No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
❤ ستمگر سے ہمسفر ❤
از فاطمہ
22 قسط
” نا بٹیا ۔۔۔۔۔۔۔ مت رو اتنا ۔۔۔۔۔۔۔ برا حال کر لیا آپ نے رو رو کر ۔۔۔۔۔۔ بس بٹیا ۔۔۔۔۔۔۔”
جب سے حورین کو ہوش آیا تھا وہ اس وقت سے رو رہی تھی
ماں جی اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہیں تھیں لیکن اس کے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
” ماں جی میں گھر کب آئی تھی ۔۔؟ ؟۔۔۔۔۔۔۔ کون لایا تھا مجھے ۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔”
آنسو پونچھ کر وہ بولی تھی جبکہ رو رو کر اس کی آواز بیٹھ گئی تھی
” شاہ جی آپ کو لے کر آئے تھے دیر رات کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
” وہ ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔۔”
اس واقعہ کے بعد وہ زامن سے مزید خوفزدہ تھی
زامن کے ذکر پر ہی اس کے جسم میں کپکپاہٹ طاری ہو گئی تھی
” بٹیا وہ تو ایک دو ہفتوں کے لئے اپنے کام سے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ سوہنا رب آپ کی گود پھر سے ہری کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔”
نا جانے ماں جی نے یہ تسلی اسے کیا سوچ کر دی تھی
یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ظلم کو روکنے کے لیے اتنی کوشش نہیں کی جاتی جتنی مظلوم کو چپ رہنے کی نصیحت کی جاتی ہے
کاش اگر مظلوم کی آواز دبانے کے بجائے ظالم کو روکا جائے تو آج کھلے عام دھڑلے سے لوگ ظلم نہ کر رہے ہوتے
ماں جی کی بات پر وہ چیخ چیخ کر رونے لگی
” نن نہیں نہیں مجھے نہیں رہنا ان کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مار دیں گے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا کروں ماں جی دعا کریں میرے لیے میں ایک ہی بار مر جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بار بار اپنی تذلیل نہیں سہی جاتی مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ یہ جو دعا ابھی دی ہے آپ نے اس سے اچھا تو آپ موت مانگ لیں میرے لیے اگر دعا کرنی ہے تو میرے مرنے کی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی وہ لڑکی جن کی انہوں نے اونچی آواز تک نہ سنی تھی وہ آج چیخ چیخ کر رو رہی تھی
حورین کی حالت دیکھ کر وہ خود بھی رو پڑیں جبکہ اس کے الفاظ اس کی اذیت کو ظاہر کر رہے تھے
” شاہ جی کو کیوں رحم نہیں آتا اس معصوم پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے اتنی سی عمر میں کیا حال ہو گیا بچی کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ دل میں سوچتی ہوئی حورین کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگیں
زامن کو گئے کافی دن ہو گئے تھے
اب حورین کی طبیعت بہتر تھی
اس کے جسم کے زخم تو بھر گئے تھے لیکن روح پر لگے زخم ابھی بھی تازہ تھے
وہ ابھی بھی زامن کے بارے میں سوچ کر جی جان سے کانپ اٹھتی تھی
جس طرح کا زامن کا اس کے ساتھ رویہ تھا ڈر تو اسے شروع سے ہی زامن سے لگتا تھا
لیکن اب تو دن بہ دن اسے مزید زامن سے خوف آنے لگا تھا
وہ بیٹھی بیٹھی ڈر جاتی تھی جب وہ زامن کے آنے کا سوچتی تھی اس وقت وہ خود کے لیے خدا سے موت کی بھیک مانگتی تھی
ابھی بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی کہ ماں جی اسے سمجھا بجھا کر پاکیزہ شاہ کے کمرے میں لے گئیں
