Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
“‘ آپ یہاں بیٹھے ہیں اور میں آپکو پورے گھر میں تلاش کر رہی ہوں چلئے چل کر کھانا کھا لیجئے ٹھنڈا ہو رہا ہے “‘
رخسار بیگم لان میں ایک طرف خاموشی سے چیئر پر بیٹھے ابراھیم خان سے مخاطب ہوئی تھی
وہ کافی دیر سے انہیں پورے گھر میں تلاش کرتی پھر رہیں تھی انہیں یہاں بیٹھا دیکھ کر رخسار بیگم کو اطمینان سا ہوا تھا
وہ جانتی تھی کہ انکے شوہر کے دل میں انکے لئے نہ محبت ہے نہ ہی عزت پر انکے لئے ابراھیم صاحب ہی سب کچھ تھے
“‘ تمہاری بیٹی میرا چین سکون تباہ کر کے چلی گئی ہے اور تمھیں کھانے کی پڑی ہے “‘
وہ قہربرساتی نظروں سے انکی طرف دیکھتے ہوئے جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے
انکے اس قدر شدیش ردعمل پر رخسار بیگم سہم کر ان سے دو قدم پیچھے ہوئی تھی
اتنے سال انکے ساتھ گزارنے کے بعد بھی وہ آجتک انکے اس رویہ کی عادی نہیں ہوئی تھی
“‘ دس دن وہ گئے ہیں پورے دس دن تمہاری اس بیٹی کا کچھ پتہ نہیں چلا جو دوسری بار معشرے میں میری عزت خراب کر کے چلی گئی ہے “‘
انہونے غصّے میں سختی سے اپنی مٹھی بھینچی تھی
انکی اس الزام پر رخسار بیگم نے تڑپ کر انکی طرف دیکھا تھا
“‘ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسا نہ بولیں ابراھیم اگر اس بار وہ اپنی مرضی سے گئی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے جو ہوا اس میں ہماری حفصہ کی کوئی غلطی تھی “‘
انہونے اپنی بیٹی کے دامن پر لگے داغ کو مٹانا چاہا تھا جو لوگ اس پر لگا چکے تھے
“‘ تمہارے کچھ بھی کہنے سے وہ سب نہیں بدلنے والا رخسار پہلے کی طرح اس بار بھی تمہاری بیٹی کی ہے غلطی ہے”‘
انکے زہر خند لہجے پر رخسار بیگم کے آنسوؤں میں مزید روانی آ گئی تھی کیسا باپ تھا وہ جو اپنی بیٹی کے بارے میں ایسے بول رہا تھا
وہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ انہیں حفصہ کی فکر سے زیادہ شمس کے ساتھ ہونے والے پارٹنرشپ ٹوٹ جانے کا ڈر تھا
“‘ اسے تو شکر کرنا چاہیے تھا کہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی شمس اس سے نکاح کرنے کے لئے راضی ہے ورنہ وہ جو کر چکی ہے اسکے بعد تو کوئی بھی عزت دار گھر کے لوگ ہم سے رشتہ بھی جوڑنا پسند نہیں کریں گے پر اس خودغرض لڑکی کو دیکھو بھاگ گئی اپنے باپ کی عزت کا بھی خیال نہیں کیا اس نے”‘
انکی باتیں کسی تیر کی طرح رخسار بیگم کے دل میں لگ کر انکے دل کو زخمی کر رہی تھی
“‘ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسا مت بولیں ابراھیم ہماری حفصہ ایسی نہیں ہے آپ اسکے باپ ہوکر ایسی باتیں کیسے کر سکتے ہیں”‘
انہیں معلوم تھا انکا شوہر پتھر دل ہے پر اپنی بیٹی کے لئے بھی انکے دل میں ذرا بھی جذبات نہیں تھے
“‘ باپ ہوں اس لئے اتنا کچھ کرنے کے باوجود اسکا قتل کرنے کے بجائے میں نے اسے اس گھر میں رہنے دیا اسکا نکاح کرانے کا سوچا لیکن نہیں وہ نکاح سے بھی بھاگ گئی “‘
اگر وہ خود ایک خودغرض باپ نہ ہوتے تو یقیناً اپنی بیٹی کی تکلیف کو ضرور سمجھتے تھے
“‘ یہاں کھڑے ہوکر رونے سے اچھا ہے تم جاکر دعا کرو کی تمہاری بیٹی مل جائے میں تو شاید اسے بخش دوں پر شمس نہیں بخشے گا “‘
اپنی بات کہتے وہ وہاں رکے نہیں تھے تیزی سے قدم اٹھاتے اندر کی جانب چلے گئے جبکہ رخسار بیگم وہیں زمین پر بیٹھ کر روتی چلی گئی تھی ۔۔
💥💥
“‘ کھڑی کیوں ہو بیٹھو کیونکہ میں جو تم سے بات کرنے والا ہوں اسے سن کر یقیناً تم مزید کھڑی نہیں رہ پاؤ گی “‘
وہ اجنبی انداز میں کہتا اپنی ٹیبل پر رکھے پین کو لیکر اپنے ہاتھ کی انگلی میں گھمانے لگا
وہ جو پہلے ہی شاق سی کی کیفیت میں اسکے سامنے کھڑی تھی اپر سے اسکے انداز اور بات نے حفصہ کو ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا تھا
حفصہ کو اسکے گھر رہتے ہوئے ہفتے سے زیادہ دن ہو گئے تھے
اور آج اس نے پہلی بار اسے خود سے مخاطب کیا تھا بلکہ اس سے کچھ ضروری بات کرنے کے لئے اپنی سٹڈی میں بھی بلایا تھا اور اب وہ حیران سی سامنے کھڑی اسکے ہاتھ میں گھومتے پین کو دیکھ رہی تھی
“‘ تمھیں معلوم ہے میرے باپ نے تمھیں اپنے گھر میں اسلئے رکھا کہ تم ایک اچھی لڑکی ہو اور تم نے میرے بیٹے کی مدد کی”‘
وہ بولتا ہوا ایک لمحے کے لئے رکا تھا اور حفصہ اسکی بات میں الجھ کر رہ گئی تھی جانے وہ کیا کہنے والا تھا
“‘ سوچو اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ تمہارے باپ کے آدمی پورے شہر میں تمھیں تلاش کر رہے ہیں تو شاید یہ جاننے کے بعد وہ تمھیں اس گھر میں ایک پل کے لئے رہنے نہیں دیں گے”‘
اپنی بات کہتا وہ تلخی سے مسکرایا جبکہ حفصہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھ رہی تھی
یہ سب تو اس نے حیات صاحب کو نہیں بتایا تھا اور اسے اس بات کا بھی اندازہ تھا کہ اسکا باپ چپ بیٹھ کر رہنے والوں میں سے نہیں تھا
اور وہ یہ کیسے بھول گئی تھی اسفند یار خان کے لئے کچھ بھی جاننا مشکل نہیں تھا
“‘ میرا ایک فون اور وہ لوگ تمہارے سامنے ہونگے”‘
اسکی دھمکی پر حفصہ نے اپنے سامنے موجود ٹیبل کا سہارا لیا تھا
اسفند کو یہ جان کر حیرانی ہوئی تھی کہ وہ اپنے نکاح سے بھاگ کر آئی ہے اسکا نکاح کس سے ہو رہا تھا وہ جان نہیں پایا تھا
“‘ میں نے تمہاری ساتھ جو کیا تم اسکا بدلہ لینا چاہتے ہو نہ “‘
وہ گرنے سے کے انداز میں اپنے پیچھے موجود کرسی پر بیٹھی تھی
وہ کسی بھی حال میں وہاں واپس نہیں جانا چاہتی تھی وہاں جانے کا سوچ کر ہی نہ رکنے والے آنسوؤں کا سلسلا شروع ہو گیا تھا جسے دیکھ اسفند کا دل بےچین ہوا تھا
“‘ رونے کی بجائے تم یہ سوچو کہ مجھے انہیں یہاں بلانے سے کیسے روک سکتی ہو”‘
وہ اسکی بات کو بلکل نظرانداز کرتا اپنی چیئر سے اٹھا اور بھاری قدم اٹھاتا عین اسکی چیئر کے سامنے آ رکا تھا
“‘ کیسے روکوں ” اور تم میرے روکنے سے رک جاؤگے”‘
ایک امید اور سوال کے ساتھ حفصہ نے اسکی گہری نیلی آنکھوں میں جھانکا تھا
اور اسفند کو لگا کہ اسکا دل سینے سے نکل کر باہر آ جائے گا اگر وہ اسی طرح سے اسکی آنکھوں میں جھانکتی رہی
“‘ مجھ سے نکاح کر لو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا “‘
اپنے دونوں ہاتھ اسکی چیئر کی دونوں سائیڈ پر رکھ کر وہ اسے اپنے گھیرے میں لیتا اسکے قریب جھکا تھا
بےتاثرات چہرا لئے وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا اور اسکے الفاظ سن کر حفصہ کو لگا زمین اسکے قدموں کے نیچے سے کھسک گئی ہو اگر وہ کھڑی ہوئی ہوتی تو یقیناً گر جاتی
“‘ نکاح تو اس سے کیا جاتا ہے نہ جس سے محبت ہو یا نکاح کے بعد محبت کرنی ہو اور یقیناً تمھرے دل میں میرے لئے محبت لفظ کا میم بھی نہیں ہوگا “‘
وہ سیدھا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی اس وقت وہ اسکے قریب ہی جھکا ہوا تھا اتنا قریب کہ حفصہ کو اسکی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی اسکی اتنی قربت سے اسکو اپنا حلق خشک پڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
“‘ تم نے بلکل درست فرمایا حفصہ ابراھیم خان پر میں اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا اسکی محبت میں ناپسندیدہ شخص سے نکاح کرنے کے لئے بھی تیار ہوں”‘
وہ چہرے پر گہری سنجیدگی لئے بولا تھا نظریں ابھی بھی حفصہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھی
“‘ اگر میں منع کر دوں “‘
اس نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتو کے نیچے دبایا تھا اسکی یہ حرکت اسفند کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی تھی
“‘ یہ نکاح کرنے کے علاوہ تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے پھر بھی میں تمھیں پانچ منٹ دیتا ہوں سوچنے کے لئے اچھی طرح سوچ کر بتا دو “‘
وہ سیدھا ہوتا ہوا بولا اور اپنی کلائی پہ بندھی گھڑی کو دیکھا جیسے بتا رہا ہو اسکا ٹائم شروع ہو چکا ہے
اس نے بہت دماغ سے کھیل کھیلا تھا وہ حفصہ کے سامنے جھکنا نہیں چاہتا تھا بلکہ اس نے حفصہ کو ایسی مشکل میں ڈال دیا تھا کہ وہ اب خود اسکے سامنے جھکنے پر مجبور تھی
💥💥
“‘ کہاں لیکر جا رہیں ہیں آپ مجھے “‘
اسکی روئی روئی سی آواز مصطفیٰ کے کانو میں پڑی تھی مگر وہ اسکے سوال کو نظرانداز کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا تیزی سے اسکی کلائی تھامے سیڑھیاں اتر رہا تھا جبکہ حورین کو اسکے قدم سے قدم ملاکر چلنے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا
“‘ میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں کہاں لیکر جا رہے ہیں آپ مجھے”‘
وہ اسکی چوڑی پشت کو دیکھتی ہوئی بولی مگر وہ اسکے سوال کا جواب دینے کے بجائے اسکی نازک کلائی پر اپنی گرفت مزید سخت کر چکا تھا
اسکی سخت پکڑ سے درد کی وجہ سے حورین کی منہ سے کراہ سی نکلی تھی جسے وہ فورا ہی دبا گئی تھی
پچھلے ایک ہفتے سے دونوں کے درمیان بات چیت بلکل بند تھی حورین نے داؤد صاحب سے یہ تک کہہ دیا تھا کہ اگر مصطفیٰ نے اسکا نکاح کرانے کی کوشش کی تو وہ خود کی جان لے لگی مصطفیٰ نے جب یہ سنا تو وہ سختی سے اپنے لب بھینچ کر رہ گیا تھا
اس لڑکی کی ضد دن با دن بڑھتی ہی جا رہی تھی آج اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اسکی ضد کو توڑ کر ہی رہے گا اسلئے آج وہ اسے وہاں لے جارہا تھا جہاں اسکا جہاں حورین کو جانے کی اجازت نہیں تھی
