55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“‘ مصطفیٰ آپ مجھے بتا کیوں نہیں رہے ہے کہ آپ مجھے کہاں لیکر جا رہے ہیں کم از کم اتنا تو بتا دیں”‘
حورین مصطفیٰ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتی ہوئی اس بار تھوڑا جھنجھلا کر بولی جبکہ اسکی یہ جھنجھلاہٹ دیکھ کر مصطفیٰ ہولے سے مسکرا دیا تھا
“‘تم بغیر کوئی سوال کئے بس خاموشی سے میرے ساتھ چلو تمھیں تھوڑی دیر میں خود معلوم ہو جائے گا “‘
وہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر محظوظ ہوتا اسکو اپنے ساتھ لئے آگے بڑھا تھا
وہ حورین کے ساتھ بہت خوش تھا اور اسکی خوشی ہر ایک انداز سے جھلکتی تھی
اس نے طے کر لیا تھا کہ وہ حورین کو کچھ معلوم نہیں ہونے دیگا کیونکہ وہ اسے کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا اور اس موڑ پہ آنے کے بعد تو بلکل بھی نہیں
“‘ اچھا ٹھیک ہے مت بتائے پر میری آنکھوں سے یہ کپڑا تو ہٹا دیں مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا ہے اگر میں گر گئی تو “‘
وہ اس بار تھوڑا خفگی سے بولی اور اپنے گرنے کے ڈر سے مصطفیٰ کے بازو کو مضبوطی سے پکڑا تھا
“‘ مجھ پر بھروسہ رکھو حورین میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں تمھیں کبھی گرنے نہیں دونگا “‘
وہ اس بار اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا اسکے نازک وجود کو اپنے حصار میں لیتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا
اسکی بات پر حورین اپنا ڈر بھول کر خود کو اسکی پناہ میں محفوظ محسوس کرنے لگی تھی ہمیشہ کی طرح اسکی موجودگی اسے تحفط کا احساس دلا رہی تھی
اسکی خاموشی پر وہ اسکو اپنے ساتھ لئے آگے بڑھا اور ایک کمرے کے قریب آکر دروازہ کھولتا اندز داخل ہوا اور ساتھ ہی حورین کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی تھی
“‘ اب تم اپنی آنکھیں کھول سکتی ہو “‘
وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتا نرمی سے اسکے کان کی لؤ کو چومتا ہوا اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا
مصطفیٰ کے پرحدت لبوں کا لمس اور اسکی اجازت پر حورین نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی تھی
اس نے اپنی آنکھیں کھول تو لی تھی مگر وہ کمرے میں موجود ہر چیز کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سکت کھڑی رہ گئی تھی
سامنے موجود دیوار پر اسکی تصویرے لگی ہوئی تھی جو جانے کب لی گئی تھی اسے خبر بھی نہیں تھی
سائیڈ پر ہی اسکا وہ سامان رکھا ہوا تھا جو وہ کھو چکی تھی
اسکا ٹیڈی بیئر ۔۔ اسکی پسندیدہ ڈول جو مصطفیٰ نے ہی اسکو لاکر دی تھی جسے وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتی تھی اور بھی بہت ساری چیزیں تھی جنہیں وہ رکھ کر بھول چکی تھا یا کھو چکی تھی
اصل میں اس نے اس سامان کو کھویا نہیں تھا اسے مصطفیٰ نے تلاش کرکے اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا تھا کسی قیمت چیز کی طرح
“‘ مصطفیٰ یہ سب یہاں کیسے اور یہ سب تصویرے یہ کب لی آپ نے “‘
وہ چہرے پر حیرانی بےیقینی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے اسکی جانب پلٹی تھی جو پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ پھنسائے بہت دلچسپی سے اسکے چہرے پر موجود بکھرے رنگوں کو دیکھ رہا تھا
“‘ تم نے کل مجھ سے پوچھا تھا نہ کہ مجھے تم سے کتنی محبت ہے تو یہ تمہارے اس سوال کا جواب ہے جسے میں لفظوں میں تمھیں بتانا نہیں چاہتا تھا اس لئے تمھیں یہاں لیکر آیا ہوں “‘
وہ اسے شانوں سے تھام کر اسے اپنے قریب کرتا ہوا بولا
اسکی آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھ کر حورین کی آنکھیں نم ہوئی تھی کتنی شدت سے اس نے اس لمحے کے لئے دعا کی تھی اور آج وہ لمحہ آ گیا تھا جسے اسکو کب سے انتظار تھا
“‘ میں تم سے تب سے محبت کرتا ہوں حورین جب تمھیں محبت لفظ کا معلوم بھی نہیں ہوگا “‘
وہ اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا
“‘ جس دن سے تم میری زندگی میں آئی میں نے اس دن سے تم سے محبت کی ہے “
“‘ میں نے ہر اس لمحے سے محبت کی ہے جس میں تم مسکرائی ہو “‘
وہ محبت سے چور لہجے میں بولتا اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھتا باری باری اسکی دونوں آنکھوں کو چومنے لگا جن میں اس نے ہمیشہ اپنے لئے محبت دیکھی تھی
“‘ جب بھی میں نے تمھیں خود سے دور کیا ہے سکون مجھے بھی نہیں ملا “”
اسکا ایک ایک لفظ حورین کے دل کے ان زخم کو بھر رہا تھا جو مصطفیٰ اسے اپنی بےرخی کی وجہ سے دے چکا تھا
“‘ تم ہمیشہ ہی اس دل میں رہی ہو حورین اور تمہاری یہ جگہ کوئی نہیں لے سکتا “‘
وہ اسکے ہاتھ کو تھام کر اپنے دل کے قریب رکھتا ہوا بولا اپنی ہتھیلی کے نیچے وہ اسکے دل کی دھڑکنوں کو صاف محسوس کر رہی تھی
“‘ جب آپکو مجھ سے اتنی محبت تھی تو کیوں مجھے تنگ کرتے تھے
“‘ کیوں مجھے خود سے دور کرتے تھے جب میری دوری آپکو بھی سکون نہیں دیتی تھی “‘
اب وہ شکوہ بھری نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی جس پر مصطفیٰ کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم سے غائب ہو گئی تھی
وہ سچ بتا کر اسے خود سے دور نہیں کر سکتا تھا ہرگز نہیں
“‘ حورین کیا تم مجھ سے ایک وعدہ کروگی “‘
اسکی بات کو نظرانداز کرتا وہ اس سے ایک وعدہ چاہ رہا تھا جو وہ کب سے اسے سے کرنا مانگنا چاہتا تھا
“‘ کیسے وعدہ مصطفیٰ “‘
وہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی جسکا اچانک لہجہ ہی نہیں اسکے چہرے کا رنگ بھی اڑ سا گیا تھا
“‘ حورین تم مجھ سے ایک وعدہ کرو چاہے کوئی بھی حالات ہو تم مجھ سے کتنا بھی ناراض ہو پر مجھے چھوڑ کر کبھی مت جانا “‘
اسکا دل کا ڈر لفظوں میں بیاں ہو رہا تھا مگر حورین اسکے یہ ڈر اسکی یہ فکر سمجھ نہیں پائی تھی
“” میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں مصطفیٰ کہ میں آپکو کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤنگی چاہے حالات ہمارے کتنے ہی خلاف ہو “‘
وہ اسکے سینے پر اپنے ہاتھ رکھے اس سے وعدہ کر رہی تھی
اور اسکے منہ سے یہ لفظ سن کر مصطفیٰ کو اپنے اندر ایک سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا
“‘ تھینک یو حورین تم بہت اچھی ہو یہ وعدہ کرکے تم نے مجھے سکون بخشہ ہے “‘
وہ اسکے ہاتھ تھام کر باری باری اسکی دونوں ہھتیلی چومنے لگا
اسکی اتنی دیوانگی پر حورین کو اپنی دھڑکنے تیز ہوتی محسوس ہوئی تھی
“‘ اور آپکے اظہر نے مجھے جو سکون بخشہ ہے اسکا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے “‘
حورین آنکھوں میں آنسوں لئے اسکے سینے سے لگ گئی تو مصطفیٰ نے اسکے ارد گرد اپنے بازو باندھ کر اسے اپنے حصار میں لے لیا تھا
اسکے مضبوط حصار کو محسوس کرکے حورین نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
💥💥
“‘ ڈیڈ آپ نے حفصہ اور ھاد کو کہیں دیکھا ہے میں نے پورا گھر تلاش کر لیا مگر وہ دونوں مجھ کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں ۔۔ کیا دونوں کہیں باہر گئے ہوئے ہیں “‘
وہ لاؤنج میں میں داخل ہوتے ہوئے حیات صاحب سے مخاطب ہوا اسکے لہجے میں بےچینی اور پریشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی
وہ ابھی کچھ دیر پہلے آفس سے واپس لوٹا تھا فریش ہونے کے بعد جب اسے معمول کے متابِک حفصہ کہیں آس پاس نظر نہیں آئی تو اسکا دل یکدم سے پریشان سا ہو گیا تھا
اسلئے وہ اسکو سارے گھر میں ڈھونڈھتا پھر رہا تھا ویسے بھی وہ اس سے ناراض تھی اپنی ناراضگی میں وہ اسکو چھوڑ کر چلی نہ جائے بس اسی بات سے وہ ڈر سا گیا تھا
“‘بیٹا حفصہ بیٹی کچن میں ھاد کے لئے اسکی پسند کی ڈش بنا رہی ہے اور ھاد اپنی ماں کی اسکے کام میں مدد کر رہا ہے “”
حیات صاحب جو صوفہ پر بیٹھے ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہے تھے اسفند کی آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوئے اور اسکے چہرے پر پریشانی کی لکیرے دیکھ کر ہولے سے مسکرا دئے تھے
وہ بہت پہلے ہی اسفند کی آنکھوں میں حفصہ کے لئے محبت دیکھ چکے تھے جسے دیکھ کر انہیں سکون ملا تھا انکا بیٹا اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا تھا اس سے زیادہ خوشی کی بات انکے لئے اور کیا ہو سکتی تھی
“‘ میں ذرا دیکھ کر آتا ہوں دونوں ماں بیٹے ملکر کیا بنا رہے ہیں آپ اپنا پروگرام دیکھئے “‘
حیات صاحب کی بات سن کر ایک سکون سا اسکے اندر اترا تھا وہ انکے جانب ہولے سے مسکراتا ہوا کچن کی ترف بڑھ گیا
حفصہ ہمیشہ کی طرح اسکے بیٹے کو بہت اہمیت دیتی تھی ایک ماں کی طرح اسکے ہر نخرے اٹھاتی تھی
وہ ان دونوں کے بارے میں سوچ کر مسکراتا ہوا کچن کی طرف بڑھ رہا تھا
“” واہ ماما یہ پاستا تو بہت ٹیسٹی بنا ہے آپکے ہاتھوں میں تو میجک ہے یہ میں سارا کھا جاؤنگا “‘
ابھی اس نے کچن کی دہلیز پر قدم ہی رکھا تھا جب ھاد کی خوشی سے چہکتی ہوئی آواز اسکے سماعت سے ٹکڑائی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
ھاد سلیپ پہ بیٹھا ہوا پاستا کھا رہا تھا جبکہ حفصہ اسکے قریب ہی کھڑی تھی اسکی اسفند کی جانب پشت تھی اسلئے وہ اسکو دیکھ نہیں پائی تھی
“‘ سارا ہی کھا لینا یہ سب میں نے اپنے بیٹے کے لئے ہی بنایا ہے اگر تمھیں اور چاہئے تو میں اور بھی بنا دونگی “‘
وہ بہت محبت سے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی بولی وہ دونوں اسفند کی موجودگی سے بےخبر تھے جو دروازے میں کھڑا ان ماں بیٹے کی محبت کو دیکھ رہا تھا
“” سب بیٹے کے لئے ہی بنایا ہے شوہر کا کچھ خیال ہے بھی یا نہیں میں بھی پورے دن کا بھوکا گھر واپس لوٹا ہوں “‘
وہ ان دونوں کو مخاطب کرتا کچن میں داخل ہوا اور آہستہ سے قدم اٹھاتا ان دونوں کے قریب آ کھڑا ہوا تھا
جبکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے حفصہ کے چہرے پہ ھاد سے بات کرتے وقت جو مسکراہٹ تھی وہ اسفند کی موجودگی سے یکدم سے سمٹ گئی تھی جسے اسفند نے شدّت سے محسوس کیا تھا
اسے بہت دکھ ہوا تھا وہ کتنی کوشس کر رہا تھا اس سے معافی مانگنے کی مگر وہ ہر بار ایسے ہی اسکو اور اسکی بات ایسے ہی نظرانداز کر دیتی تھی
وہ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی اس ایک فاصلے پر تھی نا اسکو معاف کرنے کے لئے تیار تھی اور نہ ہی اسکی کوئی بات سن رہی تھی
“‘ ڈیڈ آپ لیٹ آئے ہیں ماما نے پاستا اتنا مزے کا بنایا تھا کہ میں نے سارا ختم کر دیا لیکن کوئی بات نہیں ماما آپکے لئے بھی بنا دیں گی “‘
“‘ بنا دیں گی نہ ماما ؟”‘
وہ اپنے باپ کی طرف دیکھ کر افسوس سے بولتا ہوا اب خاموش کھڑی حفصہ سے معصومیت سے سوال کر رہا تھا
“‘ آپکے ڈیڈ کو پاستا پسند نہیں ہے وہ کھانا کھائے گیں اور آپ جاؤ اپنے روم میں ۔۔ میں یہاں کا کام ختم کر لوں پھر میں اپکے ساتھ گیم کھیلیں گے “‘
وہ اسفند کی خود پر جمی گہری نظروں کو نظرانداز کئے ھاد کی بات کو ٹالتی ہوئی بولی اور اسکو نیچے اتارا تھا
“‘ اوکے ماما میں آپکا انتظار کر رہا ہوں اور ڈیڈ آپ بھی پاستا کھانا شروع کر دیں ماما بہت مزے کا بناتی ہیں “‘
وہ خوشی سے چہکتا ہوا بولا تھا
“‘ میں تو کھانے کے لئے تیار ہوں بس کوئی بنا کر کھیلانے والا تو ہو “”
وہ ایک ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا بولا جس پر ھاد ناسمجھی سے اپنے باپ کو دیکھتا ہوا کچن سے نکل گیا تھا
ھاد کے جانے کے بعد حفصہ سب برتن اٹھانے کے لئے آگے بڑھی تو اسفند اسکی کلائی تھام کر روک چکا تھا
“‘اسفند ہاتھ چھوڑو میرا “‘
اسکا اجنبی لہجہ پر اسفند کو تکلیف ہوئی تھی مگر وہ اتنی آسانی سے اسکو چھوڑنے والا نہیں تھا
وہ اسکی معافی کا طلبگار تھا اور تب تک چین سے بیٹھنے والا نہیں تھا جب تک وہ اسے معاف نہیں کر دیتی
“‘ میں جانتا ہوں حفصہ میں یہ کہنے کا حق نہیں رکھتا کہ مجھے تمہارا یہ رویہ تکلیف دے رہا ہے کیونکہ تم میرے اس سے بھی زیادہ برے رویے کو برداشت کر چکی ہو مگر “‘
اسفند اسکو دونوں بازو سے تھام کر اپنے قریب کرتا ہوا بولا اسکے لہجے میں گہرا دکھ تھا جو حفصہ بخوبی محسوس کر سکتی تھی
مگر وہ سب بھی نہیں بھول سکتی تھی جو اس نے برداشت کیا تھا
“‘ مگر کیا اسفند ۔مگر کیا ۔ اگر تمھیں میرے رویے سے اتنی تکلیف ہو رہی ہے تو کیوں بار بار معافی مانگنے آ جاتے ہو مت آؤ کیونکہ میں تمھیں معاف نہیں کرونگی”‘
وہ اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرتی ہوئی اپنے بازو کو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر اسفند اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا
“‘ میں تب تک تم سے معافی مانگتا رہونگا جب تک تم مجھے معاف نہیں کر دیتی چاہے تم میرے ساتھ کتنا برا رویہ ہی کیوں نہ اختیار کر لو مگر میں تمہاری معافی حاصل کرکے ہی رہوں گا “‘
اسکا باتیں حفصہ کا دل پگھلا رہی تھی وہ اسکے سامنے کمزور پڑ رہی تھی مگر وہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتی تھی
وہ جانتی تھی دھوکہ اسے بھی ملا تھا پر ایک بار وہ اسکی بات تو سنتا تب اسکو اتنا برا نہیں لگتا جتنا برا اسے اسفند کی بےاعتباری سے محسوس ہوا تھا
“‘ اسفند پلز مجھے جانے دو ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے “‘
وہ اسکی طرف دیکھے بغیر بول رہی تھی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ اگر وہ اسکی آنکھوں میں التجا دیکھ لگی تو وہ سب بھول جائے گی
“‘ یہ تم میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو “‘
اس بار وہ اپنا ایک بازو اسکی کمر کے گرد حائل کرتا اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا
“‘ اسفند کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے کوئی آ جائے گا”‘
اسکی اتنی قربت سے حفصہ پر ایک عجیب سے کیفیت طاری ہو گئی تھی ساتھ ہی کچھ دن پھلے کچن والا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھوما تو چہرے کا رنگ یکدم سے بدلا تھا
“‘ تم ڈر کیوں رہی ہو میں تمہارا شوہر ہوں یا تمھیں میری قربت پریشان کر رہی ہے “‘
اسکی گھبراہٹ سے وہ لطف انداز ہو رہا تھا دل کوئی شرارت کرنے پر آمادہ تھا
“‘ اسفند فالتو باتیں مت کرو اور چھوڑو مجھے ورنہ میں “”
اسفند کے نرم گرم لبوں کا لمس اپنے ہونٹ کے نیچے محسوس کر کے اسکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا
“‘ ورنہ کیا “‘
وہ چیلنج کرتی نگاہوں سے اسکو دیکھتا مزید اسکے چہرے پر جھکا اور اس بار اسکے ناک میں موجود لونگ پر اپنے لب رکھ دئے تھے
“‘ ورنہ میں شور کرونگی اور پھر سب یہاں آ جائے گے”‘
وہ اسکو اپنی دھمکی سے ڈرا رہی تھی مگر سامنے والے پر اثر کہاں ہونا تھا
“‘ بلا لو میں کسی سے نہیں ڈرتا میں اپنی بیوی کے ساتھ رومانس کر رہا ہوں کسی غیر کے ساتھ نہیں جو میں ڈروں گا “‘
اس بار وہ اسکے لبوں پر جھک کر اپنی اس خوائش کو پورا کرنے لگا جو وہ کب سے اپنے دل میں دبائے بیٹھا تھا
وہ اسکے چہرے پہ جھکا اپنے محبت اس پر لٹا رہا تھا اسکے عمل میں اتنی نرمی تھی کہ حفصہ کو اپنا آپ ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
اس سے پہلے کہ وہ مزید آگے بڑھتا حفصہ نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے پیچھے دھکیلا تھا
“” بس یہ سب بند کرو اسفند تمھیں کیا لگتا ہے یہ سب کرنے سے میں تمھیں معافی کر دونگی “‘
وہ گہرے گہرے سانس لیتی اس سے فاصلے پر جا کھڑی ہوئی تھی جبکہ اسکی اس بات پر اسفند کو اپنا دل ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا کیا وہ اسے اتنا غلط سمجھتی تھی
“‘ حفصہ یہ میری محبت ہے کوئی دیکھاوا نہیں ہے “‘
اسکا لہجے اس وقت ٹوٹا ہوا سا تھا
“‘میں مانتا ہوں میں غلط تھا پر ایک بار حفصہ تم خود کو میری جگہ رکھ کر سوچو تم وہ سب ہونے کے بعد یکدم سے غائب ہو گئی میں نے تمھیں کہاں نہیں تلاش کیا پھر تم چھ سال بعد میرے سامنے آ گئی تو تم ہی بتاؤ میرے لئے یہ سب قبول کرنا اتنا آسان نہیں تھا “‘
وہ اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا جو اسکی جانب پشت کئے ہوئے کھڑی تھی
“‘ میری تم سے ریکویسٹ ہے حفصہ ایک بار خود کو میری جگہ رکھ کر ضرور سوچنا شاید تمھیں مجھے معاف کرنے میں آسانی ہوگی “‘
وہ اپنی بات کہتا وہاں سے نکل گیا جبکہ اسکے جانے کے بعد حفصہ روتی ہوئی وہیں زمیں پر بیٹھتی چلی گئی تھی
💥💥
“‘ اسفند پلیز کم از کم ایک بار میری کال تو اٹھا لو بس ایک بار میری بات سننے کی کوشش تو کرو “‘
وہ اپنا فون بیڈ پر پھینک کر پریشانی سے بولتا ہوا بیڈ پر آ بیٹھا اور بار بار اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا اپنے اندر کی بےچینی کو کم کرنے کی کوشش کرنا لگا جو کسی بھی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی
“‘ آپ زیادہ پریشان نہ ہو مصطفیٰ اس وقت اسفند بھائی غصّے میں ہیں جب انکا غصّہ کم ہوگا تب وہ آپکی بات ضرور سنے گے “‘
حورین اسکے قریب ہی بیڈ پہ بیٹھتی ہوئی بولی
اسکی حالت کو دیکھ کر حورین بھی پریشان ہو رہی تھی اس نے اسفند اور مصطفیٰ کے درمیاں محبت کو دیکھا ہوا تھا اسلئے وہ مصطفیٰ کی حالت کو اچھی طرح سمجھ سکتی تھی
“” پتہ نہیں حورین اسکا غصّہ کم بھی ہوگا یا نہیں میں نے جو اسے اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے اسکے بعد مجھے نہیں لگتا وہ میری شکل بھی دیکھنا چاہے گا کیونکہ جو رباب نے اسکے ساتھ کیا ہے میں بھی اسکے ساتھ وہی کر چکا ہوں “”
وہ حورین کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا
جب سے اس نے اسفند کو سچ بتایا تھا تب سے اسفند نہ اس سے بات کررہا تھا نہ ہی اسکی کال رسیو کر رہا تھا وہ ایک دو بار اسکے آفس بھی گیا مگر وہ آفس میں بھی موجود نہیں تھا وہاں سے بھی اسے مایوس ہی لوٹنا پڑا تھا
“‘ رشتے اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتے مصطفیٰ اور ویسے بھی آپ دونوں کے بیچ اتنا گہرا رشتہ ہے اسفند بھائی ابھی پریشان ہے جب وہ آپکی مجبوری کو سمجھے گے تب وہ خود آپکے پاس آئے گے کیونکہ آپ نے انکے ساتھ جو کیا اور رباب آپی نے جو کیا اس میں بہت فرک ہے آپ غلط نہیں تھے یہ بات اسفند بھائی بھی سمجھ جائے گے “‘
وہ بہت محبت سے اسکو سمجھا رہی تھی اور اس وقت وہ بولتی ہوئی مصطفیٰ کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
“‘ حورین اگر تم اس وقت میرے ساتھ نہ ہوتی تو میں بہت اکیلا ہو جاتا مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا میں تمہارے بغیر رہ نہیں پاؤ گا”‘
وہ شدّت جذبات سے کہتا اسکے وجود کو اپنے سینے سے لگاتا اسکے بالوں میں اپنا لب رکھ چکا تھا
اسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارتا وہ سکون سا محسوس کر رہا تھا
“‘ میں ہمیشہ آپکے پاس رہوں گی مصطفیٰ کیونکہ میری دنیا آپ سے شروع اور آپ پر ہی ختم ہوتی ہے آپ ہی میرا سب کچھ ہو “‘
حورین اسکے سینے سے لگی ہمیشہ کی طرح اپنی محبت کا اعتراف کر کے اسکی روح کو سراشر کر رہی تھی
“‘ اچھا چلیں یہ باتیں چھوڑیں آپ جلدی سے فریش ہوکر آ جائے میں آپکے لئے کھانا لگواتی ہوں “‘
وہ اس سے جدا ہوتی ہوئی بولی تھوڑا خوشگوار موڈ میں اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی جب مصطفیٰ اسکی کلائی تھام کر اسے پھر سے اپنے قریب بیٹھا چکا تھا
“‘ نہیں رہنے دو مجھے بھوک نہیں ہے آج میٹنگ تھی آفس سے باہر تو وہیں ان لوگوں کے ساتھ ڈنر کرکے آیا ہوں “‘
وہ محبت بھری نظروں سے اسکو دیکھتا اسکے چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اسے بازو سے پکڑ کر اپنی مزید قریب کیا تھا
“‘ پر میرا میٹھا کھانے کا دل ہے “‘
اس بار وہ اپنے چہرے کو اسکے چہرے کے قریب کرتا ہوا معنی خیزی سے بولا تھا اسکی نظریں جو پیغام دے رہی تھی حورین سمجھ نہ سکی تھی
“‘ ٹھیک ہے میں آپکے کھیر لیکر آتی ہوں خاص آپکے لئے بنائی تھی آپکو پسند بھی ہے ‘”
اسکی بات سنکر حورین خوشی سے چہکتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی مگر وہ پھر سے اسکو روک چکا تھا
“‘ نہیں مجھے خیر سے بھی زیادہ مٹھی چیز کھانے کی طالب ہو رہی ہے “‘
وہ اسکے لبوں پر نظریں جمائے بولا تھا
“‘کھیر تو آپکی پسندیدہ ڈش ہے اس سے بھی زیادہ میٹھا کیا ہو سکتا ہے آئس کریم لیکر آؤ آپکے لئے “
وہ پرجوش انداز میں بولتی ایک بار پھر سے اٹھنے لگی مگر اس بار مصطفیٰ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا مکمل اسکو اپنے حصار میں لے چکا تھا
“”مجھے میٹھے میں نہ تو کھیر چاہئے اور نہ آئس کریم “‘
وہ اپنا چہرہ اسکے قریب کرتا ہوا خمار آلودہ لہجے میں بولا اور حورین کی کمر پر اپنی گرفت سخت کی تھی
“‘ تو پھر کیا چاہئے آپکو “‘
اسکی خمار آلودہ آنکھوں میں دیکھ کر حورین کو اپنے دل کی دھڑکنے تیز ہوتی محسوس ہوئی تھی اسکی قربت سے وہ یونہی گھبرا جاتی تھی
“‘ مجھے میٹھے میں یہ چاہئے “‘
اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی مصطفیٰ اسکے گلابی لبوں پر اپنی انگلی پھیرتا اسکے اور اپنے درمیاں باقی کا فاصلہ بھی ختم کرتا اپنے لب اسکے لبوں پہ رکھ چکا تھا
ایک ہاتھ اسکے رخسار پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اسکی کمر پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اسکے وجود کو خود سے قریب تر کر چکا تھا
حورین کو جب اپنا سانس اوکھڑتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے مصطفیٰ کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلا تھا
“‘ بہت برے ہیں آپ مصطفیٰ مجھے تنگ کرنے کا آپ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے “‘
وہ اپنی بےترتیب ہوئی سانسوں کو درست کرتی اسکی آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی مگر سامنے والے پر اسکی گھوری کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا
“‘ تم ہی پہلے مجھ سے میری محبت مانگتی رہتی تھی بولتی رہتی تھی میں تم سے محبت کیوں نہیں کرتا اب میں تم سے محبت کر رہا ہوں تو تمھیں اس پر بھی اعتراض ہے “‘
وہ ایک جھٹکے میں اسکو بازو سے پکڑ کر اسے بیڈ پر لٹا کر آنکھوں میں شرارت لئے اس پر جھکتا ہوا بولا
“‘ مجھے آپکی بےوقت محبت پر اعتراض ہے جو نہ وقت دیکھتی ہے اور نہ موقع “‘
اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ کر حور نے اٹھنا چاہا مگر وہ آج اسکو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا
“‘ تمھیں میری بےوقت محبت پر اعتراض ہے نہ تو اب تو موقع بھی ہے اور وقت بھی تو تمھیں کم از کم اب تو کوئی پرابلم نہیں ہونی چاہئے “‘
وہ حورین کے احتجاج کو نظرانداز کرتا اسکا دوپٹہ سائیڈ پر رکھتا ہوا اسکی گردن پہ جھکتا جبجا اپنا لمس چھوڑنے لگا
اسکی حد سے بڑھتی جسارتوں پہ حورین کا دل تیز رفتار سے دھڑکنا شروع ہو گیا تھا
