53.7K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

اس نے اپنی تیاری مکمل کر کے آئنے میں اپنا جائزہ لیا ڈارک بلیو کلر کے ہیوی ورک کا سوٹ زیب تن کئے وہ آج پوری طرح سے مصطفیٰ کو اپنا دیوانہ باننے کی تیاری میں تھی
اسے بس اب شدّت سے مصطفیٰ کے آنے کا انتظار تھا اور اسکے چہرے کے تاثرات کا سوچ کر حورین کے ہونٹوں پہ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ آ ٹھری
مسکراتے ہوئے اس نے ڈریسنگ پہ رکھی اپنی چوڑیاں کو پہننے کے لئے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا دروازے پہ ہونے والی دستک پہ اسکا ہاتھ اپنی جگہ رک سا گیا تھا
“‘ آ جاؤ “‘
وہ اجازت دیتی پھر سے اپنی چوڑیاں پہننے لگی تھی
” بیگم صاحبہ یہ آپکا فون جسے آپ لاؤنج میں بھول گئی تھی اس پر بہت دیر سے کسی کی کال آ رہی ہے آپ دیکھ لیجئے “‘
ملازمہ اسکا موبائل اسکے قریب لاتی ہوئی بولی جو مصطفیٰ نے ابھی کچھ دن پہلے ہی اسکو لاکر دیا تھا جس پر وہ زیادہ تر ھاد اور حفصہ سے باتیں کرتی رہتی تھی
اس دوراں اسکی حفصہ سے کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی اسلئے وہ اب پہلے کی طرح اکیلاپن محسوس نہیں کرتی تھی
جبکہ رباب بھی گھر میں ہی ہوتی تھی مگر وہ ہمیشہ کی طرح اس سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتی تھی
“‘ ٹھیک ہے رکھ دو میں بعد میں دیکھ لونگی “‘
وہ اب اپنی جگہ سے کھڑی ہوکر اسکو حکم دیتی ہوئی بولی جس پہ ملازمہ اسکا موبائل ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھ چکی تھی
“‘ بیگم صاحبہ داؤد صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپکے کہنے کے متبِک سب انتظام ہو گیا ہے آپ ایک بار آکر دیکھ لیں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی”‘
ملازمہ سر جکائے اسے داؤد صاحب کا پیغام دے رہی جس پہ حورین ہولے سے مسکرا دی تھی
“‘ ٹھیک ہے تم چلو ان سے بولو میں پانچ منٹ میں آ رہی ہوں “‘
اسکا اگلا حکم سنتے ہی ملازمہ اسکے کمرے سے نکل گئی اور وہ ایک بار پھر سے اپنی چوڑیاں پہننے لگی
آج اس نے مصطفیٰ کے لئے کینڈل لائٹ ڈنر پلان کیا تھا وہ مصطفیٰ کو سرپرائز دینا چاہتی تھی اور اس کام میں اس نے داؤد صاحب کی مدد سے لان میں انتظام کروایا تھا
وہ دونوں جانتے تھے انکے رشتے کی شروعات صحیح طریقے سے نہیں ہوئی تھی مگر وہ اب اس رشتے کو مضبوط بنانے کے لئے اپنی پوری کوشش کر رہی تھی
اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعد ایک آخری بار اس نے آئنے میں اپنا جائزہ لیا اور بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر اپنے شانو پر ڈالتی وہ کمرے سے نکلی تھی
ابھی اسکے قدم دروازے کی جانب بڑھے ہی تھے جب اسکا ڈریسنگ پہ رکھا موبائل پھر سے بجا جو اسکے بڑھتے قدم کو روک گیا تھا
سکرین پہ موجود انجان نمبر دیکھ کر وہ فون کٹ کرنا چاہتی تھی مگر کچھ سوچ کر اس نے کال رسیو کی تھی
“‘ حورین مصطفیٰ شاہ “‘
کسی بھاری مردانہ انجان آواز سے اپنا پورا نام سن کر حورین ایک لمحے کے لئے گھبرا سی گئی تھی
“‘ کون ہیں آپ اور میرا نام کیسے جانتے ہیں “‘
جانے کیوں اسکو اپنے پورے جسم سے کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی تھی
“‘ ایسا بہت کچھ ہے حورین جو تم سے آج تک چھپایا گیا ہے اور وہ سب تمہارا جاننا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جب تم وہ سب جان جاؤگی تو تمھیں خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ میں کون ہوں “‘
وہ اپنا ایک ایک لفظ ٹہر ٹہر کر ادا کرتا حورین کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کر رہا تھا
“‘ دیکھئے میں انجان لوگوں سے بات نہیں کرتی آپ میرے شوہر سے بات کر لینا اور انہیں بتا دینا جو بھی آپکو بتانا ہوگا “‘
جانے کو اسے اس شخص سے بات کرتے ہوئے کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا
“” اور اگر میں کہوں کہ تمہارا شوہر ہی وہ شخص ہے جس نے تم سے بہت کچھ چھپایا ہوا ہے “‘
حورین کال کٹ کرنے والی تھی جب وہ مزید بولا اور اسکی بات سن کر حورین کا ہاتھ اپنی جگہ جم سا گیا تھا
“‘ مجھے اپنے شوہر پر پورا اعتماد ہے وہ مجھ سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ میں کسی انجان شخص کی باتوں میں آکر اپنے شوہر پہ شق نہیں کر سکتی اسلئے بہتر ہے آپ میرا اور اپنا وقت برباد نہ کریں “‘
اس بار اسکا لہجہ مضبوط تھا جبکہ اسکی بات پہ سامنے والے کا قہقہ گونجا تھا
“‘ میں کوئی انجان نہیں ہوں حورین تایا ہوں میں تمہارا اور یہ بات مصطفیٰ بھی جنتا ہے “‘
ابراھیم خان اپنی بات کہتا خاموش ہو گیا مگر حورین کو لگ رہا تھا کہ اسکے لفظ اب تک اسکے کانوں میں گونج رہے ہو
“‘ نہیں یہ سچ نہیں ہے آپ جھوٹ بول رہے ہیں “‘
بہت مشکل سے وہ یہ لفظ ادا کر پائی تھی جبکہ اسکی بات پہ دوسری طرف موجود ابراھیم خان استہزائہ مسکرایا تھا
‘” یہ وہی سچ ہے جو آج تک تم سے چھپایا گیا اور اب جو میں تمھیں بتانے والا ہوں اس سچ کو سن کر تمہارا اپنے شوہر پہ جو اعتماد ہے نہ وہ پل میں ٹوٹ جائے گا “‘
اس بار ابراھیم خان کا لہجہ طنزیہ تھا
“‘ میرا اعتماد اتنا کمزور نہیں ہے جو آپکی باتوں پر ٹوٹ جائے اگر انہونے مجھے کچھ نہیں بتایا تو اسکی پیچھے ضرور کوئی وجہ ہوگی “‘
ابراھیم خان کی بات پر اسے شاک تو لگا تھا مگر وہ خود کی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے بولی
“‘ ہاں بےشک وجہ تو ہے اور وجہ یہ ہے کہ تمھیں تمہاری ماں تمہارے خاندان سے دور کرنے والا کوئی اور نہیں مصطفیٰ ہی ہے ۔۔۔ اسکی ہی کار سے کچل کر تمہاری ماں کی جان گئی تھی “‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا ہوا بولا جس پہ حورین اپنی جگہ سکت کھڑی رہ گئی تھی
اس میں ایک بھی لفظ بولنے کی ہمّت باقی نہیں رہی تھی
“‘ کیا ہوا ٹوٹ گیا نہ اعتماد مگر یہ سچ ہے مصطفیٰ ہی وہی شخص ہے جس نے تم سے تمہاری ماں چھی لی تھی “‘
ابراھیم خان مزید اور بھی کچھ بول رہا تھا مگر حورین تو جیسے بت بنی کان سے فون لگائے کھڑی رہی
جانے کتنے ہی آنسوں ٹوٹ کر اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے
“‘ نہیں یہ سچ نہیں ہو سکتا مصطفیٰ مجھے سے اتنا بڑا سچ نہیں چھپا سکتے “‘
وہ نفی میں سر ہلاتی زرلیب بڑبڑائی تھی اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ اس شخص کی بات پہ یقین نہ کرے مگر دماغ کچھ اور کہہ رہا تھا
“” کہا تھا نہ میں نے تم سے کہ تم سے بہت بڑا سچ چھپایا گیا ہے مگر میں یہ بھی جانتا ہوں تمھیں میری باتوں پہ یقین نہیں آ رہا ہوگا پر تم مصطفیٰ سے پوچھ سکتی ہو مجھے پورا یقین ہے وہ اس بار تم سے کچھ نہیں چھپا سکے گا “‘
ابراھیم خان اپنی بات کہتا کال کٹ کر چکا تھا اس وقت اسکے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ تھی
“‘ میں نے تمہارا کام آسان کروا دیا اب تمھیں بھی میرا کام کرنا ہوگا اپنی بیٹی حفصہ کو اسفند کی زندگی سے نکال کر “‘
اسکے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر رباب نے اسے یاد دلایا تھا جس پر وہ اب اسکی طرف متوجہ ہوا
“‘ تم بے فکر رہو ابراھیم خان اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کرتا ہے تمہارا کام بھی ہو جائے گا “‘
وہ اسکی طرف شیطانی مسکراہٹ لئے مڑا تو رباب اسکا جواب سن کر خود بھی مسکرا دی
جبکہ دوسری طرف حورین زور زور سے روتی ہوئی زمین پہ بیٹھتی چلی گئی اسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ مصطفیٰ اسکے ساتھ ایسا کر سکتا ہے
وہ اس شخص کی باتوں پہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ جس یقین سے اس سے کہہ رہا تھا اسکا یہ یقین دیکھ کر حور کو اپنے اندر بہت کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
وہ بری طرح روتے ہوئے اپنے اپنے بال نوچ رہی تھی اسکے رونے کی آواز سن کر ملازمہ کے ساتھ ساتھ داؤد صاحب بھی گھبرائے ہوئے روم میں داخل ہوئے
حورین کی یہ حالت دیکھ کر وہ پریشان ہو گئے تھے وہ اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ تو جیسے کسی کی سن ہی نہیں رہی تھی
داؤد صاحب کو جب لگنے لگا کہ وہ اسے سنبھال نہیں پائے گے تو انکے پاس مصطفیٰ کو فون کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا
💥💥
صبح جب وہ جاگا تو سب سے پہلے اسکی نظر اپنے پہلو میں سوئی حفصہ پہ پڑی جو اپنا ایک بازو اسکے سینے پہ رکھے بےخبر سو رہی تھی
اسکو یوں اپنے قریب سوتا ہوا دیکھ کر اسفند کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی
وہ کتنی ہی دیر اسکو یوں ہی لیٹا محبت پاش نظروں سے تکتا رہا
اسکا دل کر رہا تھا وہ اسکو یوں ہی دیکھتا رہے مگر آج اسکی ایک بہت اہم میٹنگ تھی جس وجہ سے اسکو آفس جلدی جانا تھا اسلئے وہ اپنے دل پہ پتھر رکھتا اٹھا اور حفصہ کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ کر وہ چینج کرتا کمرے سے نکل گیا
ایک گھنٹے بعد جب وہ ایسر سائز اور جاگنگ کرکے واپس لوٹا تو حفصہ روم میں کہیں نظر نہیں آئی وہ فریش ہونے کے لئے واشروم میں جا گھسا
کچھ دیر بعد جب وہ فریش ہوکر واشروم سے باہر نکلا تو اس بار حفصہ کو کمرے میں موجود پایا جو بیڈ پہ نظریں جھائے بیٹھی ہوئی تھی
اسفند ایک نظر اسکی طرف دیکھ کر ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑا ہوا اور اپنی شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا وہ آئنے میں سے اسے بھی دیکھ رہا تھا جو اب اس پر نظریں جمائے ہوئے بیٹھی تھی
اسکو خود کو اس طرح دیکھتے ہوئے پاکر اسفند کو ایک اندرونی سی خوشی ملی تھی جسے وہ صاف چھپا گیا اور اپنے تیاری مکمل کرنے لگا
حفصہ بیڈ پر بیٹھی بڑے غور سے اسے اپنی تیاری مکمل کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی
اس وقت اسکے ہر ایک انداز سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے
اسکی یہ حالت اس دن سے تھی جب سے وہ اسکے باپ کے گھر سے لوٹے تھے
وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی مگر اس میں ہمّت نہیں ہو رہی تھی مگر آج وہ اپنی سری ہمّت جما کرکے اسکے پاس موجود تھی
اس نے ایک بار پھر نظریں اٹھا کر اسفند کی جانب دیکھا جو اب اپنی ٹائی کی ناٹ لگا رہا تھا جسے لگانے میں وہ آج خاصی پریشانی کا سامنا کر رہا تھا
“‘ لاؤ میں لگا دیتی ہوں اسکی ناٹ تم ٹھیک نہیں لگا رہے ہو “‘
اسکو یوں ہی ٹائی سے الجھتا دیکھ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی اور اسکے ہاتھ ہٹا کر ٹائی کی ناٹ لگانے لگی
حفصہ کی اس حرکت پہ اسفند نے بامشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا
وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا مقصد صرف اسے اپنے قریب بلانے تھا کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے وہ خود بھی ناٹ کر رہا تھا کہ حفصہ اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے بلکہ وہ آج کل اسکا رویہ بھی بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا
شاید وہ اسے معاف کر چکی تھی بس کہتے ہوئے کترا رہی تھی
“‘ کیا آج تم آفس سے جلدی واپس آ سکتے ہو۔۔۔ اگر کوئی ضروری کام ہو تو کوئی بات نہیں “‘
وہ اپنے نظریں اسکی ٹائی کی ناٹ پہ جمائے اس سے مخاطب ہوئی
جبکہ اسکی بات پہ اسفند کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی جسے وہ دیکھ نہیں پائی تھی
“‘ کیوں آج ایسا کیا خاص ہے جو تم مجھے آفس سے جلدی آنے کا بول رہی ہو “‘
وہ اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسکو خود سے قریب کر چکا تھا
جبکہ اسکی اس حرکت پہ حفصہ کا دل تیزی سے دھڑکا تھا اسکی انگلیوں کی کپکپاہٹ اور پلکوں کی لرجش کو وہ صاف طور پہ محسوس کر سکتا تھا
“‘ وہ ھاد کے لئے کچھ شاپنگ کرنی تھی ۔۔۔ اسلئے اگر تم ساتھ چلو تو ۔۔ “‘
اسکی قربت پہ اپنا خشک حلق تر کرتی وہ بمشکل بول پائی تھی جبکہ اسکی غیر ہوتی حالت پر وہ محظوظ ہو رہا تھا
“‘ یہ بات ہے مجھے لگا شاید میری بیوی کا آج کوئی اور ہی پروگرام ہے اسلئے مجھے جلدی بلایا جا رہا ہے “‘
وہ شوخی سے کہتا اسکے چہرے پہ جھکنے لگا تو حفصہ نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اپنے اور اسکے درمیاں فاصلہ قائم کیا تھا
اگر وہ ایسی حرکتیں کرتا رہا تو وہ بات ہی نہیں کر پائے گی جو وہ اس سے کرنا چاہتی تھی
“‘ اچھا ٹھیک ہے میں جلدی آنے کی کوشش کرونگا تم ریڈی رہنا اور ھاد کو بھی ریڈی رکھنا تینوں ساتھ چلیں گے “‘
اسکو مزید پریشان کرنے کا ارادہ ترک کرتا وہ اسے اپنی گرفت سے آزاد کر چکا تھا
جبکہ اسکے دور جانے پہ حفصہ کو برا سا لگا جو اسکے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا
آج وہ چاہتی تھی کہ وہ اس سے بات کریں مگر آج وہ خود اس سے دور جا رہا تھا
“‘ اچھا ٹھیک ہے شام میں ملتے ہیں انتظار کرنا میرا”‘
اسکی پیشانی کو نرمی سے چومتا وہ جانے کے لئے آگے بڑھا اسکو جاتا دیکھ حفصہ کی آنکھیں نم ہوئی تھی وہ تیزی سے اسکی طرف لپکی اور پیچھے سے اپنے نازک ہاتھ اسکے گرد باندھ لئے
اسفند جو آگے بڑھ رہا تھا حفصہ کی اس حرکت پہ اسکے قدم اپنی جگہ رکے وہ اپنی پشت پہ اسکے آنسوں کی نمی کو محسوس کر کے وہ بےچین سا ہوا تھا
“‘ اگر میں تم سے کہوں کہ میں تمہاری معافی قبول کر چکی ہوں تو تم کیا کروگے “‘
اپنی پکڑ اسکے گرد مضبوط کرتی وہ مزید اسکے قریب ہوئی جبکہ اسکی بات پہ اسفند اس بار کھل کر مسکرایا تھا
حفصہ کے منہ سے یہ لفظ سن کر اسے کتنا سکون ملا تھا وہ لفظوں میں بیاں نہیں کر سکتا تھا
“‘ تو میں یہ کرونگا “‘
اس نے حفصہ کے ہاتھ تھام کر اسے اپنے سامنے کیا
اور اسکے گرد اپنے بازو حائل کرتا اسکے نازک وجود کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا جس پہ حفصہ نے بھی مسکرا کر اپنی آنکھیں بند کر لی
اس وقت وہ خود کو اسکی باہوں میں مکمل محسوس کر رہی تھی
دونوں کتنی ہی دیر ایسے ہی کھڑے ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو محسوس کر رہے تھے
“‘ ویسا میرا ایک اور چیز کرنے کا بڑی شدّت سے دل کر رہا ہے اگر اجازت ہو تو وہ بھی کر لوں “‘
وہ اسکے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھ میں تھام کر اپنے سامنے کرتا ہوا بولا جس پہ حفصہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھنے لگی
“‘ اور وہ چیز کیا ہے “‘
اس نے معصومیت سے سوال کیا
مگر اسفند اسکا جواب دینے کی بجائے اسکے گلابی لبوں پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
اسکی اس جسارت پہ حفصہ کی آنکھیں پھیل سی گئی تھی اس نے سختی سے اسفند کے کالر کو اپنی مٹھی میں دبوچ لیا
وہ ایک ہاتھ سے اسکے بالوں اپنے ہاتھوں میں سختی سے جکڑے اسکے چہرے پہ جھکا دیوانوار اپنے عمل کو بار بار دوہرا رہا تھا
اسکی اتنی شدّت پہ حفصہ کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
اسے جب لگا کہ وہ سانس نہیں لے پائے گی تو اس اپنی پوری طاقت لگا کر اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کیا
“” کیا یار کیسی بیوی ہو صحیح سے خوشی کو انجوئے کرنے بھی نہیں دیتی “‘
وہ چہرے پہ دنیا جہاں کی معصومیت لئے اسے دیکھنے لگا جو گہرے گہرے سانس لیتی شکوہ بھری نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی
“” میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے تو زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ ویسے بھی بہت انجوئے کر لیا تم نے اب جاؤ آفس تمھیں دیر ہو رہی ہے “‘
وہ خالص بیویوں کی طرح اسکو حکم دے رہی تھی جس پر اسفند مسکراتا ہوا اسکے قریب ہوا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“‘ اب تو جا رہا ہوں لیکن رات کو میں اپنی اس خوشی کو بہت اچھے طریقے سے سلیبریٹ کرونگا اور تب تمہارے پاس کوئی بہانہ بھی موجود نہیں ہوگا مجھ سے دور جانے کا “‘
وہ اسکے کان میں دذ معنی لہجے میں بولتا اسکے کان کی لؤ چوم کر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ اسکی بات پر حفصہ لال چہرہ لئے کتنی ہی دیر وہاں کھڑی شرماتی رہی تھی
💥💥
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل ریڈ کر رہا تھا جب دروازے پہ ہونے والی دستک پر وہ ڈسٹرب ہوا اور کوئی آہستہ سے دروازہ کھولتا اسکے روم میں داخل ہوا
“‘ میری اجازت کے بغیر تم اندر کیسے آ “‘
اسے لگا کی اسکی سیکرٹری ہوگی وہ اسے بغیر اجازت کے اندر آنے پر اچھی خاصی سنانے والا تھا مگر اپنے سامنے کھڑے مصطفیٰ کو دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا
“‘ تم یہاں کیوں آئے ہو “‘
اتنے دن بعد اسے اپنے دوست کو دیکھ کر بہت اچھا لگا تھا مگر وہ اپنے احساسات کو چھپاتے ہوئے ناراضگی سے بولا تھا
“‘ تمہارے پاس آیا ہوں تو یقیناً تم سے بات کرنے ہی آیا ہوں اور شکر ہے آج تم مجھے مل گئے ۔۔۔ کیونکہ آج تمھیں میری بات سننی ہی ہوگی اسفند “‘
اسکے لہجے کی بےرخی کو محسوس کر کے اسے تکلیف تو ہوئی تھی مگر وہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتا تھا اسلئے مضبوط لہجے میں کہتا اسکے ٹیبل کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا
آج وہ سوچ کر آیا تھا اسفند چاہے اسے کچھ بھی کہہ لے اسکے ساتھ کچھ بھی کرے مگر وہ اسکی معافی ضرور حاصل کر کے رہے گا
“‘ آخر کیوں سنو میں تمہاری بات ۔۔۔۔یا تم آج پھر اور کوئی جھوٹ بولنے آئے ہو مجھ سے “‘
اسفند اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا آفس میں موجود گلاس وال کے پاس جا کھڑا ہوا تھا جہاں سے وہ روڈ پہ تیزی سے بھاگتی گاڑیوں کو آرام سے دیکھ سکتا تھا
“‘ میں نے آج تک تم سے کچھ جھوٹ نہیں بولا سوائے ایک کے اور اپنی اس غلطی کے لئے میں رات دن پچھتا رہا ہوں “‘
مصطفیٰ کے لہجے میں گہرا دکھ تھا جسے اسفند بخوبی محسوس کر سکتا تھا
“‘ اور تمہاری اس ایک غلطی کی وجہ سے میں اپنی محبت سے چھ سال دور ہی نہیں رہا بلکہ ان چھ سالوں میں اس سے نفرت بھی کرتا رہا ۔۔۔۔ اور میں جب بھی ان گزرے ہوئے سالوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے اور تم میری اس تکلیف کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے “‘
وہ اسکی طرف دیکھے بغیر اس سے شکوہ کر رہا تھا اس وقت اسکا خود کا لہجہ بھی نم تھا
“‘ میں مانتا ہوں اسفند تم سے حقیقت چھپا کر میں نے بہت بڑی غلطی کی تھی مگر “‘
وہ اپنی بات کہہ کر ایک لمحے کے لئے رکا اور اسکی جانب دیکھا جو اسکے رکنے پر اب اپنا رخ اسکی جانب کر چکا تھا
“‘ اس دن میں نے صحیح اور غلط کے بارے میں نہیں سوچا اس دن اگر مجھے کسی کا خیال تھا تو اس بچے کا جو اس سارے سلسلے میں بےقصور تھا اور میں اسکے ساتھ کچھ غلط ہونے نہیں دے سکتا تھا اور مجھے پورا یقین ہے اگر اس دن تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی یہی کرتے “‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا ہوا بولا اسکے لہجے اور لفظوں میں چھپی سچائی کو اسفند بخوبی محسوس کر سکتا تھا
کہیں نہ کہیں یہ سچ بھی تھا اگر وہ اسکی جگہ ہوتا تو شاید وہ بھی یہ ہی قدم اٹھاتا
“‘ تمھیں لگتا ہوگا کہ رباب تمھیں خود سے چھوڑ کر گئی تھی مگر ایسا نہیں تھا “
مصطفیٰ اپنی بات کہتا ایک پل کے لئے رکا اور اسفند کی جانب دیکھا جسکی توجہ مکمل اسکی جانب تھی
“” جب مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ تمہارے ساتھ ایسا کر چکی ہے تو میں نے اسکو دھمکی دی تھی کہ اپنا بچہ تمھیں دے کر تمہاری زندگی سے چلی جائے ۔۔۔۔ کیونکہ میری بہن تمہارے لائق نہیں تھی “‘
مصطفیٰ کی بات پر آج اسے سمجھ آ گیا تھا کہ رباب نے اس سے طلاق کیوں لی تھی
“‘ میں نے اسے تمہاری ہی زندگی سے نہیں نکالا تھا اسفند تمہارے ساتھ میں نے اسے اپنی زندگی سے بھی نکال دیا تھا ۔۔۔ ان گزرے پانچ سالوں میں ۔۔۔۔ میں نے اپنی بہن کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا صرف تمہاری وجہ سے “‘
اسکے لہجے میں جانے ایسا کیا تھا کہ اسفند کو اپنا دل پگھلتا ہوا محسوس ہوا تھا کیونکہ یہ سچ تھا صرف اسکی وجہ سے مصطفیٰ نے اپنی بہن سے رشتہ توڑ لیا تھا
“‘ اور اس سب کے باوجود تم کہتے ہو کہ میں نے اس دن اپنی بہن کا ساتھ دیا ۔۔۔ اگر ایسا ہوتا تو میں آج میں اپنی بہن کے پا موجود ہوتا اس سے نفرت کرنے کے بجائے اس سے محبت کرتا جسکی وہ حقدار تھی ۔۔”‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا ہوا بول رہا تھا جس پر اسفند کو اپنا آپ چھوٹا محسوس ہو رہا تھا
اپنے دوست کے لئے اس نے اپنی سگی بہن سے رشتہ تک توڑ لیا تھا اور ایک وہ تھا جو اس پہ اپنی بہن کا ساتھ دینے کا الزام لگا رہا تھا جبکہ وہ کہہ بھی چکا تھا اس سے سچ چھپانے کی وجہ ھاد تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسفند غصّے میں آکر کچھ بھی غلط کرے
“‘ میں تمہارا زیادہ وقت نہیں لینے آیا بس اتنا ہی کہنا تھا ایک بار ٹھنڈے دماغ سے ضرور سوچنا شاید تمھیں مجھے معاف کرنے میں آسانی ہو جائے “‘
مصطفیٰ ایک آخری نظر اسے خاموشی سے کھڑے دیکھتا ہوا بولا اور دروازے کی جانب پلٹا گیا
“‘ اور اگر میں تم سے ناراض ہوتا تو اس وقت خاموشی سے کھڑا تمہاری باتیں نہ سن رہا ہوتا اس بات کو تو تم اچھی طرح جانتے ہی ہو “”
وہ جو آگے بڑھ رہا تھا اسفند کی بات پر یکدم سے پلٹ کر اسکی طرف دیکھا جو اسکی جانب دیکھتا مسکرا رہا تھا
“‘ تمھیں کیا لگتا ہے جو سب تم نے کہا اور کیا وہ میں نہیں جانتا کیا مجھے سب نظر نہیں آتا “‘
وہ اپنی بات کہتا آگے بڑھا اور اپنے دوست کے گلے آ لگا
اسکی بات پر مصطفیٰ کو اپنے اندر سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا تھا
“‘ میں تم سے ناراض تھا مصطفیٰ کہ تم نے مجھ سے اتنا بڑا سچ چھپایا کہیں نہ کہیں تم صحیح بھی تھے شاید سچ جاننے کے بعد غصّے میں میں رباب کے ساتھ اس بچے کو بھی قبول نہ کرتا ۔۔۔۔ اور مجھے وہ سب یاد ہے جو کچھ تم میرے لئے کر چکے ہو اور اسی بات سے میں تم سے زیادہ دن ناراض بھی نہیں رہ سکا تھا بس مجھے کچھ وقت چاہئے تھا “‘
وہ کھلے دل سے اعتراف کر رہا تھا
“‘ شکر ہے تمہاری ناراضگی تو ختم ہوئی “‘ ویسے تم نے اس شمس کا کیا کیا کہیں غصّے میں آکر کچھ الٹا سیدھا تو نہیں کر دیا “‘
اسفند کی بات پہ وہ کچھ ہلکا پہلکا سا محسوس کرتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اپنے دل میں چلتا سوال بھی کر ڈالا
“‘ فلحال میں نے اسکے ساتھ کچھ نہیں کیا مگر اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اپنی غلطی کی سزا نہں ملے گی اسکا بھی انتظام کرنے میں لگا ہوا ہوں بس صحیح وقت کے انتظار میں ہوں “‘
اسفند چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھ کر بولا تو اس بار مصطفیٰ بھی مسکرا دیا
“‘ ویسے ابھی ایک اور بات ہے جس سے تم اب تک انجان ہو جو تمہارے لئے جاننی ضروری ہے “‘
مصطفیٰ پر سچ انداز میں بولا تو اسفند سنجیدگی سے اسکی طرف دیکھنے لگا
“‘ کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں کس بات کے بارے میں بات کر رہے ہو تم “‘
وہ ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
“‘ مطلب یہ کہ حورین کی جان کے پیچھے جو پڑا ہے وہ شخص کوئی اور نہیں تمہاری بیوی حفصہ کا باپ ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ حورین اور حفصہ دونوں کزن ہے اور دونوں ہی اس بات سے بےخبر ہیں “‘
مصطفیٰ کی بات پہ اسفند اسکی طرف دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا تھا
اسکی خاموشی پہ مصطفیٰ اسے سب بتاتا چلا گیا جسے وہ بہت غور سے سن رہا تھا
💥💥
حورین کو نہیں معلوم تھا کہ اسے اس طرح بیٹھے بیٹھے کتنا وقت گزر گیا تھا
وہ بس بیڈ پہ بیٹھی بری طرح کانپ رہی تھی سسکی بھر رہی تھی
جو اس نے سنا تھا اسے سن کر اسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا اسکا مصطفیٰ اسے اتنی بڑی حقیقت کیسے چھپا سکتا تھا
یہ سب سوچ کر کبھی تو اسکی ہچکیاں بنھ جاتی تو کبھی سسکیاں ابھرنے لگتیں
وہ ناجانے کتنا وقت یوں ہی بیٹھی رہتی کہ جب انکے کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے میں کھلا اور دیوار سے جا ٹکرایا مصطفیٰ بھاگتا ہوا اسکی طرف پلکا تھا
وہ بہت ضروری میٹنگ میں تھا جب داؤد صاحب کے فون پر وہ اپنی میٹنگ کو بیچ میں چھوڑ کر وہاں سے فورا نکلا
حورین کی یہ حالت دیکھ کر مصطفیٰ کو ایسا لگ رہا تھا کہ مانو کسی نے اسکے دل پہ چھریاں چلائی ہو بال پوری طرح بھکرے ہوئے تھے کاجل آنکھوں سے بہہ کر رخسار پہ پھیل چکا تھا
آنکھیں مسلسل رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی مصطفیٰ سے حور کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی
“‘ حورین میری جان کیا ہوا ایسے کیوں رو رہی ہو کسی نے کچھ کہا تم سے “‘
اسکا چہرہ مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام کر مصطفیٰ نے بہت محبت بہت بےقراری سے اسے پکارا تھا
مگر وہ یوں ہی اپنے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے ویسے ہی بیٹھی رو رہی تھی
“‘ حورین میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں کیا ہوا ہے تمھیں کیوں اس طرح سے رو رہی ہو “‘
اسکی خاموشی پر وہ پھر سے اس سے سوال کر رہا تھا اس بار اسکی آواز میں ایک حکم سا تھا
سارا راستہ وہ اسی فکر میں رہا کہ نہ جانے ایسا کیا ہوا جو حور آج اس طرح سے رو رہی تھی اور اب وہ اسے بتا نہیں رہی تھی تو اسکی بےچینی مزید بڑھ رہی تھی
اور اس بار مصطفیٰ کی آواز نے اسے اپنے خیالات سے کھینچ کر نکالا تو وہ لال سرخ آنکھیں لئے اسے دیکھنے لگی جو اسکے اس طرح رونے پر بہت فکرمند نظر آ رہا تھا
“‘ آپ مجھ سے اتنا بڑا سچ کیسے چھپا سکتیں ہیں مصطفیٰ “‘
اسکے ہاتھوں سے اپنا چہرہ آزاد کرواتی وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی
اسکے اجنبی لہجے اور رویے سے مصطفیٰ کو عجیب سا محسوس ہوا تھا جسے وہ سمجھ نہیں پایا تھا
“‘ کیسا سچ ۔۔۔ تم کس سچ کی بات کر رہی ہو حورین میں نے آج تک تم سے کچھ نہیں چھپایا “‘
وہ ناسمجھی کے عالم میں اسکی طرف دیکھتا ہوا خود بھی بیڈ سے اٹھ کر اسکے مقابل آ کھڑا ہوا
“‘ اگر ایسی بات ہے مصطفیٰ تو مجھے بتائیے کہ میری ماں کیسے مری “‘
وہ بےدردی سے اپنے آنسوں رگڑتی ہوئی اس سے سوال کر رہی تھی
جبکہ اسکے اس سوال پہ مصطفیٰ اپنی جگہ کھڑا کا کھڑا رہ گیا تھا وہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ حورین کبھی اس سے یہ سوال کرے گی
آج زندگی میں پہلی بار وہ اپنی ماں کے متعلق اس سے کچھ پوچھ رہی تھی
آج وہ اس سے وہ سوال کر رہی تھی جسکا جواب دینے کے لئے مصطفیٰ کو لفظ نہیں مل رہے تھے
اور وہ اس سے کہتا بھی کیا
“‘ کیا ہوا آپ خاموش کیوں ہو گئے مصطفیٰ بتائں نہ۔۔۔ میرے سوال کا جواب دیں “‘
وہ آنکھوں میں آنسو لئے اس دیکھ رہی تھی جو لب بھینچے کھڑا تھا
