No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ
28 قسط
آصف صاحب ایک شریف اور رحم دل انسان تھے ان کی بیوی بھی بہت اچھی خاتون تھیں ان کی صرف ایک ہی بیٹی تھی
وہ سلمان شاہ کو پچھلے تین سال سے جانتے تھے جس دوران ان کی اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی پھر ان کی بیٹی ندا اور حورین کی دوستی کی وجہ سے بھی خاص آنا جانا تھا
جب سلمان شاہ نے انہیں اپنی پریشانی بتائی زامن اور حورین کا بتایا اور کہا کہ وہ زامن سے اپنی بیٹی کو چھوڑانا چاہتے ہیں اور اپنی بیٹیوں کو پاکستان سے بہت دور بھیجنا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکیلے انجان ملک میں کیسے رہیں گی
تبھی آصف صاحب نے ان کو تسلی دی اور کہا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ابروڈ شفٹ ہو رہے ہیں تو بہتر ہو گا تم دونوں بچیوں کے ساتھ ہمارے ساتھ شفٹ ہو جاؤ
تا کہ زامن بھی ان تک نہ پہنچ سکے
لیکن سلمان نے انہیں کہا کہ وہ حورین اور رامین کو اپنے ساتھ لے جائیں لیکن وہ نہیں جانا چاہتے
آصف صاحب نے سلمان کو بہت بار ساتھ چلنے کا کہا لیکن سلمان نے جانے سے منا کر دیا کیونکہ وہ رامین اور حورین سے اب کبھی نظریں نہیں ملا سکتے تھے آج ان کی بیٹیوں کو در بدر صرف اپنے باپ کی وجہ سے ہونا پڑ رہا تھا
وہ وہی رہ کر خود کو سزا دینا چاہتے تھے
کیونکہ انہیں بار بار حورین کا وہ ویران چہرہ یاد آتا تھا اتنی کم عمر میں ان کی بیٹی نے کتنا ظلم سہا تھا
حورین کو راضی کر کے انہوں نے اگلے دن ہی رامین اور حورین کو ایک ہوٹل میں شفٹ کیا کیونکہ انہیں پتہ تھا زامن کبھی بھی حورین کو لینے آ سکتا ہے
تقریبا ایک ہفتے بعد ہی حورین اور رامین آصف صاحب کی فیملی کے ساتھ پاکستان سے بہت دور چلیں گئیں
لندن
اسے یہاں کی فضا میں سانس لیتے دو مہینے ہو گئے تھے
لیکن وہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی بس کمرے میں بند رہتی تھی
آصف صاحب اور ثمرین بیگم بہت شفیق اور رحم دل تھے
وہ حورین اور رامین کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھتے تھے
ندا بھی اپنی بیسٹ فرینڈ کے ساتھ رہنے پر بہت خوش تھی لیکن حورین کی حالت دیکھ کر اسے بہت دکھ ہوتا تھا
ندا ، رامین اور ثمرین بیگم بلکہ آصف صاحب بھی حورین کو ہر طرح سے ہنسانے کی خوش کرنے کی کوشش کرتے لیکن حورین تو جیسے زندگی سے بہت دور چلی گئی تھی
مسکرانا تو جیسے بھول گئی تھی
ندا ، رامین اور حورین ایک ہی کمرے میں رہتی تھیں کہنے کو تو تینوں کے کمرے الگ تھے لیکن حورین کی وجہ سے ندا اور رامین اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتیں تھیں
حورین کی یہ حالت تھی کہ وہ بیٹھے بیٹھے ڈر جاتی تھی رونے لگتی تھی اکثر رات کو سوتے سوتے اٹھ جاتی تھی اور رونے لگتی تھی
وقت بڑا بے رحم ہوتا ہے۔۔۔۔ دکھ دیتے وقت عمر نہیں دیکھتا۔۔۔۔ کبھی کبھی کچی عمروں میں بھی۔۔۔۔زمانے کی تکلیفوں سے اچھی طرح روشناس کروا دیتا ہے ۔۔۔!!
