Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 02)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 02)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
رات کو لاونج میں اسکی پیشی آئ تھی
وہ ڈرتے ڈرتے لاونج میں آئ
تو گویا عدالت لگی ہوئ تھی
دادی بھی اپنا کمرہ چھوڑ کے لاونج میں آ بیٹھیں تھیں
ہر وقت چلنے والا ٹی وی بند تھا.
امی کے ہاتھ میں کوئ کام نا تھا پھر بھی وہ وہاں موجود تھیں تایا ابو کے ہاتھ میں بھی کوئ میگزین نہیں تھا نا ہی تائ اماں سوئیٹر بن رہیں تھیں اور تو اور اریب اور اظہر بھی گیمز کھیلنے کے بجائے مودب بن کر بیٹھے تھے۔
وہ دل ہی دل میں اوراد پڑھتی تایا کے برابر آ بیٹھی
ابو گلا کھنکھار کے شروع ہوئے
“عرش بیٹا آپکا یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا ہے آپ فارم فل کردینا میں جمع کروادوں گا۔” بلا تمہید عرش کے سر پر بن پھوٹا۔ گویا دنیا ہی اجڑ گئ
“نہیں میں نہیں جاوں گی” آنکھوں میں آنسو آگئے
اسنے دادی امی اور تائ کو مدد کیلئے دیکھا مگر وہ سب ہی ابو کے ہمنوا تھے۔
“بابا میں نہیں جاوں گی آپ نے کیوں کروایا ایڈمیشن مجھ سے نہیں ہوگا میرا دل نہیں کرتا پلیز بابا” وہ گڑگڑانے لگی انسو گرنے لگے
“بابا کی جان آپکا ایڈمیشن آپکی قابلیت کی وجہ سے نہیں اسفر بھائ کی سفارش سے ہوا ہے بیٹا جی” جتنے آپکے مارکس تھے کوئی یونی یہ “خطرہ” مول لیکر اپنا نام نہیں ڈوبانا چاہتی تھی” آپ شکر کریں” کہ آپکو اسلام آباد یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔
وہ اسے اسی کے انداز میں سمجھانے لگے
گویا ایک اور بم پھوٹا “اسلام آباد یونیورسٹی؟ میں کراچی کی اور میں اسلام آباد یونیورسٹی میں وہاں کیسے کس کے پاس رہوں گی؟” وہ سناٹے میں آگئ تھی
“ہاسٹل” میں عرش بیٹا اور یہ آپکے فیوچر کا مسئلہ ہے اور آپ ہمیں مزید مایوس نہیں کریں گی”جواب امی کی طرف سے آیا تھا
اور یہ آج کے دنا کا تیسرا بم تھا جو عرش زہرا کے حواسوں پر پھٹا تھا
وہ گود میں پکڑے کشن زور سے پرے پھینکتی اپنے کمرے کی طرف گئ تھی
“اسفر بھائ لگا لیں سفارش اب کروائیں ایڈمیشن کل پرسوں تک یہ واقعی فارم مانگے گی فل کرے گی اور ناراض ہو کر جائے گی اگلے مہینے تک روتے دھوتے دکھڑے سناتے مان بھی جائے گی” سرور خان نے نہایت کامیابی سے گیم کھیلا تھا جو کامیاب ہوا تھا
*******
اب عرش زہرا چلی گئ تھی صبح سے چار بار سرور خان اسے کسی کام کیلئے آواز دے چکے تھے مگر یہ یاد آنے پر کہ وہ اب گھر میں نہیں ہے وہ گم سم ہوجاتے
دادی اور تائ بھی لاونج میں بیٹھیں تھیں گویا سناٹا ہی تھا سارے گھر میں ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر میں اتنے سالوں سے ہونے والا فنکشن اختتام پر پہنچا ہو اور اب کرنے کیلئے کوئ کام نا ہو۔ انہیں رہ رہ کے عرش یاد آتی اسکا ناراض چہرہ جو وہ منہ بنا کے چلی گئ تھی