” حورین اداس کیوں رہتی ہو میری بچی ۔۔۔؟ ۔۔۔۔۔ کیوں بجھی بجھی سی رہتی ہے میری بیٹی ۔۔۔۔ ؟ ۔۔۔۔ ماں جی خیال نہیں رکھتی آپ میری بہو کا ۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین ، پاکیزہ شاہ کے پاس بیڈ پر سر جھکا کر بیٹھی تھی
جب انہوں نے اس کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا آخر میں وہ پاس کھڑی ماں جی سے مخاطب ہوئیں
” وہ بڑی بہو جی ۔۔۔۔۔۔۔!!!!! ۔۔”
” بڑی ماما میں ٹھیک ہوں بلکل اور ماں جی بھی بہت خیال رکھتی ہیں میرا ۔۔۔۔۔۔۔ “
ماں جی کی بات کاٹ کر وہ بولی تھی
جبکہ وہ جلد از جلد کمرے سے باہر جانا چاہتی تھی وہ بڑی ماما کے سامنے کم سے کم جاتی تھی ابھی بھی وہ بہت مشکل سے وہاں بیٹھی تھی
کیونکہ پاکیزہ شاہ کا محبت بھرا انداز ہمیشہ حورین کو جذباتی کر دیتا تھا وہ ان کے سامنے بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکتی تھی
وہ ان کی طبیعت کے بارے میں جانتی تھیں اسی لیے وہ نہیں چاہتی تھی ان کو کچھ بھی پتہ چلے اور وہ مزید بیمار ہوں
” ہاں وہ تو ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تم زامن کی ذمہ داری ہو ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا خیال اس کو رکھنا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اسے دیکھو ذرا مہینہ ہونے والا ہے لیکن کوئی اتا پتا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بیشک کام نوکری جتنی بھی اہم ہو لیکن گھر والے بھی ذمہ داری ہوتے ہیں لیکن نہیں ایک بار بھی ماں یا بیوی سے بات نہیں کی اس نے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تم فکر نہ کرو اس کی شروع سے یہ عادت ہے جب سے اس نے یہ نوکری جوائن کی ہے ۔۔۔۔۔۔ میرے اللہ اس کی حفاظت کرنا اس کا سایہ تم ہر اور اپنے بچے پر ہمیشہ رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ مامتا سے چور لہجے میں بول رہیں تھیں
حورین ان کی تمام باتیں سر جھکائے خاموشی سے سن رہی تھی لیکن اس کے اندر طوفان برپا تھا
جبکہ ان کی آخری بات پر حورین کا دل کیا کہ وہ ان کو چیخ چیخ کر بتائے کہ
‘ مار دیا ان کے بیٹے نے اپنے بچے کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بچے کو جو ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں تھا ‘
” بڑی ماما مجھے نیند آ رہی ہے اگر آپ کہیں تو میں اپنے کمرے میں چلی جاؤں ۔۔۔۔؟؟؟ ۔۔۔۔”
آنسوؤں کا بند باندھے وہ خود پر ضبط کرتی وہ بولی تھی
” ہاں بیٹا جاؤ آرام کرو آپ ۔۔۔۔۔۔ خیال رکھا کرو اپنا بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔ “
حورین کے سر پر پیار دے کر وہ بولیں تھیں
حورین نے سر ثبات میں ہلایا اور کمرے سے چلی گئی
” ماں جی پتہ نہیں مجھے حورین خوش نہیں لگتی ۔۔۔۔۔۔ ہر وقت اداس سی رہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کبھی میں نے اس بچی کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی ۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے جیسے وہ یہاں رہنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔۔ خوش نہیں ہے وہ ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اس عمر کی لڑکیاں تو بھرپور انداز میں زندگی جیتی ہیں لیکن حورین ۔۔۔!!!!!
بہت فکر ہے مجھے اس کی ۔۔۔۔۔ بہت !!۔۔۔۔۔۔۔”
حورین کے جانے کے بعد وہ بولیں تھیں ان کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی
” آپ مجھے یہ بتائیں زامن کا رویہ کیسا ہے حورین کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔۔”
ان کے سوال پر اماں سٹپٹا گئیں
انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دیں
اگر سچ بتا دیا تو زامن شاہ حویلی سر پر اٹھا لے گا
” کیا ہوا ماں جی اتنا مشکل سوال تو نہیں پوچھا ۔۔۔۔۔!! “
ماں جی کو کسی سوچ میں ڈوبا دیکھ وہ پھر سے گویا ہوئیں تھیں
” وہ بڑی بہو جی وہ شاہ جی کا تو آپ کو پتہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ غصے کے تیز ہیں وہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور چھوٹی بہو رانی اتنی معصوم ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ڈر جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ “
ماں جی نے بات گول مول کی
” ہاں صحیح کہہ رہیں ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔ اتنا سمجھایا ہے میں نے زامن کو کہ اپنے غصے کو کنٹرول کرنا سیکھے ۔۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ اداسی سے بولیں تھیں اور ماں جی کو اس بات کی فکر تھی کہ اگر انہیں سب سچ پتہ چل جائے کہ زامن ، حورین کے ساتھ بہت ظلم کرتا ہے اسی ظلم کی وجہ سے اپنا بچہ بھی مار دیا
تو بہت صدمہ ہوگا ان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا آخری پہر تھا رات کے اس وقت ماحول میں خاموشی طاری تھی
کمرے میں لیمپ کی روشنی تھی اسی لیے کمرے میں موجود ہر چیز واضح نظر آ رہی تھی
سرد موسم کی وجہ سے وہ اپنے اوپر اچھی طرح کمبل لپیٹے سو رہی تھی
کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا
سامنے بیڈ پر وہ اسے نظر آئی تھی اب وہ اسے سوتا ہوئے دیکھنے لگا
اب وہ اپنے بوٹ اتار کر اپنی براؤن جیکٹ اتاری اب وہ گرے پینٹ اور آف وائٹ شرٹ میں تھا
حورین کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے وہ بیڈ پر اسی کے ساتھ کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا
حورین کے قریب تر لیٹ کر زامن نے اس کے گرد اپنے بازوؤں کا گھیرا بنا لیا
اب وہ اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا
گورے چہرے پر لمبی گھنی پلکیں تھیں گال ہلکے گلابی تھے جبکہ ہونٹ اناری رنگ کے تھے زامن کی نظریں اس کے ہونٹوں پر ٹھہر گئیں
بے شک وہ بے حد خوبصورت ہے
یہ اعتراف زامن کے دل نے کیا تھا
حورین گہری نیند میں تھی جب اسے اپنے کمر پر کچھ محسوس ہوا
کچھ لمحے لگے تھے اسے نیند سے بیدار ہونے میں ۔۔۔۔۔۔
جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اپنے اتنے قریب زامن کو دیکھ کر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا
وہ پلکیں جھپکائے بغیر زامن کو دیکھنے لگی
” اتنا مس کر رہی تھی مجھے ۔۔۔۔۔۔!!! ۔۔”
مسلسل حورین کو اپنی طرف تکتا دیکھ زمن بولا تھا جبکہ حورین مکمل زامن کی گرفت میں تھی
” ننن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔۔ “
زامن کے بولنے پر وہ ہوش میں آئی
اسے کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے
” کیوں ۔۔؟؟ یاد نہیں کیا مجھے ۔۔۔؟؟ ۔۔۔۔۔”
اب کے زامن کے لہجے کے ساتھ تاثرات بھی سخت ہوئے تھے
اور حورین پر گرفت بھی سخت ہوئی تھی
اسی پل حورین کو زامن کا وحشی پن یاد آیا تھا جسے سوچتے ہی اس کا وجود لرزنے لگا
اب وہ اپنی آنکھوں میں آنسو بھرے اپنے وجود کو زامن کی سخت گرفت سے چھڑانے لگی
” کیا ہوا ہے ۔۔۔؟؟؟ ۔۔۔۔ رونے کیوں لگی ہو ۔۔۔؟ ۔۔۔۔ “
لہجہ ابھی بھی سخت تھا
” پپ پلیز چچ چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔ “
زامن کی باہوں میں وہ مچل رہی تھی آنکھیں جھکا کر وہ بولی تھی
” حورین پلیز ۔۔۔۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں ۔۔۔۔۔ سو جاؤ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔ “
قدرے نرم لہجہ لیے وہ بولا تھا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں
جبکہ زامن کی بات پر وہ زامن کو بغور دیکھنے لگی
ماتھے پر بکھرے بال ، داڈھی بڑھی ہوئی وہ اسے واقعی تھکا ہوا لگا تھا
پھر اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی اور خود بھی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔
