پر محسوس کرکے اسکے پورے بدن میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی
“‘ میں بہت کچھ کر سکتا ہوں چاہوں تو تمھیں اس کمرے میں باندھ کر بھی رکھ سکتا ہوں تمام زندگی۔۔ اور تم کچھ نہیں کر سکتی “‘
وہ چہرے پر ایک دل جلانے والی مسکراہٹ لئے اس سے دور ہوا اور اسکی بات پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی
“‘ یہ تمہاری سزا ہے بغیر میری اجازت کے باہر جانے کی اور آگے کے لئے بھی میں نے سوچ لیا ہے”‘
وہ سخت نظروں سے اسکو گھورتا اسکے کمرے سے نکلتا چلا گیا اسکو ڈر تھا کہ اگر وہ مزید وہاں رکتا تو یقیناً وہ اسکو تکلیف پہنچا دیتا پر وہ اپنی حورین کو اپنے غصّے سے ہی نہیں بلکہ خود سے بھی بچا کر رکھنا چاہتا تھا
💥💥💥
“‘ ”‘ کیا ہوا ھادی بیٹا آج آپ اتنے خاموش کیوں ہیں آپکو یہاں آکر اچھا نہیں لگا ”
حیات صاحب نے کب سے خاموش بیٹھے اپنے جان سے بھی عزیز پوتے کی طرف دیکھ کر کہا جو آج کافی خاموش اور اداس لگ رہا تھا
“‘ ایسی بات نہیں ہے دادو مجھے اچھا لگتا ہے یہاں آکر “‘
اسکے معصوم سے جواب پر حیات خان کھل کر مسکرا دئے تھے
اس وقت وہ دونوں اپنے گھر کے قریب ہی پارک میں موجود تھے حیات صاحب اکثر شام کے وقت اسکے ساتھ یہاں واک کے لئے آتے تھے
“‘ اگر ایسی بات ہے تو آپ آج اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے بجائے یہاں ہمارے ساتھ کیوں بیٹھے ہیں “‘
انہونے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے بہت ہی محبت سے اسکی طرف دیکھا
آج اسکی گھری نیلی آنکھوں میں ایک اداسی سی تھی جو انکی نظرون سے چھپی نہ رہ سکی تھی
“‘ اپنے دوستوں کے ساتھ تو میں روز ہی کھیلتا ہوں آج میں اپنے پیارے سے دادو کے ساتھ بیٹھنا چاہتا ہوں “‘
اس بار اسکے جواب پر حیات خان کھل کر مسکرا دئے تھے اسکی باتیں سن کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ پانچ سال کا بچہ بات کر رہا ہے
پڑھائی میں زہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک سمجھدار بچہ تھا نین نقوش بلکل اپنے باپ جیسے تھے حیات صاحب نے دل ہی دل میں اسکی نظر اتاری تھی
“‘ اپنے دادو کے پاس بیٹھے ہو تو انہیں اپنی اداسی کی وجہ بھی بتا دو میری جان آپکا یہ اداس چہرہ دیکھ کر آپکے دادو کو بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے “‘
انہونے بہت ہی محبت سے اسکی پیشانی سے بکھرے بالوں کو ہٹایا تھا
“‘ دادو میں ڈیڈ سے ناراض ہوں انہونے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اس بار سینٹرل پارک لیکر جائے گے پر وہ اپنا وعدہ بھول گئے وہ اچھے ڈیڈ نہیں ہیں انہونے اپنا وعدہ توڑا ہے”‘
وہ ناراضگی سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اسکا انداز ایسا تھا جیسے وہ اپنے ڈیڈ کو ناراضگی دیکھ رہا ہو
“‘ اوہ تو یہ بات ہے آنے دو اپکے ڈیڈ کو گھر پھر دیکھنا میں کیسے انکے کان پکڑ کر کھینچتا ہوں ہمارے پوتے سے وعدہ توڑنے کی سزا ملے گی انہیں “‘
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے نزدیک آ کھڑے ہوئے
حیات صاحب اپنے بیٹے کی مصروفیت کو سمجھتے تھے پر اپنی اسی مصروفیت کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے سے بھی دور ہوتا جا ریا تھا پر انہیں اس بات کا بھی اندازہ تھا جتنا انکا بیٹا اپنے باپ کی توجہ کے لئے تڑپتا ہے انکے بیٹے کو بھی اس سے اتنی ہی محبت تھی بس وہ اپنے کام کی وجہ سے مجبور تھا
“‘ پر دادو جب ڈیڈ مجھ سے خفا ہوتے ہیں تو میں اداس ہو جاتا ہوں اگر آپ ان سے خفا ہوئے تو ڈیڈ بھی اداس ہو جائے گے اس لئے دادو آپ انہیں مت ڈانٹنا “‘
