53.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

                             💥💥

( ماضی۔۔ چھ سال پہلے )
“‘ میم آپکو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے “”
وہ نیند میں تھی جب اپنی آنکھوں کو بمشکل کھولتے ہوئے ایک انجانی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تھی
کمرے میں موجود واحد کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی اسکے چہرے پر پڑ رہی تھی جس وجہ سے اسے اپنی آنکھیں کھولنے میں پریشانی ہو رہی تھی اوپر سے سر میں اٹھتی شدید درد کی لہر سے اسکے منہ سے کراہ سے نکلی تھی
“‘ ٹھیک ہے کوئی غلطی ہونی بھی نہیں چاہئے ورنہ تم لوگ اپنا انجام جانتے ہی ہو “‘
بھاری مردانہ آواز کے ساتھ آتی اس جانی پہچانی آواز پر حفصہ نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولی اور اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اسکا جسم اس وقت اسکا ساتھ نہیں دے رہا تھا
تکلیف کی وجہ سے اسکے منہ سے سسکی سی نکلی تھی
اسکی سسکی کی آواز نے اس کمرے میں موجود لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی
“‘ آخر کار پورے دو دن اور پانچ گھنٹے بعد تمھیں ہوش آ ہی گیا “‘
اس جانی پہچانی آواز نے جب اسے مخاطب کیا تو اس بار حفصہ نے گردن موڑ کر اس آواز کی جانب دیکھا تو سامنے کھڑے وجود پر نظر پڑتے ہی اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی
“‘ کیا ہوا حیران ہو گئی مجھے یہاں دیکھ کر “‘
وہ چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لئے اسکی جانب بڑھی اور اپنے قریب کھڑے اس شخص کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا
“‘ تمھیں مجھے یہاں دیکھ کر حیران نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دیکھ کر ہونا چاہئے کی اس وقت تم کہاں اور کتنے دن سے موجود ہو “‘
وہ اپنی بات کہتی اسکے بیڈ کے قریب رکھی چیئر پہ آ بیٹھی تھی
حفصہ جو حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی رباب کی بات پر پہلی بار اس نے اپنے آس پاس غور کیا وہ اس وقت انجانے روم میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی یہ جگہ اسکے لئے بلکل نئی تھی
اپنی آس پاس کی جگہ کا جائزہ لیتے وقت اچانک اسکے ذہن میں جھماکہ سا ہوا تھا اسے اچھی طرح یاد تھا وہ اپنے گھر سے یونی کے لئے نکلی تھی پر راستے میں کوئی اچانک اسکے سامنے آیا اور اسکے بعد کیا ہوا اسے کچھ معلوم نہیں تھا
اسے یکدم کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہوا تھا
“‘ میں کہاں ہوں ” مجھے گھر جانا ہے “”
وہ اپنے اوپر سے بلینکٹ ہٹاتی بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اپنے گھومتے سر کو تھام کر وہ پھر سے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی
“‘ چلی جانا گھر ویسے مجھے نہیں لگتا کہ تمہارے گھر والے تمھیں اب گھر میں داخل بھی ہونے دیں گے”‘
وہ چہرے پہ ایک عجیب سی مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
اس وقت اسکا چہرہ ایسا تھا جیسے اس نے کوئی بہت ہی قیمتی چیز کو حاصل کر لیا ہو
“‘ کیا مطلب تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو “‘ اور میں کہاں ہوں “‘ تم یہاں کیوں ہو ” یہ سب ہو کیا رہا ہے “‘
وہ اپنے من میں چلتے سوال ایک ساتھ پوچھ رہی تھی اسکی کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا
وہ یہاں کیوں تھی اور رباب کی یہاں موجودگی سب کچھ اسکی سمجھ سے باہر تھا
“‘ تم پچھلے دو دن سے یہاں میری قید میں ہو اور تم اسلئے یہاں ہو کیونکہ میں ایسا چاہتی تھی “‘
اس بار وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر اسکے سامنے کھڑی ہوئی جو حیرانگی سے اسکو دیکھ رہی تھی
“‘ تم نے ایسا کیوں کیا آخر کیا چاہتی ہو تم مجھ سے”‘
دو دن سے وہ یہاں تھی اسکے گھر میں کیا حال ہو رہا ہوگا سب اسکی غیر موجودگی کے بارے میں یقیناً غلط ہی سوچ رہے ہونگے یہ سب سوچ کر حفصہ کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
وہ اسفند کی وجہ سے رباب کو جانتی تھی اور جہاں تک اسکو یاد تھا اس نے تو کبھی رباب سے سخت آواز میں بات تک نہیں کی تھی تو پھر وہ اسکے ساتھ ایسا کیوں کر رہی تھی وہ سمجھ نہیں پائی تھی
“‘ تم نے میرے اور اسفند کے بیچ میں آنے کی غلطی کی حفصہ ابراھیم خان اسفند صرف میرا ہے میں ہم دونوں کے درمیاں کسی کو نہیں آنے دوں گی “‘
اس نے سختی سے حفصہ کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا جس سے اسکے منہ سے ہلکی سے چیخ نکلی تھی
“‘ چھوڑو مجھے رباب درد ہو رہا ہے “‘
وہ اسکی پکڑ سے اپنے بال آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر اس نے اپنی پکڑ سخت ہی کی ہوئی تھی
“‘ یہ درد تو اس درد کے آگے کچھ بھی نہیں ہے حفصہ ابراھیم جو درد میں تمھیں اور اسفند کو ساتھ دیکھ کر محسوس کرتی تھی جانتی ہو مجھے یہاں درد ہوتا تھا یہاں “‘
وہ اپنے دل کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی اس وقت اسکی آنکھوں میں ایک جنون سا سوار تھا جس سے حفصہ کو خوف سا محسوس ہوا تھا
“‘میں نے تمھیں کوئی درد نہیں دیا اور نہ میں تمہارے درمیاں آئی ہوں رباب کیونکہ اسفند مجھ سے محبت کرتے ہیں “‘
وہ اپنی تکلیف کو ضبط کرتی بمشکل بول پائی تھی درد کی وجہ سے آنکھ سے آنسوں نکل کر اسکے بالوں میں جذب ہو گئے تھے
“‘ اگر تم ہمارے درمیاں نہ آتی تو اسفند صرف میرا ہوتا صرف مجھ سے محبت کرتا مگر تم نے سب خراب کر دیا لیکن اب میں وہ سب ٹھیک کر دونگی جو تمہاری وجہ سے خراب ہوا ہے تمھیں ہماری زندگی سے واپس جانا ہوگا “‘
وہ بےدردی سے اسکے بال چھوڑتی ہوئی اس سے دور ہوئی تھی
“‘ اگر تمھیں لگتا ہے کہ یہ سب کر کے تم اسفند کو حاصل کر لوگی تو یہ تمہاری بہت بڑی غلطفہمی ہے رباب ایسا ہرگز نہیں ہوگا اسفند کبھی تم سے محبت نہیں کرینگے “‘
وہ اپنی سسکی دباتی بمشکل بولی تھی جبکہ اسکی بات پر رباب کا قہقا پورے کمرے میں گونج اٹھا تھا
حفصہ ناسمجھی سے اسکو پاگلوں کی طرح ہنستا ہوا دیکھتی رہی تھی
“‘ تم بہت معصوم ہو حفصہ دو دن دو رات گھر سے غائب لڑکی کی ہمارے معاشرے میں کیا عزت ہوتی ہے تم نہیں جانتی “‘
اس وقت اسکے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی اور اسکی بات پر حفصہ اپنی جگہ سکت بیٹھی رہ گئی تھی
“‘ تمھیں تو تمہارے ماں باپ بھی قبول نہیں کریں گے تو اسفند کیسے قبول کرے گا وہ بھی آخر کو ایک مرد ہے ہر مرد کی طرح اسے بھی عزت دار ہمسفر چاہئے نہ کی تمہاری طرح دو دن گھر سے غائب ہوئی لڑکی”‘
وہ زہر خند لہجے میں بولتی حفصہ کو تلخ حقیقت بتا رہی تھی
“‘ میں پولیس میں رپورٹ کرونگی میں بتاؤں گی کہ تم نے میرا کڈنیپ کیا تھا تب سب کو یقین ہو جائے گا”
حفصہ اپنے آنسو صاف کرتی بکھرے ہوئے لہجے میں بولی اس وقت اسکی حالت قبل رحم تھی
“‘ چلو میں تمھیں جانے بھی دوں تو تمھیں کیا لگتا تھا سب تمہاری بات پر کیسے یقین کریں گے کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس نہیں نہ “
وہ ابھی بھی اسکی حالت پر مسکرا رہی تھی
“‘ اگر تمہارا کڈنیپ بھی ہوا تو تمھیں بغیر کوئی رقم لئے کیسے چھوڑ دیا اس بات کو کیسے سمجھاؤ گی تم”‘
اسکی باتیں حفصہ خاموشی سے سن رہی تھی کیونکہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہی تھی سچ تھا وہ چاہ کر بھی اسکا کچھ نہیں کر سکتی تھی
“‘ اب بھول جاؤ حفصہ کی اسفند تمھیں دیکھے گا بھی کیونکہ تم کسی کو اپنی پاکیزگی نہیں ثابت کر سکتی “‘
اب وہ اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی
“‘ تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا “‘
حفصہ بس اس سے اتنا ہی پوچھ پائی تھی
“‘ اگر تم اسفند کی زندگی میں نہ آتی تو ایسا تمہارے ساتھ کبھی نہ ہوتا اس لئے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم اسکی زندگی سے خاموشی سے چلی جاؤ بغیر اسکو کچھ بھی بتائے اس سے پہلے کہ میں تمہارے ساتھ مزید کچھ اور برا کر دوں ویسے بھی تم تو مجھے اچھے سے جان ہی گئی ہو “‘
وہ تھوڑا آگے کو جھک کر اسکو وارننگ دے رہی تھی اور حفصہ اسکے لہجے سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ جو کہہ رہی ہے وہ کر بھی سکتی تھی
“‘ تم نے میری عزت خراب کی ہے رباب پر دیکھنا اللّه تمھیں اس کے لئے کبھی معاف نہیں کرے گا “‘
وہ اسکی پوری بات سن کر اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی تھی