نورینہ بیگم لاکھ اسے بھیجنے کی ہمنوا تھیں مگر اب متامل نظر آتیں اس گھر پہ گویا ادسیوں نے ڈیرا ہی ڈال لیا تھا۔ اصل میں رونق اب کہیں اور لگنے والی تھی
****
“لائق فائق اور خوبرو وجیہہ لڑکا یونیورسٹی میں تو وہ خودبخود نگاہوں میں آجاتا ہے۔ “
یہ رافیل کا اپنے بارے میں ارشاد تھا جسے سن کر سر جھٹکنے کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا
بلا کا فیشن ایبل داڑھی کی جگہ چھوٹی سی فرنچ اور مونچھیں ندار سر پہ کھڑے آدھے فٹ کے بال (جسے سب فرینڈ “جھاڑو” کہا کرتے تھے)
اور مناسب قد
اس میں وہ اپنے آپ کو راجہ اندر سمجھتا رہتا
حق بھی بنتا تھا بھئ “شاہ کے ساتھ زیادہ تو وہ ہی پایا جاتا تھا” مشکل سے 60% لیکر کلئیر ہونے والے رافیل کو اپنے لئے لائق فائق کا لفظ استمعال کرتے دیکھ کر شاہ کا دل کیا وہ اسے ائینہ دکھائے مگر الفاظ کا استعمال فضول ہی لگا سو سر دھن کے رہ گیا۔
شاہ یونی کی لان میں آ بیٹھا اور نوٹس بینچ پہ رکھ دئیے اور سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں
کسی نے اسکا کندھا ہلایا تھا وہ آنکھیں سکیڑ کر آنے والے کو دیکھنے لگا وہ وہی تھی جو اس دن ملی تھی اور اسے وہ اسپیشل کیس سمجھا تھا مگر ابھی اس طرح اسکا کندھا ہلا کر متوجہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اسے تاو آیا
“جی فرمائیں؟ اکھڑ لہجہے میں پوچھا(اف یہ لڑکیاں اتنا کیوں نظر میں آنے کے چکر میں ہوتی ہیں)
“محترم آپنے ابھی تک اپنے ان بٹنوں کا علاج نہیں کروایا؟” وہ کوفت سے بولی تھی
“وجہ جان سکتا ہوں اس کامپلیمینٹ کی؟ وہ ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھتے ہوئے بولنے لگا وہ جو آنکھیں چڑھائے اسے دیکھ رہی تھی جز بز ہوئ
“کسی کی جگہ پر آکر بیٹھ جانا بد تہذیبی ہے” جیسے یاد دلایا تھا
“بلکل مگر مجھے ابھی تک کسی نے نہیں بتایا کہ یہ بینچ آپ نے اپنے گھر سے لاکر یہاں نصب کروائ ہے” وہ بھی شاہ تھا
“بہتر مگر کوئ نشانی چھوڑ کے جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان آرہا ہے اپنی جگہ واپس” اسنے ایک دو صفحات پر مشتمل فولڈ کئے ہوئے نوٹس بینچ سے اٹھاتے گویا اسے جتایا تھا۔
وہ چونکا یہ نوٹس وہ دیکھ نہیں سکاتھا اور حیران ہوا تھا کہ کس حد تک غیر ذمےدار لڑکی ہے اگر ہوا سے نوٹس اڑ جاتے تو؟
“اپنی چیزوں کی حفاظت کیا کریں یہ نوٹس جہاز بنا کر اڑانے کیلئے نہیں ہوتے۔ اور یہ اتنے کم تعداد میں ہیں میں نوٹ نہیں کر پایا کہ ہی نوٹس بھی ہو سکتے ہیں مجھے لگا کسی نے رجسٹر میں سے چند صفحات پھاڑ کے پھینکے ہیں”
وہ شرمندہ کیا ہوتا الٹا طنز کی بوچھاڑ کردی اور ایسے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو ابھی بھی بینچ چاہئے کیا؟
