55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

تھکا دینے والی بزنس پارٹی کے بعد وہ رات دیر سے گھر لوٹا تھا وہ جانا تو نہیں چاہتا تھا پر یہ پارٹی اسکے کمپنی کے لئے ضروری تھی اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی اسکو جانا پڑا
سب سے پہلے وہ ھادی کے کمرے میں آیا ایک نظر اسکے ننہے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی اسکو سوتا دیکھ کر ایک سکون اسکے اندر اترا تھا
پارٹی کے درمیان جب اس نے اپنے بابا کو فون کیا تو انہونے ھاد کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بارے میں اسکو بتا دیا وہ فورا ہی وہاں سے نکلنا چاہتا تھا پر نکل نہیں پایا تھا اسکے بیٹے کو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی یہ بات اسکے لئے سکون کا بائس بنی تھی
کچھ دیر یوں ہی کھاڑا اسکو دیکھتا رہا پھر پلٹ کر بھاری قدم اٹھاتا اپنے کمرے میں داخل ہوا
اس وقت اسکے کمرے میں نیم اندھیرا تھا اس نے لائٹ اون کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اپنا کوٹ بیڈ پر ڈال کر وہ واشروم میں جا گھسا
کچھ دیر بعد وہ فریش ہوکر واشروم سے نکلتا سیدھا بیڈ پر گرنے سی کے انداز میں آ لیٹا تھا
نرم ملائم بستر کا احساس ہوتے ہی تھکن کی وجہ سے اسکی پلکیں بھاری ہونے لگی تھی
گہری نیند میں جانے سے پہلے اس نے کروٹ بدلی ہی تھی کہ نیند میں ایک الگ سے احساس کہ تحت اسکے حواس جاگے تھے پر اسنے اپنی آنکھیں بند ہی رکھی تھی
اسے لگا کہ کوئی اسکے قریب ہے بہت ہی قریب وہ آنکھیں بند کئے تھوڑا اور قریب ہوا تو اپنے عقب سے آتی ایک دلفریب خوشبوں نے ابکہ بار اسکے حواس کو پوری طرح بےدار کیا تھا یکدم ہی اسکی بند آنکھوں کے پیچھے کسی کا چہرہ لہرایا تھا
اسے لگ رہا تھا نیند میں ہونے کی وجہ سے اسکا وہم ہے مگر اگلے ہی لمحے جب اسے اپنے سینے پر کیسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو اسکی آنکھیں یکدم سے کھلی تھی وہ بےدردی سے اس ہاتھ کو ہٹاتا ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا تھا
حفصہ جسکی ابھی آنکھ ہی لگی تھی بری طرح سے جھٹکا دینے پر اسکی آنکھ کھلی تھی اپنے قریب ہی کسی کو بیٹھا ہوا دیکھ کر خوف سے اسکی نیند یکدم ہی اڑی اس نے ڈر کر چیخ مارنی چاہی تھی پر وہ جیسے اسکا ارادہ بھانپ چکا تھا فورا ہی اسکے منہ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتا وہ اسکی چیخ کا گالا گھونٹ چکا تھا
“‘ کون ہو تم اور یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو میں تمہارے منہ پر سے ہاتھ ہٹا رہا ہوں بغیر شور کئے میری بات کا جواب دینا “‘
اس نے اپنی رعبدار آواز میں اس سے استفسار کیا تھا اگر وہ کوئی چور ہوتی تو اس طرح تو بلکل بھی سو نہیں رہی ہوتی
پر یہ لڑکی کون تھی اسکو تفتیش ہوئی تھی
دوسری طرف حفصہ جو خوف کے مارے کانپ رہی تھی سامنے والی کی آواز سن کر جیسے سکتے میں آ گئی تھی
یہ آواز لب لہجہ جسکو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی اتنے سال بعد یہ آواز سن کر وہ اپنی جگہ گنگ سی بیٹھی رہ گئی تھی
“‘ میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے کون ہو تم”‘
