Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 07)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 07)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
ذرا دو میمونہ کو فون میں شکریہ ادا کروں اس کا کتنی مہان بچی ہے وہ زہرا بڑی خوش نصیب ہو تم” امی جذباتی ہوگئی تھیں
لاوڈ اسپیکر کھلا ہوا تھا میمونہ اپنے بیڈ پہ ہنس ہنس کے دہری ہورہی تھی آنٹی کی تعریف پر مصنوعی کالر اکڑائے۔
“آو مرو ادھر آکر قسمیں کھاؤ اور بتاو انہیں میں جھوٹ نہیں بول رہی اور بابا اور تایا ابو نے کوئی سورس نہیں لگوائی۔ ” زہرا نے ہاتھ سے اسے لعنت ملامت کا نشان بناتے کال پہ بلایا۔ وہ کوفت زدہ ہوگئی تھی امی کی بے یقینی دیکھ کر اسکی خوشی مانند سی پڑ گئی تھی اسکا تو خیال تھا وہ خوش ہونگی۔ مگر انہیں تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
“ابھی باقی سب کو کیسے یقین آئے گا یااللہ مدد” اسنے سر تھام لیا۔ “کیسے تیاری کروائی تھی شاہ ارسلان تم نے بی یا سی گریڈ آتا تو ان سب کو یقین بھی آجاتا اب سپلیاں لینے والی لڑکی اے پلس لے گی تو مشکوک ہونا بنتا ہے، میرے گھر والوں کی نظر میں مشکوک کردیا مجھے” وہ انجانے میں اس سے “گلہ” کر بیٹھی۔
_______
ٹھنڈی اور نیلی شام اس ہاسٹل کو ایک خوبصورت تاثر دے رہی تھی۔ اس کے کمرہ نمبر 32میں جاؤ تو وہاں عرش زہرا سرور خان کے ساتھ کال پہ باتوں میں لگی ہوئی تھی۔ اور میمونہ مسکراتے ہوئے اپنے نیلز فائز کر رہی تھی۔ اور سارا دھیان عرش زہرا کی باتوں کی طرف تھا۔
“بابا مجھے خود یقین نہیں آرہا تھا۔ آپ یقین کریں میں نے خود کتنی بار غور غور سے دیکھا اور خود کو یقین دلایا کہ یہ میں ہی ہوں، جسکا اےپلس آیا ہے” عرش نے بات کرتے کرتے تکیہ پیچھے سیٹ کیا اور اس سے کمر ٹکا لی۔
“گفٹ کیا چاہیے میری شہزادی کو اس کامیابی کے بعد؟؟” سرور خان مسکرائے۔
“بابا گفٹ؟” عرش کی آنکھیں چمکیں۔
اشارے سے میمونہ سے پوچھا “کیا مانگوں؟”
“اپنے بابا سے کہو ابھی کچھ نہیں چاہئے سوچ کے بتاؤں گی” میمونہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی اسے وہ ٹرپ یاد آیا جو عرش زہرا اور وہ بنایا کرتی تھیں اور عرش کی فیملی منع کردیا کرتی تھی۔
“بابا میں آپ کو ایک دو دن میں سوچ کے بتاؤں گی کیا چاہیے، آپ منع نہیں کریں گے؟؟” اسنے ہاتھ کے ہاتھ وعدہ لیا۔ میمونہ نے اشارے سے اسے ٹرپ یاد دلایا۔
“بابا نہیں کریں گے منع” سرور خان نےیقین دلایا
کچھ دیر اور بات کر کے عرش زہرا نے کال کاٹ دی۔
“کیا تم نے بھی وہی سوچ کے ٹائم مانگا جو میں نے؟؟” کن انکھیوں سے میمونہ کو دیکھتے اس نے پوچھا۔
“نادران ایریاز ٹرپ” دونوں کے منہ سے بیک وقت نکلا تھا۔
