No Download Link
Rate this Novel
Episose 3
❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ
3 episode
” انسپکٹر علی آپ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ان پر نظر رکھیں گے اور ان کے چیلوں کو بے نقاب کریں گے کیونکہ یہ غدار ہیں اور میں اپنے ملک سے غداری کرنے والوں کا وہ حشر کروں گا کہ وہ پھر کسی سے بھی وفا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن کے چہرے پہ بے حد سنجیدگی تھی آ واز رعب دار تھی وہ اپنی ٹیم کو ہدایات دے رہا تھا
” سر ہم اپنے مشن میں ضرور کامیاب ہوں گے۔۔۔۔۔ “
علی کی آواز میں جوش تھا
” میں اپنی ٹیم میں موجود ایک ایک کو وارن کر رہا ہوں اگر کسی نے غداری کی یا ہمارے سیکرٹس دشمن تک پہنچائے تو میں کیا کرسکتا ہوں یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ ان دونوں غدار آفیسرز کا انجام آپ سب کے لیے سبق ہے۔۔۔”
زامن کے چہرے پہ بے حد سختی تھی
" Got it ۔۔۔۔۔۔۔۔ "
زامن نے زوردار آواز میں پوچھا
" yes sir ۔۔۔۔۔۔۔ "
چھ نو جوانوں کی ایک ساتھ آواز آئی تھی
” آپ سب جا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ “
زامن کے کہتے ہی سب ایک لائن میں ہوکر باہر چلے گئے
” علی یار ۔۔۔۔۔۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے ۔۔۔ تو یہاں سب دیکھ لیں ۔۔۔۔۔ “
سب کے کمرے سے جاتے ہی زامن نے علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
زامن ، علی سے سینئر تھا وہ کسی کے سامنے بے تکلف نہیں ہوتے تھے مگر حقیقت میں دونوں میں گہری دوستی تھی ابھی بھی زامن نے دوستوں والے انداز میں کہا
” اس ضروری کام کی نوعیت پوچھ سکتا ہوں میں ۔۔۔۔۔ تجھ سے۔۔۔۔۔ “
علی کچھ دن سے نوٹ کر رہا تھا زامن کافی کافی دیر غائب رہتا ہے
“نہیں پوچھ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے مسکراتے ہوئے کہا آج وہ کچھ خوش خوش لگ رہا تھا یہ بات علی محسوس کر رہا تھا اور زامن کا چہرا غور سے دیکھ رہا تھا
” چل اب میں چلتا ہوں ۔۔۔۔۔ “
زامن نے ریوالور اور والٹ اٹھاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا لیکن علی کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا
❤❤💔💔❤❤
زامن علی شاہ ایک بہت قابل آفیسر تھا دشمن اس کا نام سن کر ہی کانپتے تھے بہت کم وقت میں اس نے بہت ترقی حاصل کرلی تھی جس کی وجہ اپنے ملک سے محبت اور کام میں دلچسپی تھی
زامن کا مزاج کافی سخت اور رعب دار تھا جس کی وجہ سے ہر کوئی اس سے ڈرتا تھا یہ اس کی جاب کا تاثر تھا کہ ہر وقت اس کے چہرے پہ سختی رہتی تھی
27 سالہ عمر ۔۔۔۔۔۔۔گوری رنگت ۔۔۔۔ اونچی قدوقامت ۔۔۔۔ چوڑی جسامت ۔۔۔۔ اور اس کے چہرے پر ہر وقت سنجیدگی رہتی تھی وہ ایک شاندار پرسنیلیٹی کا حامل تھا
❤❤💔💔❤❤
” پاپا دیکھیں اسے یہ اتنی تیز ہو گئی ہے اس نے اتنی چالاکی سے مجھ سے اپنا سارا اسائنمنٹ کمپلیٹ کروا لیا ۔۔۔۔۔۔۔ اتنا ہی دماغ اگر تم اپنی اسٹاڈیز پر لگا لو تو کافی اچھے گریڈز آئیں تمہارے ۔۔۔۔۔۔ “
حورین نے سلمان کے سامنے رامین کے کارنامے بیان کرتے ہوئے کہا رامین نے باپ کے سامنے رونے والی شکل بنا لی کہ کہیں اس کے کارنامے سن کر سلمان اسے ڈانٹ ہی نہ دے
” او ہو حورین بیٹا ۔۔۔ چھوٹی بہن ہے وہ آپ کی ۔۔۔ آپ پیار سے پڑھایا کرو اسے ۔۔۔۔۔ “
سلمان نے رامین کو گلے لگاتے ہوئے پیار سے حورین کو سمجھایا
” پاپا آپ نہیں جانتے یہ میڈم میرے سے پڑھتی کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ الٹا میرا بھی ٹائم ویسٹ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین سلمان کی دائیں جانب صوفے پہ بیٹھ گئی جبکہ سلمان کی بائیں جانب رامین پہلے ہی بیٹھ چکی تھی سلمان نے دونوں بیٹیوں کے گرد بازو پھیلائے اور باری باری دونوں کے سر پر پیار کیا
” پاپا میں کیا کرو اگر میں آپی کی طرح بہت اچھے گریڑز نہیں لا سکتی ۔۔۔۔۔ “
رامین نے چہرے پر مصنوعی اداسی لاتے ہوئے کہا جبکہ وہ اتنی معصوم نہیں تھی
” اچھا اچھا ۔۔۔۔۔ بس بس اب دونوں چپ کرو ۔۔۔۔۔۔۔ تم دونوں تو میری پیاری بیٹیاں ہو ۔۔۔۔۔۔ اور حورین تم تو میری بہت پیاری بیٹی ہو۔۔۔۔ کبھی ضد نہیں کی میری بیٹی نے ۔۔۔ کبھی پاپا کو تنگ نہیں کیا۔۔۔ ہر بات مانتی ہے میری بیٹی ۔۔۔۔۔ بیٹا رامین آپ بھی اپنی آپی کی ہر بات مانا کرو۔۔۔۔۔۔ “
سلمان دونوں بیٹیوں کو پیار سے سمجھا رہا تھا
” حورین صحیح کہہ رہی ہے یہ بہت تیز ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ آپ کےلاڑ پیار نے اسے بہت بگاڑ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
سمعیہ بیگم سامنے والے ون سیٹر صوفے پہ بیٹھتی ہوئی بولی
“ماماااااا ۔۔۔۔ پاپا ، ماما ہر وقت ڈانٹی ہیں مجھے ۔۔۔۔ “
رامین اب باقاعدہ رونے کی تیاری کرنے لگی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے باپ کے سامنے کوئی اس کی شان میں گستاخی کرے
” او ہو بھئی اب کوئی کچھ نہیں بولے گا ۔۔۔۔۔ کوئی میری بیٹی کو کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔۔ “
سلمان نے مصنوعی غصے سے کہا اور رامین کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔
” پاپا میں بھی ۔۔۔۔۔”
حورین نے سلمان کو رامین کو گلے لگاتے ہوئے کہا تو سلمان نے دونوں بیٹیوں کو گلے لگا لیا
❤❤💔💔❤❤
سلمان شاہ کی دو بیٹیاں تھیں حورین اور رامین ۔ حورین 16 سال کی تھی جبکہ رامین 15 سال کی ۔
حورین بہت معصوم اور بے حد خوبصورت لڑکی تھی ہر بات آرام سے مان لینے والی ، ضد نہ کرنے والی ، نرم لہجے والی ، سب کی ہمدرد ،
جبکہ رامین صرف شکل سے معصوم تھی بے حد شرارتی ، یہاں تک کہ اکثر وہ حورین کو بےوقوف بنا کر اس سے اپنے بہت سے کام کروا لیتی تھی، اور سلمان اور سمعیہ بیگم سے ضد کرکے اپنی بات منوا لیتی تھی
❤❤💔💔❤❤
” عاشر تھوڑا وقت دو گے اپنا ۔۔۔۔۔۔ بات کرنی ہے تم سے ۔۔۔۔ “
ثناء عاشر کے کمرے میں آئی تھی پاکیزہ اور بیہ امی کے کمرے میں تھیں عاشر خلاف معمول آج اس وقت گھر پر تھا تو ثناء نے سوچا آج عاشر سے اس کے اور پاکیزہ کے بارے میں بات کرے
” ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔ آؤں بیٹھو ۔۔۔۔۔ “
عاشر نے لیپ ٹاپ کو بند کرکے سامنے پڑے ٹیبل پر رکھا اور اپنے پاس صوفے پر ثناء کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
“عاشر ۔۔۔۔۔ تم میرے بھائی ہو ۔۔۔ میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں تم امی سے ناراض ہو ان کا شزا کے ساتھ ہمیشہ برا رویہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں تم شزا سے بہت پیار کرتے تھے شزا کو بھولنا تمہارے لئے بہت مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اب پاکیزہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم پاکیزہ کو اس کا جائز حق تو دو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس رشتے کو اچھی طرح نبھا رہی ہے ۔۔۔۔۔ بیہ کو اپنی سگی اولاد کی طرح پیار کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے بھی کچھ فرض ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ثناء نے عاشر کے چہرے کے اتارچڑھاؤ دیکھے لیکن اپنی بات مکمل کرکے ہی رکی
