Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

12 قسط

ماضی

بیہ کو بے آبرو کرکے اپنی حوس مٹا کر اب وہ شخص جا چکا تھا

صبح جب اعجاز ، بیہ کے پاس فارم ہاوس آیا تو نرس نے اسے بیہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کا بتایا اور اس کے بعد اس کی بگڑتی حالت کا جو کہ رات سے مسلسل خراب تھی

” پاپا مجھے وہ لڑکی چاہیے بس ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

نرس کے بتانے کے بعد اعجاز فورا غصے میں اپنے گھر گیا اور اپنے بیٹے عاصم کو اپنے سامنے طلب کیا

عاصم کو اپنے کئے پر ذرا بھی شرمندگی نہ تھی بلکہ بڑی ڈھٹائی سے باپ کے سامنے کھڑا اپنی خواہش کا اظہار کر رہا تھا

” دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ “
اعجاز کو وہ ابھی بھی نشے میں لگا

” او پلیز پاپا فلحال مجھے بہت نیند آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بعد میں بات کریں گے اس بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔”
عاصم جھنجھلایا ہوا گویا ہوا

” ایسا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال اپنے دل سے نکال دو ۔۔۔۔۔۔ “

اعجاز بیٹے کی ڈھٹائی پر دھاڑا

” شام کو آپ میرا اس کے ساتھ خود نکاح کروائیں گے یا میں خود لے آؤں اسے یہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
عاصم باپ کی بات مکمل نظر انداز کرتا ہوا گویا ہوا یقینا اس نے اعجاز کے سر پر بہت آرام سے بم پھوڑا تھا

” عاصم تم ابھی تک نشے میں ہو ۔۔۔۔۔۔ جو ہو گیا سو ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکی ایک مقصد کی وجہ سے فارم ہاوس میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم ختم کرو اب اس بات کو ۔۔۔۔۔۔ “
اعجاز نے پھر سے پتھر سے سر پھوڑا ۔۔

” پاپا میں اس سے نکاح ضرور کروں گا۔۔۔۔۔۔۔ یہ نکاح کی فارمیلیٹی بھی میں صرف آپ کے لئے پوری کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں مجھے نکاح سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ او کے بائے پاپا ۔۔۔۔۔ “

عاصم یہ کہہ کر چلا گیا لیکن اعجاز کو اب ایک اور مسئلے سے نبٹنا تھا


بیہ پر جو قیامت گزری تھی اس کے بعد وہ ابھی تک سکتے میں تھی

نکاح کب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ کیسے ہوا ۔۔۔ ؟؟ کس کے ساتھ ہوا ۔۔۔۔۔۔؟؟ اس نے کب نکاح نامے پر دستخط کئے ۔۔۔۔؟؟
اسے کوئی ہوش نہ تھا ۔۔۔۔

ہوش تو اسے تب آیا جب اپنے سامنے اپنی عزت کے لٹیرے کو اپنے شوہر کے روپ میں دیکھا


” کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟”
سلمان فون پر چیخا تھا وہ اس وقت ائیر پورٹ پر موجود تھا کچھ دیر میں اس کی لندن کی فلائٹ تھی

” سلمان تم عاصم کو تو جانتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کتنا ضدی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جب سے اس لڑکی کو دیکھا ہے تب سے اس کے پیچھے پاگل ہو گیا ۔۔۔۔۔ کچھ غلط ہونے کے ڈر سے نکاح کروانا پڑا یار ۔۔۔۔۔۔ “
اعجاز نے بات گول مول کی

” تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہماری صرف پیسوں کی بات ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نکاح بیچ میں کہاں سے آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم کر یہ سب اور بیہ کو حویلی بھیج ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں تو عاشر کو ہم پر شک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ “
سلمان کے چہرے سے پریشانی صاف ظاہر تھی

” ہاں کچھ تو کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا تم یہ سب چھوڑو بس وہاں جا کر سب سمبھالو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر اعجاز نے نے کال کاٹ دی

اور سلمان نے بھی سوچ لیا کہ وہ اب کبھی پاکستان واپس نہیں آئے گا
لیکن قسمت میں کیا ہے یہ تو کوئی نہیں جانتا


” شاہ جی بیٹی کا معاملہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ عاصم کو جس حالت میں آپ کی بیٹی ملی ہے اس کو بتاتے ہوئے مجھے تک شرم آرہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بھی بیٹی والا ہوں ۔۔۔۔۔ اس لیے بیٹی کی عزت کی خاطر اپنے اکلوتے بیٹے سے اس کا نکاح کروا دیا ۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا وہ آپ کی بیٹی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو بیہ نے مجھے بعد میں بتایا تو میں سب سے پہلے اسے آپ کے پاس لے کر آیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