یہ پلان یونیورسٹی میں پچھلے ہفتے سے گردش کر رہا تھا میمونہ کی فیملی نے اسے بخوشی اجازت دے دی تھی مگر عرش کے گھر والے رضامند نا تھے۔ پھر میمونہ بھی عرش کے بغیر اپنا نام لسٹ میں لکھوانے کیلئے راضی نا ہوئی اب دو دن رہتے تھے۔ اور عرش کو لگا تھا قسمت اسے سیر کرائے بغیر واپس بھیجنے پر راضی نہیں ہے۔ آج بابا نے گفٹ کی صورت اسے ایک نوید تھما دی تھی۔ اب یہ چانس وہ گنوانا نہیں چاہتی تھی۔ کسی بھی صورت۔
******
“ایم اے اردو کرے گی عرش زہرا” نورینہ بیگم نے مٹر کے دانے نکالتے ہوئے اپنی ساس کو آگاہ کیا۔
“اچھا ماشااللہ، اللہ کامیاب کرے، ویسے مجھے اللہ نے عرش زہرا کی یہ خوشی دیکھنے کیلئے زندہ رکھا تھا” وہ شگفتہ انداز میں گویا ہوئیں۔
“امی جان ابھی آپ نے عرش زہرا کے بچے کھلانے ہیں، پردادی بننا ہے،” نورینہ بیگم نے انکے گھٹنے پر ہاتھ رکھا۔
“نورینہ، بیٹا زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں،آج کل تو جوان جوان اموات اتنی ہوتی ہیں دل ہول سا جاتا ہے، مجھ بیمار اور لاغر وجود میں بس اب یہی چاہت ہے میں اپنی پوتی کی اپنے ہاتھوں سے رخصتی کروں، اسے پڑھانا تم دونوں میاں بیوی کی خوشی کی تھی تو میں نے انکار نہیں کیا، اب شادی نا سہی اسکی منگنی ہی کردینے کا سوچتی ہوں۔پھر ہوتی رہے گی پڑھائیاں شادی کے بعد بھی”
نورینہ بیگم کے چہرے پر ایک ناگوار سی لہر آئی عرش زہرا کو پڑھانا انکا بھی اولین خواب تھا۔
اور ساس جنہوں نے انہیں ہمیشہ بیٹیوں سا پیار دیا انکی خواہش رد کرنا بھی انہیں مناسب نہیں لگا۔ وی خاموش سی ہوگئی تھیں۔
*******
“بابا نے ہاں کردی” عرش نے میمونہ کو زور سے دبوچا تھا۔
“واٹ؟ کیسے؟ کیا کہا تم نے ان سے؟اوہ مائی گاڈ!” میمونہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔
“یار بابا سے میں پھر پوچھا ٹرپ کا تو انہوں نے منع کردیا صاف انکار، کہ پڑھائی کا حرج ہوگا پھر اکیلے جانا یہ وہ، پھر میں نے انہیں انکا وعدہ یاد دلایا اور یقین دلایا کہ پڑھائی کا کوئی حرج نہیں ہوگا تھوڑی منٹ سماجت کے بعد وہ تو مان گئے پھر امی اور دادی جان غصہ کر رہی تھیں انہیں بابا نے سنبھال لیا” عرش نے چٹخارہ لے کر ساری سٹوری سنائی۔
“کیا خیال ہے تیاری شروع کریں؟”
“ہاں کیوں نہیں” ایک ادا سے بال پیچھے کو جھٹکے۔
“کتنا مزہ آئے گا نا…نا امی نا ابو بس فرینڈز ٹیچرز اور ہم دونوں، سوچو کوئی ہیرو مل جائے۔” میمونہ بے حد پرجوش تھی۔ اسلام آبادی چڑیا کو بس فن چاہئے تھا اور آزادی سے گھومنا پھرنا۔
“امی ابو کے ساتھ ذیادہ مزہ آتا ہے بی بی فیملی ہو، تائی اماں تایا ابو اظہر،اریب، اور آلہ دین جائے انسان…پورٹ گرینڈ..یا کلفٹن۔ ” وہ یاد کر کے بتانے لگی۔
“دفع دور ایسے نہیں آتا مزہ” میمونہ نے اسے پڑے جھٹکا۔
وہ کھلکھلا کے ہنسنے لگی۔
“اچھا سنو شاپنگ پہ جائیں گے کل۔ اور پرسوں صبح کیمپس سے گاڑی نے نکلنا ہے” عرش نے اسے پروگرام بتایا۔
وہ پروگرام ڈسکس کرنے لگیں۔
******
“شاہ تم چل رہے ہو نادرن ایریاز؟ میں نے رافیل اور اپنے نام کا اندراج کروایا ہے” ارسل نے اس سے پوچھا۔ بنا پوچھے وہ اس روڈ بندے کا نام نہیں ڈلوا سکتے تھے مبادا وہ منع ہی کردیتا۔
“اونہوں موڈ نہیں”شاہ نے سر کو بائیں جانب جھٹکا۔ “اوکے ایز یو وش” ارسل نے کندھے اچکائے۔
“کون کون جا رہا ہے؟” ایک خیال کے تحت اسنے پوچھا۔
“سب کا تو نہیں پتا بٹ آرٹس ڈیپارٹمنٹ سے چار اسٹوڈنٹس ہیں…کامرس ڈیپارٹمنٹ سے پانچ اور ہماری کلاس سے تقریبا سب ہی جا رہے تمہارے علاوہ”
شاہ چونکا۔ ارسل اسکا رازدان تھا۔ وہ اس سے پوچھ سکتا تھا۔
“عرش بھی جا رہی ہے؟” میگزین کے صفحے کو پلٹتے اس نے حتی الامکان لہجہ سرسری بنایا۔
دل رک کے زور سے دھڑکا تھا اسکا نام لینے پر۔
“ہاں عرش اور اسکی وہ بیسٹ فرینڈ بھی”
“اچھا” شاہ سوچ میں پڑ گیا۔
“تمہیں بتایا اس نے؟ اے پلس آیا ہے عرش زہرا کا” چینل کی سرچنگ کرتے ارسل نے اسے اطلاع دی
“واقعی” وہ اٹھ بیٹھا۔
“ہاں واقعی، ویسے حیرت ہے اس نے تمہیں نہیں بتایا حلانکہ تم نے تو اسے پڑھایا تھا۔
وہ سر جھٹک کر ہنس دیا مردہ سی ہنسی۔
“میرا نام بھی لکھوا دو”
شاہ نے اسے کہا اور آئینے کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
میمونہ نے اسے بتایا تھا کہ وہ اسکے بارے میں کیا خیالات رکھتی ہے۔ اسے دکھ ہوا تھا، بے حد، مگر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا۔
“کوئی بات نہیں میں کنارہ کر لوں گا” وہ سر کو جنبش دے کر میمونہ کی تسلی کر آیا تھا۔
پھر وہ اسے دور سے دیکھ لیا کرتا وہ منہ پھیر لیتی۔ یا نگاہ بھی نا ڈالتی۔
میمونہ نے بتایا وہ اس “دیکھنے” کو بھی کتنے غلط انداز میں لے رہی ہے۔
اسنے دیکھنا بھی چھوڑ دیا۔
آج پانچواں دن تھا کہ اسے دیکھا نہیں تھا۔
دل تھا کہ اس سے ناراض سا تھا۔
آنکھوں کو بھی شکایت سی ہونے لگی تھی کہ وہ نظر میں کیوں نہیں آئی۔
وہ خود کو شیشے میں تکنے لگا۔ مونچھیں کچھ اور بڑھ کر اوپری ہونٹ کو اپنے تلے چھپا گئیں تھیں آنکھیں سرخ تھیں۔ اور دل، دل تو جیسے دکھتا ہوا پھوڑا۔
“ابھی تو عشق کے “عین” بھی نہیں سمجھا اور یہ حال ہے” وہ بڑبڑایا۔
اسنے جھکتی ہوئی موچھوں کو تاؤ دے کر اٹھایا۔
_________
ابھی دھوپ بھی پوری طرح نہیں نکلی تھی کرنوں سے کھالی آسمان جیسے خود پر سے سیاہی ہٹا کے سپیدی جلد از خود پہ چڑھانے کے درپے تھا۔ ہلکی نیلی صبح ایک یخ ٹھنڈا تاثر لئیے ہوئے تھی۔ یونیورسٹی کی چھت پہ جا کہ دیکھو تو دور کہیں نظر آتے پہاڑیوں پہ برف جمی ہوئی تھی۔ ایسے میں یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا میں ایک ہینو بس ان سب کی منتظر تھی۔ علی الصبح سفر کا ارادہ کچھ اسٹوڈنٹس کا تھا۔ جس میں عرش زہرا بھی شامل تھی۔ اب گرم کپڑوں جیکٹوں ٹوپیوں میں ملبوس اسٹوڈنٹس اپنے اپنے سامان بس میں رکھنے میں مصروف تھے۔