“سو واٹ؟ اڑ جاتے میری بلا سے میں نے کونسا لیکچر اٹینڈ کر کر کے بنائے ہیں میں نے خود میمونہ سے لئے ہیں جہاں تک بات ہے حفاظت کرنے کی تو..وہ اسکے آنکھوں میں جھانکنے لگی طنز سے بات جاری رکھی
“میں اچھی طرح جانتی ہوں مجھے کس چیز کی حفاظت کرنی ہے کم سے کم کسی لڑکی کی نظروں میں آنے کیلئے اتنی “اوچھی” حرکتیں نہیں کرنی چاہیے” وہ بات مکمل کر کے وہاں سے چلی گئ اور شاہ “جواب دیکر ٹائم ضائع کرنے کے مصداق تھا اسلئے سر جھٹک کر رہ گیا”
***
رات اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ براجمان تھی وہ لائبریری کے باہر اور اندر اسٹوڈنٹس کا ہجوم تھا امتحانات قریب تھے وہ سیڑھیوں پہ بیٹھا تھا۔
جب احمد اسکے پاس آیا۔
اور اسے دیکھتے ہی شاہ کو کوفت ہوئ تھی۔
“شاہ ثنا میر واقعی تم سے پیارکرتی ہے اور سیریس ہے اچھی لڑکی ہے فیملی بھی اچھی ہے اور کیا چاہتے ہو تم؟”
“میں اس سے شادی نہیں کرسکتا احمد”
اسے جی بھر کے تاو آیا تھا عجیب مصیبت میں جان پھنس گئ تھی
“یار شاہ تم سے شادی کیلئے کون کہہ رہا ہے کم سے کم تم اسے پازیٹیو رسپانس تو دے سکتے ہو؟ احمد جیسے ٹھان کر آیا تھا کہ شاہ سے “ہاں” کروا کر ہی جائے گا
” میں پازیٹیو رسپانس دے دوں سیدھے سیدھے اسکا مطلب ہےمیں “ٹائم پاس ” کروں
اسے آگے تک لے آوں اور بعد میں مجھے شرم سے جھوٹ گھڑ کر بولنے پڑیں کہ میں شادی نہیں کرسکتا؟ یہ مجھے زیب نہیں دیتا” میرے ماں باپ نے مجھے ہمیشہ دھوکہ نا دینے کی تاکید کی ہے احمد مجھے اس میں کوئ دلچسپی نہیں ہے وہ اچھی لڑکی ہے مگر میرے لیئے ٹھیک نہیں ہے یہ جا کر تم اسے کہہ دینا جس نے تمہیں سکھا کر میرے پاس بھیجا ہے” آخری الفاظ احمد کی انکھوں میں جھانک کر ادا کئے تھے اور احمد جیسے پول کھلنے پہ جزبز ہوا تھا آئیں بائیں شائیں کرتے وہ وہاں سے چلا گیا۔
شاہ ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا کافی کا مگ ہاتھ میں لئے پڑھائ سے بے نیاز واک کرتی عرش زہرا نے ساری گفتگو سنی تھی اپنی تمام تو نالائقیوں کے باوجود اسے سمجھ آگئ تھی یہ بندہ بہت ڈیشنگ ہے
“خیر مجھے کیا” اسنے کندھے اچکائے تھے اور واک کرنے لگی تھی
__________
شاہ اور زہرا اس بات سے انجان تھے کہ اس دن ہونے والی جھڑپ آخری ہوگی اسکے بعد تو گویا یہ معمول بن گیا تھا۔
اگرچہ زہرا کے دل میں شاہ کے منہ سے وہ الفاظ اس دن سن کر اسکی قدرومنزلت بڑھ گئ تھی مگر پھر بھی وہ آتے جاتے اسے دیکھ کر (عادت سے مجبور ہو کر) کچھ نا بول دیتی وہ یا تو ان سنی کردیتا یا مسکرا کے گزر جاتا۔
زہرا تپ کر رہ جاتی (سمیرا حمید کہتی ہیں نا برا ہی سہی مگر جواب آنا چاہئے جواب کا نا آنا بہت برا لگتا ہے)
