No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ
9 قسط
انہیں گھر آتے ہوئے کافی رات ہو چکی تھی زامن نے آتے ہی حورین کو کمرے میں جانے کو کہا اور خود وہ پاکیزہ کے کمرے میں آیا لیکن وہ دوا کے زیر اثر سو چکیں تو زامن خود بھی اپنے کمرے میں آیا
لیکن حورین کو صوفے پر بیٹھا روتا ہوئے دیکھ کر اس کا پارا ایک دفعہ پھر چڑھ گیا
” کیا رو رو کر نحوست پھیلا رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ رونے کے علاوہ کچھ آتا بھی ہے تمہیں ۔۔۔۔۔ اتنی بچی نہیں ہو تم ۔۔۔ جو تمہیں ہر بات بتانی پڑتی ہے ۔۔۔۔۔ کھانا لے کر آؤ میرے لئے ۔۔۔۔”
کمرے کے دروازے پر کھڑا وہ زور سے دھاڑا تھا کہ حورین اک دم کانپ اٹھی اور بھاگنے کے انداز میں کمرے سے نکلی تھی
” اور اگر پانچ منٹ میں تم واپس نہ آئیں تو جو میں تمہارے ساتھ کروں گا اس کی تم خود ذمہ دار ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے اسے ایک دفعہ پھر وارن کیا تھا تو وہ سر ہلا کر تیزی سے کچن کی جانب چلی گئی
جب حورین کھانا لے کر آئی تو زامن بھی فریش ہو کر آچکا تھا
زامن نے حورین کو بھی اپنے ساتھ کھانا کھلایا پھر حورین برتن رکھ کر آ گئی
اب زامن بیڈ پر لیٹا ہوا تھا حورین اسے دیکھ کر کنفیوز سی صوفے پر بیٹھ گئی
” یہاں آؤ ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے بیڈ پر لیٹے ہوئے حورین کو دیکھے بغیر کہا
زامن کی بات سن کر حورین باقاعدہ کانپنے لگی اور ڈرتی ڈرتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بیڈ کی رائٹ سائڈ پر آکر زامن کے قریب کھڑی ہو گئی
” چلو پاؤں دباؤ میرے ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے حورین کو اپنے پیروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
حورین ڈرتے ڈرتے بیڈ پر بیٹھی تو زامن نے اپنے دونوں پاؤں اس کی گود میں رکھ دیے
حورین کا وجود اب بھی کانپ رہا تھا
وہ ہمیشہ سے ایک سلجھی ہوئی ، بات مان لینے والی لڑکی تھی لیکن زامن کی تو وہ ڈر کی وجہ سے ویسے بھی فورا بات مانتی تھی
جب حورین نے اپنے نرم و ملائم ہاتھوں سے زامن کے پاؤں آرام سے دبانا شروع کیے تو زامن نے سکون کے تحت آنکھیں بند کر لیں اسے حورین کا نرم و ملائم لمس اندر تک سکون پہنچا رہا تھا وہ آنکھیں بند کیے اب سونے کا ارادہ رکھتا تھا
کچھ دیر بعد زامن کو حورین کی سسکی سنائی دی لیکن وہ ڈھیٹ بنا آنکھیں بند کیے لیٹا رہا
لیکن ایک بار پھر اس نے حورین کی سسکی سنی تو اپنی آنکھیں کھولیں اب وہ بغور حورین کے چہرے کو دیکھ رہا تھا
حورین اپنی آنکھیں بند کیے ہوئی تھی لیکن اس کے چہرے پر درد کے آثار نمایاں تھے اس کا چہرہ بھیگا ہوا تھا ناک سرخ ہو گئی تھی چہرہ کا رنگ سفید تھا گال ہلکے سرخ لیکن گالوں پر انگلیوں کے نشان تھے ، پھر اس کی نظر چہرے سے ہوتی ہوئی اس کی گردن پر گئی حورین کی سفید گردن پر بھی نیل کے نشان تھے اور اسی طرح زامن کی نظر گردن سے نیچے گئی تو وہاں بھی ایسے ہی نیل تھے جو کہ حورین کی دودھ کی طرح سفید رنگت ہونے کی وجہ سے نمایاں ہو رہے تھے
ایک جھٹکے سے زامن نے ہاتھ سے پکڑ کر حورین کو اپنے اوپر گرایا حورین جو اپنی آنکھیں بند کیے زامن کے پاؤں دبا رہی تھی زامن کی اس حرکت سے گھبرا کر زامن کو دیکھنے لگی
