Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

6 قسط

تھانے سے نکلنے کے بعد زامن کافی دیر سڑکوں پر بے مقصد گاڑی گھماتا رہا جب تھک گیا تو گاڑی کا رخ حویلی کی جانب کیا جب اس نے حویلی میں قدم رکھا تو رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے
” شاہ جی کوئی حکم ۔۔۔۔۔۔۔ ” زامن جب حویلی آیا تو اصغر اسے باہر ہی ملا تابعداری سے سر جھکائے کہا

” اماں کہاں ہیں ۔۔۔۔۔”
عاشر نے رک کر اماں کا پوچھا جو کہ اس کی کافی پرانی ملازمہ تھی زامن کو انہوں نے ہی پالا تھا اس لئے زامن ان کو اماں کہتا تھا

” شاہ جی وہ بی بی جی کے ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔ “
اصغر نے کہا

” ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو اب اصغر ۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے اسے جانے کا کہا اور خود اپنے روم میں چلا گیا

گھڑی ، والٹ ، موبائل اور پسٹل ڑریسنگ ٹیبل پر رکھ الماری کی جانب گیا اور الماری سے آرام دہ لباس نکال کر اب وہ باتھ لینے چلا گیا دس منٹ بعد باتھ روم سے باہر آیا تو ٹراؤزر اور شرٹ پہنے ہوئے تھا اور تولیے سے بال خشک کر کے اب وہ شیشے کے سامنے کھڑا سر میں کنگھی کر رہا تھا

” اوو اہم کام تو بھول ہی گیا ۔۔۔۔ “

اب وہ کمرے سے باہر نکلا سیڑھیاں اتر کر دائیں طرف والے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا تو سامنے گٹنوں میں سر دیے ایک لڑکی بیٹھی تھی بلیک جینز اور سرخ رنگ کی گٹنوں سے تھوڑی اوپر تک آتی شرٹ پہنے ، گلے میں سٹولر مفلر کی طرح لپیٹے بھورے بال کیچر میں قید تھے لیکن کچھ لیٹیں باہر نکل رہی تھی اس کو بغور دیکھنے کے بعد زامن اماں کی طرف متوجہ ہوا جو کہ اس کے پاس بیٹھی اس کو کچھ کہہ رہیں تھی زامن کو دیکھتی خاموش ہو گئیں پاس ٹرے میں کھانا نا جانے کب سے پڑا ٹھنڈا ہو چکا تھا

” اماں میں آ گیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ آرام کریں جا کر ۔۔۔ “
زامن کے کہنے پر اماں نے ایک نظر اس معصوم لڑکی کو دیکھا جو جب سے آئی تھی روئے جا رہی تھی پھر اٹھ کر چلی گئیں اس وقت حویلی میں کوئی ملازم نہ تھا سب اپنے کوارٹر میں جا چکے تھے

زامن کی آواز پر حورین نے گٹنوں سے سر اٹھا کر زامن کو دیکھا

” ہیلو سویٹ ہارٹ ۔۔۔۔۔۔ “
انداز محبت بھرا رکھا گیا

” ک ک کون ہیں آپ ۔۔۔۔۔ “
حورین کی آواز لڑکھڑا رہی تھی مسلسل رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں زامن کے منہ سے سویٹ ہارٹ سن کر اس کا دل بری طرح گھبرا گیا تھا

” بتا دیتا ہوں لیکن ۔۔۔۔۔ پہلے میرے ساتھ چلو ۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے آگے بڑھ کر حورین کو کاندھوں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پیچھے زبردستی چلانے لگا

” نہیں پلیز نہیں ۔۔۔۔۔۔ کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ مجھے ۔۔۔۔۔ پلیز چھوڑیں ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔”
حورین روتے ہوئے اپنا ہاتھ زامن کے ہاتھ سے چھوڑا رہی تھی لیکن بے سود

” خاموشی سے چلو ۔۔۔ شور پسند نہیں مجھے ۔۔۔۔ “
زامن نے رک کر سخت لہجے میں کہا اور پھر اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا

” پلیز چھوڑ دیں ۔۔۔۔ جانے دیں مجھے میرے ماما پاپا پریشان ہو ر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
الفاظ ابھی حورین کے منہ سے پورے ادا بھی نہیں تھے کہ ایک زور دار تھپڑ زامن نے اسے مارا تھا تھپڑ اتنا زور سے لگا تھا کہ حورین کا ہونٹ پھٹ گیا اور خون جاری ہو گیا

” میں بات دوہرانے کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔۔”
حورین کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں دبوچ کر غصے سے کہا

اور پھر سیڑھیاں چڑھتا ہوا زامن ، حورین کو اپنے کمرے میں لا چکا تھا اور کمرے کا دروازہ لوک کرکے اس کی طرف مڑا

” دور رہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔ پلیززز مجھے چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔ میرے قریب مت آنا۔۔۔”

زامن جیسے جیسے حورین کی طرف قدم بڑھا رہا تھا حورین ویسے ہی ڈرتے ہوئے پیچھے ہوتی جا رہی تھی کہ اچانک زامن نے حورین کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا

” مائی ڈیئر وائف ۔۔۔۔۔ اپنے شوہر کو نہیں پہچان رہی آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا آپ کی یادداشت کو ۔۔۔۔۔ “
حورین کو کمر سے پکڑ کر اب وہ اسے اپنے بے حد قریب کر چکا تھا نظر حورین کے لرزتے ہونٹوں پر تھی

زامن کی نظروں سے گھبرا کر حورین نے اپنی آنکھیں جھکا لیں لیکن دل زور سے دھڑک رہا تھا

” آ آپ ۔۔۔۔۔۔۔ “
بے یقینی سے کہا گیا جبکہ آنکھیں ہنوز جھکی ہوئیں تھیں

” ہاں میری جان۔۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ سید زامن علی شاہ ۔۔۔۔ “
اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ مغرورانہ انداز میں کہہ رہا تھا

” پلیز جانے دیں ۔۔۔۔ ماما پاپا پریشان ہوں گے ۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔”
اب حورین نے ذرا سی نظریں اٹھا کر زامن کو دیکھا لیکن اس کی نظروں کی تپش سے گھبرا کر فورا ہی آنکھیں بند کر لیں

لیکن زامن نے اسے بے دردی سے اپنے سے دور بیڈ پر پھینکا
اس طرح اچانک زامن نے اسے بیڈ پر پھینکا تو وہ سہم گئی

” آج نہیں ۔۔۔۔۔ اور کچھ مت سوچوں۔۔۔۔۔ صرف میرے بارے میں سوچو ۔۔۔۔”
زامن نے خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے بیڈ کی سائیڈ دراز کو کھول کر سگریٹ نکالی اور چلتا ہوا صوفے کی جانب آیا
صوفے پر بیٹھ کر ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل کے اوپر رکھ کر اب وہ سگریٹ سلگا چکا تھا نظریں ہنوز حورین کی طرف تھیں جو کہ بیڈ پر سمٹی ہوئی بیٹھی تھی اور شاید کانپ بھی رہی تھی

” اب وقت آگیا ہے کہ ہم دونوں ساتھ رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ کچھ حساب بھی برابر کرنے ہیں مجھے تمہارے گھٹیا باپ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
جذبات سے عاری لہجے میں کہا گیا

” نہیں میرے پاپا گھٹیا ۔۔۔۔۔ میرے پاپا کے بارے میں ایسے بولنے کی آپ کی ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔۔۔۔ گھٹیا میرے پاپا نہیں آپ ہیں ۔۔۔۔ کیونکہ آپ مجھے کڈنیپ کر کے لائے ہیں آپ کو اندازہ ہے اس وقت میرے ماں باپ پر کیا گز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

خود کو مضبوط ظاہر کرتی وہ بولی تھی اس کو بلکل اچھا نہ لگا تھا زامن کا اس کے باپ کو برا کہنا

