No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ
5قسط
” پاکیزہ ۔۔۔۔۔۔”
پاکیزہ اس وقت لان میں اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی جب ثناء نے اس کے پاس کرسی پر بیٹھتے ہوئے اسے پکارا
” جی آپی ۔۔۔۔ “
ثناء کی پکارا پر پاکیزہ ہوش کی دنیا میں واپس آئی
” جانتی ہوں میں ۔۔۔۔۔ کہ کس سوچ میں گم ہو تم چھ ماہ ہو گئے تمہاری شادی کو پاکیزہ ۔۔۔۔۔ عاشر تو ہے ہی شزا کے لئے پاگل ۔۔۔ آخر محبت کی شادی کی تھی اس سے ۔۔۔ اس دنیا میں نہیں ہے شزا لیکن عاشر تو اسے بھولنے کو تیار ہی نہیں ہے ۔۔۔ تمہارے ساتھ بھی زیادتی کر رہا ہے وہ ۔۔۔ اور تم ۔۔۔۔ اپنا حق کیوں نہیں مانتی اس سے ۔۔۔ “
پاکیزہ کو اداس دیکھ کر ثناء اسے پھر سمجھانے لگی تھی
“چھوڑیں نا آپی یہ باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ بھی آج چلی جائیں گی ۔۔۔۔ مجھے آپ بہت یاد آئیں گی ۔۔۔۔ “
ثناء کی بات نظر انداز کرکے وہ بات بدل گئی تھی
ثناء کے جانے سے وہ بہت اداس ہورہی تھی کیونکہ ثناء اسے بالکل بڑی بہن کی طرح پیش آتی تھی ہر بات میں اس کا خیال رکھتی تھی
” تم بھی بات بدل رہی ہو ۔۔۔۔۔ “
ثناء نے پاکیزہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
” میں آپ کو بہت مس کروں گی آپی ۔۔۔۔ آپ بہت اچھی نند ہیں ۔۔۔۔۔ “
یہ کہتے ہی پاکیزہ نے ثناء کو گلے لگا لیا اور ثناء نے بھی دل میں اس کی خوشیوں کی دعا کی
کچھ گھنٹوں بعد ثناء ایئرپورٹ روانہ ہو گئی
” چلیں بابا ۔۔۔۔۔”
حورین نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا
وہ ابھی کالج سے نکل کر باہر آئی تھی جہاں اس کا ڈرائیور اس ہی کا انتظار کر رہا تھا گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے ڈرائیور سے کہا تھا
پھر انہوں نے رامین کو بھی پک کیا
” آپی ۔۔۔ اپنا موبائل دینا پلیز ۔۔۔ “
رامین نے حورین کے ساتھ بیٹھتے ہی فرمائش کی تو حورین نے اس کو گھور کر دیکھا اور بیگ سے اپنا موبائل نکال کر رامین کو دے دیا
ابھی گاڑی نے تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ایک دوسری گاڑی نے ان کی گاڑی کے سامنے آکر راستہ روکا اس وقت وہاں ان دو گاڑیوں کے علاوہ کوئی نہ تھا
” یہ کیا ہوا بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
حورین جوکہ کسی نوٹ کو سامنے رکھے پڑھ رہی یوں اچانک گاڑی رکنے پر گھبرا کر پوچھنے لگی
” پتہ نہیں بی بی جی کون ہے یہ لوگ ۔۔۔۔۔”
ڈرائیور نے جواب دیا گھبرا تو وہ بھی رہا تھا کیونکہ اب سامنے والی گاڑی میں سے دو لوگ جن کے ہاتھوں میں پسٹل تھی نکل کر ان کی گاڑی کی طرف آرہے تھے
ان میں سے ایک نے حورین کی طرف کا دروازہ کھولا جبکہ دوسرا نے ڈرائیور کو باہر نکال کر اس کے سر پر پسٹل رکھ دی
” سیدھی طرح ہمارے ساتھ چلو نہیں تو یہ اپنی جان سے جائے گی ۔۔۔۔۔”
دوسرے نے اپنی پسٹل کا رخ رامین کی طرف کیا جس کے ہاتھ میں ابھی بھی موبائل تھا جس میں وہ گیم کھیل رہی تھی لیکن اس کاروائی سے وہ بھی حورین کی طرح گھبرا گئی
” ک ک کون ہو تم لوگ ۔۔۔۔ “
ٹھا اااااااا
ابھی الفاظ حورین کے منہ سے ادا ہوئے ہی تھے کہ اس شخص نے ڈرائیور کی ٹانگ پر گولی ماری اب ڈرائیور زمین پر لیٹا درد سے تڑپ رہا تھا
” چلو ہمارے ساتھ نہیں تو اب اگلی گولی اس کو لگے گی ۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین اور رامین ابھی بھی گاڑی میں ہی بیٹھی تھی اس کی بات سن کر حورین ایک دم گاڑی سے باہر نکلی
” نہیں آپی ۔۔۔۔۔ “
رامین نے حورین کو روکنا چاہا لیکن حورین گاڑی سے باہر نکل چکی تھی
” کیا چاہتے ہو ۔۔۔۔ میری بہن کو کچھ مت کہنا ۔۔۔۔”
حورین نے ہمت کر کے کہا آنکھوں میں بے حد ڈر تھا
اس سے پہلے حورین کچھ کہتی ان میں سے ایک نے اس کے منہ پر رومال دکھ کر اسے بے ہوش کر دیا اور اپنی گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے
رامین کو اپنی آنکھوں پہ یقین ہی نہیں آرہا تھا اس کی جان سے پیاری بہن کو اس کی آنکھوں کے سامنے سے کوئی لے گیا
ڈرائیور ابھی تک سڑک پر لیٹا تڑپ رہا تھا
کچھ دیر بعد رامین کا سکتہ ٹوٹا تو اس نے اپنے پاؤں میں پڑا موبائل اٹھایا جوکہ ڈر کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر وہی گاڑی میں گر گیا تھا پھر ایک نمبر ملا کر فون کان سے لگا لیا دوسری رنگ پر ہی فون اٹھا لیا گیا
” جی میرا بیٹا ۔۔۔۔۔ “
سلمان شاہ کی آواز ابھری وہ اس وقت میٹنگ میں تھے لیکن فون پر حورین کی کال آتا دیکھ کر فورا کال پک کی
” پاپا ۔۔۔۔۔ لے گئے ۔۔۔۔۔ لے گئے پاپا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
رامین اپنے حواسوں میں نہیں تھی
” رامین بیٹا ۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔”
رامین کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر سلمان شاہ بھی گھبرا گئے
” پاپا وہ ۔۔۔۔ وہ آپی کو لے گئے ۔۔۔۔۔۔”
رامین نے روتے ہوئے بتایا
” کیا کہہ رہی ہو رامین ۔۔۔۔۔ کہاں ہے حورین ۔۔۔۔ بتاؤں ۔۔۔ کہاں ہو تم لوگ۔۔۔۔”
سلمان شاہ اب اٹھ چکے تھے اور ان کا رخ پارکنگ کی طرف تھا رامین نے روتے ہوئے انہیں ساری صورتحال بتائی
وقت گزر رہا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ عاشر اور پاکیزہ کے درمیان فاصلے بھی کم ہو رہے تھے
عاشر کو پاکیزہ کی عادت ہو گئی تھی آہستہ آہستہ پاکیزہ نے عاشر کے دل اور زندگی میں اپنی جگہ بنا لی
بیہ پانچ سال کی تھی جب پاکیزہ کو اپنے امید سے ہونے کا پتہ چلا
وہ ابھی لان میں بیٹھی عاشر کے آفس سے آنے کا انتظار کر رہی تھی ابھی وہ اپنی گزری زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی چار سال اس نے کتنے صبر سے گزارے عاشر کی بے رخی برداشت کی
کہ اسے وہ رات یاد آئی جب ان دونوں کے درمیان کے فاصلے ختم ہوئے تھے
” یہ کیا کہہ رہے تھے آپ عاشر ابھی فون پہ ۔۔۔۔۔۔۔ “
عاشر کمرے میں ٹہلتا ہوا فون کان سے ہٹاتے ہوئے موڑا تھا جب اسے اپنے پیچھے سے پاکیزہ کی آواز آئی وہ اس کے چہرے سے اندازہ لگا چکا تھا کہ پاکیزہ اس کی فون پہ ہونے والی گفتگو سن چکی ہے
