Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اپنی انگلیوں کو موڑتی ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی اسکے ہر ایک انداز سے گھبراہٹ اور بےچینی صاف ظاہر ہو رہی تھی
اور ہوتی بھی کیوں نہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہ حورین سے حورین مصطفیٰ شاہ بنی تھی
داؤد صاحب اسفند اود گھر کے ملازمؤں کی موجودگی میں سادگی سے اسکا نکاح ہوا تھا
مصطفیٰ نے داؤد صاحب سے کسی بھی قسم کا انتظام کرنے سے منع کر دیا تھا اسکی نظر میں یہ نکاح بھی بس یک زمہداری ہی تھی جسے وہ حورین کی خوشی کے لئے پورا کر رہا تھا
اور اب وہ اپنے روم میں انجانے میں اسکا انتظار کر رہی تھی اسے یقین تھا کہ وہ اسکے پاس ضرور آئے گا مصطفیٰ کا آنے کا سن کر ہی اسکی دھڑکنے تیز ہو رہی تھی
اپنی محبت کو پا لینے کی خوشی اسکے چہرے پر صاف ظاہر ہو رہی تھی وہ جانتی تھی مصطفیٰ اس نکاح سے خوش نہیں ہے پر اسے پورا یقین تھا کہ وہ اپنی محبت سے اس سٹون مین کو ضرور پگھلا دیگی اسے بس کچھ وقت تک انتظار کرنا تھا
“‘ کر لیا تم نے اپنا شوق پورا اب تو سکون مل گیا ہوگا تمھیں “‘
وہ جو بےچینی سے ٹہل رہی تھی اس آواز پر اسکے تیزی سے چلتے قدم یکدم رکے تھے
اس نے پلٹ کر دیکھا تو مصطفیٰ کی جگہ رباب کو دروازے میں کھڑا پایا تھا
“‘ آپ کس بارے میں بات کر رہی ہیں آپی میں کچھ سمجھی نہیں “‘
وہ ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھتی ہوئی اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی
جبکہ اسکی بات سن کر رباب طنزیہ مسکراتی ہوئی اسکی سائیڈ سے نکلتی ہوئی اندر داخل ہو چکی تھی
“‘ اب تم اتنی بھی بچی نہیں ہو حورین کہ میری بات کو سمجھ نہ پاؤ “‘
رباب اسکی طرف پلٹی اور ایک نظر اسکو دیکھا جو ابھی بھی ناسمجھی سے اسکو تک رہی تھی
“‘ میرے بھائی کو تو پہلے ہی تمہارے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا تھا اب تم نے اس نکاح کرکے مکمل طور پہ اپنا بنا لیا ہے'”
وہ بےتاثرات چہرہ لئے طنزیہ انداز میں بولی جو ہمیشہ کی طرح حورین کا معصوم دل دکھا گیا تھا
بچپن سے لیکر آج تک اسکا رویہ اسکے ساتھ ایسا ہی رہا تھا حورین اسکو اپنی بڑی بہن کی طرح سمجھتی تھی پر اس نے اسے کبھی چھوٹی بہن کی نظر سے نہیں دیکھا تھا
“‘ آپکو غلطفہمی ہوئی ہے آپی میں مکمل انکی ہوں پر مصطفیٰ مکمل طور پہ میرے نہیں ہے “‘
اسکے لہجے میں آنسوؤں کی نمی گھل گئی تھی پلکیں جھپکا کر وہ انہیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی
“‘اسکے بہن ہونے کہ باوجود اسے میرے بارے میں کچھ نہیں معلوم پر حورین کو کون سی ڈش پسند ہے وہ اسے معلوم ہے
“‘ حورین کا پسندیدہ رنگ کیا ہے “‘
“‘ حورین کو کس بات سے چڑ ہے”‘
“‘ کس چیز سے الرجی ہے حورین کو بچپن میں پہلی بار بخار کب ہوا “‘
وہ بولتی بولتی ایک لمحے کے لئے رکی تھی اس وقت اسکا لہجہ زہر اگل رہا تھا
“‘ اس سب کے باوجود تم کہہ رہی ہو وہ مکمل تمہارا نہیں ہے “‘
انھیں سب چیزوں کی وجہ سے وہ حورین کو ناپسند کرتی تھی جو آج پہلی بار الفاظ بن کر اسکی زبان سے نکل رہے تھے
