Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
“‘ ڈیڈ میں بھی آپ دونوں کے ساتھ جانا چاہتا مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں نہ دادو جان بھی گھر پہ نہیں ہیں اور چاچو تو اپنے دوستوں کے ساتھ ٹریپ پہ گئے ہوئے ہے میں گھر پہ اکیلا بور ہو جاؤں گا “‘
وہ جو آئنے کے سامنے کھڑا اپنی اپنی ٹائی کی ناٹ کو صحیح کر رہا تھا ھاد کی آواز پر اسکے ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکے اور پلٹ کر اسکی جانب دیکھا
جو پچھلے دس منٹ سے رونی صورت بناۓ اسکے ساتھ جانے کی ضد کر رہا تھا
“‘ بیٹا میں آپ کو کتنی بار بول چکا ہوں کہ یہ بزنس پارٹی ہے آپ وہاں بھی بور ہو جاؤگے پر میں وعدہ کرتا ہوں اس سنڈے آپکو آپکی پسند کی جگہ پہ لیکر جاؤنگا “‘
وہ اسکے پھولے پھولے گالوں کو چومتا ہوا بہت محبت سے بولا
مگر اپنے باپ کی بات پہ بھی اسکا موڈ نہیں بدلا تھا
“‘ ماما دیکھیں نہ ڈیڈ تو میری بات سن نہیں رہیں ہیں آپ ہی انہیں سمجھائے نہ کہ مجھے بھی آپ لوگوں کے ساتھ لے چلیں “‘
تبھی اسکی نظر چینجنگ روم سے نکلتی حفصہ پہ پڑی تو وہ تیزی سے اسکی طرف لپکا تھا
“‘ ہاں ھاد ٹھیک کہہ رہا ہے اسے بھی اپنے ساتھ لے چلاتے ہیں ویسے بھی میرا ھاد کو اکیلا چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا ہے “‘
اسفند جو اپنی تیاری مکمل کرکے آئنے میں اپنا جائزہ لے رہا تھا حفصہ کی آواز پہ اس نے گردن موڑ کر دیکھا
حفصہ پہ نظر پڑتے ہی وہ اپنی جگہ جم سا گیا تھا بلیک کلر کی نیٹ کی ساڑی میں اسکا گورا جسم جگمگا رہا تھا
وہ دمبخود سا بس اسکو تک رہا تھا یہ ساڑی وہ خود ہی اسکے لئے لیکر آیا تھا کیونکہ اسے اندازہ تھا حفصہ کے پاس پارٹی میں پہنے لائق کوئی ڈریس نہیں ہوگی پر اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس میں اس حد تک خوبصورت لگ سکتی ہے
“‘ ڈیڈ آپ سن رہے ہیں نہ “‘
اسکو حفصہ پہ نظریں جمائے دیکھ ھاد نے اسے پھر سے مخاطب کیا تھا
“‘ سن لیا ہے پر شاید تمھیں بات سمجھ نہیں آ رہی ہے تم نہیں جا سکتے مطلب نہیں جا سکتے “‘
ھاد کی آواز پر وہ جیسے اسکے سحر سے نکلا اور فورا اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کرتا سخت لہجے میں بولا
اپنی بےخودی کا غصّہ وہ ھاد پر اتار چکا تھا
”’ اور تم جلدی چلو ویسے پہلے ہی تمہاری وجہ سے کافی دیر ہو چکی ہے میں اور دیر نہیں کرنا چاہتا”‘
وہ سختی سے اسکو ہدایت کرتا کمرے سے نکل گیا
“‘ اداس مت ہونا بیٹا آپکے ڈیڈ تھوڑے غصّے میں ہے ہم لیٹ ہو گئے ہیں نہ اس لئے “”
اسکے جانے کے بعد حفصہ بہت محبت سے ھاد کے پیشانی چومتی اسکو سمجھا رہی تھی
“‘ ماما میں اداس نہیں ہو آپ فکر نہ کریں آپ جائے ۔میں آپکا ویٹ کرونگا “‘
وہ مسکراتے ہوئے بولا تو حفصہ بھی ہولے سے ہنس دی تھی
تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر آئی تو وہ کار سٹارٹ کر چکا تھا حفصہ اسکے غصّہ ہونے سے پہلے کار میں بیٹھ گئی تھی
سفر کے درمیاں دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی
پورا راستہ خاموشی سے کٹا ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد اس نے ایک بہت ہی شاندار ہوٹل کے آگے اپنی کار روکی تھی
وہ کار سے نکلتا اسکو اپنے پیچھے آنے کا کہتا آگے بڑھ گیا
حفصہ اپنی ساڑی سنبھالتی کار سے نکل کر اسکے پیچھے چل دی
وہ پہلی بار کسی پارٹی میں شرکت کر رہی تھی اسے ڈر بھی تھا کہ کہیں اس پارٹی میں اسے اپنا باپ اور بھائی نظر نہ آ جائے وہ دل میں دعائیں کرتی آگے بڑھ رہی تھی
