Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 21)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 21)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
انکے رزلٹ آگئے تھے، اور کامیابیوں کے شور تھے جو تھمتے نا تھے، عرش بھی پچھلی بار کی طرح اے پلس، اے ون گریڈ کے نمایاں نمبروں سے پاس،اور یونیورسٹی سے فارغ ہونے (جان چھوٹنے) پر بے حد خوش عرش،
انکی خوشی رزلٹ، عرش کے ایم اے اردو ہونے، شاہ کے باہر جانے، سب کی ملی جلی دعوت، پہلے نورینہ کر کے فارغ ہوگئیں، پھر انساء کی باری تھی، وہ کچھ اسپیشل کرنا چاہ رہیں تھیں شاہ کی خواہش پر عرش کو پھر سے لے آئیں،،،
کھانا کھایا گیا، بخیر و عافیت سب نمٹ گیا، اب سب پتا تھا عرش رکے گی، نورینہ نے بھی اعتراض نہیں کیا تھا، اسکا شوہر تھا پرسوں اس نے چلے جانا تھا، شرعی حق تو بہت تھے،مگر جس پر اکتفا تھا وہ بھی کافی تھا شکر تھا۔
وہ اسے سب کے سامنے سے اٹھا کر اپنے روم میں لے گیا،
وہ گم سم سی تھی، بار بار شاہ کو دیکھنے لگتی، جیسے من بھر رہی ہو…
“چلو اب منہ کیا دیکھ رہی ہو، اچھی بیویوں کی طرح میرا سامان پیک کرو” شاہ پاؤں پسارے بیڈ پر لمبا بیٹھ گیا، وہ اسے تیار کر رہا تھا، اسکا مائنڈ سیٹ، حقیقت سے روشناسی….
وہ کنارے پر ٹکی ہوئی تھی سارے میں شاہ کا سامان پھیلا ہوا پڑا تھا۔
وہ متوحش ہورہی تھی، پھر سے اس ہر دورہ پڑ رہا تھا، وہ بے چینی سے انگلیاں مڑوڑنے لگی،
“شاہ” بھیگی آنکھوں کے ساتھ پکارا
“عرش پلیز، اب نہیں رونا” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا،
“رہنے دو تم میں خود پیک کرلوں گا، آٹھ جاو سامان کے پاس سے” اسنے عرش کو وہاں سے اٹھا کر پاس بٹھایا۔ وہ حقیقت سے دور ہی اچھی تھی،
وہ مشینی انداز میں، اٹھ کر آگے آگئ
“عرش، عرش زہرا، پھولوں کی خوشبو، تتلیوں سی نازک، حور ارض، میری رفاقت میں آکر مجھے مکمل کرنے والی، میری خواہشوں کی تکمیل، میری زندگی،” شاہ کی اب بس تھی، وہ ہار رہا تھا، اسکی محبت سے اسکے آنسوؤں سے…
وہ شاہ کے سینے میں سر چھپا گئی، رونے لگی بے تحاشا،،،،
شاہ نے اسکے آنسو بہنے دئیے یہ ضروری تھے،، یہ غبار یہ ڈر بہہ ہی جاتا تو اچھا تھا وہ بس اسکا سر سہلاتا رہا، آنکھیں موندے،
وہ روتی رہی، شاہ کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ کر،
شاہ نے بس سا بس عرش زہرا کے گرتے آنسو محسوس کر رہا تھا،
وہ کلیوں سی کھلتی لڑکی، وہ رنگوں کی بہاروں کی مانند چھانے والی، وہ بولتی ہوئی مینا… اب روئے جا رہی تھی تو شاہ کیلئے، شاہ کی خوش نصیبی کا کوئی انت نا تھا….. کسی محبت یا نا محرم کیلئے نہیں، بس اپنے شوہر کیلئے، جو اس سے محبت تو کرتا تھا،مگر اسکی محبتوں کے ملاپ کے بعد عشق میں ڈھل رہا تھا۔ ایسی برکتوں والی محبت تھی عرش زہرا کی،
شاہ کے قدم دل، ذہن سب جکڑ لیا تھا۔
وہ کیسے بھٹک جاتا،دیار غیر تو کیا، وہ مے خانوں میں بھی نا بھٹکتا۔
پکارتا تو عرش،
بھٹکتا تب بھی عرش،
مدہوش ہوتا تب بھی عرش ہی کی گردان ہونی تھی،،،،
وہ اسے رونے دینے کے بعد، سیدھا ہوا، اسکا چہار صاف کیا، اسکے سر پر بوسہ لیا۔