“‘ مصطفیٰ مجھے “‘
جب شانو سے شرٹ سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تو وہ اسے پکار اٹھی تھی
وہ مزید کچھ مگر اسکی خود پہ جمی نظروں سے وہ کچھ کہہ نہیں پائی تھی
“‘ اگر تم یہ کہنے کا ارادہ رکھتی ہو کہ تمھیں بھوک لگی ہے تو تمہارا کوئی بہانہ نہیں چلے گا مجھے ملازمہ سے پہلے ہی معلوم ہو گیا ہے کہ تم کھانا کھا چکی ہو اسلئے مجھے ڈسٹرب مت کرو “‘
وہ اسکو آنکھیں دکھاتا پھر سے اسکے چہرے پہ جھکتا خود کو سیراب کرنے لگا
اس بار اسکے عمل میں پہلے کی طرح نرمی نہیں تھی جسکا صاف مطلب تھا اسے حورین کی مداخلت بلکل پسند نہیں آئی تھی
“‘ مصطفیٰ “‘
اسکی حد سے زیدہ بڑھتی شدتوں سے گھبرا کر ایک بار پھر وہ اسے پکار اٹھی تھی
اور اس بار اسکی آواز پر مصطفیٰ کے ماتھے پر بل پڑے تھے
“‘ کیا مثلا ہے تمہارے ساتھ حورین تم کچھ دیر کے لئے خاموش نہیں رہ سکتی “‘
وہ ناراضگی سے بولتا اٹھ بیٹھا اور اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا
اسکے ناراض لہجے کو محسوس کرکے حورین کی جان ہوا ہوئی تھی وہ پھر سے اسے پہلے والا مصطفیٰ بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی
“‘ مصطفیٰ پلیز ناراض مت ہو آپ ایک بار میری بات”‘
“‘ حورین میں تمہارا شوہر ہوں کوئی غیر نہیں ہوں جو تم ہر بار اس طرح ری ایکٹ کرتی ہو اسلئے تم پہلے اپنا مائنڈ اچھی طرح سیٹ کر لو پھر اسکے بعد میں تمہاری سنو گا “‘
وہ ناراضگی سے کہتا واشروم میں جا گھسا تھا جبکہ اسکے سخت رویے پہ حورین کی پلکیں نم ہوئی تھی
وہ اسکی شرم حیا کو اسکا گریز سمجھ رہا تھا اور اپنی کیفیت وہ اسکو کس طرح سمجھائے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی
💥💥
“‘ تم یہاں میرے آفس میں کیا کر رہے ہو اور کس کی اجازت سے تم اندر آ گئے “‘
شمس جو اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا اپنے روم میں کسی کی موجودگی کو محسوس کرکے جیسے ہی اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ نگواری سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا
“‘ اسفند یار خان کو تم سے ملنے کے لئے اجازت کی ضرورت نہیں ہے چاہے یہ آفس تمہارا ہی کیوں نہ ہو “
وہ سخت نظروں سے اسکو گھورتا ہوا اسکے سامنے والی چیئر پہ آ بیٹھا جبکہ اسکی بات پر شمس کے ماتھے پر پڑے بلوں میں مزید اضافہ ہوا تھا
“‘ تم شرافت سے میرے آفس نکل جاؤ اس سے پہلے کہ میں اپنے گارڈ کو یہاں بلا لوں “‘
وہ غصّے میں کھولتا اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا دوسری طرف اسفند اسکے غصّے اور گھوری کو نظرانداز کئے بڑے آرام سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھا اسکے بگڑے تیور کو دیکھ رہا تھا
“‘ جب تک میں اپنی بات نہیں کر لیتا تم کیا تمہارا گارڈ بھی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا چاہے تو آزما کر دیکھ لو “‘
اسکا ٹھنڈا لہجہ شمس کا خون کھولا گیا تھا ایک تو ویسے بھی جب سے اسے معلوم ہوا تھا حفصہ اس سے نکاح کر چکی ہے تب سے اسفند کے لئے اسکی جلن مزید بڑھ گئی تھی اوپر سے وہ اسکے آفس میں بیٹھا اسے ہی دھمکا رہا تھا
“‘تم جس بھی بارے میں بات کرنا چاہتے جلدی کرو اور یہاں سے نکلو “‘
اب وہ اپنی جگہ پہ آ بیٹھا اور اسکی طرف دیکھنے لگا
“‘ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے تمھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ میں اس وقت تمہارے پاس کیوں موجود ہوں “‘
وہ ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسکی جانب جھکتا ہوا بولا
اس وقت اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے اس شخص کو گولی مار کر ختم کر دے جس نے اسکی حفصہ کے ساتھ اتنا برا کرنے کی کوشش تھی مگر وہ خود پر بمشکل ضبط کئے بیٹھا ہوا تھا
“‘ اسلئے جو میں کہونگا اسکو زرا غور سے سننا اور میرے ایک ایک لفظ کو اپنے دماغ میں اچھی طرح محفوظ کر لینا کیونکہ میں اپنی بات بار بار دوہرانے کا عادی نہیں ہوں “‘
اس وقت غصّے کی وجہ سے اسکی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی جنہیں دیکھ کر ایک لمحے کے لئے شمس کو خوف سا محسوس ہوا تھا
” ‘” تم کس بارے میں بات کر رہے ہو میں کچھ سمجھا نہیں “‘
وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے خود کو مضبوط ظاہر کرتا ہوا بولا
اسفند کی اپنے آفس میں موجودگی اور اسکی بات سے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا آخر وہ اتنے سالوں بعد اسکے پاس کیوں آیا تھا جہاں تک اسے خبر تھی اسفند ابھی تک اس نے اور رباب نے جو ساتھ ملکر کیا تھا وہ جان نہیں پایا ہے
“‘پہلے میں اس بات سے بے خبر تھا کہ تم چھ سال پہلے رباب کے ساتھ ملکر کیا کر چکے ہو پر”‘
وہ اپنی بات کہتا ایک لمحے کے لئے رکا اور اپنی لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھا جو اتنے بڑے انکشاف پر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
“‘ اگر تم نے یا رباب نے پھر سے ایسی کوئی حرکت کرنے کے بارے میں سوچا بھی تو میں تم دونوں کا وہ حال کرونگا کہ تم زندگی بھر یاد رکھو گے “‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا اسے باور کر رہا تھا
جب اسے سچ معلوم ہوا تھا تو اسے سب سے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ شمس حفصہ کے لئے کوئی مشکل نہ کھڑی کر دے جس طرح وہ نکاح والے دن اسکو چھوڑ کر آئی تھی یقیناً شمس چپ بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا اسلئے آج وہ یہاں موجود تھا اسے یہ بتانے کے لئے حفصہ اکیلی نہیں ہے وہ اسکے ساتھ ہے
“‘ تم ایسی لڑکی کی باتوں پر یقین کیسے کر سکتے ہو جو تمھیں چھوڑ کر میرے پاس آئی تھی اور اب شادی والے دن مجھے چھوڑ پھر سے تمہارے پاس آ گئی ایسی لڑکی کی باتوں پر تم کیسے یقین “‘
“‘ خاموش “
اس سے پہلے کہ وہ حفصہ کے بارے مزید کچھ الٹا سیدھا بولتا اسفند کی گرزدار آواز اسکے روم میں گونج اٹھی تھی جس سے اسے خاموش ہونا پڑا تھا
“‘ اگر تم نے میری حفصہ کے بارے میں مزید کچھ غلط بولنے کی کوشش بھی کی تو میں تمہاری یہ زبان کاٹ کر پھینک دونگا “‘
وہ غراتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور شعلہ بار نظروں سے اسکو گھورنے لگا
اسفند کے حد سے زیادہ خترناک ہوتے تیور دیکھ کر شمس نے خاموش رہنے میں ہی بہتری سمجھی تھی
“‘ ایک اور آخری بار اگر تمہارے دل کے کونے میں بھی حفصہ کے لئے ذرا بھی کوئی غلط خیال ہے یا لانے کی کوشش کی تو اسے فورا نکال دو ورنہ تمھیں جو اپنی اس کمپنی سے بہت پیار ہے نہ مجھے تمھیں اور اس کمپنی کو برباد کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگے گا “‘
وہ اسکو وارننگ دیتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا دروازے کی جانب بڑھا تھا
“‘ کچھ بھی کرنے سے پہلے میری بات یاد رکھنا حفصہ میری بیوی ہے میری عزت ہے اور میری عزت کی طرف اگر کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کریگا تو میں اسے کچھ بھی دیکھنے لائق نہیں چھوڑوں گا “‘
اپنی بات کہہ کر وہ وہاں رکا نہیں تھا جبکہ شمس کتنی ہی دیر اپنی جگہ پہ بیٹھا اسکی باتوں پر غور کرتا رہا
اسکے لفظوں کی سختی سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کہہ رہا ہے اسے کر بھی سکتا تھا کیونکہ وہ اسفند یار خان تھا اس شہر کے ٹاپ بزنس مین میں سے ایک جو اتنی طاقت رکھتا کہ اپنے ایک اشارے پر کسی کو بھی مٹی میں ملا سکتا تھا
اسکی باتوں نے شمس خان کو پھر سے اپنے فیصلے پہ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا
💥💥
ہوگی