Talab Ishq By Iqra Sheikh Readelle50199 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“‘ خان اس بار بھی ہمارا آدمی پکڑا گیا میں بہت مشکل سے اپنا جان بچا کر آیا ہوں “‘
وہ آدمی اپنی پیشانی پہ آیا پسینہ صاف کرتا ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا اپنے کام کو انجام نہ دینی کی اسکو کیا سزا مل سکتی ہے
“‘ تم نے تو کہا تھا سب کچھ ہمارے پلان کے مطابق چل رہا ہے مصطفیٰ کو بھی کوئی شک نہیں ہوا ۔۔ تو تم کیسے پکڑے گئے ‘”
وہ اپنی چیئر سے کھڑا ہوتا اپنے آدمی کے مقابل آ کھڑا ہوا آنکھوں کے ساتھ ساتھ اسکا لہجہ بھی سرد تھا
“‘ سب کچھ ایسا ہی چل رہا تھا خان جیسا آپ چاہتے تھے ہم اس لڑکی پر ہر لمحے نظر رکھے ہوئے تھے پر پتہ نہیں کیسے مصطفیٰ کو خبر ہو گئی “‘
اپنے مالک کے لہجے میں چھپا غصّہ محسوس کر کے اس آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے وہ بار بار اپنی پیشانی مسلتا اسکو تفصیل سے سب بتا رہا تھا
“‘ خان پہلے ہمارا جو آدمی پکڑا گیا تھا اسکی تو لاش ہمیں مل گئی تھی مگر اس بار ہمیں اپنے آدمی کی لاش تک نہیں ملی اس نے بہت دردناک موت دی ہے اسے “‘
خان اپنے آدمی کے انداز اور آواز میں مصطفیٰ کے لئے چھپا خوف صاف محسوس کر سکتا تھا
“‘ اس لڑکی کی حفاظت کے لئے وہ درندگی کی ہر حد پار کر سکتا ہے ،، وہ بہت خطرناک ہے “‘
اسکا آدمی ایک ایک لفظ ٹہر ٹہر کر ادا کر رہا تھا جیسے اسکے پاس مصطفیٰ کی شخصیت بیان کرنے کے لئے لفظ نہیں مل رہے ہو
“‘ میں نے تمھیں یہاں یہ سننے کے لئے نہیں بلایا ہے کہ وہ کیا کر سکتا ہے کیا نہیں “‘
اس بار اسکا صبر جیسے جواب دے گیا تھا وہ ایک ہی جست میں اس آدمی کا گلا اپنے شکنجے میں لیتا ہوا غرایا تھا
غصّے کی وجہ سے اسکی ابھرتی نسے واضع تور پر ظاہر ہو رہی تھی
“” مصطفیٰ جو تمہارے آدمی کے ساتھ کر چکا ہے وہ مجھے تمہارے ساتھ کرنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی “‘
اسکے لفظوں کی سختی کے ساتھ ساتھ اس آدمی کی گردن پر بھی اسکی پکڑ سخت ہوتی جا رہی تھی سانس رکنے کی وجہ سے اس آدمی کی آنکھیں مزید باہر نکل گئی تھی وہ اپنی گردن اسکی پکڑ سے آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگا مگر سامنے والے کی پکڑ بہت مضبوط تھی
“‘ اس وقت تمہاری جان میرے ہاتھ میں ہے تو اب بتاؤ تمہاری نظر میں زیادہ درندہ کون ہوا میں یا وہ “‘
وہ اس آدمی کو اپنی پکڑ میں مچلتا تڑپتا ہوا دیکھ کر شیطانی انداز میں مسکرایا تھا جیسے جو آدمی تھوڑی دیر پہلے اپنے مالک کے سامنے کسی اور کی حمایت کر رہا تھا اب اس آدمی کی یہ حالت دیکھ کر اسکی روح کو تسکین مل رہی تھی
وہ جیسے اس آدمی کو اور اس وقت اس کمرے میں موجود ہر شخص کو یہ بتانا چاہ رہا ہو کہ مصطفیٰ زمان شاہ اگر درندہ ہے تو اسکی بھی درندگی کم نہیں تھی
“‘ خان چھوڑ دو اسے یہ مر جائے گا اپنے آدمی پر یوں غصّہ نکالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا “‘
کب سے خاموشی سے یہ سب دیکھتے اسکے خاص آدمی نے جھٹکے سے اس آدمی کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا تھا
“‘ “‘ اگر تم میرا درندے والا روپ نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ نہیں چاہتے کہ مصطفیٰ نے جو میرے آدمی کے ساتھ کیا ہے وہ میں تمہارے ساتھ کروں تو مجھے وہ لڑکی لاکر دو کسی بھی قیمت پر “‘
وہ اس آدمی کی طرف دیکھ کر دھاڑا تھا جو اس وقت زمین پر لیٹا بری طرح کھانس رہا تھا اگر وہ اسکو وقت پر نہ چھوڑتا تو یقیناً آج اسکی جان چلی جاتی
“‘ خا۔۔خان مجھے ۔۔ک۔۔کچھ وقت کی موہلت دو ۔۔ میں اس لڑکی کو آپکے سامنے لاکر کھڑا کر دونگا “‘
وہ آدمی اب اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے بولا آج اپنی غلطی کی وجہ سے وہ موت کے بہت نزدیک تھا اب وہ ایسا غلطی دوبارہ نہیں کرنا چاہتا تھا
“‘ تم میرے خاص آدمی ہو اس لئے تمہاری جان بخش دی اور ساتھ ہی تمھیں کچھ وقت بھی دے رہا ہوں اس بار کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے ورنہ تم اپنا انجام جانتے ہو “‘
وہ اپنی بات کہہ کر رکا نہیں تھا وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا ساتھ ہی اسکے پیچھے اسکا خاص آدمی کریم بھی تھا
💥💥
“‘ میں نے کہا نہ کہ مجھے کھانا نہیں کھانا تو ایک بات سمجھ نہیں آتی ہے تمھیں جاؤ یہاں سے اور مجھے پریشان مت کرو”‘
ٹرے میں کھانا لاتے وہ اپنے نیو باڈی گارڈ کو دیکھ کرخفگی سے بولی
پچھلے والے کو مصطفیٰ انکی ایک غلطی کی وجہ سے انہیں نکال چکا تھا وہ حورین کے معملے میں ذرا بھی غلطی برداشت نہیں کر سکتا تھا یہ نیا گارڈ اسکو پسند تو آ گیا تھا کیونکہ یہ پہلے والے کی طرف خوفناک نہیں لگتا تھا مگر مصطفیٰ کی دی ہوئی سزا اور دو دن سے کمرے میں بند رہنے کی وجہ سی موڈ کافی خراب ہو چکا تھا اس لئے سارا غصّہ اس نیو گارڈ پر نکل رہا تھا
“‘ میم سر کے آرڈر ہیں آپکو کھانا کھلانے کے پلز میری آپ سے ریکویسٹ ہے کھا لیجئے”‘
وہ ٹرے ہاتھ میں لئے آگے بڑھا تھا
“‘ میں نے کہا نہ کہ جاؤ یہاں سے مجھے پریشان مت کرو ورنہ میں شور کرونگی”‘
مصطفیٰ کے گارڈ بھی اسکی طرح ہی ضدی تھے پر وہ صرف اسکے گارڈ کے سامنے اپنی زبان کھولنے کی ہمّت رکھتی تھی
“‘ ٹھیک ہے میم میں بعد میں آ جاؤنگا جب آپکا غصّہ کم ہوگا”‘
حورین کے تیور دیکھ کر وہ ٹرے واپس لکر کمرہ لاک کرکے جا چکا تھا
حورین اسکے جاتے ہی بیڈ پر آ بیٹھی اور غصّے میں اپنے گلے میں جھولتا دوپٹہ ایک طرف ڈالا تھا
ابھی اسے بیٹھے ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ اسکے کمرے کا دروازہ پھر سے کھلا تھا
وہ جھٹکے سے بیڈ سے اٹھی تھی
“‘ میں تمھیں کتنی بار منع کر چکی ہوں کہ مجھے”‘
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسکا باقی کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا
وہ نظریں اس پر جمائے ہوے کمرے میں داخل ہوا
مصطفیٰ نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کمرے میں موجود سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور خود سائیڈ پر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا
حورین کی آواز جیسے کہیں گم سی ہو گئی تھی
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے اسے اپنے خشک لب تر کرتے دیکھ رہا تھا
اسکی نظروں سے گھبرا کر حورین بےچینی سے اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی مصطفیٰ کو اسکی یہ حرکت سخت ناپسند تھی
وہ اسے نہ کچھ کہہ رہا تھا نا بتا رہا تھا بس بیٹھا اسکی اپنی نظروں سے خوفزدہ کر رہا تھا
” ” تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا “‘
اسکی بھاری آواز کمرے کی خاموشی میں گونجی توحورین نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا اسکا کسرتی جسم وائٹ شرٹ میں نمایا ہو رہا تھا خوبصورت کشادہ پیشانی پر بال بکھرے ہوئے تھے شرٹ کے اوپر کے کھلے بٹن کی وجہ سے اسکی گردن پر بنا ٹیٹو نظر آ رہا تھا ہمیشہ کی طرح حورین کے دل میں عجیب سی خوائش جاگی تھی اسکو قریب سے دیکھنے کی
اس نے فورا ہی اپنی سوچ کو جھٹکا تھا
“‘ مجھے بھوک نہیں ہے “‘
وہ اپنا حلق تر کرتی ہوئی بولی جو اسکے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر خشک ہو رہا تھا
مصطفیٰ کی نظریں ایسی تھی کہ وہ کسی کا بھی جھوٹ فورا بھانپ لیتی تھی
اور وہ بہت دلچسپی سے اسکو جھوٹ بولتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ اس سے ناراض تھی وہ جانتا تھا آج یہی وجہ تھی اسکے کھانا نہ کھانے
“‘ پر کھانا تو تمھیں پھر بھی کھانا پڑیگا چاہے بھوک ہو یا نا ہو “‘
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور اسکی طرف قدم بڑھا دئے
مصطفیٰ کی نظر اسکے دوپٹے سے بےنیازی دلکش سراپے میں الجھ سی گئی تھی کالے سیاہ بالوں کو اس نے کھلا چھوڑا ہوا تھا خوبصورت کٹاؤ دار گلابی لب کے نیچے چمکتا ہوا تل ہمیشہ ہی اسکی توجہ اپنی جانب کھینچتا تھا
وہ اسے دیکھتا مزید اسکے قریب آ چکا تھا
اورحورین اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو درست کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی
جبکہ وہ قدم بڑھاتا عین اسکے سامنے آ رکا اور یکدم سے جھکا تو حورین نے خوف سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
وہ بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر اسکو اوڑھانے لگا
اسکے بھاری مضبوط ہاتھوں کا لمس اپنے شانوں پر محسوس کرکےحورین جیسے ہوش میں آئی تھی
اپنے ڈر اور خوف کی وجہ سے اسے احساس تک نہیں ہوا کہ وہ اسکے سامنے بغیر دوپٹے کے کھڑی تھی یکدم ہی اسکا چہرہ شرم کی وجہ سے لال ہو گیا تھا