جیسے ہی وہ حال میں داخل ہوئے تو وہاں کی سجاوٹ دیکھ کر اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا اسکا باپ بھی بزنس مین تھا پر وہ کبھی اس طرح جگہ پر نہیں گئی تھی
“‘ اپنا منہ بند رکھو ورنہ لوگوں کو لگے گا کہ میں تمھیں سڑک سے اٹھا کر لایا ہوں “‘
وہ اسکے ہونقوں کی طرح دیکھنے پر چوٹ کرتا ہوا بولا
اسکی بات پہ خفت کے مارے حفصہ کا چہرا سرخ ہوا تھا
وہ بیچاری شرمندگی سے اپنا چہرہ جھکا گئی تھی
“‘ ویسے میں تمھیں یہاں لانا تو نہیں چاہتا تھا بٹ کیا کروں مجبوری تھی بس ایک درخواست ہے چپ چاپ میرے ساتھ رہنا بلا وجہ اپنا منہ کھولنے کی ضرورت ہے کیونکہ تمہارا مجھے معلوم نہیں پر یہاں میری بہت عزت ہے “‘
وہ اسکو مزید شرمندگی سے دوچار کر کے اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا اپنے بزنس پارٹنر کی جانب بڑھا تھا
اسکی بات پر حفصہ بس اپنا غصّہ ضبط کر کے رہ گئی تھی کیونکہ وہ یہاں کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتی تھی
اور پھر سارا وقت وہ یوں ہی اسے اپنے ساتھ لئے سوشل اور بزنس سرکل میں معتارف کرا رہا
اس وقت یہاں شہر کے امیر ترین ہائی کلاس فیملیز موجود تھی
یہ سب حفصہ کے لئے بلکل نیا تھا اسے اب تھکن سی محسوس ہونے لگی تھی
وہ کسی پرسکون جگہ پہ بیٹھنا چاہتی تھی اسکی نظر ایک طرف کونے میں موجود خالی ٹیبل پہ پڑی تو وہ اسفند سے اجازت لیتی ایک طرف کونے میں آ بیٹھی
ہیلز کی وجہ سے اسکے پیروں میں بھی درد ہونا شروع ہو گیا تھا
“‘ ” اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں مس “‘
وہ بےدلی سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جب اپنے قریب سے آتی مردانہ آواز پر اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تھا
“‘ جی بیٹھ جایں مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے “‘
وہ ہولے سے مسکراتے ہوئے اسکو اجازت دے چکی تھی
یہ جانے بغیر اپنے پارٹنر سے بات کرتے اسفند کی نظر سے یہ منظر پوشیدہ نہ رہ سکا تھا
“‘ سو سویٹ آف یو ڈیر ورنہ آپکی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس طرح اجازت ہرگز نہ دیتا “‘
وہ حفصہ کے برابر والی چیئر پہ بیٹھ کر بےتکلفی سے اسکے ہاتھ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا جبکہ حفصہ نے بہت احتیاط سے اسکے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا تھا
“‘ لگتا ہے آپ یہاں اکیلی آئی ہیں آپکے ساتھ کوئی نظر نہیں آ رہا “
اسکی خاموشی پہ وہ مزید گویا ہوا
جبکہ نظریں اسکا ایکسرا کر رہی تھی
“‘نہیں ایسی بات نہیں ہے دراصل میرے ہسبنڈ اپنے پارٹنرز اور دوستوں کے ساتھ بیزی ہیں اس لئے “‘
اسکی بےباک نظریں اور بےتکلفی سے حفصہ کو اپنی غلطی کا شدّت سے احساس ہوا تھا اس لئے اس نے بتانا ضروری سمجھا تھا کہ اسکا شوہر یہاں موجود ہے جبکہ جگہ اور ماحول کو دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پہ پہلے والی مسکراہٹ ابھی بھی موجود تھی
“‘ ضرور کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو اتنی خوبصورت بیوی کو یہاں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا اگر میں آپکے شوہر کی جگہ ہوتا تو ایسا ہرگز نہ کرتا “‘۔
وہ خباثت سے ہنستا اسکی طرف جھکا تھا
جبکہ یہ منظر دیکھ کر دور کھڑے اسفند کی غصّے کی وجہ سے رگیں تن گیئں تھی
اب اسکا دھیان اپنے بزنس پارٹنر کی باتوں سے مکمل ہٹ چکا تھا
“‘ ‘ ایکسکیوز می شاید میرے شوہر مجھے بلا رہے ہیں”‘
اسکی حد سے بڑھتی بدتمیزی پر حفصہ نے بہانہ بنا کر جیسے ہی اٹھنا چاہا وہ شخص تیزی سے اسکا بازو پکڑ کر اسکو روک چکا تھا