اسکی آنکھیں بند تھیں، لب خاموش چہرا دھلا دھلایا آنسوؤں سے…
شاہ کا دل ڈولنے لگا۔
“چلو اب میری فیس دو” شاہ نے اسکا سر اپنے سینے پہ رکھ کر کہا۔
عرش نے بس گھورنے پر اکتفا کیا۔
“کنجوس لڑکی میری فیس نکالو” شاہ نے اسکی ناک دبائی
“نہیں دیتی ” عرش نے اسکے سینے ہر مکا مارا
“نہیں دو گی؟”
“کیا ہے شاہ؟” اسنے بری طرح گھورا۔
“پوچھ تو لو کیا چاہیے؟”
“کیا چاہیے؟ ” عرش نے پوچھا
“یہی کی تم اب ایک بار بھی روو گی نہیں، نا اب نا جاتے وقت، نا جانے کے بعد ” شاہ نے مانگا بھی تو کیا جس پر عرش کا اختیار نہیں تھا۔
“ممکن نہیں”وہ پھر سے سر ٹکا گئی۔
“مطلب تم وعدے سے مکر رہی ہو؟ کیا تم مجھے میری ہنستی بستی عرش نہیں لوٹا سکتی؟” شاہ کا سوال، اسی سے اسی کی ہنسی مانگ رہا تھا
عرش منجمد ہوئی،
“ٹھیک ہے،” وہ مسکرائی۔
_________
“کیا چاہیے؟ ” عرش نے پوچھا
“یہی کی تم اب ایک بار بھی روو گی نہیں، نا اب نا جاتے وقت، نا جانے کے بعد ” شاہ نے مانگا بھی تو کیا جس پر عرش کا اختیار نہیں تھا۔
“ممکن نہیں”وہ پھر سے سر ٹکا گئی۔
“مطلب تم وعدے سے مکر رہی ہو؟ کیا تم مجھے میری ہنستی بستی عرش نہیں لوٹا سکتی؟” شاہ کا سوال، اسی سے اسی کی ہنسی مانگ رہا تھا
عرش منجمد ہوئی،
“ٹھیک ہے،” وہ مسکرائی۔ زبردستی کی ہنسی…
“میں نے واپس آ جانا ہے نا؟ دو سالوں بعد؟ تم تو بہت برا ری ایکٹ کر رہی ہو عرش، ناٹ فئیر میرا دل کیسے لگے گا؟…” وہ روہانسا ہوگیا
“ٹھیک ہے نا اب نہیں روتی” وہ آنسو صاف کئیے اٹھی،
“اب آپ تھوڑی دیر جائیں، میں آپکا سامان بھی پیک کردوں اور صفائی بھی” وہ متورم چہرہ لیئے اٹھ کھڑی ہوئی،
“میں کہاں جاؤں؟ ” شاہ نے اچھنبھے سے پوچھا۔
“باہر کمرے سے باہر” عرش نے گھورا
“کیا تم میرے ہوتے ہوئے نہیں کرسکتی؟ ” شاہ نے منہ بسورا۔
” بلکل نہیں کرسکتی”عرش نے اسے نکال کر ہی دم لیا۔
“اب میں انکے سامنے “اپنے طریقے” سے سمیٹوں تاکہ یہ ریکارڈ لگائیں، ہنہ…
پھر اسنے سارا سامان اسکی واچز، پینز، پیجز، ٹوٹی ہوئی ہینڈ فری، درازیں جو خالی کر کے قالین پہ اوندھی کی ہوئیں تھیں، عرش نے دل پہ بھاری اینٹ رکھی، اور سب سمیٹنے لگی، تو اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ کباڑخانہ جو پہلے فرش پہ دیدہ دل راہ کیے ہوئے تھا اسنے وہ اٹھا اٹھا کر کمپیوٹر ٹیبل پر رکھ دیا، قالین کو جھاڑا اور پھر سے بچھا دیا۔
بیڈ پہ پھیلے ہوئے کپڑوں کو تہہ کر کےاس نے بمشکل سوٹ کیس میں ٹھونسے، اکثریت کپڑوں کی پریس اندر جاکر پہلے سے بد تر ہوگئی تھی، اسنے دروازے کے پاس دونوں بیگز کھڑے کردئیے، پھر ڈسٹنگ وغیرہ کے بعد جھاڑ پونچھ کردی،یہ سب کرتے ہوئے وہ خود کو ایک سلجھی ہوئی، نہایت سگھڑ اور ذمہ دار لڑکی پلس بیوی سمجھ رہی تھی، جو وقت پہ آکر سب سنبھال لیتی ہے، بیڈ شیٹ (جو اسنے لاسٹ میں جھاڑی) سے گرنے والے ذرات نے فرش کو واپس خراب کردیا تھا،
“خیر ہے” کندھے اچکائے، اور سارا کچھ ایک جھاڑن مار کر “بیڈ کے نیچے” کردیا۔
اور کناروں سے بیڈ شیٹ اڑسی، جو کہیں سے تو ٹھیک سے سیٹ ہوگئی، مگر کہیں کہیں، سلوٹیں باہر کو نکلی ہوئی تھیں،