وہ اس وقت زامن کے بے حد قریب اس کے اوپر تھی حیا کے تحت اس نے اپنی آنکھیں جھکا لیں
زامن نے اب حورین کے دونوں ہاتھ تھامے اور ہتھیلیوں کو دیکھنے لگا یقینا حورین کو ہاتھوں میں درد ہو رہا تھا کیونکہ اس کے ہاتھ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے تھے
” یہ ابھی ٹھیک نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔ چلو کل پرسوں تک ٹھیک ہو جائے گے ۔۔۔۔۔ “
اپنے سوال کا خود ہی جواب دے کر اب وہ حورین کو ایک بار پھر بغور دیکھنے لگا
حورین کو اپنے اوپر سے بیڈ پر لیٹا کر وہ اب اس پر جھکا تھا
اور پھر بے قابو ہونے لگا
” ز زا زامن ۔۔۔۔۔۔ “
حورین اس کے حصار میں مچل رہی تھی لیکن زامن کو کہاں پروا تھی
وہ کافی دیر سے جاگ رہی تھی نظریں اپنے ساتھ لیٹے زامن پر تھیں
یقین توڑے،
گمان چھینے،
ملے جو فرصت تو سوچنا تم،
تمہارے لفظوں نے،
میری آنکھوں سے کیسے کیسے جہان چھینے،
ایک موتی اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر بالوں میں جذب ہو چکا تھا
گزشتہ تین دن اور راتوں کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار آرہا تھا ان تین ، چار دنوں میں اس کی زندگی کس حد تک تبدیل ہو چکی تھی
زامن بے خبر سا سو رہا تھا لیکن کچھ دیر بعد وہ اپنی نیند پوری کر کے جاگا تو اس کی نظر اپنے ساتھ لیٹی حورین پر پڑی ، حورین اسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی
” اس طرح اور کس کس کو دیکھتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔”
زامن کی آواز پر حورین ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور آنکھیں جھکا لیں
” جج جی “
وہ واقعی زامن کی بات کو نہ سمجھی تھی
” جس طرح کی ڈریسنگ تم کرتی ہو اور پھر غیر مردوں کے ساتھ بھی تمہاری دوستیاں ہیں ۔۔۔۔۔۔ تو اب کھل کر بات کرو کتنے بوائے فرینڈ تھے تمہارے ۔۔۔؟ “
زامن نے سرد لہجے میں حورین کے سر پر دھماکا کیا
حورین بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی
” نہ نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین ایک دم اٹھ کر بیٹھی تھی آنکھیں اس کی پھر سے بھگنے لگیں تھیں زامن بھی اب اس کے سامنے بیٹھ چکا تھا
” میری کچھ باتیں اپنے دماغ میں آج بیٹھا لو ۔۔۔۔۔ بار بار منہ سے نہیں سمجھاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔ پہلی بات ۔۔۔۔پہلے کی بات اور تھی لیکن اب تم میرے ساتھ ہو تو کچھ بھی کرنے سے پہلے میری اجازت لینا تمہارے لئے ضروری ہے ۔۔۔۔۔۔۔ میری اجازت کے بغیر تم ایک قدم بھی حویلی سے باہر نہیں نکالو گی ۔۔۔۔ موبائل کی کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔ آج کل کی لڑکیوں کے ہاتھ میں موبائل ہو اس بات کے سخت خلاف ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری بات اب جیسا میں کہوں گا ویسے ہی کروں گی تم بنا آنسو بہائے ۔۔۔۔ سمجھوتہ کرلو یہی زندگی ہے اب تمہاری ۔۔۔۔ یہ ہر وقت آنسو بہانا رونا دھونا سخت چڑ ہے مجھے ان آنسوؤں سے ۔۔۔۔۔۔ اس لئے اب میرے سامنے رونے کی غلطی مت کرنا نہیں تو حشر بگاڑ دوں گا تمہارا ۔۔۔۔۔ سنائی نہیں دیا صاف کرو اپنے آنسو۔۔۔۔۔۔”
زامن بات کرتے ہوئے یکدم دھاڑا تھا
حورین نے فورا اپنے آنسو صاف کیے