“ثناء مجھے اس ٹوپک پر کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔۔۔۔”
عاشر نے دھیمے لہجے اپنانا چاہا لیکن نا چاہتے ہوئے بھی اس نے سختی سے کہا
“عاشر ایک لڑکی کے ہزار ارمان ہوتے ہیں ۔۔۔۔ تم دونوں کا نکاح بہت سادگی سے ہوا ہے۔۔۔ لیکن اب وہ تمہارے نکاح میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے بہتر بیہ کا کوئی اتنا خیال نہیں رکھ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ثناء نے عاشر کو التجائیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
” ثناء اس سے کہو میری بیٹی سے دور رہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کسی کا کوئی احسان نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔”
عاشر کے چہرے پر بے انتہا سختی تھی وہ ایسا نہیں تھا لیکن کچھ حادثے انسان کو بدل دیتے ہیں
” عاشر کب تک ایسے رہو گے ۔۔۔۔۔۔ وہ کب تک تمہارا یہ سرد رویہ برداشت کرے گی ۔۔۔۔۔ کچھ تو احساس کرو اس کا ۔۔۔۔۔”
ثناء تو آج ٹھان کے آئی تھی کہ عاشر کو احساس ضرور دلائے گی
” تو نہ کرے برداشت ۔۔۔۔۔ مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ “
اب کے عاشر کی آواز اونچی ہو گئی تھی
” عاشر ۔۔۔۔ امی بھی نوٹ کر رہی ہیں تمہارا رویہ پاکیزہ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ تم بات تو دور کی بات اس کی طرف دیکھتے بھی نہیں ہو ۔۔۔۔۔ کیا کمی ہے اس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
عاشر کی بات پہ ثناء کا دل دکھا تھا اس کا بھائی تو بہت احساس کرنے والا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وقت نے اسے بے حس بنا دیا تھا
” امی نے شادی کروا دی نا بس اب میری مرضی میں نبھاؤ یا نہ نبھاؤں ۔۔۔۔۔۔ انہیں پتہ ہونا چاہیے زبردستی کی شادی کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
عاشر کے لہجے میں اذیت ثناء نے بھی محسوس کی تھی وہ جانتی تھی عاشر شزا کو بھول نہیں پا رہا کیوں کہ مرد اپنی پہلی محبت کو کبھی نہیں بھولتا
“عاشر ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ثناء نے کچھ اور کہنا چاہا لیکن عاشر اٹھ کھڑا ہوا اور ثناء کو کچھ کہنے سے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا ثناء نے اپنے بھائی کو جاتا دیکھا اور خود بھی اس کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں آگئی
ثناء کا شوہر ملک سے باہر جاب کرتا تھا ثناء بھی پہلے اپنے شوہر کے ساتھ ہی تھی لیکن عاشر کی بیوی شزا کی موت کی وجہ سے اسے پاکستان آنا پڑا کیونکہ اکیلی ان کی امی بیہ کو سنبھال نہیں سکتی تھیں اور نہ وہ بیہ کو نوکروں کے ہوالے کر سکتے تھے ناہید بیگم کے تین بچے تھے سب سے بڑی ثناء پھر عاشر اور پھر سلمان ،
سلمان نے اپنا بزنس اسلام آباد میں سیٹل کیا ہوا تھا
ناہید بیگم نے عاشر کی بیوی کے مرنے کے دو ماہ بعد اپنی بہن سے پاکیزہ کا رشتہ مانگا اور کسی طرح انہیں راضی کر لیا پھر مرنے کی دھمکی دے کر عاشر کو بھی نکاح کے لئے راضی کر لیا
❤❤💔💔❤❤