اسکی زندگی میں سب کچھ ختم ہو گیا تھا اتنا سب ہونے کے بعد کوئی اس پر یقین نہ کرتا اور وہ کس کس کو بتاتی
سب سے زیادہ تو اسے اپنے باپ کا ڈر تھا جو گھر جانے کے بعد اسکے ساتھ کیا کرتے اسے صرف اللّه سے ہی امید تھی
“‘ پہلے تم اپنا سوچو میرے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں “‘
وہ اپنی پینٹ کی پاکٹ سے موبائل نکالتی ہوئی بولی اور کال پک کرتی کمرے سے باہر نکلی تھی
“‘ ہاں شمس جیسا ہم نے پلان کیا تھا سب ایسا ہی ہوا ہے میرا کام تو ہو گیا میرے آدمی اسکو وہیں چھوڑ دیں گے جہاں سے اٹھایا تھا اب تمھیں اپنا کام خود کرنا ہوگا “‘
وہ فون پہ بات کرتی کمرے سے نکل گئی تھی
💥💥
“‘ سچ میں حفصہ آپ سے ملکر بہت اچھا لگا مجھے جیسا ھاد نے مجھے کال پر بتایا تھا آپ بلکل ویسی ہی ہیں “‘
وہ اپنے قریب بیٹھی حفصہ کی کھلے دل سے تعریف کرتی ہوئی بولی اور ایک شرارتی نظر اپنے سامنے صوفہ پہ بیٹھے ھاد پر ڈالی جو محبت سے اسکو دیکھ رہا تھا
“‘ حور مامی میں نے آپکو بولا تھا نہ میری ماما سب سے بیسٹ ہیں وہ آپکو بھی بہت آ جائے گی “‘
وہ معصومیت سے اپنی بات پر زور دیتا ہوا بولا تو اسکے اس انداز پر لاؤنج میں بیٹھے سب لوگ کھل کر مسکرا دئے تھے
“‘مجھے بھی تم سے مل کر اچھا لگا سب لوگوں سے تمہارے بارے میں کافی سنا تھا اور آج ملاقات بھی ہو گئی “‘۔
حفصہ حورین کی طرف دیکھ کر بہت خلوص سے بولی
اپنے نکاح والے روز وہ مصطفیٰ سے تو مل چکی تھی اس نے حیات صاحب ھاد اور حدید سے حورین کے بارے میں صرف سنا تھا آج اس سے ملاقات بھی ہو گئی تھی
مصطفیٰ اسکے لئے کتنا حساس تھا وہ اس بات سے بھی واقف تھی
“‘ ویسے سچ کہو تو مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا ہے حورین مصطفیٰ شاہ ہمرے گھر بیٹھی ہے مصطفیٰ بھائی اور ان کے کوئی گارڈ کے بغیر بھائی کو تو معلوم ہے نہ کہ تم یہاں موجود ہو “‘
حدید کی آواز پر اس بار سب اسکی جانب متوجہ ہوئے جو تفتیش بھری نظروں سے اسکو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی گناہ کرکے آئی ہو
سب مصطفیٰ کی عادت کو اچھی طرح سے جانتے تھے اس لئے سب کے لئے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ یہاں اکیلی آئی ہے
جبکہ اسکی بات پر حورین نے بیچینی سے پہلو بدلا تھا
اسکی ھاد سے روز ہی فون پر بات ہوتی تھی کبھی کبھی مصطفیٰ خود اسے ھاد سے ملانے بھی لے آتا تھا اور جب اسے معلوم ہوا تھا کہ اسفند نکاح کر چکا ہے تب سے وہ ھاد اور حفصہ سے ملنا چاہتی تھی مگر اس یونی والے واقع کے بعد سے مصطفیٰ نے تو جیسے اسکو گھر میں قید کرکے رکھ دیا تھا
اسے گھوٹن سی ہونے لگی تھی کچھ مصطفیٰ کی بےرخی کی وجہ سے اسکا دل مصطفیٰ کی طرف سے خراب ہو چکا تھا اسلئے آج وہ یہاں موجود تھی بغیر اسکو کچھ بتاۓ
ویسے بھی جب مصطفیٰ اسے خود سے دور رکھنا چاہتا تھا تو اسے کوئی حق نہیں تھا یہ جاننے کا کہ وہ کہاں جا رہی ہے کہاں نہیں اسلئے اس نے مصطفیٰ کو بتانا ضروری نہیں سمجھا تھا
دوسری طرف اسکا دل یہ سوچ کر اندر سے ڈر بھی رہا تھا کہ اگر مصطفیٰ کو اسکی گھر میں غیر موجودگی کا معلوم ہوگا تو وہ کیا کرے گا
“‘ اب میں کوئی چھوٹی بچی بھی نہیں ہوں کہ اکیلی کہیں آ جا نہیں سکتی اور آپکے مصطفیٰ بھائی کے لئے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ میں کہاں آتی جاتی ہوں “‘
وہ حدید کے سوال پر وہ تھوڑا چڑ کر بولی تھی چار سال باہر رہنے کے بعد بھی آج تک اسکی عادت نہیں بدلی تھی وہ اکثر حورین کو ایسے ہی تنگ کرتا رہتا تھا جس پر حورین چڑ جاتی تھی
“‘ اتنے وقت بعد مل رہا ہوں تم سے حورین لیکن تم آج بھی بچی ہی ہو اور دوسرا یہ کہ میرا بھائی تمہارا شوہر لگتا ہے اسلئے انکا پورا پورا حق ہے یہ جاننے کا کہ آپ کہاں آتی جاتی ہیں “‘
وہ ایک ابرو اچکا کر اسکو جتانے والے انداز میں بولا جس پر حورین صرف منہ بنا کر رہ گئی تھی
اسفند اور مصطفیٰ کی گہری دوستی کی وجہ سے حدید مصطفیٰ کو بھی اپنے بھائی کی طرح سمجھتا تھا رباب کی وجہ سے اسکی محبت اور خلوص میں کوئی کمی نہیں آئی تھی
“‘ بس کرو حدید حورین یہاں ہم لوگوں سے ملنے آئی ہے اور تم نے بچی کو اپنے سوالوں سے پریشان کر دیا اب ایک اور لفظ منہ سے نہ نکلے تمہارے “‘
کب سے خاموشی سے حدید کے سوالات کو سنتے حیات صاحب اس پر غصّہ ہوئے اور ایک نظرحورین کی جانب دیکھا جو اب مسکرا کر انہی کی طرف دیکھ رہی تھی
“‘ حدید بلکل صحیح کہہ رہا ہے ڈیڈ حورین کو ایسے بغیر کسی کو بتائے یہاں نہیں آنا چاہئے تھا “‘
حورین جو حیات صاحب کی بات پہ مطمعین ہو گئی تھی کہ اسے مزید سوالوں کے جواب نہیں دینے پڑے گے مگر اپنے برابر سے آتی اسفند کی آواز پر اس نے گردن اٹھا کر دیکھا جو چہرے پہ سنجیدگی لئے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“‘ بھائی میں تو صرف آپ سب سے ملنے آئی تھی اگر آپکو بھی میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا تو میں یہاں سے چلی جاتی ہوں “‘
وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ہوئی نم آواز میں بولی اسکی بات پر حفصہ اور ھاد نے بہت افسوس سے اسے دیکھا تھا
“‘ یہ گھر جتنا ہم سب کا ہے اتنا ہی تمہارا بھی ہے حور مگر جب مصطفیٰ کو یہ معلوم ہوگا کہ تم گھر پر موجود نہیں ہو تو اسکی کیا حالت ہوگی اس بات ہم سب اچھی طرح واقف ہی ہیں”‘
اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر اسفند بہت نرمی سے اسے سمجھا رہا تھا
وہ حور کو اپنی چھوٹی بہن کی طرح سمجھتا تھا اسلئے نہیں چاہتا تھا کہ اسکی بیوقوفی کی وجہ سے مصطفیٰ اس پر غصّہ ہو
“‘ تو ہونے دیں انہیں پریشان وہ اسی کے لائق ہیں “‘
وہ بےدردی سے اپنے آنسوں صاف کرتی ہوئی بولی تھی اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر وہاں موجود سبھی فرد کو اس پر بہت دکھ ہوا تھا
“‘ تمہاری اطلاع کے لئے بتا دوں کہ وہ اس وقت تمہارے لئے پریشان نہیں ہو رہا ہے کیونکہ میں اسے تمہاری یہاں موجودگی کا بتا چکا ہوں “‘
وہ اپنی بات ختم سنگل صوفہ پہ آ بیٹھا اور ایک نظر حفصہ کی طرف دیکھا جو اس وقت ٹو سیٹر صوفہ پہ حدید اور ھاد کے پاس بیٹھی تھی اسکا حدید کے یوں اتنا قریب بیٹھا دیکھ کر اس نے سختی سے اپنی مٹھی بھینچی تھی
“‘ حور جاؤ جاکر فریش ہوکر آؤ میں تمھیں واپس چھوڑ کر آتا ہوں ایک دو دن میں میں تمھیں خود لینے آؤنگا اور تم آئندہ ایسی حرکت مت کرنا “‘
وہ اپنی کیفیت پر قابو پاتا رعبدار آواز میں حورین سے مخاطب ہوا تھا
وہ مصطفیٰ اور حورین کے درمیاں چل رہی پریشانی سے اچھی طرح واقف تھا
مصطفیٰ اس سے کچھ نہیں چھپتا تھا اور وہ حور کی حالت کو بھی سمجھتا تھا وہ خود بھی یہی چاہتا تھا کہ ان دونوں کے درمیاں سب ٹھیک ہو جائے اسلئے وہ نہیں چاہتا تھا کہ حور اپنی غلطی کی وجہ سے خود کے اور مصطفیٰ کے درمیاں فاصلے قائم کر لے
“‘ آپ بہت برے ہیں اسفند بھائی میں آپ سے کبھی بات نہیں کرونگی “‘
اسفند کی بات اور سخت لہجے کو محسوس کر کے حورین روتی ہوئی اوپر کی جانب جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھی تھی
“‘ جاؤ حفصہ بیٹے اسکو چپ کراؤ کیونکہ اب ہم میں سے کوئی بھی اسے چپ نہیں کروا سکتا “
اسکو وہاں سے جاتا دیکھ حیات صاحب خاموش بیٹھی حفصہ سے مخاطب ہوئے
انکی بات سن کر حفصہ اپنی جگہ سے اٹھی اور سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھی جبکہ دور تک اس نے اپنی پشت پر کسی کی نگاہوں کی تپش کو محسوس کیا تھا
💥💥
“‘ حورین کو یہاں بلا کر لاؤ فورا “‘
وہ غصّے میں اپنا کوٹ اتار کر صوفہ پر پھینکتا ہوا غرایا تھا
اسکے غصّے سے بھری آواز اور اسکے تیور دیکھ کر اسکا ملازم اپنی جگہ کانپ کر رہ گیا تھا
مصطفیٰ کے گھر اتنے وقت سے کام کرنے کے باوجود بھی وہ اسکے غصّے کے عادی نہیں ہوئے تھے
“‘ شاہ جی حور بی بی اپنے کمرے میں نہیں ہے “‘
وہ بیچارہ ڈرتے ڈرتے نظریں جھکائے اسے ایسے بتا ریا تھا جیسے اس میں اسکی غلطی ہو
جبکہ اپنے ملازم کی بات سن کر مصطفیٰ کے ماتھے پر پڑے بلوں میں مزید اضافہ ہوا تھا
“‘ کیا مطلب ہے اپنے کمرے میں نہیں ہے تو کہاں ہے “‘
وہ سخت تیوری لئے اپنے ملازم کی طرف دیکھتا اسکی جان نکال رہا تھا
“‘ شاہ جی وہ لان میں پول کی سائیڈ ہے “‘
اسکے ملازم نے اپنے ماتھے پہ آئے پسینے کو صاف کر کے اپنی بات جیسے ہی ختم کی وہ اتنی ہی تیزی سے گھر کے پیچھے کی جانب مڑا تھا
اس وقت وہ شدید غصّے میں تھا تو صرف حورین کی آج کی حرکت کی وجہ سے اس نے آج خود پر اور غصّے پر کس طرح ضبط کیا تھا یہ وہی جانتا تھا ورنہ اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسفند کے گھر سے اسے خود لیکر آ جاتا مگر اسفند نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا
ایسا نہیں تھا وہ اسکے وہاں جانے سے غصّہ تھا بلکہ اسے غصّہ اس بات سے تھا وہ اسکو بغیر بتائے گئی تھی دوسرا آج اسکا باڈی گارڈ بھی ڈیوٹی پر نہیں تھا اگر اسفند اسے حورین کی اپنے گھر میں موجودگی کا نہ بتاتا تو نہ جانے وہ کیا کر بیٹھتا
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا لان میں آ روکا اور ایک نظر پورے لان میں دوڑئی تھی رات کے وقت لائٹ کی روشنی میں پورا لان جگمگا رہا تھا
اسکی نظریں حورین کو تلاش کر رہی تھی جب وہ اسکو لان کے دوسرے سائیڈ پر موجود سوئیمنگ کے قریب بیٹھی کسی گہری سوچ میں لگی تھی
وہ اسے اپنی جگہ کھڑا کتنی ہی دیر دیکھتا رہا اور حورین کو احساس بھی نہیں ہوا
اسکی گہری نظروں کی تپش کا اثر ہوا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جب اسکی نظر تھوڑے فاصلے پہ کھڑے مصطفیٰ پہ پڑی جو شعلہ بار نظروں سے کھڑا اسکو گھور رہا تھا
حورین گھبرا کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اس میں ہمّت نہیں ہوئی تھی ایک بھی قدم آگے بڑھانے کی
اسکو کھڑا ہوتا دیکھ مصطفیٰ بھاری قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھنے لگا
حورین اسکو اپنے قریب آتا دیکھ بےدردی سے اپنے ہونٹ چبانے لگی کیونکہ وہ اسکی آنکھوں اور انداز سے اسکے شدید غصّے میں ہونے کا پتا لگا چکی تھی
“‘ کس کی اجازت سے تم وہاں گئی تھی “‘
آہستہ سے اسکی جانب قدم اٹھاتا وہ سخت نظروں سے اسے گھورتا استفسار کر رہا تھا
اسکی تنی ہوئی رگیں واضح طور پر نظر آ رہی تھی جوحورین کے لئے اچھی خبر نہیں تھی
“‘ میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے کس کی اجازت سے تم وہاں گئی تھی یہاں تک کہ تم نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا “‘
اسکی خاموشی پر اس بار وہ دہاڈا اور مزید اسکے قریب بڑھا
اسکے اپنے قریب بڑھتے قدم پر حورین اپنے قدم پیچھے کی جانب بڑھا رہی تھی
“‘ کیوں بتاؤ آپکو جب آپ مجھ سے دور رہنا چاہتے ہیں تو مجھے اب آپکی اجازت کی ضرورت نہیں ہے”‘
وہ اپنے دوپٹے کو سختی سے پکڑتی مضبوط لہجے میں بولی
اس وقت وہ خود کو اسکے سامنے کمزور ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی جبکہ اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر اسکا دل اندر سے بری طرح سے ڈرا ہوا تھا
“‘ میں نے تمھیں خود سے دور رہنے کا بولا ہے مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم میری اجازت کے بغیر کہیں بھی چلی جاؤ “‘
وہ اسکے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے اسکے قریب بڑھ رہا تھا
“‘اور اب تم بتاؤ تمھیں اس غلطی کی کیا سزا ملنی چاہئے “”
مصطفیٰ کی بات پر حورین نے ایک نظر گردن موڑ کر دیکھا وہ پول کے بہت قریب آ چکی تھی اسکا ایک قدم اور وہ اسکے اندر تھی
“‘ دیکھیں آپ اس طرح ہر بار میرے ساتھ زبردستی نہیں کر “‘
اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ مکمل کرتی وہ بےدھیانی میں پیچھے ہوئی اور چھپاک کی آواز سے وہ سیدھا سوئیمنگ پول میں گری تھی
وہ پانی سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤ ذور زور سے چلا رہی تھی مگر معائے افسوس اسے سوئیمنگ نہیں آتی تھی
مصطفیٰ یونہی اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ پھسائے اسے پانی میں تڑپتا ہوا دیکھ رہا تھا
یہ جان کر کہ وہ گھر میں موجود نہیں ہے اسکی کیا حالت ہوئی تھی وہ اسکو کھڑا اس چیز کا احساس دلا رہا تھا
کتنی ہی دیر کھڑا وہ اسکو یوں ہی دیکھتا رہا جب حورین کے جسم نے اسکا ساتھ دینا چھوڑا تو وہ جیسے ہوش میں آیا وقت برباد کئے بغیر وہ پول میں کودا
اور حورین کے بےجان وجود کو پانی سے نکال کر باہر لایا اور فرش پہ لیٹا دیا
ٹھنڈے پانی کی وجہ سے اسکا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا اسکی سانسیں سست روی سے چل رہی تھی
اسکی یہ حالت دیکھ کر مصطفیٰ کو بھی اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اسے خود پر بھی غصّہ آ رہا تھا جو حورین کی حرکت کی وجہ سے اسے سزا دینے چاہتا تھا
“‘ حورین آنکھیں کھولو “‘ حورین “‘
وہ اسکے گال تھپتھپاتا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا اور اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کئے تھے
“‘ حور پلیز آنکھیں کھولو میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا “‘
وہ تڑپ کے اسے پکار رہا تھا اسکی آواز میں کپکپاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی اگر حور اس وقت ہوش میں ہوتی تو اسکی اپنے لیے بےچینی دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھتی
“‘ حور میری جان پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو آنکھیں کھولو “‘
وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے پیٹ پر دباؤ ڈالتا اسکے پیٹ سے پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگا مگر کوئی اثر نہیں ہوا تھا
“‘ میں آئندہ تمھیں خود سے دور نہیں کرونگا پلیز اب تو آنکھیں کھولو “
وہ اسکے رخسار کو تھپتھپاتا اسکی ناک کو بند کرکے اسکے ٹھنڈ سے پڑتے نیلے لبوں پہ جھکا اور اسے مضوعی سانس دینے لگا
ایک بار نہیں جانے کتنی بار وہ یہ عمل دوہرانے لگا وہ اسکے چہرے پہ جھکا اسے اپنے سانسیں دے رہا تھا اسکے عمل میں اتنی شدّت تھی کہ حورین نے بری طرح کھانستے ہوئے اپنی آنکھیں کھولی
پہلے تو اسکی کچھ سمجھ نہیں آیا پر خود پر جھکے مصطفیٰ کو دیکھ کر اسے ساری بات سمجھ آ گئی تھی
اسے ہوش میں آتا دیکھ مصطفیٰ نے شکر کا سانس لیا اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا سیدھا ہو بیٹھا تھا
“‘ تم نے تو آج میری جان ہی نکل دی تھی حور “‘
وہ ابھی بھی ایسے ہی فرش پہ لیٹی ہوئی تھی جب وہ اسکے چہرے کو ایک ہاتھ سے تھامے انگوٹھے سے اسکے ہونٹ کو سہلاتے ہوئے کہنے لگا
اس وقت اسکے انداز میں شدّت تھی جسے حور اپنے غصّے میں جان نہ سکی تھی
“‘ اگر آج تمھیں کچھ ہو جاتا تو “‘
وہ اپنی بات ادھوری چھوڑتا اسکے چہرے پر جھکا اور اسکی ٹھنڈی پیشانی پر اپنے گرم لبوں کا لمس چھوڑ کر اپنی پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکا دی
اسکے دہکتے لبوں کا لمس محسوس کرکے حورین کی آنکھ سے آنسوں بہ کر اسکے گیلے بالوں میں جذب ہوا تھا
“‘ اچھا ہی تھا نہ اگر میں مر جاتی تو اپکی ساری مشکل آسان ہو جاتی “”
وہ جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتی اٹھ بیٹھی
“‘ حو۔۔ر۔۔۔ین “‘
مصطفیٰ کی گرجدار آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی تو اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی مصطفیٰ کے مضبوط ہاتھ اسکی گردن پہ موجود تھے
“‘ آئندہ تمہارے منہ سے یہ لفظ نہ نکلے ورنہ تمہارے لئے اچھا نہیں ہوگا سمجھی تم “‘
اسکے لہجے میں اتنی شدّت تھی کہ وہ بس اسکو دیکھ کر رہ گئی تھی
مصطفیٰ نے اسکی گردن کو آزاد کر کے اسکے نازک بھیگے وجود کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا
اسکے جسم کی گرماہٹ سے حورین کو ایک سکون سا مل رہا تھا اپنی گردن پر اسکی سانسوں کی گرمائش سے ایک سنسنی سی اسکے پورے وجود میں دوڈ گئی تھی
وہ ایک جھٹکے میں خود کو اسکے پکڑ سے آزاد کراتی وہا سے تیزی سے بھاگی تھی اسے لگ رہا تھا اگر وہ کچھ دیر اور وہاں رکتی تو وہ اس ستمگر کے آگے پھر سے ہار جاتی مگر اب وہ اس سے ہارنا نہیں جیتنا چاہتی تھی ۔۔
💥💥
بیڈ پر بےچینی سے کروٹ بدلتے ہوئے اس نے ایک نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی میں وقت دیکھا جو اس وقت رات کا ایک بجا رہی تھی
ٹائم دیکھنے کے بعد اس نے گردن اٹھا کر صوفہ کی جانب دیکھا مگر ہر بار کی طرح اب بھی اسے صوفہ خالی ہی نظر آیا
ایک عجیب سی بےچینی اسکے پورے بدن میں دوڑ گئی تھی
اس نے پھر سے کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کی مگر اس حالت میں اسکو نیند کہاں آنی تھی
پچھلے دو گھنٹوں سے اسکا یہی حال تھا ایک لمحے کے لئے بھی اسے سکون نہیں تھا
اور اسکی اس بےسکونی کی وجہ حفصہ کی لاؤنج میں حدید کے ساتھ موجودگی تھی وہ دونوں اس وقت وہاں بیٹھے کوئی مووی دیکھ رہے تھے
اور وہ یہاں اکیلا کمرے میں بےچینی سےکروٹیں بدل رہا تھا
اس رات کے بعد سے اسکا اور حفصہ کا سامنا کم ہی ہوتا تھا وہ رات کے وقت روم میں آتی جب وہ گہری نیند میں ہوتا صبح اسکے اٹھنے سے پہلے روم سے چلی جاتی