اسکی خاموشی پر اسفند اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے کی لائٹ اون کی
مگر اگلے ہی لمحے اسکی نظریں بیڈ پر بیٹھی ہستی پر پڑی تو وہ بھی اپنی جگہ سکت کھڑا رہ گیا تھا
دونوں ایک دوسرے کو بس خاموشی سے تکتے جا رہے تھے کتنے ہی لمحے یوں ہی خاموشی سے گزر گئے مگر دونوں کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلا تھا
وہ پورے 6 سال بعد اسے دیکھ رہا تھا اور ان گزرے سالوں میں کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جس میں اسفند یار خان نے اس لڑکی سے نفرت نہ کی ہو
ان گزرے سالوں میں وہ بلکل بھی نہیں بدلی تھی بلکہ اسکی خوبصورتی میں مزید نکھار آ گیا تھا
اسکی حیرانی سے کھلی بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں اسفند کو اپنا آپ ڈوبتا ہوا محسوس ہوا تھا اس نے فورا ہی خود کو ڈپٹا تھا
“‘ تم اس وقت میرے گھر اور میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو “‘
وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتا چہرے پر نگواری لئے اس سے پوچھ رہا تھا
اسکے پوچھے گئے سوال سے حفصہ کو اپنے اندر چلتے سوالوں کے جواب مل گئے تھے
یہ کوئی اتفاق نہیں تھا ھاد کا باپ اور کوئی نہیں اسکا اسفی تھا اسکی پہلی اور آخری محبت
“‘ تمہارے ڈیڈ کے اسرار پر میں یہاں رکی ہوں مجھے نہیں معلوم تھا یہ تمہارا گھر ہے اور ھاد تمہارا بیٹا “‘
اسنے آخری جملہ بہت مشکل سے ادا کیا اور ایک نظر اس پر ڈالی
بلیک ٹی شرٹ اور گرے ٹراؤزر میں اسکا کسرتی جسم نمایا تھا ان 6 سال میں اسکی شخصیت مزید نکھر گئی تھی وہ بغیر پلکیں جھپکائے بس اسکو تک رہی تھی
اور اسفند جو چہرے پر پتہر جیسی سختی لئے کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا حفصہ کے جواب پر جیسے اسکو ساری بات سمجھ آ گئی تھی اسکے بیٹے کی جان بچانے والی لڑکی اور کوئی نہیں حفصہ ہی تھی
“‘ عجیب بات ہے نہ تمہارے جیسے سنگدل اور لوگوں کو تکلیف دینے والے انسان بھی کسی کی جان بچا سکتے ہیں “‘
وہ تلخی سے کہتا مسکرایا جیسے اسکا مذاق اڑا رہا ہو جبکہ اسکے اس انداز اور حفصہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی وہ تڑپ کر اپنی جکہ سے اٹھی
“‘ میں نے کسی کو تکلیف نہیں دی “‘
وہ اپنے آنسوں بمشکل ضبط کرتی ہوئی بولی جبکہ اسکی بات پر اسفند زور سے ہنسا تھا اور پھر کتنی ہی دیر ہنستا ہی چلا گیا یہاں تک کہ اسکی آنکھ سے آنسوں ٹوٹ کر کارپیٹ میں جذب چکا تھا مگر اسکو خبر نہیں ہوئی تھی
“‘ صحیح کہا تم نے حفصہ تم کسی کو تکلیف نہیں دیتی سیدھا اسکا قتل کرتی ہو”‘
وہ لہو رنگ آنکھیں لئے اسکی طرف پلٹا تھا اتنے سالوں سے اسکے دل میں دبی نفرت اسکے سامنے آ جانے پر یکدم سے جیسے باہر نکل آئی تھی
حفصہ نے کتنی دعا کی تھی کہ اسکا کبھی اسفند سے سامنا نہ ہو مگر آج وہ اسکے کمرے میں اسکے سامنے موجود تھی
“‘ اسفی تم مجھ پر ایسے الزام نہیں”‘
ابھی اسکی بات مکمل نہیں ہو پائی تھی جب وہ بیچ میں انگلی کا اشارہ کر کے اسے روک چکا تھا
“‘ حفصہ ابراھیم خان تمہارے سامنے جو کھڑا ہے وہ اسفند یار خان ہے اسفی نہیں۔۔اس اسفی کا تم 6 سال پہلے قتل کر چکی ہو”‘
اسکے لہجے کی سرد مہری سے اسکا ننھا سا دل ٹوٹ سا گیا تھا
