Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ

42 قسط
سیکنڈ لاسٹ ایپیسوڈ

چند دن بعد

اپنے کیس کی وجہ سے زامن ان دنوں کچھ مصروف رہا یہاں تک کہ وہ صبح منہ اندھیرے نکل جاتا اور رات گئے واپس آتا تھا

اس دوران وہ حورین اور عرش کو بھی ٹائم نہ دے پایا تھا

لیکن اس دوران اس نے رامین اور علی کے رشتے کی بات حورین اور پاکیزہ سے کی
جس پر دونوں نے رضامندی کا اظہار کیا
رامین سے زامن اور حورین نے خود پوچھا تو وہ انہیں منا نا کر سکی

آج علی اور رامین کا نکاح رکھا گیا تھا خوش تو سب ہی تھے لیکن علی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا آخر کو اسے اس کی محبت جو مل رہی تھی

آج صبح ہی وہ کیس کو اختتام تک پہنچا کر لوٹا تھا

اپنے بیڈ روم میں آ کر وہ حورین اور عرش کے ساتھ ہی سو گیا تھا
حورین کی جب آنکھ کھلی تو زامن کو دیکھ کر مطمئن ہو گئی

اور پھر اٹھ کر فریش ہوئی اور باہر جا کر نکاح کے سارے انتظام دیکھے

ان چند دنوں میں زامن کی مصروفیت کی وجہ سے اس نے خود ہی عرش کا ایڈمیشن کروایا تھا

ابھی وہ سارے انتظام کر کے اپنے کمرے میں آئی تو اب اسے یہ پریشانی لاحق تھی کہ وہ کون سا ڈریس پہنے رامین کے ساتھ شوپنگ پر اس نے اپنے لیے دو ڈریسز لیے تھے اب وہ ہر لڑکی کی طرح کنفیوز تھی کہ ان دونوں ڈریسز میں سے کون سا پہنے
ابھی وہ کبڈ کی جانب بڑھی ہی تھی کہ اسے اپنی پشت پر انگلیوں کا لمس محسوس ہوا

وہ ایک لمحے سے پہلے مڑی تھی اپنے سامنے زامن کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی

” جان دیکھو میں تمہارے لئے یہ ڈریس لایا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔”

زامن نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کیا

” بٹ زامن میں نے تو شاپنگ کر لی تھی ۔۔۔۔۔۔ بیکوز آپ پاکستان آنے کے بعد کافی بیزی تھے ۔۔۔۔۔ سو میں نے رامین کے ساتھ کر لی شاپنگ ۔۔۔۔۔۔۔ “

وہ نارملی بولی تھی

” ایم سوری یار۔۔۔۔۔۔۔ میں اتنا بیزی رہا کچھ دن تمہیں بلکل ٹائم نہیں دے سکا ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ کچھ شرمندہ تھا
معمول کے بر خلاف آج وہ اس ٹائم گھر پر تھا

” اٹس اوکے ۔۔۔۔۔ آئی کین انڈرسٹینڈ ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ سہولت سے مسکرا کر بولی

” تھینکس ۔۔۔۔۔ اچھا حورین تمہیں یہی ڈریس پہننا ہے آج ۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا

” اوکے ۔۔۔۔۔”
وہ نظریں جھکا کر بولی

” لو یو سویٹ ہارٹ ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ اس کی دونوں آنکھوں پر بوسا دے کر بولا

” زامن ایک بات پوچھو ۔۔۔۔؟؟۔۔ “
زامن کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ بولی

” میری جان تمہیں اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔”
زامن تھوڑا مسکرا کر بولا

” بیہ آپی آئیں گی آج ۔۔۔۔۔”
اس نے تھوڑی جھجکتے ہوئے پوچھا

” نہیں یار ۔۔۔۔۔۔ ایکچولی ان کے بیٹے کے ایگزیمز ہیں ۔۔۔۔۔ اور پھر آپی کی جاب بھی ہے ۔۔۔۔۔ اور یار ان کی ساس اکیلی ہو جائیں گی ۔۔۔۔۔ اس لئے آج تو نہیں آ رہیں وہ ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ ویکیشنز پر ضرور آئیں گی ۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

” زامن وہ مجھ سے ملنا چاہیں گی ۔۔۔۔؟؟۔۔۔ آئی مین پاپا کک ۔۔۔۔۔ مطلب وہ نفرت کرتی ہوں گی نا مجھ سے ۔۔؟؟؟۔۔۔۔۔”
دل میں ڈر لیے وہ گویا ہوئی

” اوہ نہیں یار ۔۔۔۔۔۔ وہ تم سے نفرت کبھی نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے ان چھ سالوں میں آپی سے ملنے جاتا تھا میں ۔۔۔۔۔ جب انہیں سب بتایا نا میں نے کہ تمہارے ساتھ وہ سب کیا تو ۔۔۔۔!!!!۔۔۔۔ “
زامن نے بات ادھوری چھوڑی تھی

” تو کیا ۔۔۔۔؟؟۔۔۔”
حورین نے بے چینی سے پوچھا

” تو انہوں نے زور سے تھپڑ مارا مجھے ۔۔۔۔۔۔ “

” ککک کیوں ۔۔۔۔؟؟”
اسے شاید حیرت ہوئی تھی

” ارے جو تمہارے ساتھ کیا تھا میں نے اس کے بعد تھپڑ ہی مارنا تھا انہوں نے مجھے ۔۔۔۔۔ پتہ ہے بہت ٹائم ناراض رہیں وہ مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ ساتھ ، ماما اور آپی کا بھی مان توڑا تھا ۔۔۔۔۔۔ “
وہ شرمندہ تھا

” وہ یہاں نہیں آتی کیا ۔۔۔۔؟؟؟۔۔”
ایک اور سوال اس نے پوچھا

” ہاں بہت کم آتی ہیں ۔۔۔۔ ماما اور مجھ سے فون پہ بات ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ اگر ملنا ہو تو میں خود چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔۔ اور کوئی بات میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اب زامن نے اسے اپنے کچھ اور قریب کیا اور ماتھے پر بوسہ دیا

” نن نہیں وہ ۔۔۔۔۔۔زامن دیر ہو رہی ہے ہمیں ریڈی ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولی نظریں ہنوز جھکی ہوئیں تھیں آج بھی زامن کی قربت سے اس کی دھڑکن تیز تر ہو رہی تھی زامن اس کا شرمانہ محسوس کر رہا تھا
وہ دونوں اس وقت قریب تر تھے ایک دوسرے کے
زامن کی نظریں اس کے لرزتے ہونٹوں پر تھیں

اس کی بات کا کوئی بھی جواب دیے بغیر وہ اس کے چہرے پر جھکا تھا اس سے پہلے وہ حورین کے ہونٹوں پر بوسہ دیتا دروازہ کھول کر عرش نمودار ہوا اور زامن ایک جھٹکے سے حورین سے پیچھے ہوا
زامن کی قربت پر حورین کی جو سانسیں رکی ہوئیں تھیں وہ بحال ہوئیں اب وہ زامن کی اتری شکل دیکھ کر ہنسنے لگی

” مام مجھے ریڈی کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
عرش حورین کا ہاتھ پکڑ چکا تھا

” عرش آپ کو اماں ریڈی کر دیں گی ۔۔۔۔۔۔ ابھی مام کو خود بھی تو ریڈی ہونا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ “
زامن نے عرش کے بال خراب کرتے ہوئے کہا
زامن کی بات پر حورین کو مزید ہنسی آئی

” نو ڈیڈ ۔۔۔۔۔۔۔ مام ہی مجھے ریڈی کریں گی ۔۔۔۔۔۔ لیٹس گو مام۔۔۔۔۔۔۔”
عرش اب حورین کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا

جبکہ زامن کا کھلا منہ دیکھ کر حورین کو مزید ہنسی آئی تھی

” اٹس اوکے ڈارلنگ ۔۔۔۔۔ٹو بی کنٹینیو ۔۔۔۔۔۔۔ رات کو دیکھتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔۔۔”

زامن نے کم آواز میں کہا لیکن حورین اس کی بات سن چکی تھی اب حورین کی شکل دیکھ کر زامن نے قہقہہ لگایا


وہ سرخ ساڑھی زیب تن کیے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی تھی وہ ہی جانتی تھی کہ یہ ساڑھی اس نے کیسے پہنی تھی وہ بس زامن کا پہلی بار اتنے پیار سے لایا گیا تحفہ رد کر کے اس کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی

اسے تو ساڑھی پہننا بھی نہیں آتی تھی بس گوگل کر کے پہننے کا طریقہ سیکھا اور مشکل سے ہی لیکن پہن لی اور اب وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی میک اپ کر رہی تھی
لائیٹ میک اپ جبکہ لپسٹک بھی سرخ لگا کر کے اس نے بالوں کو ڈھیلے سے جوڑے میں مقیم کیا اب وہ سرخ رنگ کی چوڑیاں اپنے نازک ہاتھوں میں پہن رہی تھی

اپنی تیاری مکمل کر کے اس نے اپنی گھنی پلکیں اٹھا کر خود کو آئینہ میں دیکھا

وہ شاید زندگی میں پہلی بار اتنا دل سے تیار ہوئی تھی
ریڈی ہو کر اب اس کا رخ رامین کے کمرے کی طرف تھا

جب وہ ڈریسنگ روم میں تھی زامن اسی وقت تیار ہو کر باہر جا چکا تھا

اب وہ موبائل لے کر رامین کے کمرے کی جانب بڑھی


” واؤ آپی ۔۔۔۔۔۔ یو لک سٹاننگ ان ساڑھی۔۔۔۔۔ آپ کتنی پیاری لگ رہیں ہیں سو سویٹ ۔۔۔۔۔۔۔ “

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو رامین پہلے سے ہی بلکل ریڈی بیٹھی تھی

حورین کو دیکھ کر وہ اپنا لہنگا سنبھالے اس کے پاس آئی تھی اور چہکتی ہوئی بولی
اس کی بات پر حورین بس مسکرائی تھی

” میری بہن بھی بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔۔۔ “
وہ دل میں رامین کی نظر اتارتے ہوئے بولی

وہ اپنی چھوٹی بہن کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی بیشک رامین بے حد حسین لگ رہی تھی

” رامین میری جان تم خوش ہو نا ۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔۔ “
وہ اسے گلے لگا کر بولی تھی

” جی آپی ۔۔۔۔۔۔ “
رامین نے مسکرا کر مختصر جواب دیا

” بیلیو می علی بہت اچھے شوہر ثابت ہونگے ۔۔۔۔ انشاءاللہ۔۔۔۔۔۔”
اس کو دونوں کاندھوں سے تھامے وہ یقین سے بولی

” جی آپی ۔۔۔۔۔ “
رامین پھر مسکرائی تھی

” ہاہا بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ “
اس کو شرماتے دیکھ کر حورین ہنستے ہوئے بولی

” آپ سے زیادہ نہیں ۔۔۔۔۔ لوگ دلہن سے ذیادہ اس کی بہن کو دیکھیں گے ۔۔۔۔۔۔ “
رامین نے مسکراتے ہوئے کہا

” اچھا چلو اب نیچے چلیں ۔۔۔۔۔۔ “
وہ موبائل میں ٹائم دیکھتی ہوئی بولی


فنکشن باہر لان میں تھا وہ رامین کو لے کر لان کی جانب بڑھی تھی
سب کی نظریں رامین سے لے کر حورین پر رکیں تھیں وہ دونوں بہنیں حسن میں اپنی مثال آپ تھیں وہاں موجود ہر شخص بس ان دو بہنوں کو دیکھ رہا تھا

حورین ، رامین کو لے کر سٹیج کی جانب بڑھی جہاں علی زامن کے ساتھ بیٹھا تھا
آگے بڑھ کر علی نے رامین کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے اپنے ساتھ بیٹھ گیا

زامن بھی حورین کو مبہوت سا دیکھنے لگا پھر اس کے قریب گیا اور اس کی کمر کے گرد اپنا بازو پھیلا کر اپنے ساتھ لگایا حورین نے آس پاس دیکھا لوگ انہیں ہی دیکھ رہے تھے

” غضب ڈھا رہی ہو ڈارلنگ ۔۔۔۔۔۔۔ “

اس کے کان کے قریب زامن نے سرگوشی کی

” زامن سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پلیز لیو می ۔۔۔۔۔”
سب کی ستائشی نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر وہ شاید گھبرائی تھی التجائیہ انداز میں بولی

” سو واٹ بےبی ۔۔۔۔۔۔۔ دیکھنے دو ۔۔۔۔۔ آئی ڈونٹ کیئر ۔۔۔۔۔۔ “

وہ اور قریب ہوا تھا اس کے

” حورین میں نے فنکشن میں خاندان والوں کو ، اور سب باقی جاننے والوں کو بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔ ایکچولی میں دنیا کو اپنی بیوی اور بیٹے سے انٹروڈیوس کروانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ ایک نام ہے میرا ۔۔۔۔۔۔ ہمارے خاندان کا ۔۔۔۔۔۔ آخر عاشر شاہ کی بہو ہو تم ۔۔۔۔۔۔ زامن شاہ کی بیوی ہو ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولنے لگا حورین بھی اسے ہی دیکھنے لگی

میں جانتا ہوں ماضی میں جیسے حالات رہے ۔۔۔۔۔ اس وجہ سے تمہیں وہ مان نہیں دے سکا ۔۔۔۔ وہ عزت نہیں دے سکا جس کی تم حق دار تھی ۔۔۔۔ لیکن اب تمہیں وہ مان بھی ملے گا وہ عزت بھی ملے گی جو تم ڑزرو کرتی ہو ۔۔۔۔۔۔ “

زامن کے لہجے کی مضبوطی دیکھ کر حورین کے دل میں سکون ہی سکون اترا تھا
وہ پچھلے چھ سال سے ایک اذیت سے گزر رہی تھی وہ عورت جو مرد کے بغیر زندگی گزارتی ہے اس کی تکلیف کا شاید کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا لوگوں کی نظریں اس عورت کا جینا مشکل کر دیتی ہیں وہ آج زامن کا مان اسے سرخرو کر رہا تھا


” ارے پاکیزہ یہ زامن کے ساتھ لڑکی کون ہے ۔۔۔؟”
پاکیزہ سٹیج پر براجمان تھیں اور یہ ان کے خاندان کی کوئی عورت تھیں

” یہ میری بہو ہے ۔۔۔۔۔ زامن کی بیوی ۔۔۔۔۔۔ آپ لوگ تو جانتے ہی ہے زامن اور حورین کے نکاح کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔ کچھ عرصہ حورین ملک سے باہر تھی ۔۔۔۔۔ ماشااللہ ڈاکٹر بن گئی ہے اب تو ۔۔۔۔ اب میری بہو اور پوتا یہی حویلی میں رہیں گے ۔۔۔۔ آخر میرا پوتا ہی وارث ہے اب حویلی کا ۔۔۔۔۔۔ “

ان کے لہجے میں فخر تھا وہ حورین اور زامن کو دیکھتے ہوئے بولیں جو سامنے ڈی ایس پی صاحب کی بیوی سے محو گفتگو تھے

” دادو ۔۔۔۔۔۔”
اسی دوران عرش ان کے پاس آ یا تو انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا

” واہ ماشااللہ ۔۔۔۔۔۔۔ بہت پیاری بہو ہے ۔۔۔۔۔۔ اور تمہارا پوتا بھی بہت پیارا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”

وہ خاتون خوشدلی سے بولیں تھیں


کچھ دیر میں نکاح ہوا تو سب مبارک باد دینے لگے

” مبارک ہو مائی بیوٹیفل وائف ۔۔۔۔۔ آخر کو اپنا بنا ہی کیا میں نے تمہیں ۔۔۔۔۔ اب بھاگ نہیں سکو گی مجھ سے ۔۔۔۔ چند دنوں میں رخصت کر کے لے جاؤں گا اپنی بیوی کو ۔۔۔۔۔”
علی نے ساتھ بیٹھی رامین کے کانوں میں سرگوشی کی

” ہممم دیکھتے ہیں ۔۔۔ “
رامین اس کی بات سن کر مسکرا کر بولی
یقینا اس نے علی کو کافی نظر انداز کیا تھا اور اب بدلا لینے کی باری علی کی تھی
لیکن وہ بھی رامین تھی کہاں ہار ماننے والی تھی

” بائی دا وے اچھی لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔”
علی نے پھر سرگوشی کی تھی اس کے کان میں

” ہممم ۔۔۔۔ تم بھی ۔۔۔۔۔۔۔”
رامین بھی مسکرا کر بولی

حورین اور زامن بھی سٹیج پر موجود تھے

” چل بھئی علی اب ایک بات اپنی کان کھول کر سن لے ۔۔۔۔۔۔۔ “

زامن کی رعب دار آواز نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا

” کیا بات ہے یار ۔۔۔۔ “
علی زامن کے سنجیدہ تاثرات کے پیچھے چھپی اس کی شرارت محسوس کر چکا تھا

