55.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

اس نے گہری نیند میں جب کروٹ بدلی تو بیڈ پر کسی کو موجودگی کے احساس سے اسکی آنکھ کھلی
آنکھیں کھول کر اپنے برابر بیٹھی حفصہ کو دیکھا کر وہ پوری طرح سے نیند سے بےدار ہوا تھا
جو اس وقت اسکی شرٹ میں مبلوس بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی
اسکی سسکی کی آواز سے ہی اسفند کی آنکھ کھلی تھی
اس نے حفصہ کا چہرہ دیکھا اس وقت اسکا سارا میک اپ سونے اور رونے کی وجہ سے اچھا خاصا خراب ہو چکا تھا
اپنے کئے گئے عمل پہ اسے بلکل افسوس نہیں ہو رہا تھا چھ سال پہلے جو وہ اسکے ساتھ کر چکی تھی اسفند کو لگتا تھا وہ سزا کی حقدار تھی
اور رات اسکے منہ سے اپنے لئے حقارت زدہ لفظ سن کر اسفند شاکـڑ رہ گیا تھا
جبکہ دھوکہ تو حفصہ نے اسے دیا تھا غلط اس نے اسفند کے ساتھ کیا تھا پر الٹا وہ اسے اتنا کچھ کہہ گئی تھی جس پر اسفند اپنے غصّے کو برداشت نہیں کر سکا تھا
وہ کتنی ہی دیر کروٹ لئے لیٹا خاموشی سے اسکی سسکیاں سنتا رہا
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو اسکی آنکھ لگی تھی حفصہ کی مسلسل آتی سسکیوں سے وہ شرمندہ ہونے کی بجائے جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا
“‘ صبح صبح یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے رونا بند کرو اچھی خاصی نیند خراب کر دی “‘
جب وہ اسکی سسکیاں مزید برداشت نہ کر سکا تو سیدھا لیٹتا ہوا بےزاری سے بولا تھا
حفصہ جو رونے میں مشغول تھی اسفند کی گمبھیر آواز پر اپنی جگہ ڈر سی گئی اور اسکے الفاظ سن کر ایک شکواہ بھری نظر اس ستمگر پہ ڈالی جو چہرے پہ سرد تاثرات لئے اسے دیکھ رہا تھا
“‘ اور تم نے میرے ساتھ جو کیا اسکا کیا اسفند سب کچھ خراب کرنے کے بعد تمھیں اپنی نیند کی فکر ہو رہی ہے “‘
وہ آنسوؤں سے بھری آنکھیں لئے اس سے شکایات کر رہی تھی مگر سامنے والے پر فرک کہاں پڑنا تھا
“‘ کیا کیا میں نے بتاؤ “‘
وہ اب مکمل اسکو اپنی نظروں کی حصار میں لئے لیٹا تھا
بغیر شرٹ کے اسکا کسرتی جسم نمایا ہو رہا تھا اوپر سے اسکی گہری بولتی نظروں سے حفصہ کو اپنی دھڑکنے تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
“‘ تم ۔۔۔تم نے زبردستی کی ہے میرے ساتھ میرا ر۔۔ری “‘
اس سے پہلے کہ حفصہ اپنا جملہ مکمل کرتی اسفند جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچ چکا تھا اور حفصہ جو اس حملے کے لئے بلکل تیار نہ تھی کسی نازک گڑیاں کی طرح اسکے سینے پر آ گری تھی
“‘ خبردار اگر تم نے یہ گھٹیا لفظ استمال کیا ۔۔۔بیوی ہو تم میری اور جائز ہو مجھ پر “‘
اسکے دونوں بازو پر اپنی گرفت سخت کرتا وہ غرایا تھا
غصّے کی وجہ سے اسکی ابھرتی نسے واضح طور پہ نظر آ رہی تھی
جو بھی تھا اسکی اتنی قربت پر حفصہ کی جان ہوا ہونے لگی تھی
حفصہ نے اسکے تیور دیکھ کر اپنا حلق تر کیا تھا
“‘ تم ایسے تو نہیں تھے اسفند “‘
بغیر شرٹ کے اسکے جسم کی گرماہٹ سے حفصہ کی ہتھیلی عرق آلودو ہو گئی تھی