اور حورین نے بھی سولہ سال کی عمر میں زندگی کی تلخی سہی تھی اور کچی عمر میں زامن کے ساتھ گزارے پانچ ماہ نے اسے وہ دکھ دیے تھے کہ وہ چاہ کر بھی زندگی کی طرف واپس نہیں آ پا رہی تھی
” حورین پلیز مت رو یار ۔۔۔۔۔۔ دیکھو ڈارک سرکلز ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز خود کو سنبھالو ۔۔۔۔ پلیز یار ۔۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں جو تمہارے ساتھ ہوا اس سب کے بعد تمہارے لیے بہت مشکل ہے لیکن یار دیکھو مایوس مت ہو حورین ہمت کرو آگے بڑھو پلیز یار ہمارے لئے رامین کے لئے ، میرے لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ندا پچھلے دو مہینے سے ایسے ہی حورین کو سمجھاتی تھی لیکن وہ نارمل نہیں ہو پا رہی تھی
” اچھا نا یار اٹھو کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔ “
” ندا پلیز آپ لوگ کھاؤ مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔۔”
حورین نے ندا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا
” تم کچھ کھاتی پیتی نہیں ہو یار ۔۔۔۔۔۔ دیکھو کتنی ویک ہو گئی ہو ۔۔۔۔ تم ایسے کرتی ہو تو رامین بھی ٹینس ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس نے بھی کچھ نہیں کھایا ۔۔۔۔۔۔ “
“حورین آپی ، ندا آپی ۔۔۔۔۔۔”
ندا حورین سے بات کر رہی تھی جب رامین ان کو پکارتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی
” ہاں رامین کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔ “
ندا نے رامین سے پوچھا جبکہ حورین اب اپنی چھوٹی بہن کو دیکھنے لگی تھی جو بہت بدل گئی تھی اب پہلے کی طرح شرارتیں نہیں کرتی تھی
” رامین !! ۔۔۔۔۔۔۔۔”
حورین کی آواز پر رامین اور ندا دونوں نے پہلے حورین کو پھر ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا کیونکہ حورین نے ان دو ماہ میں کبھی خود سے کسی کو مخاطب نہیں کیا تھا بس کسی کی بات کا جواب دے دیتی تھی
” جی آپی ۔۔۔۔۔۔”
رامین حورین کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی
حورین نے اس کے ماتھے پر بوسا دیا
” تم اور ندا چلو کھانا کھاؤ میں بھی آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔”
حورین نے زبردستی مسکرا کر کہا
” سچی آپی ۔۔۔۔۔۔۔”
رامین نے چہک کر کہا اور حورین نے ثبات میں سر ہلایا
” حورین بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔”
آج پھر ندا حورین کے سامنے بیٹھی اسے کو سمجھا ہی تھی کیونکہ حورین رات کو پھر سے ڈر گئی تھی اور وجہ سے اب پھر سے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا
جب آصف صاحب اور ثمرین بیگم ، رامین کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئے
اور آصف صاحب نے حورین کو پکارا
” جی ؟؟ انکل ؟؟؟ ۔۔۔۔”
حورین نے اپنے آنسو پونچھے اور سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا
آصف صاحب کمرے میں پڑی ایک کرسی کھنچ کر بیٹھ گئے جبکہ ثمرین بیگم حورین اور ندا کے قریب بیڈ پر ہی بیٹھ گئیں اور رامین حورین کے بلکل ساتھ لگ کر بیٹھ گئی
” بیٹا آپ کب تک کمرے میں بند ر ۔۔۔۔۔۔۔
آصف صاحب نے ثمرین بیگم کو اشارے سے چپ ہونے کو کہا تو وہ چپ ہو گئیں
” ندا اور رامین بیٹا آپ دونوں ڈنر شروع کریں جا کر ہم حورین کو لے کر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔”
چئیر پر بیٹھے ہوئے آصف صاحب نے ندا اور رامین سے کہا
ندا اور رامین نے باری باری حورین کے ماتھے پر بوسا دیا اور کمرے سے باہر چلی گئیں
” حورین بیٹا آج میں آپ کے پاس بہت مان سے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات کو سمجھنا ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھو بیٹا ہم آپ کو کافی وقت سے جانتے ہیں اور آپ یقین کریں ہمارے لیے آپ اور رامین ، ندا سے کم نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا آپ کی یہ حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ “
آصف صاحب کے لہجے میں فکر تھی پریشانی تھی جسے حورین سمجھ رہی تھی
” ہاں بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اتنی سی عمر میں کیا کیا نہیں سہا آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو دیکھتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے بیٹا ۔۔۔۔۔ اتنی پیاری ، اتنی لائق بچی ہو آپ ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔”
ثمرین بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے سامنے بیٹھی معصوم سی بچی کو دیکھ کر ان کا دل تڑپ رہا تھا
