55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Eousode 16

“‘ کیا میں جان سکتا ہوں کہ تم نے آج یہاں سونے کا پروگرام کس خوشی اور کس کی اجازت سے بنایا ہے”‘
وہ جو سوتے ہوئے ھاد پرکمفرٹر صحیح کرتی خود بھی سونے کے لئے لیٹنے لگی تھی اسفند کی آواز سخت آواز پر یکدم سے اٹھ بیٹھی اور گردن موڑ کر دیکھا تو وہ دروازے میں اپنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا
“‘ آہستہ بولو ھاد سو رہا ہے ویسے بھی آج اسے بہت مشکل سے سلایا ہے “‘
وہ اسفند کو گھورتی ایک نظر سوئے ہوئے ھاد پر ڈالی جو گہری میں تھا
“‘اگر تم چاہتی ہو کہ میں آہستہ بولوں تو تم میرے سوال کا جواب دے دو “‘
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا جبکہ نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی جو اس وقت کاٹن کے لائٹ بلو کلر کے سادہ سے سوٹ میں مبلوس تھی آنکھوں میں نیند کا خمار تھا جو اسکی خوبصورتی کو مزید نکھار رہا تھا
“‘ مجھے کہیں بھی آنے جانے یا سونے کے لئے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں “‘
اسکا جواب دو ٹوک تھا جس پر اسفند اپنی لب بھینچ کر رہ گیا تھا
“‘ اگر تمھیں تمہارا جواب مل گیا ہو تو پلیز یہاں سے چلے جاؤ مجھے اس وقت سخت نیند آ رہی ہے “‘
وہ اب اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اسکی پیش قدمی اور اسکی آنکھوں سے ہر پل نظر آتے جذبات سے گھبرا کر اس سے دوری اختیار کر رہی ہے
اسلئے اپنے لہجے اور رویے کو تھوڑا مضبوط ظاہر کرتی پھر سے لیٹنے کی تیاری کرنے لگی جبکہ اسکی موجودگی سے دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا اس ڈر تھا اگر اسفند مزید کچھ دیر یہاں رکا رہا تھا اسکی کیفیت کو جان جائے گا
“‘ مگر میں تمہارے جواب سے مطمئن نہیں ہوں کیونکہ میں اپنی بیوی کو ہمارے بیڈروم کے علاوہ کہیں اور سونے کی اجازت نہیں دیتا اسلئے تم وہاں چل رہی ہو جہاں تمہاری اصل جگہ ہے “‘
وہ اپنی بات کہتا بیڈ کے قریب آ رکا اور اسے بغیر کوئی موقع دئے جھک کر اسکے نازک وجود کو اپنے بازوں میں اٹھا چکا تھا
اسکی اس حرکت پر حفصہ گڑبڑا سی گئی تھی چیخ مارنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا مگر ھاد کا خیال آتے ہی اپنی چیخ کو دبا گئی
“‘ یہ کیا حرکت ہے اسفند نیچے اتارو مجھے “‘
اسکے مضبوط حصار میں وہ مچلتی دبی دبی آواز میج چیخی مگر وہ اسکی بات اور اسکے احتجاج کی پرواہ کئے بغیر ھاد کے روم سے نکل کر اپنے بیڈروم کی طرف بڑھا تھا
“‘مجھے نیچے اتارو اسفند آخر یہ سب کر کے تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو “‘
وہ اسکے مضبوط بازو پر مکا مارتی ہوئی بولی مگر سامنے والے پر اسکی مار کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا
“” میں کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتا بس تمھیں تمہاری جگہ پر لے جا رہا ہوں “‘
وہ اسکو ایسے ہی اپنے بازوں میں اٹھائے پیر کی مدد سے دروازہ بند کرتا اپنے بیڈروم میں داخل ہوا تھا
“‘ اور تمہاری جگہ یہاں ہے اس کمرے میں “‘
“‘ اس بیڈ پر”‘
“‘ اور میرے قریب “‘
اسکے نازک وجود کو بہت احتیاط سے بیڈ پر لیٹاتا وہ اسپر جھکا
“‘میں اپنی مرضی سے کہیں بھی جاکر سو سکتی ہوں اور تم میرے ساتھ اس طرح زور زبردستی کرکے یہاں سونے پر مجبور نہیں کر سکتے “”
حفصہ نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنا چاہا مگر وہ اسکی دونوں کلائی کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا
“‘ تم سے معافی مانگنے اور تمھیں دور جانے سے روکنے کے لئے اگر مجھے زور زبردستی کرنی پڑے تو میں وہ بھی کرونگا “‘
وہ اس پر مزید جھکتا ہوا کہنے لگا تو حفصہ اسکی پکڑ میں مچلنے لگی جس پہ اسفند نے اسے دونوں کندھوں سے جکڑ لیا
“‘ یہ ناراضگی اب ختم کرو حفصہ ہمارے درمیاں یہ جو دوریاں ہیں یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتی “‘
وہ شدّت جذبات کہتا اسکے چہرے پر جھکا اور اسکے رخسار پر اپنے دہکتے لبوں کا لمس چھوڑ چکا تھا
اسکی اس جسارت پہ حفصہ بوگھلا سی گئی تھی اسے اپنا آپ اسکے بھاری بھرکم وجود کے نیچے دبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
“‘ اسفند ڈور ہٹو مجھے سانس نہیں آ رہا “‘
وہ اسکے چوڑے جسم کو دور دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلا تھا
“‘ اور تمہاری ناراضگی سے میری جو حالت ہو رہی ہے کیا وہ تمھیں نظر نہیں آ رہی حفصہ “‘
اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے کرتا ہوا وہ خمار آلودہ لہجے میں بولا بولتا حفصہ کی دھڑکنوں کو تیز کر گیا تھا
“‘ محسوس کرو ۔۔ کیا میری بےترتیب دھڑکنوں کو تم محسوس نہیں کر رہی ہو ۔۔ “‘
وہ اسکا ہاتھ تھام کر اپنے سینے پہ رکھتا ہوا بولا
“‘ کیا یہ میرے جذبات کی گواہی نہیں دے رہی ہیں “‘
اسکی نظریں حفصہ کے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی اسکی شرٹ کے بٹن کھلے ہونے کی وجہ سے وہ اسکے جسم کی گرمائش کو محسوس کر سکتی تھی جو اسکی ہھتیلی میں داخل ہو رہی تھی
وہ اپنا ہونٹ چباتی اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
“‘ حفصہ میں پاگل ہو جاؤنگا کچھ تو رحم کرو مجھ پر “‘
وہ بےخودی سے بولتا اسکے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا گیا تھا
اسکی گرم سانسیں اپنی گردن پہ محسوس کرکے حفصہ کو اپنی سانسیں بکھرتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
“‘ اسفند پلیز دور ہٹو “‘
وہ مچلی تھی مگر اسکی پکڑ میں مگر وہ یوں ہی بےخود سا اسکی گردن پہ اپنے لب رکھ چکا تھا اسکے لب جب گردن سے اسکے کندھوں تک فاصلہ طے کرنے لگے تو حفصہ کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
اسکی پیش قدمی سے وہ گھبرا رہی تھی اسے جب لگا کہ وہ رکنے والا نہیں ہے تو بےبسی سے اسکی پکڑ میں سسکنے لگی
اسکی سسکی پر اس بار اسفند اسکی طرف متوجہ ہوا تھا
“‘ ڈرو مت حفصہ میں تب تک کچھ نہیں کرونگا جب تک تم مجھے معاف نہیں کر دیتی اور میں جانتا ہوں وہ دن بھی دور نہیں ہے “‘
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا جذبات سے بولا اور اسکی پیشانی کا بوسہ لیتا اس پر سے دور ہٹا تھا
“‘ اور ہاں یہاں سے جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت ورنہ میں تمہاری معافی کا بھی انتظار نہیں کرونگا ویسے بھی اپنا حق لینے کے لئے مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور اس بات سے تم اچھی طرح واقف ہو “‘
اسکا حفصہ کے ساتھ ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بس وہ اسے اپنی بات سے ڈرانا چاہتا تھا تاکہ وہ پھر سے ھاد کے پاس سونے کے بارے میں نہ سوچے
اپنی بات کہہ کر وہ بیڈ کے دوسری طرف آ لیٹا اور لائٹ بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا جبکہ حفصہ کتنی ہی دیر لیٹی اسکی پشت کو دیکھتی رہی گہری نیند میں جانے سے پہلے اسے احساس ہوا تھا کہ کسی نے بہت نرمی سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا
💥💥
وہ اس وقت اپنی اسٹڈی روم میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ میں موجود ابراھیم خان کی کمپنی سے جڑی معلومات کو غور سے دیکھ رہا تھا
اسے جلد ہی اسکے بارے میں بھی کچھ کرنا تھا اس سے پہلے کہ وہ حورین کو اس سے دور کرنے یا اسے کوئی تکلیف دینے کے بارے میں سوچے
مصطفیٰ کو کبھی کبھی یقین نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اپنی بھتیجی کو مارنے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے مگر دولت کی ہوس انسان کو کچھ بھی کرنے پر مجبور کر دیتی ہے
اسکی تیزی سے لیپ ٹاپ پر کام کرتی انگلیا دروازے پر ہونے والی دستک سے ایک پل کے لئے رکی تھی
“‘ داؤد میں اس وقت بہت مصروف ہوں اگر تمھیں کوئی بات کرنی ہے تو کل کرنا اس وقت مجھے ڈسٹرب مت کرو “
وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے ماتھے پر شکنے لئے آنے والے سے مخاطب تھا
“‘ رات کے اس وقت داؤد صاحب آپکو ڈسٹرب کرنے نہیں آ سکتے کیونکہ وہ سو رہے ہیں اسلئے میں آپکو ڈسٹرب کرنے آئی ہوں “‘
وہ جو سامنے کھڑے وجود سے بےخبر اپنے کام میں مصروف تھا حورین کی آواز پر وہ اب مکمل اسکی طرف متوجہ ہوا اور اسکی طرف دیکھنے لگا جو گھبراہٹ میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخا رہی تھی
اسے لگا تھا کہ داؤد صاحب ہونگے کیونکہ وہ کچھ گھنٹے پہلے اس سے کوئی بات کرنا چاہتے تھے
“‘ تم نے میری بات ٹھیک سے نہیں سنی حورین میں اس وقت بہت مصروف ہوں اسلئے مجھے ڈسٹرب نہ کیا جائے چاہے اس میں کوئی بھی ہو “‘
وہ بےرخی سے کہتا پھر سے اپنے کام کی طرف توجہ دینے لگا
جبکہ اسکی اتنی بےرخی پہ حورین کی آنکھیں نم ہو گئی تھی پچھلے دو دن سے وہ پھر سے اسکے ساتھ پہلے والا رویہ اختیار کئے ہوئے تھا جو حورین کو تکلیف سے دو چار کر رہا تھا
“‘ میں تو بس آپ سے سونے کا پوچھنے آئی تھی رات بھی کافی ہو چکی ہے آپ چل کر آرام کر لیجئے ویسے بھی آج آپ سارا دن بہت مصروف رہے ہیں یہ سب کام تو کل بھی ہو جائے گا “‘
اپنے لبوں کو بےدردی سے کچلتی وہ آنکھوں میں امڑ آنے والے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی جو اسکی بےرخی پر آنکھوں میں بھر آئے تھے
حورین کی بات پر اب اسکا دھیان دیوار پہ لگی گھڑی کی طرف گیا جو رات کے دو بجا رہی تھی اپنے کام میں وہ اتنا گم ہو گیا تھا کہ اسے وقت کا خیال بھی نہیں رہا تھا
“‘ تمھیں میری فکر کب سے ہونے لگی حورین میں کھانا کھاتا ہوں یا نہیں کب سونا ہے اور کتنے کام کرنا ہے کتنا نہیں تمھیں اس بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے “‘
وہ اپنی بات کہہ کر چہرے پہ امڑ آنے والی مسکراہٹ کو بمشکل روکتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوکر اسکے مقابل آ کھڑا ہوا اور اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا
وہ اس سے ناراض نہیں تھا نہ ہی کبھی ہو سکتا تھا بس وہ جان بوجھ کر اسکو اپنی باتوں اور رویے سے اسکو پریشان کر رہا تھا جو اسکی سزا تھی اسے خود سے دور کرنے کی
“‘آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ مجھے آپکی فکر نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو میں یہاں آنے کی بجائے اس وقت مزے سے اپنی نیند پوری کر رہی ہوتی “‘
وہ مصطفیٰ کے رویہ پہ رو دینے کو تھی مگر خود کو مضبوط ظاہر کرتی ہوئی بولی
“‘ اچھا تو تمھیں میری فکر تھی اسلئے تم یہاں آئی یا پھر بیڈ پر میری غیر موجودگی تمھیں پریشان کر رہی تھی “‘
