Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 04)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

یہ وقت نے ثابت کردیا تھا کہ شاہ سے ٹیوشن لینے کا فیصلہ کتنا درست تھا۔ وہ کند ذہن نہیں تھی بس پڑھائی سے بھاگتی تھی اور جب شاہ پڑھانے لگتا تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی دلچسپی لینے پر مجبور ہوجاتی۔ شاہ کم سے کم الفاظ خرچ کرتا جیسی اسکی عادت تھی وہ بتا کر خاموش ہوجاتا پھر زہرا پر ڈیپینڈ کرتا تھا کہ وہ خود سمجھے اور اور بتائے کتنا سمجھ آیا۔ اب زہرا نا سمجھتی تو “کم عقل اور “کند ذہن” ثابت ہوتی شاہ کے آگے سبکی کا احساس اور بابا سے کئیے ہوئے وعدے نے دلچسپی لینے پر مجبور کردیا تھا۔

بلاشبہ وہ دل لگا کر پڑھ رہی تھی۔

وہ پڑھنے کے دوران بولتی تو شاہ ناگواری سے اسے ٹوک دیتا

وہ دکھ سے چور ہوتی (بظاہر) منہ بناتی پڑھنے لگتی۔ شاہ لبوں میں ہی مسکراہٹ روک لیتا۔ مبادا وہ دیکھ لے اور ہنگامہ کردے۔

مگر پھر چند منٹوں بعد اسے کچھ کچھ نا کچھ یاد آتا اور وہ شاہ سے پوچھنے لگتی یا بتانے لگتی۔

وہ دلچسپی سے (دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر) سننے لگتا اسکی عادت پڑ رہی تھی وہ لڑکی عادت بن رہی تھی۔

“شاہ آپکو پتا ہے مجھے کیمسٹری اور فزکس زہر لگتی ہے اور میتھ تو میں مر کے بھی نہیں سمجھ سکتی اور بائیو” اس نے ناک چڑائی

“بائیو کی تو بکس دیکھ کر مجھے الٹی آتی ہے”

وہ کتاب پہ کہنی رکھے اور ہتھیلی میں چہرہ رکھے دوسرے ہاتھ سے نوٹ بک پر دائرے بنا رہی تھی۔

“پڑھ لیں ابھی؟ اسکے بعد باتیں کر لینا میں یہیں ہوں” گھڑی پہ نظر دوڑاتے وہ طنز پہ اتر آیا

شاہ جیسا خاموش سامع میسر آیا تھا دل کھول کے بولنا چاہتی تھی اور یہ بندہ تھا کہ بولنے سے پہلے ہی ٹوک دیتا تھا

آنکھوں میں ڈھیر و ڈھیر خفگی اتر آئی تھی بک جھپٹا مار کے اٹھائی اور آنکھوں کے سامنے کرلی کہ چہرہ نظر نا آئیے۔

“میسنا خود تو “گونگا” ہے مجھے بھی بولنے نہیں دیتا۔ ہائے اللہ امی ابو اللہ پوچھے آپکو کس “عذاب”میں جان ڈال دی میری” وہ ہلکی آواز میں بڑبڑانے لگی

“زہرہ پڑھ لو پلیز آج کلاس آف ہونے کے بعد ایک گھنٹہ آپکے لئیے تم تھک گئی ہوگی تھوڑی فریش ہوجانا حق بنتا ہے اور میمونہ کے ہاتھ کی کافی بنوا لیں گے ہم” وہ سکون سے بیٹھے کہنے لگا کب پڑھتے پڑھتے ان تینوں کا گروپ بن گیا تھا پتہ ہی نہیں چلا تھا۔

” میں پڑھ ہی رہی ہوں شاہ ” ایک جھٹکے سے زہرا نے کتاب کے پیچھے سے چہرہ نکالا تھا۔ لال ہوتے چہرے کے ساتھ۔

“کتاب الٹی پکڑی ہوئی تھی اسلیئے کہا ” کندھے اچکاتے وہ ہنسی روک کے بولا تھا۔

اس نے بک دیکھی جو واقعی الٹی تھی گڑبڑا کے اسنے بک سیدھی پکڑ کے چہرے کے آگے کی تھی اور اب سچ میں خجالت سے منہ چھپایا تھا۔

*******

ہاسٹل کے باہر لان میں اتنی سردی میں واک کرنے کا آئیڈیا سوائے عرش زہرا کے اور کسی کا نہیں ہوسکتا تھا میمونہ اسکا پروگرام سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے بکس اٹھاتی معذرت کرتے چلی گئی تھی وہ تو دن میں بھی سوئیٹر میں “پیک”رہتی تھی کہاں رات کے دس بجے کڑکڑاتے دسمبر میں ہیٹر والا کمرہ چھوڑ کے لان میں واک کرنا۔

زہرا کا سخت موڈ آف ہوا تھا

“ہم دونوں چلیں اگر تم چاہو تو؟ شاہ کافی مگ کے ہونٹوں سے لگاتے پوچھنے لگا

زہرا نے اسے سر اٹھا کر دیکھا وہ یوں گھورنے پر گڑبڑا گیا “اٹس اوکے نہیں جاتے میں اپنے روم میں جارہا ہوں رافیل کے میسج آرہے ہیں وہ لوگ کمبائن اسٹڈی کیلئے بلا رہے ہیں” وہ موبائل جیب میں ڈالتے ہوئیے کہنے لگا

“میں نے منع کب کیا بس “کنفرم” کر رہی تھی آنا بھی ہے یا یونہی کہہ رہے ہیں ” وہ جلدی سے بولی کہیں وہ واقعی چلا ہی نا جائے۔

“مگر کافی تو ختم ہوگئی”

“میں اور بنا لاتی ہوں” کمبل پرے پھینکتی وہ کچن میں گئی اور اگلے پندرہ منٹ میں دو مگ لئیے سر پہ اونی ٹوپی چڑھائے اور لمبا سو کوٹ پہنے تیار تھی کسی صورت وہ یہ “پڑھائ سے دوری” کے لمحے ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔

وہ لان میں آگئے شاہ نے ٹوپی کا تکلف نہیں کیا تھا۔ وہ سرمئی بونینزا سوئیٹر میں تھا اور گردن پہ مفلر لپیٹا ہوا تھا۔

“آپکو پتا ہے شاہ میمونہ کہتی ہے میں “سردی پروف” ہوں” ہنستے ہوئیے بتاتے اسنے گفتگو کا آغاز کیا

“تمہیں اتنی سردی میں واک کرنے کا شوق کیوں ہے اس دن بھی تم لائبریری کے باہر گھوم رہی تھیں؟” شاہ نے کافی کا سپ لیتے ہوئے پوچھا

عادتا سر کو دائیں جانب جھٹکا

“مجھے حقیقتا سردی بہت ذیادہ لگتی ہے بس مجھے شوق ہے موسموں کی شدت محسوس کرنے کا’ میں جون جولائی کو بھی اینجوائے کرتی ہوں” وہ محفوظ ہوتے بتانے لگی

“اور جب میں گھر ہوا کرتی تھی تو چاہے مجھے سردی لگے یا نا لگے میں سوئیٹر پہنا کرتی تھی اور ماما سے فرمائش کر کے سوپ بنواتی بابا سے ڈرائ فروٹ منگواتی پھر لاوئنج میں کوئی ہارر مووی لگا کر ہم سب دیکھا کرتے تھے”

“اور پتا ہے شاہ مجھے یہ سب بہانے لگتے تھے اکھٹے بیٹھنے کے پھر سب اپنے اپنے کام اٹھا کر لاوئنج میں آجاتے تھے میں نے کبھی سنگل باول میں سوپ نہیں پیا نا ہی ایک پلیٹ میں ڈرائی فروٹ نکالتی تھی۔ میں ٹرے تیار کرتی تھی اور سب کیلئے نکالتی تھی پھر ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ کوئ انکار کرے اریب اظہر بھی آجاتے تھے تایا ابو تائی اماں دادی سب لوگ” وہ مسکراتے ہوئے نم آنکھوں سے ماضی میں کھو سی گئی

اور اب سب مجھے بہت یاد کرتے ہونگے میں جانتی ہوں اب لاوئنج میں یوں رونق بھی نہیں ہوتی ہوگی محبت کی عادت ڈالی ہے میں نے کوئی ایویں نہیں” وہ سر جھٹک کر خود ہی ہنسنے لگی

شاہ اسکے پل پل بدلتے روپ دیکھ رہا تھا خاموشی سے اسے سننا ذیادہ اچھا تھا نا کے اسے کریدنا۔

اسے اس لمحے جیسے فخر سا محسوس ہوا وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا جو اب اپنی انگلی کی پور سے نمی جھٹک رہی تھی

شاہ مبہوت رہ گیا پہلی بار وہ یوں اس سے اپنی فیلینگس شئیر کر رہی تھی اور یوں اس کے سامنے جذباتی ہوئی تھی

“تمہیں واقعی سب بہت مس کرتے ہونگے جتنا تم بولتی ہو سب کو کمی تو محسوس ہونی ہی ہے ٹھیک ٹھیک ” وہ زور زور سے سر ہلاتے موضوع بدلتے اسے چڑانے لگا

“اور آپکے گھر والوں کو تو محسوس بھی نہیں ہوا ہوگا کہ گھر کا کوئی فرد کم ہے جو یہاں بیس اکیس سال گزار کے گیا ہے” اسنے اسکی کم گوئی پہ چوٹ کرتے بدلا لیا فورا

“دن میں چار بار” موبائل کی اسکرین اس کے سامنے لہرائی “چار بار ماما کال کرتی ہیں اور دادو بابا الگ” وہ جتانے لگا ہنسنے لگا

“اسلام آباد کے موسم کا حال پوچھنے کیلئے کال کرتے ہونگے”.

“ہر دو گھنٹے بعد یہاں برف یا آگ نہیں آتی محترمہ عرش زہرا جو اسکی بابت پل پل باخبر رہیں” وہ ہنسنے لگا سر دائیں جانب جھٹک کے

عرش زہرا اسکی موچھوں کے پیچھے جھانکتے موتیوں جیسے دانتوں کو دیکھنے لگی کتنا پیارا ہنستا تھا وہ

کوئی نہیں” وہ نظریں چراتی گئی

“اب چلیں واک پریڈ ختم ہوا ہو اگر؟”

“ہاں چلتے ہیں میری کافی بھی ختم ہوگئی”

“میری بھی”شاہ نے اپنا خالی مگ بھی اسے تھمایا

“آپکی تو “چارج” بھی ختم ہوگئی ہوگی” وہ مگ تھامتے ہاسٹل کی جانب بڑھی

“مطلب؟”

“مطلب یہ کہ اتنا بول لیا تو آپکی ٹالکنگ بیٹری ڈیڈ ہوگئی ہوگی نا” وہ شرارت سے کہتے بھاگتی گئی شاہ نے قہقہہ لگایا تھا “تم رکو” وہ اسکے پیچھے بھاگا

“جائیں اب” اسنے ہاتھ سے نا رکنے کا اشارہ کرتے وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی بھاگتے ہوئے شاہ نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا تھا

موبائل کی ٹون بھی تھی رافیل کی دس مس کالز تھیں موبائل سائلینٹ پہ تھا

“اوہ مائی گاڈ وہ وہاں ویٹ کر رہے ہونگے” شاہ نے پیشانی مسلی پھر زہرا کے ہاسٹل کی سائیڈ دیکھ کر مسکرایا تھا “خیر ہے”

________

امتحانات آنے والے تھے زہرا جو ایک دو دن گھر جاکر ذہن کو فریش کرنے کا سوچ رہی تھی تو شاہ نے اسکی تمام سوچوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ یہ کہہ کر کہ “خدا خدا کر کے تمہارا پڑھائی کی جانب دل راغب ہوا ہے اب گھر جاو گی تو پھر سے دل ہمکنے لگے گا” وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی تھی۔

“اب میں گھر بھی انکی اجازت سے جاؤں؟” زہرا کوفت سے سوچ کر رہ گئی

خیر جو بھی ہے بات تو ٹھیک ہے۔ وہ دل سے نا سہی مگر متفق ہوگئی تھی۔

یوں مجموعی طور پر وہ ایک ماہ سے گھر نہیں گئی تھی۔اور اسے ایسا لگ رہا تھا صدیوں سے نہیں گئی بات بات پر پھاڑ کھانے کو دوڑتی لمحہ کے ہزارویں سیکنڈ میں آنکھوں میں نمی آجاتی وہ کڑوے گھونٹ اتار لیتی۔

ڈیٹ شیٹ آگئی تھی اگلے ہفتے سے ایگزام شروع ہونے تھے سب کے ہی رنگ فق تھے گو کہ امتحانات کی تیاری اپنی جگہ مگر پھر بھی خود اعتمادی کا فقدان تھا۔

ایسی ہی ایک سرد سی شام وہ ہاسٹل میں کتاب کھولے اس پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی مگر دھیان کہیں اور تھا۔ آج کوچنگ نہیں لیا تھا اس نے شاہ کا وائیوا تھا اور وہ مصروف تھا تو انہوں نے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا گو کہ اس نے انکار نہیں کیا تھا مگر پھر بھی زہرا کو ٹھیک نہیں لگا تھا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دل لگا کر خود ہی پڑھے گی۔

وہ کتاب میں غرق تھی سر پہ اونی ٹوپی پہنے ہوئے تھی۔ جس پر اوپر ایک بال سی لڑھکتی تھی۔ کبھی یہاں کبھی وہاں۔

“بڑی پڑھائیاں ہورہی ہیں بھئی” میمونہ اپنے رجسٹر سنبھالے اس کے برابر دھپ سے بیٹھ گئی۔

“کوشش کہو پڑھائی نہیں” دلگرفتہ انداز

کیوں بھئی؟

“کیونکہ میں جتنا مرضی پڑھ لوں نا میرے مارکس اچھے آئیں گے اور نا ہی میں کلئیر ہو سکوں گی یہ سچ ہے اور تلخ حقیقت ہے” رجسٹر بند کیا اور آنکھوں پہ ہاتھ رکھے لیٹ گئی۔

میمونہ تاسف سے سوچنے لگی۔ تین چار دن کوچنگ سے دوری کا نتیجہ تھا جو وہ پرانی روش پہ آچکی تھی۔ اسے شاہ ہی سیدھا رکھا کرتا تھا۔ ہر دم پر امید اور عزم سے…

********

امتحانات کا ہوا آیا تھا اور جھونکے کی طرح گزر گیا تھا۔ ہوتے ہونگے لوگ فریش کرتے ہونگے ہلہ گلہ امتحانات کے بعد! رزلٹ کا خوف کچھ اسٹوڈنٹس ک خون خشک کئیے رکھتا ہے انہیں قبل از رزلٹ ہلے گلے سے باز رکھتا ہے …مگر ایک “چھٹکارے” اور “آذادی” کی کیفیت تھی جس کا “عرش زہرا مجسم تھی” ہوتی ہے خوشی اطمینان مگر اتنا؟

اس طرح؟ ہر آنے جانے والا اسے مبارک باد دے رہا تھا۔

کچھ اس طرح کے جملے ہونی میں “عرش زہرا” کو مل رہے تھے

“بہت بہت مبارک ہو زہرا” یہ آنساء تھی اسکی کلاس فیلو جس سے زہرا کی کبھی نہیں بنی تھی

“خیر مبارک! مگر کس بات کی ابھی رزلٹ تو نہیں آیا؟” لٹھ مار مغرور انداز لوٹ آیا تھا عرش زہرا کا

“سنا ہے تم نے شکرانے مان رکھے تھے کہ ایگزام اچھے ہوجائیں اور جلدی گزریں”ہنستے ہوئے کہا گیا کیا طنز تھا شہد میں بھیگا ہوا۔ زہرا کھول گئی تھی ہاں اس نے مانے تھے شکرانے اور ادا بھی کردئیے تھے مگر اتنی “اندر کی بات” کس نے لیک کی تھی؟

میمونہ نے؟ وہ کبھی نا کرتی پھر؟

“تمہیں کس نے بتایا؟” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی

جب پریئر ہال میں تیس چالیس نوافل ایک ساتھ ادا کئیے جائیں تو سب دیکھیں گے ہی” یہ جملہ زرنش کی طرف سے آیا تھا جو اپنا چشمہ ناک پہ جماتے ہوئے بولی تھی۔

زہرا نے دانت پسیجے تھے خود کو کوسا تھا کیا تھا جو کمرے میں آکر پڑھ لیتی؟ مگر نہیں خوشی اتنی تھی کہ اسے لگا تھا ابھی سجدہ شکر وقت پہ نا ادا کیا تو گویا “قضا” ہوجائے گا۔

“بلکل! اللہ کے حضور تو سب سے پہلے سر جھکانا چاہئے نا..اس سے اپنی خوشی سب سے پہلے شئیر کرنی چاہئے..وہی تو کامیابی دیتا ہے..اور انسانوں سے تو بعد میں شئیر کرنی چاہئے..بس اللہ ہی ہے جو ہماری خوشی دیکھتا ہے ہم سے خوش ہوتا ہے..انسانوں کا کیا ہے؟ وہ تو سنتے ہیں..اوپر سے خوش ہونے کی اداکاری کرتے ہیں اور پیٹھ پیچھے برائیاں کرتے ہیں اور پھر “حسد” بھی..تو اللہ سے ہی شئیر کرنی چاہئے نا؟؟” وہ بنا گھبرائے بنا جھجکے سینے پہ ہاتھ لپیٹے اپنی ازلی اعتماد سے سکون سے بولتی گئی۔

زرنش آنساء اور ایک دو اور لڑکیاں جو اسکا مذاق بنانے کیلئے خیال سے وہاں کھڑی تھی وہاں سے کھسکنے لگیں۔

اللہ کا حوالہ ہی اتنا معتبر ہوتا ہے..

زہرا سر جھٹک کر ہنہ کر کے رہ گئی۔ “تھینک یو اللہ جی”

وہ آسمان کی طرف منہ کر کے بولی تھی

********

شاہ کا میسج آیا تھا کہ وہ آرہا ہے زہرا نے میمونہ کو بھیج دیا تھا کہ وہ شاہ کو کمپنی دے۔

“تم جاو میں بس پندرہ منٹ میں حلیہ درست کر کے آتی ہوں” وہ میمونہ کو دھکیلتے ہوئیے بولی۔

“تمہارے سسرال والے نہیں آئے جو تیار ہونے جا رہی ہو یاد رکھو وہ تمہارا ٹیچر ہے اور تم اسے سخت نا پسند کرتی ہو” میمونہ سے جتایا تھا۔

“افوہ تم جاو تو سہی بس آدھا گھنٹہ” وہ کمرہ بند کر کے گہری سانس لے کر رہ گئی تھی پھر کچن میں گھس گئی تھی ایک تو ٹائم ویسے ہی کم تھا۔

“عرش نہیں آئی؟ وہ تو اس سے ملنے آیا تھا اور وہ آئی ہی نہیں تھی عجیب..!!

وہ ہاسٹل کے باہر میٹنگ روم میں بیٹھے تھے۔

“بس آرہی ہے آتی ہوگی ” میمونہ نے اسے بتایا تھا

کچھ لمحے اور سرکے تھے وہ گھڑی دیکھنے لگا تھا۔

“ٹن ٹران” عرش زہرا ٹرالی گھسیٹتے اندر آئی تھی

وہ تو حلیہ بہتر کرنے گئی تھی اور، اور یہ کیا حلیہ بنا کے آئی تھی؟؟

وہی سوٹ جو وہ دو دن سے چڑھائے ہوئے تھی اس پر ایپرن پہنا تھا جو ہوگا کسی زمانے میں سفید براق مگر ابھی کتھئ کالے اور سرمئی دھبوں کا عجیب نمونہ لگ رہا تھا۔ اور سر پر وہی اونی ٹوپی تھی۔ چہرے پر بھی جابجا دھبے لگے تھے اور رنگت تمتما رہی تھی کچھ کچن کی گرمی سے کچھ شدت جذبات اور خوشی سے…

میمونہ اپنے کھلتے منہ پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھی

وہ ٹرالی میں برتن لگا رہی تھی

اور ٹرالی اشتہا انگیز کھانوں سے بھری ہوئی تھی جو عرش زہرا نے بنائے تھے۔

بریانی، میکرونی، فروٹ ٹرائفل، فرائ فش، چپاتیاں، یہاں تک کہ فرنچ فرائز بھی..اور ایک چھوٹا سا ایک پونڈ کا کیک..

پوری کی پوری دعوت تھی جو اس نے ان دونوں کو دی تھی..

“یہ سب؟ وہ اچھنبے سے پوچھے بنا نا رہ پایا تھا

“ہاں میں نے” زور سے پلکیں جھپکتے وہ شدت جذبات سے بولی تھی

“تم نے بنایا یہ سب؟؟ میمونہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی خوش رنگ کھانوں کی طرف دیکھا تھا۔

“ہاں بس فرنچ فرائز” زور سے آنکھیں پٹپٹائیں..

“باقی سب؟ شاہ سیدھا ہوا تھا

“کینٹین سے” دعوت آپ دونوں کیلئے’ وہ پلیٹوں میں نکالنے لگی

شاہ اور میمونہ ہونق بنے ایک دوسرے کو تکتے رہے..پھر ہنس دئیے تھے

میمونہ شاہ کی آنکھوں میں جذبات دیکھ رہی تھی جو بہت کوشش کے باوجود اپنا جذبہ منوا رہے تھے..

______

عرش زہرا امتحانات کے بعد گھر جانے کی تیاری کرنے لگی اور یہ ٹور کچھ لمبا تھا باقی پچھلے ٹور سے کیونکہ رزلٹ آنے میں ابھی بھی ایک ماہ باقی تھا میمونہ بھی اپنے گھر حیدرآباد جا رہی تھی پھر اسکا کوئی جواز نہیں بنتا تھا ٹہرنے کا۔ اس نے شاہ نے اور میمونہ نے پیر کو جانے کا سوچا تھا اور آج ہفتہ تھا سارا سامان وہ پیک کرچکی تھی پہلے الگ الگ جانا تھا سب نے پھر زہرا کے بابا نے اسکی ٹکٹ بھیج دیں تھیں اور اتفاق ہی تھا میمونہ بھی اسی دن جا رہی تھی۔ پھر شاہ نے بھی اسی دن کی سیٹیں بک کروائیں…

تینوں جانتے تھے یہ ٹور لمبا ہے اور ایک دوسرے کو سب نے مس کرنا تھا۔

زہرا تو شاہ کی مشکور ہوئی جاتی اتنی اچھی تیاری کروانے پر اور ایگزام کے بعد تو وہ کچھ زیادہ ہی مطمئن تھی۔

شاہ اسے ٹوک دیتا “میں نے کوئی احسان نہیں کیا زہرا یہ میرا فرض تھا اب اس طرح شرمندہ مت کرو”

“اوکے اب نہیں کہوں گی” وہ بچوں کی طرح منہ پہ انگلی رکھ لیتی۔

اتوار کی رات پھر سے زہرا کی وہی رٹ تھی “واک پہ چلتے ہیں، یا سینیٹوریم پہ شاپنگ کیلئے،سردی اینجوائے کرنے دو کراچی جا کر بہت مس کروں گی” وہ دہائی دینے لگی۔

“یہ میرے ہاتھ دیکھو بہن، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے اتنی سردی میں برف بننے کا بلکل بھی شوق نہیں ہے مجھے سونے دو کل دوپہر دو بجے میں نے جانا ہے گھر” میمونہ نے کمبل سے باہر منہ نکالا تقریر کر کے واپس سو گئی۔

“سوتی رہو مرو” زہرا نے زور سے اسکے اوپر تکیے پٹخے اور بڑبڑانے لگی

“پتہ نہیں کوئی ایک دوست تو ایسی ہوتی ہی ہے جو پورا برف کا گولا ہوتی ہے سردی سردی، اور سردی، جیسے باہر نکلے گی تو جم ہی جائے گی ایک ہم ہیں مرے جارہے ہیں اینجوائے کرنے کیلئے” باآواز بلند بڑبڑانے لگی

“تم شاہ کو میسج کرو وہ لے جائے گا” کمبل کے اندر سے آواز آئی

“بی بی میرے ماں باپ کو پتہ لگ گیا نا میں یہاں ایک ہینڈسم بندے کو لئیے لئیے لورلور گھومتی ہوں تو وہ مجھے پڑھانے کے خواب سمیت مجھے بھی دفنا دیں گے اور میری دادی تو فاتحہ بھی نہیں پڑھیں گی” وہ تاسف بھری آواز میں بولی

“ماں باپ کو یہ بھی بتا دینا وہ ہینڈسم بندہ تمہارا ٹیچر ہے، اور انکے خوابوں کو انکی بیٹی سے زیادہ وہ پورا کر رہا ہے، ہوسکتا ہے تمہیں درگور کرنے کے بعد وہ اسے گود لے لیں خواب تو پورے ہو ہی جائیں گے پلا پلایا پڑھا لکھا ڈاکٹر بیٹا بھی مل جائے گا” کمبل سے پھر آواز آئی تھی۔

عرش زہرا جل بھن گئی اسکا کمبل جیسے تیسے کر کے کھینچ کے پرے پھینک دیا

“اس کمبل کی آڑ میں تم کچھ زیادہ ہی بول رہی تھی” وہ چڑ گئی۔

میمونہ اٹھ بیٹھی

“دیکھو تمہیں منہ سے جو کہنا ہے کہو مگر یہ” کمبل کی طرف اشارہ کیا “یہ دہشتگردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے، خود تو پوری پیک ہوکر بیٹھی ہو”میمونہ ہاتھ بڑھا کر کمبل اٹھانے لگی فرش بہت ٹھنڈا تھا پاؤں رکھتے ہی چھینکیں شروع ہوجاتی تھیں..

زہرا اٹھی اور کمبل دور پھینک دیا فل شرارت کے موڈ میں۔

“زہرا یہ مت کرو” میمونہ کانپنے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *