Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

10 قسط

زامن کے جانے کے بعد بھی وہ ادھ موئی سی ٹھنڈے فرش پر بے حرکت پڑی تھی

وہ شاید درد کی شدت کی وجہ سے بے ہوش تھی
کتنی ہی دیر وہ یوں ہی پڑی رہی
شام کے وقت اماں کمرے میں داخل ہوئیں تھیں
لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر ان کا دل کانپ اٹھا تھا
حورین کی حالت اتنی بری تھی کہ اماں نے یکدم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ نکلنے سے روکا تھا

وہ فورا اس کی جانب لپکی تھیں

” بہو رانی ۔۔۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔۔۔”
حورین کے قریب پہنچ کر وہ چلائیں تھیں

” بہو رانی ۔۔۔۔۔ اٹھو بیٹیا ۔۔۔۔۔ ہائے یہ کیا حال کر دیا زامن شاہ نے ۔۔۔۔۔۔ ہائے نہیں شاہ پتر ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ “

انہیں یقین نہ آیا تھا کہ زامن اتنا ظالم ہو سکتا ہے انہوں نے زامن کو پالا تھا پاکیزہ شاہ سے زیادہ انہوں نے زامن کو پالا تھا عاشر شاہ کے بعد پاکیزہ شاہ کو تو اتنا گہرا صدمہ لگا تھا کہ وہ چپ سی ہو گئیں تھیں بس اپنے کمرے تک محدود رہتیں یہاں تک کہ زامن کو بھی فراموش کر چکی تھیں
اماں کے لئے اس بات کو ماننا آسان نہیں تھا کہ زامن کسی کم سن لڑکی پر اتنا ظلم ڈھا سکتا ہے

بہت مشکل سے انہوں نے حورین کو سہارا دیا اور بیڈ تک لائیں اور اسے آوازیں دینے لگیں لیکن حورین میں ہمت ہی کہاں تھی کہ وہ بولتی بس ہلکی سی آنکھیں وا کر کے پھر بند کر دیں

” ہائے ۔۔۔ اب کیا کروں ۔۔۔۔۔ ڈاکٹرنی کو کیسے بلاؤں ۔۔۔۔۔ کوثر کو کہتی ہوں ۔۔۔۔ “
وہ پریشانی میں سوچتے ہوئے کمرے سے نکلی تھیں اور کوثر کو ڈاکٹر کو بلانے کا کہا

کچھ دیر بعد ڈاکٹر آئیں تھی حورین کی حالت دیکھ کر افسوس سے بولی تھیں

” اماں جی ان کو ہسپتال منتقل کرنا ہوگا ان کی حالت بہت بری ہے ۔۔۔۔۔”

” نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔ ہسپتال نہیں لے جا سکتے ۔۔۔۔ شاہ جی کی اجازت کے بغیر ۔۔۔۔ آپ ان کو دوا دے دیں ۔۔۔۔۔ “

اماں ، ڈاکٹر فرحت کی بات سن کر جلدی سے بولیں تھیں
” لیکن اماں جی ۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر فرحت نے کچھ کہنا چاہا تھا لیکن اماں نے بیچ میں ہی بات کاٹ دی

” بٹیا ۔۔۔۔ کوئی دوائی دے دو بہو رانی کو ۔۔۔۔ ہسپتال لے جانا وہ بھی شاہ جی کی اجازت کے بغیر ناممکن ہے ۔۔۔۔”
” چلیں جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔۔”

ڈاکٹر فرحت واقف تھیں حویلی میں زامن کی اجازت کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا اس لیے زیادہ نہ بولی اور حورین کو انجیکشن لگایا پھر کچھ دوائیاں دے کر چلیں گئیں

اماں بھی کچھ دیر حورین کے پاس بیٹھی رہیں پھر اس کے لئے سوپ لے کر آئیں جسے حورین نے بمشکل تھوڑا سا پیا
اماں نے اسے دوائی دے کر سلا دیا


” واٹ ۔۔۔۔۔۔”
علی زامن کی بات سن کر زور سے چیخا تھا

وہ دونوں اس وقت گھر جانے کے لیے نکلے تھے زامن نے علی کو بتایا کہ وہ حورین کو گھر لا چکا ہے جس پر علی شاکڈ تھا

” او ہو چیخ کیوں رہا ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک نظر علی کو دیکھتے ہوئے کہا