“‘ پر مجھے بھوک نہیں ہے اگر مجھے کھانے کی خوائش ہوگی تو میں خود کھا لونگی”‘
وہ خود کو سانبھالتی رخ پھیر گئی تھی اب ہمّت نہیں تھی اسکا سامنا کرنے کی
“‘میں بہت محبت سے کہہ رہا ہوں حورین تم مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو “‘
وہ اسکے بازو کو اپنی گرفت میں لیتا آگے بڑھا جبکہ حورین یہ سوچتی رہ گئی کہ اسکی تو محبت میں بھی سختی تھی اس نے اسکا نام سٹون مین بلکل صحیح رکھا تھا
وہ اسے کرسی پاس لے آیا اسکو بیٹھا کر خود بھی برابر والی کرسی پر آ بیٹھا تھا
“‘ ختم کرو اسے بس دس منٹ ہے تمہارے پاس اپنی بےکار سی ضد کی وجہ سے تم پہلے ہی بہت ٹائم برباد کر چکی ہو “‘
وہ ٹیبل اسکے سامنے کرتا ہوا بولا اور حورین بس کھانے کو دیکھ کر رہ گئی تھی مطلب وہ اب اسکے کھانا کھانے کا ٹائم بھی سیٹ کر چکا تھا
وہ وقت کو دیکھتے ہوئے جلدی اپنا کھانا ختم کرنے میں لگ گئی جانتی تھی دس منٹ میں اسے یہ سب ختم کرنا ہی تھا جلدی جلدی کھانے کی وجہ سے کھانا اسکے گلے میں اٹکا اور زور کی کھانسی نے مصطفیٰ کی توجہ اپنی ترف کھینچی تھی
“‘ جنگل سے آئی ہو جو اس طرح سے کھا رہی ہو یا پہلی بار کھانے کو مل رہا ہے۔۔ آرام سے کھاؤ نہ “‘
وہ ہاتھ بڑھا کر اسکی کمر سہلاتا ہوا روعبدار انداز میں بولا تھا
اسکا مضبوط ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرکے حورین کو اپنا دل حلق میں آتا ہوا محسوس ہوا تو اس نے جلدی سے پانی کا گلاس اپنے لبوں سے لگایا تھا
پانی پینے کے بعد اس بچا ہوا کھانا اس بار بہت آرام سے ختم کیا خود پر جمی مصطفیٰ کی نگاہوں سے اسے کھانا نگلنا مشکل لگ رہا تھا جبکہ مصطفیٰ کی نگاہ ایک جگہ ٹھر گئی تھی
“‘ مجھ سے اتنا مت ڈرا کرو عین میں اتنا بھی خوفناک نہیں ہوں جتنا تم مجھے تصور کرتی ہو”‘
وہ اسکے ہونٹ کے نیچے لگے چاول کے دانے کو اپنی انگلی سے صاف کرتا ہوا سنجیدگی سے بولا نظریں ابھی بھی اسی جگہ جمی ہوئی تھی
جبکہ اسکی بات پر حورین آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی اسکو اپنے خوفناک روپ دیکھانے کے بعد یہ شخص اسکو بول رہا تھا کہ وہ خوفناک نہیں ہے اسکی سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ اسکی بات کا کیا جواب دے اسلئے خاموش رہنا مناصب سمجھا تھا اسکی خاموشی پر وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا وہ کھانا کھا چکی تھی اسکا یہاں کام ختم ہوا تھا
“‘ مجھے اس کمرے اور اس گھر میں اور کتنے دن قید رہنا پڑے گا جبکہ میں آپ سے وعدہ کر چکی ہوں کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرونگی”‘
دروازے کی جانب اٹھتے اسکے قدم حورین کی آواز پر رکے تھے کچھ دیر وہ یوں ہی خاموشی سے کھڑا رہا
“‘ بہت جلد تمھیں اس کمرے اس گھر سے ہی نہیں بلکہ مجھ سے بھی آزادی مل جائے گی “‘