وہ اسکے اس لہجے کی عادی کہاں تھی پر سامنے کھڑا شخص بھی غلط نہیں تھا وہ اسی کا دیا ہوا درد اسکو لوٹا رہا تھا
وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی مگر انہیں بھی جیسے آج ضد سی ہو گئی تھی
“‘ تم نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہے اس لئے تم یہاں اب تک موجود ہو ورنہ میرا بس چلتا تو تمھیں یہاں ایک لمحے کے لئے بھی رکنے نہیں دیتا اس لئے تم اس کمرے سے چلی جاؤ میری نظروں سے دور “‘
اسکو مسلسل آنسوں بہاتا دیکھ کر وہ سنگدلی سے بولا تھا ہاتھ کی مٹھی بھینچی وہ جیسے اپنے غصّے کو ضبط کر رہا تھا
“‘ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ تمہارا گھر ہے تو میں خود یہاں نہ رکتی ویسے بھی میں کسی کی تکلیف کی وجہ نہیں بننا چاہتی”‘
وہ اپنی بات کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے اس روم سے نکلتی چلی گئی تھی
اسکے جانے کے بعد اسفند نے غصّے میں پاس رکھی ٹیبل پر ایک زوردار لات ماری تھی اور اس جگہ کو دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑی تھی
وہ دعا کر رہا تھا کہ یہ سب ایک خواب ہو اور وہ اس خواب سے جاگ جائے پر ایسا نہیں تھا اسکا تکلیف دہ ماضی اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا جسے بھولانے کی کوشش میں وہ آجتک ناکام رہا تھا
اسکی زندگی میں دو عورتیں آئی تھی اور دونوں نے اسے چھوڑا تھا
وہ رباب سے اتنی نفرت نہیں کرتا تھا جتنی نفرت اسے حفصہ سے تھی
کیونکہ حفصہ ابراھیم خان سے اسے شدید محبت تھی لکن اب وہ اس سے اتنی ہی نفرت کرتا تھا
💥💥
“‘ یہ میں کیا سن رہا ہوں تم جانے سے انکار کر رہی ہو”‘
وہ کسی آندھی طوفان کی طرح دندناتا ہوا اسکے کمرے میں داخل ہوا تھا
وہ جو بیڈ پر بیٹھی ڈر سے اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی کمرے کی خاموشی میں مصطفیٰ کی رعبدار آواز پر ڈر کے مارے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور خوفزدہ نظروں سے اسکو دیکھنے لگی جو ماتھے پر بل ڈالے اسکی طرف بڑھ رہا تھا
“‘ منہ میں زبان نہیں ہے کیا پوچھ رہا ہوں میں اپنے نا جانے کی وجہ بتانا پسند کروگی”‘
آج اسے حورین کو لیکر اس لڑکے سے ملنے جانا تھا جس سے وہ اسکا نکاح فکس کر چکا تھا پر اسکے انکار سے وہ غصّے میں کھولتا اسکے پاس آیا
ایک تو اسکا دماغ رباب کی حرکتوں کی وجہ سے پہلے ہی گھوما ہوا تھا اپر سے یہ لڑکی اسکے صبر کا امتحان لے رہی تھی
“‘ مجھے نہیں جانا آپکے ساتھ اور اس بار آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ہیں”‘
اس بار وہ اپنے ڈر کو پیچھے رکھ کر بےخوف ہوکر بولی تھی
جب داؤد صاحب نے اسے اسکے نکاح کے بارے میں بتایا تو وہ کتنے ہی لمحہ بولنے کے قابل نہیں رہی تھی وہ جانتی تھی مصطفیٰ اسکے لئے کتنا پوزیسو تھا پر اسکے تو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اسکی زندگی کا فیصلہ اتنی آسانی سے بغیر اسکی مرضی جانے لے لیگا
کل سے اسکا رو رو کر برا حال تھا اسکی سرخ آنکھیں اس بات کی گواہ تھی
“‘ اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں یہاں تمہاری مرضی جاننے آیا ہوں فورا تیار ہو جاکر ہمیں دیر ہو رہی ہے”‘
وہ اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر ایک لمحے کے لئے ٹھٹکا تھا پر چہرے کے تاثرات کو نارمل بناتے ہوئے فورا بولا
“‘ میں نے کہہ دیا ہے میں آپکے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگی اور نہ ہی یہ نکاح کرونگی سنا آپ نے۔۔ آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے “‘
اس بار وہ حلق کے بل چلاتے ہوئے بولی
زندگی میں پہلی بار اور شاید آخری بار وہ اسکے سامنے یوں مضبوطی سے بولی تھی کیونکہ وہ جن خونخار نظروں سے کھڑا اسکو گھور رہا تھا حورین کو َلگ رہا تھا کہ آج اسکا یہ شاید آخری دن ہوگا
“‘ یہ نکاح تو ہوگا حورین چاہے زبردستی ہی سہی”‘
وہ آنکھیں سکیڑتا اسکی جانب بڑھا آج اسکا رویہ دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا پر ظاہر نہیں ہونے دیا
“‘ آپکے ایک بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی میں یہ نکاح نہیں کرونگی بلکہ میں کسی سے بھی نکاح نہیں کرونگی سمجھے آپ “‘
وہ بہت مضبوط لہجے میں بولی تیز بولنے کی وجہ سے اسکا بدن دھیرے دھیرے لرج رہا رھا پر وہ آج خود کو کمزور نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی کم از کم آج کے دن تو بلکل بھی نہیں
“‘ کیوں نہیں کرنا تمھیں یہ نکاح “‘
وہ اپنے غصّے کو ضبط کرتا ہوا بولا مگر اسکے جواب پر حورین نے سختی سے اپنے لب بھینچ لئے تھے
“‘ میں کچھ پوچھ رہا ہوں حورین جواب دو مجھے کیوں نہیں کرنا نکاح “‘
اس بار دھاڑا تھا
اپنے غصّے کو زیادہ دیر ضبط کرنا اسکے بس میں نہیں تھا
“‘ کیونکہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں اور اگر میں نکاح کرونگی تو صرف آپ سے۔۔سنا آپ نے”‘
“‘ صرف آپ سے”‘
وہ اپنی نازک انگلی اسکے سینے پر رکھتی ہوئی چلائی تھی
وہ نہیں جانتی تھی کہ آج اس میں اتنی ہمّت کہاں سے آ گئی تھی
شاید اپنی اس محبت کے کھو جانے کا ڈر تھا جو وہ بچپن سے اس سے کرتی آ رہی تھی
اسے اچھی طرح یاد تھا اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا مصطفیٰ رباب اور داؤد صاحب کو ہی اپنے قریب پایا تھا اسکے والیدین کون تھے وہ نہیں جانتی تھی نہ ہی اس نے پوچھنے کی کبھی کوشش کی
اسے رباب سے بھی محبت تھی پر وہ حورین کو اسکی محبت کا جواب محبت سے نہیں دیتی تھی
جب تھوڑی سمجھدار ہوئی تو اسکو رباب نے ہی بتایا تھا کہ وہ مصطفیٰ کی بس ذمہداری ہے جسے وہ بخوبی نبھا رہا تھا اور بس تبھی سے اسکے دل میں مصطفیٰ کے لئے ایک الگ مقام بن گیا تھا
مصطفیٰ کا خود کے لئے پوزیسو ہونا ہمیشہ فکرمند رہنا کب اسکے دل میں محبت کے پھول کھلا گیا تھا اسے خبر بھی نہیں ہوئی
کہیں نہ کہیں اسکو بھی لگتا تھا کہ شاید مصطفیٰ بھی اسکے لئے جذبات رکھتا ہے مگر کل اسکی یہ آس ٹوٹ سی گئی تھی مگر اسنے بھی فیصلہ کر لیا تھا وہ اپنی محبت کو یوں کھونے نہیں دیگی اسکے لئے چاہے اسے سٹون مین کے آگے مضبوط ہی کیوں نہ بننا پڑے
وہ تو اپنی بات کہہ کر خاموش ہو گئی تھی مگر مصطفیٰ کتنی ہی دیر اسکو سکت نظروں سے دیکھتا رہا اسکے کبھی وہم گمان میں نہیں تھا کہ وہ اس لڑکی کے منہ سے یہ لفاظ سنے گا
“‘ تم جانتی بھی ہو کیا بکواس کر رہی ہو ” اور تمہارے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ بات آئی بھی کیسے”‘
وہ خود کو پوری طرح کمپوز کرتا بتاثرات چہرہ لئے سرد لہجے میں بولا تھا
مگر اس وقت اسکے اندر ایک جنگ سی چل رہی تھی
“‘ میں نے کوئی بکواس نہیں کی میں نکاح کرونگی تو صرف آپ سے یہ میرا آخری فیصلہ ہے”‘
وہ اٹل انداز میں بولی
آج اس لڑکی کا انداز لب لہجہ بلکل مختلف تھا مصطفیٰ کو یہ اپنی حورین کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی
“‘ تم میرے لئے سرف ایک ذمہداری ہو ایک وعدہ ہو تمہاری حفاظت کرنا تمھیں محفوظ رکھنا میرا فرض ہے اس سے آگے اور کچھ نہیں “‘
وہ سختی سے کہتا اپنے لب بھینچ گیا تھا
اسے آج بھی اچھے سے یاد ہے جب پندرہ سالہ بچےٰ نے تین سال کی حورین کو گود میں لیکر اسکی حفاظت کا وعدہ کیا تھا
اس نے یہ وعدہ کس سے کیا تھا وہ اسکو نہیں بتا سکتا تھا اگر وہ بتا دیتا تو اسکے بعد حورین کے جو سوال ہوتے ان سوالوں کے جواب وہ اسکو نہیں دے سکتا تھا شاید زندگی میں کبھی نہیں
“‘ اگر میری حفاظت آپکے لئے اتنی ضروری ہے تو آپ مجھے خود سے اتنی دور کیوں بھیج رہے ہے “‘
مصطفیٰ کے الفاظ سن کر اسکا دل ٹوٹ کر بکھرا تھا مگر وہ خود کو سنبھالتی پھر سے گویہ ہوئی تھی
“‘ کیونکہ اس میں تمہاری بہتری ہے”‘
وہ اسکی سرخ آنکھوں سے نظریں چراتا ہوا بولا اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی یہ سب اسکے لئے بھی مشکل تھا پر وہ اپنی کیفیت پر قابو رکھنے میں ماہر تھا
“‘ اگر آپکو ایسا لگتا ہے کہ میں اس بار آپکا حکم مان لونگی تو ایسا نہیں ہے میں آپکے علاوہ کسی سے نکاح نہیں کرونگی یہ میرا بھی آخری فیصلہ ہے”‘
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ضدی انداز میں بولی
مصطفیٰ کی گہری کالی آنکھوں نے سی گرین آنکھوں میں دیکھا جہاں اس وقت اسکا اپنا عکس صاف نظر آ رہا تھا اس نے گھبرا کر نظریں پھیر لی تھی
“‘ تو تم میری بھی بات سن لو نہ میں تم سے محبت کرتا ہوں نہ تم سے نکاح کا خواہشمند ہوں “‘
وہ سنگدلی سے کہتا جانے کے لیے پلٹا تھا
“‘ میں آپکو خود سے نکاح کرنے پر مجبور کر دونگی اور محبت بھی “‘
حورین کی بات سن کر دروازے کی طرف اسکے بڑھتے قدم رکے تھے
“‘ اپنے لفاظ سنبھال کر رکھو حورین کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن تم اپنے کہے لفاظوں پر پچھتاؤ”‘
اپنی بات کہتا وہ وہاں رکا نہیں تھا جبکہ پیچھے کھڑی حورین کتنی ہی دیر اسکی بات پر غور کرتی رہ گئی تھی
💥💥
“‘ اینجل یہ دیکھو میں نے کیا بنایا ہے اچھا ہے نہ “‘
حفصہ جو اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی ھادی کی آواز پر جیسے ہوش میں آئی تھی اور گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھا جو معصومیت سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا اسے یکدم ہی اس پر بےانتہا پیار آیا تھا اسے یہاں رہتے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس ایک ہفتے میں اس دن کے بعد اسکا اسفند سے سامنا نہ ہونے کے برابر ہی ہوا تھا
حفصہ تو اگلے دن ہی وہاں سے جا رہی تھی مگر حیات صاحب اسکے یوں اچانک جانے سے پریشان ہوئے تھے پر وہ انکو اپنے جانے کی اصل وجہ نہیں بتا سکتی تھی مگر اسکے منع کرنے کے باوجود وہ اور ھاد اسکو روک چکے تھے اسے انکی اتنی محبت کے آگے ہار ماننی ہی پڑی تھی
