No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
❤ ستمگر سے ہمسفر❤
از فاطمہ
1 قسط
” پاکیزہ تم ابھی تک ایسے ہی بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔ پلیز ہمت کرو یار ابھی سے ہمت مت ہارو۔۔۔۔۔۔ تھوڑا وقت لگے گا لیکن تم دیکھنا سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔”
ثناء اس وقت اپنے بیٹے کے لئے دودھ گرم کرنے کے لیے باہر آئی تو پاکیزہ کے کمرے کی لائٹ آن دیکھ کر اسی کے کمرے میں آ گئی اور پاکیزہ ایسے ہی بیٹھی تھی جیسے وہ اسے شام میں بٹھا کر گئی تھی ۔۔۔۔۔۔ رو رو کر اسکی آنکھیں سرخ ہو گئی تھی
” آپی وہ ابھی تک نہیں آئے نا ۔۔۔۔۔۔۔”
پاکیزہ نے ٹوٹے لہجے میں ثناء سے کہا تو ہما کو اس کی حالت پر بہت ترس آیا پاکیزہ نے نکاح والا جوڑا ابھی تک زیب تن کیا ہوا تھا مہرون رنگ کی فراک اور سر پر اسی رنگ کا دوپٹہ ، سونے کا بھاری سیٹ پہنے پاکیزہ واقعی خوبصورت لگ رہی تھی 19 سال کی عمر چہرے پہ بے حد معصومیت لیے بلا شبہ وہ ایک حسین لڑکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
” عاشر آ جائے گا تم فکر نہیں کرو ۔۔۔۔۔”
ہما نے اسکے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
” وہ میری وجہ سے نہیں آئے نا گھر ۔۔۔۔”
پاکیزہ کے رونے میں اور روانی آگئی تھی
” نہیں نہیں یار وہ ہے ہی ایسا ۔۔۔۔ رات کو دیر سے ہی گھر آتا ہے ۔۔۔۔۔ اچھا اب جاؤ چینج کرو اور آرام کرو ۔۔۔۔”
ہما نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
” جی ۔۔۔۔۔۔ “
پاکیزہ نے گھڑی کی طرف دیکھا جو رات کے 2 بجا رہی تھی
باجی ۔۔۔۔۔۔ بیہ کہاں ہے۔۔ ؟
ہما کمرے سے باہر جانے لگی جب پاکیزہ نے پوچھا
“بیہ میرے پاس ہے اور سو رہی ہے ۔۔۔۔ اب تم بھی آرام کرو مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔۔ “
ہما نے فکر مندی سے کہا اور چلی گئی
ہما کے جانے کے بعد پاکیزہ ہمت کرکے اٹھی اور اپنے سوٹ کیس میں سے ایک ہلکے رنگ کا جوڑا لے کر واش روم میں چلی گئی 10 منٹ بعد وہ واپس آئی اور بیڈ کے ایک طرف لیٹ گئی لیکن نیند اسے کہاں آنی تھی
سمجھوتہ دوسروں کے سکون کیلئے کیا جاتا ہے، لیکن جس نے کیا وہ کتنا بے سکون ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا…
❤❤💔💔❤❤
وہ گاڑی میں پچھلے 2 گھنٹوں سے بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اس وقت اسکی گاڑی قبرستان کے باہر کھڑی تھی
2 گھنٹے پہلے وہ بھی قبرستان کے اندر موجود تھا
” میں نے کہا تھا نا کہ میں صرف تمہارا ہوں۔۔۔۔۔۔ میرے وقت پر صرف تمہارا حق ہے ۔۔۔۔ دیکھو آج بھی یہ وقت میں تمہیں دے رہا ہوں ۔۔۔”
سفید شلوار قمیض پہنے ۔۔۔ بڑھی ہوئی داڑھی ۔۔ سفید رنگت ۔۔۔ آنکھیں سرخی مائل جیسے کئی راتوں سے سویا نہیں ہو ۔۔ چہرے پہ بے انتہا سنجیدگی لئے وہ کافی وجہی مرد تھا 28 سال کی عمر میں وہ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ملک کے نامور بزنس مینز میں سے ایک تھا ۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی اسے اس وقت دیکھ لیتا تو یقین نہ کر پاتا کہ یہ حاشر علی شاہ ہے جس کے سامنے بڑے بڑے لوگ دم ہلاتے ہیں
اب اس کی گاڑی کا رخ مسجد کی جانب تھا
دنیا میں ایسے بھی مرد موجود ہیں جو سجدوں میں اپنے عشق کے لیے رویا کرتے ہیں ۔۔۔ جس کی نظریں ہر عورت پر نہیں پڑتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کے دل و دماغ میں بس ایک نام ، ایک چہرہ اور ایک آواز گونجتی ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ ہر کسی سے عشق نہیں لڑاتا ہر کسی کے پیچھے نہیں بھاگتے ۔۔۔
❤❤💔💔❤❤
” زامن کہاں کھویا ہوا ہے یار ۔۔۔ کب سے بات کر رہا ہوں میں تجھ سے ۔۔۔ لیکن تو اپنی سوچوں میں ہی گم ہے “
علی نے برا سا منہ بنا کر کہا
” علی ۔۔۔۔۔۔ سلمان کا پتہ چل گیا ۔۔۔۔ “
زامن نے چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا
وہ دونوں اس وقت تھانے میں تھے علی ایک کیس کے بارے میں اس سے ڈسکس کرنے آیا تھا لیکن اس نے محسوس کیا کہ زامن کھویا کھویا سا ہے
” کیا ؟؟۔۔۔۔۔۔تو کہاں جا رہا ہے اب ۔۔۔۔ “
علی اسکی بات پہ حیران ہوا مگر زامن کو جاتا دیکھ کر سوال کردیا ۔۔۔۔۔
” ایک ضروری کام ہے مجھے کچھ دیر تک آؤں گا ۔۔۔”
زامن نے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے کہا
” زامن اچھا ۔۔۔۔۔ میری بات تو سن۔۔۔۔۔۔”
علی نے جلدی سے کہا کہ کہیں وہ چلا ہی نہ جائے
” ہاں بول ؟؟؟؟ “
زامن نے موبائل پر نظریں جماتے ہوئے کہا
” زامن میں کہہ رہا تھا یار چھوڑ نہ ۔۔۔۔۔ کیوں انتقام لینا چاہتا ہے تو ۔۔۔۔ اس سے کیا ہو جائے گا۔۔۔ وہ وقت تو واپس نہیں آئے گا ۔۔۔ اللہ پر چھوڑ دے سب کچھ ۔۔۔۔ ان چکروں میں مت پڑ ۔۔۔۔۔۔۔ “
علی سمجھانے والے انداز میں کہہ رہا تھا لیکن اسے علم تھا کہ ایک بار زامن نے جو کہہ دیا وہ ضرور پھر ویسا ہی کرے گا چاہے جتنا بھی کوئی اسے سمجھا لے اور یہاں پر تو معاملہ بھی کچھ اور تھا زامن کبھی اپنے دشمن کو نہیں بخشتا تھا اور یہ تو وہ دشمن ہے جسے وہ کئی سال سے ڈھونڈ رہا تھا
” تیرا مطلب یہ میں سب بھول جاؤں ۔۔۔۔ معاف کر دوں اسے۔۔۔ “
زامن کے ماتھے پر لا تعداد شکن آئے
” نہیں نہیں یار میں تو بس ۔۔۔۔۔ “
علی زامن کے غصے سے اچھی طرح واقف تھا غصے میں تو وہ خود علی کو بھی نہیں بخشتا تھا اسی لیے فورآ اپنی بات کا مطلب سمجھانا چاہا لیکن زامن نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ رہنے کو کہا پھر زامن ایک سرد نظر علی پر ڈال کر کمرے سے باہر چلا گیا
❤❤💔💔❤❤
” حورین بی بی آپ کو صاحب بلا رہے ہیں جی ناشتے کے لئے ۔۔۔”
حورین شیشے کے سامنے کھڑی کالج جانے کے لئے جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی بلیو جینز پر گھٹنوں تک آتی شرٹ پہنے سنہری بالوں کو کیچر میں قید کیے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
وہ کالج میں فرسٹ ائیر کی بہت ذہین سٹوڈنٹ اور سلمان علی شاہ کی بڑی اور اکلوتی بیٹی ہے ہر وقت ہنسنے مسکرانے والی حورین اپنے نام کی طرح ایک حور ہے چہرے پہ بلا کی معصومیت جو ایک بار دیکھ لے وہ پھر مڑ مڑ کر دیکھتا تھا
” آ رہی ہوں بوا آپ چلیں ۔۔۔۔۔”
حورین تھوڑا بوا کی جانب مڑی اور جواب دیا
❤❤💔💔❤❤
صبح کے 6 بجے کا وقت تھا جب پاکیزہ کی آنکھ کھلی رات اسے پتہ ہی نہ چلا وہ کب روتے روتے سو گئی کمرے میں وہ اکیلی تھی
” اس کا مطلب وہ ابھی تک نہیں آئے ۔۔۔۔”
ایک بار پھر اسے اپنی قسمت پہ رونا آتا ہے بیڈ پر بیٹھی وہ اپنا سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی
ﺍﭘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮨﻤﯿﮟﺯﻧﺪﮦ ﺩﺭﮔﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺍﻑ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﮐﮩﮧ ﭘﺎﺗﮯ
❤❤💔💔❤❤
” میرا بچہ آج اپنی ماں کی بات مان لو ۔۔۔۔۔۔ عاشر بہت اچھا ہے بیٹا ۔۔۔۔۔ ابھی وہ غم میں ہے ۔۔۔ لیکن دیکھنا تم وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔۔۔۔۔۔ “
زضیہ بیگم پاکیزہ کے سامنے روتے ہوئے کہہ رہی تھی
” امی پلیز ایسا نہیں کریں ۔۔۔۔ یہ کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا مجھے ۔۔۔۔ حاشر بھائی سے کیسے نکاح کرسکتی ہوں میں ۔۔۔۔ پلیز امی آپ لوگ ایسا نہ کریں ۔۔۔۔ “
پاکیزہ رو رو کر فریاد کر رہی تھی کہ شاید کوئی اس کی بات مان لے
” بیٹا اگر تیرا نکاح حاشر سے نہ ہوا تو آپا ثناء کی بھی اپنے بیٹے سے منگنی توڑ دیں گی ۔۔۔ بچپن سے مانگا ہوا ہے آپا نے ثناء کو ۔۔۔ ساری دنیا کو پتہ ہے اگر یوں رشتہ ختم ہو گیا تو ثناء کا کیا ہوگیا۔۔۔۔ “
رضیہ بیگم نے فکر مندی سے کہا
پاکیزہ جانتی تھی اس کی بہن بچپن سے احمد کو چاہتی ہے
” پاکیزہ۔۔۔۔۔۔ “
پاکیزہ کے کچھ کہنے سے پہلے کمرے میں ابا آئے اور پاکیزہ کے پاس بیٹھ گئے
” پاکیزہ تمہارے باپ کی زندگی کا کچھ پتہ نہیں بیٹا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں میری بیٹیاں میری آنکھوں کے سامنے اپنے گھر آباد ہو جائیں ۔۔۔۔ “
ابا نے پاکیزہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا
ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺼﯿﺐ
………. ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ
” ﭼﭗ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ
!!!!…….ﺑﯿﭩﯽ ” ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
پاکیزہ نے خاموشی سے نکاح کر لیا
❤❤💔💔❤❤
Plzzz like nd comments☺