وہ بغیر پلٹے بولا اور پھر وہاں رکا نہیں تھا تیزی سے اسکے روم سے نکلتا چلا گیا
جبکہ اسکا جواب سن کر حورین کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی وہ اس کمرے سے تو آزادی چاہتی تھی مگر اسکی قید سے نہیں ۔۔۔
💥💥
اپنے چہرے پر نرم گرم سا لمس محسوس کر کے اسکی بند پلکوں میں ہلکی سی لرجش سی ہوئی تھی وہ اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کرنے لگی مگر سر میں اٹھتی درد کی ایک تیز لہر نے اسکو پھر سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا
وہ کچھ دیر یوں ہی آنکھیں بند کئے لیٹی رہی تھی کہ اچانک اسکو ایسا لگا کہ کوئی اسکو پکار رہا ہے اس بار جیسے بہت ہمّت کرکے اسنے بمشکل اپنی آنکھوں کو کھولا
پہلے تو اسکو کچھ صاف نظر نہیں آیا شاید سر میں اٹھتی درد کی ٹیس کی وجہ سے اسکو اپنی آنکھیں کھولنا مشکل لگ رہا تھا جب منظر صاف ہوا تو وہ کچھ لمحے یوں ہی چھت کو گھورتی رہی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس وقت کہاں موجود ہے
“‘ دیکھیں دادو اینجل اٹھ گئی ہے جلدی یہاں آیئں”‘
جانے وہ یوں ہی کب تک لیٹی خود سے سوال کرتی رہتی جب ایک خوشی سے بھری اور پیاری سی آواز نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی حفصہ نے گردن موڑ کر دیکھا تو ایک چھوٹا خوبصورت سا بچہ اسکے قریب کھڑا تھا اس نے حفصہ کے ایک ہاتھ کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا
“‘ اللّه کا شکر ہے بیٹی تمھیں ہوش آ گیا میں اور میرا پوتا تو ڈر ہی گئے تھے “‘
ھادی کی بات سن کر حیات صاحب صوفہ سے اٹھ کر بیڈ کی جانب بڑھے انکے چہرے پر ایک سکون سا اتر گیا تھا اسکو ہوش میں دیکھ کر
“‘ معاف کرنا میں آپکو پہچانی نہیں اور میں کہاں ہوں”‘
حفصہ اپنا چکراتا سر تھامتی ہوئی اٹھ کر بیٹھی اور ایک نظر اپنے چاروں طرف ڈالی کمرہ بہت ہی شاندار تھا جو کہیں سے بھی ہسپتال کا نہیں لگ رہا تھا
“‘ بیٹا میں اس بچے کا دادا ہوں جسکی جان تم نے بچائی ہے تم بےہوش ہو گئی تھی تو میں تمھیں اپنے گھر لے آیا بیٹا میں تمہارا کتنا احسن مند یہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا “‘
وہ بیڈ کے قریب اسٹول پر بیٹھتے ہوئے بولے
اور پاس ہی کھڑے ھاد کو اپنے ساتھ لگایا جو اپنی معصوم آنکھوں سے اپنی اینجل کو دیکھ رہا تھا
انکی بات سن کر اب حفصہ نے اس بچے کی طرف دیکھا جو بہت ہی معصومیت سے اسکو تک رہا تھا اور یکدم سے سب یاد آتا چلا گیا
وہ دو دن سے اپنی یونی کی ایک دوست کے پاس ہوسٹل میں رہ رہی تھی مگر وہاں کی سخت وارڑن کی وجہ سے اسکی دوست زیادہ دن اسکو وہاں رکھ نہیں سکی اس لئے وہ وہاں سے نکل کر اپنے لئے رہنے کی کوئی جگہ تلاش کرنے میں لگی ہوئی تھی جب سڑک پر دوڑتے اس بچے نے اسکی توجہ اپنی جانب کھینچی اور وہ بغیر سوچے سمجھے اسکی جان بچانے کے لئے بھاگی حفصہ نے اسکی جان تو بچا لی مگر اسکے سر پر کافی چوٹ لگی تھی جس وجہ سے وہ بےہوش ہو گئی تھی
“‘ احسان والی بات نہیں ہے انکل آپکے اتنے ہینڈسم سے پوتے کی جان بچانے کے لئے میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا “‘
اس نے ہاتھ بڑھا کر ھاد کے نرم ملائم رخسار کو چھوا پہلی بار وہ اس بچے کو غور سے دیکھ رہی تھی کہ اچانک اسکی نیلی آنکھوں پر نظر پڑتے ہی حفصہ کی نظروں کے سامنے ایک چہرہ گھوم گیا تھا
“‘ تم پانچ گھنٹے تک بےہوش رہی میرا پوتا ایک لمحے کے لئے بھی تمہارے پاس سے دور نہیں ہوا نہ ہی کھانا کھایا یہ اپنی اینجل کے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا “‘
حیات صاحب کی آواز پر حفصہ سے اپنی سوچ سے باہر نکلی اور سر درد کو نظرانداز ہوئے ہاتھ بڑھا کر ھاد کو اپنے قریب کیا تھا
“‘ تو میں آپکی اینجل ہوں تو آپ اپنی اینجل کو اپنا نام نہیں بتاؤ گے”‘
وہ بہت محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی بولی جانے کیوں یہ بچہ اسے کسی کی یاد دلا رہا تھا
“‘ میرا نام ھاد اسفند یار خان ہے اور میں پورے پانچ سال کا ہوں”‘
ھادی نے اسکی بات کا جواب پرجوش انداز میں دیا تھا جبکہ اسکا نام سن کر ھاد بالوں میں چلاتے حفصہ کے ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکے تھے
یہ صرف اتفاق ہی ہو سکتا ہے ہاں ایسا ہی ہے اس نے جیسے اپنے دل کو سمجھایا تھا
“‘ بیٹا رات کافی ہو گئی ہے تمہارے گھر والے تمہارے لئے پریشان ہو رہے ہونگے تم مجھے انکا نمبر دو تاکہ میں انہیں بتا سکو کہ تم کہاں ہو “‘
اسکو کسی سوچ میں گم دیکھ کر حیات صاحب اس سے مخاطب ہوئے تھے اپنے گھر والوں کا سن کر حفصہ نارکنے والے آنسوؤں کا سلسلا شروع ہو گیا تھا جبکہ اسکو یوں روتا ہوا دیکھ کر حیات صاحب کے ساتھ ھاد بھی پریشان سا اسکو دیکھنے لگا
”’ کیا ہوا بیٹا ایسے کیوں رو رہی ہو کوئی پریشانی ہے تو تم مجھے بتاؤ”‘
انہونے نرمی سے اسکو چپ کروایا تھا تو وہ بہت مشکل سے اپنے آنسو ضبط کرتی ہوئی انہیں سب بتاتی چلی گئی اسکی بات پر حیات صاحب کچھ دیر خاموشی سے اسکو دیکھنے لگے تھے
“‘ بیٹا تمہارا بہت احسان ہے ہم پر جو شاید میں ادا نہ کر پاؤ پر میں اتنا تو کر سکتا ہوں تم جب تک چاہو میرے گھر میں رہ سکتی ہو مجھ پر بھروسہ رکھو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گا”‘
وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بہت محبت سے بولے تو حفصہ کے اندر ایک سکون سا اترتا چلا گیا تھا اسے سہارے کی ضرورت تھی جو اسکی مل گیا تھا
“‘ واہ دادو کتنا اچھا ہو گیا نہ میری اینجل اب میرے ہی پاس رہے گی “‘
کب سے خاموش کھڑا ھاد خوشی سے چہکا تھا اسکے انداز پر حیات صاحب اور حفصہ دونوں مسکرا دئے
وہ تینوں کافی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے حیات صاحب اسے اپنی فیملی کے بارے میں بتانے لگے وہیں کمرے میں ھاد نے اسکے ساتھ کھانا بھی کھایا کافی رات ہو جانے کی وجہ سے وہ اسکو آرام کا کہہ کر اسکے کمرے سے چلے گئے
کچھ دیر کروٹ بدلتے رہنے کے بعد اسکو نیند آ گئ تھی پر کچھ دیر بعد پیاس کی وجہ سے اسکی آنکھ کھلی تھی سائیڈ ٹیبل پر جگ میں پانی موجود نہیں تھا وہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر کچن کی تلاش میں نکلی قسمت سے وہ اسکو مل گیا پانی پینے کے بعد وہ نیند میں جھولتی پھر سے کمرے میں آکر لیٹ گئی
اس بات سے انجان کی اسکے علاوہ بھی کوئی اس کمرے میں موجود تھا ایک کمرے میں دو لوگ ایک دوسرے کی موجودگی سے ناواقف تھی اور وہ غلط وقت پر غلط جگہ موجود تھی
💥💥
“‘ میں نے سب پتہ لگا لیا ہے وہ بلکل پرفیکٹ ہے ویسے بھی میں اسکے باپ کو تمہارے ڈیڈ کے ٹائم سے جانتا ہوں ان لوگوں کی طرف سے تم بلکل مطمعین ہو جاؤ “‘
داؤد مرزا کی آواز پر اسکے پنچئنگ بیگ پر پنچ کرتے ہاتھ ایک لمحے کے لئے رکے تھے
اس وقت وہ اپنے جم روم میں تھا مسلسل پنچئنگ کرنے کی وجہ سے اسکا جسم پسینے میں شوروبار تھا اسکے کسرتی جسم کو دیکھ کر داؤد کو رشک محسوس ہوا تھا بےشک وہ ایک شاندار پرسنالٹی کا حامل تھا
“‘ میں مطمعین تب ہؤنگا جب حورین باحفاظت اس ملک کو چھوڑ کر چلی جائے گی “‘
وہ اپنے ہاتھوں میں پہنے گلؤوز اتارتا ان سے مخاطب ہوا
“‘ اور حورین کیا اسکو معلوم ہے تمہارے اس فیصلے کے بارے میں وہ راضی ہو جائے گی”‘
داؤد نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا
“‘ وہ نکاح کر کے اس ملک سے چلی جائے اس میں اسکی ہی بہتری ہے مجھے اسکی مرضی سے کوئی غرض نہیں رہی بات اسکو بتانے کی تو کل تم اسے میرے فیصلے کے بارے میں بتا دینا “‘
وہ بےتاثرات چہرا لئے انکی طرف مڑا تھا
اس نے یہ فیصلہ بہت پہلے لے لیا تھا بس اسے صحیح وقت اور صحیح شخص کی تلاش تھی جو اب اسکی پوری ہو چکی تھی
“‘ اور ہاں داؤد یہ کام اتنی خاموشی اور چھپ کر ہونا چاہیے کہ تمہاری پرچھائی کو بھی خبر نہ ہو تم جانتے ہو نہ میں حورین کے معملے میں کوئی بھی غلطی برداشت نہیں کرتا “‘
“‘ حورین ۔۔۔حورین ۔۔ ان پانچ سالوں میں کچھ نہیں بدلا تمھیں جہاں چھوڑ کر گئی تھی تم آج تک وہیں موجود ہو وہی تم اور وہی تمہاری اسکے لئے فکر “‘
وہ ٹیبل پر رکھا ٹاول اٹھانے کے لئے آگے بڑھا تھا جب دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تھا
جانی پہچانی آواز پر دونوں نے مڑ کر دیکھا بلیک ٹائٹ جین پر لائٹ پنک کلر کا ٹاپ پہنے اپنے دونوں ہاتھوں کو سینے پر بندھے وہ سامنے ہی کھڑی تھی اسکو یہاں دیکھ کر مصطفیٰ ایک لمحے کے لئے حیران ہوا تھا
“‘ میری حورین کے لئے فکر آخری سانس تک رہیگی اسکی حفاظت کرنا میری زندگی کا خالص مقصد ہے سال گزرنے سے میرا مقصد نہیں بدلنے والا “‘
وہ سپاٹ نظروں سے اسکی طرف دیکھتا گہری سنجیدگی سے بولا