وہ جلدی سے اس پر سے اٹھنے لگی مگر اسفند نے حفصہ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اسکی نازک کمر پر اپنا ایک بازو حائل کر کے اسے مزید اپنے سینے سے لگا لیا
“‘ بلکل صحیح کہا میں ایسا نہیں تھا جو اسفند تم سے محبت کرتا تھا اس اسفند کو تم نے خود مارا ہے اور اس اسفند کو تم اپنا جائز حق لینے سے روک نہیں سکتی “‘
وہ اسکے کپکپاتے لبوں پہ نظریں جمائے بولا اسکا باغی دل کوئی گستاخی کرنے پہ اکسا رہا اپنے دل میں اٹھی خوائش کو پوری کرنے کے لئے اس نے حفصہ کو مزید خود پر جھکایا تھا
حفصہ جو اسکی اتنی قربت سے گھبرا رہی تھی اسفند کے مضبوط ہاتھ کا دباؤ اپنی کمر پر مزید سخت ہوتا دیکھ اسکے دل حلق کو آ گیا تھا
وہ اسکی پکڑ سے خود کو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر اسفند اسکو یونہی پکڑ کر گھماتے ہوئے بیڈ پر لیٹا کر اپنے نیچے گرا چکا تھا
ابکہ بار حفصہ اپنا سانس روک کر رہ گئی تھی
وہ آنکھیں پھیلائے اپنے اوپر جھکے اسفند کو دیکھنے لگی دھڑکنے حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی
ایک تو وہ پہلے ہی رات سے اس سے خوفزدہ تھی اسکی گرم سانسیں حفصہ کا چہرہ جھلسا رہی تھی دل میں اسکی قربت کا خود زیادہ بڑھ گیا تھا
“‘ شاید تم نے میری بات ٹھیک سے نہیں سنی تمھیں بتانا پڑے گا کہ تم اسفند یار خان کو روک نہیں سکتی””
اپنی بات کہتا وہ اسکے چہرے پہ جھکا اور اسے بغیر کوئی موقع دئے اپنے دہکتے لب اسکے کپکپاتے لبوں پہ رکھ چکا تھا
اسکے لمس سے حفصہ کو اپنا پورا جسم سن ہوتا محسوس ہوا تھا وہ سختی سے اپنی آنکھیں بند کر گئی تھی
وہ تڑپ کر اپنا آپ چھڑوانے لگی مگر اسفند نے مضبوطی سے اسکی کلائی تھام لی تھی
وہ اپنے دوسرے آزاد ہاتھ سے اسکے چوڑے شانے پہ رکھ کر اسے دور ہٹانے لگی مگر وہ اسکی مزاحمت کی پروہ کئے بغیر دیوانہ وار اس پر جھکا رہا
رات کی طرح حفصہ کی قربت اسے مدہوش کر رہی تھی
اسکی شدتوں سے بوجھل ہوتی آنکھوں کو حفصہ نے اپنے ہونٹوں پر ہوتی تکلیف سے جھٹکے سے کھولا
وہ تڑپ کر اسے دھکا دینے لگی تو اسفند جھٹکے سے اس سے دور ہوا اور اسے دیکھنے لگا
جو آنکھیں بند کئے اپنی سانسوں کو متواتر کر رہی تھی
اپنے ہونٹ پر ہوتی جلن کو محسوس کر کے حفصہ نے آنکھیں کھولی اور انگلی سے چھو کر دیکھا تو خون نکل رہا تھا
وہ خون کو دیکھ کر وحشت سے اسفند کو دیکھنے لگی
“‘ اگر آئندہ مجھے روکنے کی کوشش کی تو دوسری صورت میں تمھیں ہی تکلیف ہوگی “‘
وہ چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ لئے اسکےاوپر سے ہٹا اور بیڈ سے اٹھ کر واشروم میں جا گھسا جبکہ حفصہ اسکے انداز پر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر پھر سے رونے لگی تھی
💥💥
“‘ آپ کہیں جا رہے ہیں “‘
حورین جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی مصطفیٰ کو اپنی تیاری میں مصروف دیکھ کر اپنی نازک انگلیوں کو موڑتی اس سے مخاطب ہوئی تھی
وہ جو تیزی سے اپنا کام کرنے میں مصروف تھا حورین کی آواز سن کر اسکے تیزی سے چلتے ہاتھ یک لمحے کے لئے رکے مگر اس نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی
“‘ ہاں کسی کام کے سلسلے سے جا رہا ہوں “‘
وہ اسکی طرف دیکھ بغیر بولا
اسکے انداز اور مختصر سے جواب پہ حورین کی آنکھوں میں نمکین پانی اتر آیا تھا
“‘ میں کل سے دیکھ رہی ہوں مصطفیٰ آپ مجھے نظرانداز کر رہے ہیں ایسا کیوں ہے”‘
وہ بمشکل اپنے آنسوں کو ضبط کرتی ہوئی بولی مصطفیٰ کی بےرخی اسکا رویہ حورین کی برداشت سے باہر تھا
وہ نازک دل کی لڑکی یہ سب سہن نہیں کر پا رہی تھی
“‘ میں تمہاری موجودگی کو کبھی نظرانداز نہیں کر سکتا تمھیں کوئی غلطفہمی ہوئی ہے “‘
وہ بیڈ سے اپنا کوٹ اٹھا کر پہنتا ہوا بولا جبکہ ابھی بھی اسکی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا
“‘ اگر ایسا ہے تو آپ کل سے مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے ہیں کیوں میری طرف دیکھنے سے گریز کر رہے ہیں بتائیے “‘
وہ اس بار اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی تھی
آنکھوں میں پانی لئے وہ اسکی گہری کالی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
پرسو رات وہ کتنا خوش تھی اسکا مصطفیٰ اسکے قریب تھا اسے زندگی سے اور کچھ نہیں چاہیے تھا
پر جب صبح وہ جاگی تو وہاں بلکل اکیلی تھی مصطفیٰ اسکو بغیر جگائے سٹڈی روم میں اکیلا چھوڑ کر جا چکا تھا
وہ کتنی ہی دیر خالی آنکھوں سے اس جگہ کو دیکھتی رہی جہاں ساری رات مصطفیٰ موجود تھا اسے لگا تھا اس رات کے بعد شاید اسکے اور مصطفیٰ کے درمیاں فاصلے ختم ہو جائے گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا
بلکہ مصطفیٰ نے اس سے مزید دوری اختیار کر لی تھی
“‘ حورین میرے پاس تمہاری فالتو باتوں کے لئے بلکل وقت نہیں ہے ہٹو میرے سامنے سے مجھے دیر ہو رہی ہے “‘
اس بار وہ مکمل اسکی طرف متوجہ ہوتا سخت لہجے میں بولا
وہ حورین کے جس سوالوں سے بچنا چاہ رہا تھا وہ وہی سوال لیکر اسکے سامنے کھڑی تھی
“‘ تو اسکا مطلب اس رات جو سب ہوا وہ فالتو تھا آپ نے جو کچھ بھی بولا وہ سب آپکے لئے کوئی معنے نہیں رکھتا تھا “‘
وہ نم آنکھوں سے اسکو دیکھتی سوال کر رہی تھی مصطفیٰ نے اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر نظریں چرائی تھی
“‘ تم کس بارے میں بات کر رہی ہو حورین میں کچھ نہیں سمجھا “‘
وہ صاف اسکے منہ پہ جھوٹ بول رہا تھا
اس رات اسے اپنی بےخودی پر جی بھر کر غصّہ آیا تھا جو وہ اس سے اپنے دل کی بات بول گیا تھا اسے تو حورین کو خود سے دور کرنا تھا تو پھر وہ اتنی بڑی غلطی کیسے کر سکتا تھا
وہ کیسے اسے اپنے قریب آنے کی وجہ دے سکتا تھا
“‘ آپ جھوٹ بول رہے ہیں آپ سب جانتے ہیں بس میرے سامنے انکار کر رہے ہیں “‘
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں تڑپتے ہوئے کہا
پر وہ یوں ہی بےتاثر چہرہ لئے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اس پر حورین کے آنسوں کا کوئی اثر نہ ہو رہا
“‘ اگر تمھیں ایسا لگ رہا ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہو تو تم مجھے یاد دلا دو شاید مجھے یاد آ جائے کہ تم کس بارے میں بات کر رہی ہو “‘