دوسرا وہ وہاں رکنے کے لئے مجبور بھی تھی
اس نے اس سچ کو بھی تسلیم کر لیا تھا کہ اسفند اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا تھا
وہ اسکے لئے رکتا بھی کیوں وہ اسکی زندگی سے اپنی واپسی کے سارے راستے بند جو کر کے جا چکی تھی
پر دل کے کسی کونے میں ایک چبھن سی تھی جو اسے سکون نہیں لینے دے رہی تھی
اسی بیچ ایک بات جو اسکو عجیب لگ رہی تھی وہ تھی ھادی کی ماں کی اس گھر میں غیر موجودگی کوئی بھی اسکے بارے میں بات نہیں کرتا یہاں تک کہ ھاد بھی پتہ نہیں ھاد کی ماں کون تھی یہ وہ ضرور جاننا چاہتی تھی
“‘ بتاؤ نہ اینجل کیسی بنی ہے”‘
اس نے اپنی ڈرائنگ پھر سے اسکے سامنے لہرائی تھی
“‘ ویل ڈن بیٹا بہت پیاری بنائی ہے آپ نے مجھ سے تو اتنی اچھی ڈرائنگ کرنی نہیں آتی”‘
وہ تعریفی انداز میں اسکی ڈرائنگ دیکھتی ہوئی بولی تھی
اس ایک ہفتے میں ھاد اسکے بہت قریب آ چکا تھا
“‘ میرے روم میں اور پیپر رکھے ہیں آپ لیکر آؤ اینجل میں آپکو سکھاتا ہوں کیسے ڈرائنگ کرتے ہیں”‘
اس وقت اسکو حکم دیتا وہ بلکل اسفند لگ رہا تھا حفصہ پھیکی ہنسی ہنستی وہا سے اٹھ کر اسکے کمرے کی جانب بڑھی جو اپر موجود تھا اسکے جاتے ہی ھادی پھر سے اپنے کام میں لگ گیا تھا جب اسے اپنے قریب کسی کا احساس ہوا تھا
“‘ اینجل تم آ گئیں “‘
وہ آنے والے کو دیکھے بغیر بولا تھا
“‘ ہاں میں آ گئی ہوں اپنے بیٹے کے پاس ہمیشہ کے لئے”‘
انجانی آواز پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر اسکے مسکراتے لب یکدم بھیچ گئے تھے جسے رباب نے فورا محسوس کیا تھا
“‘ میں آپکا بیٹا نہیں ہوں میں صرف اپنے ڈیڈ کا بیٹا ہوں”‘
وہ اسکی طرف ناگواری سے دیکھتا ہوا بولا
وہ اپنی ماں کو جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ وہ کیسے اسکو چھوڑ کر چلی گئی تھی
وہ ھاد کے دل میں اتنی نفرت ڈال چکا تھا کے وہ اب اسکی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا
اسکے چہرے پر ناگواری اور اس چھوٹے سے بچے کے سرد انداز پر رباب کے اندر غصّے کی ایک تیز لہر دوڈ گئی تھی
“‘ سن لیا تم نے تمہارا اپنا بیٹا تمھیں اپنی ماں نہیں سمجھتا تو پھر تم کس حق سے کسٹڈی کی مانگ کر رہی ہو “‘
وہ وہیں غصّے میں کھڑی کھول رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے اسفند کی آواز سنائی دی وہ جھٹکے میں اسکی طرف پلٹی تھی
اسفند اسکی آمد سے باخبر مصطفیٰ پہلے ہی اسے بتا چکا تھا اس لئے رباب کو یہاں دیکھ کر اسکو حیرانی نہیں ہوئی تھی
“‘ تمہارے یا ھاد کے نا ماننے سے حقیقت نہیں بدل جائے گی میں ھاد کی ماں میں ہی رہوں گی اور کورٹ بھی ایک ماں کو اسکے بیٹے سے الگ نہیں کریگی”‘۔
اس وقت اسکے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی جو اسفند کو بلکل بھی اچھی نہ لگی تھی
وہ آج بھی ایسی ہی جیسے پانچ سال پہلے تھی کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی تھی اس میں
“‘ تم دیکھ لینا ھاد کی کسٹڈی مجھے ہی ملے گی میں ھاد کو تم سے اتنی دور لے جاؤ گی کہ تم اسکی شکل دیکھنے کے لئے ترستے رہ جاؤ گے “‘
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکے رخسار کو چھونا چاہا پر وہ وہاں سے ہٹتا اپنے باپ کے پیچھے جا چھپا تھا