زامن اپنے کمرے میں اندھیرا کیے صوفے پہ بیٹھا تھا دونوں ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل پر رکھی ہوئی تھی اور مسلسل سگریٹ نوشی کر رہا تھا وہ اب تک سگریٹ کی تین ڈبیاں ختم کر چکا تھا ٹراؤزر۔اور ٹی شرٹ پہنے وہ آرام لباس میں تھا وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھاجس کے تسلسل کو موبائل فون کی بیل نے توڑا پاس پڑا فون اٹھا کر سکرین پر نمبر دیکھا اور یس کر کے کان سے لگا لیا
” ہاں شاہد ۔۔۔۔۔۔۔کیا خبر ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟ “
زامن نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے پوچھا
” شاہ جی آپ نے صحیح کہا تھا سلمان ابھی 4 مہینے پہلے ہی کراچی شفٹ ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ پنڈی میں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پنڈی وہ 2 سال رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
شاہد ، زامن کا وفادار آدمی تھا زامن اکثر اپنے کام شاہد کے ذمے لگاتا تھا جسے شاہد باخوبی کرتا تھا کیونکہ وہ زامن کے حکم کا غلام تھا
” اس کا مطلب وہ دو سال پہلے ہی پاکستان آچکا تھا اور میں بے خبر رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہ کہنے کے ساتھ ہی زامن نے پاس پڑے واز کو اٹھا کر فرش پہ دے مارا آواز اتنی زوردار تھی کہ شاہد بھی سہم گیا تو سمجھ گیا تھا زامن غصے میں آ چکا ہے
” ہاں اور کچھ شاہد ۔۔۔۔۔۔ “
اب کے زامن کی آواز بے حد سخت تھی
” شاہ جی وہ اپنی بیوی ، اور دو بیٹیوں کے ساتھ ڈیفنس میں رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا کاروبار اسلام آباد اور کراچی کے علاوہ کینیڈا میں بھی ہے وہ اکثر کاروباری معاملات کی وجہ سے کینیڈا آتا جاتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
شاہد نے ایک ٹرانس کی طرح بولنا شروع کیا پھر اپنی بات مکمل کرکے رکا اور زامن کے حکم کا انتظار کرنے لگا
” شاہ جی ۔۔۔۔۔۔ آگے کیا حکم ہے ؟؟ “
جب زامن خاموش رہا تو شاہد نے پھر سوال کیا
” ہاں شاہد ۔۔۔۔۔۔ تم بس سلمان پر نظر رکھو ۔۔۔۔۔۔ اس کے ہر کام پر ۔۔۔۔۔۔ سلمان نے بڑا نام بنا لیا ہے نا اپنا ۔۔۔۔۔۔ دیکھنا میں اسے اتنا بدنام کرو گا کہ دنیا سے اپنا منہ چھپاتا پھرے گا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن کے لہجے میں بے حد نفرت تھی جیسے اگر اس وقت سلمان اس کے سامنے ہوتا تو زامن اس کا حلیہ بگاڑ دیتا
” جی شاہ جی جو حکم آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔”
شاہد نے تابعداری سے کہا
اور پھر زامن نے کال کاٹ کر فون ٹیبل پر رکھ دیا
” سلمان اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا تڑپاؤں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کو تنگ کر دوں گا تم پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ روز جیو گے روز مرو گے تم ۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری بیٹی کے ذریعے تمہیں تڑپاؤں گا ۔۔۔۔۔ تمہاری جان اپنی بیٹیوں میں ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری بیٹی کو اذیت دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ جس سے تم تڑپو گے ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نفرت سے کہے جا رہا تھا اس کی آنکھیں ضبط کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی اس کا دل کر رہا تھا وہ ساری دنیا کو آگ لگا دے
” بس کچھ دن ۔۔۔۔۔۔ پھر میں اپنا انتقام لوں گا ۔۔۔۔۔۔”
اب کے زامن کے چہرے پہ ایک شاطرانہ مسکراہٹ آئی تھی
❤❤💔💔❤❤
Plz like nd comments❤❤