“‘ اگر آپ میرا نکاح زبردستی کروانے کے لئے لے جارہے ہیں تو میں پہلے ہی کہہ رہی ہوں اسکا انجام بلکل اچھا نہیں ہوگا آپ پچھتاؤ”‘
اسکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا جب وہ اسے اپنے ولا کے پچھلے حصّے میں موجود بیسمینٹ کے سامنے آکر روکا تھا
یہ وہ جگہ تھی جہاں مصطفیٰ نے اسکو آنے کی کبھی اجازت نہیں دی اور آج وہ اسے لئے یہاں کھڑا تھا وہ ناسمجھی سے اسکو دیکھنے لگی
“‘ اندر جو ہوگا اسے دیکھ کر تم پچھتاوگی کہ تم نے مجھ جیسے شخص سے محبت کرنے کی غلطی کی اور اپنا فیصلہ بدلنے میں دیر نہیں کروگی”‘
وہ ایک نظر اسکی طرف دیکھتا اسکو اپنے ساتھ کھینچتا اندر داخل ہوا تھا
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی پر وہاں کا منظر دیکھ کر حورین کا اندر کا سانس اندر اور باہر کا باہر ہی رہ گیا تھا
سامنے ہی اسکا نیا باڈی گارڈ اور مصطفیٰ کا ایک اور آدمی اسکے پرانے والے باڈی گارڈ کو بری طرح پیٹ رہے تھے جبکہ وہ کرسی پہ بیٹھا درد میں کراہ رہا تھا حورین کو ان لوگوں سے دحشت سی محسوس ہو رہی تھی
“” پلیز مت مارو اسے خدا کے لئے چھوڑ دو آپ روکو ان لوگوں کو”
وہ وہشت بھری نظر سے اپنے سامنے چلتے منظر کو دیکھ کر مصطفیٰ کی جانب مڑکر حلق کے بل چلائی تھی
جسکی نظریں بھی اسی منظر پر تھی ایک ہاتھ اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے وہ بڑے سکون سے کھڑا یہ سب اینجوے کر رہا تھا
“‘ He Betrayed me ”
”اور اسے اسکی سزا مل رہی ہے “
وہ اسکے ڈر اسکی چیخ کو نظرانداز کرتا اسکے قریب بڑھا نظریں ابھی بھی اسی منظر پر تھی جہاں اسکے دو آدمی اس شخص کو بری طرح سے پیٹ رہے تھے اسکا لہجہ بلکل برف کی طرح سرد تھا جبکہ آنکھیں قہر برسا رہی تھی
اور وہ جانتی تھی اسکے لہجے کو اسکے اس انداز کو وہ جان چکی تھی
اس وقت اسے اپنے پیچھے کھڑے اس شخص سے وحشت محسوس ہو رہی تھی
“‘ پلیز میرے وجہ سے اسکو سزا مت دیں یہ مر جائے گا”‘
وہ اس بار روتی ہوئی اسکی جانب پلٹی حورین کو لگ رہا تھا کہ یونی والے واقع کی وجہ سے وہ اسکے پرانے والے گارڈ کو سزا دے رہا ہے
“” اسے تمہاری وجہ سے نہیں اپنی گھستاخی کی وجہ سے اسکو سزا مل رہی ہے”‘
وہ سخت انداز میں بولتا آگے بڑھا تھا
حورین پر نظر رکھنے میں اسکا پرانے والے گارڈ بھی ان لوگوں سے ملا ہوا تھا وہ چاہتا تو اسکو یوں ہی ختم کر دیتا پر وہ حورین کو بتانا چاہتا تھا کہ وہ کیا ہے
” چھوڑ دو اسے وہ مر جائے گا آپ کیسی کو بھی سزا دینے کا حق نہیں رکھتے “
اس بار اسکی آواز میں درد تھا وہ اپنی نظروں کے سامنے کسی کو یوں زخمی ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی
جبکہ مصطفیٰ اسکی بات کو نظرانداز کرتا آگے بڑھا اور اپنے آدمی کو ہٹا کر اتنی طاقت سے اس گارڈ کے منہ پر مکا مارا تھا کہ وہ شخص کرسی سے گر چکا تھا ناک اور منہ سے خون بہنا شروع ہو چکا تھا
مصطفیٰ نے پاس پڑی اس لوہے کی کرسی کو اٹھایا اور حورین کی طرف دیکھا جو دیوار سے لگی کھڑی وحشت زدہ نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی اسکے لئے مصطفیٰ کا یہ روپ بلکل نیا تھا
اور مصطفیٰ بھی اس سے اپنی اصلیت چھپانا بھی نہیں چاہتا تھا
وہ اسے جان بوجھ کر یہ سب دکھا رہا تھا کہ وہ کیا ہے
وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کس شخص کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنا فیصلہ بدل لے
اس نے پوری طاقت لگا کر وہ کرسی اسکی ٹانگوں پر ماری تھی تکلیف سے وہ شخص چیخ اٹھا تھا ساتھ ہی حورین کی چیخ بھی نکلی تھی
وہ دیوار کے سہارے کھڑی اپنی سسکی دبانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی
مصطفیٰ اسکو روتا ہوا دیکھ کر اسکے قریب بڑھا تھا
“” یہ سب دیکھنے کے بعد کیا تم اب بھی مجھ سے محبت کر پاوگی ؟
”نہیں نہ !! اسلئے بول رہا تھا اپنا فیصلہ بدل لو ورنہ یہ سب دیکھنے کی نوبت ہی نہ آتی “‘
وہ اپنی ایک انگلی سے اسکے آنسوں کو صاف کرتا ہوا بولا نظریں اسکے خوف سے زرد پڑتے چہرے پر جمی ہوئی تھی
“‘ میرے دل میں آپکے لئے سالوں سے جو محبت ہے وہ یہ سب دیکھ کر ایک لمحے میں ختم نہیں ہوگی اور میرا فیصلہ آخری سانس تک نہیں بدلے گا “‘
وہ روتی ہوئی زمین پر بیٹھتی چلی گئی وہ محبت کے اس سفر پر تھی جہاں واپسی کا راستہ تھا ہی نہیں
” اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو ٹھیک ہے اس نکاح کے بعد مجھ سے کسی قسم کی امید مت رکھنا تم “‘
اسکی ضد کے آگے اپنے غصّے کو ضبط کئے وہ ہار مانتے ہوئے بولا
“‘جب تم اس ایک طرفہ رشتے کو نبھاتے ہوئے تھک جاؤ تو یاد رکھنا میری طرف سے تمہارے لئے واپسی کے راستے ہمیشہ کھلے ہے تم اس رشتے سے آزاد ہو سکتی ہو”‘
وہ اپنی بات کہہ کر تیزی سے پلٹا تھا جبکہ اسکی بات پر حورین اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھونٹ پھونٹ کر رونے لگی تھی
💥💥
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں اتار رہی تھی
اس وقت وہ اسفند کے کمرے میں اسکی بیوی کی حثیت سے موجود تھی یہ وہ خواب تھا جو اس نے اور اسفند نے ساتھ ملکر دیکھا تھا مگر یہ اس طرح پورا ہوگا دونوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا
اس وقت اسکو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کچھ گھنٹوں کی دلہن ہے ڈارک محرون کلر کی فراک جو حیات صاحب اسکے لئے لیکر آیں تھے زیب تن کئے ہوئے تھی جیولری کے نام پر گلے میں چین موجود تھی جو حیات صاحب نے نکاح سے پہلے توہفے میں اسکو دی تھی میک اپ کے نام پر صرف لپ اسٹک لگائے وہ آئنے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی
اس نکاح سے اگر کوئی خوش تھا تو وہ ھادی تھا اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا نکاح کے بعد سے وہ ایک لمحے کے لئے بھی اسکے پاس سے نہیں ہٹا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ اسکے کمرے میں سلاکر آئی تھی
ھاد کا خوشی سے چمکتا چہرہ سوچ کر اسکے خود کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی تھی اور تبھی واشروم کا دروازہ کھلا
آہٹ پر حفصہ نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسفند وائٹ ٹی شرٹ بلیک ٹراؤزر میں مبلوس نکھرا نکھرا سا واشروم سے نکلا تھا
نکاح کے بعد سے پہلے بار وہ اسکو دیکھ رہی تھی کیونکہ نکاح کے فورا بعد ہی وہ اپنے وکیل کے ساتھ کہیں چلا گیا تھا
اسفند جو اسکی موجودگی کو نظرانداز کئے بیڈ کی جانب بڑھ رہا تھا یک لمحے کے لئے اسکی نظر ڈریسنگ کے پاس کھڑے حفصہ کے وجود پر پڑی
اسے دیکھ کر ایک لمحے کے لئے اسفند کو لگا اسکی سانس سینے میں ہی کہیں اٹک گئی ہو وہ بےخود سا اسکو تکتا اسکی جانب بڑھنے لگا
دونوں کی نظریں ملی تو اپنے اور اسکے درمیان بندھے رشتے کو سوچ کر حفصہ شرم سے اپنی نظریں جھکا گئی تھی اسکو اپنی جانب بڑھتا دیکھ دھڑکنے مزید تیز ہوئی تھی
اپنی حالت پر قابو پانے کے لئے اس نے اپنے پیچھے موجود ڈریسنگ کا سہارا لیا تھا وہ عین اسکے سامنے آ کھڑا ہوا اور اپنا ہاتھ اسکے چہرے کی طرف بڑھایا تو حفصہ سختی سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
“‘ تم کتنی بھی کوشش کر لو میں تمہارے حسن کے جال میں پہلے کی طرح پھسنے نہیں والا اسلئے یہ سب کرکے اپنا وقت برباد مت کرو”‘
وہ اپنے انگوٹھے سے اسکی لپ اسٹک کو بےدردی سے صاف کرتا ہوا گہری سنجیدگی سے بولا جبکہ نظریں اسکی بند آنکھوں پر ٹکی ہوئی تھی
اسکی بات اور انگوٹھے کا لمس اپنے لبوں پر محسوس کر کے حفصہ نے فورا اپنی آنکھیں کھولی تھی
“‘ وقت میرا برباد ہوگا تمھیں اسکی فکر کیوں ہے”‘
اس نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی تھی پر اسکی غلطفہمی کو دور بھی نہیں کیا تھا
حفصہ کی بات پر اسفند زود سے ہنستا ہوا بیڈ پر آ لیٹا تھا
“اگر ایسی بات ہے تو یہاں میرے قریب آؤ اور ایک اچھی بیوی ہونے کا فرض پورا کرو “
وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے گہری نظروں سے اسکو دیکھتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اسکو اپنے بہت قریب بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا تھا
وہ جو پہلے ہی پریشان اور گھبرائی ہوئی اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹکا رہی تھی
اسکے بدلتے لہجہ اور بات پر جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا جو اس پر نظریں جمائے ہوئے لیٹا تھا
دونوں کی نظریں ملی ایک کی نظر میں پریشانی حیرانی تھی پچھتاوا جانے کتنے ہی جذبات جبکہ دوسرے کی نظریں کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی اور سرد تھی اسکا ننھا سا دل پل میں سہما تھا
” تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا یہاں آؤ یا ساری رات ایسے ہی کھڑے کھڑے گزارنے کا ارادہ ہے تمہارا مائی ڈیر وائف”
اس بار وہ طنزیہ انداز میں بولتا اٹھ بیٹھا جبکہ نظریں ابھی بھی اس پر جمی ہوئی تھی اسمے کوئی شک نہیں تھا کی وہ خوبصورت تھی اور اس وقت نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی اس نے فورا ہی اپنی سوچ کو جھٹکا تھا
اسکے لفظوں میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ اسکی جانب بڑھی تھی
“”ٰ تم اور میں اچھے سے جانتے ہے یہ شادی صرف ھادی””
وہ اپنا جملہ ابھی مکمل بھی نہیں کر پائی تھی جب وہ اسکی کلائی کو اپنی گرفت میں لیتا اسکو بےدردی سے اپنے قریب کھینچ چکا تھا
حفصہ جو اس حملے کے لئے تیار نہ تھی اسکی سخت گرفت سے سیدھا اسکے سینے سے آ لگی
” نہیں ” تم کچھ نہیں جانتی حفصہ اسفند یار خان “
وہ اسکے دوسرے بازو پر بھی اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا اسکی گرفت کے ساتھ اسکے لہجے میں بھی سختی آ گئی تھی
اس وقت ان دونوں کے چہرے بےحد قریب تھے حفصہ اسکی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی دل بہت تیز رفتار سے دھڑکا تھا
اسنے ایک بار بھی خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی یہ وہی سخص تھا جسکی اتنی قربت کے لئے وہ تڑپتی رہی تھی جسکی ایک جھلک کی وہ دیوانی تھی
“” اور اگر تمھیں اس بات کی غلط فہمی ہے کہ یہ سب تمہاری وجہ سے کیا ہے تو تم بلکل غلط سوچ رہی ہو اسفند یار خان کے لئے تم اب اتنی ضروری نہیں رہی””
اسکی آنکھیں خطرناک حد تک لال ہو چکی تھی اور اسکے لفظ حفصہ کے سینے میں کسی تیر کی طرح چبھ رہے تھے
ایک آنسوں ٹوٹ کر اسفند کے سینے پر گرا تھا جسکی نرمی کو اس نے محسوس کیا تھا جانے کس احساس کے تحت وہ اسکے چہرے کے مزید قریب ہوا نظریں اسکے کنپکپاتے لبوں پر آ ٹکی
اسکا پاگل دل بغاوت کرنے کے لئے مچل رہا تھا اپنی باہوں میں موجود لڑکی پر وہ سارے حق رکھتا تھا ابھی وہ کوئی گھستاخی کرنے ہی والا تھا کہ جب حفصہ کی آواز سے جیسے ہوش میں آیا تھا
“” اور اگر میں کہوں کہ میرے لئے تم اب بھی اتنے ہی ضرر….”
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی اگلے ہی لمحے اسے بےدردی سے دھکّا دیا گیا اور وہ سیدھا فرش پر آ گری
“” خبردار …خبردار اگر تم نے ایک لفظ بھی مزید بولا تم جیسی لڑکی کبھی کسی کی نہیں ہو سکتی “”
وہ ایک جھٹکے میں بیڈ سے اٹھ کر اسکی طرف بڑھا تھا اور وہ زمین پر بیٹھی اسکو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھنے لگی اس وقت جسکی آنکھوں میں اسکے لئے صرف نفرت تھی
اپنی کچھ دیر پہلے والی بدلی ہوئی کیفیت کو حفصہ سے تو چھپا سکتا تھا مگر خود سے نہیں
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا مزید اسکے قریب ہوا اور زمین پر اسکے مقابل آ بیٹھا تھا
“‘ جانتی ہو تمہاری جگہ پہلے یہاں تھی “‘
وہ اسکا نازک ہاتھ اپنے بھاری ہاتھ میں تھام کر اپنے دل کے قریب رکھتا ہوا بولا
اسکا ٹوٹا لہجہ حفصہ نے بخوبی محسوس کیا تھا اپنی آنسوں سے بھری آنکھیں بند کئے وہ اسکی دل کی دھڑکنوں کو بھی محسوس کر رہی تھی
“‘ اور اب تمہاری جگہ یہاں ہیں جہاں تم اس وقت بیٹھی ہو “‘
وہ بےدردی سے اسکا ہاتھ جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے کی لائٹ بند کرتا بیڈ پر آ لیٹا تھا
اس نے دوبارہ حفصہ کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی آج یہ لڑکی اسکا امتحان بنی ہوئی تھی اپنے دل میں اتنی نفرت ہونے کے بعد بھی اسکا دل بغاوت کرنے پر اکسا رہا تھا
اور وہ پھر سے اسکے سامنے ہارنا نہیں چاہتا تھا
💥💥
(جادی ہے)