” وکیل سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ تمہاری اور اپنی طلاق کے سلسلے میں ۔۔۔۔ “
عاشر نے عام سے لہجے میں کہا یہ جانے بغیر کہ مقابل پر اس کے کہے گئے الفاظ سن کر قیامت گزر رہی تھی
” عاشر پلیز ۔۔۔۔۔۔”
پاکیزہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جبکہ عاشر پاکیزہ سے نظریں چرا رہا تھا
” عاشر میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔ پلیز عاشر ۔۔۔۔۔ ایسے نہیں کریں ۔۔۔۔۔”
یہ کہتے ہی پاکیزہ نے عاشر کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑے جن کو عاشر نے فورا تھام لیا
” پاکیزہ ۔۔۔۔۔۔ “
عاشر کو کچھ بھی موقعہ دیے بغیر پاکیزہ عاشر کے گلے لگ گئی
” یہ داغ مت دیں مجھے عاشر میرے ماں باپ سہہ نہیں سکیں گے ۔۔۔۔۔ عاشر پلیز میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔ پلیز عاشر۔۔۔ پلیز میں بہت پیار کرتی ہوں آپ سے ۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی آپ کے بغیر ۔۔۔۔ پلیز نہ کریں ایسا ۔۔۔۔ میں کبھی کچھ شکایت نہیں کروں گی جیسے آج تک نہیں کی ۔۔۔۔۔۔ آپ اور بیہ ہی میری زندگی ہیں مت چھینں مجھ سے میری زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز عاشر ۔۔۔۔۔ “
اس وقت عاشر کو پاکیزہ کی حالت دیکھ کر خود پر غصہ آیا کیونکہ اس کی وجہ وہ خود تھا وہ پاکیزہ کے منہ سے اپنے لئے اظہار محبت سن کر وہ اور شرمندہ ہوا
وہ پاکیزہ کے وجود کو ہمیشہ نظر انداز کردیتا تھا جبکہ پاکیزہ اپنا ہر فرض نباہ رہی تھی اور بیہ کو بھی سگی اولاد کی طرح پال رہی تھی
” پاکیزہ۔۔۔۔۔۔”
اس بار عاشر کی آواز میں ملال تھا اسے آج شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے پاکیزہ کے ساتھ ہمیشہ غلط کیا
” ن نہیں پلیز نہیں عاشر ۔۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا مجھے پتہ ہے آپ کہیں گے کہ آپ کی یہ بات مان لوں لیکن نہیں میں نہیں مانوں گی بلکل نہیں مانوں گی کبھی نہیں ۔۔۔۔۔”
پاکیزہ ابھی بھی عاشر کے گلے لگی ہوئی تھی معصومیت سی کہتی وہ عاشر کے دل کو پگھلا رہی تھی
پھر عاشر نے ایک فیصلہ کرتے ہوئے پاکیزہ کو کے گرد بازوں کا گھیرا تنگ کر دیا
” ایم سوری فار ایوری تھنگ ۔۔۔۔۔۔ ہر چیز کے لئے معاف کر دو مجھے۔۔۔۔ پلیز پاکیزہ ۔۔۔۔ آئندہ اس بارے میں بات کبھی کروں گا تم سے ۔۔۔۔ “
عاشر کی آواز بھی بھرائی ہوئی تھی
” ماما “
بیہ کی آواز پر پاکیزہ حال میں واپس آئی اور اپنے سامنے پانچ سالہ پنک فراک پہنے بالوں کی دو پونیاں باندھے ، کھڑی دیکھا
” جی ماما کی جان ۔۔۔۔ “
محبت سے کہتے ہی پاکیزہ نے بیہ کو اپنی گود میں بیٹھایا اور اس کے دونوں گالوں کو چوما
” ماما ۔۔۔۔ پاپا کب آئیں گے ۔۔۔۔۔ “
پاکیزہ کی گود میں بیٹھی وہ روز کی طرح آج بھی عاشر کا انتظار کر رہی تھی
” ماما کی جان بس آنے والے ہیں آپ کے پاپا۔۔۔۔۔۔ “
پاکیزہ نے پیار سے کہا
“جب تک پاپا نہیں آتے آپ ماما سے باتیں کرو ۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ بیہ ۔۔۔۔۔۔ کیا بیہ کو چھوٹا بھائی یا بہن چاہیے ۔۔۔۔ “