“‘ میں تمھیں پہلے بتا تو چکا ہوں کہ تمہاری ماں مجھے تمہاری زمہ داری دیکر گئی تھی اس سے آگے میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ کہاں “‘
اس سے پہلے کہ وہ مزید جھوٹ بول کر ہمیشہ کی طرح اسکو بہلانے کی کوشش کرتا اسکی بات پر حورین چیخ اٹھی تھی
“‘ جھوٹ “‘ سب جھوٹ ہے “‘ آج تک آپ نے مجھ سے جو بھی بولا ہر ایک لفظ جھوٹ تھا ‘”
اس بار وہ اسکی آنکھوں میں بےخوف ہوکر بولی تھی
“‘ حورین میری بات تو سنو”‘
اس بار مصطفیٰ اسکی حالت دیکھ کر کافی پریشان سا ہو گیا اور اسکو بازو سے تھام لیا جس پہ حورین نے بےدردی سے اسکے ہاتھوں کو جھٹک دیا تھا
مصطفیٰ کا جھکا سر اسکے ہر ایک انداز سے حورین کو محسوس ہو رہا تھا جو وہ کہہ رہی تھی سچ تھا
“‘ نہیں مصطفیٰ آپ جھوٹے ہیں آج تک آپ نے مجھ سے صرف جھوٹ ہی بولا ہے۔۔۔ میری ماں آپکو میری زمہ داری تو دیکر گئی تھی مگر اپنے آخری لمحوں میں اور انہیں اس حالت میں پہنچانے والے آپ تھے ۔۔۔۔ کیونکہ آپکی کار سے انکا ایکسیڈنٹ ہوا تھا “‘
اپنے آخری لفظ بولتی ہوئی وہ زور سے چلائی تھی
جبکہ اسکی بات پہ مصطفیٰ گنگ سا کھڑا رہ گیا اسکے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ حورین کو اس بات کا پتہ لگ سکتا ہے
اور اسے یہ سب معلوم ہوا بھی تو کہاں سے یہ ایک سوال اسکے دماغ میں تیزی سے گردش کر رہا تھا
“‘ دیکھو حورین ہم آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں اس وقت تمہاری طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی ہے””
اس نے حورین کے بازو کو پھر سے اپنی گرفت میں لینا چاہا مگر اس بار بھی وہ اسکی پہنچ سے دور جا چکی تھی
زندگی میں آج پہلی بار مصطفیٰ حورین کے سامنے خود کو کمزور محسوس کر رہا تھا
“‘ٰ آپکا یہ جھکا سر اور یہ آپکی آنکھوں میں شرمندگی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ میں جو کہہ رہی ہوں وہ سچ ہے اور آج تک آپ جو مجھ سے بولتے آ رہے تھے وہ جھوٹ تھا دھوکہ تھا “”
وہ اسکے اور اپنے درمیاں فاصلے بڑھاتی ہوئی اس سے دور جا کھڑی ہوئی تھی
“‘ اگر آج میرے پاس وہ فون نہ آتا تو مجھے کبھی اس حقیقت کے بارے میں پتہ ہی نہ چلتا اور نہ یہ معلوم ہوتا کہ میرا کوئی خون کا رشتہ بھی اس دنیا میں موجود ہے میں لاوارث نہیں ہوں “‘
وہ مصطفیٰ آنکھوں میں آنسو لئے اسکی طرف دیکھ کر بول رہی تھی جو بےبسی سے اسکو دور جاتا دیکھ رہا تھا مگر حورین کے منہ سے ادا ہوئے لفظ پر وہ چونکا تھا
“‘ کس کے کال کی بات کر رہے ہو تم ۔۔۔ کس نے بتایا تمھیں یہ سب “‘
حورین کی بات پہ اس بار وہ تھوڑا سخت لہجے میں بولا تھا
“‘ جن سے ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے معلوم ہوا کہ میرا کوئی تایا بھی ہے انہونے مجھے بتایا اور اچھا کیا کہ انہونے مجھے بتا دیا ورنہ میں تو زندگی بھر کبھی اس حقیقت سے واقف ہی نہ ہوتی “‘
حورین کی بات پر مصطفیٰ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہی ہے
ابراھیم خان کی اس حرکت پہ مصطفیٰ نے غصّے میں اپنی مٹھی بھینچ لی تھی
“” حورین اس شخص نے تمھیں جو بتایا ہے وہ پورا سچ نہیں ہے ایک بار تم میری بات سن لوگی تو تمھیں سب سمجھ آ جائے گا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔ بس ایک بار میری بات سن لو “‘
وہ اپنی بات کہتا پھر سے آگے بڑھا مگر حورین ہاتھ کے اشارے اے اسکو قریب آنے سے روک چکی تھی
“‘ میں اب آپ سے مزید کوئی جھوٹ نہیں سننا چاہتی مصطفیٰ ۔۔۔ ۔۔ بہت بہلا لیا آپ نے مجھے جھوٹ بول کر مگر اب نہیں ۔۔۔۔ میں اب آپکے کسی بھی جھوٹ پہ یقین نہیں کرنے والی سن لیا آپ “‘
وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی روتی ہوئی وہیں زمین پہ بیٹھتی چلی گئی تھی
جبکہ مصطفی ٰبےبسی سے کھڑا اسکو یوں روتا ہوا دیکھتا رہا اس میں ہمّت نہیں تھی اسکے قریب جاکر اسے چپ کرانے کی
. 💥💥
(جاری ہے)