زامن نے پھر بولنا شروع کیا
اور ہاں مہرانیوں کی طرح آرام کرنے کے لیے نہیں لایا میں تمہیں ۔۔۔۔۔۔ میری ماما کی ہر طرح سے خدمت کرو گی تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ٹائم پر کھانا اور دوا دو گی ۔۔۔۔۔۔ ابھی لے کر جاؤں گا میں تمہیں ان کے پاس ۔۔۔۔۔
لیکن ان کے سامنے اگر تم نے رونے کا ڈرامہ کیا حورین تو بہت برا پیش آؤں گا میں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔ میں جو کہوں گا تم میری ہاں میں ملاؤ گی ۔۔۔۔ خبر دار اگر ماما کو زرا بھی پتا چلا کسی بات کا ۔۔۔ اس کمرے میں جو ہوتا ہے وہ ماما کو پتا نہیں چلنا چاہیے ۔۔۔۔ اگر تم نے ماما کو کچھ بھی بتایا حورین تو اس دن اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لوں گا۔۔۔۔۔۔ سمجھ آئی تمہیں میری ۔۔۔۔ چلو اب اٹھو تھوڑا تیار ہو جاؤ
صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس ۔۔۔۔”
سخت و سرد لہجے میں کہتا وہ اب ٹھ کھڑا ہوا اور واش روم میں چلا گیا
حورین جلدی سے بیڈ سے اٹھی الماری سے پہلے زامن کے کپڑے نکالے اور پھر اپنے ،
بے بی پنک کلر کا سمپل سی کڑھائی والا جوڑا زیب تن کئے اب وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی تھی اب وہ سوچنے لگی کیونکہ میک اپ کی تو کوئی چیز یہاں نہیں تھی تو وہ اب کیا کرے ابھی وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ زامن ٹاول سے بال خشک رتا اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا اسے سوچ میں گم دیکھ کر زامن نے اسے پکارا۔۔۔
” حورین ۔۔۔۔”
” جج جی ۔۔۔۔۔”
وہ اچانک زامن کو اپنے قریب دیکھ بوکھلا گئی تھی اور اس کی زبان ہکلائی تھی
” ایسے کیوں کھڑی ہو ؟ ۔۔۔۔”
زامن اب ٹاول بیڈ پر اچھالتا بولا تھا
” وہ میرے پاس کچھ نہیں ہیں ۔۔۔۔”
حورین کی آنکھوں میں من من پانی بھر گیا یہ کہتے ہوئے جانے زامن کب بگڑ جائے
اس کی بات سن کر زامن اسے بغور دیکھنے لگا بے بی پنک کلر میں وہ کوئی ڈول لگ رہی تھی لیکن چہرہ مرجھایا سا تھا
” ہممم کوئی ضرورت بھی نہیں ہے کسی چیز کی ۔۔۔۔ میک اپ بلکل نہیں پسند مجھے ۔۔۔۔ حورین یہ آنسو اگر تمہاری آنکھوں سے گرے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔ صبح صبح موڈ خراب کر دیا ہے تم نے میرا ۔۔۔ ایک منٹ پہلے دفع ہو جاؤ کمرے سے۔۔۔۔۔”
حورین کو روتا دیکھ زامن یکدم غصے میں آیا تھا
زامن کی بات سن کر حورین فورا تیز تیز قدم بڑھاتی کمرے سے نکلی تھی اور چکن کا رخ کیا تھا
تقریبا پچس منٹ کے بعد زامن جب نیچے آیا تو وہ بلکل تیار تھا حورین کو آواز دی تو وہ فورا کچن سے باہر آئی
” یہ دوپٹہ سر پہ لینے کے لئے ہوتا ہے فورا ٹھیک سے لو ۔۔۔۔۔۔ کمرے سے باہر اگر میں نے دیکھ لیا کہ تمہارے سر پہ دوپٹہ نہیں ہے تو یہ خوبصورت ذلفیں بدصورت بنانے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا ۔۔۔۔۔”
زامن نے ماتھے پر تیوریاں چڑھائے کہا
حورین نے فورا کندھے پر سے دوپٹہ کھینچ کر جلدی سے اچھی طرح سر پر اوڑھا
اب وہ زامن کے پیچھے چلتی ایک کمرے میں آئی
کمرے میں داخل ہوتے اس کی نظر بیڈ پر بیٹھی ایک خاتون پر گئی جنہوں نے ہلکے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور دوپٹہ نماز کے سٹائل میں لپیٹ رکھا تھا چہرے پر نور واضح تھا حورین کو کچھ پل لگے تھے ان خاتون کو پہچاننے میں ۔۔۔۔۔
