55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

                             💥💥

( ماضی )( چھ سال پہلے )
“‘ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ مجھے یوں انکار نہیں سکتا ۔۔”‘
اس نے ہاتھ میں موجود کانچ کے گلدان کو اپنی پوری طاقت لگا کر دیوار پر مارا تھا
اس وقت اسکا غصّے سے برا حال تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کمرے میں موجود ہر چیز کو تباہ کر دے
“‘ اس نے میری محبت میرے جذبات کی توہین کی ہے وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا “‘
اس نے ابکہ ٹیبل پہ رکھا جگ اپنے سامنے موجود ڈریسنگ میں دے مرا تھا
اسکے کانچ کی کرچیاں بکھر کر پورے کمرے میں گر گئی تھی
“‘ یہ کیا ہو رہا ہے رباب اور کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے کمرے کی “‘
وہ جو اب کوئی دوسری چیز تو برباد کرنے کے لئے ادھر ادھر نظریں دوڑا رہی تھی مصطفیٰ کی سخت آواز اسکے سماعت سے ٹکرائی تو اس نے پلٹ کر اسکی طرف دیکھ جو چہرے پر سخت تاثرات لئے دروازے میں کھڑا اسے گھور رہا تھا
“‘ جواب دو مجھے رباب کیا حرکت ہے یہ “‘
اسکی خاموشی سے اپنی جانب دیکھتا ہوا پکار وہ پھر سے اس سے مخاطب ہوتا اسکے کمرے میں داخل ہوا
اس نے ایک نظر کمرے میں ڈالی چارو طرف ٹوٹی ہوئی چیزیں پڑی ہوئی تھی ڈریسنگ کا کانچ جگہ جگہ بکھرا ہوا تھا
یہ کمرہ کہیں سے بھی رباب کا کمرہ نہیں لگ رہا تھا بلکہ اسکے سامنے کھڑی اسکی بہن کہیں سے بھی رباب زمان شاہ نہیں لگ رہی تھی
اس وقت اسکی حالت بھی اسکے کمرے کی طرح بکھری اور ٹوٹی ہوئی تھی
“‘ بھائی اسے کہیں وہ مجھے قبول کر لے میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں “‘
رباب بھاگتی ہوئی اپنے بھائی کے سینے سے آ لگی تھی
حفصہ کو اسفند کی زندگی سے نکالنے کے بعد بھی ابھی تک وہ کچھ حاصل نہیں کر پائی تھی
کتنا کچھ کیا تھا اس نے حفصہ کو غائب کروا کر اسفند کے دل میں شق ڈالا پھر بغیر اسفند سے کوئی بات کئے حفصہ کا ملک چھوڑ کر چلے جانا اسفند کے شق کو یقین میں بدل گیا تھا
یہاں تک اس نے یونی میں یہ بات تک پھیلا دی کہ وہ شمس سے منگنی کرکے ملک سے باہر چلی گئی ہے
وہ پوری طرح سے اسفند کے دل میں حفصہ کے لئے نفرت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی اتنا سب ہونے کے بعد اسفند پوری طرح سے ٹوٹ گیا تھا
اور رباب نے اسے سنبھالنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور پھر صحیح موقع دیکھ کر اس نے اپنی محبت کا اظہر کیا تو اسفند نے اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ وہ اسکے لئے ایک دوست سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور حفصہ کے دھوکے کے بعد شاید ہی وہ کسی کو اپنی زندگی میں قبول کرے
یہ سب سن کر رباب کو لگ رہا تھا کو اتنا کچھ کرکے بھی حاصل نہیں کر پائی ہے پر اس نے بھی سوچ لیا تھا وہ اسفند کو حاصل کرکے ہی رہے گی چاہے اسکے لئے اسے مصطفیٰ کی مدد ہی کیوں لینی پڑے
“‘ کون قبول کر لے تم کس کی بات کر رہی ہو رباب “‘
مصطفیٰ جو اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا رباب کی بات پر اسکی پریشانی حیرانی میں تبدیل ہوئی تھی
اس نے رباب کو خود سے الگ کرکے اسکا چہرہ دیکھا جو اس وقت آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا
“”‘ بھائی میں اسفند سے بہت محبت کرتی ہوں اسے کہیں نہ کہ وہ مجھ قبول کر لے پلیز بھائی “‘
وہ بہت چالاکی سے اپنے بھائی کے سامنے خود کی حالت کو قبل رحم بناتی ہوئی بولی
اور زور زور سے روتی ہوئی پھر سے مصطفیٰ کے سینے سے جا لگی تھی
اسے معلوم تھا ایک مصطفیٰ ہی تھا جو اسے اسفند دے سکتا تھا
جبکہ اسکی بات پر مصطفیٰ کتنے ہی لمحے سکتے میں کھڑا رہ گیا تھا اسے اسفند کی محبت کے بارے میں معلوم تھا پر وہ یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی بہن بھی اسفند سے محبت کرتی ہے
“‘ تم جانتی ہو رباب وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور جو اسکے ساتھ ہوا ہے اسکے بعد مجھے نہیں لگتا وہ اپنی زندگی میں اتنی آسانی سے کسی کو بھی شامل کریگا “‘
وہ اسکے بالوں کو سہلاتا ہوا بولا