ابھی حورین بول ہی رہی تھی جب زامن اس کی طرف آیا اور بالوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا

” بدتمیز ، گھٹیا ، بے غیرت لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری اتنی جرات کہ تم زامن علی شاہ کے سامنے اونچی آواز سے بات کرو ۔۔۔۔۔ سارے پر پرزے کاٹ دوں گا میں ابھی تمہارے ۔۔۔۔۔۔۔ بد کردار ہو تم ۔۔۔۔۔ غیر مردوں کے سامنے ایسے بے ہودہ لباس میں گھومتی پھرتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ “
اشارہ اس کے لباس کی طرف تھا ، اس کے بالوں کو سختی سے جھٹکا دے کر کہا اور وہ ساتھ دو تین زور دار تھپڑ بھی اسے مار چکا تھا

” آہ ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ “
کچھ دیر پہلے والی ہمت اب کہیں نہیں تھی حورین میں ، چہرے پر ہاتھ رکھتی وہ زامن سے بے حد خوفزدہ تھی

” بکواس بند رکھو اپنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اسے اس وقت شدید غصہ آرہا تھا غصے میں کہتا حورین کو ایک دفعہ پھر بیڈ پر پھینکتا سگریٹ اور لائٹر لے کر ٹیرس میں چلا گیا اور حورین زمین پر بیٹھتی چلی گئی آنسو آنکھوں سے ہنوز جاری تھے


زامن کا اسے یوں اغوا کروانا پھر اس کا رویہ اسے بلکل کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ جانتی تھی کہ اس کا نکاح بچپن میں ہو چکا ہے لیکن پھر خاندانی مسائل اور جان کے خطرے کی وجہ سے سلمان شاہ اپنی فیملی کو ملک سے باہر لے گئے اور پھر کبھی زامن اور حورین کے نکاح کا ذکر نہیں ہوا اور نہ کبھی دونوں خاندان آپس میں ملے


آج حویلی میں جشن منایا جا رہا تھا
کیونکہ آج حویلی کا وارث پیدا ہوا تھا
عاشر اور پاکیزہ کی زندگی میں بہار آگئی بیہ کی بھائی کی خواہش بھی پوری ہو گئی تھی آج وہ اپنی سب دوستوں کو خوشی خوشی بتا رہی تھی کہ اس کا بھائی آیا ہے

ناہید بیگم نے اپنے پوتے کا نام سید زامن علی شاہ رکھا
عاشر اور پاکیزہ کے بھی چہرے سے مسکراہٹ جدا نہیں ہورہی تھی

آج پاکیزہ کو محسوس ہورہا تھا کہ آج اس کو صبر کا پھل مل گیا زامن کے نین نقش بلکل عاشر کی طرح تھے
زامن کے آنے سے حویلی میں خوشیاں آگئیں تھیں

ناہید بیگم ہر وقت اپنے پوتے اور پوتی میں لگی رہتی تھیں
ان کی جان بس بیہ اور زامن میں تھی

سب کا بے حد پیار اور لاڈ کے باوجود زامن بگڑا نہ تھا وہ ایک بہت تمیز دار کم گو بچہ تھا
اتنے شان و شوکت کے بعد زامن کی طبیعت میں عاشر کی طرح روعب آ گیا تھا

زامن کے پیدا ہونے کے بعد بھی پاکیزہ نے بیہ اور زامن میں کبھی فرق نہ کیا ہر چیز پر پہلا حق بیہ کو دیا جاتا پاکیزہ کی پرورش ہی تھی کہ یہ جاننے کے باوجود پاکیزہ ، بیہ کی سگی ماں نہیں ہے پھر بھی زامن اور بیہ میں بے حد پیار تھا


