Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Last Episode)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

عرش نے سن ہوتے ہاتھوں سے موبائل لیا۔

میمونہ بول رہی تھی عرش سن رہی تھی، جیسے جیسے سن رہی تھی چہرے کے زاویے بگڑ رہے تھے، پھر اس نے جی بھر کے میمونہ کے لتے لئے تھے،، اتنا کہ آخر میں غصے میں کال کاٹ دی۔

“ابھی بھی یقین نہیں تو آو نیچے امی کے پاس کے جاتا ہوں وہ بتائیں گی تمہیں،” وہ اسکا ہاتھ تھامے اٹھنے لگا۔ بے بس نظر آتا تھا۔

“نہیں پلیز،” وہ کیوں اس محبت کر ہر ایک سے عیاں کروائے جسے شاہ نے خود سات پردوں میں چھپایا ہوا تھا۔

“مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے، وہ سچے دل سے مانگنے والی دعائیں رد نہیں کرتا،”

“بڑی جلدی خیال آیا ہے؟” شاہ نے واقعی طنز کیا تھا۔ عرش ہنسی۔

“دیر ہونے سے پہلے آگیا ہے، شکر ہے اللہ کا،” وہ شرارت سے کہتے ہوئے شاہ کے بازو پر سر ٹکا گئی۔

“مطلب اب تم مجھے وہ والا طعنہ نہیں دو گی،بھلا کونسا،” وہ پیشانی مسل رہا تھا۔ عرش دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ” میں نے کہا تھا مجھ سے شادی کریں؟، یہی کہا تھا نا؟” وہ مسکراہٹ دبائے پوچھ رہا تھا۔

“اب بھی دوں گی،” وہ ہنسی،،

“کیسے؟” وہ خفا ہوا۔

میں نے کہا تھا مجھ سے محبت کریں؟” وہ مزے سے بولی۔

“عرش،” وہ دھاڑا۔

عرش کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ وہ اسے دیکھتا رہا۔ ہاتھ بڑھا کر اسے پاس کھینچا اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ “محبت کی شادی میں محبت کم عطا ذیادہ ہونی چائیے،،،لینا کم دینا زیادہ ہو تو محبت کی شادی بھی بری چیز نہیں،” وہ اسکی ناک دبائے کہنے لگا۔ “اب فلسفے نا جھاڑیں،” عرش نے منہ بنایا۔ وہ تروتازہ لگ رہی تھی۔

“بھول گیا تھا میری بیوی کو کہاں سمجھ آنی،” کھلا طنز تھا۔ مگر عرش پھر سے ہنس پڑی۔ جیسے پھول برسے ہوں،،

“سنو؟” شاہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکا۔

“جی فرمائیں؟” بڑے لاڈ سے جواب دیا۔

“آئی لو یو،سو مچ،” شاہ نے اسکی پیشانی پر بوسہ دیا

“آئی لو یو ٹو،،” عرش نے پلکیں جھکائیں۔

***

شاہ آفس سے سر شام ہی واپس آگیا تھا۔ عرش کو آوٹنگ پر لیکر جانا تھا۔وہ مصروف ہوگیا تھا۔ وہ طعنے دینے لگی تھی۔ “سہی کہتے ہیں دور کے ڈھول سہانے، پہلے گھما پھرا لیا،اب پوچھتے بھی نہیں” وہ بیوی ہونے کا بھر پور حق ادا کرتی۔ اب شاہ کیا کہتا پہلے اسٹوڈنٹ تھا اب ڈاکٹر..ذمےداری تھی۔

وہ آیا تو لاؤنج میں فل آواز میں میچ چل رہا تھا (پی ایس ایل😉) شاہ زمان پاوں پسارے بیٹھے تھے ٹیبل پر نجانے کیا کچھ رکھا ہوا تھا۔ دادی اور انساء باتوں میں لگی ہوئیں تھیں۔ عرش کچن سے چیزیں لا کر رکھ رہی تھی اور کمنٹر کے ساتھ ساتھ وہ بھی پیشگوئیاں کرتی۔ شاہ زمان مخالف جان بوجھ کر اسکی مخالف ٹیم کو سپورٹ کر رہے تھے۔ وہ ستون سے ٹیک لگائے ایسے کھڑا تھا کہ کسی کو نظر نا آتا تھا۔ وہ دیکھتا رہا پھر سے عرش کچن میں گئی۔ تو وہ عرش کے پیچھے گیا۔ حد تھی جانا تھا اور کوئی تیاری نہیں…

وہاں وہ کام والی پر برس رہی تھی۔

“روزینہ،،دو منٹ کیلئے کچن سے باہر کیا گئی، پورا طوفان مچا دیا..اللہ اللہ…یہ انڈے والے…” وہ بول رہی تھی۔ روزینہ کے چہرے پر مسکینیت وہ دیکھ سکتا تھا۔

“عرش چلو تیار ہوجاؤ ” اس معصوم کی جان خلاصی کرتے وہ اسکی کلائی پکڑے باہر لانے لگا۔

“آپ آگئے..شکر،،،،آپکو پتا ہے،،، یہ نا پورا کباڑا کردیا میں نے تو…” وہ بول رہی تھی شاہ سن رہا تھا۔ خاموشی سے اسے لے جا رہا تھا۔

“شش،،شاہ نے اسکے ہونٹوں پہ انگلی رکھی،،ایک لفظ اور نہیں،،تیار ہوجاؤ جلدی،” ساتھ سی اسے ساتھ لگایا۔ اسکے بال سہلائے۔

عرش خفا سی دور ہوئی۔

“نہیں ہورہی تیار،،” عرش منہ بنا کر بیٹھ گئی۔ پھر سے روکا شاہ نے بولنے سے ہنہ۔

“اچھا سوری میری عرش زہرا….کہیں آپ کیا کہہ رہیں تھیں؟ مکمل کرلیں آپ اپنی بات، ” وہ جانتا تھا اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں،،

“ہمم…اچھا..سنیں..آپکو پتا ہے…؟ آج کیا ہوا..” وہ پورے تاثرات و جزئیات کے ساتھ بات بیان کر رہی تھی۔

شاہ کانوں میں ٹھونسنے کیلئے روئی ڈھونڈنے لگا۔

#ختم_شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *