Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
انسان کی زندگی میں کچھ حادثات ایسے ہو جاتے ہیں جنکا اسے وہم گمان بھی نہیں ہوتا
ان حادثو سے ملی تکلیف اتنی ہوتی ہے کہ اسے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے وہ تڑپتا رہتا ہے پر وہ تکلیف کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی چلی جاتی ہے
ایسا ہی کچھ حورین کے ساتھ ہو رہا تھا اسکا جس حقیقت سے سامنے ہوا تھا اسکی تکلیف اتنی تھی کہ وہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی
اور جب اس سے رہا نہ گیا تو حورین اپنا وہ وعدہ جسے وہ مصطفیٰ کو کر چکی تھی اسے توڑ کر
وہ مصطفیٰ اور اسکی محبت بھری قید کو چھوڑ کر حیات خان کے پاس آ چکی تھی انکے علاوہ اسکا کوئی تھا بھی نہیں
وہ مصطفیٰ کو چھوڑ کر آ تو گئی تھی مگر ایک لمحے کے لئے وہ سکون سے نہیں رہی تھی
ابھی بھی وہ حیات صاحب کے سینے سے لگی مسلسل آنسوں بہا رہی تھی جبکہ انکے ساتھ اس روم میں موجود سبھی لوگ پریشانی سے اسے دیکھ رہے تھے
“‘ حورین چپ ہو جاؤ جب تک تم ایسے ہی روتی رہو گی تو میں تم سے وہ بات نہیں کر پاؤ گا جو میں اس وقت تم سے کرنے یہاں آیا ہوں “‘
اسکے مسلسل رونے پہ اسفند سے جب رہا نہیں گیا تو تو وہ بےچینی سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اسکے قریب آیا جو حیات صاحب کے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی
“‘ اب آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں اسفند بھائی ۔۔ انکے ساتھ ساتھ آپ نے بھی آج تک مجھ سے سب چھپا کر رکھا ہوا تھا “‘
وہ ناراضگی سے اسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی
یہاں آنے کے بعد اس نے سب لوگوں کو ساری بات بتائی تھی جسے سن کر وہاں سب حیران ہوئے تھے سوائے اسفند کے
اور اب وہ مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ اسفند سے بھی بد گمان ہو گئی تھی
“‘ حورین تم سکے کے ایک پہلو کو دیکھ رہی ہو تمھیں صرف یہ نظر آ رہا ہے کہ مصطفیٰ نے تم سے اتنی بڑی حقیقت چھپا کر رکھی ہوئی تھی ۔۔۔ کیا تم نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ یہ سب تم سے چھپانے کی وجہ کیا تھی ۔۔۔ کیوں وہ تمہارے لئے اتنا حساس ہے “‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا ہوا بولا
اس روم میں موجود ہر فرد حیات صاحب ۔۔ حفصہ کے ساتھ حدید بھی بہت خاموشی سے اسکی طرف دیکھ رہے تھے
“‘ صرف ایک شخص کی کال پہ تم نے اس شخص کو اپنا مجرم سمجھ لیا جو آج تک صرف تمہاری حفاظت کرتا آیا تھا ۔۔۔۔۔ کہاں گئی تمہاری وہ محبت وہ اعتماد جو تم اس پہ کرتی تھی “‘
اسفند کی بات پہ اس بار حورین کا سر شرمندگی سے جھک سا گیا تھا
“‘ حورین جس شخص کی باتوں میں آکر تم اسکو یوں چھوڑ کر آ گئی ہو ۔۔۔ یہ وہی شخص ہے جس سے مصطفیٰ آج تک تمہاری جان کی حفاظت کرتا آیا تھا “‘
اس بار وہ بغیر رکے وہاں موجود سبھی لوگوں سب کچھ بتاتا چلا گیا تھا
اسکا ایک ایک لفظ سن کر وہاں موجود سبھی کے چہرے کے تاثرات بدلتے جا رہے تھے
حورین اب اپنا رونا بھول کر بےیقینی اور شاک کی سی کیفیت میں اپنے سامنے کھڑے اسفند کو دیکھ رہی تھی جو اب سب بتانے کے بعد خاموشی سے اسکو تک رہا تھا
“‘ اس دن صرف تم نے ہی نہیں مصطفیٰ نے بھی اپنی ماں کو کھویا تھا وہ چاہتا تو اس دن اپنی ماں کو بچانے کے لئے وہاں سے چلا جاتا اور تمھیں بھی تمہاری ماں کے ساتھ مارتا ہوا چھوڑ دیتا مگر نہیں اس نے ایسا نہیں کیا مگر بد قسمتی سے وہ اس رات صرف تمھیں ہی بچا سکا ۔۔۔۔۔ اور تم اسکا یقین نہیں کرو گی صرف اسی ڈر کی وجہ سے مصطفیٰ تمھیں بتاتے ہوئے ڈرتا تھا “‘