وہ ابرو اچکاتا ایک قدم بڑھا کر مزید اسکے قریب ہوا تھا
جبکہ اسکی بات پر حورین کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا تھا وہ مصطفیٰ کے سامنے کیسے بول سکتی تھی کہ اس رات ان دونوں کے درمیاں کیا ہوا تھا
اب وہ اپنا رونا بھول کر بےدردی سے لب کچلتی کنفیوژ سی اسکے سامنے کھڑی اپنی نازک انگلیوں کو مروڑ رہی تھی
“‘ اگر آئندہ تم نے میرے سامنے یہ حرکت کی تو میں تمہاری انگلیاں توڑ دونگا “‘
وہ اسکے دانتوں سے اسکے لبوں کو آزاد کرا کر اسکے ہاتھ کی انگلیوں کی جان اس سے چھوڑتا ہوا سخت لہجے میں بولا
اسے شورع سے حورین کی یہ حرکت سخت ناپسند تھی
“‘ آپ بات بدل رہے ہیں “‘
وہ نظریں جھکائے بولی
ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ اپنی محبت کے واسطے اسکے سامنے جھک رہی تھی
“‘ حورین مجھے بہت ضروری میٹنگ کے لئے دیر ہو رہی ہے “‘۔
وہ اسے سائیڈ پر کرتا آگے بڑھا تھا کیونکہ
اب یہ لڑکی اسکے غصّے کو مزید بڑھا رہی تھی
ویسے بھی وہ زیادہ دیر اپنے غصیلی طبیعت پر قابو نہیں رکھ سکتا تھا
اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنا غصّہ اس پر اتارے
“‘ پہلے میری آنکھوں میں دیکھ کر بولیں کہ اس رشتے میں بندھنے کے بعد بھی آپکے دل میں میرے لئے کچھ نہیں ہے وہ سب جو آپ نے بولا تھا سب جھوٹ تھا “‘۔
وہ آنکھوں میں پانی لئے اس سے سوال کر رہی تھی اور پھر سے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی
“‘ حورین میں کہہ چکا ہوں مجھ سے دور رہو میری زندگی میں محبت لفظ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے تو تمہارے ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی ہے “‘
مصطفیٰ جو بہت دیر سے اپنے غصّے کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا تھا حورین کی بات پر ابکہ بار اسکا غصّہ ہائی ہوا تھا اس نے سختی سے اسے دونوں بازو سے پکڑ کر دیوار سے لگایا اور سخت تیوری لئے اس سے پوچھ رہا تھا
حورین کو مصطفیٰ سے اس ردعمل کی توقع نہیں تھی مصطفیٰ کی اس حرکت پہ وہ اپنی جگہ سہم سی گئی تھی
“‘ مصطفیٰ چھوڑیں مجھے تکلیف ہو رہی ہے “‘۔
اسکی سخت پکڑ سے حورین کو اسکی انگلیاں اپنے بازو میں گڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی تکلیف کی وجہ سے اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا مگر وہ یوں ہی ظالم بنا اسکو کھڑا اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا
“‘ اگر خود کو تکلیف سے بچانا چاہتی ہو تو دور رہو مجھ سے “‘
وہ اسکو بےدردی سے بیڈ پہ دھکا دیتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا
اس نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ دیکھنا چاہتا تھا
اور اگر وہ دیکھ لیتا تو وہ اسے اس طرح چھوڑ کر جا نہیں پاتا مگر
کبھی کبھی ہمیں ان لوگوں سے بھی دور ہونا پڑتا ہے جن کے ساتھ ہم زندگی گزارنا چاہتے ہیں
اور اس وقت اسکے دل کو کتنی تکلیف ہو رہی تھی یہ تکلیف صرف مصطفیٰ زمان شاہ ہی جانتا تھا
💥💥
(ماضی ) ( چھ سال پہلے )
“‘ کہاں چلی گئی ہو تم حفصہ”‘