بیہ سے سوال کرنے کے بعد پاکیزہ بیہ کے چہرے کو بغور دیکھنے لگی بیہ بلکل عاشر کی جیسی تھی اس کے نین نقش بلکل اپنے باپ جیسے تھے ۔۔۔۔ بے ساختہ پاکیزہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس کا بچہ بھی بیہ کی طرح ہو
” چاہیے ماما بیہ کو چاہیے ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے ماہا کا چھوٹا بھائی ہے مجھے بھی ویسا ہی بھائی چاہیے ۔۔۔ “
بیہ کا جواب سن کر پاکیزہ اور خوش ہوئی
” او کے میری جان آپ اللہ سے دعا کرو اللہ خیر سے آپکو بھائی دے ۔۔۔۔۔۔”
” کب ماما “
” جلد ہی بیٹا ۔۔۔۔ “
” سچی ماما ۔۔۔۔۔ “
” پرنسز ۔۔۔۔۔ “
عاشر کی آواز پر دونوں نے عاشر کو دیکھا عاشر نے بیہ کو اٹھا کر پیار کیا
” پرنسز آپ اندر جاؤ ماما پاپا آ رہے ہیں “
عاشر پاکیزہ اور بیہ کی گفتگو سن چکا تھا اسی لئے اکیلے میں پاکیزہ سے بات کرنا چاہتا تھا
” یہ ابھی جو بات تم بیہ سے کہہ رہی تھی وہ سچ ہے ۔۔۔۔”
پاکیزہ کے ساتھ بیٹھتا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا پوچھنے لگا
” جی۔۔۔۔”
عاشر کے پوچھنے پر پاکیزہ نےکہا
” پاکیزہ تم ۔۔۔ میں مطلب ہم دونوں ۔۔۔۔۔ “
عاشر نے جذبات سے چور لہجے میں کہا
” جی ۔۔۔۔ “
کہتے ہی پاکیزہ عاشر کے سینے سے لگ گئی
” تھینکس پاکیزہ ۔۔۔۔۔”
محبت سے کہا گیا
ہاں بولو ۔۔۔۔۔۔ “
وہ اس وقت تھانے میں بیٹھا تھاوہ کافی مصروف تھا جب اصغر کی کال آئی
ایک ہاتھ سے فائل پر کچھ لکھتا دوسرے ہاتھ سے فون کو کان سے لگائے وہ بولا تھا
” شاہ جی کام ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔”
اصغر نے ازلی تابعداری سے کہا
اصغر کی بات سن کر فائل پر لکھتے ہاتھ رکے
” ہممممم ۔۔۔ ابھی کہاں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔”
عام سے لہجے میں پوچھا گیا
” شاہ جی وہ بی بی جی ابھی حویلی میں ہیں ۔۔۔۔ “
اصغر نے جواب دیا
” ہمممممم ۔۔۔۔”
یہ کہتے ہی زامن نے کال کاٹ دی اور پھر فائل پر کام کرنے لگا جبکہ اب دھیان کہیں اور تھا
” زامن ۔۔۔۔”
زامن کسی سوچ میں گم تھا جب علی نے اسے پکارا علی کے پکارنے پر زامن نے اس کی طرف دیکھا
” ہاں ۔۔۔۔۔ “
زامن نے فائل بند کر کے ایک طرف رکھی اور اب وہ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا رہا تھا
” دونوں ساتھ چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی دیر ہو گئی ہے ویسے بھی ۔۔۔۔۔ “
گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی زامن کو اٹھتا دیکھ کر علی جلدی سے بولا
” نہیں تم گھر جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کچھ کام ہے پہلے وہ کرنا ہے ۔۔۔۔”
زامن کو حویلی جانے سے پہلے کہیں اور بھی جانا تھا اور ویسے بھی ابھی وہ علی کو کچھ نہیں بتا سکتا تھا اسی لئے فورا منا کر دیا
” اوکے باس ۔۔۔ جو حکم ۔۔۔۔۔ “
علی نے سر کو خم دے کر کہا جبکہ زامن اسے ایک نظر دیکھتا وہاں سے جا چکا تھا
Like nd Comments ☺
