No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ
13 قسط
” شاہ جی وہ اصغر کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی آپ سے ملنے آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن آج حویلی میں ہی موجود تھا جب اصغر نے آ کر کہا
اس وقت وہ سٹڈی میں بیٹھا کوئی اہم فائل مطالعہ کررہا تھا
بلیک شلوار قمیض پہنے جبکہ براؤن گرم شام شولڈرز پر تھی
وہ نہایت وجیہہ مرد لگ رہا تھا
بغیر کوئی جواب دیے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور لاؤنج نما ہال کی جانب بڑھا
لیکن مین دروازے کے باہر ایک قدم کے فاصلے پر سلمان کو کھڑا دیکھ کر اس کا سفید چہرہ یکدم غصے سے سرخ ہو گیا
سلمان نے بھی زامن کو سامنے سے آتے دیکھا
سلمان کو زامن بلکل عاشر جیسا لگا
عاشر جیسی شکل و صورت ، رعب و دبدبہ
سلمان کو لگا جیسے سامنے عاشر ہے اس کا بھائی ۔۔۔
” اصغر تمہیں اب یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ کون حویلی میں آئے گا اور کون نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ “
زامن نے سلمان کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اصغر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
” شاہ جی غلطی معاف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن انہوں نے بڑے شاہ جی کا واسطہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو مجبور ہو گیا جی ۔۔۔۔۔۔۔”
اصغر نے زامن کے بگڑے تیور دیکھے تو سر جھکا کر اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے
” کیوں آئے ہو یہاں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ “
اب زامن نے سلمان کو غصے میں دیکھتے ہوئے کہا
” زامن میری بیٹی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ معصوم ہے زامن ۔۔۔۔۔اس کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ بے قصور ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت کم عمر ہے زامن ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
سلمان بے بس سا کھڑا زامن کے سامنے التجا کر رہا تھا
زامن اپنے سامنے کھڑے اس مشہور بزنس مین کو دیکھ رہا تھا جو اپنی بیٹی کے لیے اس سے بھیک مانگ رہا تھا
سلمان کو دیکھ کر زامن تمسخرانہ ہنسا
” وہ میری بیوی ہے سلمان ۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنی چیز کسی کو دینا تو دور اسے دیکھنے بھی نہ دوں کسی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ میں حورین کو چھوڑ دوں ۔۔۔۔۔ اسے تمہارے حوالے کر دوں ۔۔۔۔۔ “
زامن مغرورانہ انداز میں گویا ہوا
” میں باپ ہوں اس کا زامن ۔۔۔۔۔۔ “
اب کے سلمان کی آواز تھوڑی اونچی تھی
جس کو سن کر زامن کے ماتھے پر بل پڑے تھے
” آواز نیچی رکھو اپنی سلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اس وقت زامن علی شاہ کی حویلی میں کھڑے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن کا انداز ایسا تھا جیسے ابھی سلمان کو حویلی سے دھکے دے کر باہر نکال دے گا
” زامن تم اتنے سنگ دل کیسے ہو سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ عاشر کا بیٹا ایسا تو نہیں کر سکتا کسی بے قصور کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں تم حورین سے انتقام لے رہے ہو لیکن دیکھو اس سب میں اس معصوم کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ “
سلمان اب کافی دھیمی آواز میں بولا تھا
” میرے باپ کا نام دوبارہ اپنی زبان سے لینے کی غلطی مت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب نکلو یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔ زیادہ دیر اپنے سامنے برداشت نہیں کر سکتا میں تمہیں “
زامن نہایت حقارت سے گویا ہوا
” بیہ کے ساتھ جو بھی کچھ ہوا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اس سے پہلے کہ سلمان کچھ بولتا زامن غصے سے دو قدم آگے بڑھا اور سلمان کا گریبان پکڑ لیا
” خبردار اگر میری شریف اور پاک دامن بہن کا نام اپنی گندی زبان سے لیا تم ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی وقت زمین میں گاڑ دوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” پاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن کو اپنی پشت سے حورین کی آواز سنائی دی تو اس نے مڑ کر دیکھا حورین ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی
حورین کو کچھ شور سنائی دیا تو وہ نیچے آئی تھی لیکن یہاں سلمان کا گریبان زامن کے ہاتھوں میں دیکھ کر وہ خود پر قابو نہ کر سکی اور سلمان کو پکارا جبکہ حورین کے ایسے پکارنے پر زامن کو اس پر بے تحاشا غصہ آیا تھا
کیونکہ حورین کے سر پر دوپٹہ نہ تھا بلکہ کاندھے پر ایک طرف رکھا ہوا تھا
سخت غصہ اسے اس بات پہ آیا تھا کہ وہاں اصغر بھی موجود تھا
اور اس کی بیوی کسی غیر مرد کے سامنے آئے یہ زامن کہاں برداشت کر سکتا تھا
حورین کو وہاں پا کر اصغر جو کہ پہلے ہی سلمان کے ساتھ مین دروازے سے ایک قدم باہر کھڑا تھا اب دو قدم اور پیچھے ہوا اور الٹے قدم وہاں سے نکل گیا
مبادہ کہیں زامن اپنا سارا غصہ اسی پہ نہ نکال دے
اسی لئے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی
” تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ کمرے میں جاؤ فورا ۔۔۔۔۔۔”
سلمان کا گریبان جھٹک کر اس نے مڑ کر حورین کو وارن کرنے والے انداز میں کہا
” حورین ایک منٹ سے پہلے کمرے میں جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم نہیں گئی تو پھر اپنا انجام سوچ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن ، حورین کو ایسے ہی کھڑے دیکھ کر پھر سے دھاڑا
حورین نے بے بسی سے پہلے زامن کو دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا اور پھر سلمان کو دیکھا جو خود بھی بے بس اور مجبور نظر آ رہا تھا
سچ کہتے ہیں بیٹیاں پرائی ہوتی ہیں
شادی سے پہلے سارے اختیار باپ کے پاس ہوتے ہیں اور شادی کے بعد شوہر کے پاس
آج سلمان کو یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ اب اس کی بیٹی واقعی پرائی ہو گئی ہے
وہ لاکھ چاہنے کے باوجود حوکو نہ روک سکا اور نہ مل سکا
اس کی آنکھوں کے سامنے حورین روتی ہوئی جا چکی تھی یقینا وہ زامن سے ڈرتی تھی تبھی فورا اس کے کہنے پر اندر چلی گئی
یہ اس کی ہنستی مسکراتی بیٹی تو نہ تھی جو بس اپنی کتابوں میں گم رہتی
ہر طرف خوشیاں بکھیرتی گھر میں ہر وقت حورین اور رامین کی ہنستی آواز گونجتی تھی
اور آج حورین کو دیکھ کر سلمان اپنی ماضی میں کی گئی غلطی پہ جی بھر کے پچھتا رہا تھا
کاش اگر وہ اعجاز کے ساتھ مل کر بیہ کو اغواء نہ کرتا تو آج اس کی بیٹی اس اذیت سے نہ گزر رہی ہوتی
” اصغر اسے لے جا کر حویلی سے باہر پھینک دو اور خیال رکھنا آئیندہ اس کے نا پاک قدم حویلی میں نہ پڑیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
سلمان ابھی تک اس جگہ ہی دیکھ رہا تھا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے حورین کھڑی تھی
زامن کی آواز سے وہ خیال کی دنیا سے لوٹا
زامن کی بات پہ عمل کرتے ہوئے اصغر نے اسے حویلی سے باہر نکال دیا
••••••••••••••••••••••••••••••
سلمان کے جانے کے بعد وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا
حسب معمول حورین بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی
زامن کے زور سے دروازہ بند کرنے پر حورین نے نظریں اٹھا کر زامن کو دیکھا تو زامن کا غصے میں سرخ چہرہ دیکھ کر وہ یکدم ڈر گئی
اس نے فورا آنسو صاف کئے اور بیڈ سے اٹھ گئی
زامن چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور اپنے دائیں ہاتھ سے حورین کا منہ دبوچا اور بائیں ہاتھ سے اس کے بالوں کو جھٹکے سے پکڑا
تکلیف کے باعث ایک دفعہ پھر سے حورین کا چہرہ بھیگنے لگا
وہ زامن کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر اس کے ہاتھ ، اپنے منہ اور بالوں سے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی
لیکن زامن کی پکڑ بے حد سخت تھی
” کیوں سر سے دوپٹہ اترا تمہارے ۔۔۔۔؟؟؟ بولو ہاں ۔۔۔؟؟ ۔۔۔۔۔۔
بے شرم ۔۔۔۔ بے حیا ۔۔۔۔۔۔۔ بد کردار عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے مار ڈالوں گا ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن غضب ناک انداز میں گویا ہوا جبکہ گرفت سخت سے سخت ہوتی جا رہی تھی
” ایک غیر مرد کے سامنے تم بغیر دوپٹے کے آئی کیسے ۔۔۔۔۔؟؟ بولو۔ ۔۔۔۔۔؟؟ اپنے باپ کو دیکھ کر میری بات بھول گئی تم ۔۔۔۔۔۔ !! کہا تھا نہ میں نے تمہیں ۔۔۔ کمرے سے باہر آتے ہوئے سہی سے دوپٹہ لو گی تم ۔۔۔۔۔۔۔ “
” ججججج جی ۔۔۔۔۔”
” تم نے میری بات نہیں مانی ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے شرم بے حیا ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی خوبصورتی کے جوہر دیکھانا چاہتی ہو سب کو ۔۔۔۔۔ ہاں؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔
اتنے دنوں سے اپنے عاشقوں سے نہیں ملی نہ تم ۔۔۔۔ اسی لیے مچل رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ اب دیکھنا میں تمہاری خوبصورت ذلفوں کو کیسے بد صورت بناتا ہوں ۔۔۔۔۔ “
زامن۔ ، حورین کو سختی سے دبوچے انتہائی غصے سے چیخ رہا تھا
اصغر کی نظر حورین پر نہیں پڑی تھی وہ وہاں سے فورا چلا گیا لیکن اسے غصہ اس بات پہ آرہا تھا کہ حورین کیسے منہ اٹھا کر آ سکتی ہے کسی کے بھی سامنے
تبھی وہ حورین کو اب سزا دینے کے در پہ تھا
ڈری سہمی حورین کو بیڈ پر پھینک کر اب وہ کمرے میں کوئی چیز ڈھونڈنے لگا
حورین پریشانی سی بیٹھی اپنی سانسوں کو ہموار کرنے لگی
وہ زامن کے شدید ردعمل پر خوف سے کانپ رہی تھی
” یا اللہ ۔۔۔۔۔۔ اب کیا کریں گے یہ میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ اللہ جی میری مدد کریں ۔۔۔۔۔۔ “
بہتے آنسوؤں کے ساتھ حورین دل میں دعائیں مانگ رہی تھی
مطلوبہ چیز ملنے پر زامن بیڈ پر بیٹھی حورین کی طرف بڑھنے لگا
حورین نے جب زامن کے ہاتھ میں قینچی دیکھی تو نہ سمجھی سے کبھی زامن کو تو کبھی قینچی کو دیکھنے لگی لیکن اسے اس وقت کچھ بہت برا ہونے کا اندیشہ ہوا
” تمہارے ان خوبصورت بالوں کو ابھی بد صورت بناتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔ پھر دیکھنا کبھی تمہارے سر سے دوپٹہ اترنا تو دور سرکے گا بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔ “
یہ کہتے ہی زامن نے حورین کی پشت پر بکھرے بھورے خوبصورت بالوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا
” نننہ ۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ پ پلیز ۔۔۔۔ ممم معاف کر دد دیں مم مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پپپپپ پلیز ۔۔۔۔۔۔ “
زامن کی باتوں کو سمجھنے کے بعد حورین نے زامن کے آگے ہاتھ جوڑ دیے اور لڑکھڑاتی آواز میں معافی مانگنے لگی
” ممم معاف کر دد دیں ۔۔۔۔۔۔ پپ پلیز ۔۔۔۔۔ “
وحشت اور خوف کے باعث حورین کی آواز بھی نہ نکل رہی تھی
وہ ہاتھ جوڑ کر زامن سے اپنے ناکردہ گناہ کی معافی مانگ رہی تھی جبکہ زامن بے حسی اور ظلم کے ریکارڈ قائم کر رہا تھا
اور پھر زامن ، حورین کے بال کاٹتا گیا
وہ روتی رہی ، سسکتی رہی ، معافی مانگتی رہی لیکن زامن جب تک اس کے بال نہ کاٹ لیے تب تک اسے چین نہ آیا
حورین کے بال جوکہ کمر تک آتے تھے اب بے ترتیب سے بمشکل کاندھوں سے بھی اوپر تک ہو گئے
حورین سے پیچھے ہو کر اب زامن نے قینچی دور اچھالی
اب وہ بلکل حورین کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ جبکہ اس نے ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل پر رکھ لیں اور قمیض کی حیب سے سگریٹ نکال کر سلگائی اور ہونٹوں سے لگا لی
اب وہ اپنے سامنے بیٹھی حورین کو سکون سے دیکھنے لگا
وہ اتنا مطمئن نظر آ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
حورین جو بیڈ کے کنارے پر ٹکی ہوئی تھی اب بیڈ سے ٹیک لگا کر سر گٹنوں میں دیے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ گئی
زامن کو صاف محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کانپ رہی ہے
ہلکے نیلے رنگ کا سادہ سا سوٹ پہنا ہوا تھا اور دوپٹہ جو کہ اس ساری کاروائی میں بیڈ کی دوسری طرف گر گیا تھا وہ حورین نے اٹھا کر اپنے سر پر لے لیا تھا
اس کی آنکھیں بے حد سرخ تھی رونے کی وجہ سے یا پھر خوف کی وجہ سے
وہ بے آواز بیٹھی رو رہی تھی
فرش پر اس کے کٹے بال بکھرے پڑے تھے
زامن کی نظریں ہنوز حورین کی ہی جانب تھی
جبکہ اب حورین نے بھی نظر اٹھا کر اس سنگدل ظالم کو دیکھا لیکن زامن کی آنکھوں میں دیکھنے کی اس میں ہمت کہاں تھی تبھی فورا سر جھکا لیا
زامن کو اس کا یہ عمل اچھا لگا
ایک پل کو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی پھر اگلے پل چہرے کے تاثرات سخت تر کر لیے
اور صوفے سے اٹھ کر باہر کی طرف جانے لگا مگر پھر ایک پل کو رکا اور حورین کو مخاطب کیا
” میرے آنے سے پہلے اپنا اور کمرے کا حلیہ درست کرکے رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد آتا ہوں اور سوگ ختم کرو اپنا اب ۔۔۔۔۔۔۔ “
مڑ کر زامن نے سرد لہجے میں کہا اور چلا گیا
ایک دفعہ پھر حورین ، زامن کی بات سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
Like nd comments ☺
