Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

25 قسط

بیس منٹ کے بعد ہی علی حویلی میں موجود تھا

پاکیزہ شاہ حورین کے ہمراہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں

حورین نے ایک سادہ جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا اور اوپر بڑی سی چادر لپیٹی ہوئی تھی

” السلام علیکم آنٹی ۔۔۔۔۔ “۔

علی آگے بڑھ کر ان کے آگے جھکا تھا اور سلام کیا

” وعلیکم السلام ! بیٹا ۔۔۔۔ کیسے ہو ۔۔۔۔؟ “

“جی میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔ آپ کیسی ہیں۔۔۔۔۔؟؟ “

” بیٹا یہ زامن کی بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔ “

اب انہوں نے حورین کا تعارف کرایا تھا علی نے نظریں جھکا کر حورین کو سلام کیا وہ حورین کو اندر آتے دیکھ چکا تھا اور سمجھ گیا تھا یہ زامن کی بیوی ہے

” علی تم تو زامن کے ہر ارادہ کو اچھے سے جانتے ہوگے ۔۔۔۔۔ اور تمہیں سلمان کا بھی پتہ ہو گا ۔۔۔۔۔ حورین کو سلمان کے گھر چھوڑنا ہے میں کسی بھی ملازم پر اعتبار نہیں کر سکتی ۔۔۔ بیٹا اس لیے تمہیں زحمت دی ہے ۔۔۔۔۔۔”

” زحمت کیسی آنٹی ۔۔۔ آپ بس حکم کریں ۔۔۔۔۔ “

علی نہایت ادب سے بولا تھا

” شکریہ بیٹا ۔۔۔۔۔ اب جاؤ آپ دونوں “

” ۔۔۔۔ چلیں بھابھی ۔۔۔۔!!!! “
بہت احترام سے وہ حورین سے بولا تھا
پھر حورین ، پاکیزہ سے مل کر وہاں سے چلی گئی

راستے خاموشی سے طے ہوا

حورین کو سلمان کے گھر اتار کر علی جا چکا تھا

جبکہ حورین آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی گھر کے اندر داخل ہوئی

” آپی آپی ۔۔۔۔”
لاؤنج میں ہی رامین نے حورین کو دیکھ کر گلے لگا لیا اور رونے لگی

سلمان آگے بڑھے تھے لیکن حورین نے اپنا رخ رامین کی جانب کر لیا

حورین کی اس حرکت پر ان کا دل تڑپ گیا
وہ جس بات سے خوفزدہ تھے وہ ہو چکی تھی
یقینا زامن نے حورین کو سب بتا دیا ہو گا
تبھی ان کی جان سے پیاری بیٹی نے ان سے منہ موڑ لیا

” آپی ماما ۔۔۔۔۔۔ “

رامین اس کے گلے لگ کر کہنے لگی

” کک کیا ہوا ۔۔۔۔۔ کہاں ہیں ماما ۔۔۔۔۔۔”

رامین کی بات اور پھر اس طرح رونے پر حورین کی سانسیں رکنے لگیں

” آپی ۔۔۔۔ ماما ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ “
رامین اس کے گلے لگی ہی بولی تھی

اور حورین کے اوپر تو جیسے قیامت ٹوٹ گئی

” ننن نہیں ۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ ایسا کیسے ۔۔۔۔۔ رامین اتنا برا مذاق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔ پیچھے ہو تم ۔۔۔۔ مجھے ماما کے پاس جانے دو ۔۔۔۔ “
” ماما ماما ۔۔۔۔۔”

بے یقینی کی کیفیت میں وہ اپنی ماں کو پکارنے لگی

سلمان اور رامین اب اس کے اس طرح پکارنے پر اسے دیکھ کر رونے لگے

” حورین تمہاری ماں نہیں رہی بیٹا اب ۔۔۔۔۔ “

سلمان ایک قدم آگے بڑھے تھے

” نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ آپ دونوں مذاق مت کریں ۔۔۔۔ پلیز ماما کو بلائیں ۔۔۔۔۔۔ “

دو پیچھے قدم بڑھا کر وہ بولی تھی

اس کی آنکھیں بے حد سرخ تھیں وہ روتی ہوئی نفی میں سر ہلا رہی تھی

” آپی جب ماما آپ سے فون پر بات کر رہیں تھیں پتہ نہیں کیا ہوا ان کو بے ہوش ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔ ہارٹ اٹیک ہوا تھا ان کو اور ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔۔۔ “

رامین نے حورین کے بازوؤں کو پکڑ کر کہا لیکن اس سے آگے اس سے کچھ بولا نہیں گیا اور وہ پھر رونے لگی

” ماما اااا ۔۔۔۔۔۔ مامااا۔۔۔۔۔۔”
رامین کی بات پر حورین بھی شدت سے رونے لگی

سلمان اپنی دونوں بیٹیوں کو اس طرح دیکھ کر تڑپ گئے

وہ بیٹیاں جن کو اس نے کبھی گرم ہوا بھی نہ لگنے دی تھی جن کی صرف ہنسی اس گھر میں گونجتی تھی آج سسکیاں اور آہیں گونج رہیں تھیں


” بیٹا کیا میں اندر آجاؤں ۔۔۔۔۔۔”

سلمان نے دروازے پر دستک دے کر اجازت مانگی

اسے یہاں آئے چار سے پانچ گھنٹے ہو گئے تھے

کافی دیر رونے کی وجہ سے حورین کی آواز بیٹھ گئی تھی جب کہ آنسو ابھی بھی اس کی آنکھوں میں تھے

اس وقت وہ اور رامین اپنے کمرے میں تھیں اور رامین اس کی گود میں سر رکھ کر سو رہی تھی