وہ اسکے چہرے پر نظریں جمائے اپنے بھاری قدم اٹھاتا مزید اسکے قریب ہوا تھا
جبکہ اسکی بات پر حورین کے چہرے پر کئی رنگ بکھر گئے تھے جنہیں چھپانے کے لئے وہ اپنا سر جھکا گئی تھی
اصل میں حقیقت تو یہ ہی تھی ان گزرے دنوں میں اسے مصطفیٰ کی اتنی عادت سی ہو گئی تھی کہ اسے مصطفیٰ کے بغیر کمرے میں نیند بھی نہیں آ رہی تھی
“‘ بولو حورین خاموش کیوں ہو گئی کیا میرے بغیر نیند نہیں آ رہی تھی تمھیں “‘
وہ اسکے جھکے سر کو دیکھتا ہوا سوال کر رہا تھا اور ساتھ ہی اپنی انگلی اسکی تھوڈی کے نیچے رکھ کر اسکا جھکا چہرہ اوپر کیا
“‘ جب آپکو میری فکر نہیں ہے تو آپ کیوں جاننا چاہتے ہیں کہ مجھے نیند آ رہی تھی یا نہیں “‘
اسکی باتوں کا مطلب سمجھ کر وہ ناراضگی سے اسکا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر وہاں سے جانے لگی تھی جب وہ تیزی سے اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا اسکی کوشش کو ناکام کر چکا تھا
“‘ تمہاری فکر نہیں کرونگا تو کس کی کرونگا میری زندگی میں ایک تم ہی تو ہو جسکی مجھے صبح شام فکر رہتی ہے “‘
وہ اب اس پر اپنا گھیرا مزید تنگ کرتا اسے خود سے قریب کر چکا تھا حورین اسکی باتوں میں اتنا کھو گئی تھی کہ اسے دونوں کے درمیاں گھٹتے فاصلے کا بھی دھیان نہیں رہا تھا
“‘ اور دن سے مجھے جو نظرانداز کر رہے تھے اسکا کیا جانتے ہے آپکے رویے سے مجھے کتنی تکلیف ہو رہی تھی “‘
اسکی ذرا سے محبت پر اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا اور ساتھ ہی شکوہ بھی کیا گیا جس پہ مصطفیٰ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
“‘وہ تو میں تمھیں تنگ کر رہا تھا پر کوئی بات نہیں آج میں اپنی دی ہوئی ہر تکلیف کا ازالہ کر دونگا “‘
آنکھوں میں شرارت لئے وہ اسکے چہرے پر جھکنے لگا تھا
“‘چھوڑیں مجھے آپ بہت برے ہیں جائے میں آپ سے بات نہیں کرونگی “‘
اسکی بات پر حورین ناراضگی سے خود کو آزاد کرانے لگی مگر اسکی پکڑ مضبوط تھی
“‘ کوئی بات نہیں آج میں تمھیں بات کرنے کا موقع بھی نہیں دونگا “‘
وہ ذو معنی لہجے میں کہتا اسکے چہرے پر جھکا کر باقی کا فاصلہ بھی مٹا چکا تھا
حورین اسکی انگلیوں کو اپنی کمر میں پیوست ہوتی محسوس ہو رہی تھی
اسکی جنونیت سے حورین کانپنے لگی تھی
وہ دیوانوار اسکے لبوں پہ جھکا اسکی سانسوں کو قید کئے ہوئے تھا
حورین کے لئے یہ جاننا مشکل ہو گیا تھا کہ اس نے اپنی اگلی سانس کب بھری تھی اسے حورین کے لمس کی طلب اپنی سانس سے بھی زیادہ ضروری تھی
”’ تم سے دور رہ کر تکلیف میں تو میں بھی رہا ہوں حورین “‘
اسکے لبوں کو آزادی بخشتہ وہ اپنی پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکاتا ہوا بولا اور اسکے شرم سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا
“‘ اور مجھے ہمارے درمیاں یہ فاصلے پسند نہیں ہے حورین “‘
مصطفیٰ اسکو شدت جذبات سے بھری نظروں سے دیکھنے لگا
اسکی نظروں کی تپیش تاب نہ لا کر حورین اپنی نظریں جھکا گئی جب اسے اپنے نائٹ گاؤن کی ڈوری کھلتی ہوئی محسوس ہوئی تو اسے اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا
“‘ مصطفیٰ ۔۔۔ یہ آپ “‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی مصطفیٰ اسکے لبوں پہ اپنی انگلی رکھ کر اسے خاموش کر چکا تھا
“‘ دو دن سے تمھیں چھوڑ رہا ہوں پر آج نہیں ۔۔۔۔ آج تمہارا کوئی بہانہ نہیں چلنے والا “‘
وہ اپنے پر حدت لبوں کا لمس اسکی گردن پر چھوڑتا ہوا جھکا اور اسکے نازک وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا
“‘ آج میں تمھیں بتانے والا ہوں کہ ہمارے درمیاں یہ فاصلے مجھے کتنی تکلیف دیتے ہیں “‘
اسکو گہری نظروں سے دیکھتا وہ اسکے نازک وجود کو اپنی باہوں میں اٹھائے اسٹڈی سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا
اسکی آنکھوں میں بےپناہ تپیش اور اسکے ارادوں کو جان کر حورین نے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپا لیا تھا
کیونکہ وہ جان گئی تھی آج اسکی فرار کی ساری راہ بند تھی اور آج وہ فرار ہونا بھی نہیں چاہتی تھی
💥💥
“‘ میں تمہاری بات پر کیسے یقین کر لوں شمس کہ تم جو کہہ رہے ہو سچ کہہ رہے ہو آخر ثبوت کیا تمہارے پاس اس بات کا “”
شمس کی بات سننے کے بعد ابراھیم خان غصّے سے اسکی طرف دیکھ کر بولے جو انکا سکون برباد کرکے خود اپنی جگہ پہ سکون سے بیٹھا تھا
“‘ اس سے بڑا اور سچ کیا ہوگا کہ اسفند یار خان خود اپنے منہ سے یہ سب کہہ کر گیا ہے کہ وہ حفصہ کا شوہر ہے اور اگر ابھی بھی تمھیں ثبوت چاہئے تو تم خود اسکے گھر جاکر دیکھ سکتے ہو “‘
وہ ایک نظر ابراھیم خان اور ہارون کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا
اسکی بات سن کر ابراھیم خان کے چہرے کا رنگ اڑے چکا تھا اسفند یار کو کون نہیں جانتا تھا دوسرا وہ مصطفیٰ کا قریبی دوست بھی تھا اور ابراھیم خان اس بات کو اچھے سے جانتا تھا
جانے انجانے میں انکی بیٹی حورین کے قریب پہنچ چکی تھی
“‘ نہیں یہ نہیں ہو سکتا ایسا کیسے ممکن ہے ۔۔ میں اس نکاح کو نہیں مانتا “
ابراھیم خان زرلیب بڑبڑاتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا
“‘ تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوگا خان تم اس بات کو قبول کر لو کہ تمہاری بیٹی اور وہ ڈیل دونوں تمہارے ہاتھ سے نکل چکی ہے “‘
شمس نے جیسے ابراھیم خان کے سر پہ بم سا پھوڑا تھا
اسے ابراھیم خان سے حفصہ کی وجہ سے غرض تھی مگر اب وہ بھی اسکے ہاتھ سے نکل چکی تھی تو اب ابراھیم خان اسکے کسی کام کا نہیں تھا
“‘ نہیں تم اتنی آسانی سے یہ ڈیل ختم نہیں کر سکتے جب میں کہہ رہا ہوں میں یہ نکاح نہیں مانتا میں کچھ کرتا ہوں بس تم مجھے تھوڑا وقت دو حفصہ کا نکاح تمہارے ساتھ ہی ہوگا “‘
شمس کی بات پر ابراھیم خان کے ساتھ ہارون بھی گھبرا سا گیا تھا
وہ کسی بھی قیمت پر وہ ڈیل کو ہاتھ سے نہیں جانے دے سکتا تھا اگر ایسا ہو گیا تو انکی کمپنی بینک کروپٹ ہو جائے گی وہ سڑک پر آ جائے گا اور جو پراپرٹی حورین کے نام ہے وہ اسے حورین کے مرنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی تھی جو وہ یہ کام بھی نہیں کر پا رہا تھا
“‘ تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نہیں ہوگا ابراھیم خان حفصہ اسفند کی بیوی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اسکو نہیں چھوڑے گا اگر ہم میں سے کسی نے بھی کچھ غلط کرنے کی کوشش کی تو “‘
شمس خان اپنی بات کہتا ایک پل کے لئے رکا اور ایک نظر ان دونوں کے چہرے کو دیکھنے لگا جو اسکی کو دیکھ رہے تھے
“‘ تو وہ ہمیں برباد کر دیگا جو میں کسی بھی قیمت پر نہیں چاہتا تم اسفند یار خان کی طاقت سے تو واقف ہی ہو وہ بزنس ورلڈ کا بادشاہ ہے اور میں اس سے ٹکڑانا نہیں چاہتا “‘
اس نے جیسے ابراھیم خان کو بھی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا اس دن اسفند کی وارننگ سے وہ تھوڑا گھبرا سا گیا تھا اسکے ارادے بتا رہے تھے کہ وہ جو کہہ رہا ہے اسے کرنے کے لئے بھی تیار ہے
