Sitamgar Hai Hamsafar By  Fatima Readelle50077

Sitamgar Hai Hamsafar By Fatima Readelle50077 Last updated: 17 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Hai Humsafar

By Fatima

وہ دونوں اس وقت کالج کے گراونڈ م

وہ اس کی ہر حرکت پہ نظر رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ کب سوتی ہے ، کب اٹھتی ہے ، کب ہستی ہے ، کب روتی ہے ، کب کالج جاتی ہے ،

اس وقت بھی وہ اس کے کالج کے باہر گاڑی میں بٹھا اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا کہ اتنے میں وہ باہر آئی جینز شرٹ میں اسکارف گلے پہ لپیٹے کھلے بال ، اس کے حلیے کو دیکھ کر زامن کے ماتھے پر لا تعداد شکن ابھرے اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اس کا منہ تھپڑوں سے لال کر دے ۔۔۔۔۔۔ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی غرض سے وہ بار بار اپنے دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مار رہا تھا

وہ کسی لڑکی اور لڑکے سے ہنس ہنس کر باتیں کررہی تھی کچھ دیر بعد وہ ایک گاڑی کی طرف بڑھی کوئی چیز اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی مگر شاید اس کا دھیان نہ تھا اس لئے وہ آگے بڑھی اور گاڑی میں بیٹھ گئی اور گاڑی وہاں سے چلی گئی

اب زامن گاڑی سے نکلا اور وہ گری ہوئی چیز اٹھائی اسے دیکھا اور اپنی پینٹ کی پاکٹ میں رکھ لی

پھر زامن اپنی گاڑی میں بیٹھا اور اسی گاڑی کا پیچھا کرنے لگا کچھ دیر بعد وہ گاڑی ایک خوبصورت بنگلے میں داخل ہوئی تو زامن نے اپنی گاڑی بنگلے کے باہر کچھ دور کھڑی کی اور ایک نظر اس بنگلے پہ ڈالی

" بہت جلد ملیں گے۔۔۔۔۔ " زامن نے شاطرانہ انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا

پاکیزہ کافی دیر سے بیہ کے رونے کی آواز سن رہی تھی پھر اس سے رہا نہ گیا تو کمرے سے باہر آئی اور اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں سے بیہ کے رونے کی آواز آرہی تھی کمرے میں بیڈ پہ دو ماہ کی بچی کے علاوہ اور کوئی نہ تھا پاکیزہ نے آگے بڑھ کر بیہ کو اپنے سینے سے لگایا اور روتی ہوئی بیہ کو چپ کرانے لگی پھر اس نے بیہ کو بیڈ پر لٹایا اور اس کا دودھ بنانے لگی پھر پاکیزہ نے بیہ کو اپنی گود میں لے کر دودھ پلایا

" اوہ ۔۔۔ سوری یار۔۔۔ مجھے دیر ہو گئی ۔۔۔ سونی اتنا تنگ کر رہا تھا۔۔۔ بیہ کو بھی جگا دیا اس نے ۔۔۔ ہائے میری بچی۔۔ بہت رو رہی تھی۔۔۔ " ثناء نے کمرے میں آکر کہا

" کوئی بات نہیں ثناء آپی ۔۔۔۔ بیہ کو میں سنبھال لیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " پاکیزہ نے بیہ کے گال پر پیار کرتے ہوئے کہا

" نہیں نہیں یار ۔۔۔ نئی نویلی دلہن ہو تم ۔۔۔۔۔۔ اور یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے اپنا۔۔۔۔۔ " ثناء نے پاکیزہ کے عام سے لون کے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے کہا

" بھئی تم عاشر علی شاہ کی بیوی ہو ۔۔۔۔ شان سے رہو یہاں پر ۔۔ تیار ہو کر رہو ۔۔۔ " ثناء نے پاکیزہ کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے خوشگوار موڈ میں کہا

" رہنے دیں ثناء آپی ۔۔۔۔ زبردستی کی شادی میں ان رسموں کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔ " پاکیزہ کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا

" پاکیزہ کیا ہو گیا یار ۔۔۔۔ رو رو کر آنکھیں سوجا لی ہیں تم نے اپنی ۔۔۔۔۔ خدا خیر کریں گے ۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔اللہ سے اچھے کی امید رکھو ۔۔۔۔۔۔ " ثناء نے پاکیزہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

" بی بی جی وہ صاحب کہہ رہے ہیں بیہ بیٹیا کو ان کے پاس لاؤں ۔۔۔۔۔۔ " پاکیزہ کے کچھ کہنے سے پہلے کمرے میں ملازمہ داخل ہوئی اور کہنے لگی

" عاشر آگیا؟؟؟ ۔۔" ثناء نے ملازمہ کو دیکھ کر پوچھا