” دیکھ یہ میری بہن ہے اور اگر غلطی سے بھی میری بہن کی آنکھوں میں آنسو آیا تو۔۔۔۔!!!!!!۔۔۔۔”

زامن نے انگلی اٹھا کر جیسے اسے وارن کیا اور رامین کی سائیڈ پر آ گیا

رامین نے ایک ادا سے علی کو دیکھا جیسے کہہ رہی ہو میرے سے بعد میں نبٹنا پہلے میرے بھائی کا مقابلہ تو کر لو

” زامن شاہ صاحب آپ اپنی بہن کو سمجھائیں یہ زیادہ بہتر ہو گا ۔۔۔۔۔ کیونکہ شاید ابھی آپ اپنی بہن کو جانتے نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ “

حورین بولتی ہوئی علی کی سائیڈ پر آئی

” آپی ۔۔۔۔۔ آپ میری بہن ہیں ۔۔۔۔۔”

رامین کو حورین کا علی کی سائیڈ لینا خاصہ برا لگا
منہ بسورتی بولی

” اوہ تو پارٹی چینج ۔۔۔۔۔ اٹس اوکے رامین تمہارا بھائی تمہارے ساتھ ہے نا ۔۔۔۔۔۔”

زامن حورین کو دیکھتا ہوا بولا

” ہاں تو اگر تو اپنی بہن کا ساتھ دے سکتا ہے تو ۔۔۔۔۔ میری بہن نہیں میرا ساتھ دے سکتی کیا ۔۔۔۔۔۔”

علی رامین کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے ہوئے زامن سے مخاطب تھا

” دیٹس ناٹ فیئر ڈیڈ۔۔۔۔۔۔”

سٹیج پر آتا ہوا عرش ان کی باتیں سن چکا تھا
مایوسی سے بولتا ہوا زامن کے پاس آیا
وہ دونوں باپ بیٹا کتنے پیارے لگ رہے تھے آج حورین نے دل میں نظر اتاری انکی

” واٹ ہیپنڈ پرنس ۔۔۔۔۔۔”
زامن نے جھک کر اس کے گالوں پر بوسہ دے کر پوچھا
اب سب عرش کی طرف متوجہ تھے

” ارے کیا ہوا میرے پوتے کو۔۔۔۔ یہاں آؤ ۔۔۔۔۔ دادی کو بتاؤ میرے بچے ۔۔۔۔”
پاکیزہ شاہ نے عرش کو اپنی طرف آنے کو کہا

” دادو ۔۔۔۔۔ دیٹس ناٹ فیئر ۔۔۔۔۔ “

عرش ان کے پاس آکر بولا

” ارے بتاؤ تو میرے پوتے کو کسی نے کچھ کہا ۔۔۔۔۔۔؟؟”
وہ لاڈ سے بولی تھی
سب ان کی طرف متوجہ تھے

” دادو لک ۔۔۔۔۔ مام ، علی چاچو کی بہن ہیں۔۔۔۔۔ اور آنی ، ڈیڈ کی بہن ہیں ۔۔۔۔۔ تو میری بہن کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ آئی وانٹ سسٹر ۔۔۔۔۔۔۔”
عرش معصومیت سے بولا تھا

جبکہ اس کی بات پر زامن نے قہقہہ لگایا
پاکیزہ نے پوتے کا ماتھا چوما

علی اور رامین بھی ہنسنے لگے تھے
جبکہ حورین کو اس وقت وہاں کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا اس کے گلابی گال کچھ اور گلابی ہو گئے تھے وہ جلدی سے سٹیج سے اتری تھی

اس کے شرمانے پر زامن سمیت سب ہنسنے لگے تھے پاکیزہ نے اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر دل میں ان کی خوشی قائم رہنے کی دعا مانگی


فنکشن ختم ہوا اور سب مہمان جا چکے تھے عرش کو اس کے کمرے میں سلا کر وہ رامین کے پاس آئی تھی