جب دروازے پر دستک کے ساتھ سلمان نے اندر آنے کی اجازت مانگی

” جی آ جائیں ۔۔۔۔۔۔”

” اچھا ہوا رامین سو گئی ۔۔۔۔۔ بہت مشکل سے سوتی ہے بہت روتی ہے اپنی ماں کو یاد کر کے ۔۔۔۔۔ “

کمرے میں آ کر سلمان ، بیڈ کے قریب کرسی رکھ کر بیٹھ گئے اور حورین سے گویا ہوئے

” بیٹا تم بھی آرام کر لیتیں ۔۔۔۔۔۔ مجھے تم بھی ٹھیک نہیں لگ رہیں۔۔۔۔۔۔”

وہ پھر سے حورین سے مخاطب ہوئے تھے لیکن وہ سامنے کوئی غیر مرئی نقطے کو تکتی رہی
جبکہ اب اس کا چہرہ کسی بھی تاثر سے خالی تھا

” حورین بیٹا ۔۔۔۔۔۔ میں نے زامن کو بہت بار کال کی ، حویلی بھی گیا
لیکن نہ تو وہ میری کال اٹینڈ کرتا ہے اور نہ مجھے حویلی میں قدم رکھنے دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔
تمہاری ماں کی ڈیتھ کا بھی بتانے کے لیے کافی بار کال کی اس کو بلکہ حویلی بھی گیا لیکن زامن کے حکم پر مجھے اندر تک آنے نہیں دیا گیا ۔۔۔۔۔ “
سلمان مسلسل بول رہے تھے لیکن حورین ایسے ہی بغیر کسی تاثر کے بیٹھی رہی

” حورین بیٹا مجھے پتہ ہے تمہیں سب پتہ چل گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ پلیز بیٹا مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ اپنے گناہ گار باپ کو معاف کر دو ۔۔۔۔۔۔ آج تم جس حال میں ہو اس کی وجہ میں ہوں پلیز بیٹا اپنے باپ کو معاف کر دو ۔۔۔۔۔۔ “

سلمان نے باقاعدہ حورین کے آگے ہاتھ جوڑ دیے

” میں کون ہوتی ہوں پاپا آپ کو معاف کرنے والی ۔۔۔۔۔ بیشک ماں باپ جیسے بھی ہوں لیکن اولاد کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کے احترام میں کوئی کمی آنے دیں ۔۔۔۔۔۔ آپ مجھ سے معافی مت مانگیں پلیز ۔۔۔۔۔ “

حورین نے ان کے جوڑے ہاتھوں کو نیچے کیا اور ان سے گویا ہوئی

” حورین اگر تمہارا یہ گناہ گار باپ تم سے کچھ مانگے تو کیا مجھے دو گی۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔”

” پاپا میرے پاس کچھ نہیں بچا ۔۔۔۔۔ میں کیا دے سکتی ہوں آپ کو ۔۔۔۔ “

حورین کے الفاظ سے زیادہ اس کا بے بسی اور دکھ سے بھرا لہجہ سلمان کا دل چیر گیا تھا

” بیٹا چلی جاؤ ۔۔۔۔۔۔ بہت دور چلی جاؤ ۔۔۔۔۔ زامن سے دور چلی جاؤ ۔۔۔۔۔ زامن بہت ظالم ہے وہ مار دے کا تمہیں۔۔۔۔۔۔”

” میں کہیں بھی چلی جاؤں ۔۔۔۔۔ زامن شاہ مجھے کبھی نہ کبھی ڈھونڈ نکالے گا اور پھر آپ سوچ بھی نہیں سکتے اس کے بعد وہ کیا کرے گا میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ “

حورین یقین سے بولی تھی

” نہیں ڈھونڈ پائے گا ۔۔۔۔۔ میں تمہیں ملک سے باہر بھیجو گا ۔۔۔۔ وہاں تک زامن شاہ کی سوچ نہیں جائے گی ۔۔۔۔

پلیز بیٹا میری بات مان لو ۔۔۔۔۔ دیکھو میں جانتا ہوں زامن آج نہیں تو کل مجھے مار دے گا تمہیں بھی کبھی نہیں چھوڑے گا اگر اس نے مجھے مار دیا اور تمہیں بھی وہ اپنے ساتھ لے گیا تو سوچو بیٹا رامین کا کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔

پلیز بیٹا رامین کے لیے ۔۔۔۔۔۔ چلی جاؤ بہت دور رامین کو لے کر ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ التجائی انداز میں کہہ رہے تھے جبکہ حورین اب کشمکش میں تھی یہ بات وہ بھی جانتی تھی کہ زامن شاہ سلمان کو مار دے گا اور اسے بھی نہیں چھوڑے گا تو پھر رامین کا کیا ہوگا

” تمہاری فرینڈ ندا تھی نا بیٹا جس کے فادر میرے دوست ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ لوگ کیپ ٹاؤن شفٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

تم اور رامین ان کے ساتھ چلی جانا میں نے بات کی ہے ان سے۔۔۔۔۔۔ تمہارے اور رامین کے اکاؤنٹ میں پیسے ہیں کافی۔۔۔۔۔

تم دونوں کو وہاں کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ پلیز بیٹا صرف اپنی ہی نہیں رامین کی بھی زندگی بچا لو ۔۔۔۔۔۔

یہ دنیا بہت ظالم ہے حورین ۔۔۔۔۔۔ رامین کی مجھے بہت فکر ہے ۔۔۔۔۔”
حورین ان کی باتوں کو بہت غور سے سن رہی تھی وہ خود زامن سے دور ہونا چاہتی تھی اور اسے اب رامین کی بھی بہت فکر ہونے لگی


Like nd comments