“‘ ایسی بات نہیں ہے آپی وہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں “‘
وہ کبھی ان دونوں بہن بھائی کے درمیاں میں نہیں آنا چاہتی تھی پر انجانے میں آ چکی تھی
اسکی بات سن کر رباب تلخی سے مسکرائی تھی
“‘ اگر اسے کسی سے محبت ہے تو وہ تم ہو تمہاری وجہ سے اس نے آج تک اپنی بہن کو نظرانداز کیا ہے اسکی خوشیاں اسکے غم اسکے لئے کوئی معنے نہیں رکھتے ہیں “‘
وہ خاموشی سے کھڑی آنسوں بہا رہی تھی حورین کو اندازہ نہیں تھا کہ رباب کے دل میں اسکے لئے اتنی نفرت ہے
“‘ تم نے میرے بھائی کو مجھ سے دور کیا ہے تم یہاں سے چلی کیوں نہیں جاتی ہمیشہ”‘
“‘ رباب بس خاموش ہو جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے کہے الفاظ میں سچ ثابت کر دوں”‘
اسکا جملہ ابھی مکمل نہیں ہو پایا تھا کہ مصطفیٰ کی رعبدار آواز پہ اسکی بولتی بند ہوئی تھی
حورین نے گھبرا کر دیکھا جو خطرناک تیورے لیے انکی طرف بڑھ رہا تھا
“‘ دیکھا تمہارے خلاف یہ ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا خون کے رشتے سے زیادہ یہ لڑکی عزیز ہے تمھیں”‘
وہ غصّے سے اسکی طرف دیکھ کر بولی اسکی بات پر مصطفیٰ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا
“‘ تم میری بہن ہو اس لئے سب بکواس برداشت کر رہا ہوں ورنہ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو اسکی گردن اس وقت میرے ہاتھ میں ہوتی “‘
وہ انگلی اٹھا کر اسکو وارننگ دینے والے انداز میں بولا اور پاس کھڑی حورین کی کلائی تھام کر اسکو وہاں سے کھینچتا ہوا کمرے سے نکل گیا
جبکہ رباب وہاں کھڑی غصّے میں کھولتی رہی تھی
💥💥
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے اپنے جگہ رک سے گئے تھے
حفصہ صوفہ پر بیٹھی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنس رہی تھی
یہ وہیں منظر تھا جس کے وہ خواب دیکھتا تھا کہ جب بھی وہ آفس سے واپس آئے سب سے پہلے اسکے مسکراتے چہرے پر اسکی نظر پڑے
آج ویسے بھی وہ خوشگوار موڈ میں تھا اسکے نکاح کی وجہ سے اب اسکا کیس کافی مضبوط ہو گیا تھا ھاد کی کسٹڈی اب اسی کو ملنی تھی
دوسرا حفصہ کا ہنستا چہرہ ایک انجانا سا سکون اسکے اندر اترا تھا
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اس طرف بڑھ رہا تھا جب سامنے کا منظر بدلہ تھا
حفصہ کے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ اسکی نظر حدید پر پڑی وہ اس سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا جس پر وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے سے روک رہی تھی
اسکا خوشگوار موڈ ایکدم سے ہی بدلہ تھا اپنے آفس بیگ پر اسکی پکڑ سخت ہوئی تھی جلن کا احساس پورے بدن میں دوڑ گیا تھا
“‘ کس بات پر اتنا ہنسا جا رہا ہے “‘
اسکی رعبدار آواز پر دونوں ہی یکدم چپ ہوئے تھے اور گردن موڑ کر آنے والے کو دیکھا
“‘ ڈیڈ آ گئے دیکھیں ڈیڈ چاچو آ گئے میں نے انہیں کتنا مس کیا تھا”‘
ھاد اپنے باپ کو دیکھ کر دوڑتا ہوا اسکے ٹانگوں سے جا لپٹا تھا
اپنے بیٹی کی طرف دیکھ کر اسکے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی
“‘ ارے بھائی آپ آ گئے پتہ میں آپ سے ملنے کے لئے آفس ہی جانے والا تھا بٹ ڈیڈ نے روک دیا بولے شام تک تم واپس آ ہی جاؤگے “‘
حدید خوشدلی سے کہتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اپنے بھائی کے سینے سے جا لگا
حدید کو یہاں دیکھ کر اسفند کو بلکل حیرانی نہیں ہوئی تھی کیونکہ حیات صاحب صبح ہی اسے حدید کی واپسی کے بارے میں آگاہ کر چکے تھے
وہ تعلیم کے سلسلے میں لندن گیا ہوا تھا اور اب اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس لوٹا تھا
“‘ بہت خوشی ہوئی تمھیں دیکھ کر اب ہماری فیملی کمپلیٹ ہو گئی ہے”‘
وہ بہت محبت سے اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا اسے اپنے بھائی سے بہت محبت تھی
“‘ مجھے بھی بہت خوشی ہوئی واپس آکر اور سب سے زیادہ خوشی مجھے آپکے نکاح کا سن کر ہوئی ہے”‘
وہ پاس بیٹھی حفصہ کی طرف دیکھ کر بولا اسکی بات پر اسفند کی نظر بھی حفصہ پہ پڑی تھی جو ھاد کے ماتھے پہ آئے بالوں کو بہت محبت سے پیچھے کر رہی تھی اس رات کے بعد سے دونوں کے درمیاں بات چیت مکمل بند تھی ویسے بھی وہ پہلے بھی کہا اسکو مخاطب کرتا تھا
“‘ اور مزے بات یہ ہے کہ میں آپکی بیوی مطلب حفصہ سے ان چند گھنٹوں میں میری اچھی دوستی ہو گئی ہے “‘
وہ حفصہ کی طرف ایک آنکھ دباتا اپنی جگہ آ بیٹھا اور پاس بیٹھے ھاد کو اپنی گود میں بیٹھا لیا
“‘ دھیان سے حدید انکی ایک بری عادت ہے لوگوں کو اپنا عادی بنا کر چھوڑنے کی “‘
اسفند اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا حیرانی سے بولا اور ٹو سیٹر سوفہ پہ آ بیٹھا جہاں اس وقت حفصہ بیٹھی ہوئی تھی
اسکے پھیل کر بیٹھنے سے اسفند کی ٹانگ اسکی ٹانگ سے ٹکرائی تو حفصہ تھوڑا سا اپنی جگہ سے کھسکی تھی
“‘ آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہے کیا آپ حفصہ کو پہلے سے جانتے تھے “‘
وہ حیرانی سے اپنے بھائی کی طرف دیکھ کر بولا اسکی بات سے قریب بیٹھے حیات صاحب بھی حیران ہوئے تھے
حیات صاحب اسے پہلے ہی اسفند کا نکاح کن حالت میں ہوا سب بتا چکے تھے اس لئے اسکا حیران ہونا جائز تھا
“‘ ارے میں مذاق کر رہا تھا دراصل آج کل کی لڑکیوں کی یہی عادت ہوتی ہے مجھے لگا شاید یہ بھی ایسی ہی نہ ہو “‘
اس بار وہ تلخی سے کہتا اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا جو اب مکمل اسکی طرف دیکھتی ہوئی اسے گھور رہی تھی
پر وہ اسکی گھوری کو نظرانداز کرتا صوفہ کی پشت پر اپنا بازو رکھ چکا تھا
“‘ بھائی آپ کچھ بھی کہو پر حفصہ تو مجھے پہلی نظر میں بہت پسند آئی ہے کیوں ھادی بیٹا میں صحیح کہہ رہا ہوں نہ “‘۔
اس بار اس نے اپنی گود میں بیٹھے ھاد سے تائد چاہی تھی
“‘ آپ بلکل صحیح کہہ رہے ہیں چاچو ماما سب سے بیسٹ ہے اور یہ میری اینجل بھی ہے “‘
ھاد کے لہجے میں اسکے لئے محبت تھی جسے اسفند کے ساتھ ساتھ وہاں موجود سبھی نے محسوس کیا تھا
“‘ آپ سب لوگ خود بہت اچھے ہیں نا اسلئے آپ کو سب اچھے لگتے ہے ورنہ ہر کوئی آپکی طرح نہیں ہوتا آج کل تو لوگ بغیر سچ جانے کسی کے بارے میں اپنی راۓ قائم کر لیتے ہیں “‘
وہ صاف اس پر طنز کر رہی تھی جسے اسفند نے باخوبی محسوس کیا تھا