اس شخص کو حفصہ کو چھوتا دیکھ اسفند کا صبر جواب دے گیا تھا وہ ان لوگوں سے اجازت لیتا اس طرف بڑھا تھا
“‘ ارے کہاں جا رہی ہیں آپ بیٹھ جائیے ابھی تو ہماری بات ٹھیک سے شروع بھی نہیں ہوئی “‘
وہ اسکا بازو اپنی گرفت میں لئے عجیب سے انداز میں بول رہا تھا
وہ خاموشی سے اسکی گرفت سے اپنا بازو آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی تھی جو اسکی مضبوط پکڑ کے آگے ناکام تھی
“‘ حفصہ گھر چلیں دیر ہو رہی ہیں اور گھر پہ ھاد بھی اکیلا ہے “‘
وہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشس کر رہی تھی جب اسفند پیچھے سے اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا بولا
اس نے جن نظروں سے اس شخص کی طرف دیکھا تھا اسے محسوس کر کے اس شخص نے فورا حفصہ کا بازو آزاد کیا
اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ کوئی تماشا نہیں بنانا چاہتا تھا اسلئے صبر کا گھونٹ پی کر رہ گیا تھا
اسفند کی موجودگی میں حفصہ کو جیسے سکون سا ملا تھا مگر اسکے چہرے کے پتھریلے تاثرات دیکھ کر اسے اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی تھی
“‘ چلو “‘۔
وہ اسکا بازو سختی سے پکڑ کے اسے وہاں سے کھینچتا ہوا لیکر باہر آیا اور بغیر کچھ بولے اپنی کار کا دروازہ کھولا تھا
حفصہ اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر خوف سا محسوس کر رہی تھی
وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی فرنٹ سیٹ پہ آ بیٹھی اسکے بیٹھتے ہی اسفند نے کار سٹارٹ کر دی تھی
کار کی تیز سپیڈ اسکے شدید غصّے میں ہونے کا پتہ دے رہی تھی
وہ خاموشی سے اسکو ڈرائیونگ کرتا دیکھ رہی تھی اسکے غصّے کو دیکھ کر حفصہ میں ہمّت نہیں ہوئی تھی کچھ کہنے کی
اس وقت اسے اسفند کی خاموشی سے ڈر لگ رہا تھا جانے اسکی خاموشی کے پیچھے کیسا طوفان چھپا ہوا تھا
💥💥
“‘ داؤد جو میں نے تمھیں کام بولا تھا اس کام کا کیا ہوا”‘
وہ اپنے سامنے ٹیبل پہ رکھے شراب کے گلاس کو اٹھا کر ایک ہی گھونٹ میں ختم کرتا ہوا بولا اور پاس رکھی بوتل میں سے پھر سے اپنے لئے گلاس میں انڈیلنے لگا
“‘ بس کرو مصطفیٰ آج تم ضرورت سے زیادہ ڈرنک کر چکے ہو یہ تمہاری صحت کے لئے بھی اچھی نہیں ہے “‘
داؤد اسکے سوال کو نظرانداز کرتا فکرمندی سے بولا
اسے جب کوئی بات زیادہ پریشان کرتی تھی وہ تب اس طرح خود کو نشے میں چور کر لیتا تھا جیسے اس پریشانی سے بچنے کے لئے اسکے پاس ایک یہی راستہ ہو
“‘ جو پوچھا گیا ہے داؤد اسکا جواب دو میرا باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں “‘
سرخ انگارہ آنکھیں لئے سخت انداز میں بولا
یہ اسکا نشہ بول رہا تھا ورنہ وہ اس سے اس انداز میں کبھی بات نہیں کرتا تھا
” ‘ تم بےفکر رہو خان پہ میری ہر لمحہ نظر رہتی ہے اسکے کچھ بھی کرنے سے پہلے مجھے خبر مل جائے گی “‘
وہ اسے تفصیل سے بتانے لگے
جبکہ اس دوراں وہ ایک اور گلاس اپن حلق کے نیچے اتار چکا تھا
“‘ ٹھیک ہے کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور اب تم جاؤ میں اب اکیلا رہنا چاہتا ہوں “‘
وہ گلاس کو اپنے لبوں سے لگاتا ہوا بولا
“‘ میرا خیال ہے مصطفیٰ تمھیں بھی اب آرام کرنا چاہیے تم ٹھیک نہیں لگ رہے ہو “‘
وہ مزید بولے پر سامنے والے پر انکی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا
“‘ میں نے کہا نہ جاؤ یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو”‘۔
وہ غصّے میں دہاڑا تھا اسکی تیز آواز پر سٹڈی میں داخل ہوتی حورین کے قدم اپنی جگہ رکے تھے
داؤد صاحب جو واپسی کے لئے پلٹے اپنے پیچھے حورین کو دیکھ کر ایک لمحے کے لئے رکے پھر اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے وہاں سے چلے گئے تھے