وہ بچی جو ہر وقت ہنستی مسکراتی رہتی تھی
” حورین بیٹا ہمت کرو ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھو ۔۔۔۔۔۔ دیکھو تمہاری اس حالت کا اثر سب سے زیادہ رامین نے لیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے ۔۔۔۔۔۔ باپ کے بارے میں اتنی بڑی حقیقت پتہ چلنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر آپ کے ساتھ جو ہوا ۔۔۔۔۔ اس کا اثر رامین پر بہت ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت چپ رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔”
ثمرین بیگم کے رونے پر آصف صاحب نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور خود بات جاری رکھی لیکن ان کی بات سے حورین کی آنسوؤں سے بھری آنکھوں میں حیرت در آئی
” انکل یہ کیا کہہ رہے ہے آپ ۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔ رامین کو سب پتہ ہے ۔۔۔۔۔؟ “
” ہاں بیٹا سلمان نے بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔ کہ آپ دونوں کو پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سمعیہ بھابی اور سلمان بھائی کی آخری وقت میں ہونے والی باتیں رامین کے سامنے ہوئی تھیں
ثمرین بیگم نے حورین کو دیکھتے ہوئے کہا
” حورین بیٹا پلیز آگے بڑھو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی عمر ہی کیا ہے آپ کی ۔۔۔۔۔ کیوں روگ لگا لیا ہے خود کو ۔۔۔۔۔۔ اپنی بہن کے لئے ۔۔۔۔۔۔ وہ بہن جسے ضرورت ہے آپ کی ۔۔۔۔۔۔۔
“پڑھائی شروع کرو اپنی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔”
آصف صاحب نے نہایت شفقت سے کہا
” رامین کا ایڈیشن کروا دیا ہے ہم نے ۔۔۔۔۔ ندا بھی کیمبرج یونیورسٹی میں اپلائی کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں آپ بھی کرو ۔۔۔۔۔۔”
اب کے آصف صاحب کے چہرے پر ایک امید تھی جو حورین سے تھی جبکہ حورین کا چہرہ ابھی بھی بھیگا ہوا تھا
” انکل آپ کا بہت شکریہ آپ نے رامین کے لئے بہت کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو میں بھی نا کر سکی ۔۔۔۔۔ لیکن میں پھر سے اسٹڈی سٹارٹ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں کر سکتی میں ۔۔۔۔۔۔ نہیں ہو گا مجھ سے ۔۔۔۔۔”
حورین نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
” حورین بیٹا پلیز ہماری بات مان لو پڑھائی پھر سے سٹارٹ کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ثمرین بیگم نے ایک ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا ان کے لہجے میں بہت مان تھا
حورین کی آنکھیں پھر بہنے لگیں
اتنے پیار اتنی محبت کی اب وہ کہاں عادی رہی تھی
” ٹھیک ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ انکل میں اور رامین آپ پر اور بوجھ نہیں بنے گے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے جتنا کیا ہے ہمارے لئے اتنا کوئی بھی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔ میں آپ دونوں کا جتنا شکریہ ادا کرو اتنا کم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” انکل میں جاب کر لوں گی اپنا اور رامین کا سارا خرچ۔۔۔۔۔۔ !!! “
” اتنا پرایا سمجھ لیا آپ نے ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ جاب کریں گیں بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔ میں اس انجان شہر میں آپ کو کبھی اجازت نہیں دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین کی بات کاٹ کر ثمرین بیگم بولیں تھیں
” بیٹا سلمان کے اکاؤنٹس میں اتنی رقم ہے کہ آپ اور رامین کسی کی محتاج نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” انکل میں پاپا کے اکاؤنٹس یوز نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔ میرے اور رامین کے اکاؤنٹس میں ہمارے حصے کی رقم ہے جو دادی جان نے میرے اور رامین کے نام کی تھی ہم بس وہ یوز کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاپا کا کوئی پیسہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” آپ ناراض ہو اپنے پاپا سے ۔۔۔؟ ؟؟؟۔۔۔۔۔”
” نہیں انکل وہ باپ ہیں میرے میں کبھی ان سے ناراض نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں لیکن ان کے پاس جو پیسے ہیں وہ نہیں چاہیے ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔”
” اچھا اگر ایسی بات ہے تو آپ کو میری کمپنی میں جاب کرنی ہوگی تاکہ ہمیں تسلی رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