وہ گھر کال نہیں کرتی تھی وہ سب سے ناراض تھی بابا یا امی کال کرتے تو وہ ہوں ہاں سے زیادہ کچھ بولتی ہی نا
امی بولتی رہتیں “عرش کچھ تو بولو” وہ ہنوز ہمم ہمم کرتی رہتی گویا کہہ رہی ہو بھیجا کیوں؟؟؟
وہ دل سنبھالتے کال بند کردیتیں اور وہ موبائل کو گھورنے لگتی۔
اس سب پہ غصہ تھا اور وہ پڑھائ پر نکال رہی تھی نا لیکچر اٹینڈ کرتی نا نوٹس بناتی نا امتحانات کی تیاری کرتی مارے باندھے اگر کلاس اٹینڈ کر بھی لی تو سن سن رہتی جمائیاں لیتی رہتی گویا زبردستی وہاں بٹھا دی گئ ہو۔
اس دن بابا اس سے ملنے آئے تھے اسے میمونہ (کلاس میٹ اور روم میٹ) نے آکر اطلاع دی تھی۔
وہ بابا کے پاس سلام کر کے بیٹھ گئ وہ اسے سے حال چال پوچھنے لگے اور یہ کہ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟
وہ ناخنوں خکو گھورتی رہی ڈھٹائ کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑنے کا ارادہ تھا
“مجھے کچھ نہیں چاہیے” بابا کی لاڈلی نے رکھائ سے جواب دیا ورنہ دل تو کر رہا تھا بابا کے سینے سے لگ جائے اور رو رو کے آسمان سر پہ اٹھا لے اور وہ اسے ہنسی خوشی گھر لے جائیں۔ مگر “انا” انا بیچ میں آجاتی وہ اپنی سارے آنسو اندر ہی روک لیتی
“تمہاری ماما تائ اور دادو تمہیں بہت مس کر رہی ہیں زہرا ہوسکے تو اس ہفتے آجانا میں اریب کو بھیجوں گا لینے بائ ائیر آنا ہو تب بھی آپ انفارم کردینا میں ٹکٹ بھیج دوں گا” سرور خان اسکے سر پہ ہاتھ رکھے کہنے لگے
اور بس عرش کی حد تک یہاں تک ہی تھی وہ انکے سینے سے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تین ماہ سے گھر کی شکل نہیں دیکھی تھی اور وہ جانتی تھی بابا اسکی خاطر اتنا سفر کر کے آئے تھے ورنہ اسلام آباد ان کا کوئ کام نہیں تھا۔
“ارے ارے عرش ایسے کیوں رو رہی ہو؟ میرا بیٹا بس آپ کی بھلائی کیلئے کیا ہے جو بھی کچھ کیا ہے آپکے اچھے فیوچر کیلئے کیا ہے” سرور خان اسکا سر سہلانے لگے بوکھلا گئے تھے۔ عرش ان سے الگ ہوئ ٹشو سے ناک پونچھی آنکھوں میں حزن ٹہر گیا پھر سے۔
“بابا میرا دل نہیں لگتا پڑھائ میں”
“جانتا ہوں زہرا مگر بیٹا اٹس رئیلی نیسسری فار یو آپ میچیور ہوجاؤ گی میری بیٹی سمجھدار ہوگی انفارمیشن آئے گی اور ڈگری بھی اج کل تعلیم عورتوں کیلئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی مردوں کیلئے” انہوں نے تعلیم کی افادیت بتائیں مگر یہ سب وہ پہلے بھی سن چکی تھی۔
“میں کوشش کروں گی بابا دل لگا کے پڑھنے کی” مارے باندھے پہلی بار اسنے خود کو پڑھنے کیلئے تیار کیا
“میرا فرمانبردار بیٹا ” انہوں نے عرش کا سر چوما۔
“آپ آو گی نا اس ویک؟؟” انہوں نے ہاتھ کے ہاتھ وعدہ لینا چاہا۔
“جی بابا آؤں گی” اسنے سر ہلایا۔
وہ چلے گئے وہ میٹنگ روم سے باہر آئ تو شاہ کھڑا تھا اسے دیکھ کر جیسے لمحے بھر کو گڑبڑایا اور سنبھل گیا۔
“یہاں کھڑے آپ باتیں سن رہے تھے؟؟” اسنے کڑے تیوروں سے پوچھا۔
“واٹ؟” وہ جیسے اچھلا
“شکل سے کتنے مہذب اور اور سوبر لگتے ہیں آپ جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے” وہ اسکے سر سے پاؤں تک اشارہ کر کے گویا شرم دلانے لگی۔
“ایک منٹ جیسا آپ سوچ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہے” شاہ وہاں سے جانے کو پر تولنے لگا
“ایسا ہے یا نہیں مسٹر میٹر نہیں کرتا جو میں نے دیکھا ہے وہ میٹر کرتا ہے” وہ گیلی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی اور شاہ 24سال کی عمر میں پہلی بار کسی نم آنکھوں میں بہہ سا گیا “کتنا بولتی ہے یہ لڑکی اسکے گھر والے تو کانوں میں روئ ہی ڈال کر رکھتے ہونگے” وہ دک میں اٹھتی آواز کو نظر انداز کرتے سوچنے لگا۔
“بہت فضول بولتی ہو تم” شاہ نے اتنا ہی کہا اور وہاں سے چلا گیا”
“ارے” وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی اور دانت پسیج کر رہ گئ
******
“شاہ اپنے کمرے میں لیٹا چھت کو گھور رہا تھا وہ عرش کی ساری باتیں سن چکا تھا۔
اتنی پڑھائ سے بیزاری؟ اتنی اپنے گھر والوں سے ناراضگی؟ اتنا فضول بولنا’ بلا وجہ لڑنا۔ کتنی نیگیٹو ٹائپ کی شخصیت ہے” وہ کروٹ کے بل لیٹ گیا سر کے نیچے تکیہ اونچا کیا۔
“بس ایک چیز پازیٹیو خوبصورت کتنی ہے۔ خیر مجھے کیا” سوچوں کو جھٹکتے وہ آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر ذہن کے پردے پر اسکا عکس ہنوز برقرار تھا”
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا
کہیں مجھے اس سے…” اس سے آگے شاہ سوچ نہیں پایا وہ پریشان ہوگیا۔ “مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کتنا بولتی ہے وہ میں کیسے برداشت کروں گا اور محبت” وہ حقیقیت میں پریشان ہوگیا اگر یہ سچ تھا تو بلکل بھی اچھا نہیں تھا۔
“ذہن ہپ سوار تو ہونی ہی تھی فضول بھی تو کتنا بولتی ہے” وہ خود کو تسلی دینے لگا
مگر 24سال کی عمر میں شاہ ارسلان کو عرش زہرا سے محبت ہوچکی تھی اور یہ بلکل بھی اچھا نہیں ہوا تھا۔
“کتنا بولتی تھی وہ”
________
وہ ہفتے کو گھر آگئ تھی اور آکر جو اس نے سوچا تھا کہ وہ سب سے منہ پھلائے رکھے گی یا لفٹ نہیں کروائے گی۔ تو اسکی یہ ساری سوچیں ہوا ہوئی تھیں۔ وہ دادی امی اور تائ کے پاس انکی گود میں سر رکھ کے باری باری روئ تھی۔ اپنے دکھڑے سنائے تھے۔ ہاسٹل کی میس کے حال سنائے تھے۔ دادی کا دل موم ہوا تھا انہوں نے اس کے سامنے سرور خان کے لتے لیئے تھے۔ مگر سوائے خجالت سے سر ہلانے کے وہ کچھ نا کر پائے۔ جی بھر کے لاڈ اٹھوا کر اریب اظہر کو تنگ تنگ کر کے بابا نے ڈھیر ساری شاپنگ کروا کےاسکا دل بہلایا تھا۔
وہ ایک ہفتہ گزار کے یونی واپس آنے کی تیاری کرنے لگی تھی۔
دل تھا کہ جانے پر آمادہ ہوتا ہی نا تھا۔
بابا نے اسے پیسے دئیے تھے۔ کہ اگر اسے میس کے کھانے نہیں اچھے لگتے تو وہ کینٹین سے کھا لیا کرے
وہ حیران ہوئ تھی بابا نے اس قدر چھوٹ تو اسے کبھی نہیں دی تھی۔
اسکی یہ حیرانی کافور ہوئ تھی جب جانے سے ایک دن پہلے سرور خان نے اسے اپنے پاس بٹھا کر لیکچر دیا تھا جسکی شروعات “پڑھنے میں دل لگانا بیٹا” سے ہوئ تھی اور اختتام “ہماری محنت اور پیسے کو برباد مت کرنا برا رزلٹ لا کر” پر ہوا تھا۔
گویا ساری نوازشیں اسکے لئے نہیں “رزلٹ” کے لئے تھیں اسکا سخت موڈ آف ہوا تھا مارے باندھے وعدہ کر کے وہ ہاسٹل آگئ تھی۔
*****
زہرا نے حامی بھر تو لی تھی مگر اب اسے پڑھنا محال لگ رہا تھا جیسے ہی کتاب کھولتی اسے چکر آنے لگتے بھوک لگنے لگتی یا بولنے کا دل کرتا- وہ تھوڑی دیر نفس سے لڑنے کے بعد کتاب بند کردیتی۔
جیسے جیسے امتحانات قریب آرہے تھے باقی اسٹوڈنٹس کے برعکس اس کے کچھ زیادہ ہوش اڑتے جا رہے تھے سب کی کچھ نا کچھ تیاری تھی ایک وہ ہی تھی جو اتنے ماہ فضول کی ضد میں برباد کئے بیٹھی تھی۔ اب پہلے سمسٹر میں ہی اسکی ناک کٹنے والی تھی یہ خیال ہی سوہان روح تھا۔
وہ دانتوں سے ناخن کرنے لگتی۔
یہاں سے وہاں چلتے ہوئے واک کرتے کبھی دھیمی آواز میں کبھی بلند آواز میں رٹے لگاتی۔
سوالوں کو قسطوں میں یاد کرتی۔ تب جا کہ کچھ یاد ہوتا۔ نالائقییوں کے اس قدر ریکارڈ ٹوٹ رہے تھے کہ جو یاد کرتی اگلے دن بھول جاتا۔ وہ تنگ آجاتی۔ کتاب پٹخ کے اٹھ کھڑی ہوتی۔ گھر یاد آنے لگتا۔
وہ جھلا جاتی۔
میمونہ اسے دیکھ کے ہنسنے لگتی کبھی اسے مشوروں سے نوازنے لگتی۔ جس پر زہرا اسے “اپنے کام سے کام رکھنے” کی تلقین کردیتی۔
وہ کندھے اچکا کر رہ جاتی۔
اسے لگتا تھا جیسے وہ بھرے پڑے جہان میں اکیلی پڑ گئ ہے۔ میمونہ سے مدد مانگنا مطلب اسکا لیکچر سننا “آگئ ہو نا لائن پہ” وہ سوچ کر رہ جاتی۔
جو کچھ کرنا تھا اکیلی ہی کرنا تھا یہ تو وہ جانتی ہی تھی۔
صرف ایک ماہ رہتا تھا سمسٹر میں اور اس نے اسائنمنٹ یا نوٹس کچھ بھی تیار نہیں کئیے تھے۔
اس نے میمونہ سے مدد طلب کرنے کا سوچا کیونکہ اکیلی تو وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی۔ اور کلاس میں کسی سے اسکی بنتی نہیں تھی۔
وہ دو کپ کافی بنا کر میمونہ کے بیڈ پہ لے آئ۔
میمونہ شکریہ کے ساتھ کافی لے کر اپنی بک پر جھک گئ۔
اسے لگا تھا پھر سے زہرہ کوئ نا کوی “یونی اسٹوری ، یا کوئ واقعہ یا گھر میں ہونی والی کوئ “نہایت دلچسپ گفتگو” شئیر کرنے آئ ہوگی” جو اسے اچانک یاد آئ ہوگی اور میمونہ اسے سے محروم نا رہ جائے اس لئے سنانے آئ ہوگی۔
مگر کافی کا آدھا کپ خالی کرنے تک زہرہ بلکل خاموش تھی کسی سوچ میں گم۔ خلاف معمول دس منٹ سے بلکل چپ۔
“آر یو اوکے؟؟” میمونہ نے کپ سائیڈ میں رکھتے ہوئے اسے ہلایا۔