انکے جانے کے بعد حورین خاموشی سے کھڑی مصطفیٰ کو دیکھنے لگی جو اسکی موجودگی سے بےخبر قطرہ قطرہ نشہ اپنے اندر اتار رہا تھا
“‘ مصطفیٰ آپ ٹھیک ہیں آج آپ نے کھانا بھی نہیں کھایا مجھے آپکی فکر ہو رہی ہے “‘
وہ پریشانی میں اپنی انگلیاں موڑتی اس سے مخاطب ہوئی جو ابھی بھی اسکی موجودگی سے بےخبر تھا
“‘ میں نے کہا نہ مجھے اکیلا چھوڑ دو تم لوگوں کے ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی “‘
حورین کی آواز پہ اس نے ہاتھ میں موجود گلاس پوری طاقت لگا کر دیوار پہ دے مارا تھا
اسکے اس قدر شدید ردعمل پہ حورین اپنی جگہ کانپ کر رہ گئی تھی
اسے مصطفیٰ کی فکر ہو رہی تھی جو صبح سے کافی پریشان لگ رہا تھا اگر کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ڈر کر یہاں سے بھاگ جاتی مگر سامنے بیٹھا شخص کوئی اور نہیں اسکا شوہر تھا اور وہ اسکو یوں ایسی حالت میں چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی اس لئے آہستہ سے قدم اٹھاتی صوفہ پر اسکے قریب آ بیٹھی تھی
“‘ جب آپ میری پریشانی اور میری بیماری میں مجھے اکیلا نہیں چھوڑتے تو پھر میں آپکو اکیلا کیسے چھوڑ سکتی ہوں “‘
وہ اسکو دیکھتی ہوئی بولی جو صوفہ کی پشت پہ اپنا سر ٹکائے آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا
اپنے بہت قریب حورین کی آواز سن کر اس نے یکدم سے اپنی آنکھیں کھولی اور گردن موڑ کر حورین کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں بے پناہ چاہت لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی
اسکی نظروں میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ اپنے اندر اٹھتے جذبات کو قابو نہیں کر پایا اور اسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا
حودین اسکے اس عمل سے کچھ لمحے کے لئے اپنی جگہ سکت رہ گئی تھی
مصطفیٰ کی گرم سانسوں کی تپش اپنی گردن پہ محسوس کر کے وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اس پہ عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی تھی
مصطفیٰ کے مضبوط ہاتھ اسکی کمر کے گرد بندھے ہوئے تھے چہرہ اسکے بالوں میں چھپائے وہ پوری طرح اسے اپنی آغوش میں لے چکا تھا
سٹڈی روم کی معنی خیز خاموشی میں دونوں بس دوسرے کی بےترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سن رہے تھے
“‘ مجھ سے دور رہو حورین ورنہ ایک دن سب برباد ہو جائے گا “‘
وہ اسکے بالوں میں چہرہ چھپائے بولا
بولتے ہوئے اسکے لب حورین کی گردن کو چھو رہے تھے
اسکے پر حدت لمس سے حورین کے جسم کا خون اسکے چہرے پہ سمٹ آیا تھا
“‘ میں تمھیں ایسے راستے پر لاکر نہیں کھڑا کر سکتا جہاں سے واپسی ناممکن ہو “‘
وہ اب اس سے جدا ہوتا اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا ہوا بولا
“‘ مصطفیٰ میں پہلے ہی اس راستے پہ موجود ہوں جہاں سے کبھی واپسی نہیں ہو سکتی “‘
وہ اسکی نشے سے ہوتی لال آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
جبکہ اسکے جواب پر مصطفیٰ کی نظریں اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو غور سے دیکھنے لگی
اسکا شدّت سے دل چاہا تھا وہ اسکے ہر ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھو لے
اور اپنے دل کی اس خوائش پر راضی ہوتے ہوئے وہ اسکے چہرے پہ جھکا اور اپنے دہکتے لب اسکی پیشانی پہ موجود نشان پہ رکھ چکا تھا
اسکے اس گستاخی پہ حورین اپنا سانس روک کر رہ گئی تھی
وہ بس آنکھیں بند کئے اسکے لمس کو محسوس کرنے لگی