اور وہ اسفند خان سے دشمنی کرکے خود پر کوئی مصیبت نہیں لانا چاہتا تھا اسلئے اس نے پیچھے ہٹنے میں اپنی بہتری سمجھی تھی
“‘ تم ایسے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تم نے وعدہ کیا تھا میری کمپنی میں انویسٹ کروگے “‘
ابراھیم خان اسکا فیصلہ سن کر جیسے سکتے میں آ گیا تھا
“‘ تم بھی پیچھے ہٹ جاؤ ابراھیم خان ویسے بھی تمہاری کمپنی پہلے سے ہی گھاٹے میں ہے اسفند سے دشمنی لیکر خود کو مزید مشکل میں مت ڈالو “‘
وہ ابراھیم خان کو بھی مشورہ دے چکا تھا جس پر وہ غصّے میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا ساتھ ہی ہارون بھی کھڑا ہو چکا تھا
“‘ تم اپنے مشورے اپنے ہی پاس رکھو مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں ابراھیم خان اتنی جلدی خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہے “‘
وہ سخت نظروں سے چیئر پہ بیٹھے شمس کو گھورتا ہوا بولا اور پھر وہاں رکا نہیں تھا تیزی سے اسکے آفس سے نکلتا چلا گیا تھا اسکے پیچھے ہارون بھی تھا جو اپنے باپ کو اتنا غصّے میں دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا
💥💥
“‘کیا تم مجھے بتانا پسند کروگے کہ تم مجھے اس وقت کہاں لیکر جا رہے ہو “‘
وہ ایک نظر کھڑکی سے نظر آتے نظاروں کو دیکھ کر خاموشی سے ڈرائیونگ کرتے اسفند کی جانب پلٹی اور اپنے لہجے میں دنیا جہاں کی بےزاری سمائے اس سے مخاطب ہوئی تھی
“‘ تمھیں بتا تو چکا ہوں کی سرپرائز ہے اور سرپرائز بتایا نہیں دکھایا جاتا ہے اسلئے تھوڑا صبر کرو مجھے پورا یقین ہے میرا سرپرائز تمھیں بہت پسند آئے گا “‘
وہ سڑک پہ نظریں جمائے بولا اس وقت اسکے چہرے پہ گہری سنجیدگی تھی
“‘ مجھے تمہارے سرپرائز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اسلئے تم مجھے واپس گھر لے چلو ویسے بھی ھاد بھی گھر پہ اکیلا ہے “‘
پچھلے ایک گھنٹے سے اسکا ایک ہی جواب سن کر اب اسکا صبر جواب دے گیا تھا اگر حیات صاحب اس سے اسرار نہ کرتے تو وہ اسکے ساتھ کبھی بھی نہ آتی
“‘ ھاد گھر پر اکیلا نہیں ہے آج حدید واپس آ رہا ہے اور ڈیڈ سے میری بات ہو چکی ہے وہ بھی اپنے دوست کے پاس سے جلدی واپس آ جائے گے اسلئے تم اسکی فکر مت کرو “‘
وہ اسکی معلومات میں اضافہ کرتا اسکے واپس جانے کے سارے راستے بند کر رہا تھا
اسفند کی بات سن کر اب وہ کھڑکی کی طرح منہ کرکے بیٹھی رہی اس وقت کار میں مکمل خاموشی تھی
حدید بزنس کی وجہ سے کچھ دن کے لئے شہر سے باہر گیا ہوا تھا اور حیات صاحب کو اپنے دوست کے یہاں جانا تھا اسے لگا تھا کہ وہ ھاد کا بہانہ بنا کر واپس آ جائے گی مگر وہ سارے انتظام پہلے سے کئے ہوئے تھا اب مجبورا اسے وہاں جانا تھا جہاں وہ اسے لے جانا چاہ رہا تھا
وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایک نظر اسے دیکھ رہا تھا جو اسکو نظرانداز کئے ایسے بیٹھی تھی جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو
“‘ ہم اس راستے پہ کیوں ہیں۔۔ تم مجھے کہاں لیکر جا رہے ہو “‘
اسکی کار جب جانے پہچانے راستے پر مڑی تو اس نے گھبرا کر اسفند کی جانب دیکھا تھا
“‘ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں اسفند “‘
اسکی خاموشی پر وہ اس بار چلائی تھی مگر وہ اسکی بات کا جواب دینے کے بجائے ایک جھٹکے میں کار روک چکا تھا
“‘ اترو نیچے تمہارا سرپرائز آ گیا “‘
اسکے حیران پریشان چہرے کو دیکھ کر وہ اسکو حکم دیتا کار سے باہر نکلا تھا