وہ بےچینی سے ادھر سے ادھر ٹہلتا حفصہ سے مخاطب ہوا تھا
کبھی وہ اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا تو کبھی اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتا
اس وقت اسکے ہر ایک انداز سے پرشانی صاف ظاہر ہو رہی تھی
اس نے اپنی جین کی پاکٹ سے موبائل نکال کر حفصہ کا نمبر پھر سے ملایا تھا جو اب بھی بند جا رہا تھا
ابکہ بار اس نے غصّے میں آکر اپنی پوری طاقت لگا کر موبائل بیڈ پہ دے مارا تھا
پچھلے دو دن سے اسکی یہی حالت تھی ایک لمحے کے لئے بھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا
اور سکون ملتا بھی کیسے ابھی دو دن پہلے ہی کی تو بات تھی حفصہ کو اپنے باپ سے ملانے کے لئے وہ کتنا خوش تھا
پر وہ نہیں جانتا تھا اسکی یہ خوشی صرف چند لمحوں کی ہی تھی
اگلے دن جب وہ خوشی سے دمکتا چہرہ لئے یونی آیا تو حفصہ کی غیرموجودگی سے اسکے خوشی مدہم پڑ گئی تھی
وہ سارا دن اسکا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہیں آئی
اسکو فون کیا مگر کوئی جواب نہیں
آج وہ پھر یونی گیا مگر پھر سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا
اسکا فون ابھی بھی بند جا رہا تھا
اسفند کو حفصہ کی غیر موجودگی پریشان کر رہی تھی کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا ورنہ حفصہ کو کوئی پریشانی ہوتی تو وہ اسے ضرور بتا دیتی تھی جبکہ دوسری طرف اسے دل میں آتے وسوسوں سے بھی ڈر لگ رہا تھا
دو دن سے اسکی یہی حالت تھی مگر اب اسکا صبر جواب دے گیا تھا
“‘ آخر کہاں ہو تم حفصہ “”
وہ اپنے بال نوچتا بیڈ پر پڑے موبائل کو اٹھا کر ایک امید کے ساتھ پھر سے اسکا نمبر ملانے لگا
“‘ حفصہ کو کال کر رہے ہو “‘
اپنے کمرے میں جانی پہچانی آواز سن کر اسکے موبائل پہ چلتے ہاتھ یک لمحے کے لئے رکے اور اس نے گردن موڑ کر آنے ولے کو دیکھا تو رباب کو اپنے کمرے میں موجود پایا
وہ اسکے بچپن کے دوست مصطفیٰ کی بہن تھی بلکہ یہ کہنا بھی ٹھیک رہیگا وہ اسکی بھی بچپن کی دوست تھی
دونوں ایک ہی یونی میں پڑھتے تھے اس لئے انکے درمیاں بےتکلفی تھی جس وجہ سے وہ اسکے کمرے میں آ جاتی تھی جس پر اسفند کو کبھی اعتراض نہیں تھا
“‘ ویسے مجھے نہیں لگتا وہ تمہاری اب کال کا بھی جواب دیگی “‘
وہ چہرے پہ ایک عجیب سی مسکراہٹ لئے اسکے بیڈ پہ آ بیٹھی اور اپنی بات پر اسکے بدلتے تاثرات دیکھنے لگی
“‘ جو کہنا ہے صاف صاف کہو رباب تم جانتی ہو مجھے الجھی ہوئی باتیں نہ تو پسند ہے اور نہ کرنی آتی ہے “‘
رباب کے منہ سے حفصہ کا نام سن کر اسے بلکل حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ اسے اندازہ تھا ساتھ پڑھنے کی وجہ سے وہ اسکے اور حفصہ کے رشتے کے بارے میں جانتی ہوگی
“‘ وہ تمہاری کال کا جواب نہیں دے رہی ہے اور شاید نمبر بھی بند جا رہا ہے تو اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اب تم سے مزید کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی ہے یہ بات تم سمجھ نہیں رہے ہو یا شاید سمجھنا نہیں چاہتے “‘