وہاں موجود سبھی لوگ جو مصطفیٰ کے جھوٹ کی وجہ سے اس سے بد گمان ہو چکے تھے اب اسفند کے منہ سے سب سچ سن کر انکی ناراضگی ختم ہو گئی تھی
“‘ تم اسے جھوٹا بول رہی ہو اگر وہ جھوٹا ہوتا تو بہت پہلے ہی تمھیں تمہاری ماں کے بارے میں کوئی بھی جھوٹ بول دیتا ۔۔۔۔ مگر نہیں اس کوئی جھوٹ نہیں بولا بلکہ اس نے تمہاری ماں سے کیا وعدہ پوری شدّت سے پورا کیا ہے”‘
اس بار اسفند بولتا ہوا پھر سے اپنی جگہ آ بیٹھا اور حور کے چہرے کو دیکھنے لگا جسکے چہرے پہ اب شرمندگی صاف ظاہر ہو رہی تھی
اسفند کی ساری بات سن لینے کے بعد اسے اب اچھے سے سمجھ آ گیا تھا
کیوں وہ اسکے لئے اتنا فکر مند رہتا تھا
کیوں وہ اسکی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جا سکتی تھی
سب باڈی گارڈ ” ٹائٹ سکیوریٹی
اس نے آج تک اسکے لئے کتنا کچھ کیا تھا اور وہ ادھورا سچ جان کر اس پہ شق کر رہی تھی جس انسان کی وجہ سے آج وہ زندہ تھی سانس لے رہی تھی
یہ سب سوچ کر حورین کا اب شدّت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھاگ کر اپنے مصطفیٰ کے پاس چلی جائے اور اسکے سینے سے لگ کر خوب روئے اس سے معافی مانگے
اور اسے پورا یقین بھی تھا کہ اسکا مصطفیٰ اسکو معاف بھی کر دیگا
“‘ ویسے ابھی ایک اور حقیقت ہے جس سے تم ہی نہیں حفصہ بھی انجان ہے ۔۔۔ اور میں پہلے ہی بتا دوں مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ میں بھی ابھی کچھ دن پہلے ہی اس حقیقت سے واقف ہوا ہوں۔۔۔۔ میں بس صحیح موقے کی تلاش میں تھا اور مجھے لگتا ہے یہ ہی صحیح موقع ہے “‘
سب کے خاموش چہروں کی طرف دیکھ کر اسفند مزید بولا اور ساتھ ہی یہ بتانا ضروری بھی سمجھا تھا
کیونکہ وہ جانتا تھا جو وہ بتانے والا ہے اسکے بعد اسکی بیوی بھی اسکو چھوڑنے والی نہیں تھی
“‘ تمھیں یاد ہے حفصہ یونی کے ٹائم پہ تم مجھ سے کہا کرتی تھی کہ تمہاری کزن بھی تھی مگر ایک روڈ ایکسیڈینٹ میں تم نے اسکو اور اپنی چاچی کو کھو دیا تھا “‘
اس بار اسفند خاموش کھڑی حفصہ کی طرف دیکھ کر بولا اور اسے اسکی کہی سالوں پرانی بات یاد کرائی تھی
“‘ تم کہتی تھی نہ کہ اگر وہ زندہ ہوتی تو تم اسے بہت محبت دیتی اپنی چھوٹی بہن کی طرح اسکا خیال رکھتی “‘
اسے آج بھی اسکا کہا ایک ایک لفظ اچھی طرح یاد تھا جو حفصہ کو حیرانی میں مبتلا کر رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ اسے آج یہ سب یاد کیوں کرا رہا تھا
“‘ تمہاری وہی چھوٹی بہن زندہ بھی ہے اور اس وقت تمہارے بہت قریب موجود بھی ہے “‘
وہ اس بار خاموشی سے آنسوں بہاتی حورین کا ہاتھ تھام کر حفصہ کے قریب لے آیا تھا
“‘ اور تمہاری وہ بہن اور کوئی نہیں ہماری حورین ہے”
اس نے جیسے وہاں موجود ہر فرد کے سر پہ بم سا پھوڑا تھا
حفصہ اور حورین کتنے ہی لمحے بےیقینی سے کھڑی اسفند کا چہرہ دیکھتی رہی
انہیں لگا کہ وہ انکے ساتھ کوئی مذاق کر رہا ہے مگر اسکے چہرے پہ چھائی گہری سنجیدگی سے انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ جو کہہ رہا ہے کوئی مذاق نہیں ہے
“‘ مصطفیٰ جس شخص سے حورین کو بچا رہا ہے وہ اور شخص اور کوئی نہیں تمہارے بابا ابراھیم خان ہے۔۔۔ سب جاننے کے باوجود انہونے آج تک تمھیں دھوکے میں رکھا ہوا تھا ۔۔ “‘
اسفند ایک گہرا سانس بھر کر سب بتاتا چلا گیا تھا
اپنے باپ کے بارے میں اتنا سب کچھ سن کر حفصہ کا سر شرمندگی سے مزید جھکتا چلا گیا تھا
اسکے بابا جائیداد کے لالچ میں اتنا گر سکتے ہیں وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی
“‘ جب میں پہلی بار تم سے ملی تھی تو مجھے ایسا محسوس ہوا تھا کہ میرا تم سے گہرا رشتہ ہے مگر اس وقت میں یہ نہیں جانتی تھی کہ جو میں محسوس کر رہی ہوں اصل میں وہ حقیقت ہے “‘
اپنی کیفیت پہ قابو پاتی حفصہ حورین سے مخاطب ہوئی جو آنکھوں میں پانی لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی
اس وقت دونوں کے چہروں پہ ایک الگ ہی مسکراہٹ تھی
“‘ میں بہت خوش ہوں اور اللّه کی شکر گزار بھی جس نے اگر میرے تایا کے دل میں میرے لئے نفرت ڈالی ہے تو دوسری طرف مجھے ایک بہن بھی دی ہے جسکے دل میں ہمیشہ سے میرے لئے محبت ہی رہی تھی “‘
حورین خوشی سے مسکراتے ہوئے حفصہ کے گلے لگ گئی تھی
اسے آج پہلی بار یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس بڑی سی دنیا میں تنہا نہیں تھی
ان دونوں کی محبت دیکھ وہاں موجود لوگ ہولے سے سے مسکرا دئے تھے
💥💥
“‘ اب دیکھتا ہوں میں شمس خان تمھیں میرے وار سے کون بچا پائے گا ۔۔۔ میری حفصہ کے ساتھ غلط کرنے کی سزا تو تمھیں ضرور ملے گی “‘
وہ ایک آخری نظر اپنے ہاتھ میں موجود فائل پر ڈال کر اسے ٹیبل پہ رکھتا ہوا چہرے پہ مسکراہٹ لئے اپنی سوچوں میں شمس خان سے مخاطب ہوا
وہ پچھلے کچھ دنوں سے اسی کام میں لگا ہوا تھا اور آج اسکے کام مکمل ہو چکا تھا بس اسے اب شمس خان کی بربادی کا انتظار تھا جو اب زیادہ دور نہیں تھی
“‘ ارے تم اب تک جاگ رہے ہو سوۓ کیوں نہیں ‘” کل آفس جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟ “‘
وہ جو اپنی سوچوں میں گم بیٹھا تھا حفصہ کی آواز پہ اپنی سوچوں سے باہر نکلا اور نظر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا جو اسے رات کے اس وقت لیپ ٹاپ پہ کام کرتا دیکھ چہرے پر حیرانی کے تاثرات لئے اسے دیکھ رہی تھی
“‘ تمہارے بغیر نیند نہیں آ رہی تھی سوچا یہ کچھ کام کر لوں ۔۔لیکن شکر ہے تمھیں اپنے شوہر کا خیال آ گیا ورنہ مجھے لگ رہا تھا اپنی بہن کے ملنے کی خوشی میں تم اپنے شوہر کو بھول ہی گئی ہو ۔۔۔۔ “‘
وہ وہ اپنا لیپ ٹاپ بند کرتا ہوا تھوڑا ناراضگی سے بولا جبکہ اسکے لہجے میں چھپی ناراضگی کو محسوس کر کے حفصہ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا
یہ سچ تھا جب سے اسے حور کے بارے میں معلوم ہوا تب سے اسکا زیادہ تر وقت اسکے پاس ہی گزرتا تھا وہ اپنی بہن کو پاکر بہت خوش تھی پر ساتھ ہی اپنے باپ کی حرکت پہ شرمندہ بھی
“‘ نہیں یہ بولو تمہارا آفس کا کام ادھورا رہ گیا تھا جسے تم اب دیر رات تک بیٹھ کر پورا کر رہے ہو “‘
وہ اسکے قریب آتی ہوئی صوفہ پر پڑی فائلز اور اسکے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی تھی جبکہ اسکی بات پر اسفند نے وہاں پڑی فائل کو ایک طرف رکھا تھا وہ فلحال حفصہ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا
“‘ میرا کام تو بہت پہلے کا ہو چکا ہے بس ایک دو میلز چیک لوں پھر بتاتا ہوں تمھیں تو کہ میں نے تمہارا کتنا انتظار کیا “‘
وہ اسکو وارننگ دیتا اپنے لیپ ٹاپ میں پھر سے کچھ چیک کرنے لگا
جبکہ اسکی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر حفصہ نے وہاں سے ہٹنا ہی بہتر سمجھا جیسے ہی وہ وہاں سے جانے لگی مگر اسفند بجلی سی کی تیزی سے اسکی کلائی تھام چکا تھا
“‘ کہاں چلی یہاں بیٹھو ۔۔۔ تمہارا بھی نمبر آئے گا “‘
وہ یک جھٹکے میں اسکے نازک وجود کو کھینچتا ہوا اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا
اسکی اس حرکت پہ حفصہ یکدم گڑبڑا سی گئی تھی
“‘ اسفند یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے “‘
وہ اسکی گرفت میں بری طرح مچل رہی تھی مگر وہ اسکے احتجاج کی پروہ کئے بغیر پھر سے اپنے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گیا
“‘ تمھیں اپنا کام کرنا ہے نہ تو وہ کرو “‘
حفصہ نے اس پر سے اٹھانا چاہا مگر مقابل کی گرفت مضبوط تھی
“‘ اپنا کام ہی تو کر رہا ہوں جان اسفند “‘
وہ اس بار اپنا لیپ ٹاپ بند کرکے شوخی سے کہتا اب اپنی توجہ مکمل اسکی طرف کر چکا تھا