“‘ مجھے نہیں اترنا تم مجھے واپس لے چلو مجھے کوئی سرپرائز نہیں چاہئے “‘
اسکے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسفند اسکو اسکے گھر لیکر آئے گا
اسکی سمجھ نہیں آیا تھا وہ اسکو یہاں کیوں لیکر آیا ہے دوسرا اس میں ہمّت نہیں تھی اپنے ماں باپ اور بھائی کا سامنا کرنے کی
“‘ ہم تب تک واپس نہیں جائے گے جب تک میں وہ کام نہ کر لوں جو میں کرنے آیا ہوں “‘
اسفند نے اسکی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اسے بازو سے پکڑ کر باہر نکالا اور زبردستی اسکو ساتھ لئے اسکے گھر کی طرف بڑھا تھا
“‘میں کہہ رہی ہوں نہ مجھے نہیں جانا ہاتھ چھوڑو میرا اسفند “‘
اسکے احتجاج کو نظرانداز کئے وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لئے آگے بڑھ رہا تھا
“‘ آج نہیں تو کل تمھیں انکا سامنا کرنا ہی تھا اسلئے ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں”‘
وہ ایک نظر اسکے ڈرے سہمے چہرے کو دیکھتا ہوا اسے لئے گھر میں داخل ہوا
ابھی ان دونوں نے لاؤنج میں قدم رکھا ہی تھا جب رخسار بیگم کی نظر ان دونوں پر پڑی
“‘ حفصہ میری بچی “‘
وہ بےیقینی کی کیفیت میں کھڑی اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا یہی حال کچھ حفصہ کا بھی تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ دوڑ کر اپنی ماں کے سینے سے لگ جائے مگر اپنے باپ کی موجودگی سے اسکے قدم اپنی جگہ جم سے گئے تھے
جبکہ انکے منہ سے حفصہ کا نام سن کر اس بار صوفہ پر بیٹھے ابراھیم خان اور ہارون بھی انکی طرف متوجہ ہوئے
لاؤنج میں پانچ لوگوں کی موجودگی کے باوجود مکمل خاموشی تھی
“‘اب یہاں کیا لینے آئی ہو تم اور تمہاری ہمّت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی “‘
ابراھیم خان کی غصّے سے بھری آواز نے لاؤنج کی خاموشی کو توڑا
“‘ ہم یہاں کچھ لینے نہیں آپکو کچھ بتانے آئے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو ہم آرام سے بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں “‘
اسفند مضبوطی سے حفصہ کا ہاتھ تھامتا ہوا ابراھیم خان سے مخاطب ہوا
وہ جو اپنے باپ کے غصّے کی وجہ سے ڈر رہی تھی اسفند کی موجودگی سے اسکو تھوڑا سکون سا ملا تھا
“‘ جو تم مجھے بتانے آئے ہو وہ میں پہلے سے جانتا ہوں اور مجھے نہیں لگتا تمہارے پاس مجھ سے بات کرنے کے لئے کچھ ہے اسلئے تم ابھی کہ ابھی میرے گھر سے نکل جاؤ کیونکہ میرا اب اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے “‘
وہ سخت تیوری لئے ان دونوں کی طرف دیکھ کر غرائے تھے
جب سے وہ شمس کے پاس سے آئے تھے انکا غصّے سے برا حال تھا اب ان دونوں کو یہاں دیکھ کر وہ غصّہ مزید بڑھ گیا تھا
“‘ نہیں بابا ایسا مت بولیں میں بیٹی ہوں آپکی “‘
اپنے باپ کی بات پر وہ تڑپ ہی تو گئی تھی
“‘ جو لڑکی میری عزت کو مٹھی میں ملا کر بھاگ گئی تھی میں اب اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا لے جاؤ اسے میری نظروں سے دور “‘
وہ ناگورای سے بولے تھے انکی بات پر اسفند کو غصّہ تو بہت آیا مگر حفصہ کی وجہ سے ضبط کرکے رہ گیا تھا
“‘ تم جانتے بھی ہو اس لڑکے نے تمہاری بیٹی کے ساتھ کیا کیا تھا جس لڑکے سے تم اپنی بیٹی کی شادی کروانے والے تھے “‘
حفصہ کے آنسوں اسے تکلیف دے رہے تھے اسلئے وہ ابراھیم خان کو سچ بتا دینا چاہتا تاکہ وہ اپنی بیٹی سے نفرت نہ کرے
“‘ نہیں مجھے کچھ نہیں جاننا تم ابھی کے ابھی اسے لیکر یہاں سے نکل جاؤ “‘