وہ اسکی پیشانی سے اب اسکی دونوں آنکھوں کو چوم رہا تھا
آنکھوں سے ہوتے ہوئے اسکے چھوٹی کی ناک کو چھوا دونوں رخسار پہ باری باری اپنا لمس چھوڑتا وہ رکا تھا
اور حورین بس آنکھیں بند کئے بیٹھی اپنی سانسوں کو اسکی سانسوں میں الجھتا ہوا محسوس کر رہی تھی
“‘ تم بہت معصوم ہو حورین میں تمہاری معصومیت کھونا نہیں چاہتا نہ تمھیں بکھرتا یوا دیکھ سکتا ہوں”‘
وہ اسکی بند پلکوں کو دیکھ رہا تھا جو اسکی اتنی قربت سے لرز رہی تھی
“‘ اور میں آپکو کھونا نہیں چاہتی مصطفیٰ آپ میرے لئے سب کچھ ہیں میری روح ہیں میری سانسیں ہیں آپ “‘
اسکے اس قدر کھلے اظہار پر مصطفیٰ کے اندر ایک الگ سا سکون اترا تھا جو اسکی جلتی روح کو سرشار کر گیا
“‘ تم بھی میری روح ہو حورین میری زندگی”‘
وہ خمار آلودہ لہجے میں کہتا اس بار اسکے نرم ملائم لبوں پہ اپنے دہکتے لب رکھ چکا تھا
اس وقت وہ نشے میں تھا وہ نہیں جانتا تھا وہ کیا کر رہا ہے
وہ بس اس پہ جھکا اسکی سانسوں کو خود میں اتار رہا تھا
اسکے عمل میں اتنی شدّت تھی کہ حورین کو اپنا سانس روکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اس نے مصطفیٰ کی شرٹ پہ اپنی پکڑ سخت کی تو مصطفیٰ اپنے بےلگام ہوتے جذبات پہ قابو کرتا اس سے جدا ہوا تھا
اور اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکا کر اسے اپنی بےترتیب سانسوں کو درست کرتے ہوئے دیکھنے لگا
“‘ مجھے کبھی مت چھوڑنا حور ورنہ میں تنہا ہو جاؤنگا “‘
وہ اسکے رخسار کو نرمی سے چھوتا حورین کے سینے پہ اپنا سر رکھ کر آنکھیں بند کر چکا تھا
اسکے بھاری جسم کے بوجھ سےحورین تھوڑا سا پیچھے کو ہوئی اور اپنی کمر کو صوفہ کی پشت سے لگا لیا
اب وہ دونوں صوفہ پہ آدھے لیٹے ہوئے تھے مصطفیٰ تو اسکے سینے پہ سر رکھے نیند کی وادیوں میں اتر چکا تھا جبکہ حورین آہستہ سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلا رہی تھی
اسے بار بار مصطفیٰ کی حرکت یاد آ رہی تھی جس سے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا وہ سب سوچ کر اسکے چہرے پہ ایک شرمیلی سے مسکراہٹ آ گئی تھی
اس نے جھک کر مصطفیٰ کے بالوں پہ اپنے لب رکھے اور آنکھیں بند کر کے خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی جو اس پوزیشن میں ناممکن تھی
وہ نہیں جانتی تھی صبح اٹھ کر مصطفیٰ کا رویہ کیسا ہوگا شاید نشے کی وجہ سے صبح اٹھ کر وہ یہ سب بھول جائے
پرحورین چاہتی تھی یہ رات یہی رک جائے اور وہ یوں ہی اسکے قریب رہے بہت قریب
💥💥
“‘ اسفند تمہاری نظریں بتا رہی ہے جو کچھ بھی ہوا ہے اس سب میں میری کوئی غلطی ہے “‘
حفصہ تیزی سے اسکے پیچھے چلتے ہوئی بول رہی تھی جو لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسکو نظرانداز کئے اپنے روم میں جا رہا تھا
ان دونوں کی دیر سے واپسی ہوئی تھی اس وقت گھر میں مکمل خاموشی تھی اس لئے انکی بات سننے والا وہاں کوئی موجود نہیں تھا
“‘ اسفند تم جیسا سوچ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ہے اس شخص نے زبردستی میرا بازو پکڑا تھا “‘
اسکی خاموشی پہ وہ مزید بولی پر وہ اسکی بات کے جواب میں زور سے اپنے روم کا دروازہ بند کرتا آگے بڑھا تھا
“‘ اسفند تم خاموش کیوں ہو کچھ تو بولو “‘
اس بار وہ چیخی تھی
“‘ تم اتنی نیک پارسا نہیں ہو اس لئے صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے صفائی انہیں دو جو تمھیں جانتے نہ ہو “‘
وہ زہر خند لہجے میں بولاتا حفصہ کو حیران کر گیا تھا
”” ویسے کہاں چھوا تھا اسنے تمھیں۔۔۔یہاں۔۔ یہاں ٹچ کیا تھا “”
اسنے اسکے بازو کو اپنے ہاتھ کی پشت سے ٹریس کیا جبکہ اپنی شعلہ بار نظریں اسکے چہرے پر گاڑ رکھی تھی