پر اس دوراں اسکی اور حدید کے بیچ کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی جو کم از کم اسفند کو بلکل اچھی نہیں لگ رہی تھی ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر اسے ایک جلن کا احساس ہوتا تھا
ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی سے غصّہ تھا بس اسے حفصہ کی حدید کے ساتھ نزدیکی پسند نہیں آ رہی تھی وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اندر ہی اندر کھولتا رہتا
ابھی بھی اسکا یہی حال ہو رہا تھا تھوڑی دیر ایسے ہی لیٹا رہا جب نیند نہیں آئی تو لائٹ آن کرتا جھٹکے سے اٹھ بیٹھا اور اپنے اندر کے غصّے کو کم کرنے کے لئے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا
ابھی اسے بیٹھے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ جب بیڈ روم کا دروازہ کھولتی حفصہ اندر داخل ہوئی تھی
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی اسفند کی خود پر جمی نظروں سے بےخبر صوفہ کی طرف جا رہی تھی جب کمرے میں پھیلی نائٹ بلب کی روشنی میں اسکی نظر بیڈ پر بیٹھے اسفند کے وجود پر پڑی تو اسکے قدم اپنی جگہ جم سے گئے تھے
وہ بیڈ پر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا کمرے میں پھیلی ہلکی روشنی میں بھی وہ اسفند کے چہرے کے سرد تاثرات کو بخوبی دیکھ سکتی تھی
جانے کیوں حفصہ کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا
“‘ رات کے اس وقت تم کہاں سے آ رہی ہو “‘
کمرے کی خاموشی میں اسکی بھاری گمبھیر آواز گونجی تھی
اسے معلوم تھا کہ وہ کہاں سے آ رہی ہے لیکن پھر بھی اس نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا
حفصہ جو اسکو نظرانداز کرتی صوفہ پر لیٹنے کی تیاری کر رہی تھی اسفند کے سرد لہجے پر وہ اپنی جگہ رکی اور اسکی جانب دیکھا جو اب بیڈ سے اٹھ کر بھاری قدم اٹھاتا اسکے قریب آ رہا تھا
“‘ و۔۔وہ میں حدید مووی دیکھ رہے تھے تو بس وقت کا پتہ نہیں چلا “‘
اسکے انداز سے حفصہ کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا
ویسے بھی اس دن کے بعد سے اسکے دل میں اسفند کے لئے ایک ڈر سا بیٹھ گیا تھا
“‘ اپنے شوہر کو کمرے میں اکیلا چھوڑ کر تم اسکے بھائی کے ساتھ بیٹھی ہوئی مووی دیکھ رہی تھی کیا یہ ایک اچھی بیوی کے فرائض میں آتا ہے”‘
اس وقت اسکا چہرا کسی بھی قسم کے جذبات سے خالی تھا
اپنی گہری نیلی نظریں اسکے چہرے پہ گاڑے وہ اس سے ایک ہاتھ کے فاصلے پہ آ رکا تھا
“‘ تمہارے لئے یہ رشتہ تو صرف کاغذی ہے تو اس میں فرائض کی باتیں کیوں ہو رہی ہے “‘
وہ اپنی ہاتھوں کی انگلیوں کو موڑتی نظریں نیچے کئے اسے اسکی کہی بات یاد دلا رہی تھی اس بات سے انجان کی اسکی بات سے اسفند کے ماتھے پر پڑے بلوں میں اضافہ ہوا تھا
“‘ تمھیں کیا لگتا ہے اس دن کے بعد سے ہم ہمارے درمیاں کچھ بھی کاغذی رہ گیا ہے “‘
وہ اپنا مضبوط ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتا اسے اپنے قریب کرتا سخت لہجے میں بولا تھا
حفصہ جو اس حملے کے لئے بلکل تیار نہ تھی اسفند کی اس حرکت سے سیدھا اسکے سینے سے آ لگی اور ڈر کے اسکے طرف دیکھا جو سرد مہری سے اسے ہی تک رہا تھا
“‘ اسفند چھوڑو مجھے نیند آ رہی ہے “‘
اپنی کمر پر اسکا ہاتھ کا دباؤ بڑھتا دیکھ حفصہ کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولی اور اپنا ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر اپنے اور اسکے درمیاں فاصلہ قائم کرنا چاہا مگر وہ اسکی کلائی تھام کر اسکی کمر کے پیچھے لگا چکا تھا
اب وہ مکمل اسکی گرفت میں تھی
“‘ مووی دیکھتے ہوئے تمھیں نیند نہیں آئی یا میں یہ سمجھوں کہ تمھیں اپنے شوہر کی قربت پسند نہیں ہے “‘
وہ اپنی بات کہتا اسکی چہرے پہ جھکا اور اسکی کلائی پہ اپنی پکڑ سخت کی تھی
اس وقت دونوں کے چہرے کے درمیاں بال برابر کا فاصلہ تھا
“‘ اسفند پلیز میرا ہاتھ چھوڑی مجھے درد ہو رہا ہے “‘
حفصہ اسکی اتنی قربت سے گھبرا رہی تھی اپنے ہونٹوں پہ پڑتی اسکی گرم سانسوں سے اسکو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہو رہی تھی
“‘ درد ہو رہا ہے تو اسے برداشت کرو ابھی تمھیں اور درد برداشت کرنے ہے “‘