آج حویلی میں کافی رونق لگی تھی سب لوگ اس وقت لاؤنج میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے عاشر علی شاہ اور پاکیزہ ایک ساتھ ڈبل سیٹر صوفے پر بیٹھے تھے ، احمد سلمان شاہ اور سمعیہ بھی دوسری طرف ڈبل سیٹر صوفے پر بیٹھے تھے جبکہ ناہید بیگم ان سب کے سامنے والے صوفے پر بیٹھی تھیں ان کی دائیں طرف حویلی کا اکلوتا وارث ، ان کا پوتا زامن علی شاہ بیٹھا تھا اور بائیں طرف لاڑلی پوتی حورین بیٹھی تھی جبکہ گود میں تین سالہ رامین بیٹھی تھی

” السلام علیکم ۔۔۔۔۔۔۔ “
بیہ کی آواز پر سب نے اس کی طرف دیکھا جوکہ ابھی ہی کالج سے آئی تھی سب سے مل کر اب وہ عاشر اور پاکیزہ کے درمیان میں جگہ بنا کر بیٹھ چکی تھی اور پھر سب سے باتوں میں مصروف ہو گئی

” ماشااللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے بچوں کی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے ۔۔۔۔۔۔۔ “
اپنے بچوں کو دیکھتی ہوئے ناہید بیگم نے دل میں دعا کی


” امی جان آپ نے کوئی ضروری بات کرنی تھی کیا ۔۔۔۔ “
عاشر نے سب کے آتے ہی ناہید بیگم کو مخاطب کیا

اس وقت وہ سب ناہید بیگم کے کمرے میں تھے رات کا وقت تھا سب بچے اپنے کمروں میں تھے جب ناہید بیگم نے اپنے دونوں بیٹوں عاشر شاہ ، سلمان شاہ اور دونوں بہوؤوں پاکیزہ اور سمعیہ کو اپنے کمرے میں بلوایا

” آج میں نے ایک فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ناہید بیگم نے سب کو ایک نظر دیکھتے ہوئے کہا

” جی امی جان کیا حکم ہے ۔۔۔۔۔ “
پاکیزہ نے نہایت احترام سے کہا

” جی امی آپ حکم کریں ۔۔۔۔۔ “
سلمان اور سمعیہ بھی ایک ساتھ بولے

” بیہ میری بڑی پوتی ہے اب اس کے شادی کے معاملات چلیں گے ایک دو اچھا رشتہ بھی آیا ہے لیکن ثناء نے اپنے بیٹے کے لیے اسے مانگا ہے اور مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ اور تم دونوں کا کیا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔ “
عاشر اور پاکیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا

عاشر نے پاکیزہ کو دیکھا پاکیزہ نے آنکھوں کے اشارے سے اپنی رضامندی ظاہر کی

” امی ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
عاشر نے خوش دلی سے کہا

” یہی اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن بچوں کی شادیوں سے پہلے میں چاہتی ہوں کچھ اہم کام ہو جائیں اور ویسے بھی میری زندگی کا بھی کیا بھروسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ایک پل کو وہ رکیں
” اللہ آپ کو لمبی زندگی دیں امی ۔۔۔۔۔۔ “
عاشر نے فورا کہا

” بیٹا زندگی کا پتہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔ “
انہوں نے بات پھر جاری رکھی
” میں نے زمین تم دونوں میں برابر میں تقسیم کی ہے ہاں دونوں فیکٹریاں عاشر کے نام کی ہیں دونوں آفس بھی عاشر کے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سلمان تم نے جب اپنا نیا کاروبار شروع کیا تھا تو تم نے اس وقت ایک فیکٹری لے لی تھی اور بھی بہت بار تم بینک سے بھاری رقم نکلوا چکے ہو تو اب تمہاری ایک فیکٹری ہے لیکن میں اپنی تینوں پوتیوں کے نام اپنے حصے کی زمین کر رہی ہوں آج ہی وکیل سائن کروا لے گا تم لوگوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کو کسی بات سے اعتراض تو نہیں ۔۔۔۔۔۔ “
جب سب نے رضامندی ظاہر کی تو ناہید بیگم پھر گویا ہوئیں

” زامن اس حویلی کا اکلوتا وارث ہے حویلی کے اصولوں کے مطابق میں نے یہ حویلی زامن کے نام کردی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
سب کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پھر سے اپنی بات جاری رکھی

” بیہ بھی اپنی پھوپھی کے گھر جائے گی اس کی طرف سے اطمینان ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ بس میں چاہتی ہوں میرے زامن کی دلہن حورین بنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اپنے گھر میں بچی موجود ہے تو باہر کی کیوں ۔۔۔۔۔۔ میری حورین راج کرے گی یہاں ۔۔۔۔۔۔ اب تم لوگ بتا دو کیونکہ ماں باپ تو تم ہو ۔۔۔۔۔۔”
ناہید بیگم نےکہنے کے بعد سب کے تاثرات دیکھے

” امی مجھے تو آپ کے فیصلے سے بہت خوشی ہوئی ہے ۔۔۔”
سب سے پہلے سمعیہ بولیں خوشی ان کے چہرے سے عیاں تھی

” جی امی میری بھی یہی خواہش ہے حورین ہی ہمارے زامن کی دلہن بنے ۔۔۔۔ “
پاکیزہ بھی خوش دلی سے بولی

” امی حورین کے لیے زامن سے اچھا رشتہ ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں آپ کے فیصلے سے ۔۔۔۔۔۔”
سلمان کو بھی ماں کا یہ فیصلہ اچھا لگا تھا آخر کو حویلی کے اکلوتے وارث سے ان کی بیٹی کے رشتے کی بات ہو رہی تھی

” امی آپ نے بہت اچھا فیصلہ کیا ۔۔۔۔”
عاشر بھی خوش تھا

” ٹھیک ہے پھر اس جمعہ کو زامن اور حورین کا نکاح کروا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”
ناہید بیگم کی بات پر سب نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا

” امی دونوں بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال سے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے ۔۔۔۔۔ بچے بڑے ہوجائیں ۔۔۔۔ابھی تو دونوں چھوٹے ہیں “
سب سے پہلے عاشر نے ماں کو کہا انہیں یہ بات سہی نہیں لگی تھی

” جی امی بچے چھوٹے ہیں ابھی ۔۔۔۔۔۔ ابھی منگنی کر دیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد نکاح کردیں گے ۔۔۔۔ “
پاکیزہ نے کہا

” امی اتنی جلدی ۔۔۔۔۔۔۔ ” سمعیہ نے بھی ساس کو کہا

” میری زندگی کا کیا پتہ۔۔۔۔۔۔ کل کا سورج دیکھ پاؤ گی بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بس اپنے زامن اور حورین کا نکاح اپنی آنکھوں کے سامنے کروانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔ اگر تم لوگوں کو اعتراض ہے تو ٹھیک ہے میں ایسے ہی مر جاؤں گی اپنے بچوں کی خوشیاں دیکھے بغیر ۔۔۔۔۔۔ “
ناہید بیگم نے مصنوعی ناراضی سے کہا

” کیسی باتیں کر رہی ہیں امی آپ ۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کو لمبی زندگی دیں گے ۔۔۔۔۔۔ ہم اس لیے کہہ رہے ہیں کہ بچے چھوٹے ہیں ابھی۔۔۔۔۔۔۔ چلیں زامن تو پندرہ سال کا بالغ ہے ۔۔۔۔ لیکن امی حورین کم سن بچی ہے ۔۔۔۔۔۔ “
عاشر نے سمجھانے والے انداز میں کہا

” میرا بس یہی فیصلہ ہے ۔۔۔۔۔ اگر اعتراض ہے تو ٹھیک ہے تم لوگوں کی مرضی ۔۔۔۔۔ اب تم لوگ جا سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔ “
ناہید بیگم اب ناراضگی سے بولیں

” امی مجھے اور سمعیہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔ “
سلمان نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا

” امی ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ ” پاکیزہ نے عاشر کو آنکھوں کے اشارے سے منا کرنے کو روکا

” جی امی جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔۔”
عاشر نے بھی بحث ختم کی

” ٹھیک ہے جمعہ کو زامن اور حورین کا نکاح بہت دھوم دھام سے ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔”


Like nd comments ☺