زامن نے سلام کیا اور ان کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” ماما کیسی طبیعت ہے آپ کی ۔۔۔۔ کل میں آیا تھا لیکن آپ میڈیسن لے کر سو گئیں تھیں ۔۔۔۔ “
زامن نہایت ادب سے مخاطب تھا حورین سہمی سہمی دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی اور سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی
” ہممم ۔۔۔۔ ٹھیک ہوں بیٹا ۔۔۔۔ “
پاکیزہ شاہ محبت سے گویا ہوئیں
” ماما میں حورین کو لے آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ آپ سے ذکر کیا تھا نہ پہلے ۔۔۔۔ یہاں آؤ حورین ۔۔۔۔”
زامن ان کے سامنے بیٹھا نارمل انداز میں کہہ رہا تھا
زامن کی بات سن کر حورین آگے بڑھی تھی اور بیڈ سے کچھ فاصلے پہ کھڑی ہو گئی تھی
پاکیزہ شاہ سر اٹھا کر اس ڈری سہمی خوبصورت لڑکی کو دیکھنے لگیں جو سر جھکائے کھڑی تھی آخری دفعہ انہوں نے حورین کو اس وقت دیکھا تھا جب وہ پانچ یا چھ سال تھی اب بھی وہ انہیں چھوٹی سی معصوم گڑیا لگی
“حورین یہاں آؤ بیٹا ۔۔۔زامن ۔۔۔ حورین کو جگہ دو ۔۔۔۔۔۔ “
انہیں ناجانے کیوں حورین پہ بہت پیار آیا تھا اختلافات جتنے بھی رہے ہوں لیکن اس میں حورین یا زامن کا کیا قصور ۔۔۔۔۔ حورین تو انہیں ہمیشہ عزیز رہی تھی ۔۔۔ اور ویسے بھی حورین ان کے اکلوتے بیٹے کی بیوی تھی وہ کیسے اس سے منہ موڑ لیتیں ۔۔۔۔۔
زامن نے انہیں کچھ دن پہلے بتایا تھا کہ سلمان پاکستان آ چکا ہے اور زامن حورین کو رخصت کر کے لانے کا ارادہ رکھتا ہے
زامن نے انہیں سمجھایا کی حورین اس کے نکاح میں ہے وہ حورین کی مرضی سے یہ رشتہ قائم رکھے گا کیونکہ یہ رشتہ ان کی دادی نے بہت محبت سے جوڑا تھا
زامن کی بات پر پاکیزہ بس خاموش ہو گئیں تھیں
پاکیزہ شاہ کے کہنے پر عمل کرتے ہوئے زامن بیڈ سے اٹھ کر اب بیڈ کے قریب پڑی کرسی پر بیٹھ گیا تھا جبکہ حورین اب پاکیزہ کے سامنے بیٹھ گئی تھی
” ماشااللہ ۔۔۔۔۔ اللہ خوش اور آباد رکھے تمہیں بیٹا ۔۔۔۔۔”
پاکیزہ نے محبت بھرے انداز میں کہا تو حورین کی آنکھوں میں پانی اترنے لگا
اس نے تو سوچا تھا اس کی بڑی ماما بھی زامن کی طرح اس سے نفرت کرتی ہو گی لیکن پاکیزہ کا اپنایت بھرا انداز دیکھ کر اس کا دل بھر آیا تھا اور وہ بے اختیار سی ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
حورین کی اس حرکت پر زامن کو غصہ آیا تھا وہ اسے کتنا سمجھا کر لایا کہ ماما کے سامنے رونا نہیں لیکن حورین کو اس کی کسی بات کا اثر نہیں ہوا
پاکیزہ بھی حورین کو ایسے روتے دیکھ گھبرا گئیں
” حورین بیٹا کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ یہاں دیکھو ۔۔۔ بتاؤ مجھے ۔۔۔۔۔ زامن کیا ہوا ہے اس کو یہ ایسے کیوں رو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔؟ “
وہ اپنے سینے سے لگی حورین کو دیکھتی آخر میں زامن سے مخاطب ہوئیں تھیں
” ماما ایکچولی اتنے عرصے بعد آپ سے ملی ہے تو ایموشنل ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔ آپ فکر نہیں کریں ۔۔۔۔ “
زامن نے بات سنبھالنے کی کوشش کی
” حورین بیٹا ۔۔۔۔۔ آپ ٹھیک ہو نہ ۔۔۔۔۔ “