میمونہ اپنی کلاس فیلوز کے ساتھ بس کے باہر کھڑی باتوں میں مصروف تھی کہ عرش زہرا آتی دکھائی دی۔ سر پر وہی ٹوپی جس پہ ایک گیند نما پھندا سا لڑھکتا تھا۔ اور پنک کلر کا لمبا سا کوٹ پہنا ہوا تھا جسکی بیک پر ایک چمکتی ہوئی گڑیا بنی ہوئی تھی۔ جسکے بال گولڈن چمک سے اٹے ہوئے تھے۔
جنوری کی اس درمیان میں بھی سردی کا زور ہنوز برقرار تھا۔ بات کرتے ہوئے منہ سے دھواں نکلنے لگتا۔ ہاتھ یخ ہونے لگتے۔ اور پاوں تو جیسے فروسٹ بائٹ ہوچکے تھے جسے آگ کے علاوہ کوئی چیز گرم کرتی ہی نا تھی۔
“سارا سامان رکھ دیا اندر؟” عرش ہاتھوں کو ایک دوسرے سے رگڑتے ہوئے پوچھنے لگی۔
” جی میڈم رکھ دیا ہے، بس آپ کا انتظار تھا، کہ جناب آئیں تو ہماری کارگردگی کا جائزہ لیں” میمونہ طنزیہ انداز میں گویا ہوئی۔
“احسان نہیں کیا سامان چڑھا کے میں بھی تو رات سے پیکنگ میں لگی ہوئی تھی” عرش نے حساب چکایا۔ اور بس کی ٹھنڈی راڈ پکڑ کے اندر گھس گئی۔ گاڑی میں ہیٹر لگا ہوا تھا اور کھڑکیوں پر دبیز پردے تھے۔ گاڑی اندر سے کافی کشادہ تھی۔ عرش اپنے لئیے موزوں جگہ کی تلاش میں پوری گاڑی میں گھومنے لگی۔اور پھر ایک داہنی طرف والی سیٹوں میں سے ایک سیٹ پہ اسنے اپنا بیگ اچھال دیا۔ کھڑکی سے پردہ بھی تھوڑا سا کھسکا دیا۔ اور بیٹھ گئی۔ ہینڈ فری کانوں میں اڑسی۔ اپنے سمارٹ فون کو کوٹ کی جیب میں ڈال کر ببل چبانے لگی۔
میمونہ اور اسکی دوستیں بھی آگئیں میمونہ عرش کے برابر میں بیٹھ گئی۔
“کھڑکی والی جگہ خود قبضہ جما لیا، عرش دوستی اپنی جگہ مگر اس غداری کیلئے میں تمہیں معاف نہیں کروں گی،” میمونہ اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی۔ پھر سامنے والی سیٹوں پر میمونہ نے اپنی دوستوں کو بٹھایا۔ لڑکیاں پچھلی سائیڈ پر بیٹھی تھیں۔ اور لڑکے آگے۔
وہ خوش گپیوں میں مصروف تھیں سب، بے انتہا ہنسی بے فکری اور انجوائمنٹ، لڑکے بھی نک سک سے تیار ہوکر اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہوگئے تھے۔ عرش میمونہ اور چند اور لڑکیاں جو پہلے جا چکی تھیں وہ بتانے لگیں کہاں جانا ہے اور کتنی ٹیم بنے گی،کس کس کو ساتھ لینا ہے۔
“پتا ہے جب کراچی میں ہم کسی پکنک پہ جایا کرتے تھے،تو کھانا گھر سے بنایا کرتے تھے، اور پیک کر کے بابا ڈگی میں رکھتے تھے،اور میں ہمیشہ ونڈو سیٹ پہ قبضہ جمایا کرتی تھی۔ جس پہ اظہر مجھے “قبضہ مافیا” کہا کرتا تھا “عرش زہرا کے نان سٹاپ مکالمے جاری تھے۔
گاڑی اسٹارٹ ہورہی تھی کہ یکایک رک گئی غالبا کچھ اسٹوڈنٹس جو رہ گئے تھے وہ اب آئے تھے سب دروازے کی سمت میں دیکھنے لگے۔ شاہ ارسلان ارسل اور رافیل دروازے سے داخل ہوئے شاہ نے سب سے آگے والی سیٹ جو کہ خالی تھی۔ تقریبا سب ہی لڑکوں نے لڑکیوں کے قریب والی سیٹوں پہ اپنا بوریا بستر ڈالا ہوا تھا۔ شاہ نے اسی سیٹ کے اوپر بنے کیبنٹ میں اپنا مختصر سا سامان ڈال اور بیٹھ گیا۔ کانوں میں ہینڈ فری اڑسی اور اپنے ہڈ کو آنکھوں تک لا کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں، (عرش زہرا پہ ایک نظر ڈالنا بھی گوارا نا کیا)