“‘ اور جو کام شروع کر دیا ہے اسے پورا بھی تو کرنا ہے “‘
وہ اپنا ایک ہاتھ اسکی پشت پر رکھتا ہوا اسے اپنے سینے سے قریب کرتا ہوا بولا
اپنی کمر پہ اسکے ہاتھ کا دباؤ بڑھتا دیکھ حفصہ کو اپنی سانسیں بےترتیب ہوتی ہوئی محسوس ہوئی تھی
اسکی پیش قدمی پہ حفصہ کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا
“‘ تمھیں اندازہ بھی ہے حفصہ پچھلے دنوں میں کتنا ترسا ہوں تمہارے ساتھ وقت گزارنے کے لئے “‘
وہ اسکے کنپکنپاتے لبوں پہ نظریں جمائے خمار آلودہ لہجے میں کہتا اس سے ایک انچ فاصلے پہ آ رکا تھا
“‘ تمہاری قربت کے لئے ۔۔۔ تمہارے لمس کو محسوس کرنے کے لئے “‘
دونوں کی معمول سے زیادہ تیز ہوتی دھڑکنے اور بےترتیب ہوتی سانسیں ایک دوسرے کے چہرے کو چھو رہی تھی
“‘ اسفند میں ۔۔۔ “‘
اس سے پہلے کہ حفصہ اپنا جملہ مکمل کرتی وہ مدہوشی کے عالم میں اسکے لبوں پہ جھکتا اسکی سانسوں کو خود میں قید کر چکا تھا
اسکی اس جسارت پہ حفصہ نے سختی سے اسکے کالر کو اپنی مٹھی میں دبوچ لیا تھا
وہ اسکے لبوں پہ جھکا اسے بتا رہا تھا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے اسکے لئے کتنا پاگل ہے ۔۔۔ اسکی ذرا بھی دوری اسکے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہے
جبکہ اسکی اتنی شدّت پہ حفصہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا
اسکی کمر پہ موجود اسفند کے ہاتھ کا دباؤ مزید بڑھتا جا رہا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ اسکے چہرہ تھامے ہوئے تھا
“‘ اسفند میری بات تو سنو۔۔ مجھے تم سے حورین اور مصطفیٰ کے بارے میں بات کرنی تھی “‘
اسکی حد سے زیادہ بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر حفصہ نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے دور کیا تھا جس پہ اسفند سخت بد مزہ ہوا تھا
“‘ انکے بارے میں بھی بات کر لینگے لیکن بعد میں ابھی فلحال تم مجھ پہ توجہ دو “‘
وہ نرمی سے اسکے لبوں کو چھوتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اسکے گلے میں پڑا دوپٹہ ایک طرف ڈالا تھا
اسکی اس حرکت پہ حفصہ یکدم گھبرا سی گئی تھی مگر اسفند کے ہاتھ کا لمس جب اسے اپنے پیٹ پر محسوس ہوا تو اسکے بوکھلاہٹ مزید بڑھی گئی تھی
“‘ اسفند پلیز تنگ مت کرو میں پہلے ہی بہت تھک چکی ہوں “‘
اسے جب لگا کہ وہ رکنے نہیں والا ہے تو وہ بیچارہ سا منہ بنا کر بولی جس پہ اسفند کو اس پہ بہت پیار آیا تھا
“‘ اس دن سے تمھیں چھوڑ ہی رہا ہوں مگر آج نہیں “‘
وہ ایک جھٹکے میں اسے اپنی باہوں میں اٹھاتا ہوا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا جبکہ اسکے اس طرح کرنے پہ حفصہ کی ڈر کے مارے منہ سے نکلی چیخ نکلی جسے وہ اسکے لبوں پہ جھکتا اسکی آواز کو بند کر چکا تھا
وہ اسکے چہرے پہ یوں ہی جھکا اسے اپنی باہوں میں اٹھائے اسکے نازک وجود کو بیڈ پہ لیٹاتا اس سے جدا ہوا تھا
“‘ جانتی ہو تم دونوں بہنوں کا پیار دیکھ کر آج ھاد نے مجھ سے فرمائش کی کہ اسے بھی ایک بہن چاہئے”‘
وہ اپنی شرٹ ایک طرف ڈالتا اسکی بند آنکھوں اور شرم سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوا بولا
اسکی بات سن کر حفصہ نے فورا اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو بغیر شرٹ کے کھڑا آنکھوں میں شرارت لئے اسے دیکھ رہا تھا
“‘ تو میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ اسکے نیکسٹ برتھڈے پر اسے ایک بہن گفٹ کی جائے “‘
وہ آنکھوں میں بے پناہ تپش لئے اسکے اوپر جھکا تھا
“‘ اور اپنے بیٹے کے لئے تم اتنا تو کر ہی سکتی ہو نہ “‘
اس بار وہ دونوں کے درمیاں باقی کا فاصلہ ختم کرتا اسکے گردن پہ اپنے لب رکھ چکا تھا
اسکی بڑھتی جسارتوں اور شدتوں کو محسوس کر کے حفصہ نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
وہ جانتی تھی آج اسکی کوئی بھی مزاحمت کام نہیں آنے والی ہے
تھک ہار کر وہ خود کو اسکو سپرد کر چکی تھی
دوسرا اسفند کو ہی نہیں اسے بھی اپنے بیٹے کی فرمائش کو پورا کرنا تھا
💥💥
” ” تم اندر آ سکتی ہو مجھے تمہارا ہی انتظار تھا “‘
اندر سے آتی ابراھیم خان کی آواز پر اسکا دروازے ناک کرنے کے لئے اٹھا ہاتھ اپنی جگہ رک سا گیا وہ دروازے کا ہینڈل گھماتی اسکے آفس میں داخل ہوئی تھی
اس وقت اسکے چہرے پر حیرانی اور پریشانی کے تاثرات صاف ظاہر ہو رہے تھے جو اپنی چیئر پہ بیٹھے ابراھیم خان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکے
“‘حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے مجھے اندازہ تھا کہ تم میری کال کے بعد مجھ سے ملنے ضرور آؤ گی “‘
ابراھیم خان جیسے اسکے چہرے پہ لکھے سوال کو پڑھ چکا تھا
وہ چہرے پہ استہزائہ مسکراہٹ لئے اسکی طرف دیکھ کر بولا اور ساتھ ہی اسے اپنے سامنے والی چیئر پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا
“‘ صحیح کہا آپ نے اتنا بڑا سچ جاننے کے بعد میں ایسے ہی نہیں بیٹھ سکتی تھی ۔۔۔۔ میرے اور آپکے لئے بہت کچھ جاننا ابھی باقی ہے “‘
حورین خود کی کیفیت پہ قابو پاتی مضبوط لہجے میں بولی تھی
“‘ میں جانتا ہوں حور تم سوچ رہی ہونگی کہ اتنے سالوں میں تمھیں تلاش کیوں نہیں کیا ۔۔۔ پر میرا یقین کرو مجھے لگا تھا اس رات تمہاری ماں کے ساتھ ہم نے تمھیں بھی کھو دیا ۔۔ مگر حقیقت تو یہ تھی اس مصطفیٰ نے تمھیں ہم سے چھپا کر رکھا ہوا تھا “‘
ابراھیم خان اپنی باتوں کے ذریع اسکے دل میں مصطفیٰ کے لئے نفرت پیدا کرنا چاہتا تھا
مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ سامنے بیٹھی وہ لڑکی وہ حورین نہیں ہے جو وہ سمجھ رہا تھا
“‘ وہ تو شکر ہے مجھے تمہارے بارے میں معلوم ہو گیا ورنہ وہ مصطفیٰ تو اپنے فائدے کے لئے تمھیں اپنے ساتھ رکھتا اور پھر جب اسکا کام پورا ہو جاتا تو شاید وہ تمہارا بھی وہی حال کرتا جو اس نے تمہاری ماں کا کیا تھا “‘
ابراھیم خان اپنی باتوں سے اسکے دل میں زہر گھولنا چاہتا تھا مگر اسکی باتوں سے حورین پہ کوئی اثر نہیں ہونے والا تھا
“‘ کیسا فائدہ آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں تایا جان “‘
وہ انجان بنتے ہوئے تایا جان لفظ پہ زور دیتی ہوئی بولی تھی
ورنہ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے سامنے بیٹھے شخص کا قتل کر دے جس نے اسکے باپ اور ماں کو اس سے چھین لیا تھا
“‘ ‘ وہ تمہاری اس پراپرٹی کے پیچھے ہے جو تمہارا باپ تمہارے نام کرکے گیا تھا ۔۔۔ اور یہی وجہ بھی تھی تمھیں ساتھ رکھنے کی ورنہ آج کل کوئی بغیر فائدے کے کسی کے لئے کچھ نہیں کرتا “‘
وہ آہستہ آہستہ حور کو اپنے باتوں میں الجھانے کی کوشش کر رہا تھا
“‘ ‘ اگر ایسی بات ہے تو مجھے ایک وجہ بتائے آپ پر بھروسہ کرنے کی ۔۔۔ آپ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں “‘
حورین سے جب مزید برداشت نہیں ہوا تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ابراھیم خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی ہوئی مضبوط لہجے میں بولی تھی
اسکے مضبوط لہجے پہ ایک پل کے لئے ابراہیم خان گڑبڑا سا گیا تھا
“‘ بتائیے خاموش کیوں ہو گئے میں اس انسان کی بات پر کیسے بھروسہ کر لوں جو خود میری پراپرٹی کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔۔ اور شاید مجھے ختم کرنے کے لئے بھی “‘
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بےخوف بول رہی تھی
“‘ حور میں تمہارا تایا ہوں میرا بھروسہ کرو اس نے جو کچھ بھی تم سے کہا ہے وہ جھوٹ ہے ۔۔۔ وہ صرف تمہارا استمال کر رہا ہے اور کچھ نہیں “‘