وہ اسفند کی بات کو بیچ میں کاٹ کر ان دونوں کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے بولے
“‘ کم از کم آپ ایک بار اسکی بات تو سن لیجئے “‘
اس بار رخسار بیگم بھی خاموش نہ رہ سکی تھی مگر ابراھیم خان نے انہیں جن نظروں سے دیکھ انہیں مجبورا خاموش ہونا پڑا تھا
“‘ میں کسی کی بھی کوئی بات نہیں سننا چاہتا ایک بار میں اسکی غلطی معاف کر چکا ہوں مگر بار بار نہیں تمہارا اس گھر سے رشتہ اسی دن ختم ہو گیا تھا جب تم یہ گھر چھوڑ کر گئی تھی اسلئے تم اس لڑکی کو یہاں سے لے جاؤ “‘
ابراھیم خان ایک ایک لفظ پہ زور دیتے ہوئے بولے جس پہ حفصہ کے آنسوں بہنا شروع ہو گئے تھے اس نے تڑپ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا جو بےبسی سے کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی
“‘ مجھے لگا تھا کہ تم حفصہ کے باپ ہو کم از کم ایک بار اسکی بات ضرور سنو گے مگر میں غلط تھا تم جیسا خود غرض انسان کبھی کسی کے بارے میں سوچ نہیں سکتا “‘
اس بار اسفند کا صبر جواب دے گیا تھا
“‘ اور تم تمھیں تو اپنے آپ کو بھائی کہتے ہوئے بھی شرم آنی چاہئے جو اپنی بہن کی حفاظت بھی نہ کر سکا “‘
اس بار وہ خاموشی سے سب تماشہ دیکھتے ہارون سے مخاطب ہوا تھا اسکی بات پر ہارون شرمندگی سے اپنا سر جھکا گیا تھا
” ‘ اور تم کس شادی کی بات کر رہے ہو اس شادی کی جو صرف ایک بزنس ڈیل تھی وہ شادی نہیں ایک سودہ تھا جو تم اپنی بیٹی کا کر رہے تھے اور اچھا کیا حفصہ نے ایسی شادی سے بھاگ گئی “
وہ اس وقت سخت لہجے میں بولتا ابراھیم خان کی بولتی بند کروا چکا تھا
حفصہ شکر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جو آج اسکے لئے اسکے باپ سے لڑ رہا تھا وہ ابراھیم خان کو سچائی کا وہ آئینہ دیکھا رہا تھا جو ابراھیم خان دیکھنا نہیں چاہتا تھا
“‘ میں یہاں آپ لوگوں کو یہ بتانے آیا تھا کہ حفصہ اکیلی نہیں ہے اسکا شوہر اسکے ساتھ ہے بھلے آپ لوگ اس سے ہر تعلق ختم کر لو مگر میرے گھر کے دروازے ہمیشہ آپ لوگوں کے لئے کھلے رہینگے جب بھی آپکا دل ہو آپ اس سے ملنے آ سکتے ہیں “‘
اس بار وہ رخسار بیگم کی طرف دیکھ کر بولا اور وہ اسکی بات کا مطلب اچھے سے سمجھ گئی تھی
“‘ مجھے لگا تھا کہ ایک باپ کا دل بہت نرم ہوتا ہے وہ تمھیں دیکھ کر سب بھلا دیں گے اور تمھیں معاف کر دینگے مگر میں غلط تھا کیونکہ تمہارے باپ کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے “‘
وہ ایک نظر ابراھیم خان کی طرف دیکھ کر اپنا غصّہ ضبط کرتا ہوا بولا اور خاموشی سے آنسوں بہاتی حفصہ کی کلائی تھام کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا
اسے لگا تھا کہ وہ حفصہ اسکے ماں باپ سے ملا کر انکے درمیاں سب ٹھیک کر دیگا مگر وہ غلط تھا حفصہ کے چہرے پر غم دیکھ کر اسے اب اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو رہا تھا
وہ خاموشی سے اسکو ساتھ لئے باہر آیا اسکو کار میں بیٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا اور کار سٹارٹ کر چکا تھا اس سارے وقت میں حفصہ کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی
وہ اسکے بارے میں کتنا سوچتا تھا اور آج جو اس نے سب کے سامنے اسکے لئے اسٹینڈ لئے اسے دیکھ کر اسکے دل میں اسفند کے لئے جو شکایات جو ناراضگی تھی وہ ختم سی ہو گئی تھی
اگر وہ اسکے لئے اتنا کچھ کر سکتا تھا تو وہ اسکو اسکی غلطی کے لئے معاف بھی کر سکتی تھی
اور اس نے اسے معاف بھی کر دیا تھا
💥💥
(جاری ہے)