اپنے بازو پر اسکا لمس محسوس کرکے ایک عجیب سی سنسناہٹ اسکے پورے بدن میں دوڑ گئی تھی
“‘ میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں گاڈ ڈیم اٹ جواب دو مجھے””
اس بار وہ اسکو دونوں بازؤں کو سختی سے اپنی گرفت میں کرتا اسکے نازک وجود کو اپنی جانب کھینچ چکا تھا
اسکی اس حرکت پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اور بغیر اسکی بات کا جواب دئے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کرانے کی اپنی سی کوشش کرنے لگی جبکہ اسکی پکڑ پتھر کی طرح سخت تھی
“‘ یہاں چھوا تھا نہ اسنے تمھیں” یا پھر یہاں”
وہ اسکے نرم ملائم رخسار کو بےدردی سے چھو رہا تھا اس وقت اسکا لہجہ ہی نہیں اسکا انداز بھی چبھتا ہوا تھا
“‘ کیا بکواس کر رہے ہو اور چھوڑو مجھے ”
سرخ چہرہ لئے وہ اسکی پکڑ میں مچلی تھی یہ سخص آج اسکے صبر کا امتحان لے رہا تھا
“‘ میری باتیں تمھیں بکواس لگ رہی ہیں اور اسکی قربت اسکا لمس وہ سب اچھا لگ رہا تھا تھا تمھیں۔۔بولو جواب دو”‘
اس نے اسکے بالوں کو سختی سے اپنی مٹھی میں لیکر کھینچا تھا اس وقت اسکے اندر ایک آگ سی لگی یوئی تھی جس میں وہ اپنے ساتھ اسکو بھی جلا رہا تھا
“‘ مجھے کیا اچھا لگتا ہے کیا نہیں ڈیٹس نن آف یور بزنس “‘
اپنے بالوں پر سخت پکڑ سے اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا بےدردی سے اپنے لبوں کو کاٹتی وہ اپنی سسکی کو روک رہی تھی
“‘ اٹ از مائی بزنس ۔۔اٹ از۔۔۔۔کیونکہ شوہر ہوں میں تمہارا”
” And You Are My so called wife”
اس بار وہ اسکا چہرہ سختی سے اپنے مضبوط ہاتھ میں جکڑ چکا تھا جبکہ ایک ہاتھ ابھی بھی اسکے بازو کو سختی سے پکڑے ہوئے تھا
اسکے جواب نے اسکے اندر سلگتی آگ کو مزید بھڑکا دیا تھا جسے اسنے چھپانے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی
” اور میری طرح کسی بھی غیرت مند مرد کے لئے یہ گوارہ نہیں کہ اسکی بیوی اسکی نظروں کے سامنے کسی غیر مرد کی باہوں میں جھولے “”
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کرتا مزید اسکے چہرے پر جھکتا اپنے لبوں کو اسکے کان کے قریب لے آیا تھا
“‘ پھر چاہے اس بیوی سے اسکا کاغزی رشتہ ہی کیوں نہ “
سرگوشی کے انداز میں لفظ ادا کرتے اسکے لب اسکی کان کی لؤ کو چھو رہے تھے
“‘ چھوڑو مجھے” اور دور رہو مجھ سے تم سب مرد ہوتے ہی ایک جیسے ہو تم لوگوں کو صرف ایک ہی چیز سے غرض ہوتی ہوتی ہے “”
اسکے پر حدت لبوں کا لمس اپنے کان کی لؤ پر محسوس کرکے اسکو جیسے کرنٹ سا لگا تھا وہ حلق کے بل چلاتی اسکی پکڑ سے خود کو آزاد کرا چکی تھی
“‘ تمھیں کیا لگتا ہے مجھے تم سے کس چیز کی غرض ہے “‘
اور وہ جو اسکے جسم سے آتی دلفریب خوشبوں کے سحر میں کہیں کھو سا گیا تھا اسکے چلانے پر ہوش میں آیا اسکو غصّے سے کمر سے پکڑ کر پھر سے اپنی طرف کھینچ چکا تھا اور وہ جو اس حملے کے لیے تیار نہیں تھی اس بار سیدھا اسکے سینے سے آں لگی تھی
” ” کسی کی نہیں اور چھوڑو مجھے “
حفصہ کو بھی اب غصّہ آ گیا تھا وہ اسکی بات سننے کی بجائے اسی پر الزام لگا رہا تھا
“‘ ویسے تمھیں بھی مجھے خود کو چھونے کا ایک موقع دینا چاہیے آخر کو میں تمہارا شوہر ہوں اور رئیس بھی “‘
وہ اپنے غصّے اور جلن میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا
اگر اسے اندازہ ہوتا تو وہ ایسا کبھی نہ کہتا
شاید چھ سال کا غصّہ آج باہر نکل کر رہا تھا
“‘ بس کرو اسفند تم اتنے گھٹیا انسان اور اتنی گری ہوئی سوچ ہو سکتی ہے تمہاری میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی “‘