آصف صاحب حورین کی خود داری کو دیکھ کر متاثر ہوئے تھے تبھی ایک مناسب حل نکالا تاکہ وہ بھی سلمان کو دیا وعدہ نبھا سکیں اور حورین کی خود داری کو ٹھیس نہ پہنچے
” بہت شکریہ انکل آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” بیٹیاں شکریہ ادا نہیں کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو اب ہمارے ساتھ باہر کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ثمرین بیگم نے حورین کو پیار سے گلے لگایا تھا اور آصف صاحب نے حورین کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا
” زامن ابھی سے ہمت ہار رہے ہو ہاں ۔۔۔ ؟؟؟۔۔۔۔۔”
زامن آج بھی مایوس ہو کے لوٹا تھا اتنی کوشش کے بعد بھی حورین کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا
پاکیزہ شاہ نے اس کے اداس چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
” ماما وہ نہیں مل رہی کہیں بھی ۔۔۔۔۔۔”
زامن نے اس کی گود میں سر رکھ دیا
جبکہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو وہ چھپا رہا تھا اپنی ماں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” جانتے ہو زامن جب تم حورین کو لے کر آئے تھے اچانک ۔۔۔۔۔ اور حورین میرے گلے لگ کر روئی تھی ۔۔۔۔۔ اسی وقت مجھے شک ہو رہا تھا جیسے حورین کچھ کہنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔
اسی طرح جب جب وہ میرے سامنے آتی تھی اس کی آنکھوں میں ایک درد ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کی آنکھوں میں اور تمہاری آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے کبھی نفرت نہیں دیکھی تھی میں نے ۔۔۔۔۔۔
مجھے یقین تھا تم حورین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ تم اس سے بہت محبت کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں غلط تھی ۔۔۔۔۔۔ تمہاری نفرت تمہاری محبت پر حاوی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک پل کے لئے رکیں تھیں کہ شاید زامن کچھ بولے لیکن زامن تو ان کی باتیں سن کر خود کو زمین میں دھنستا ہوا محسوس کر رہا تھا
” بہت بڑی غلطی ہو گئی ماما ۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک بار صرف ایک بار وہ مجھے موقع دے دے ۔۔۔۔۔ اس کے پیروں میں گر کر معافی مانگو گا ۔۔۔۔۔۔۔”
یہ الفاظ وہ زامن شاہ کہہ رہا تھا جو کبھی کسی کے سامنے جھکا تک نہیں تھا آج اسی لڑکی کے قدموں میں بیٹھ کر معافی کا کہہ رہا تھا جس لڑکی کو اس نے صرف بری طرح استعمال کیا تھا اپنے انتقام میں ۔۔۔۔۔
وہ منظر زامن کی آنکھوں کے سامنے سے کسی فلم کی طرح گزر رہے تھے
اب وہ حورین کی اذیت اور تکلیف کو یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا
” ماما میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ میں کتنا بد نصیب ہوں اپنی محنت کو پاکر بھی کھو دیا۔۔۔۔۔۔ ماما میں نے اس لڑکی کو کھو دیا جسے بچپن سے محبت کی ۔۔۔۔۔ماما پلیز ۔۔۔۔۔ آپ دعا کریں نا وہ مجھے مل جائے۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جی سکتا اس کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے ایک دس سال کا بچہ کسی چیز کے لئے ماں سے ضد کرتا ہے
” صبر کرو زامن ۔۔۔۔۔ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ ماں تھیں اور ان کا دل پھٹتا تھا اپنے بیٹے کو اس اذیت میں دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔
وہ چپ ہو گیا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا اب اس کا رخ واشروم کی طرف تھا کچھ دیر میں جب وہ واپس آیا تو وضو کا پانی اس کے چہرے سے ٹپک رہا تھا
پاکیزہ شاہ اپنے بیٹے کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہیں تھیں
اب زامن مصلہ بچھا کر نماز ادا کرنے لگا
نماز ادا کر کے جب اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ایک بار پھر وہ رونے لگا
اسے وہ وقت یاد آیا جب حورین بھی ایسے ہی مصلے پر بیٹھ کر روتی تھی
” رب اور بندے کا رشتہ یہ ازل سے ہے اور ابد تک ہے یہی باقی ہے باقی سب فانی ہے ۔۔۔۔۔
ساری دنیا اکھٹی کر کے بیٹھ جائیں ، اپنے دکھ بتائیں ، روئیں ، چلائیں ، دہائیاں دیں ، اطمینان نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔
ایک آنسو اپنے رب کے سامنے بہا دے اللہ کا کرم ، فضل ، رحم ، اور اطمینان سب ہی تو مل جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
Like nd comments❤