ابراھیم خان کو لگا تھا کہ حور کے دل میں مصطفیٰ کے لئے نفرت ڈال کر وہ اسکی پراپرٹی کو آسانی سے حاصل کر لیگا مگر حور کے تیور دیکھ کر اب کچھ بھی آسان نہیں لگ رہا تھا
“‘ استمال وہ نہیں آپ میرا کر رہے ہیں ۔۔۔ اور میں آپکی باتوں پہ کیسے یقین کر لوں جسے میں کل تک جانتی بھی نہیں تھی ۔”‘
آج وہ ابراھیم خان کے سامنے کھڑی ہوئی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی تھی اگر مصطفیٰ یہاں موجود ہوتا تو اسکا لہجہ اسکا انداز دیکھ کر دنگ رہ جاتا کیونکہ اسکی حورین نے کبھی کسی انجان شخص سے اتنے مضبوط لہجے میں بات نہیں کی تھی
“‘ تم سے میرے بارے میں چھپانے والا بھی مصطفیٰ ہی تھا ۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ تم اپنے خاندان سے ملو اگر تم ہم سے ملتی تو اسکے ہاتھ سے وہ سب پراپرٹی نکل جاتی جسکے لئے اس نے آج تک تمھیں اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے “‘
ابراھیم خان نے اندھیرے میں تیر چلایا تھا
مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ حورین پہلے سے ہی سب جانتی ہے
“‘ بس خاموش ہو جاؤ میں ایک بار آپکی باتوں میں آکر اس مصطفیٰ پہ شق کرکے انکا دل دکھا چکی ہوں جس نے اپنی ساری زندگی صرف مجھے محفوظ رکھنے میں گزار تھی ۔۔۔ “‘
اس بار حورین کی آواز مزید تیز ہوئی تھی جس پہ ابراھیم خان اپنا غصّہ ضبط کرکے رہ گیا تھا
“‘ اور رہی بات پراپرٹی کی تو اگر مصطفیٰ کو میری پراپرٹی چاہئے بھی ہوتی تو وہ اتنے سال انتظار نہیں کرتے ۔۔ ویسے بھی سب انکے ہاتھ میں تھا “‘
حورین کی بات نے ابراھیم خان کو لاجواب کر دیا تھا
“‘ وہ تمہاری ماں کا قاتل ہے ۔۔ مجرم ہے تمہارا تم اس انسان کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہو “‘
ابراھیم خان نے ایک آخری بار اپنی سی کوشش کی تھی وہ جانتا تھا اپنی ماں کا سن کر ایک بار پھر حورین کے دل میں مصطفیٰ کے لئے نفرت ضرور پیدا ہوگی
“‘ یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کس کا قاتل ہے ۔۔ اسلئے آپ اپنی یہ بیکر کی کوشش بند کر دیں کیونکہ میں آپکی باتوں میں نہیں آنے والی “‘
وہ اپنی بات کہتی دروازے کی جانب بڑھی مگر کچھ سوچ کر اسکے قدم اپنی جگہ رکے تھے
“‘ اور رہی بات پراپرٹی کی تو وہ آپ پہلے بھی حاصل نہیں کر پائے تھے اور نہ ہی اب کر پائے گے چاہے آپ اسکے لئے کچھ بھی کر لیں ۔۔۔۔ نہ مصطفیٰ آپ سے ڈرتے ہیں اور نہ میں “‘
اس بار اپنی بات کہہ کر وہ وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے اسکے آفس سے نکلتی چلی گئی جبکہ ابراھیم خان اسکی بات پہ غصّے سے اپنی مٹھی بھینچ کر رہ گیا تھا
💥💥
کمرے کی نیم تاریکی میں وہ بیڈ پہ چت لیٹا اپنی موبائل سکرین پہ موجود حورین کی تصویر کو یک ٹک دیکھ رہا تھا
کمرے کی گہری خاموشی کو محسوس کر کے اسکے اندر کی اداسی مزید بڑھتی جا رہی تھی
آج حورین کو گئے ہوئے پورا ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس گزرے ایک ہفتے میں اسکی یہی حالت تھی اسے سکون بس ایک بات کا تھا کہ وہ اسفند کے گھر موجود تھی اور وہاں وہ بلکل سیف تھی
مگر وہ اپنے دل کا کچھ نہیں کر سکتا تھا جو اسے دیکھنے اس سے بات کرنے کے لئے پل پل تڑپتا رہتا تھا
اپنی اس بےبسی پہ اسے غصّہ بھی آتا مگر خود پہ ضبط کرکے رہ جاتا کیونکہ وہ حور کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ بےخودی کے عالم میں حورین کی تصویر پہ ہاتھ پھیر کر اسے محسوس کرنے لگا جیسے وہ اسکے پاس ہی ہو اسکے بےحد قریب اور وہ اسے چھو رہا ہو
وہ اسکی تصویر کو دیکھتا ہوا اتنا کھو سا گیا تھا کہ اسے احساس تک نہیں ہوا کہ اسکے روم کا دروازہ کھول کر کوئی آہستہ سے اندر داخل ہوا تھا