“اوہ مائی گاڈ،شاہ بھی آئے ہیں، مجھے پتا نہیں تھا یہ سفر اتنا خوشگوار ثابت ہوگا” میمونہ کی دوست اریبہ نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ہلکی آواز میں خود کو یقین دلایا۔ اسے سیکرٹ قسم کا شاہ پہ کرش تھا۔
عرش نے ناگواری سے پہلو بدلا اور ناک سکیڑی۔ پورا موڈ خراب ہوگیا تھا۔ بولتی بھی بند ہوئی تھی۔
وہ کانوں میں پھر سے ہینڈ فری ٹھونس کے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی۔
پھر سارا سفر اس سب نے بہت اچھے سے کاٹا تھا۔ کوئی منچلا گٹار بھی لایا تھا۔ کسی نے سب کو گیٹ سنایا مگر دو فرد اس گاڑی میں تھے شاہ اور زہرا۔
ایک نے سارا سفر کھڑکی سے باہر دیکھتے اور ایک نے سوتے ہوئے اپنا ہڈ آنکھوں تک ڈالے نکالا تھا۔
میمونہ نے عرش کو مخاطب کرنا چاہا تو اسنے “کیا ہے” کہہ کر بری طرح گھوری ڈالی اور پھر سے باہر دیکھنے لگی تھی۔
*****
“اب چلیں؟” زہرا نے جوتوں کے تسمے باندھتے ہوئے کوفت سے میمونہ کو پوچھا جو اریبہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔
اریبہ،میمونہ،عرش،اور چند لڑکیوں کا گروپ تھا شاہ ارسلان،رافیل،ارسل اور انکے علاوہ دولڑکے بھی تھے جو بغیر آرام کئیے سیر پرنکلنا چاہ رہے تھے۔ وہ نو بجے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اور انکا پہلا پڑاؤ مری کا ہوٹل تھا جو سبزہ زار اور برف سے ڈھکے پہاڑ پر بنا ہوا تھا۔
وہ سب تیار ہوکر باہر آگئیں کمرہ بھی ایک ہی شئیر کیا تھا۔
“سامنے سے آتی لڑکوں کی ٹیم بھی انکے ساتھ تھی عرش کو ناگواری محسوس ہوئی۔ وہ باتیں کرتے آگے بڑھنے لگے اونچے بلند و بالا پہاڑوں پر بنت مکانات اور دشوار گزار راستوں پر پیدل چلنا عرش زہرا کا پہلا ایڈوینچر تھا۔
اونچے نیچے دشوار راستوں پہ چلتے ہوئے خوف سا آنے لگتا تھا۔
“تم میرے ساتھ چلو” عرش نے آگے آگے بڑھتی میمونہکا بازو پکڑ کے پیچھے کھینچا۔
“تم چل کہاں رہی ہو بی بی،رینگ رہی ہو”؟ میمونہ نے ناگواری سے بازو چھڑایا اور اس کے ساتھ چلنے لگی۔
“یہ تم جن “لفنگیوں” کے ساتھ اتنا گھل مل رہی ہو
نا ادھر، ہاسٹل میں بھی گرم بستر سے نکل کر کافی بنانے کیلئے انہیں ہی بلانا، اور انکے ہی میک اپ کپڑوں کا ناس مارنا،”عرش نے اپنی بھڑاس نکالی۔
“ہاہاہاہا، صاف کہو تم جلیس ہورہی ہو، کیا تم میری بیسٹی ہو جو تمہیں میرا کسی اور سے فرینک ہونا برا لگ رہا ہے” میمونہ نے برا مانے بغیر اسے چڑایا۔
“جلتی میری جوتی، ان کھمبوں سے، نا منہ نا شکل، ہنہ” وہ دونوں سب سے پیچھے چل رہی تھیں لڑکے سب سے آگے پیچھے اریبہ لوگ، پھر سب سے آخر میں عرش اور میمونہ۔
اب تو آگے والے نظر آنا بھی بند ہوگئے تھے۔
“تم جیلس ہوئی یو عرش زہرا، یو نو آج مجھے تمہاری محبت کا پتا چل گیا”
