Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

8 قسط

” حورین ۔۔۔۔۔۔ اٹھو ۔۔۔۔۔۔ فورا اٹھو ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے باپ کے گھر بھی جانا ہے ۔۔۔۔۔۔ پہلے ہی مجھے دیر ہو رہی ہے “

زامن یونیفارم پہنے تیار کھڑا تھا اسے دیر ہو رہی تھی تھانے جانے سے پہلے اسے حورین کو لے کر سلمان کے گھر بھی جانا تھا حورین کو ابھی تک سوتا دیکھ کر تیز آواز میں بولا تھا

زامن کی تیز آواز سے ڈر کر وہ سوتے سے بوکھلا کر اٹھی زامن ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا بال سیٹ کر رہا تھا

کچھ دیر میں حواس جاگے
جلدی سے واش روم گئی
اور پندرہ منٹ بعد وہ باہر آئی
سکائی بلیو کلر کی کرتی اور گولڈن کیپری میں گولڈن ہی نیٹ کا دوپٹہ اوڈھے وہ زامن کو بہت خوبصورت لگی تھی
اپنی نظروں کا زاویہ بدل کر وہ کیز اور موبائل اٹھا رہا تھا

” چلو ۔۔۔۔۔۔۔۔”

جلدی میں کہتا وہ کمرے سے نکل گیا
حورین بھی اس کے پیچھے قدم اٹھانے لگی

” اماں ناشتہ لگا دیں ۔۔۔۔۔”

اماں کو کہہ کر وہ ڈائننگ ٹیبل کی سربراہی کرسی پر براجمان ہو چکا تھا

” اب دعوت دوں کیا میں تمہیں بیٹھنے کی ۔۔؟

حورین سر جھکائے کھڑی اپنے ہاتھوں کو تک رہی تھی جب زامن نے قدرے بے زاری سے کہا

زامن کے کہنے پر حورین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی زامن کے دائیں طرف والی کرسی پر ٹک گئی

” حورین زچ نہیں کیا کرو مجھے ۔۔۔۔۔۔ اب ہر کام کے لیے دعوت دینی پڑے گی تمہیں۔ ۔۔؟ جلدی ناشتہ کرو ۔۔۔۔ “
حورین کو سر جھکائے ہاتھوں کو تکتے دیکھ کر زامن تیز آواز میں بولا

حورین کے ہاتھوں پر ابھی بھی چھالے تھے لیکن زامن کے ڈر سے جلدی جلدی ایک سلائذ کھایا اور تھوڑی سی چائے پی
زامن کو اٹھتا دیکھ کر وہ بھی اٹھ گئی

” اماں ….. ماما اٹھیں تو ناشتہ کروا کر دوا دے دیے گا ۔۔۔۔ اور ابھی پلیز ایک چادر لا دیں ۔۔۔۔”
اماں جب چادر لائیں تو زامن نے حورین کے اوپر اچھی طرح اوڈھا دی
حورین کو چلنے کا کہہ کر وہ باہر کی جانب بڑھا اور حورین ، زامن کے پیچھے چلنے لگی


گاڑی میں مکمل خاموشی رہی کچھ دیر بعد زامن نے حورین کے گھر کے سامنے گاڑی روکی اور پہلے خود باہر نکلا اور حورین کو بھی باہر آنے کا کہا ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے کا کہا

حورین بھاری قدموں سے اندر جا رہی تھی

زامن ، علی کی کال آنے پر رکا اور فون کان سے لگا لیا
” ہاں بول ۔۔۔ “
جلدی میں کہا گیا

” ایس پی صاحب ۔۔۔۔۔ ڈیوٹی ٹائم آن ہو چکا ہے ۔۔۔۔ اب آپ بتا دیں کب تک آئیں گے ۔۔۔۔ تبھی ہم کچھ کیس کے بارے میں ڈسکس کریں گے ۔۔۔۔ “
علی نے شرارت بھرے انداز میں کہا

” اووو اپنی حد میں رہ ۔۔۔۔۔۔ میرا جب دل کرے گا میں آ جاؤں گا ۔۔۔ تیرے سے مطلب ۔۔۔۔۔ “
زامن بھی پیچھے رہنے والوں میں سے نہیں تھا

” یہ اچھا ہے باس ۔۔۔۔۔۔ “
علی کے مذید کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ کال کاٹ چکا تھا


وہ بھاری قدم اٹھاتی اندر آرہی تھی ایک تکلیف دہ خیال نے اسے آن گھیرا تھا
کیا گزری ہوگی اس کے ماں باپ پر ۔۔۔۔۔ وہ جن کی بیٹی دو دن سے غائب ہو ۔۔۔۔۔۔
آنکھیں پھر بھیگنے لگیں تھیں

” آپی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ماما ماما ۔۔۔۔ جلدی آئیں آپی ۔۔۔ پاپا ۔۔ “

رامین جو کہ سیڑھیاں اتر رہی تھی حورین کو دیکھ کر خوش ہوئی
سمعیہ اور سلمان کو آوازیں دینے لگی

رامین کی آوازیں سن کر سمعیہ اور سلمان بھی باہر آ گئے
حورین کو دیکھ کر خوش ہوئے جو کہ رامین کے گلے لگ رہی تھی

پھر سمعیہ نے اسے اپنے گلے لگایا
” حورین میری بچی ۔۔۔۔۔ “

سلمان شاہ بھی آگے بڑھے اس سے پہلے وہ حورین کو گلے لگاتے ان کے قدم زامن کی آواز نے روک دیے

” رکیے سلمان شاہ ۔۔۔۔۔۔ “
زامن کی آواز نے چاروں نقوش کو اپنی جانب متوجہ کیا

مغرورانہ چال چلتا وہ حورین کے قریب آیا تھا اور اس کے برابر کھڑے ہو کر اپنا بازو حورین کے کاندھے پر پھیلا کر وہ شاطرانہ انداز میں مسکرایا تھا

” پہلے داماد سے تو مل لیں پھر بیٹی سے بھی مل لیجئے گا ۔۔۔۔۔۔۔ “
نظریں سلمان پر تھیں اور اور لفظ چبا چبا کر ادا کئے گئے

زامن کو دیکھ کر جہاں سلمان حیران تھا وہیں سمعیہ بھی شوکڈ تھیں
وہ دونوں ہی زامن کو پہچان چکے تھے

انہوں نے آخری بار جب زامن کو دیکھا تھا تو وہ پندرہ سال کا تھا اس وقت بھی رعب و دبدبے والا گورا اور پرکشش خوبصورت نوجوان تھا

اب بھی وہ اپنی پوری وجاہت لئے ان کے سامنے کھڑا تھا لیکن ان دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آخر بارہ سال بعد زامن یہاں ۔۔۔۔؟

” کیا ہوا ۔۔۔۔ پہچان تو لیا نہ آپ لوگوں نے ۔۔۔۔۔۔۔ کیوں چچی ۔۔۔۔۔ “
سلمان کو دیکھتے ہوئے آخر میں اس نے سمعیہ کو مخاطب کیا

زامن کے کہنے پر سمعیہ شاہ نے اثبات میں سر ہلایا

” حورین میری بچی ۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہو نہ بیٹا ۔۔۔۔۔۔ یہ ہاتھوں پہ کیا ہوا بیٹا ۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہوا ۔۔۔”

سمعیہ شاہ پھر حورین کی طرف متوجہ ہوئیں ان کی نظر حورین کے ہاتھوں پر پڑی تو وہ یکدم پریشان ہو گئیں حورین کے ہاتھ تھام کر فکرمندی سے پوچھنے لگیں

سمعیہ کی بات سن کر اب تم حیرت سے سب دیکھتی رامین بھی حورین کی طرف متوجہ ہوئی

” حورین بیٹا یہ کیسے ہوا ۔۔۔۔۔ “

سلمان بھی حورین کے پاس کھڑا فکرمندی سے پوچھنے لگا

” پاپا وہ یہ ۔۔۔ وہ غلطی ۔۔۔۔۔۔۔۔ غلطی سے جل گئے ۔۔۔۔ “
سب کو پریشان دیکھ کر حورین نے جھوٹ سے کام چلانا بہتر سمجھا لیکن اسے کیا پتہ تھا اس کے ہاتھ جلائے ہی زامن نے اس کے باپ کو تکلیف دینے کے لیے ہے

” حورین جھوٹ نہیں بولتے ڑارلنگ ۔۔۔۔۔۔ سب کو سچ بتاؤ نا ۔۔۔۔۔۔۔ چلو میں بتا دیتا ہوں ۔۔۔۔ “
حورین کو پھر سے اپنے حصار میں لیتا وہ بولا تھا
جبکہ حورین نے لفظ ڑارلنگ پر ایک نظر زامن پر ڈالی اور پھر سے سر جھکا لیا

” یہ میں نے جلائیں ہیں ہاتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایکچولی حورین نے ایک چھوٹی سی غلطی کی تھی ۔۔۔۔۔ اسی لیے اس کی سزا دے دی میں نے اسے ۔۔۔۔۔ “

زامن ایسے اپنا کارنامہ بتا رہا تھا جیسے یہ ایک عام سی بات ہو جبکہ اس کی بات سن وہاں کھڑے تمام نقوش اپنی جگہ ساکت ہو گئے جبکہ سلمان کا رنگ یکدم سفید پڑا تھا اس کو بہت کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہوا تھا

” یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم ۔۔۔۔۔۔ “
اس کی بات سن کر سلمان یکدم غصے میں آئے تھے

” آواز نیچی رکھو سلمان ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم یہ مت بھولو تمہارے سامنے سید زامن علی شاہ کھڑا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
زامن ان سے بھی تیز آواز میں بولا تھا

حورین بار بار کچھ بولنے کے لئے لب کھولتی لیکن پھر زامن کے ڈر کی وجہ سے بول نہ پا رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی زامن کچھ بھی کہے اس کے ماں باپ سے لیکن زامن کا تو مقصد ہی یہی تھا تو پھر وہ چپ کیسے رہتا

” اب تمہارے بربادی کے دن شروع ہو چکے ہیں سلمان ۔۔۔۔۔ تمہارے کئے کی سزا تمہاری بیٹی کو ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ دن رات تڑپو گے تم اپنی بیٹی کو دیکھ کر کیونکہ مکافات عمل شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی اوقات نہیں ہے اس کی میری زندگی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ایک عذاب ہے یہ میرے لیے کیونکہ جب بھی میں اسے دیکھتا ہوں مجھے تیرے کئے گئے گناہ یاد آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چاہو تو تیری بیٹی کےساتھ بھی وہی کر سکتا ہوں جو تو نے کیا تھا ماضی میں لیکن کیا کرو یہ غیرت بیچ میں آجاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیشک تیری بیٹی یے یہ لیکن میری بیوی بھی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں لیکن تجھ سے زیادہ گر کے دکھاؤں گا میں تجھے سلمان “

زامن کے الفاظ وہاں کھڑے تمام نقوش کی سماعت پر ہتھوڑے کی مانند لگ رہے تھے

سلمان کی آنکھوں سے ماضی کی ایک جھلک گزری تھی
سمعیہ شاہ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے

جبکہ حورین بھی سر جھکائے رونے میں مشغول تھی

” زامن ۔۔۔۔۔۔۔ “

سلمان نے یکدم غصے میں پکارا تھا جبکہ زامن ان سے بھی اونچی آواز میں چیخا تھا

” آواز نیچی رکھو سلمان ۔۔۔ تم ایس پی سید زامن علی شاہ کے سامنے کھڑے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک منٹ میں تمہیں تھانے میں پہنچا سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔”

” ز زامن پلیز ۔۔۔۔۔ “
حورین کا زامن کی بات پر دل کانپا تھا بے اختیار اس نے زامن کو پکارا تھا

” اوکے کافی دیر ہو گئی مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کو آؤں گا اپنی بیوی کو لینے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ڈرامہ نہیں چلے گا حورین شام کو پہلے ہی بتا رہا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر ڈرامہ کیا تم نے تو نتیجے کی ذمہ دار تم خود ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔ او کے سلمان ۔۔۔”
زامن گھڑی میں ٹائم دیکھتا کہنے لگا آخر میں حورین کی طرف دیکھ کر اسے وارن کیا

” زامن میری بیٹی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔۔ اس معصوم نے کیا بگاڑا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں بدلہ مجھ سے لینا ہے نہ تو مجھے مار دو جان سے لیکن پلیز میری بیٹی کو بخش دو ۔۔۔۔ “

سلمان اب زامن سے التجائی انداز میں کہہ رہے تھے زامن کے تیور انہیں ڈرا رہے تھے کچھ وہ ان دو دن میں ٹوٹ گئے تھے

” ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی جلدی ہار گئے تم سلمان ابھی تو گیم شروع ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن زہریلی ہنسی ہنس کر کہہ رہا تھا

” ہاں آرہا ہوں ۔۔۔۔۔ “
علی کی کال آنے پر زامن نے فورا کال پک کر کے اسے کہا اور فون کان سے لگائے ایک نظر سلمان کو دیکھتا وہ اب جا چکا تھا


” حورین میری بچی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا حال ہو گیا میری بچی کا ۔۔۔۔۔۔ “

زامن کے جانے کے بعد سمعیہ اپنا ضبط کھو بیٹھی کیونکہ زامن کے الفاظ کے ساتھ ساتھ وہ حورین کے چہرے پر انگلیوں کے نشان ، ہونٹ کا زخم ، دیکھ چلیں تھی اور اب وہ چادر پیچھے کر کے حورین کے بازوں اور گردن کے نیل دیکھ رہیں تھی