وہ اسکی ماں تھی پانچ سال بعد اسے دیکھ رہی تھی پر اسکے انداز اور لہجے میں کہیں سے بھی ماں کا پیار نظر نہیں آ رہا تھا اسکے لئے ضروری تھا تو صرف اسفند کو ہرانا
“‘ اور میں ایسا وقت آنے ہی نہیں دونگا رباب زمان شاہ تم خالی ہاتھ رہ جاؤگی یہ میرا وعدہ ہے تم سے”‘
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور اپنے پیچھے کھڑے ھاد کو اپنے بازو میں اٹھایا تھا
“‘ دیکھتے ہیں کس کی جیت ہوتی ہے تمہاری محبت کی یا میری ضد کی “‘
وہ ایک ادا سے اپنے بال سائیڈ پر کرتی ہوئی بولی اور اپنی آنکھوں کو گوگلز کے پیچھے چھپایا تھا
“‘ جلدی ملیں گے کورٹ میں “‘
وہ ایک نظر اسکی گود میں موجود ھاد پر ڈالتی ہوئی وہاں سے چلی گئی اسکی ہیلز کی ٹک ٹک کی آواز وہ کافی دیر کھڑا وہاں سنتا رہا تھا
سن تو حفصہ بھی رہی تھی جتنی خاموشی سے وہ یہاں آئی تھی اتنی ہی خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی تھی
رباب ھاد کی ماں ہے یہ سن کر وہ بلکل حیران نہیں ہوئی تھی اسے تو اسفند اور رباب کی طلاق والی بات نے حیران کیا تھا
رباب زمان شاہ جو اسفند کے لئے دیوانی تھی اسکی دیوانگی حفصہ بھی دیکھ چکی تھی اسکی دیوانگی کی وجہ سے وہ اس حال تھی جسکے لئے وہ اسکو کبھی معاف نہیں کر سکتی تھی
💥💥
“‘ میں کچھ نہیں سننا چاہتا سائم تم اس مسلے کا کوئی اور حل نکالو فورا “‘
وہ اپنے سامنے بیٹھے وکیل پر بھڑکا تھا ابھی دو دن پہلے اسکے آفس میں آکر اس نے کیس کو جیتنے کے لئے جو سلیوشن بتایا تھا اسے سن کر اسفند جیسے حتے سے ہی اکھڑ گیا تھا
“‘ سر اگر آپ یہ کیس جتنا چاہتے ہے تو آپکو شادی کرنی ہی پڑیگی ورنہ کورٹ مس رباب زمان شاہ کے حق میں فیصلہ لے سکتی ہے کیونکہ وہ ماں ہے اور ھاد ابھی چھوٹا ہے “‘
سائم پھر سے اسے رسان سے سمجھانے لگا اور ایک نظر اپنے برابر بیٹھے حیات صاحب کو دیکھا
وہ دونوں پچھلے دو دن سے اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ انکی سن ہی نہیں رہا تھا
“‘ اگر آپ نکاح کر لیتے ہیں تو ھاد کے پاس ماں موجود ہوگی اور ہم یہ پروف کر سکتے ہے کہ رباب سنگل مدر ہونے کی وجہ سے اسکی اچھی پرورش نہیں کر پائے گی ” “
وہ اسکو ایک ایک پائنٹ اچھی طرح سمجھا رہا تھا مگر اسفند نکاح جیسے بندھن میں پھر سے بندھنا نہیں چاہتا تھا اسکی زندگی میں اب کسی کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی
“‘ تمہارا وکیل بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے اسفند جیتنے کے لئے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا تمھیں”‘
اس بار خاموشی سے سب سنتے حیات صاحب نے بھی اسکے وکیل سے اتفاق کیا تھا
“‘ پر ڈیڈ آپ تو سب جانتے ہی ہے پھر میں کیسے”‘
وہ غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا تھا اسکی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں رباب کے ارادے جان کر اب وہ زیادہ الرٹ ہو گیا تھا
“‘ مسٹر سائم میں اپنے بیٹے سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں ہمارا جو بھی فیصلہ ہوگا ہم آپکو کال کر کے بتا دیں گے “‘
حیات صاحب اس بار سائم سے مخاطب ہوئے انکی بات سن کر وہ اجازت لیتا اسکی اسٹڈی سے چلا گیا تھا