وہ باقی کا فاصلہ ختم کرتا اسکے چہرے پر جھکا اور اسکی کان کی لؤ کو اپنے دانتوں میں لیکر دبایا تھا تکلیف کی وجہ سے حفصہ کے منہ سے سسکی نکلی تھی
اسکی کان کی لؤ سے اب اسکے لب حفصہ کے گردن کا راستہ طے کر رہے تھے
جابجا اسکی گردن پہ اپنا لمس چھوڑتا وہ پوری طرح اس کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا
اسکے عمل میں اتنی شدت تھی کہ حفصہ کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
اس نے اپنے ایک آزاد ہاتھ سے سختی سے اسفند کے بازو کو پکڑا تھا جبکہ اسکا دوسرا ہاتھ ابھی بھی اسفند کی گرفت میں اسکی کمر کے پیچھے تھا
“‘ اسفند یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔چھو۔۔۔چھوڑو مجھے “‘
اسے جب اپنے شانے سے شرٹ سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تو حفصہ کی تو جیسے جان ہی نکل گئی تھی یکدم آنکھوں کے سامنے اس رات والا منظر گھوم گیا تھا اس نے اپنا ہاتھ اسفند کے سینے پر رکھ کر اسے دور کرنا چاہا تھا
اسفند جو اس پر جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا حفصہ کی مزاحمت پر اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے وہ جھٹکے میں اس سے دور ہوتا سختی سے اسکا منہ دبوچ چکا تھا
“‘ کل تک تو تم میری ایک نظر کے لئے ترس رہی تھی تو آج یہ ڈرامے کیوں دیکھا رہی ہو ””
وہ اسکے منہ پر اپنی پکڑ سخت کرتا ہوا غرایا اور ساتھ ہی اسکی کمر پہ اپنی پکڑ سخت کی تھی
اسکی اس قدر سختی سے حفصہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا
“‘ میری توجہ چاہئے تھی نہ تمھیں تو اب میں تمھیں اپنی پوری توجہ دونگا “‘
وہ اسکا منہ آزاد کرتا اسکے لبوں پر جھکتا حفصہ کی سسکی کو اسکے لبوں میں ہی دبا گیا تھا
اسکے عمل میں اسکی پکڑ سے بھی زیادہ سختی تھی حفصہ کی آنکھ سے ایک آنسوں خاموشی سے ٹوٹ کر اسکے رخسار پہ بہہ گیا تھا
اسفند کو حفصہ کا خود سے دور کرنا تیش دلا گیا تھا اور اب وہ اپنا غصّہ اس پر دوسرے طریقے سے نکال رہا تھا اسکو جسمانی تکلیف دے کر
وہ اسکے چہرے پہ جھکا اسکے سانسوں کو خود میں قید کئے ہوئے تھا
حفصہ کو جب اپنا سانس اکھڑتا ہوا محسوس ہوا تو وہ زور زور سے اسکے سینے پر ہاتھ مارنے لگی تھی مگر وہ اسکے لبوں کو آزادی بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا
حفصہ کو لگا کہ وہ اب سانس نہیں لے پائے گی تو اس بار اس نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دھکا دیا اور اس بار وہ کامیاب بھی ہو گئی تھی
اس وقت دونوں کا سانس بری طرح اکھڑا ہوا تھا کمرے کی خاموشی میں صرف ان دونوں کی تیز تیز چلتی سانسوں کی آواز آ رہی تھی
اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نے اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے اسفند کی طرف دیکھا جو اب گہری نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا
“‘ کیا ہوا بیوی میری اتنی سی توجہ میں تمہاری یہ حالت ہو گئی “‘
وہ اسکا بازو سختی سے پکڑ کر حفصہ کو اپنی جانب کھینچ چکا تھا جبکہ نظریں اسکے سرخ لبوں پہ ہی جمی ہوئی تھی
“‘ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب آخری بار کہہ رہا ہوں اگر آئندہ تم نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو تمھیں ہی تکلیف اٹھانی پڑے گی “‘
وہ اسکے سراپے پہ ایک گہری نظر ڈالتا جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑ کر بیڈ کی طرف بڑھا تھا
اسکے پلٹنے سے حفصہ کو اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا پر وہ یکدم سے پلٹا تھا
“‘ اور ہاں آئندہ تم اتنا لیٹ روم میں آئی تو آگے تم خود سمجھدار ہو “‘
وہ اپنی بات ادھوری چھوڑتا بیڈ پر لیٹ کر لائٹ بند کر چکا تھا
جو اسے کہنا اور غصّہ کرنا تھا وہ کر چکا تھا اب اسے سکون کی نیند آنے والی تھی
جبکہ حفصہ وہیں صوفہ کے قریب کھڑی کتنی ہی دیر اندھیرے میں بیڈ پہ لیٹے اسکے وجود کو دیکھتی رہی تھی
آج کل اسفند کا رویہ اسکی سمجھ سے باہر تھا پہلے وہ خود اسے دور رہنے کے لئے بولتا رہتا تھا اور اب اسکے قریب آنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور زیادہ وہ اسے تکلیف دینے کے لئے قریب آتا تھا
💥💥
(جاری ہے )