اسے اپنی بہن کے لئے بہت دکھ ہوا تھا اس نے ایسے شخص سے محبت کی جو پہلے ہی کسی اور کی محبت میں گرفتار تھا
“‘ میں جانتی ہوں بھائی پر اگر مجھے اسفند نہیں ملا تو میں مر جاؤ گی بھائی “‘
وہ روتے ہوئے اپنی بات پر زور دیتی ہوئی بولی اسے معلوم تھا اسکا بھائی اس بہت محبت کرتا ہے اور اسکے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا
“‘ تم جانتی ہو یہ ناممکن ہے رباب بہتر ہے تم اپنے دل کو سمجھا لو “‘
وہ اب نرمی سے اسکے آنسوں صاف کر رہا تھا
“‘ بھائی کچھ نممکن نہیں ہوتا آپ اسفند سے بات کرے نہ میں اسے بہت محبت دونگی کہ وہ اس لڑکی کو بھی بھول جائے گا پلیز بھائی مجھے اسفند دلا دیں”‘
وہ کسی ضدی بچے کی طرح اس سے ضد کر رہی تھی جیسے اسفند کوئی چیز ہو اور اسکا بھائی اسے لاکر دے دیگا
“‘ تمہارا بھائی مجبور ہے رباب میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا “‘
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا پریشانی سے بولا اگر وہ اسفند سے اس معملے میں بات کر بھی لیتا تو اسے نہیں لگتا تھا کہ وہ اسکی بات مان جائے گا ویسے بھی رشتے زبردستی نہیں جڑتے
“‘ اگر آپ نے کچھ نہیں کیا نہ تو میں خود کو ختم کر دونگی بھائی میں سچ کہہ رہی ہوں اور یہ آپ اسفند سے بھی بول دیں “‘
اس بار وہ مضبوط لہجے میں بولتی اس سے دور ہوئی اور فرش پر پڑے کانچ کے ٹکڑوں پر اسکے نظر پڑی تھی اسکے نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے مصطفیٰ نے اسکو روکنا چاہا مگر وہ اسکو کوئی بھی موقع دئے بغیر بجلی سی کی تیزی سے ایک نوکیلا ٹکڑا اٹھا چکی تھی
“‘ بھائی میں سچ کہہ رہی ہوں میں خود کو ختم کر لونگی “‘
وہ کسی دیوانو کی طرح بولتی وہ کانچ کا ٹکڑا اپنی نس کے قریب رکھ چکی تھی
اسکا ارادہ اپنی جان لینے کا ہرگز نہیں تھا وہ بس اپنے بھائی کو ڈرانا چاہتی تھی
“‘ ہم آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہے اسے نیچے رکھو ورنہ وہ تمہارے لگ جائے گا “
رباب اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی تھی اسکی اس حرکت سے مصطفیٰ ڈر کر اسکے قریب ہوا تھا
” پہلے آپ وعدہ کریں اسفند سے بات کریں گے اسے مجھ سے شادی کرنے کے لئے منائے گے “‘
وہ جنونی انداز میں بولتی مصطفیٰ کی دھڑکنوں کو مزید بڑھا رہی تھی
“‘ ٹھیک ہے میں بات کرونگا تم پلیز اسے پھینک دو رباب ورنہ تمھیں چوٹ لگ جائے گی “‘
اس وقت مصطفیٰ رباب کی حرکت کی وجہ سے کافی ڈر گیا تھا وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ اسکی بہن کو کچھ بھی ہو ویسے بھی اسکی زندگی میں ایک وہ ہی باقی رہ گئی تھی جس سے اسکا رشتہ تھا اور اپنی بہن کی خوشی اسکی زندگی کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا
اگر اسکی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو بھی وہ یہی کرتا
“‘ پہلے آپ وعدہ کریں بھائی “‘۔
اسے سکون نہیں ملا تھا اس لئے وہ اس سے وعدہ چاہ رہی تھی
“‘ ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہوں رباب تمہاری شادی اسفند سے ہی ہوگی “‘۔
وہ ایک جست میں اس تک آیا اور اسکے ہاتھ سے کانچ کا ٹکرا پھینک کر اسے سختی سے اپنے سینے سے لگا لیا تھا
وہ پہلے ہی اپنی غلطی کی وجہ سے اپنی ماں کو کھو چکا تھا اب اس میں اپنے کسی بھی قریبی رشتے کو کھونے کی ہمّت نہیں تھی
اسفند کو راضی کرنا مشکل تھا مگر وہ اپنی بہن کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار تھا
💥💥
“‘ ھاد بیٹا آپ یہ فرائیڈ رائس لو نہ خاص آپکے لئے بنائے ہیں میں نے “‘
وہ جو کھانا کھاتے ہوئے اپنے موبائل پر آئے میلز چیک کر رہا تھا حفصہ کی محبت بھری آواز پر اسکا منہ کی طرف جاتا ہوا ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکا اور اس نے گردن موڑ کر اپنی بائی جانب دیکھا جہاں حفصہ ھاد کے برابر میں بیٹھی اسکو بہت ہی محبت سے کھانا کھلا رہی تھی
یہ منظر دیکھ کر ایک سکون سا اسکے اندر اترا تھا اسے اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی آج بھی اسے اچھی طرح سے یاد ہے جب رباب نے اسے اپنے پریگنینٹ ہونے کی خبر اسے سنائی تھی یہ خبر سن کر وہ کتنے ہی لمحے خاموش کھڑا رہ گیا تھا