وہ بغیر اسکے غصّے کی پرواہ کئے بولتی چلی گئی تھی جبکہ اسکی بات سن کر اسفند کی غصّے سے رگیں تن گئیں تھی
“‘ بس رباب اب آگے کچھ مت بولنا میں نے تمہاری اتنی بکواس صرف اس لئے برداشت کی ہے کہ تم میری ایک دوست ہو ورنہ تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو اسکی گردن میرے ہاتھ میں ہوتی “‘
وہ کھا جانے والی نظروں سے اسکو گھورتا ہوا بولا اسکا انداز ہی نہیں اسکی باتیں بھی اس وقت اسفند کے شدید غصّے میں ہونے کا پتہ دے رہی تھی
“‘ کتنا بھروسہ ہے تمھیں اپنی اس چار مہینے کی محبت پر اسفند مگر وہ تمہارے اس بھروسے اور تمہاری محبت کے قابل نہیں ہے “‘
وہ اسکے غصّے کو خاطر میں لائے بغیر مزید بولی اس بات سے انجان کہ وہ اپنے غصّے کی آخری حد پر تھا
“‘ تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ میری محبت اور بھروسے کے لائق ہے یا نہیں “‘
وہ سخت تیوری لئے اسے خونخار نظروں سے گھور رہا تھا
اپنی حفصہ کے خلاف وہ یک غلط لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور ایک وہ تھی جو کب سے اسکے صبر کا امتحان لے رہی تھی
“‘ یہ دیکھنے کے بعد شاید نہیں بلکہ پکا تمھیں میری بات پر یقین آ جائے گا کہ جو میں کہہ رہی ہوں بلکل صحیح کہہ رہی ہوں “‘
وہ چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ لئے اپنی بات کہتی بیڈ سے اٹھی اور اپنے موبائل کی سکرین اسکے سامنے کی تھی
اسفند جو نا سمجھی سے اسے تک رہا تھا اسکی بات پر اسکی نظر رباب کے ہاتھ میں موجود موبائل پر پڑی تھی
ایک نہیں جانے کتنی بار اس نے اپنی پلکوں کو جھپک کر رباب کی موبائل سکرین پہ موجود اس تصویر کو دیکھا
اسکی آنکھیں ”دل ”دماغ'” اس بات سے انکار کر رہی تھی کہ اس تصویر میں حفصہ نہیں کوئی اور ہے مگر وہ تصویر میں موجود سچائی کو جھٹلا نہیں سکتا تھا
اپنا سر شمس کے شانے سے ٹکائے آنکھیں بند کئے بیٹھی وہ لڑکی اور کوئی نہیں حفصہ ہی تھی اسکی حفصہ
اس نے جھپٹنے کے انداز میں اسکے ہاتھ سے موبائل چھینا تھا
اور دوسری تصویر دیکھنے لگا جس میں شمس نے حفصہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
اسکی آنکھیں کے سامنے کا منظر دھندھلانے لگا تھا
“” یقین نہیں آ رہا ہے پر مجھے یہ تصویر دیکھ کر ذرا بھی حیرانی نہیں ہوئی جس طرح شمس اسکے آگے پیچھے پھرتا رہتا تھا یہ سب تمھیں چھوڑ کر باقی سب کو نظر آتا تھا “‘
وہ اسکے غصّے کو مزید بڑھا رہی تھی
جبکہ رباب کی بات پر اسفند نے پہلی بار اس بات پہ غور کیا تھا
شمس اسفند اور رباب کا کلاس فیلو تھا اکثر اس نے شمس کو حفصہ کے آس پاس اور باتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا مگر اس نے کبھی اس بات پہ غور نہیں کیا نہ ہی اسکا اس طرف کبھی خیال گیا تھا
“‘ یہ جھوٹ ہے میں نہیں مانتا اسے میری حفصہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی “‘
وہ نفی میں سر ہلاتا دو قدم پیچھے ہوا تھا
اسکی حالت اس لمحے رحم لائق ہو رہی تھی وہ دیوانوں کی طرح اپنی گردن ہلاتا ہوا پیچھے کی طرف جا رہا تھا
“‘ تمہاری حفصہ ایسا کر چکی ہے اسفند وہ ہر وقت تمہارے جذباتوں کے ساتھ کھیلتی رہی تمہاری سچی محبت کا مذاق بنایا ہے اس نے “‘
اسکے لفظ اسفند کے دل کو زخمی کر رہے تھے
“‘ وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اسے میرے سوالوں کا جواب دینا ہوگا “‘
اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا رباب کا موبائل پوری طاقت لگا کر زمین پہ دے مارا تھا
اسکے اس جنونی انداز پر ایک لمحے کے لئے رباب بھی سہم سے گئی تھی
“‘ حفصہ ابراھیم خان میرے جذبات سے کھیلنے کے لئے میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گا کبھی بھی نہیں”‘
وہ اپنی بات کہتا تیزی سے روم سے نکلا تھا اور اسکے پیچھے رباب بھی نکلی تھی
💥💥
“‘ کیا ہوا حفصہ میں دو دن سے غور کر رہا ہوں تم کافی خاموش رہنے لگی ہو کوئی بات ہے جو تمھیں پریشان کر رہی ہے “‘
حدید اسکی طرف دیکھتا ہوا بولا
وہ ھاد اور حفصہ لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے
پر حدید بہت دیر سے غور کر رہا تھا اسکی نظریں ٹیوی پر موجود تو تھی پر وہ خود کہیں اپنی سوچوں میں گم تھی جسے محسوس کر کے حدید اس سے مخاطب ہوا تھا
“‘ ارے ۔۔نہیں۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے حدید تم پریشان مت ہو میں ٹھیک ہوں “‘
حفصہ اسکی آواز پر اپنی سوچوں سے باہر نکلتی بمشکل اسکی طرف مسکرا کر بولی تھی
اب وہ اسکو کیا بتاتی اسکی پریشانی کی وجہ اور کوئی نہیں اسکا بھائی اور اسکا رویہ تھا جو حفصہ کی پریشانی کو مزید بڑھا رہا تھا
اس رات کے بعد سے اسکے دل میں اسفند کے لئے بدگمانی کے ساتھ ساتھ خوف سا بیٹھ گیا تھا
حفصہ کو یقین ہو گیا تھا کہ اسفند کے دل میں حفصہ کے لئے جو چھ سال سے نفرت ہے وہ اسکے سب بتا دینے سے ختم نہیں ہوگی اور نہ وہ اسکی کسی بھی بات پہ یقین کریگا
بس وہ خاموشی سے اسکی نفرت کو برداشت کر رہی تھی
“‘ چاچو مجھے لگتا ہے ماما کو ڈیڈ نے ڈانٹا ہے اس لئے وہ خاموش رہتی اور اب میرے ساتھ کوئی گیم بھی نہیں کھیلتی “‘
ابکہ بار خاموشی سے ٹیوی دیکھتے ھاد نے انکی بات میں حصّہ لیا اور ساتھ ہی اپنی ماں کی شکایات بھی کی تھی جس پر حدید کے ساتھ ساتھ حفصہ بھی مسکرا دئے تھے
“‘ نہیں میری جان ایسی بات نہیں ہے بس آپکی ماما تھوڑی اداس تھی اور رہی کھیلنے کی بات تو جاؤ آپ جاکر اپنے سب گیمز لیکر آؤ آج میں اور آپکے چاچو آپکے ساتھ سارے گیمز کھلیں گے “‘
وہ محبت سے اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھتی ہوئی بولی تھی
صرف ایک شخص کی وجہ سے وہ اتنے پیارے بیٹے کو نظرانداز نہیں کر سکتی تھی جو اسکی خاموشی پہ خود بھی پریشان ہو جاتا تھا
“‘ ٹھیک ہے ماما میں ابھی لیکر آتا ہوں ہم مزے سے بہت سارے گیمز کھلیں گے”‘
اسکی اتنی سی بات پر اس معصوم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا وہ تیزی سے وہاں سے اپنے روم کی طرف بھاگا تھا
وہ دونوں مسکراتے ہوئے اسے وہاں سے جاتا دیکھتے رہے تھے
“‘ حفصہ تمھیں اگر کوئی بھی پرابلم ہو تو تم مجھ سے بلا جھجھک کہہ سکتی ہو میں نے تمھیں اپنا دوست صرف کہا نہیں ہے میں تمھیں اپنا دوست سمجھتا بھی ہوں “‘
ھاد کو وہاں سے جاتا دیکھ حدید پھر سے اس سے مخاطب ہوا اسے لگا تھا شاید حفصہ ھاد کے سامنے بات کرنے سے گریز کر رہی ہے
“‘ حدید تم تو اچھی طرح جانتے ہو میں کن حالتوں میں یہاں آئی ہوں بس میں اپنی ماں کو لیکر پریشان ہوں اگر میری ان سے بات ہو جاتی تو شاید مجھے سکون مل جائے “‘
یہ بات بھی سچ تھی وہ اپنی ماں کے لئے بھی پریشان تھی اتنے دن ہو گئے تھے اسے یہاں رہتے ہوئے لیکن اسکا ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا
“‘ بس اتنی سی بات ہے اگر تم مجھ سے پہلے بول دیتی تو میں تمہاری ان سے بات کروا دیتا “‘۔
حفصہ کی بات سن کر وہ چہکتے ہوئے بولا اتنے کم وقت میں حفصہ اسے بہت عزیز ہو گئی تھی اس لئے وہ اسکی پریشانی جلدی سے دور کرنا چاہتا تھا
“‘لیکن میں کیسے بات کر سکتی ہوں اگر کسی کو کچھ معلوم ہو گیا تو “‘
اس نے گھبرائی ہوئی آواز میں اپنی بات ادھوری چھوڑی تھی
“‘ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوگا حدید یار خان کو تم کوئی ایسی ویسی چیز مت سمجھو اگر کوئی پرابلم ہوئی بھی تو میں سنبھال لونگا “‘
اس بار وہ اس انداز میں بولا کہ حفصہ اپنے ہونٹوں پہ آتی جاندار مسکراہٹ کو روک نہیں سکی تھی
“‘ دیکھا ہنستی رہا کرو تم ہنستی ہوئی قسم سے قیامت لگتی ہو “‘
ابکہ بار وہ شوخ ہوا تھا
جہاں اسکی بات پر حفصہ اپنے قہقے کو روک نہیں پائی تھی وہیں دوسری طرف لاؤنج سے گزرتے اسفند کے قدم حدید کے جملے اور حفصہ کے امڑتے قہقے پر اپنی جگہ جم سے گئے تھے ہاتھ میں پکڑی فائل پر اسکی گرفت سخت ہوئی تھی
“‘ تم بہت اچھے ہو حدید تمہاری کمپنی میں کوئی بھی اداس نہیں رہ سکتا “‘
اس نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی تھی جو باہر کھڑے اسفند کے غصّے کو مزید بڑھا گئی تھی
“‘ وہ تو میں ہوں پر تم بھی بہت اچھی ہو حفصہ تم نے بغیر کسی غرض کے میرے بھائی کی ہیلپ کی کبھی کبھی تو میں یہ سوچتا ہوں کہ میرے کھڑوس بھائی کو تم جیسی لڑکی کیسے مل گئی تمھیں تو مجھ جیسا بندا ملنا چاہیے تھا جو ہر وقت تمھیں ہنساتا رہے “‘
اس بار وہ شرارت سے اسکی طرف آنکھ دبا کر ہنسا تھا اور اسکی ہنسی میں حفصہ کی کھلکھلاتی ہنسی شامل ہوتے دیکھ اسفند سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تھا وہ غصّے میں اپنی مٹھیاں بھینچتا جس خاموشی سے وہاں آیا تھا اسی خاموشی سے وہاں سے چلا گیا تھا
“‘مزاق میں تو میں کام کی بات بھول ہی گیا یہ بتاؤ کب بات کرنی ہے تمھیں اپنی مام سے “‘
اسکے یکدم سے یاد آیا تو وہ اس سے پوچھ بیٹھا
“‘ ابھی تو رہنے دو دیر ہو گئی ہے کل بات کر لونگی””
وہ دیوار پر موجود گھڑی میں وقت دیکھتی ہوئی بولی اسے امید تھی اس وقت اسکا باپ گھر پر ہوگا وہ فون کر کے اپنی ماں کو پریشانی میں ڈالنا نہیں چاہتی تھی
“” ٹھیک ہے پھر مجھے کل یاد دلا دینا “‘۔
وہ سامنے سے آتے ھاد کی طرف دیکھتا ہوا بولا جو اپنے گیمز لئے وہاں آ رہا تھا
اسکے آنے کے بعد وہ تینوں بیٹھے کھیلتے رہے تھے جس وجہ سے حفصہ کا موڈ بھی کافی خوشگوار ہو گیا تھا
💥💥
(جاری ہے)