اعجاز انتہائی شاطرانہ چال چلتا ہوا آج بیہ کو لیے حویلی آ پہنچا تھا اور اس وقت عاشر کے سامنے اپنی باتوں کے تیر چلا رہا تھا اور ایک جھوٹی کہانی سنائی جس پر بیہ بلکل خاموش رہی وہ تو بس زندہ لاش بن گئی تھی کوئی کچھ بھی کرتا اسے کوئی فرق نہ پڑتا تھا

عاشر ، اعجاز کی لالچی طبعیت کے بارے میں اچھی طرح واقف تھا وہ جانتا تھا نہ اعجاز اتنا نیک ہے اور نہ اس کا بیٹا

لیکن بیہ کی حالت نے عاشر کو توڑ دیا جس باپ کی بیٹی پندرہ دن گھر سے غائب رہے اس کا باپ پھر معاشرے میں کہاں سر اٹھا کر چل سکتا ہے لیکن عاشر نے بیہ سے اس بارے میں کوئی سوال نہ کیا

عاشر نے بیہ کو سینے سے لگا کر بس اتنا کہا
” بیہ بیٹا آپ جو چاہو گی وہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ “

بیہ نے بھی پھر قسمت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا اور عاشر کو یہ کہا کہ
” وہ اپنا رشتہ نبھائے گی ۔۔۔۔۔۔۔ “

اور کچھ دیر کے بعد بیہ چلی گئی اس جہنم میں جہاں اس کی کوئی عزت نہیں تھی ۔۔۔۔۔
عاصم اسے ایک فالتو چیز کی طرح رکھتا
ہر قسم کی توہین اور زیادتی کرتا
لیکن بیہ خاموشی سے اس کا ہر ستم برداشت کرتی ۔۔۔۔
حویلی بہت کم جاتی تھی
عاشر بیہ کے چہرے پر ویرانی دیکھ کر بیمار رہنے لگا

اسی طرح چھ مہینوں کے اندر عاشر اسی صدمے میں اس دنیا کو چھوڑ کر چلا گیا
عاشر کی موت نے حویلی کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔۔۔۔۔
عاشر کی موت کا صدمہ حویلی میں سب کو بہت گہرا ہوا

ناہید بیگم دو مہینوں تک ہی یہ صدمہ برداشت کر سکیں اور پھر دنیا سے رخصت ہو گئیں

اور پاکیزہ بس کمرے کی ہو کر رہ گئی
پہلے بیہ کا دکھ پھر عاشر کی موت اور اب ناہید بیگم کی موت نے پاکیزہ کی ذہنی حالت پر گہرا اثر چھوڑا وہ زامن کی ذات کو بھی مکمل فراموش کر بیٹھی

لیکن اس سب میں زامن نے سب سے زیادہ سفر کیا اس نے تو اپنا ہر مخلص رشتہ کھو دیا
پہلے باپ کو پھر دادی کو اور ماں بھی بس اپنے کمرے میں رہتی
بیہ بھی بہت کم حویلی آتی تھی اسی لیے زامن بہت اکیلا ہو گیا
ایک اماں تھیں جو زامن کا بہت خیال رکھتیں اور زامن بھی ان کی بہت عزت کرتا تھا

وقت گزرتا رہا ۔۔۔۔۔۔
زامن بہت خاموش رہتا بلکہ اس سے بات کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں
اس خاموشی کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ لوگ زامن کے با راعب طبعیت سے متاثر ہونے لگے
زامن ایک ذہین بچہ تھا اس نے پڑھائی میں بہت محنت کی اور تعلیمی میدان میں ترقی حاصل کرنے لگا

سی ایس ایس کے بعد زامن نے پولیس فورس جوائن کر لی ۔۔۔۔۔ اور وہاں بھی وہ کامیابیاں حاصل کرتا رہا اور اپنا دنیا میں بڑا نام بنا لیا

ساری دنیا کے سامنے سخت دل اور مضبوط اعصاب والا زامن ، جس سے بڑے سے بڑا مجرم ڈرتا تھا وہ زامن اکثر راتوں کو اذیت سے سو نہ پاتا

اپنی بہن کے ساتھ ہوئی زیادتی ، بہن کا ویران چہرہ ، ماں کی حالت ، باپ کا چھوڑ کر چلے جانا زامن کی ہر رات اذیت میں گزرتی

وہ اکثر بیہ سے ملتا لیکن بیہ سے مل کر آنے کے بعد وہ کئی دن تک اذیت میں رہتا

عاصم کا وہ چاہ کر بھی کچھ بگاڑ نہ پا رہا تھا کیونکہ بیہ اسے ہر بار یہ کہہ کر چپ کروا دیتی کہ عاصم جیسا بھی ہے اس کا شوہر اور اس کے بیٹے کا باپ ہے