رباب سے شادی صرف اس نے مجبوری میں کی تھی وہ اسے کبھی حفصہ کی جگہ نہیں دے پایا تھا مگر انجانے میں ہوئی غلطی کی وجہ سے وہ رباب اور اپنے درمیاں میا بیوی کا رشتہ قائم کر چکا تھا
جتنا شاک وہ اس خبر سے تھا اتنی ناخوش رباب تھی اور وہ اسکی وجہ جان نہیں پایا تھا
اور پھر جب اس نے پہلی بار ھاد کو گود میں لیا تو اسے زندگی سے پھر سے محبت ہو گئی تھی وہ اسکے وجود کا حصّہ تھا
لیکن رباب ھاد کی پیدائش کی فورا بعد اس سے طلاق لیکر چلی گئی تھی اس چھوٹے سے بچے کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر تب وہ لمحہ تھا جب اسفند کو دوسری بار کسی سے نفرت ہوئی تھی
لیکن آج تک وہ اسکے یوں طلاق لینے کی وجہ جان نہیں پایا تھا اور ساتھ ہی حیران بھی
لیکن وہ اپنی زندگی میں خوش تھا اپنے بیٹے کے ساتھ اس نے کبھی کسی کو اپنی زندگی میں لانے کے بارے میں سوچا نہیں تھا مگر پھر کسی آندھی طوفان کی طرح وہ دونوں اسکی زندگی میں واپس آ گئی
لیکن اس سارے قصّے میں وہ ایک بات سے مطمعین تھا وہ تھا حفصہ کا ھاد کے ساتھ رویہ وہ بلکل سگی ماں کی طرح اسکا خیال رکھتی تھی
شاید رباب بھی اسکا اس طرح سے خیال نہ رکھ پاتی وہ اسکے ساتھ کیسا بھی رویہ رکھتا مگر حفصہ اسکا اثر ھاد کی محبت پر پڑنے نہیں دیتی تھی
اور یہی وہ باتیں تھی جن کی وجہ سے چھ سال پہلے حفصہ کے دئے دھوکے کی وجہ سے اسکے دل پہ جمی دھول آہستہ آہستہ ہٹتی جا رہی تھی
“‘ ماما بس کریں میں اب مزید نہیں کھا سکتا آپ نے لنچ میں بھی اتنا کچھ کھلا دیا تھا اس طرح سے تو میرا پیٹ باہر آ جائے گا “‘
ھاد کی آواز پر اسکی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹا وہ پھر سے ان دونوں کی طرف دیکھنے لگا
اسکی موجودگی کو مکمل نظرانداز کئے ہوئے وہ اب ٹیشو سے ھاد کا منہ صاف کر رہی تھی
اس وقت ڈائنئگ ٹیبل پر وہ تینوں ہی موجود تھے حیات صاحب نے طبیعت خراب کی وجہ سے کھانا اپنے روم میں ہی کھا لئے تھا
جبکہ حدید کسی کام کے سلسلے میں باہر گیا ہوا تھا اسلئے آج کھانے کی ٹیبل پر مکمل خاموشی تھی
“‘ ماما میں جا رہا ہوں میرا پسندیدہ شو شروع ہونے والا ہے آپ بھی جلدی آئیے “‘
کھانا ختم ہونے کی دیر تھی کہ وہ یکدم اپنی چیئر سے کھڑا ہوتا ہوا لاؤنج کی طرف بھاگا تھا
“‘ آرام سے بیٹا ورنہ چوٹ لگ جائے گی “‘
اسکی جلدبازی پر حفصہ اسے ٹوکے بغیر نہ رہ سکی تھی مگر وہ اسکی بات پر دھیان دئے بغیر وہاں سے نکل گیا حفصہ سر کو نفی میں ہلاتی وہاں رکھے برتن آٹھانے لگی
آج ملازمہ بھی چھٹی پر تھی اسلئے یہ کام بھی اسے ہی کرنا پڑ رہا تھا
وہ اسفند کی موجودگی کو بلکل نظرانداز کئے برتن سمیٹنے لگی مگر اسکی خود پر جمی نظروں کو وہ بخوبی محسوس کر رہی تھی
برتن اٹھاتے اسکے ہاتھوں کی لرزش اسفند کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی
وہ اب آرام سے بیٹھا اسکی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا
جب وہ اسکی گہری نظروں کی تپش برداشت نہ کر پائی تو جلدی برتن اٹھا کر کچن میں آ گئی تھی برتن سلیپ پر رکھ کر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی جیسے ملوں کا سفر طے کرکے آئی ہو
“‘ تم مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو “‘
وہ آنکھیں بند کئے کھڑی اپنے تیزی سے دھڑکتے دل کو قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے اسفند کی آواز سنائی دی تھی
وہ یکدم پلٹی تو سامنے ہی وہ اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا اسے اپنی نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا
“‘ نہیں میں تم سے کیوں بھاگوں گی میں تو یہاں برتن رکھنے آئی تھی “‘
وہ اسے دیکھ بغیر بولی جانے کیوں اس میں اسفند سے نظریں ملانے کی ہمّت نہیں تھی
پہلے تو وہ خود اسے سچ بتانے کے لئے اسکے آگے پیچھے پھرتی رہتی تھی مگر اب اسے لگنے لگا تھا وہ جو بھی بولے گی اسفند اس پر بلکل یقین نہیں کرے گا
“‘ اگر ایسا ہے تو تم میری طرف دیکھنے سے کیوں کترا رہی ہو “‘ میں جہاں بھی جاتا ہوں تم وہاں سے چلی جاتی ہو ایسا کیوں ہے “‘
وہ اسکے چہرے پر نظریں جمائے آہستہ آہستہ اسکے قریب بڑھ رہا تھا
اسکا اپنی جانب بڑھتا ہر ایک قدم حفصہ کی دھڑکنے بڑھا رہا تھا