“‘ اسفند میں جانتا ہوں یہ تمہارے لئے مشکل ہوگا اپنی پہلی شادی کی وجہ سے تم اس پریشانی میں مبتلا ہو پر ایک بار اپنے بیٹے کے بارے میں سوچوں “‘
وہ اسکی پشت کو دیکھتے ہوئے بولے وہ اس وقت اپنے بیٹے کی حالت پر افسوس کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے تھے
“‘ میں ھاد کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوں ڈیڈ پر یہ سب اتنا آسان نہیں ہے کہ میں بازار جاؤں اور وہاں سے اپنے لئے لڑکی لے آؤ اور اس سے نکاح کر لوں”‘
وہ کچھ تو راضی ہوا تھا وہ ھاد کے لئے اپنی جان بھی دے سکتا تھا پھر نکاح تو بہت چھوٹی چیز تھی
“‘ لڑکی تو ہے اگر تمہاری اور اسکی مرضی ہو تو سب کچھ آسان ہو جائے گا”‘۔
اسکو راضی ہوتا دیکھ حیات صاحب کے چہرے پر ایک چمک سی آئی تھی جبکہ انکی بات اسفند یکدم انکی جانب پلٹا
“‘ میں سمجھا نہیں آپ کس لڑکی کے بارے میں بات کر رہے ہیں”‘
اسفند ناسمجھی سے انکی طرف دیکھنے لگا
“‘ حفصہ اور کون تم نے دیکھا نہیں اس ایک ہفتے میں وہ ہمارے ھاد سے کتنا گھل مل گئی ہے ھاد بھی اسکے ساتھ خوش رہتا ہے تمہاری اجازت ہو تو میں اس سے بات کرتا ہوں”‘
انہیں حفصہ پہلی نظر میں ہی پسند آ گئی تھی جس طرح ھاد اسکے ساتھ محبت سے رہتا تھا یہ دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوتی تھی
وہ سب پلان کئے ہوئے بیٹھے تھے مگر انکی بات سن کر اسفند کے ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ ہوا تھا
“‘ کوئی ضرورت نہیں ہے ڈیڈ میں کسی سے بھی نکاح کے لئے تیار ہوں مگر اس سے ہرگز نہیں”‘
وہ چہرے پر گہری سنجیدگی لئے انکی طرف دیکھ کر بولا
پر اسکا دل اس سے جیسے بغاوت کر رہا تھا
“‘ کیوں بیٹا کیا کمی ہے اس میں ویسے بھی اس وقت وہ بہت مشکل میں ہے اسے سہارے کی ضرورت ہے اس طرح تم دونوں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہو اور پھر نکاح کے بعد محبت ہو ہی جاتی ہے”‘
وہ اسکو اپنی دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس بات سے انجان کہ انکی باتوں سے اسفند کے غصّے میں بھی اضافہ ہو رہا تھا
حفصہ کس پریشانی میں اسکے گھر رہ رہی تھی وہ یہ نہیں جانتا تھا نہ اس نے کبھی جاننے کی کوشش کی وہ اسے اس گھر میں صرف اپنے باپ کی وجہ سے برداشت کر رہا تھا
“‘ محبت لفظ میرے زندگی سے ختم ہو چکا ہے ڈیڈ اور پلز میں اس لڑکی سے نکاح نہیں کر سکتا کسی بھی قیمت پر بھی نہیں”‘
اسکے سرد لہجے پر حیات صاحب بس خاموشی سے اسکو دیکھ رہ گئے تھے
“‘ اسفند تمہاری پریشانی میں اس لڑکی کا یہاں آنا کوئی اتفاق نہیں ہے اسے اللّه نے تمہاری مدد کے لئے بھیجا ہے اپنی ضد کو ایک طرف رکھ کر سوچوں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ تمہاری ضد کی وجہ سے ھاد تم سے دور ہو جائے”‘
حیات صاحب اپنی بات کہہ کر اسکو سوچوں میں چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے تھے
انکے جانے کے بعد اسفند گرنے سے کے انداز میں اپنی چیئر پر آ بیٹھا تھا اگر اسکا ھادی اس سے دور ہو گیا تو وہ اسکے بغیر رہ نہیں پاۓ گا اس لئے اسے کچھ تو کرنا تھا اور جلدی کرنا تھا اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور اسے چند لمحے لگے تھے فیصلہ لینے میں اور یہ فیصلہ اس نے صرف ھادی کے لئے لیا تھا
💥💥
(جاری ہے)