پھر عرش نے ہاتھ منہ دھوئے، اور عین وسط میں آکر ائیر فریشنر چھڑکا۔
اپنے شوہر کے کام کرنے میں کتنا سکون تھا،، وہ خوش نا سہی آسودہ تھی، دل کو پہلی تھپکی ملی تھی،
شاہ اندر آیا۔
“ہوگیا کام تو چلو، تمہیں باہر لے جاتا ہوں” گھڑی کو دیکھتے ہوئے، دروازے کو جیسے ہی کھولا سوٹ کیس ساتھ گھسٹتے گئے، وہ اگنور کر کے عرش کو دیکھنے لگا۔
“اوہ میرے خدا یہ کیا؟” وہ ایک دم اندر آیا کمپیوٹر ٹیبل کے پاس،
“کیا ہوا؟” وہ حیرت سے دیکھنے لگی، دل میں تھا کہ شاہ سراہے گا
“تم نے یہ کمپیوٹرٹیبل کو کوڑے دان بنا دیا؟” وہ ہنستے ہوئے، بلیک مرر سے بنے ریک کو فالتو چیزوں سے صاف کر رہا تھا ہٹا رہا تھا ۔ اسکا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے
“یہ میں نے کوڑے دان بنایا ہے؟” عرش کے نتھے پھول گئے
“اوہ، نہیں، میرا مطلب ہے،، وہ.. یہ…یہ،، تو صاف تھی نا ٹیبل، عرش یہاں کیوں چیزیں رکھ دیں”وہ عرش کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر خاموش ہوا۔ ہنسی کو کہیں اندر ہی دبا دیا
“میں اپنے کمرے میں بھی ایسے ہی صفائی کرتی ہوں،” عرش نے فرضی کالر اکڑائے، واہ بھئی۔
“ہاں میمونہ نے بتایا تھا” کمپیوٹر ٹیبل خالی کرتے ہوئے شاہ بڑبڑایا۔
“میمونہ نے؟” عرش نے تھوک نگلا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے وہ سارے کپڑے گھوم گئے، جو وہ ہاسٹل میں جان بوج کہ بالکونی میں ڈالا کرتی تھی، اسے وہ برش بھی یاد آئے، جن سے اکثر بال بنا کر ویسے ہی ٹیبل پر رکھ دیا کرتی تھی، پھر میمونہ کی باتیں …
“اللہ پوچھے تمہیں میمونہ” عرش نے مٹھیاں بھینچیں۔ اس پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا۔
پھر وہ اسے لے گیا، نیچے جاتے ہوئے، وہ انساء سے صفائی کروانے کا کہہ گیا،
“میں نے کر تو دی تھی؟” عرش نے دانت کچکچائے،
“نہیں وہ.. لانڈری کا کہہ رہا ہوں، تم بتاؤ کہاں جانا ہے؟” وہ بات بدلتے، اسکے چہرے پہ نگاہ جمائے، اسے باہر لے گیا۔
***
پھر شاہ کے جانے کا دن آگیا، وہ وہیں رکی ہوئی تھی، اسکی شام میں فلائٹ تھی، وہ سب کچھ چھوڑ کر اسے سمجھاتا رہتا، جیسے ہی وہ رونکھی ہونے لگتی، شاہ اسے تنبیہہ کرتا، روک دیتا، وہ عصر کی نماز پڑھ کے آیا تھا عرش، لاؤنج میں اکیلی بیٹھی شاہ کے لیپ ٹاپ پہ نجانے کیا دیکھنے میں مصروف تھی، وہ پیچ اور کریم کلر کی کرتی اور اور کریم شیڈ دوپٹے میں ملبوس تھی، دوپٹہ نیٹ کا تھا پھر بھی سر پہ تھا۔ چہرے پہ ہلکا سا میک اپ تھا۔
وہ اسکے برابر آکر بیٹھ گیا۔
وہ اسکی تصاویر دیکھنے میں اتنی محو تھی کہ مجسم کو محسوس نا کر سکی، شاہ نے معوذتین پڑھ کر اس پر پھونکا۔
وہ چونکی، متحیر ہوئی۔
“جادو کر رہے ہیں مجھ پر آپ؟” وہ ہنسی روک کر پوچھنے لگی، شاہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا گویا کہہ رہا ہو “توبہ استغفار”
شاہ نے صوفے سے ٹیک لگا لی تھی۔
وہ پھر سے ہنس پڑی،
“شکر ہے تمہاری ہنسی تو دیکھی، ورنہ تو کچھ اور ہی لگنی لگیں تھیں تم” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