زامن نے کئی دفعہ بیہ کو عاصم کو چھوڑ نے کا کہا لیکن بیہ نہ مانی
کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو اس کے باپ سے دور نہیں کر سکتی تھی عاصم چاہے جتنا عیاش آدمی تھا لیکن وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا تھا

اسی وجہ سے زامن ہمیشہ چپ ہو جاتا

وقت کے ساتھ ساتھ زامن نے بیہ کے کیس کو کھلوایا
اور اس پر تحقیق کرنے لگا

کافی تحقیق کے بعد زامن کو ساری حقیقت معلوم ہو گئی
اور پھر زامن نے بیہ کو اپنی قسم دے کر اس سے ساری حقیقت پوچھ لی اور مجبورا بیہ کو سب بتانا پڑا

کہ اس رات اعجاز اور سلمان ان کے باپ کو مارنے کے پلان بنا رہے تھے اور
کیسے اسے اغواء کیا پھر فارم ہاوس پہ رکھا
اور کیسے عاصم نے اس کو بے آبرو کیا
اور پھر نکاح کیا
ساری حقیقت وہ بتاتی چلی گئی
اور زامن جیسے جیسے سنتا جا رہا تھا اس کی آنکھوں میں خون اترتا جا رہا تھا

یہ حقیقت اتنی بھیانک تھی کہ زامن پھر دن رات انتقام کی آگ میں جلنے لگا
وہ اعجاز اور سلمان کو برباد کردینا چاہتا تھا

پھر زامن نے اب دونوں کی تلاش شروع کر دی
وہ دونوں ملک سے باہر تھے
زامن کو بس ان دونوں کا پاکستان آنے کا انتظار تھا

زامن ہمیشہ سے حورین کے بارے میں سوچتا تھا آخر وہ اس کی بیوی تھی اس کے نکاح میں تھی

وہ اکثر حیران تو رہتا کہ سلمان نے کبھی مڑ کر ان کا حال تک نہ پوچھا
کتنی قیامتیں نہیں ٹوٹی تھی ان پہ
عاشر اور
ناہید بیگم کی موت کا سن کر بھی وہ پاکستان نہ آیا
سلمان کی حقیقت جاننے کے بعد زامن کو سلمان کے ساتھ ساتھ حورین سے بھی نفرت ہو گئی کیونکہ حورین اس شخص کی بیٹی تھی جس نے زامن سے اس کی زندگی کی ہر خوشی چھین لی

زامن نے اعجاز اور سلمان کو ان کے انجام تک پہنچانے کا پکا ارادہ کرلیا
اسی لئے اس نے اعجاز کی کمزوری پر وار کیا
اعجاز کی دو کمزوریاں تھیں ایک اس کا بیٹا عاصم اور دوسرا پیسہ

اسی لئے زامن نے اعجاز کو برباد کرنے کے لئے اس کے بزنس کو برباد کر دیا
اعجاز کو سمگلنگ کے سنگین کیس میں عمر قید بامشقت ہوگئی
اسی طرح اعجاز اپنے انجام کو پہنچا

اب صرف سلمان رہ گیا تھا جس سے زامن دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا

اس نے سلمان کو تلاش کرنا شروع کیا لیکن کچھ خاص پتہ نہ لگا سکا

ایک دن اسے اپنے ذریعے سے پتا چلا کہ سلمان پاکستان آ گیا ہے اور یہی اپنا بزنس کر رہا ہے
زامن نے سلمان کو بھی اس کی کمزوری سے توڑنے کا پلان بنایا
اور سلمان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی بیٹیاں تھیں

اسی لئے زامن نے حورین کا تعاقب کرنا شروع کیا وہ حورین کی ہر سرگرمی پر نظر رکھتا تھا
وہ کب کالج جاتی ہے
کب آتی ہے
کس سے ملتی ہے
کس سے دوستی ہے

اور پھر زامن نے حورین کو اغواء کروا لیا اور اسے حویلی میں رکھا

وہ سلمان کو اس اذیت سے گزارنا چاہتا تھا جس سے اس کا باپ گزرا تھا

دو راتیں حورین کو حویلی میں رکھا
زامن انتقام کی آگ میں اتنا جل رہا تھا کہ حورین کی کم عمری اور اس کی معصومیت کی پروا کیے بغیر اس نے اس کے وجود کی دھجیاں اڑا دیں
اس معصوم کو بے دردی سے توڑ دیا

اور پھر اسے لے کر سلمان کے گھر گیا وہاں سلمان کا اپنی بیٹی کے لئے تڑپنا زامن کو سکون پہنچا رہا تھا

اور پھر زامن حورین کو پل پل اذیت دینے لگا

حورین کی معصومیت اس کی خوبصورتی بھی زامن کو نہ پگھلا سکی


Like nd comments☺