وہ اسے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے دھکا دیتی آگے بڑھی تھی
“‘ گھٹیا انسان کیا ہوتا ہے یہ میں تمھیں بتاتا ہوں تب شاید تمہاری غلطفہمی دور ہوگی “‘
وہ بجلی سی کی تیزی سے اسکو اپنی گرفت میں لیتا اور بغیر اسے کوئی موقع دئے اپنے دہکتے لب اسکے گلابی لبوں پہ رکھ چکا تھا
اس نے سختی سے حفصہ کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھسائی ہوئی تھی جبکہ دوسرا ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیا ہوا تھا
اسکا انداز دیکھ کر حفصہ کی آنکھوں میں پانی آنے لگا
وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اپنی اس کوشش میں وہ کامیاب بھی ہوئی تھی
“‘ پلیز اسفند ایسا کچھ مت کرو جس سے تمھیں بعد میں پچھتانا پڑے “‘
وہ آنکھوں میں آنسوں لئے اپنی بےترتیب ہوئی سانسوں کو بحال کرتی وہ اس سے التجا کر رہی تھی مگر سامنے والے پر اسکے آنسوں کا کوئی اثر انداز نہیں ہو رہا تھا
“‘ تم اتنے دن سے میرے گھر میں میری بیوی کی حثیت سے رہ رہی تھی میری شرافت کو تم نے یہ نام دیا تو ٹھیک ہے آج میں تمھیں گھٹیا انسان بن کر دکھاؤ گا “‘
وہ اسکو کوئی بھی موقع دئے بغیر بیڈ پر دھکا دیتا اسکی ساڑی کا پلو یٹاتا اسکے اوپر جھکتا تھا
“‘ پلز اسفند چھوڑو ایسا مت کرو “‘
اپنے سینے پر اسکا جھکاؤ اور ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے حفصہ کی جان ہوا ہوئی تھی
وہ کبھی اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کرتی تو کبھی وہ خود کو اسکی پکڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کرتی
مگر مقابل کی پکڑ مضبوط تھی
اسکو مسلسل مزاحمت کرتے دیکھ اسفند نے اسکے ہاتھوں کو تھام کر اپنی پکڑ سخت کرتے ہوئے تکیہ پر رکھ دئے تھے
حفصہ کا نازک جسم اسکے ورزشی جسم کے نیچے دب سا گیا تھا
وہ اسکے مضبوط حصار میں تڑپتی ہوئی زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑا کر رہ گئی تھی
اسفند کو اسکی سسکی اسکے آنسوں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا
اسکی نظروں کے سامنے تو بار بار بس پارٹی والا منظر گھوم رہا تھا
اسے لگ رہا تھا حفصہ اس بار بھی کسی اور کی وجہ سے اسکو چھوڑ کر چلی جائے گی اور یہ سب اسکی برداشت سے باہر تھا وہ اسکو پھر سے اپنی زندگی سے جانے نہیں دے سکتا تھا
💥💥
(ماضی )
(چھ سال پہلے )
“‘ تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو “‘
گہری نیلی آنکھوں نے سلور گرے آنکھوں میں جھانکا جہاں اس وقت اسے اپنا عکس صاف نظر آ رہا تھا
“‘ کیا ہر وقت لفظوں میں اظہر ضروری ہے “‘
شرارت سے پوچھا گیا تھا
اسکے جواب پر نیلی آنکھوں میں مسکراہٹ کی ایک چمک آانیتھنگ “‘ نہیں ہر وقت ضروری تو نہیں ہے پر اس دل کیا کروں جو تمہارے منہ سے ہر وقت ایک ہی لفظ سننا چاہتا ہے “‘
وہ اسکی نازک کلائی کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا
“‘ تمہارے یہ لفظ میرے دل کو سکون دیتے ہیں اس لئے جاناں میرے اس بیچارے دل پہ تھوڑا رحم کرو اور اسے بتاؤ کہ تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو “‘
وہ اسکی نازک مومی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنساتا ہوا بہت جذبات سے بولا
“‘ اگر ایسی بات ہے تو اسفند یار خان عرف اسفی میں تم سے بےانتہا محبت کرتی ہوں
“‘ I love you asfi more than anyone”‘ even myself “‘
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی محبت سے چور لہجے میں بولی
اسکے لہجے ہی نہیں اسکے ہر ایک انداز میں اسکے لئے محبت تھی جسے وہ بخوبی محسوس کر سکتا تھا