“‘ نہ میں تم سے کترا رہی ہوں نہ ہی تم سے بھاگ رہی ہوں تمھیں شاید کوئی غلطفہمی ہوئی ہے “‘
وہ اپنے شانے سے پھسلتا دوپٹہ صحیح کرتی ہوئی بولی جو اسکی موجودگی میں بار بار پھسل کر اسے تنگ کر رہا تھا
“‘ پر تمہاری حالت تو کچھ اور ہی بتا رہی ہے “”
وہ اب مکمل اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا حفصہ نے پیچھے ہونا چاہا مگر اپنی کمر کے پیچھے سلیپ ہونے کی وجہ سے وہ مزید اس سے دور نہ ہو پائی تھی
“‘ تمہاری پلکوں کی یہ لرزش کچھ اور ہی بتا رہی ہے”‘
وہ بہت ہی آہستگی سے اسکی پلکیں چھوتا ہوا بولا پلکوں کو چھوتے ہوئے اسکے ہاتھ اب اسکی گردن کی طرف جا رہے تھے
“‘ تمہارے جسم کی یہ کپکپاہٹ “”
وہ اسکی گردن پر موجود اس نشان پر اپنی انگلی پھیر رہا تھا جو وہ گزری رات وہ اسے دے چکا تھا
اسکی انگلی اس جگہ پر محسوس کر کے حفصہ نے تڑپ کر اسکی جانب دیکھا تھا جسکی نظریں اب اسکے نشان پر جمی ہوئی تھی
“‘ تمہاری یہ بوکھلاہٹ ” میرے قریب آتے ہی تمہارے ماتھے پر پسینہ آ جانا “‘
اسکی انگلی بہت ہی نرمی سے اس نشان کو سہلا رہی تھی جبکہ اس نے اپنے دوسرے بھاری ہاتھ سے اسکے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا تھا
“‘ ایسا کچھ نہیں ہے گرمی زیادہ ہے تو بس اسلئے “‘
وہ اپنی حالت پر قابو پاتی بمشکل بول پائی اور اسکی سائیڈ سے نکلنا چاہا مگر وہ اسکا ارادہ بھانپ کر اسکے ارد گرد اپنے ہاتھ رکھتا مکمل اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا
“‘یہ سب میری قربت کی وجہ سے ہے تو تم اس بات کو تسلیم کیوں نہیں کر حفصہ اسفند خان “‘
وہ مزید اس پر جھک کر اسکے چہرے پر پھونک مارتا ہوا بولا
اسکی اس حرکت پر حفصہ اپنا سانس روک کر رہ گئی تھی
“‘ اسفند۔۔پلیز دور ہٹو کوئی آ جائے گا “‘
اسکی بڑھتی نزدیکی سے گھبرا کر حفصہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی
اسے ڈر بھی تھا اگر کوئی کچن میں آ گیا انہیں اس طرح کھڑا دیکھ لیا تو کتنی شرمندگی ہوگی
“‘اگر تمہارے اندر ہمّت ہے تو تم ہٹا دو میں ہٹ جاؤنکا ورنہ “‘
وہ آنکھوں میں ایک عجیب سے چمک لئے اسے تک رہا تھا جو اسکے علاوہ اس کچن میں موجود ہر چیز کو دیکھ رہی تھی
“‘ تم کیوں مجھے پریشان کرتے ہو اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی تمھیں سکون نہیں “‘
اسکا باقی کا جملہ منہ ہی رہ گیا تھا جب اسفند باقی کا فاصلہ مٹاتا اس پر جھکا اور حفصہ کی گردن پہ موجود اس نشان پر اپنے لب رکھ چکا تھا
“‘ اسفند “‘
حفصہ نے تڑپ کر اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکی کلائی کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا
“‘ ماما آپکو اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے میں کب سے آپکا انتظار کر رہا ہوں “‘
اس سے پہلے کہ اسفند اسکے چہرے پہ جھکا مزید کوئی گستاخی کرتا ھاد کی آواز پر وہ فورا اسکی کلائی آزاد کرتا اس سے دور ہوا اور ھاد کی جانب پلٹا جو اب کچن میں داخل ہو چکا تھا
“‘ ہاں بیٹا میں بس آ ہی رہی ہوں تھوڑا کام رہ گیا تھا”‘۔
وہ شرمندگی سے سرخ چہرہ لئے اپنا دوپٹہ صحیح کرتی ہوئی ھاد کی طرف بڑھی اور ایک نظر اسفند کو دیکھا جو خود بھی شرمندہ سا نظر آ رہا تھا
وہ تو شکر تھا اس نے انہیں نہیں دیکھا تھا ورنہ وہ شرمندگی کی وجہ سے ھاد کے سامنے بھی نہ آ پاتی
“‘ ڈیڈ آپ بھی آ جائے ہم تینوں ساتھ ملکل کوئی اچھی سی مووی دیکھتے ہیں آج “‘
وہ حفصہ کے ساتھ اب اسفند کا ہاتھ بھی تھامتا ہوا دونوں کو اپنے ساتھ لئے کچن سے نکلا تھا
اسفند جو اسے انکار کرنے والا تھا کیونکہ اسے آفس کا کچھ کام کرنا تھا مگر اپنے بیٹے kکے چہرے پر خوشی دیکھ کر وہ خاموشی سے اسکے ساتھ چل دیا تھا
💥💥
“‘ میں تمھیں یہاں خاموش کھڑا رہنے کے لئے نہیں لایا ہوں اپنے لئے پسند کرو کچھ “‘
اسکے سامنے رکھی ڈریس کو ایک ٹک دیکھتا ہوا پاکر مصطفیٰ حورین سے مخاطب ہوا تھا
وہ جو خاموش کھڑی اپنے خیالوں میں گم تھی مصطفیٰ کی آواز سماعت سے ٹکارئی تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی
“‘ مجھے اس سب کی ضرورت نہیں ہے میرے پاس پہلے سے ہی سب موجود ہے “‘
وہ بےزاری اپنے سامنے رکھی ڈریس کو ایک طرف کرتی ہوئی بولی