اسکی اس بات پر حیات صاحب کو اس پر بےپناہ پیار آیا تھا وہ جانتے تھے ھادی اپنے ڈیڈ کے لئے بہت حساس ہے وہ اپنے باپ کی ناراضگی اور اسے اداس بلکل نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے فورا ہی اسکی حمایت میں بول پڑا تھا
“‘ چلو اگر تم کہتے ہو تو میں تمہارے ڈیڈ کے کان نہیں کھینچوں گا اب تو خوش ہو نا تم ‘”
انہونے بہت ہی محبت سے اسکے ننھے ننھے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر دبایا تھا
“‘ اچھا چلو مجھے اب یہ بتاؤ کہ تمہارے اس اداس چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لئے میں کیا کروں “‘
وہ اسکا ہاتھ تھام کر پارک کے باہری گیٹ کی طرف بڑھے تھے
“‘ آپکو کچھ نہیں کرنا ہے بس مجھے آئسکریم کھلا دیں اور ڈیڈ کو معلوم نہیں ہونا چاہیے ورنہ تو آپ جانتے ہی ہے”‘
وہ روڈ کے دوسری جانب موجود آئس کریم شاپ کی طرف دیکھ کر بولا اتنے وقت میں پہلی بار اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی اور حیات صاحب اسکے چہرے کی یہ مسکراہٹ چھیننا نہیں چاہتے تھے اس لئے اسکی طرف دیکھ کر مسکرا دئے اور انکی اجازت ملتے ہی وہ تیزی سے ہاتھ چھوڑا کر اس شاپ کی طرف بھاگا تھا
“‘ ھادی بیٹا بھاگو مت تمھیں چوٹ لگ جائے گی”‘
اسکی تیزی پر وہ پریشانی سے بولے شام کا وقت تھا روڈ پر کافی تیزی سے کار آ جارہی تھی حیات صاحب تیزی سے اسکی طرف بڑھ رہے تھے جب انکی نظر سامنے سے آتی ایک تیز کار کی طرف پڑی جو ھادی کی طرف بڑھ رہی تھی
“‘ ھادی بیٹا سامنے دیکھو “‘
پل میں حیات صاحب کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہورہا تھا انکے قدموں میں مزید تیزی آ گئی مگر وہ کار انکے قدموں سے بھی تیز تھی لمحوں کا کھیل تھا
“‘ ھادی”‘
انکی چیخ تھی جو اس جگہ گونجی تھی
💥💥💥
”’ تو بتایا اس نے کچھ حورین کا پیچھا کرنے کے پیچھے اسکا کیا مقصد تھا “‘
اسفند اسکے برابر والے سنگل سوفہ پر بیٹھتا اس سےاستفسار کر رہا تھا جو نظریں سامنے دیوار پر لگی پینٹنگ پر گاڑے کسی گہری سوچ میں گم تھا اسفند کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آیا تھا
“‘ وہ حورین کے ہر لمحے کی خبر اس تک پہونچا رہا تھا اور اتنے دن تک میں بےخبر رہا اگر وہ اس تک پہنچ جاتا تو”‘
اس نے غصّے میں ایک زوردار پنچ اپنے سامنے رکھی ٹیبل پر مارا تھا آج اسکا غصّہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اتنی سکیورٹی رکھنے کے بعد بھی اس سے کہاں غلطی ہو گئی تھی
“‘ جب تک تم حورین کے ساتھ ہو کوئی اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا چوٹ پہونچانا تو دور کی بات ہے “‘
وہ اسکے مضبوط چوڑے کندھے کو تھپتھپا کر اسکا غصّہ کم کرنے کی اپنی ناکام سی کوشش کر رہا تھا
وہ اور مصطفیٰ بچپن کے دوست تھے جس طرح دونوں کے والد میں گہری دوستی تھی اسی طرح انکی دوستی بہت گہری تھی دونوں میں بلکل بھائیوں کی طرح محبت تھی وہ اسکے درندے والے روپ سے بھی اچھی طرح واقف تھا
“‘ اسکی حفاظت کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں اسفند چاہے اسکے لئے مجھے اسکو گھر میں بند کرکے ہی کیوں نہ رکھنا پڑے”‘
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنی اندر کی بےچینی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا
“‘ تمھیں مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے تم حورین کی حفاظت کے لئے کس حد تک جا سکتے ہو میں اس سے اچھی طرح واقف ہوں'”
وہ ایک نظر اپنے دوست پر ڈالتا ہوا بولا