“‘ میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں حفصہ اتنی کہ میں تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا”‘
وہ ایک جذبے میں بولتا اسے اپنے دل کے بہت قریب لگا تھا
اس وقت وہ دونوں یونی کی ایک سنسان جگہ پہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں سٹوڈنٹ کا بہت کم آنا جانا تھا
“‘ پر اسفی تمہارا تو یہ لاسٹ ئیر ہے میں بلکل اکیلی ہو جاونگی تمہارے بغیر “‘
اسکی جدائی کا سوچ کر وہ اداسی سے بولی
اسکا یہ پہلا سال تھا یونی کا جبکہ اسفی کا آخری
“‘ ڈینٹ وری جاناں میں اس پرابلم کا سلیوشن ڈھونڈھ چکا ہوں “‘
وہ چہرے پہ مسکراہٹ سجائے اسکے چہرے کو اپنے دل میں اتارتا ہوا بولا
اسے کبھی کبھی یقین نہیں آتا تھا کہ ان چند مہینوں میں اسکی زندگی یوں بدل جائے گی
اسکی حفصہ سے کب دوستی ہوئی کب دونوں کو محبت ہوئی معلوم نہیں ہوا
اسے آج بھی وہ دن اچھی طرح سے یاد تھا جب اس نے حفصہ کو پہلی بار یونی میں دیکھا تھا
وہ پاگلوں کی طرح اسکے ڈیپارٹمنٹ کے چکر لگاتا تھا صرف اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے
اسکی محبت میں اتنی شدّت تھی جو حفصہ سے پوشیدہ نہ رہ سکی اور پھر اسکی شدّت کے آگے وہ بھی جھک گئی تھی
“‘ کیا مطلب میں کیسا سلیوشن “‘
وہ ناسمجھی سے اسکے جانب دیکھتی ہوئی بولی
” ” مطلب یہ کہ کل میں تمھیں اپنے ڈیڈ سے ملوانا چاہتا ہوں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں اپنے لئے اور انکے لئے بہو تلاش کر چکا ہوں “‘۔
وہ شرارت سے اسکی طرف آنکھ دباتا ہوا بولا
جبکہ اسکی بات پہ اسکا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا
“‘ پر میں کیسے مل سکتی ہوں تمہارے ڈیڈ سے اور پھر میرے گھر پر بھی کسی کو معلوم نہیں ہے “‘
وہ اب تھوڑا گھبرائی تھی
“‘ ڈیڈ کو بھی کچھ معلوم نہیں ہے بس میں سب سے پہلے تمھیں ان سے ملانا چاہتا ہوں تاکہ وہ تمہارے پرینٹس سے بات کریں کیونکہ میں یونی چھوڑنے سے پہلے تمھیں اپنے نام کرنا چاہتا ہوں “‘
وہ گہری سنجیدگی سے بولا نظریں اسکے چہرے پہ ہی جمی ہوئی تھی اور اسکے ایک ایک نقش کو اپنے اندر اتار رہی تھی
اسکے قریب بیٹھی یہ لڑکی اسکی زندگی بن چکی تھی وہ جلد سے جلد بس اسے اپنا بنانا چاہتا تھا
“‘ پر میں کیسے میری سمجھ نہیں آ رہا اگر میرے گھر میں کسی کو معلوم ہو گیا تو میرے لئے اچھا نہیں ہوگا”
وہ پریشانی میں اپنی انگلیاں چٹخاتی ہوئی بولی پریشانی اسکے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہی تھی
“‘ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوگا بس مجھ پر بھروسہ رکھو ڈیڈ کو معلوم ہو جائے پھر سب آسان ہو گا ہمرے لئے کیونکہ مجھے امید ہے جب وہ تمہارے ڈیڈ سے بات کریں گے تو تمہارے ڈیڈ بھی راضی ہو جایں گے “‘
اسے معلوم تھا حفصہ کے ڈیڈ سخت مجاز تھے یہ سب حفصہ نے ہی اسکو بتا رکھا تھا
“‘ ٹھیک ہے پر میں زیادہ دیر نہیں رک سکتی تم تو سب جانتے ہی ہو نہ “‘۔
وہ اس پر خود سے بھی زیادہ یقین کرتی تھی اس لئے فورا راضی ہوئی تھی
وہ بھی اب اسکے لئے بہت خاص ہو گیا تھا اور وہ اپنی تمام عمر اسکے ساتھ گزارنا چاہتی تھی
“‘ ٹھیک ہے پھر کل تیار رہنا “‘۔
وہ اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو محبت سے پیچھے کرتا ہوا بولا
“‘ اچھا اب میں چلتی ہوں میری کلاس شروع ہونے والی ہے “‘۔
وہ اسکی گہری بولتی نظروں سے گھبرا کر اپنا بیگ اٹھاتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور تیزی سے وہاں سے نکلی تھی اس بات سے بےخبر کہ دو گھورتی نظروں نے اسکا دور تک پیچھا کیا تھا
💥💥
(جاری ہے)