” یار ایسا کوئی کرتا ہے کیا تو بھابھی کو گھر لے آیا اور مجھے اب بتا رہا ہے ۔۔۔۔۔ آج پتا چل گیا مجھے کتنا اہم ہوں میں تیرے لیے ۔۔۔۔ “
زامن کو واقعی برا لگا تھا

” یار اس میں ایسا کیا ہے جو میں تجھے بتاتا ۔۔۔۔؟ ویسے بھی یہ کوئی اتنی اہم بات نہیں ہے ۔۔۔۔ “
زامن زچ ہوتے ہوئے بولا تھا

” ہاں اگر اہم نہیں تھی تو ابھی بھی کیوں بتایا مجھے ۔۔۔۔۔ “
علی نے پھر سے منہ بناتے ہوئے کہا تو زامن نے اسے آنکھیں دیکھائی

” اچھا ولیمہ کب کر رہا ہے ۔۔؟ میں پہلے بتا رہا ہوں میں آج بھابھی سے ملنے چلوں گا حویلی ۔۔۔۔۔۔۔ “
علی نے اپنا رخ زامن کی طرف کیا تھا

” کوئی ضرورت نہیں ہے اور رہی بات ولیمے کی تو جب میں دوسری شادی کروں گا تب کرو گا ولیمہ ۔۔۔۔ ویسے بھی یہ شادی نہیں انتقام ہے ۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے گھورتے ہوئے کہا

” زامن یہ کیا کہہ رہا ہے تو یار ۔۔۔۔؟ میں مانتا ہوں تو سلمان سے نفرت کرتا ہے لیکن اس کے کیے کی سزا تو اس کی بیٹی کو کیسے دے سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ “
علی جانتا تھا زامن کوئی بات بے معنی نہیں کرتا جو کہتا ہے وہ ہر ہال میں کرتا ہے

” علی میرا دماغ خراب نہ کر اور چپ رہ ۔۔۔۔ “
زامن نے جھنجھلا کر کہا

” آنٹی کو بتا دیا ۔۔۔؟ “
علی پھر بولا تھا

علی کی بات پر زامن نے صرف اثبات میں سر ہلایا تھا علی بھی پھر کچھ نہیں بولا


علی کو گھر ڈراپ کر کے زامن حویلی آیا تو رات کے دس بج رہے تھے
کمرے میں داخل ہوا تو کمرے میں بہت اندھیرا تھا سوئچ بورڈ کی طرف ہاتھ بڑھا کر لائیٹ اون کی

کمرے میں روشنی ہوئی تو زامن کی نظر بیڈ پر پڑے وجود پر گئی وہ حورین کی طرف بڑھا تھا جو دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی

زامن نے بیڈ کے قریب آ کر حورین کے وجود سے بلنکٹ ہٹایا اب اسے صبح کا واقعہ یاد آیا حورین نے ابھی بھی وہی کپڑے پہن رکھے تھے جو کچھ جگہوں سے پھٹ چکے تھے

اور حورین کے جسم کے زخموں کو واضح کررہے تھے حورین کی حالت دیکھ کر زامن کو شرمندگی ہوئی
زامن نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور حورین کی پیشانی کو چھوا پھر اپنے ہونٹ پیشانی پر رکھ دے
اب وہ پیچھے ہوا اور چینجنگ روم سے حورین کے لیے کپڑے لایا

حورین کو چینج کروا کر اس نے بلنکٹ اوڑھا دیا
پھر خود چینج کر کے آیا

زامن کو بھوک تو لگی تھی لیکن دل نہیں کیا کھانا کھانے کا ۔۔۔۔ حورین کی حالت دیکھ کر اس کا دل اداس ہو رہا تھا

اب وہ خود بھی بیڈ پر حورین کے قریب لیٹا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر سونے کی کوشش کرنے لگا


صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو حورین ابھی بھی اس کی باہوں میں سو رہی تھی

رات بھر حورین نیند میں ڈرتی رہی تھی کبھی سسکنے لگتی تھی تو کبھی کانپنے لگتی اسی لئے زامن بھی ساری رات بے چین رہا

ابھی بھی حورین نیند میں نا جانے کیا کہہ رہی تھی زامن نے غور کیا

” بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔ مج مجھے نہیں رہنا ۔۔۔۔وہ مارتے ہیں ۔۔۔”
حورین نیند میں بھی خوف سے بول رہی تھی زامن کو اندازہ تھا کہ وہ کل سے اس سے بہت ڈر گئی ہے

حورین سے دور ہوتا وہ اٹھا تھا اور شاور لے کر آیا تو ملازمہ ناشتہ لے کر آئی

” صاحب جی وہ بی بی جی نے بھی کچھ نہیں کھایا آپ اجازت دیں تو میں انہیں ناشتہ کروا دوں ۔۔۔۔۔۔”
ملازمہ نے حورین کو دیکھتے ڈرتے ہوئے کہا جو نیند میں بڑبڑا رہی تھی

” نہیں میں کروا دوں گا تم جاؤ ۔۔۔۔۔ “
دامن نے ناشتے کی ٹرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا تو ملازمہ فورا چلی گئی

زامن نے حورین کو اٹھا کر بیٹھایا لیکن وہ غنودگی میں تھی

” حورین کچھ کھا لو ۔۔۔۔ پھر میڈیسن بھی لینی ہے تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن نے اسے اپنے سہارے بیٹھایا تھا اور نرمی سے بولا تھا

” و وہ مم مجھے ماریں گے ۔۔۔۔۔ مجھے بچا لو پلیز ۔۔۔۔ “
حورین ابھی بھی ڈری سہمی ہوئی تھی

” جان کچھ نہیں کہتا ۔۔۔۔ تم کچھ کھا لو پلیز ۔۔۔۔۔۔”

زامن بے حد محبت سے گویا ہوا حورین کو ناشتہ کروا کر اسے دوائی دے کر اس نے اسے پھر لٹا دیا کیونکہ حورین میں بیٹھنے کی ہمت نہ تھی

اب وہ تھانے جانے کے لیے تیار تھا رک کر حورین کو ایک نظر دیکھا جو پھر سو چکی تھی اور کمرے سے باہر نکل گیا


دوپہر دو بجے اس کی آنکھ کھلی تھی آہستہ آہستہ حواس بحال ہوئے تو اپنے پہ بیتی یاد آنے لگی اب وہ بیڈ پر سر تھامے بیٹھی تھی

” یا اللہ میرا کیا قصور ہے ۔۔۔۔۔۔ کیوں کرتے ہیں وہ ایسے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ “
وہ اب رونے لگی

” پاپا نے ایسا کیا کیا ہے جس کی سزا وہ مجھے دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

وہ پھر رونے لگی تھی اس کے جسم میں بہت درد ہو رہا تھا کل جو زامن نے اسے بے دردی سے مارا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی آخر زامن ایسے کیوں کر رہا ہے

ابھی وہ گٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی جب دروازہ کھلنے کی آہٹ سے اس نے سر اٹھایا سامنے سے اماں دروازہ بند کر کے حورین کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھ گئیں

اماں کو دیکھ کر حورین اپنا ضبط کھو بیٹھی اور اماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی

” بس بس بٹیا رانی ۔۔۔۔۔۔۔ مت رو بہو رانی ۔۔۔۔۔ “
اماں ، حورین کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن وہ اور زیادہ شدت سے رونے لگی

” بس بچہ ہمت رکھو ۔۔۔۔۔ “

” کیسے اماں جی ۔۔۔۔۔۔۔ کیسے ہمت کروں ۔۔۔۔۔۔ کیوں کر رہے ہیں وہ میرے ساتھ ایسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کس بات کی سزا دے رہے ہیں وہ مجھے ۔۔۔۔۔۔ “
حورین نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

” بٹیا اپنے اللہ سے دعا کرو ۔۔۔۔۔ وہ تمہاری آزمائش ختم کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو اٹھو دھی رانی نماز پڑھو اور دعا مانگو ۔۔۔۔۔۔۔ “
اماں نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

” اماں کیا اللہ میری دعا سنیں گے ۔۔؟؟ “
حورین نے ایک امید سے سوال کیا

” ہاں نا بٹیا ۔۔۔۔۔۔ اللہ تو اپنے گناہ گار بندے کی بھی سنتا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی ذیادہ پیار کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ “
اماں نے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا

” میں اللہ سے کیسے مانگو اماں ۔۔۔ ؟ مجھے تو مانگنا ہی نہیں آتا ۔۔۔۔۔ “
حورین نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا

” بٹیا رانی بندہ کچھ نہ بھی کہے وہ سوھنا رب تو سب کے دلوں کے حال جانتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس جھولی پھیلا کر آنسو بہا لے اس کی بارگاہ میں ۔۔۔۔۔ وہ سارے غم مٹا دے گا ۔۔۔۔۔۔ “