اس وقت وہ دونوں شہر کے سب سے بڑے مول میں موجود تھے وہ یہاں آنا تو نہیں چاہتی تھی مگر وہ مصطفیٰ ہی کیا جو حورین کی سن لے اسکے نہ کرنے کے باوجود وہ اسے زبردستی یہاں لے آیا تھا وہ بےتاثر چہرہ لئے اسکے ساتھ یہاں موجود تھی
اس وقت اسکے لہجے اور انداز سے بےزاری صاف جھلک رہی تھی جسے مصطفیٰ نے شدّت سے محسوس کیا تھا
وہ جو سوچ رہا تھا باہر آکر اسکا موڈ تھوڑا بحال ہو جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا وہ بغیر کوئی خوشی ظاہر کئے اسکے ساتھ ایک شاپ سے دوسری شاپ پر گھوم رہی تھی یہاں تک کہ اس نے اب تک اپنے لئے کوئی بھی چیز خریدی نہیں تھی
اب حور کی بےزاری اسے کوفت میں مبتلا کر رہی رہی تھی
“‘ پر میں چاہتا ہوں تم اپنے لئے کچھ لو اسلئے نہ مت کرو اور جلدی سے کوئی اچھی سی ڈریس پسند کرو اپنے لئے “‘
وہ سامنے رکھی ڈریسز کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا وہ ایک نظر گردن موڑ کر اپنے ساتھ آئے گارڈ کو دیکھا وہ پچھلے دو دن سے حورین کی خاموشی کو نوٹ کر رہا تھا اس نے خود کو اپنے کمرے میں قید کر لیا تھا مصطفیٰ کو لگ رہا تھا کہ وہ اسفند کے گھر سے آ جانے کی وجہ سے اداس ہے
اسلئے وہ اسکی اداسی کو ختم کرنے کے لئے شاپنگ کرانے لے آیا تھا ساتھ ہی حورین کی سکیورٹی کے لئے اسکے دو گارڈز بھی موجود تھے جنہیں وہ بار بار الرٹ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا
“‘ یہ دیکھو ۔۔یہ ڈریس بہت اچھی لگ رہی ہے اور یہ کلر تم پر سوٹ بھی کریگا ” ‘
مصطفیٰ کی نظر وائٹ اور پنک کلر کے کمبینیشن والے سوٹ پر پڑی تو وہ اسے اٹھا کر حورین کو تھاماتا ہوا بولا
حورین جو اپنے سامنے موجود ڈریس کو بےدلی سے ادھر ادھر کر رہی تھی مصطفیٰ کی آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوئی اور اس سوٹ کی طرف دیکھا
اسے دیکھ کر اتنی دیر میں پہلی بار حورین کی آنکھوں میں چمک آئی تھی
وہ سوٹ واقعی میں بہت خوبصورت تھا گلے پہ بہت باریکی سے وائٹ موتی کا کام کیا ہوا تھا ویسے بھی اسے ہمیشہ سے لائٹ کلر ہی پسند آتے تھے
“‘ جاؤ جاکر اسے ٹرائ کرو “‘
اسے سوٹ کی طرف تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اس سے مخاطب ہوا
حورین پہلے تو منع کرنا چاہتی تھی مگر مصطفیٰ کی آنکھوں میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ لکھ چاہنے کے باوجود انکار نہ کر سکی اور مصطفیٰ کے ہاتھ سے سوٹ لیکر وہ چینجنگ روم کی طرف بڑھی تھی
حورین کے جانے کے بعد اس نے ٹائم دیکھا شام کے سات بج رہے تھے ان لوگوں کو یہاں آئے ہوئے ابھی ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا
اور اس ایک گھنٹے میں انہونے مشکل سے ایک ڈریس ہی سلیکٹ کی تھی
وہ ٹائم دیکھ ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگا اس وقت مال میں کافی رش تھا اور جس شاپ میں وہ لوگ موجود تھے اس بھی کچھ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ موجود تھی
وہ ان پر نظر ڈال کر ایک گہری سانس فضا میں چھوڑتا ادھر سے ادھر چکر لگاتا حورین کا انتظار کرنے لگا
کچھ لمحے یونہی گزر گئے مگر وہ اب تک واپس نہیں آئی تھی مصطفیٰ نے ایک نظر پھر سے اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی پڑ ڈالی اسے گئے ہوئے بیس منٹ ہو گئے تھے وقت دیکھ کر مصطفیٰ کو یکدم سے تفتیش ہوئی دل یکدم بےچین ہوا تھا
دل میں کہیں نہ کہیں ایک ڈر تھا جو اسکی اتنی دیر غیر موجودگی سے مزید بڑھ گیا تھا
“‘ اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے تمھیں حورین “‘
وہ اپنے اندر کی گھبراہٹ کو کم کرنے کے لئے بالوں میں ہاتھ چلاتا چینچنگ روم کی جانب بڑھا تھا
“‘ حورین کیا ہوا تمھیں اتنی دیر کیوں لگ رہی کوئی مسلہ ہے “‘
وہ بند دروازے پہ ناک کرتا ہوا تیز آواز میں بولا اندر سے اسکا دل دعا کر رہا تھا کہ اسکی حورین اندر ٹھیک ہو
”’ حورین کیا ہوا جواب دو “‘
مصطفیٰ پھر سے دروازہ ناک کرتا ہوا بولا
اس وقت اسکی آواز میں بےچینی صاف ظاہر ہو رہی تھی
“‘ نہیں کوئی مسلہ نہیں ہے وہ ۔۔وہ یہ “‘
بند دروازے کے پیچھے سے حورین کی گھبرائی ہوئی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تو اسے سکون ملا تھا