“کچھ اور کیا؟” وہ لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے پوچھنے لگی
“کوئی اجنبی سی، کوئی اور عرش زہرا!!!” وہ سر کو جھٹک کر بولا
“یہ بھی آپکی وجہ سے،” عرش نے منہ بنایا۔
اچانک اسکے ذہن میں جھماکا ہوا،
“شاہ، آپ تو مجھ سے دور جا رہے ہیں، کیا آپکو..” وہ کہتے کہتے خاموش ہوگئی، سارے شب و روز آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، عرش کے ذہن میں جھماکا ہوا کہ اتنے دنوں میں شاہ نے ایک بار بھی اداسی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، نا ہی وہ اسکی طرح بے بس ہوا تھا؟ وہ بھی تو اس سے محبت کرتا تھا پھر؟؟ عرش نے سارے سوال روک لئیے، وہ ایک گھنٹہ بعد جا رہا تھا وہ اس سے لڑ نہیں سکتی تھی۔
“کیا مجھے؟”شاہ نے استفسار کیا۔
“کچھ نہیں آپکے بیگ میں شال ڈالنا بھول گئی تھی۔ میں لیکر آتی ہوں”وہ کہتے ساتھ اٹھی اوپر کی جانب چلی گئی، اندر اٹھتے جوار بھاٹے کو رستہ چاہئیے تھا….
انساء بیگم وہاں آکر اسے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کر رہیں تھیں، دادی کی آنکھیں بھی نم تھیں، بے فکر تھا تو شاہ ارسلان!!!
***
اور پھر شاہ چلا گیا۔ دو سالوں کیلئے، عرش اسکے جانے کے بعد انساء بیگم کے بہت روکنے کے باجود وہ گھر چلی آئی ، شروع کے کچھ دن وہ ان باتوں پہ توجہ نا دی۔ شاہ اسے کال کرتا تھا، بال کرتا تھا، اسکی فکر کرتا تھا کافی تھا، مگر دل میں جو خلش تھی، وہ دل میں ہی رہی، شاہ کی ٹف پڑھائی شروع ہونے والی تھی، وہ مصروف ہونے والا تھا، ایسے میں کسی کی دنیا رکی ہوئی تھی تو وہ عرش زہرا کی، وہ گفٹ دیکھتی رہتی، جو جانے سے پہلے شاہ نے اسے دلا کر دئیے تھے، اسے وہ گھومنا پھرنا یاد آتا،،،،
اسے میمونہ یاد آتی بے حد…. اسکی محبت اسکی پرواہ، اسکے طنز،
لڑائیاں، عرش کیسے سردی میں جان بوجھ کر اس پر پنکھے چلا دیا کرتی تھی، جان بوجھ کے نا خود پڑھائی کرتی نا اسے پڑھنے دیتی،،،
میمونہ جو اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھ لیتی تھی” ہوا کیا ہے؟” “تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو” اب کال کرنے پر وہ دونوں ایک جیسی ہوجاتیں،،، میمونہ “عرش وہ دن واپس لے آو پلیز” کہتی، اسے عرش کی شرارتیں، اسکی ہنسی، رونقیں، بہت یاد آتی تھیں، وہ تین سالوں کا ساتھ تھا تین مہینوں کا نہیں، مزاج کے اختلافات کے باجود ان میں بلا کی ہم آہنگی تھی،
“اسے وہ کراچی ٹور یاد آتا ، پٹھان سے میمونہ کی بے فکر گفتگو یاد آتی، تو کبھی مری ٹرپ پہ اسکے کھائی میں گر جانے کے بعد اوپر اسکے لئیے چلانے والی میمونہ یاد آتی۔
وہ صدائیں اسکے کانوں میں گونجتیں، عرش آنسو پیتی…
اسے بلون میں جھونٹے لیتے وقت میمونہ کی آوازیں سنائی دیتیں،
اسے دودریا پہ شاہ سے سوالات کرتی مونی یاد آتی… بے حد،، وہ شاہ کیلئے رو پڑتی، تو میمونہ کیلئے بھی، اسلام آباد کی اس یونیورسٹی نے اسے دو انسان دئیے تھے،جو بہترین تھے، اسکی نظر میں،،
واٹساپ پہ گھنٹو گفتگو کرنے کے بعد بھی اگر کوئی تشنہ رہ جاتیں تھیں، تو وہ میمونہ اور عرش تھیں!!!
جنکی گفتگو کو کوئی انت نا تھا وہ عرش اور میمونہ تھیں،
جو بلا کی خوش گفتار تھی وہ عرش زہرا تھی،
جو بلا کی منفرد، و بہترین سامع تھی، وہ میمونہ تھی۔ مورخ تاریخ لکھتا تو کہتا۔
جو دوستی و محبت کی مثال ہیں، وہ یہ دونوں ہیں”
جو خون کے رشتوں سے افضل ثابت ہوئی ہیں، وہ مونی اور عرش ہیں!!
جن پہ خدا کا فضل تھا،
وہ شاہ کی شکایتیں میمونہ سے کرتی، میمونہ اسے سمجھاتی، اسے سنتی،
عرش کو وقتی قرار آجاتا پھر شاہ کا وہ سرد انداز یاد آتا تو وہ برگشتہ ہوجاتی،
شاہ ٹھیک تھا،دو ماہ ہوگئے تھے، سب ٹھیک تھا، عرش کیلینڈر سرخ کر چکی تھی، جابجا نشانات
اسے انگلیوں پہ ازبر تھا کہ شاہ نے اس دن واپس آنا ہے، اس تاریخ کو انکی اسٹڈی کمپلیٹ ہوجائے گی،، اسے یاد تھا،، وہ بے صبری سے انتظار کر رہی تھی، انتظار جو دنیا کا محبت کے بعد مشکل ترین کام تھا وہ یہ کر رہی تھی، کب کیسے کیوں نجانے…..بس وہ کر رہی تھی،
شاہ روز کال کرتا، اسکی کال اسکے لئیے نیند کی گولی ثابت ہوتی، جسکے بعد اسے سونا ہوتا تھا، یہ لازمی جز تھا، زندگی اسی محور میں گھوم رہی تھی،انساء اسے لے جاتیں، اپنی تنہائی دور کرنے کیلئے، وہاں شاہ کی دادی چڑچڑی ہو جاتی تھیں،انہیں عرش بلکل پسند نا تھی، پہلے شاہ کو آتا تھا، کیسے ان کے درمیان توازن رکھنا ہے،وہ نا تھا تو سب بے ترتیب تھا،
“وہ اسکی باتیں سنتا،” سارے دن کی روادار
“کسی دن وہ موڈ میں ہوتا تو خود کہتا،”عرش آج کیا کیا سارا دن تفصیل سے بتاؤ مجھے”
“مگر کیوں؟” وہ اچھنبے سے ہوچھتی
“ایسے ہی دل و دماغ فریش کرنا ہے، تمہاری معصومانہ باتیں سنوں گا تو دل جیسے قرار میں آجائے گا” وہ سنجیدگی سے کہتا،
عرش کی ہارٹ بیٹ مس ہوجاتی، پیشانی پہ شاہ کا لمس دہکتا۔
وہ مسکراتے ہوئے بتاتی، یہ معمول تھا۔
“تم جانتی ہو عرش؟ یہاں اتنی تیز طرار لڑکیاں دیکھ کر مجھے تمہاری قدر ہوتی ہے” وہ شرارت پہ آمادہ ہوتا بس عرش کا دک جلانے کیلئے جس سے اسے سکون آتا
“قدر؟ آپ ان میں سے ہی کوئی رکھ لیں نا شاہ جو آپکو اچھی لگے” بظاہر وہ آرام سے کہہ رہی ہوتی مگر اندر خاک ہوجاتی جل بھن کر
شاہ ہنس ہنس کر دوہرا ہوجاتا اسے عرش پر ٹوٹ کہ پیار آتا۔ اور خود پہ فخر،،
عرش اس سے گلے شکوے نہیں کرتی تھی، وہ دیار غیر میں ہے، اسے کیا پریشان کرنا۔ وہ سمجھتا تھا یہ عرش کی فطرت ہے، مگر وہ انجان تھا، یہ خاموشی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ تھی، جو شاہ کو شادی کے بعد بتانے والا تھا کہ عرش زہرا کیا چیز ہے؟”
__________
خاموشی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ تھی، جو شاہ کو شادی کے بعد بتانے والا تھا کہ عرش زہرا کیا چیز ہے؟”
***
وقت کا پہیہ عرش کو رکا ہوا محسوس ہونے لگا تھا، کبھی کبھی وہ جھنجلا جاتی، ایسی لٹکی ہوئی زندگی کا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ نا ہی اس نے کبھی یہ سوچا تھا کہ وہ یوں انتظار کی سولی پہ لٹکے گی،
شاہ ٹھیک تھا، مطمئن بھی،
عرش پہلے اداس تھی، پھر صبر کرنے لگی، “کب آئیں گے، کب آئیں گے،” کی تکرار کم کرنے لگی تھی، چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا ابھی بھی اٹھارہ ماہ باقی تھے،
رہتے رہتے اسے عادت ہوگئی، شاہ کے بغیر رہنے کی، خود کو اس نے یقین دلایا کہ وہ نکاح شدہ نہیں “منگنی شدہ ہے” گوکہ دلیل کافی بودی و مضحکہ خیز تھی، مگر وہ تصور کرتی کہ اسکا منگیتر ملک سے باہر ہے،
میمونہ بزنس کلاس کی اسٹوڈنٹ تھی، وہ بی اے کرنے کے بعد اپنے بابا کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹا رہی تھی، اسراروموز سیکھ رہی تھی، شاہ باہر پڑھائی میں مصروف تھا ایک ماہر سرجن ایک ماہر انجیوگرافر بن رہا تھا۔
ویلی تھی تو عرش زہرا، جس نے سوائے محبت کے دنیا میں کوئی ڈھنگ کا کام نا کیا تھا۔ ابھی وہ ڈنر سے فارغ ہوکر، اپنے کمرے میں آگئی۔
دوپٹہ سر سے اتار کر بیڈ پہ ڈالا اور اور بیٹھ گئی۔
سائڈ ٹیبل سے لوشن نکال کر پاؤں پہ مساج کرنے لگی، کہ اسکا موبائل تھرا اٹھا۔
شاہ کی کال تھی، اسنے وقت دیکھا گیارہ بج رہے تھے،
مسکراتے ہوئے موبائل کان اور کندھے کے درمیان دبایا۔
“کیسی ہو” شاہ کا وہی سوال
اس جانب وہ کینیڈا کے سرد سے موسم میں، اپنے ہاسٹل کہ بیڈ پر لیٹا تھا۔ اسکا روم میٹ غائب تھا۔
وہ ایک بازو کا تکیہ بنائے ایک ہاتھ سے موبائل کان پہ رکھے سیدھا لیٹا ہوا تھا۔ چہرہ پہلے سے بھی شاداب لگنے لگا تھا۔ آب و ہوا کا اثر تھا۔
بلو فٹ جینز اور سفید شرٹ میں ملبوس وہ وجاہت کا نمونہ!!!
“پیاری ہوں” عرش اترائی
“جانتا ہوں ” شاہ نے سر کو خم دیا
“کیسے جانتے ہیں؟” وہ گھٹنے کھڑے کر کے ان پر ٹھوڑی ٹکا گئی۔ چہرہ جگمگانے لگا تھا۔ کھڑکی کے باہر نظر آتے ماہ کامل کی مانند!
“دل کے قریب جو ہو، ہر پل دیکھ سکتا ہوں” شاہ نے گہری سانس لے کر جملہ ادا کیا۔
عرش جگمگا اٹھی۔ شاہ موڈ میں تھا۔ سراہنے کے ماننے کے، اعتراف کے، ورنہ وہ ہنس دیتا۔ طنز کرتا یا وار !!!
“خیر ہے؟”عرش نے شرارت سے پوچھا۔
“خیر نہیں ہے، دیار غیر میں بیوی کی یاد آرہی ہے”شاہ نے عین دل کے مقام پر ہاتھ رکھا جو عرش کی ملکیت تھا۔
عرش نظریں جھکا گئی۔ دھیمی سی مسکان نے چہرے کا احاطہ کرلیا۔