وہ اتنے سالوں سے حورین کے لئے اسکی فکر دیکھتا آ رہا تھا وہ اسکے لئے بہت پوزیسو تھا حورین اسکے لئے بھی بہت خاص تھی اس لئے اسکا اتنا غصّہ ہونا بھی جائز تھا
“‘ویسے مصطفیٰ حورین کے لیے تمہارا پوزیسو ہونا اچھی بات ہے پر تم کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی کر جاتے ہو یہ سوچے سمجھے بغیر کہ تمہارے رد عمل سے اس پر کیا اثر پڑتا ہوگا اسکی حفاظت کرتے کرتے ایک دن تم اسے خود سے دور کر دوگے یہ جاننے کے باوجود کہ حورین کا تمہارے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں ہے “‘
وہ ایک لمحے کے لئے رکا اور مصطفیٰ کے چہرے کی طرف دیکھا جسکے تاسرات بلکل سخت تھے جیسے وہ اندر اپنے آپ سے لڑ رہا ہو
“‘ اور اب تمہارے پاس بھی ایک وہ ہی باقی رہ گئی ہے اس لئے تم اسکا سہارا بنو اپنے قریب کرو اسکو”‘
وہ اسکو ادھر سے ادھر ٹہلتا ہوا دیکھ کر بولا اس نے حورین کے لئے جو فیصلہ لیا تھا اسے سن کر وہ خود بھی حیران ہوا تھا
”’ نہیں اسفند اسکی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ مجھ سے دور رہے میں جس آگ میں جل رہا ہوں وہ آگ اسے بھی جلا دیگی میری زندگی کے صرف دو ہی مقصد ہےحورین کی حفاظت اور اور اس آدمی کی بربادی جس کی وجہ سے میری پوری خوشیاں تباہ ہو گئی “‘
اس وقت اسکے چہرے کے تاسرات بہت سخت تھے اور اسفند بہت اچھے سے جانتا تھا اس وقت اسکے اندر کیا جنگ چل رہی تھی
“‘ ماضی میں جو ہوا ہے تم اسے بدل تو نہیں سکتے مصطفیٰ یہ ضروری نہیں آگے چل کر ویسا ہی ہو جیسا تم سوچ رہے ہو پر میں تمھیں بدلہ لینے سے نہیں روک رہا ہوں “‘
وہ اسکو ہر بار کی طرح اپنی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا
“‘جہاں تک مجھے لگتا ہے تم نے مجھے یہاں اپنی بات کرنے کے لئے بلایا تھا اگر تمھیں میرے بارے میں بات کرنی ہے تو اس وقت میرے پاس بلکل وقت نہیں ہے”‘
ہر بار کی طرح وہ آج بھی اس بات سے بچنے کے لئے وہ اپنی بات کہتا دروازے کی جانب بڑھا تھا
“‘ اس نے اپنے بیٹے کی کسٹڈی کے لئے کیس فائل کیا ہے “‘
ابھی اسکا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر ہی تھا جب اسفند کی بات پر مصطفیٰ تیزی سے اسکی جانب پلٹا تھا
“‘ کیا تمھیں اسکی واپسی کا معلوم ہے”‘
اسکو خاموشی سے کھڑا دیکھ کر اسفند مزید بولا تھا جانتا تھا وہ اب اپنی بات نہیں کریگا اس لئے اس نے مصطفیٰ کو یہاں بلانے کا مقصد بتایا تھا
“‘ نہیں ان گزرے پانچ سالوں میں اس نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا “‘
اب وہ اپنی پریشانی بھلا کر پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوا
“‘ اب تم کیا کروگے “‘
وہ اس سے بس اتنا ہی پوچھ پایا تھا مزید کچھ کہنے کی اس نے کوشش بھی نہیں کی
“‘ میری وکیل سے بات ہوئی ہے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا پر میں کسی بھی قیمت پر اسکو یہ کیس جتنے نہیں دونگا “‘
وہ اپنی بات کہتا ہوا مصطفیٰ کی طرف پلٹا تھا جو خاموشی سے کھڑا اسکو ہی دیکھ رہا تھا دونوں ہی ایک دوسرے کی خاموشی کو اچھی طرح سمجھتے تھے
“‘ ٹھیک ہے پھر جیسا بھی ہو مجھے انفارم کر دینا میں اب چلتا ہوں ایک ادھورا کام چھوڑ کر آیا تھا اسے پورا کرنے جانا ہے “‘
مصطفیٰ اس سے اجازت لیتا تیزی سے اسکے آفس سے نکلا تھا جبکہ اسفند کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا
وہ مصطفیٰ کی الجھن اور پریشانی سمجھتا تھا اسکے لئے یہ بہت مشکل تھا دو لوگوں میں سے کسی ایک کی سائیڈ لینا جب وہ دو لوگ اسکے اپنے اسکے لئے عزیز ہو۔۔۔ ایک طرف اسفند تھا تو دوسری طرف رباب
💥💥💥
(جاری ہے)