“‘ ویسے مجھے خوشی ہوئی کہ تمھیں میری بیوی پسند آئی “‘
وہ اسکی بات کو مکمل نظرانداز کرتا مزید کھسکا تھا اسکی بات پر حدید صرف مسکرا دیا تھا
صوفے کی پشت پر رکھا اسکے ہاتھ نے حفصہ کے کندھے کو چھوا تو اس نے ایک نظر اسفند پہ ڈالی جو ایسے انجان بنا بیٹھا تھا جیسے اسے کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا ہو
وہ اسکے رویہ کو سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ ایسا کیوں کر رہا تھا
“‘ اچھا بھائی آپ فریش ہو جائے ہم پھر بات کرتے ہیں اتنے میں ھاد کی چیزے اسے دے دوں جو میں اسکے لئے لیکر آیا ہوں “‘۔
حدید اپنی بات کہتا وہاں سے اٹھا اور ھاد کو اپنے ساتھ لئے وہاں سے لے گیا اسکے ساتھ ہی حیات صاحب بھی وہاں سے چلے گئے تھے
“‘ ابھی تھوڑی دیر پہلے والی حرکت کے بارے میں بتانا پسند کروگی کیا چل رہا تھا سب”‘
سب کے جانے کے بعد حفصہ بھی وہاں سے اٹھنے لگی جب اسفند اسکی کلائی تھام کر اسے جھٹکا دیتا واپس کھینچ چکا تھا
حفصہ جو اس حملے کے لئے تیار نہ تھی سیدھا اسکے اوپر آ گری تھی اپنے ہاتھوں کو اسکے سینے پر رکھ کر اپنے درمیاں فاصلہ قائم کیا تھا
“‘ تم کس بارے میں بات کر رہے ہو میں سمجھی نہیں”‘
اس نے واپس اٹھنا چاہا پر وہ اسکے دونوں بازو کو سختی سے اپنی گردت میں لیتا اسکے ارادے کو ناکام بنا چکا تھا
اس وقت وہ صوفہ پر بیٹھا ہوا تھا اور وہ مکمل اس پر جھکی کھڑی تھی
“‘ میرے بھائی سے دور رہو تم جیسی لڑکی کو میں اپنے بھائی کے آس پاس بھی نہیں دیکھنا چاہتا “‘
اسکے الفاظ حفصہ کے دل پہ کسی تیر کی طرح لگے تھے وہ اسکے بارے میں اتنا گھٹیا سوچتا ہے یہ سوچ کر ہی آنکھوں میں یکدم پانی بھر آیا تھا
اسکے آنسوں دیکھ کر اسفند کو اپنے لفظوں کی سختی کا احساس ہوا تھا
“‘ مسٹر اسفند یہ مت بھولئے کہ مجھ جیسی لڑکی سے آپ نکاح کر چکے ہے “‘
وہ جھٹکے سے خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کراتی سیدھی کھڑی ہوئی اور وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ اسکے جانے کے بعد اسفند کتنی ہی دیر اپنی سوچوں میں گم بیٹھا رہا تھا
💥💥
“‘ رباب زمان شاہ کو پانچ سال بعد اس نا چیز کی یاد کیوں آئی کیا میں جان سکتا ہوں “‘
جانی پہچانی آواز سن کر موبائل پر چلتے اسکے ہاتھ یکدم سے رکے تھے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر وہ الگ انداز میں مسکرائی تھی
“‘ بس پرانے دوست کی یاد آئی تو ملنے کے لئے بلا لیا”‘
وہ اپنا موبائل ٹیبل پر رکھتی ہوئی اسکی طرف دیکھ کر بولی جو اب اسکے سامنے والی چیئر پر بیٹھ چکا تھا
“‘ جہاں تک مجھے یاد ہے ہم دوست تو بلکل بھی نہیں تھے “‘
وہ اپنی کیز اور گوگلز ٹیبل پر رکھتا طنزیہ انداز میں بولا اور ایک نظر اپنے چاروں طرف ڈالی
وہ دونوں اس وقت شہر کے فینسی ریسٹورانٹ میں موجود تھے جو رائس لوگوں کی پسندیدہ جگہ میں سے ایک تھا
“‘ دوست نہ صحیح کرائم پارٹنر تو تھے ہم اور تم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے”‘
وہ ٹیبل پر اپنی کوہنی ٹکاتی ہوئی بولی اور اسکی طرف آنکھ دبائی تھی