پانچ سال گزرنے کے بعد بھی وہ بلکل ایسی ہی تھی جیسی پانچ سال پہلے تھی
“‘ حیرت ہوتی ہے مجھے یہ دیکھ کر کہ تمھیں اپنے خون کے رشتوں سے زیادہ اپنے فرض کا رشتہ عزیز ہے”‘
وہ استہازیہ مسکراتی ہوئی مزید اسکے قریب ہوئی تھی جبکہ اسکی بات اور انداز سے مصطفیٰ کی رگے تن گئی تھی
“‘ یہ تمہاری سوچ ہے ورنہ میرے لئے خون کا رشتہ بھی اتنا ہی عزیز ہے ورنہ جو کچھ تم کر چکی ہو اسکے بعد تم اس وقت یہاں میری نظروں کے سامنے موجود نہ ہوتی “‘ رباب زمان شاہ”‘
وہ ایک ایک لفظ پہ زور دیتا ہوا بولا
“‘ رباب زمان شاہ نہیں رباب اسفند یار خان “‘
مصطفیٰ کا جواب سن کر وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی مگر اسکے قریب آتے ہی مصطفیٰ اسکی گردن کو اپنی گرفت میں لیتا اسکو سختی سے دیوار سے لگا چکا تھا
“‘ تمہارا اس سے اب کوئی رشتہ نہیں ہے رباب نہ ہی اسکے بیٹے پر تم پہلے ہی اسکی زندگی برباد کر چکی ہو تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم اسے اکیلا چھوڑ دو”‘
وہ اسکی نازک گردن پر اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا اسکے لہجے اور انداز میں نرمی بلکل بھی نہیں تھی
“‘ و ۔۔وہ میرا بھی بیٹا ہے میرا حق مانگنے سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا ‘”
اسکی سختی کا اس پر کوئی اثر انداز نہیں ہو رہا تھا دم گھٹنے کی وجہ سے اسکی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے پر ہونٹوں پر ایک دل جلانے والی مسکراہٹ تھی جو مصطفیٰ کا غصّہ مزید بڑھا گئی تھی اگر وہ درندہ تھا تو وہ بھی اسکی ہی بہن تھی
“‘ مصطفیٰ چھوڑو اسے بہن ہے تمہاری کیا اسکی بھی جان لے لوگے”‘
ان دونوں کے جنونی انداز کو خاموشی سے دیکھتا داؤد یکدم سے آگے بڑھا تھا
“‘ میں نے اسے انہیں ہاتھوں سے پال کر بڑا کیا ہے اگر اسکی غلطی سے کسی بھی معصوم کی زندگی برباد ہو تو میں اپنے انہیں ہاتھوں سے اسکی جان لینے میں دیر نہیں کرونگا “‘
وہ اسکی نازک گردن کو ایک جھٹکے میں چھوڑتا دیوار پر اسکے چہرے کے برابر ایک زوردار پانچ مار چکا تھا
“‘ میں تمہاری حورین نہیں ہوں جو خاموشی سے تمہارے ہر حکم مانتی رہوں گی وہ میرا بیٹا ہے اور میں اسے اسفند سے لیکر رہونگی تم مجھے روک نہیں سکتے “‘
وہ اپنی گردن کو سہلاتی ہوئی بولی اسکی گردن پر مضبوط پکڑ سے نشان پڑ چکے تھے پر اسے کوئی فکر نہیں تھی وہ اپنے بھائی کی طرح سخت تھی اور اسکے سخت انداز کی عادی بھی
“‘ اتنے سال گزرنے کے بعد تمہارے اندر بھی کچھ نہیں بدلہ تم آج بھی وہی خدغرض رباب زمان شاہ ہو صرف اپنے بارے میں سوچنے والی”‘
وہ اسی کی بات لوٹاتا ایک غصّے بھری نظر اس پر ڈالتا تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ داؤد افسوس بھری نظروں سے ان دونوں بھائی بہن کو دیکھتے رہ گئے تھے۔۔
💥💥
(جاری ہے)