مگر وہ آنے والے وجود سے بےخبر وہ یوں ہی لیٹا بس حور کی تصویر کو تک رہا تھا
یہاں تک کہ اسے کسی کو اپنے بیڈ پہ بیٹھنے کا احساس تک نہیں ہوا تھا
“‘ مصطفیٰ “‘
حورین نے اسکے بازو پہ ہاتھ رکھ کر بہت آہستہ سے اسے پکارا تھا
یہ آواز اور اپنے بازو پہ جانا پہچانا لمس محسوس کر کے مصطفیٰ جیسے ہوش میں آیا اور یکدم فون سے نظریں ہٹا کر اپنے بہت قریب بیٹھی حورین کی جانب دیکھا تھا
وہ کتنے ہی لمحے بےیقینی کی سی کیفیت میں یوں ہی لیٹا اسے دیکھ رہا تھا
اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا جسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہ تڑپ رہا تھا وہ اسکے بلکل سامنے بیٹھی ہوئی تھی
“‘ حورین یہ تم ہی ہو نہ ۔۔۔ تم واپس آ گئی ۔۔۔۔ “‘
وہ اپنا موبائل سائیڈ پہ رکھتا ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا اور حورین کے چہرے اور ہاتھوں کو چھونے لگا جیسے خود کو یقین دلا رہا ہو کہ وہ کوئی خواب نہیں دیکھ رہا تھا
اسکی حورین اسکے پاس موجود تھی اسکے قریب
جبکہ اسکی یہ حالت دیکھ کر حورین کی آنکھوں میں یکدم پانی بھر آیا تھا
“‘ مجھے تو واپس آنا ہی تھا مصطفیٰ کیونکہ حورین اپنے مصطفیٰ کے بغیر ادھوری ہے “‘
وہ اپنے نازک ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھام کر بولی اور اپنی انگلی کے پورو سے اسکے آنسوں چن لئے تھے
وہ کیسے اس شخص کو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ سکتی تھی جس نے ہمیشہ ہی اسے تکلیفوں سے بچایا ہے
“‘ میں بہت بری ہوں مصطفیٰ میں نے ایک بار بھی آپکی بات نہیں سنی ۔۔۔ اس انسان پر بھروسہ نہیں کیا جسکی وجہ سے میں آج زندہ ہوں “”
اسکی کالر کو تھام کر کو وہ بری طرح روتے ہوئے بولی تھی
جبکہ اسکے رونے پر مصطفیٰ پل میں گھبرا گیا اور بہت آہستگی سے اسکے کانپتے وجود کو خود سے قریب کر لیا تھا
“‘ آپ پر بھروسہ نہ کرنے کے لئے اپنی حورین کو معاف کر دیں مصطفیٰ “‘
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا حورین اپنا چہرہ اسکے سینے پہ رکھ کر اپنے آنسوؤں سے اسکی شرٹ بھیگونے لگی تھی
وہ بچوں کی طرح اسکے سینے سے لگی رو رہی تھی جبکہ مصطفیٰ آہستہ سے اسکی کمر سہلاتا اسے چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا
حورین کی باتوں سے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اسفند اسے سب بتا چکا ہے تبھی وہ سچ جان کر اس طرح ٹوٹ چکی تھی
اور اسے اب اپنی حورین کو سنبھالنا تھا
کتنا ہی وقت یوں ہی گزر گیا کمرے کی خاموشی میں اسکی سسکی کی آواز گونج رہی تھی
جب اسکا رونا بند ہوا تو اس نے مصطفیٰ سے دور ہونا چاہا مگر وہ اسے یوں ہی قریب کئے بیٹھا رہا
“‘ مجھے معاف کر “‘
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی مصطفیٰ اسکے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر اسے کچھ بھی کہنے سے روک چکا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے آنسوں صاف کرنے لگا
“‘ بس کچھ مت کہو حور ۔۔۔تم میرے پاس واپس آ گئی ہو میرے لئے بس یہی معنے رکھتا ہے اور کچھ نہیں “‘
اپنے نرم گرم لبوں کا پرحدت لمس اسکی پیشانی پر چھوڑتا وہ حورین کی روح کو سراشر کر رہا تھا
“‘ اور معافی تمھیں نہیں مجھے مانگنی چاہئے حورین میری وجہ سے تم نے اپنی ماں کو کھو دیا ۔۔۔ میں تمہارا گناہگار ہوں “‘
اسکے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھام کر وہ نم لہجے میں بولا
نظریں جھکائے وہ اس سے اس گناہ کی معافی مانگ رہا تھا جو اس سے انجانے میں ہوا تھا
“‘ نہیں مصطفیٰ آپ معافی مت مانگے آپ اس وقت چھوٹے تھے اور ایک بچہ کسی کی جان نہیں لے سکتا کیونکہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں نہ۔۔۔۔ اس میں آپکی کوئی غلطی نہیں تھی وہ صرف ایک حادثہ تھا “
وہ اسکے شرمندگی سے جھکے سر کو اوپر کرتی ہوئی اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی
“‘ نہیں حور اس بوجھ کی وجہ سے میں آج تک تمھیں خود سے دور کرتا آیا تھا ۔۔۔ تمھیں تکلیف دی اس سب کے باوجود بھی تم مجھ سے کیسے محبت کر سکتی ہو ۔۔۔۔ نہیں میں تمہاری محبت کے لائق ہوں”‘
حورین کی باتیں سن کر وہ بےیقینی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا
اسے لگا تھا کہ شاید اپنی ماں کا سچ سن کر وہ اسے معاف نہیں کرے گی مگر اسکے لفظ مصطفیٰ کو سکون بخش رہے تھے
“‘ محبت اجازت نہیں مانگتی مصطفیٰ یہ تو بس ہو جاتی ہے ۔۔۔ آپکی بےرخی کے باوجود میں نے ہمیشہ آپکی آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھی تھی ۔۔۔ اور اسی طرح مجھے بھی آپ سے محبت ہو گئی “‘
وہ بہت اعتماد سے بولتی مصطفیٰ کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
“‘ نہیں حور میں بہت برا ہوں شاید خود غرض بھی ۔۔۔اور تم اس انسان سے محبت کیسے کر سکتی ہو جس انسان نے تم سے تمہاری ماں کو چھین “‘
اسکا جملہ ادھورا ہی رہ گیا تھا جب حورین اپنے نازک ہاتھوں میں اسکا چہرہ تھام کر اپنے کپکپاتے لب اسکے لبوں پہ رکھ چکی تھی
حورین نہیں چاہتی تھی کہ وہ خود کو مزید کچھ بولے
جبکہ اسکے اس عمل پہ مصطفیٰ کی آنکھیں پھیل سی گئی تھی وہ شاک سی کی کیفیت میں بیٹھا اسکے نرم لبوں کا لمس محسوس کرنے لگا
اپنے چہرے پہ اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو محسوس کرتا وہ اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا اسکے نازک وجود کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا
اپنی حیرانی بھولائے اب وہ دونوں ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کر رہے تھے
حورین کو جب لگا کہ وہ سانس نہیں لے پائے گی تو وہ اسکا کالر آزاد کرتی اس سے دور ہوئی تھی
“‘ میں آپ سے محبت کرتی ہوں مصطفیٰ سب سچ جاننے کے باوجود بھی ۔۔۔۔ حقیقت جس طرح سامنے آئی اسکی وجہ سے میں تھوڑا ٹوٹ گئی تھی مگر اسکی وجہ سے میری محبت میں کبھی کمی نہیں آئی اور نہ آئے گی “‘
وہ اپنی سانسوں کو درست کرتی اسکی طرف دیکھ کر بول رہی تھی جو اپنی کالی گہری نظریں اسی پہ جمائے ہوئے تھا
وہ نہیں جانتی تھی مگر اسکا ایک ایک لفظ مصطفیٰ کی روح کو سکون بخش رہا تھا
“‘ میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں حورین ۔۔ بے انتہا ۔۔۔ تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میری دنیا خالی ہو گئی ہو ۔۔۔۔ پلیز تم پھر سے مجھے چھوڑ کر مت جانا ورنہ تمہارا مصطفیٰ تمہارے بغیر مر جائے گا “‘
وہ باری اسکے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلی کو چوم کر اب اسکی دونوں آنکھوں کو چوم رہا تھا
اسکی اس قدر دیوانگی پہ حارین کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی
“‘ میں آپ کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں مصطفیٰ آپ تو میرے جینے کی وجہ ہیں ۔۔ آپکے بغیر تو میں بھی ادھوری ہوں “‘
اسکے منہ سے اعتراف سن کر مصطفیٰ نے بہت محبت سے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور بغیر وقت ضائع کئے اسکے لبوں پہ جھک کر اپنی طلب کو مٹانے لگا جو اسے اپنے قریب پاکر مزید بڑھ گئی تھی
حورین اپنی آنکھیں بند کئے اسکی بڑھتی شدتوں کو محسوس کرنے لگا
وہ اسکے چہرے پہ جھکا اسکے ایک ایک نقش پہ اپنا لمس چھوڑ رہا تھا
اسکی بڑھتی جسارتوں پہ حورین نے کوئی مزاحمت نہیں کی وہ اسکے لمس سے پگھلتی جا رہی تھی اور وہ اسے خود میں سیمٹ رہا تھا
💥💥
(جاری ہے )