رامین بھی تھکاوٹ کی وجہ سے چینج کر کے فریش ہوئی اور اب سونے کے لیے لیٹ گئی تھی
حورین ، پاکیزہ شاہ کو دوا دے کر اب زینے طے کرنے لگی اس کا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا وہ ابھی بھی ساڑھی میں ملبوس تھی

جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو زامن چینج کر کے بیڈ پر لیٹ چکا تھا

” یار کب سے ویٹ کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ “
اسے کمرے میں آتا دیکھ کر وہ موبائل ایک طرف رکھتا ہوا بولا

” آپ سوئے نہیں ابھی ۔۔۔۔۔۔۔”
حورین دروازہ بند کر کے بیڈ کے قریب کھڑی اس سے پوچھنے لگی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں وہ آرام دہ سا لیٹا تھا

” بے بی سو کیسے جاتا ۔۔۔۔۔۔ پتہ ہے کب سے کنٹرول کیا ہوا ہے خود پہ ۔۔۔۔۔ تمہیں دیکھ کر دل کر رہا تھا بس کوئی نہ ہو تم اور میں ہوں ۔۔۔۔۔۔ “

زامن کی معنی خیز گفتگو کا مفہوم حورین سمجھ چکی تھی اسی لیے نظریں جھکا لیں

” کم حورین ۔۔۔۔۔ “

اب اس نے حورین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیڈ پر بیٹھا لیا

” یہ تمہارے لیے ۔۔۔۔۔ اس رنگ کو ہمیشہ پہنے رکھنا پلیز ۔۔۔۔۔”
وہ باکس میں سے ایک خوبصورت رنگ نکال کر حورین کو پہناتا ہوا بولا
جبکہ حورین صرف مسکرائی تھی

” ان سالوں میں ہمارے درمیان کچھ فاصلے آ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ حورین ۔۔۔۔۔۔ میں منہ سے کوئی بڑی بڑی باتیں نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔ کہ میں تمہارے لئے یہ کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ وہ کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔ ہاں لیکن ۔۔۔۔۔ اپنے عمل سے ہمیشہ تمہیں بتاؤ گا کہ تم کتنی اہم ہو میرے لیے ۔۔۔۔۔ “
حورین کو اپنے قریب تر کر کے وہ اس کے وجود پر نظریں گاڑے بول رہا تھا
دونوں کی دھڑکنیں شور مچا رہیں تھیں

” مائی لو ۔۔۔۔۔۔”

اپنی بات کے اختتام پر اس نے حورین کے دائیں گال پر بوسہ دیا
حورین نے اپنی آنکھیں بند کر لیں

” مائی ورڈ ۔۔۔۔۔”
اب اس نے حورین کے بائیں گال پر بوسہ دیا
زامن کے محبت بھرے لمس کو محسوس کرکے اس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں

” مائی لائف لائن ۔۔۔۔۔۔۔”
باری باری حورین کی بند آنکھوں پر اپنے لب رکھنے کے بعد وہ بولا

” آئی لو یو حورین ۔۔۔۔۔۔”
خمار آلود لہجے میں کہتا ہوا اب وہ اس کے لبوں پر جھکا

” زز زامن ۔۔۔۔۔”
وہ زامن کے ارادے کو بھانپ گئی تھی

“میرے لب اس کے تقدس میں ہلتے ہی نہیں
اسے کہو میری آنکھوں میں اظہار محبت دیکھے”

” واؤ یار تم نے تو مجھے شاعر بھی بنا دیا۔۔۔۔۔”
وہ چہکتا ہوا بولا جبکہ حورین آج کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی

” پھر کیا خیال ہے عرش کی بات پر غور کیا جائے۔۔۔۔۔”
زامن کی بات پر وہ پھر سے نظریں جھکا گئی اس کے چہرے پر حیا کے رنگ زامن کو اپنا دیوانہ بنا رہے تھے

” جان اجازت ہے ۔۔۔۔۔۔ ؟؟”
زامن اس کا چہرہ تھام کر آنکھوں میں لہجے میں محبت سموئے بولا

زامن کی بات پر حورین نے اپنا سر اس کے سینے پر رکھ دیا
جبکہ زامن حورین کے اس انداز پر مسکرایا

عجب نشہ ہے تیری قربت میں کہ جی چاہے
یہ زندگی تیری آغوش میں گزر جائے۔۔۔۔۔۔۔۔


Surprise 😊😊❤❤
Like nd comments😊❤😊❤