“‘ کیا وہ حورین اگر کوئی مسلہ نہیں ہے تو تمھیں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے تم جلدی سے باہر آؤ ورنہ میں اندر آ رہا ہوں “‘
حورین کے جواب سے اسکے دل کو تصلی نہیں ہوئی تھی
اوپر سے یہ لڑکی بات ادھوری چھوڑ کر اسکے صبر کا امتحان لے رہی تھی
“‘ نہیں آپ اندر مت آئیے بس یہ زپ نہیں “‘
ابھی اسکا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا جب وہ چینچنگ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا دروازے کو اندر سے لاک کر چکا تھا
حورین جو اپنی شرٹ کی زپ کو بند کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی مصطفیٰ کی اچانک آمد سے وہ گھبرا گئی اپنی زپ کو چھوڑ کر اس نے بجلی سی کی تیزی سے اپنا رخ مصطفیٰ کی جانب کیا تھا
“‘ آ۔۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں باہر جائے نہ “‘
وہ نظریں نیچے کئے اپنے دونوں ہاتھوں کو مسلتی بوکھلاہٹ کا شکار تھی چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا تھا
جبکہ دوسری طرف مصطفیٰ اسکی حالت بےخبر اسکے سراپے پہ اپنی گہری نظریں جمائے کھڑا بس ایک ٹک اسکو تک رہا تھا
وہ اس وقت وہی سوٹ زیب تن کئے ہوئے کھڑی تھی مصطفیٰ کو لگ رہا تھا یہ رنگ اسی کے لئے بنایا گیا ہو اس کلر میں اسکی گلابی رنگت مزید گلابی لگ رہی تھی وہ خاموشی سے کھڑا بس اسکو تک رہا تھا جب اسکی نظریں سامنے آئنے میں نظر آتی اسکی کھلی زپ پر پڑی
اسے ساری بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی
“‘ پیچھے مڑو “‘
وہ اپنی کیفیت پہ قابو پاتا اس سے مخاطب ہوا حورین جو نظریں نیچے کئے اپنا لب کچل رہی تھی مصطفیٰ کی بات پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“‘ زپ کھلی ہے تمہاری میں بند کر دیتا ہوں “‘
اپنی بات کہتا وہ مزید اسکے قریب ہوا جبکہ اسکی بات پر حورین کا چہرہ شرم سے مزید سرخ ہو گیا تھا اپنی بوکھلاہٹ میں اس نے اپنے بال تو پیچھے کر لئے تھے مگر پیچھے لگے آئنے پہ اس نے دھیان ہی نہیں دیا تھا جہاں سے اسکی کھلی زپ سے جھانکتا جسم نمایا وہ رہا تھا جسے اسکے بال چھپانے میں ناکام ہو رہے تھے
“‘ آ۔۔آپ رہ۔۔رہنے دیں م۔۔میں خود کر لونگی “‘
شرمندگی کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا جبکہ مصطفیٰ اسکی بات کو نظرانداز کرتا اسکا رخ آئنے کے سامنے کر چکا تھا
“‘ اگر خود کر لیتی تو اتنی دیر نہ لگتی “‘
وہ اسکی مزاحمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسکے بالوں کو آگے کرتا اسکی کھلی زپ بند کرنے لگا جو کمر سے نیچے تک جا رہی تھی
اسکی انگلیوں کا نرم گرم لمس اپنی کمر پہ محسوس کر کے حورین اپنا سانس کھینچ کر رہ گئی تھی پورے بند میں جیسے سنسنی سی دوڑ گئی
ہتھیلیاں عرق آلودہ ہو گئی تھی
اس نے اپنی جھکی پلکیں اٹھا کر سامنے آئنے میں دیکھا تو مصطفیٰ اسی کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا
اسکی آنکھوں میں آج الگ سے جذبات تھے جنہیں دیکھ کر حورین کو اپنے حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا
“‘ اس ڈریس میں تم بہت خوبصورت لگ رہی “‘
وہ اپنی گمبھیر آواز میں بولتا اسکے کانوں میں رس گھول رہا تھا
زپ بند کرتی اسکی انگلیاں آہستہ آہستہ اپنا سفر طے کر رہی تھی
حورین کو لگ رہا تھا وہ مزید اسکے سامنے ایسے کھڑی نہیں رہ پائے گی
“‘ ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ تمہارے لئے ہی بنی ہو “‘
وہ اپنا چہرہ اسکے کان کے قریب لاتا ہوا سرگوشانہ انداز میں بولا اور ساتھ ہی اسکے بالوں سے آتی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا
“‘ اب میں خود کر لونگی آپ پلیز باہر جایں “‘
اسکی حد سے زیادہ بڑھتی قربت حورین کو پریشان کر رہی تھی وہ اپنی دونوں ہاتھوں کی مٹھی بھینچ کر اس سے تھوڑے فاصلے پر آ کھڑی ہوئی تھی
مصطفیٰ جو اسکی قربت اور حورین سے آتی دلفریب خوشبو میں کھو سا گیا تھا اسکے یکدم سے دور جانے پر اسکے سحر سے نکلا تھا
“‘ ٹھیک ہے جلدی آنا “‘
اسے حورین کا خود سے دور جانا بلکل پسند نہیں آیا مگر وہ اپنے لہجے کو نارمل کرتا چینچنگ روم سے نکل گیا
اسکے جانے کے بعد حورین کتنی ہی دیر تک اپنی بےترتیب سانسوں کو درست کرتی رہی تھی
