Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

14 قسط

کافی دیر رونے کے بعد حورین اٹھی

فرش پر بکھرے بالوں کو اکٹھا کیا اور دل پر پتھر رکھ کر ڈسٹ بین میں پھینک دیے

کمرے کو صاف کر کے اب وہ الماری سے اپنا ایک جوڑا نکال کر من من بھاری قدر اٹھاتی واش روم چلی گئی

کچھ دیر بعد شاور لے کر وضو کیا اور مغرب کی نماز ادا کی

جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

” یا اللہ میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے صرف زامن کو چاہا ہے ان سے محبت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت سے جب مجھے محبت کے معنی بھی نہ پتہ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

زامن میں نے تو ہمیشہ آپ کو چاہا ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ کے لئے خود کو سمبھال کر رکھا پانچ سال کی تھی تب سے ۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ میں آپ کی امانت تھی جب سے ہمارا نکاح ہوا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو یاد ہے دادو نے ہمیں نکاح کے بعد کہا تھا کہ تم دونوں ایک دوسرے کے لئے بنے ہو ۔۔۔۔۔۔ اور حورین تم زامن کی امانت ہو تمہیں کسی غیر مرد کو سوچنا بھی گناہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ میں زامن کی حورین ہوں ۔۔۔۔۔ آج بھی سب یاد ہے مجھے سب زامن ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیسے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ پھر کیسے زامن ؟؟؟۔۔۔۔۔ آپ نے مجھے بد کردار کہا ؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔ کیسے زامن ؟؟؟؟ ۔۔۔۔”

حورین مصلے پر بیٹھی ہاتھ پھیلائے سسکتی ہوئی کہہ رہی تھی

” اللہ جی میں نے کبھی امانت میں خیانت نہیں کی ۔۔۔۔۔۔ تو وہ کیوں مجھے بد کردار کہتے ہیں ۔۔۔۔ کیوں ؟؟؟ ۔۔۔۔”

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی

” پاپا نے کچھ غلط کیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟؟؟؟ ۔۔۔۔۔ مجھے کیوں سزا دے رہے ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ کیوں اتنی نفرت کرتے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ “

” اللہ جی میں بہت محبت کرتی ہوں ان سے ۔۔۔۔ بہت ۔۔۔ لیکن وہ ۔۔۔۔۔۔ وہ تو نفرت کرتے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز اللہ جی ان کے دل میں بھی میرے لئے محبت ڈال دیں پلیز ۔۔۔۔۔۔۔”

خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کر کے اب وہ کافی بہتر محسوس کر رہی تھی
آنسو پونچھ کر مصلہ رکھ کر اب اس کا رخ کچن کی طرف تھا کیونکہ اسے زامن کے آنے سے پہلے کھانا تیار کرنا تھا


رات کو زامن آیا تو حورین ابھی بھی کچن میں تھی
ملازمہ کے بتانے پر وہ ٹرے میں کھانا رکھ کر دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے کی جانب بڑھی
بلاشبہ وہ زامن سے بے حد ڈرنے لگی تھی اس کے دل میں زامن کی محبت کے ساتھ ساتھ زامن کی وحشت بھی اس کے دل میں بیٹھ گئی تھی

کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا
زامن سامنے ہی کھڑا موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا

حورین نے زامن کی طرف دیکھا جو شاید ابھی نہا کر آیا تھا اور اس وقت صرف ٹراؤزر پہنے ہوئے تھا اس کا سفید جسم واضح تھا

حورین نے بے ساختہ اپنی نظریں جھکا لیں اور ٹرے ٹیبل پر رکھ کر واپسی کے لئے قدم بڑھانے لگی

” رکو ۔۔۔۔۔۔ آؤ کھانا کھاؤ ۔۔۔۔۔ “
حورین کو باہر جاتا دیکھ کر زامن نے جلدی سے کال کاٹ دی اور حورین کو مخاطب کیا

اب وہ شرٹ پہن کر صوفے پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگا حورین آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی آئی اور زامن سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی

” کھانا کھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

اب کی بار سختی سے کہا گیا تو حورین نے زامن کی بات پر فورا عمل کیا

کچھ لقمے لے کر وہ رک گئی اور پھر جب زامن نے کھانا کھا لیا اور موبائل میں مصروف ہو گیا تو حورین برتن سمیٹ کر باہر چلی گئی


حورین جب کمرے میں واپس آئی تو زامن بیڈ پر لیٹا ہوا موبائل میں لگا ہوا تھا

زامن کو دیکھ کر اسے کچھ دیر پہلے والی کاروائی یاد آئی جب زامن نے اس کے بال کاٹے تھے

ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں پانی اترنے لگا اور وہ کانپنے لگی

لیکن ہمت کرکے وہ بیڈ کی دوسری سائیڈ پر ٹک گئی

” آ کر پاؤں دباؤ میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

” اللہ جی مجھے بچا لیں ۔۔۔۔۔۔۔ “

آنکھیں میچ کر وہ دل میں دعا کر رہی تھی تبھی زامن کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو آنکھیں کھولی اور مرےمرے قدموں سے چلتی ہوئی زامن کی سائیڈ پر آئی اور بیٹھی تو زامن نے اپنے پاؤں اس کی گود میں رکھ دیے تو وہ اس کے پاؤں دبانے لگی

چٹاخ

چٹاخ

دو تھپڑ اس کی گال پر رسید کیے گئے

” دم نہیں ہے کیا ہاتھوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا زور سے دباؤ ۔۔۔۔۔۔۔ “

موبائل سے نظریں ہٹاکر وہ سرد لہجے میں بولا تھا
زامن کے اس طرح بولنے سے حورین جو پہلے ہی اس کے تھپڑ مارنے پر خوف سے لرز رہی تھی اور زیادہ سہم گئی
اور اپنی پوری قوت سے پاؤں دبانے لگی
لیکن حورین کی طاقت زامن کے مضبوط اعصاب کے آگے بہت معمولی تھی

” ٹانگیں بھی دباؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

کچھ دیر بعد زامن پھر سے بولا اور اب وہ موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر حورین کو گہری نظروں سے دیکھنے لگا

وہ سفید رنگ کا سادہ سا جوڑا پہنے ہوئے تھی جبکہ دوپٹہ سر پر اچھی طرح طرح لپٹا ہوا تھا ایسے کہ حورین کا ایک بال بھی نہ نظر آرہا تھا

سفید چہرہ ، گلابی گال ، اناری ہونٹ ۔۔۔۔۔۔۔ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی
اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ زامن صاف محسوس کر رہا تھا

زامن کی نظریں حورین کو مزید پزل کر رہی تھیں

حورین کا دلکش سراپا زامن کو بے قابو کر رہا تھا

زامن کی آنکھیں خمار آلود ہونے لگی

اب اس نے اپنے پاؤں کھینچ کر حورین کو اپنی بے حد قریب کیا

اس کا دوپٹہ وہ دور اچھال چکا تھا

زامن کی اس حرکت پر حورین کی آنکھوں سے ایک موتی ٹوٹ کر گرا

کیونکہ ابھی اذیت باقی تھی

زامن کی وحشت اور شدتیں وہ کیسے سہتی تھی یہ تو وہ یا اس خدا جانتا تھا


Like nd comments☺