پاکیزہ شاہ نے حورین سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور آنسو صاف کرنے لگی
جبکہ پاکیزہ شاہ نے پہلے حورین اور پھر زامن کو کھوجتی نظروں سے دیکھا اور پھر حورین سے مخاطب ہوئیں
” حورین ۔۔۔ زامن تمہیں تمہاری مرضی سے لے کر آیا ہے نہ ۔۔۔۔۔ ؟ “
” جی ماما ۔۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے میں اس سے زبردستی کروں گا ۔۔۔۔۔ “
زامن بیچ میں بولا تھا پاکیزہ شاہ نے اسے نظر انداز کیا تھا اور پھر سے حورین سے مخاطب ہوئیں تھیں انہیں کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا
” حورین بولو بیٹا ۔۔۔۔۔”
” بب بڑی مم ماما ۔۔۔۔ “
حورین ایک دفعہ پھر ان کے گلے لگ کر رونے لگی تھی حورین کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پاکیزہ کیا پوچھ رہیں تھیں
اسے بس شدت سے رونا آ رہا تھا
” زامن یہ سب کیا ہے ؟ ۔۔۔۔ تم نے ۔۔۔ زامن تم نے زبردستی کی ہے اس کے ساتھ ۔۔۔ تم نے تو کہا تھا اسے اس کی مرضی کے ساتھ لاؤ گے ۔۔۔۔ “
پاکیزہ شاہ کو دھچکا لگا تھا وہ جانتی تھیں سلمان حورین کی رخصتی کے حق میں نہیں ہوگا لیکن ایسے رشتہ ختم کرنے کے حق میں وہ نہیں تھیں اسی لیے زامن کی بات پر راضی ہو گئیں تھیں لیکن حورین کا اس طرح رونا ان کو بے چین کر رہا تھا
” ماما پلیز آپ ریلیکس رہیں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی ۔۔۔۔ “
انہوں نے زامن سے منہ پھیرا تھا
زامن نے حورین کو ان سے جدا کیا تھا ، بازو سے پکڑ کر دور کیا تھا اور خود وہ اب پاکیزہ شاہ کو آرام سے لٹا رہا تھا جو سینے پر ہاتھ رکھ کر بلکل خاموش سی ہو گئیں تھیں
زامن نے جلدی سے ان کو دوا دی ۔۔۔۔۔ اب وہ دوا کے زیر اثر غنودگی میں چلیں گئیں
ان پر بلنکٹ اوڑھا کر وہ مڑا اور حورین کا بازو دبوچے اسے اپنے کمرے میں لے آیا تھا
دروازہ بند کیے وہ اب حورین کے بالوں کو سختی سے دبوچے کھڑا تھا
” یہ اچھا نہیں کیا تم نے ۔۔۔۔۔۔ بلکل اچھا نہیں کیا حورین تم نے ۔۔۔۔۔ “
” تم نہیں جانتی ماما میرے لیے کیا ہیں ۔۔۔۔۔ اگر تمہاری وجہ سے انہیں کچھ ہوا تو میں مار ڈالوں گا تمہیں ۔۔۔۔ “
زامن نے اسے کسی بے کار چیز کی طرح دور پھینکا تھا
اور پینٹ سے بیلٹ کھینچ کر اب وہ آگے بڑھ رہا تھا زامن کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا اس کی رگیں تن گئیں تھیں
زامن کو بیلٹ پکڑے تیش کے عالم میں اپنی طرف آتا دیکھ کر حورین جی جان سے کانپ گئی
” ننہ نہیں ز زامن نن نہیں۔۔۔۔”
حورین خوف سے بولی تھی لیکن زامن اسے بیلٹ سے بے دردی سے مار رہا تھا
وہ چیختی رہی سسکتی رہی لیکن زامن تو غصے میں پاگل ہو چکا تھا جب تک حورین کے جسم کے ایک ایک حصے پر بیلٹ سے نشان نہ چھوڑ دیا اس وقت تک نہیں رکا
اب حورین فرش پر ادھ موئی پڑی تھی کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے
زامن ایک پل کو رکا تھا بیلٹ اس نے دور اچھالی تھی
جگ اس نے ایسے ہی منہ سے لگایا تھا پانی پی کر اس نے جگ دیوار سے دے مارا
موبائل اس کا مسلسل بج رہا تھا جو کہ وائبریشن موڈ پر تھا ۔۔۔
وہ کچھ سوچتا الماری کی طرف بڑھا تھا اور شلوار قمیض نکال کر وہ یونیفارم چینج کر کے باہر نکلا
فون ، والٹ اور کیز لے کر ایک اچٹی نظر حورین پہ ڈال کر وہ کمرے سے نکل گیا
Like nd comments😊