“‘ کچھ اور لینا ہے تمھیں ؟ اگر بھوک لگی ہے تو کچھ کھانے چلتے ہیں “‘
وہ جب چینج کر کر واپس آئی تو مصطفیٰ اسکے قریب آتے ہی پوچھنے لگا
آج وہ اس لڑکی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا چاہ رہا تھا مگر اب تک اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی تھی
“‘ نہیں مجھے کچھ نہیں لینا بس گھر چلتے ہیں میرا دل گھبرا رہا ہے “‘
جانے کیوں اسے یکدم سے گھبراہٹ سی ہوئی تھی اسلئے وہ جلدی سے بس گھر جانا چاہتی تھی
“‘ ٹھیک ہے اگر تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو میں اسرار نہیں کرونگا پھر کبھی ہم باہر ڈنر کرنے آ جائے گے”‘
وہ اسکے چہرے پہ پھیلی گھبراہٹ کو دیکھ کر خود بھی پریشان ہوا تھا اسلئے سوٹ کا بل ادا کر کے اس شاپ سے نکلا
وہ اسکی کلائی تھام کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا جا رہا تھا ساتھ ہی گردن موڑ کر اپنے پیچھے آتے گارڈز کو دیکھا
جانے کیوں اسے کچھ عجیب سے لگ رہا تھا یکدم اسکا دل اندر سے گھبرا رہا تھا جیسے کچھ برا ہونے والا ہو
وہ حورین کو اپنے ساتھ لئے مال سے باہر آ گیا اور اپنی کار کا انتظار کرنے لگا جو اسکا دوسرا گارڈ پارکنگ سے نکال رہا تھا
جب اسے اپنی کار قریب آتی نظر آئی تو وہ تھوڑا آگے بڑھا ہی تھا کہ یکدم گولی آواز کے ساتھ حورین کی درد بھری چیخ اسکی سماعت سے ٹکرائی تھی
اس نے گردن کر دیکھا اسے لگا وہ اپنی جگہ سے ہل ہی نہیں پائے گا
لوگ بھاگ رہے تھے اسکے آس پاس ایک شور سا مچا ہوا تھا مگر اسکی نظریں تو حورین پر ہی ٹکی ہوئی تھی جسکے لیفٹ شانے خون نیک رہا تھا اور وہ درد برداشت کرتی زمین پر گرنے ہی والی تھی کہ وہ جیسے ہوش میں آیا اور بجلی سی کی تیزی سے اسکے وجود کو گرنے سے بچایا
“‘ حورین “” حور میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دونگا”‘
وہ تڑپتی ہوئی آواز میں اسے پکار رہا تھا جسکی آنکھیں بند ہوئے جا رہی تھی
“‘سر وہ لوگ ہمرے ہاتھ سے نکل گئے انہونے چلتی ہوئی کار سے حملہ کیا ہے پر سر ہمیں جلدی میم کو ہسپتال لیکر جانا ہوگا انہیں گولی صرف چھوکر گئی ہے “‘
اسکا گارڈ حور کے زخم کو چیک کرتا ہوا بولا
“‘ جس نے بھی یہ کیا ہے اسے میرے پاس لیکر آؤ وہ بھی زندہ اگر نہیں لائے تو تمھیں گولی چھوکر نہیں نکلے گی سیدھا تمہارے اندر گھسے گی “‘
وہ اپنے گارڈ کا کلر سختی سے پکڑتا ہوا دہاڈا تھا اتنی ٹائٹ سکیورٹی کے بعد بھی اسکی حور پر حملہ ہو چکا تھا یہ بات اسکی برداشت سے باہر تھی
اسکی بات سن کر گارڈ سر ہلاتا وہاں سے اٹھا تھا وہ جانتا تھا اسکو مالک جو کہہ رہا ہے وہ کر بھی دیگا اسلئے اسے اپنی جان بچانے کے لئے ان لوگوں کو تلاش کرکے لانا تھا
“‘ حورین پلیز آنکھیں کھولو ۔۔۔ میں تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔ کچھ نہیں ہونے دونگا میں “‘
وہ وہاں موجود لوگوں کی بھیڑ کو نظرانداز کرتا اسکے بےہوش وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا کر کار کی طرف بڑھا تھا
اسے جلدی سے ہسپتال پہنچنا تھا اپنی حودین کی جان بچانی تھی وہ کیسی بھی قیمت پر اسے کھونا نہیں چاہتا تھا
اگر حورین کو کچھ بھی ہوا تو تمھیں اسکی بہت بڑی قیمت چکانی ہوگی اور میں تمہارا وہ حال کرونگا کہ تم زندگی بھر یاد رکھو گے
وہ تیزی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اپنی سوچوں میں اس شخص سے مخاطب تھا جس کی وجہ سے آج اسکی حور اس حال میں تھی
💥💥
(ماضی )(چھ سال پہلے )
“‘ بس کرو اسفند تم اب اور نہیں تم پہلے ہی بہت ڈرنک کر چکے ہو “‘
اسکے منہ کی طرف جاتے گلاس کو رباب ایک جھٹکے میں اسکی پہنچ سے دور کرتی ہوئی بولی تھی جبکہ اسکی اس حرکت سے اسفند کے ماتھے پر بل پڑے تھے
“‘ تم اپنے کام سے کام رکھو میرے معملے میں تمھیں بولنے کی ضرورت نہیں ہے “‘
وہ ایک جھٹکے اسکے ہاتھ سے وائن کا گلاس چھینتا ہوا سخت لہجے میں بولا ایک ہی گھونٹ میں گلاس خالی کر کے ٹیبل پر رکھ چکا تھا
“‘ میں بیوی ہوں تمہاری اسفند تمہارے معملے میں مجھے بولنے کا حق ہے “‘
اسکو پھر سے گلاس بھرتا دیکھ رباب نے اسکے ہاتھ سے بوتل چھیننی چاہی مگر وہ ہاتھ اسے بھی اسکی پہنچ سے دور کر گیا تھا