اماں نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے چلی گئیں

اماں کے جانے کے بعد حورین ہمت کرکے اٹھی الماری سے ایک سادی سا جوڑا نکالا اور نہانے چلی گئی نہا کر آئی اور آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو دیکھنے لگی

اس کے سارے جسم پر زخم تھے اس وقت اس کو بے تہاشا اذیت ہو رہی تھی

ہمت کرکے وضو کر کے آئی اور مصلہ بچھا کر نماز ادا کی
پھر جیسے ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے زبان سے کچھ بولا نہ گیا بس اپنے خدا کے سامنے آنسو بہاتی رہی

کافی دیر بعد اسے سکون ملا تو اٹھی آنسو صاف کرکے کمرے سے باہر نکلی

” اماں ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی ماما کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔؟ “
کچن میں آکر اس نے اماں سے پوچھا

” وہ آرام کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ “

اماں نے جواب دیا تو حورین نے ان کے ہزار منا کرنے کے بعد بھی ان کی کھانا بنانے میں مدد کی

پھر اماں کے ساتھ بیٹھ کر ہی اس نے تھوڑا سا کھانا کھایا
پاکیزہ کو بھی حورین نے خود کھانا کھلایا دوا دی اس دوران پاکیزہ نے اس سے کوئی بات نہ کی بس پیار سے اس کے ماتھے پر بوسا دیا


وہ آج جلدی گھر آ گیا تھا جانے کیوں اس کے دل میں بار بار حورین کا خیال آرہا تھا

وہ سیدھا کمرے میں آیا تو سامنے حورین بیڈ پر بیٹھی کسی سوچ میں گم تھی
زامن نے بغور اس کو دیکھا

سفید خوبصورت چہرے پر اداسی چھائی تھی سر پر سلیقے سے دوپٹہ تھا وہ سادہ سی بھی زامن کو بہت خوبصورت لگی بلاشبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی

زامن قدم بڑھاتا اس کے قریب آیا

حورین کو اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو وہ اپنے خیالوں سے نکلی

” اٹھو ۔۔۔۔۔”

زامن سرد لہجے میں گویا ہوا کچھ دیر پہلے والے تاثرات اب اس کے چہرے پر کہیں نہیں تھے

اپنے سامنے زامن کو کھڑا دیکھ کر وہ یکدم گھبرا گئی اور زامن کے دھاڑنے پر وہ فورا کھڑی ہو گئی اب وہ زامن کے سامنے سر جھکائے کھڑی کانپ رہی تھی

زامن اب حورین سے نظریں ہٹا کر بیڈ پر اسی جگہ دراز ہو گیا جہاں ابھی حورین بیٹھی تھی

” رکو ۔۔۔۔۔۔۔ جوتے اتارو میرے ۔۔۔۔۔ “

حورین ابھی مڑی ہی تھی کہ زامن کی بات سن کر اسے دیکھنے لگی زامن کا چہرہ کسی بھی تاثر سے خالی تھا

” سمجھ نہیں آرہا تمہیں ۔۔۔۔۔”

اب کے زامن قدرے اونچی آواز میں بولا تھا تو حورین کانپنے لگی اور فرش پر بیٹھ کر زامن کے پاؤں سے جوتے اتارنے لگی پھر جرابیں اتاری حورین کی آنکھوں سے دو موتی زامن کے پاؤں پر گرے تھے

” اب سے روز تم ہی میرے جوتے اتارو گی تاکہ تم اپنی اوقات نہ بھولو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے نہایت حقارت حورین کو دیکھتے ہوئے کہا

” موبائل اٹھا کر دو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ایک اور حکم دیا گیا

حورین نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا موبائل اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اٹھایا اور زامن کی جانب بڑھایا ابھی زامن موبائل تھامنے ہی لگا تھا کہ حورین کے ہاتھ سے موبائل زمین بوس ہو چکا تھا

زامن ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا

” واٹ رابش ۔۔۔۔۔ تمہیں سینس نہیں ہے بلکل بھی ۔۔۔۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کتنا امپورٹینٹ ڈیٹا تھا اس میں “

زامن موبائل فرش سے اٹھا کر دھاڑا جس کی سکرین گرنے کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی

موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے اب سگریٹ سلگائی اور کش لینے لگا

نظریں سامنے کھڑی حورین پر تھیں جو باقاعدہ کانپ رہی تھی

” بیٹھو یہاں ۔۔۔۔۔۔ “

زامن نے حورین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

حورین ڈرتے ہوئے اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی

” کتنی خوبصورت ہو تم ۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس مجھے تمہاری اس خوبصورتی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔ نفرت کرتا ہوں میں تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن ایک ہاتھ میں سگریٹ پکڑے بولا جبکہ دوسرا ہاتھ حورین کے کپکپاتے ہونٹوں پر تھا

” پہلے کیا مجھے تم سے کم نفرت ہے جو ایسی حرکتیں کرتی ہو کہ مجھے تم پر غصہ آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن اب اس کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے گویا ہوا

حورین سر جھکائے بیٹھی دل میں سوچ رہی تھی کہ اب ناجانے زامن کیا سزا دے گا اسے ۔۔۔۔ ابھی تو اس کے پہلے زخم ہی نہیں بھرے تھے

” مت غصہ دلایا کرو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل نہیں کرتا تمہاری خوبصورت خراب کرنے کا ۔۔۔۔ “

یہ کہتے ہی زامن نے جلتی سگریٹ حورین کی ہتھیلی پر رکھی اور ہتھیلی بند کر دی

حورین درد کی شدت سے بلبلا اٹھی زامن سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی

کچھ لمحوں بعد پھر زامن نے دوسری سگریٹ سلگائی اور حورین کے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر ہتھیلی بند کر دی ایک بار پھر حورین بلبلائی

پھر حورین نے بے بسی سے زامن کو دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا
اب زامن بیڈ سے اٹھا اور واش روم میں گیا نہا کر کپڑے چینج کرکے اس نےٹوٹا ہوا موبائل اٹھایا اور ایک نظر حورین کو دیکھا جو بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے فرش پر گٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی

اب زامن کمرے سے نکل گیا

زامن کے جانے کے بعد حورین نے گٹنوں سے سر اٹھایا اور اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو دیکھنے لگی

مغرب کا وقت ہوچکا تھا لیکن حورین ہنوز بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھے جا رہی تھی

” اللہ اکبر ” کی صدا کان میں پڑی تو فورا اٹھی اور وضو کیا

مغرب کی نماز ادا کر کے حورین نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے

” اللہ جی مجھے اس مشکل سے نکال دیں ….. پلیز اللہ جی … . مجھے بہت درد ہوتا ہے جب وہ مجھے مارتے ہیں …… مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز اللہ جی …… مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے ….. پاپا پلیز مجھے لے جائیں یہاں سے آکر …… پلیز اللہ جی ….”

رات کے اس پہر وہ کمرے میں مصلے پہ بیٹھی بچوں کی طرح روتی ہوئی دعائیں مانگ رہی تھی پھر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں دیکھنے لگی جہاں چھالے ابھرے ہوئے تھے ابھی کچھ دیر پہلے اپنے پہ بیتی یاد آئی تو پھر خوف سے کانپنے لگی اور رونے سسکنے لگی

” اللہ جی بچا لیں مجھے ان سے …. پلیز اللہ ججج …….”

رات کے سناٹے میں اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو الفاظ اس کے حلق میں ہی دم توڑ گئے اس وقت اور کون ہو سکتا تھا اس کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔

” اللہ جی مجھے بچا لیں پلیز اللہ جی”

پھر اسے اپنے پیچھے دروازہ کھول کر بند ہونے کی آواز آتی ہے

زامن کمرے میں آیا تو حورین مصلے پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی

اب زامن بیڈ پر لیٹ کر اسے دیکھنے لگا
اب حورین اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی

کچھ دیر بعد زامن کے لیے کھانا لے کر آئی خود اس نے کچھ نہ کھایا تھا نہ زامن نے کہا تھا

جب حورین کافی دیر بعد کھانے کے برتن رکھ کر آئی تو زامن بیڈ پر بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا

” اپنا حولیا درست کرکے آؤ جلدی مطلب جلدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن کا حکم سن کر حورین کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی

ایک التجائی نظر سے اس نے زامن کو دیکھا لیکن زامن بے حسی کی آخری حدوں پر تھا

یوں ایک اور اذیت بھری رات اختتام کو پہنچی


Like nd comments 😊