Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

قسط 17

موسم کافی سرد ہو گیا تھا لیکن ہیٹر کی وجہ سے کمرے کا ٹمپریچر بہتر تھا

زامن شاہ بیڈ پر لیٹا ہوا موبائل یوز کر رہا تھا

ڈھیلا سا ٹراؤزر اور اوپر بٹنوں والی شرٹ پہنے وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز تھا

کالے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے
ایسے حلیے میں بھی وہ باوقار اور رعب دار شخص لگ رہا تھا

جب حورین ڈری سہمی کمرے میں داخل ہوئی زامن نے موبائل سے نظریں اٹھا کر حورین کو دیکھا تھا

شام میں زامن کی ڈانٹ اور تھپڑ کے بعد وہ اب رات نو بجے ڈری سہی کمرے میں داخل ہوئی تھی

لیکن زامن کے دیکھنے پر ڈر کی وجہ سے اس کے پاؤں وہی دروازے کے پاس جم گئے

” یہاں آؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن کی آواز پر وہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی بیڈ کے قریب سر جھکا کر کھڑی ہو گئی

” بیٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

حورین کو اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کر کے اس نے موبائل آف کر کے ایک طرف رکھ دیا اور اب وہ پوری طرح حورین کی طرف متوجہ تھا

حورین اس کے قریب بیڈ پر سکڑ سمٹ کر بیٹھ گئی
گھنی پلکیں ہنوز جھکی ہوئی تھیں
اناری ہونٹ لرز رہے تھے

” ماما کو میری شکایتیں لگاتی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن نہایت سنجیدگی سے گویا ہوا جبکہ حورین کا رنگ فق سے اڑ گیا

” ججججج جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

اس نے حیرت سے زامن کی طرف دیکھا تھا لیکن پھر فورا نظریں جھکا لیں جبکہ آواز میں لرزش تھی

” مطلب لگاتی ہو ۔۔۔۔۔؟؟ “

زامن نے ایک ابرو اچکا کر پھر سے پوچھا

” نننننن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

حورین کی آواز اتنی کم تھی کہ مشکل سے زامن سن سکا

” ہمممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔ لگانی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ماما کو اگر کچھ بھی پتا چلا تو اس کا انجام بہت اچھے سے جانتی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن کی بات پر وہ تھر تھر کانپنے لگی تھی کیونکہ پچھلی دفعہ کی بیلٹ سے مار وہ کیسے بھول سکتی تھی

جسے سوچتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے

” ججججج جی جی ۔۔۔۔۔۔۔ “

حورین کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر گرے تھے بھرائی آواز میں وہ بولی تھی

اب زامن بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا جبکہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اس نے سر کی پشت پر رکھے تھے

جبکہ گہری نظریں حورین کے دلکش سراپے پر تھیں

جو کہ سادگی میں بھی غضب ڈھا رہی تھی

” دوپٹہ اتارو اپنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

جانچتی نظروں سے حورین کا جائزہ لیتے ہوئے اس نے حکم جاری کیا جسے سن کر حورین نے التجائی نظروں سے زامن کو دیکھا

” ججججج جی ۔۔۔۔۔۔؟؟ “

زامن کے گھورنے پر حورین نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا دوپٹہ اتارا جو کہ اس نے اچھی طرح اپنے اوپر لپیٹا ہوا تھا

” ہممممم ۔۔۔۔ چلو اب میری شرٹ کے بٹن کھولو ۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن کے انداز میں ابھی بھی سنجیدگی تھی

” ز ز زامن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پپپ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔ نننن نہیں ۔۔۔۔۔۔ “

بہت بے بسی سے بولی تھی وہ
آنسوؤں کا بندھ ٹوٹ چکا تھا

جبکہ اس کے سامنے بیٹھا زامن شاہ بے حسی کی انتہا پر تھا

” کھولو ۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن پھر سے پھنکارا تھا

حورین نے اپنے لرزتے ہاتھ زامن کی شرٹ کے بٹنوں کی جانب بڑھائے جبکہ آنکھیں اس کی بند تھی

زامن کو وہ ڈری سہمی جھجھکتی ہوئی بے پناہ پیاری لگ رہی تھی

حورین نے کانپتے ہاتھوں سے زامن کی شرٹ کے بٹن کھولے

اب زامن نے اپنا ہاتھ حورین کی کمر میں ڈالا اور اسے خود سے قریب تر کیا

اور اس کی گردن پر اپنے لبوں سے لمس چھوڑنے لگا

حورین نے پھر سے اپنی آنکھیں میچ لیں


Like nd comments☺