” سلمان دیکھو ۔۔۔۔۔ یہ زامن نے ہماری معصوم بچی کا کیا حال کیا ۔۔۔۔۔۔۔ حورین بتاؤ بیٹا یہ زامن نے کیا ہے ۔۔۔۔۔۔”

حورین کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر انہوں نے ہتھیلیوں پر بنے چھالوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا لیکن یہیں حورین بھی دل برداشتہ ہو گئی اور ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

آخر وہ دو دن سے زامن کا وحشانہ رویہ برداشت کر رہی تھی ان دو راتوں میں زامن نے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی تھی

رامین بھی حورین کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگی
لیکن سلمان بیٹی سے آنکھیں نہیں ملا پا رہے تھے


سارا دن حورین روتی رہی
سمعیہ نے اس کے ہاتھوں پر مرہم لگایا اسے تھوڑا سا کھانا کھلایا لیکن حورین صبح سے روئے جا رہی تھی اور بس یہی کہے جا رہی تھی

” ماما مجھے زامن کے ساتھ نہیں جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بلکل اچھے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔ پلیز ماما ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بہت غصے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے مار دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔”

” نہیں جانے دیں گے ہم تمہیں بیٹا ۔۔۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر سو جاؤ آرام کرو ۔۔۔۔۔ “

بہت مشکل سے انہوں نے حورین کو سلایا
اور خود مصلہ بچھا کر اپنی بیٹی کے لیے دعائیں مانگنے لگی


تھانے وہ کافی دیر سے پہنچا تھا اور پھر کام میں مصروف ہو گیا

رات آٹھ بجے وہ تھانے سے نکلا ، اس کی گاڑی کا رخ سلمان کے گھر کی طرف تھا

کچھ دیر میں وہ وہاں پہنچا تو سلمان سامنے ہی لاؤنج میں بیٹھا تھا زامن نے اسے اگنور کیا اور کیچن سے نکلتی ملازمہ کو حورین کو بلانے کا کہا ملازمہ فورا اوپر چلی گئی کیونکہ وہ صبح کے تماشے سے زامن کے غصے کا اندازہ لگا چکی تھی

” حورین تمہارے ساتھ نہیں جائے گی زامن ۔۔۔۔۔ مت لے کر آؤ حورین کو بیچ میں ۔۔۔۔۔۔ وہ معصوم ہے ۔۔۔۔ بے قصور ہے ۔۔۔۔”

سلمان ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولے تھے ایک دن میں ہی وہ بیمار لگنے لگے تھے

” ہوتا ہے سلمان ۔۔۔۔ بے قصوروں کے ساتھ بھی ظلم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تم نے ہی تو سکھایا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔ “

زامن نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا تھا اور خود حورین کو آواز دینے لگا تھا

” حورین ۔۔۔۔۔۔۔”

اور پھر خود ہی سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا دائیں طرف ایک کمرے سے اسے آوازیں آئیں تو اس نے اس کمرے کی جانب قدم بڑھائے


جب ملازمہ نے زامن کی آمد کی خبر مصلے پر بیٹھی سمعیہ کو دی تو انہوں نے بیڈ پر سوئی حورین کو دیکھا

مصلہ تہہ کر کے وہ حورین کے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گئیں
لیکن اب انہیں زامن کی آواز آنے لگی

یقینا زامن ، حورین کو پکار رہا تھا

ابھی وہ اٹھ کر کمرے سے باہر جانے ہی لگیں تھیں کہ حورین ہڑبڑا کر نیند سے جاگی تھی یقینا وہ نیند میں ڈری تھی

” ماما ۔۔۔۔ ممم ماما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ز زا زامن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماما میں ۔۔۔۔۔ماما میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ زامن ۔۔۔۔۔ ک کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ نہ نہیں نہیں ۔۔۔۔ جاؤں گی ۔۔۔۔۔۔ ماما ۔۔۔۔۔ “

حورین کے چہرے پر پسینے کی بوندیں نمایاں تھیں وہ بد حواسی کے عالم میں کہے جا رہی تھی اور سر بھی نفی میں ہلا رہی تھی

” حورین میری جان ۔۔۔۔۔۔۔ ہم کہیں نہیں جانیں دیں گے تمہیں ۔۔۔۔۔۔ تم فکر نہیں کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین کی حالت کے پیش نظر وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولیں تھیں لیکن اس سے پہلے وہ کچھ کہتی زامن حورین کو پکارتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا

” چلو حورین ۔۔۔۔ “
اب وہ بیڈ پر اس کے قریب آیا اور حورین کا ہاتھ سختی سے تھام کر اسے گھسیٹنے لگا

” زامن پلیز چھوڑیں ۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔۔ ماما مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔ پلیز مجھے ان کے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔۔۔”
حورین ، زامن سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے ساتھ ساتھ چیختے ہوئے سلمان اور سمعیہ کو دیکھ رہی تھی اب وہ اسے سیڑھیوں سے نیچے لے جا رہا تھا

” بکواس بند رکھو اپنی ۔۔۔۔۔۔۔ اب آواز نہ آئے مجھے تمہاری ۔۔۔۔۔ نہیں تو حشر بگاڑ دوں گا میں تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے حورین کا بازو چھوڑ کر ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے منہ پر تین چار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا

سلمان اور سمعیہ بے بسی سے حورین کو دیکھ رہے تھے سلمان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ زامن کو شوٹ کر دیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی بیٹی کےساتھ بے دردی سے پیش آرہا تھا

حورین نے سلمان اور سمعیہ کو دیکھتے ہوئے آنکھوں سے مدد کی التجا کی کیونکہ منہ سے کچھ کہتی تو زامن نا جانے کیا کرتا اس کے ساتھ ۔۔۔۔

” زامن۔۔۔۔۔۔ تم یہ سلوک نہیں کر سکتے میری بیٹی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔ بہت کم عمر ہے یہ ابھی ۔۔۔۔۔۔۔ “

سلمان اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے اب زامن کے بلکل سامنے آتے ہوئے التجائیہ انداز میں کہنے لگے

” ہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔ اتنی جلدی ہار گئے تم ۔۔۔۔۔ ابھی تو شروعات ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
” چلو تم۔۔۔۔۔۔۔”

زامن زور سے ہنستے ہوئے کہنے لگا اور ساتھ ہی حورین کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے چلا گیا


” پاپا ۔۔۔۔ پاپا ۔۔۔۔۔ وہ آپی کو لے گئے پھر لے گئے ۔۔۔۔۔۔۔ پاپا آپی بہت رو رہیں تھیں پلیز واپس لے آئیں انہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

رامین ، کافی دیر سے خاموشی سے سب دیکھ اور سن رہی تھی زامن کے جانے کے بعد وہ سلمان کے پاس آئی اور رو کر کہنے لگی تو سلمان نے اسے سینے سے لگا لیا وہ ایک بیٹی کے تو آنسو نہ صاف کر سکے تھے اب دوسری کو بھی روتا دیکھ کر ان کے دل پر کھینچاؤ پڑا

” دعا کرو بیٹا تمہارا باپ ہی مر جائے ۔۔۔۔۔۔ “

سلمان نے رامین کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا آواز بھیگی ہوئی تھی آنکھوں سے آنسو جاری تھے
وہ اس وقت بہت ہارے ہوئے لگ رہے تھے

” اللہ نہ کرے پاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔”

رامین نےسر اٹھا کر فورا کہا اور پھر سے سلمان کے گلے لگ کر رونے لگیں

” بیٹا آپ اپنے روم میں جاؤ ۔۔۔۔۔ “

سلمان نے کافی دیر سے خاموشی بیٹھی سمعیہ کو دیکھ کر رامین سے کہا تو رامین فورا اپنے کمرے میں میں چلی گئی

” سلمان میری بچی کو کس جرم کی سزا مل رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ زامن اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ حورین بہت کم عمر ہے ۔۔۔۔۔ سلمان وہ کیسے ہماری بچی پر ہمارے سامنے بے دردی سے ہاتھ اٹھا سکتا ہے ۔۔۔۔۔ جب وہ ہمارے سامنے اتنا برا سلوک کر سکتا ہے تو یہاں سے لے جا کر کیا نہیں کر سکتا وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

رامین کے جانے کے بعد سلمان صوفے پر سمعیہ کے ساتھ بیٹھا تو وہ سلمان کو دیکھتے ہوئے فکر مندی سے کہنے لگیں

” پلیز سمعیہ چپ رہو ۔۔۔۔۔۔۔۔”

سلمان نے ہاتھ اٹھا کر سمعیہ کو چپ رہنے کو کہا کیونکہ وہ سمعیہ کے الفاظ برداشت نہیں کر پا رہے تھے اس وقت ان کا دل تڑپ رہا تھا اپنی بیٹی کے لیے ۔۔۔۔


Like nd comments☺