“‘تم زبردستی کی بیوی ہو اسلئے میں تمھیں اپنے معملے میں بولنے کا حق نہیں دیتا بہتر ہے تم یہاں سے چلی جاؤ رباب “‘
وہ ایک ایک گھونٹ اپنے حلق سے نیچے اتارتا ہوا سخت لہجے میں بولتا اسے تلخ حقیقت سے آگاہ کر رہا تھا
جبکہ اسکی بات پر رباب اپنے لب بھینچ کر رہ گئی تھی وہ کچھ غلط بھی تو نہیں کہہ رہا تھا انکی شادی کو ایک مہینہ ہو گیا تھا اور اس ایک مہینے اس نے ایک بار بھی اسے نظر بھر کر نہیں دیکھا
کیونکہ اس نے نکاح سے پہلے ہی اسے بول دیا تھا کہ وہ اس نکاح کے بعد اس سے کوئی بھی امید نہ رکھے
رباب کو اچھی طرح سے یاد تھا مصطفیٰ نے اسے منانے کی بہت کوشش کی مگر وہ اس سے نکاح کرنے کے لئے ہرگز راضی نہیں ہوا یہاں تک کہ اس نے مصطفیٰ سے یہ تک کہہ دیا تھا اگر وہ ایسے ہی اس سے زبردستی کرتا رہا تو وہ اپنی اتنی سال پرانی دوست کو بھی ختم کر دیگا
اسفند کی اس بات پر مصطفیٰ نے بھی خاموشی اختیار کر لی تھی وہ لوگوں کے بیچ میں بری طرح سے پھنس چکا تھا
رباب نے جب یہ سنا تو اس نے پھر اپنی آخری بازی چل کر خود کو ختم کرنے کی کوشش جس پر مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ باقی سب لوگ بھی پریشان ہو گئے تھے
اور پھر حیات صاحب اور باقی لوگوں کے دباؤ میں آکر مجبورا اسفند کو رباب سے نکاح کرنے کے لئے راضی ہونا ہی پڑا تھا
“‘ دو مہینے ہو گئے ہیں اسفند اور تم اس لڑکی اب تک بھول نہیں پائے ہو اس نے تمہارے ساتھ اتنا سب کیا اسکے بعد بھی “‘
وہ پھر سے اسکے دل میں حفصہ کے لئے موجود نفرت کو مزید بڑھانے کی کوشش کرنے لگی تھی جبکہ اسکی بات پر اسفند کی گلاس پر پکڑ سخت ہوئی تھی
“‘ وہ جس طرح مجھ سے اور میرے سوالوں سے بچ کر بھاگی ہے وہ میں بھول نہیں سکتا کبھی بھی نہیں”‘۔
اس بار وہ لہو رنگ آنکھیں لئے اسکی جانب پلٹا تھا حفصہ کا ذکر آتے ہی اسکی رگیں تن سے گئیں تھی
وہ اس لڑکی کو کیسے بھول سکتا تھا جو اسکا سکون برباد کرکے خود دسرے ملک جا چکی تھی
وہ اتنی بڑی دھوکے باز نکلے گی اسفند کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا
“‘ اسکی نفرت کے آگے تمھیں میری محبت کی شدّت نظر نہیں آتی ایسا کیوں ہے اسفند “‘
وہ آہستہ سے اسکے قریب ہوتی اپنے اور اسکے درمیاں فاصلے کو ختم کر چکی تھی
“‘ ایک بار اسکو بھول کر میری طرف دیکھو اسفند میرے دل میں تمہارے لئے اتنی محبت ہے کہ تم یہ بھی بھول جاؤ گے کہ تم نے کبھی کسی سے محبت بھی کی تھی “‘
وہ اسکے ہاتھ سے گلاس لیکر ٹیبل پر رکھ چکی تھی جبکہ دوسرا ہاتھ اسفند کے بالوں میں آہستہ سے چلا رہی تھی
اسکے ہاتھ کا لمس تھا یا نشے کا اثر تھا اسفند نے اپنی آنکھیں یکدم سے بند کی بند پلکوں کے پیچھے اس دشمن جاں کا چہرہ نظر آیا تو اس نے فورا آنکھیں کھولی تھی
“‘ میں تم اتنی محبت کرونگی اسفند کہ تم اسے بھی بھول جاؤ گے “
رباب کی آواز پھر سے اسکے کانوں میں ٹکرائی تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا رباب کی کالی آنکھوں کی جگہ اسے سلور گرے آنکھیں نظر آئی تھی جو بہت محبت سے اسے دیکھ رہی تھی
“‘ میں تمھیں بھول نہیں پا رہا ہوں “‘۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اس چہرے کو چھوا تھا
اس وقت وہ بری طرح نشے میں تھا اتنا کہ اسے رباب کی جگہ حفصہ نظر آ رہی تھی
“‘ اسفند میں یہی تو ہوں تمہارے پاس “‘
رباب کی آواز اب حفصہ کی آواز میں بدل گئی وہ مسکراتی ہوئی مزید اسکے قریب ہو رہی تھی اور وہ بےخودی میں اسکے قریب کھیچتا جا رہا تھا
“‘ میں تم ۔۔میں تم سے نفرت نہیں کر پا رہا “‘
وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام چکا تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے
مگر اسے معلوم تھا تو بس اتنا کہ اسکے سامنے جو چہرے تھا وہ اس سے محبت کرتا تھا شدید محبت
اس سے اتنی نفرت کرنے کے بعد بھی وہ اسے بھول نہیں پا رہا تھا
“‘ مجھے چھوڑ کر مت جانا حفصہ کبھی بھی نہیں”‘۔
وہ سرگوشی کرتا اسکے چہرے پر جھک گیا
وہ اس وقت ٹوٹا ہوا تھا
بکھر چکا تھا
ہوش میں نہیں تھا
وہ نہیں جانتا تھا وہ کیا کر رہا ہے نہ رباب نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی اسے صرف اسفند کو حاصل کرنا تھا جو وہ کر چکی تھی
💥💥
(جاری ہے)