اسکی بات پر اس بار شمس مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا تھا
“‘ یہ ہوئی نہ بات پارٹنر “‘
اس بار وہ اپنی چیئر پر ٹیک لگا کر بیٹھتی ہوئی بولی اور ویٹر کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا تھا
“‘ تو بتاؤ لائف کیسی گزری پچھلے پانچ سالوں میں اور ہماری حفصہ شمس خان کے کیا حال ہیں “‘
وہ ویٹر کو آڈر دیتی مکمل اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی
جبکہ اسکی بات پر شمس کی رگے تن سی گئی تھی جسے اس نے باخوبی محسوس کیا تھا
“‘ وہ آج تک حفصہ ابراھیم خان ہی ہے میں آج بھی وہیں ہوں جہاں6 سال پہلے تھا”‘
اس نے ٹیبل پر مکا مارا تھا جس سے سب لوگ انکی طرف متوجہ ہوئے تھے
“‘ کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہیں”‘
وہ سبکی نظروں کو اگنور کرتی تفتیش سے پوچھنے لگی
اسکی بات پر شمس گہرا سانس بھرتا اسکو سب بتاتا چلا گیا تھا اسکی بات سن کر رباب
کے چہرے کے تاثرات بدلتے جا رہے تھے
“‘ اس واقع کے بعد اسکی ماں نے اسے باہر بھیج دیا تھا پڑھنے کے لئے اور اب جب وہ پانچ سال بعد واپس آئی تو میں نے اسے حاصل کرنا چاہا اسکے باپ کے زریہ پر وہ پھر سے بھاگ گئی “‘
حفصہ کا خیال آتے ہی شمس کا غصّہ پھر سے بڑھ گیا تھا جسکا وہ ابھی تک کچھ پتہ نہیں لگا پایا تھا
“‘ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی ہم دونوں خالی ہاتھ ہی رہ گئے ایک طرف تم حفصہ کو حاصل نہیں کر پائے اور میں اسفند کو حاصل کرکے بھی حاصل نہیں کر پائی”‘
وہ تلخی سے مسکرائی تھی اسکی بات سن کر اس بار حیران ہونے کی باری شمس کی تھی
“‘ اب تم مجھے سمجھاؤ کیونکہ تمہاری باتیں ہمیشہ کی طرح میری سمجھ سے باہر ہی رہی ہے “‘
وہ جوس کا گلاس اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا جو ابھی ویٹر رکھ کر گیا تھا
“‘ مطلب یہ کہ ایک سال کے اندر شادی بچہ اور طلاق بس میری واپسی کی وجہ میرا بیٹا تھا جو میں اس سے چھیننے آئی تھی پر اب اس اسفند نے یہ موقع بھی مجھ سے چھین لیا “‘
اسکی اپنے موبائل پر پکڑ سخت ہوئی تھی
“‘ تم تو خالی ہاتھ رہ گئی پر میں اپنے ساتھ ایسا نہیں ہونے دونگا “‘
پوری بات سمجھ آ جانے پر چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ لئے وہ مزے سے اس سے کہہ رہا تھا
“” اور تمھیں کیا لگتا ہے رباب زمان شاہ ہاتھ پر ہاتھ رکھنے والوں میں سے ہے “
وہ اسکی طرف ایک ابرو اچکاتی ہوئی بولی
اسکے اس طرح سے کرنے پر شمس نے بس گردن ہلا کر اسکی بات کا جواب دیا تھا
“‘ رباب زمان شاہ جو اسکا نہیں ہے اسے چھین کر اپنا بنانے والوں میں سے ہے “‘
وہ بہت اکڑ کر بولی جیسے بہت اچھی بات کہہ رہی ہو
“” میں آ گئی ہوں ڈونٹ وری اس حفصہ کو بھی ڈھونڈھنے میں ۔میں تمہاری ہیلپ کرونگی “‘
وہ چالاکی سے مسکرائی تو اسکی بات پر شمس بھی مسکرا دیا تھا
💥💥
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب اسکی گھبرا کر آنکھ کھلی وہ یکدم سے اٹھ بیٹھی اور اپنے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا اور گردن گھما کر دیکھا تو روز کی طرح آج بھی بیڈ خالی تھا
اس دن نکاح کے بعد سے وہ مصطفیٰ کے روم میں شفٹ تو ہو گئی تھی مگر مصطفیٰ نے جیسے اس روم میں آنا ہی بند کر دیا تھا
صبح آنکھ کھلتی تو وہ جلدی گھر سے نکل جاتا رات کو اسکا انتظار کرتے کرتے حورین کی آنکھ لگ جاتی اسکی واپسی کب ہوتی وہ اپنے کمرے میں آتا تھا یا نہیں حورین کو خبر نہیں ہوتی تھی
اس نے سائیڈ ٹیبل پر موجود گھڑی کی طرف دیکھ
گھڑی کی سوئیاں اس وقت رات کا ایک بجا رہی تھی
اس وقت انکی ٹک ٹک اور حورین کی اپنی سانسوں کے علاوہ ہر سو خاموشی تھی
وہ اس خاموشی سے گھبرا کر بیڈ سے اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی
اسکے قدم خودبخود آگے بڑھ رہے تھے اسکا ارادہ لان میں جاکر کھلی فضا کو محسوس کرنے کا تھا جب لاؤنج میں کھڑے مصطفیٰ کو دیکھ کر اسکے قدم رکے تھے
وہ لاؤنج میں موجود گلاس وال کے پاس کھڑا تھا جہاں سے لان کا حصّہ نظر آتا تھا
باہر سے آتی چاند کی روشنی میں وہ اسکا عکس بخوبی دیکھ سکتی تھی
شرٹ کے بازو فولڈ کئے ہوئے تھے
وہ اپنی جگہ پر ایک دم ساکن چہرہ آسمان کی طرف کئے کھڑا ہوا تھا
اس شخص میں ایک عجیب سی کشش تھی جو حورین کو ہمیشہ ہی اپنے سحر جکڑ لیتی تھی اور پھر موت ہی اسکی آزادی تھی
وہ بلکل آھستہ سے قدم اٹھاتی اسکے پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی
“‘ میری زندگی رات کی اس تاریکی کی طرح ہے بلکل خاموش اور کالی “‘
وہ اسکی موجودگی کو محسوس کرنے کی طاقت رکھتا تھا اس لئے بغیر پلٹے بولا
اور اسکے یکدم بولنے سے حورین جو اسے دیکھنے میں کھو سی گئی تھی یکدم ہوش میں آئی تھی
جس طرح وہ اسکی موجودگی کو محسوس کر سکتی تھی وہ بھی کر سکتا تھا
“‘ میں آپکی اس تاریکی زندگی میں روشنی بننا چاہتی ہوں مجھے ایک موقع تو دیں “‘
وہ اسکے چوڑے بازو پر اپنا نازک ہاتھ رکھتی ہوئی بولی
مصطفیٰ نے اپنا سر ہلکا سا ٹیڑھا کرکے اسے دیکھا مگر وہ اپنی جگہ سے ہلا نہیں تھا
بس خاموشی سے اسکے نرم ملائم ہاتھ کا لمس محسوس کرنے لگا جو اسکی روح کو سراحشر کر رہا تھا
“‘ اس تاریکی میں تم خود بھی ڈوب جاؤگی حورین اور میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا “‘
اس بار وہ مکمل اسکی جانب پلٹا اور ایک بھرپور نظر اسکے اوپر ڈالی تھی
چاند کی روشنی اسکے چہرے کو مزید دلکش بنا رہی تھی اسکی سی گرین آنکھوں میں وہ خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کر رہا تھا
“‘ مجھے منظور ہے مصطفیٰ میں آپ کے ساتھ اس تاریکی میں بھی ڈوبنے کے لئے تیار ہوں بس میری محبت کو مجھ سے دور نہ کریں “‘
وہ بےخودی سے کہتی اسکے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ چکی تھی
اسکی نازک ہتھیلی کی نیچے مصطفیٰ کا دل تیزی سے ڈھڑک رہا تھا
“‘ مجھ سے دور رہنے میں تمہاری بہتری ہے حورین ورنہ ایک دن تم میرے وجود سے نفرت کروگی “‘
جانے کیوں اس وقت اسکا لہجہ عجیب سا تھا جو حورین سمجھ نہیں پائی تھی
“‘ حورین کبھی اپنے مصطفیٰ سے نفرت نہیں کر سکتی آپکی حورین اتنی کمزور نہیں ہے مصطفیٰ “‘
وہ اپنے سامنے کھڑے اس لمبے چوڑے شخص کے دونوں بازو تھامتی ہوئی بہت مضبوط لہجے میں بولی تھی
اس وقت وہ جیسے اسے اپنی باتوں سے قائل کرنا چاہ رہی ہو
اسکی بات میں جانے ایسا کیا جادو تھا کہ مصطفیٰ مزید اسکے قریب ہوا اور ہاتھ بڑھا کر حورین کے چہرے پہ آئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے اٹکا دئے
اسکے نرم گرم لمس سے وہ جیسے کھو سی گئی تھی
“‘ وقت اور حالت سب کو کمزور بنا دیتے ہیں “‘
وہ اسکی پیشانی پہ موجود نشان کو اپنے ہاتھ سے چھونے لگا اسکے نشان کو نرمی سے چھوتے ہوئے اسکے ہاتھ اب گال کی طرف بڑھے تھے
“‘ اگر میں کمزور پڑ جاؤ تو آپ مجھے سنبھال لینا “‘
وہ اسکی آنکھوں میں جھانک رہی تھی جس میں اسے اس وقت اپنا عکس نظر آ رہا تھا
اسکی باتوں میں ایک نشہ سا تھا جس میں مصطفیٰ خود کو مدہوش محسوس کر رہا تھا
اسی مدہوشی کے عالم میں اسکے گال کا سفر کرتے اسکے ہاتھ حورین کے لبوں پر آ رکے تھے
ہلکی ہلکی ہوا پھولوں کی خوشبوں اس لمحے کو مزید سحر انگیز بنا رہی تھی
“‘ میں بھی بکھرا ہوا ہوں حورین مجھے بھی سنبھال لو “‘
بےخودی سے کہتا وہ اسکے اوپر جھکنے لگا کہ اسکی سانسوں کی مہک محسوس کر کےحورین کی دھڑکنے بےترتیب ہوئی تھی
“‘ مصطفیٰ میں “‘
اسکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا جب وہ باقی کا فاصلہ طے کرتا اسکے نرم گلابی لبوں پر جھکتا اسکی سانسوں تک کو قید کر چکا تھا
حورین نے سختی سے اسکی شرٹ کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
اسے لگ رہا تھا جیسے وقت رک سا گیا ہو وہ تو بس خود کو اس ڈوبتا ہوا اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی
وہ بےخودی میں اسکے چہرے پہ جھکا محبت کے پھول کھلا رہا تھا
خود کو سنبھالنے کے لئے حورین نے جیسے ہے اپنے نازک بازو اسکی گردن کے گرد حائل کئے مصطفیٰ یکدم ہوش میں آیا تھا
وہ پل میں اس سے الگ ہوا اور بہت ہی بےدردی سے اسے خود سے جدا کیا تھا
“‘ نہیں یہ سب غلط ہے دور رہو مجھ سے “‘ افف خدا یہ میں کیا کر بیٹھا “‘
وہ سختی سے اپنے بال نوچتا یوا خود میں بڑبڑایا تھا
وہ اپنی بدلتی کیفیت سے گھبرا گیا سا گیا تھا جس میں اتنی شدت تھی
“‘ مصطفیٰ میں آپکی بیوی ہوں”‘
اپنی تذلیل پر اسکے آنسوں نکل آئے تھے جنہیں اس نے صاف کرنے کی کوشش نہیں کی تھی
“‘ خاموش ہو جاؤ حورین بلکل خاموش اور خدا کے لئے دور رہو مجھ سے “‘
وہ اسکی سرخ ہوتی آنکھوں سے نظریں چراتا ہوا بولا تو حورین اپنی سسکی کو دباتی بھاگنے کے انداز میں وہاں سے چلی گئی تھی
اسکے جانے کے بعد مصطفیٰ نے پوری طاقت لگا کر اس گلاس وال پہ مکا مارا تھا
“‘ میرے قریب مت آؤ حورین جب تمھیں سچ معلوم ہوگا تو تم مجھ سے نفرت کروگی اور تمہاری اتنی محبت کے بعد میں نفرت برداشت نہیں کر پاؤ گا”‘
وہ پھر سے آسمان کی طرف دیکھنے لگا جہاں چاند اب بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا
چاند کو دیکھ کر اسے کچھ دیر پہلے والا واقع یاد آیا تو بےساختہ اس نے اپنے لبوں کو چھوا
وہ تو چلی گئی تھی مگر اپنی خوشبوں اسکے اندر چھوڑ کر چلی گئی تھی
اس نے سختی اپنی آنکھیں بند کی رات کی تاریکی میں اسکی آنکھ سے ایک آنسوں خاموشی سے ٹوٹ کر کارپیٹ میں جذب ہوا تھا
💥💥
(جاری ہے)