“میں نہیں جیلس ہوتی یہ میری نیچر نہیں،”عرش نے منہ بنایا اور آگے چلنے لگی۔
“آو اس پتھر کے پاس سیلفی لیتے ہیں، پیچھے گہرائی میں بنے ہوئے گھر یہ سبزہ، پہاڑوں پر جمی برف، اور برف کو صاف کر کے بنائے گئے راستے، سب کچھ کتنا حسین اور مکمل لگ رہا ہے نا؟” میمونہ نے دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلائے اور آنکھیں بند کیں۔
“ہاں بس ایک ہینڈسم ہیرو کی کمی ہے” عرش نے لقمہ دیا۔ اور کھڑے ہونے کیلئے کوئی مناسب جگہ دیکھنے لگی۔
“ہینڈسم بھی ہے اور ہیرو بھی، اور ساتھ بھی ہے،،بس تمہاری نظر ذرا کمزور ہے بی بی”
“تم کیا بڑبڑا رہی ہو؟” عرش نے اسکے ہلتے ہونٹوں کو دیکھ کر پوچھا۔
“آہاں کچھ بھی نہیں آو سیلفی لیں،”
عرش اگے کو ہوئی اور نیچے نظر آتے گھروں کو دیکھنے لگی۔ پھر وہ ایک نسبتا بڑے پتھر پر بیٹھ کر نیچے گہرائی کا اندازہ کرنے لگی۔
معائنہ کرنے کے بعد انہوں نے سیلفی لی۔ عرش نے میمونہ کے ہاتھ سے موبائل چھینا اور پتھر پر جا بیٹھی۔
وہ ویڈیو بنانے لگی تھی۔
“سنبھل کے عرش” میمونہ نے اسے یوں چھلانگ مار کے اترتے دیکھ کر کہا۔
اسنے موبائل واپس پکڑایا۔ اور شولڈر سے لٹکے بیگ میں سے چپس کا پیکٹ نکالا
وہ چلتے چلتے کافی دور نکل آئیں تھیں نا وہ لڑکیاں نظر آرہی تھیں نا ہی وہ لڑکے۔
عرش ایک جگہ رکی میمونہ بے بسی سے اسے دیکھنے لگی۔ (اب اور کتنی سیلفیاں لے گی یہ سیلفی کوئن؟)
عرش نے موبائل نکالا اور ہاتھ اوپر کر کے سیلفی اسٹک میں موبائل سیٹ کرنے لگی۔ اور اینگل سیٹ کیا، اب وہ وہ اس طرح کھڑی تھی کہ موبائل ایک ہاتھ میں اوپر اور دوسرا ہاتھ کمر پر۔ پیچھے گہری کھائی اور بڑی بڑے پتھر،
دور کھڑی میمونہ کا دل دھڑکا۔ خدانخواستہ اگر ذرا سا پاوں پھسلتا یا توازن برقرار نا رہتا تو عرش زہرا پیچھے نیچے گر جاتی۔
“عرش تھوڑا آگے آکر سیلفی لو، یہ کیا طریقہ ہے، وہ اسکے پاس آنے لگی۔
اور،اور ایک لمحے کت ہزارویں سیکنڈ کا کھیل تھا کہ عرش زہرا کا پاؤں رپٹا تھا، وہ جہاں کھڑی تھی وہاں گول چپٹے اور اور ہر طرح کے چھوٹے بڑے پتھر سے انہی میں سے ایک پتھر پہ عرش کھڑی ہوئی تھی۔ موبائل اور سیلفی اسٹک گری اور عرش، عرش نظر آنا بند ہوگئی۔
“زہرا……” میومنہ کی چیخ سے پوری مری کی وہ برفیلی وادی گونج اٹھی تھی۔
“یا میرے اللہ میں کیا کروں یا اللہ، مدد فرما رحم فرما، وہ چیخیں مارتے ہوئے روتے ہوئے آگے آئی بلکل کنارے پر۔
یہاں وہاں دیکھا وہ سڑک جہاں ہر منٹ بعد کوئی نا کوئی سیاح گزرا کرتے تھے اب اس سڑک پہ سناٹا تھا۔
وہ ایک بڑے سے پتھر پر پاوں رکھے نیچے دیکھنے لگی ہاتھ پیر کانپ رہے تھے اور ذہن مفلوج تھا۔
“یااللہ عرش یہیں کہیں ہو میرے اللہ اسے بچا لینا”
اسنے نیچے دیکھا اور گڑگڑا کے دعا مانگی، اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا نیچے جانے کا راستہ کوئی نہیں تھا۔ بس پتھر تھے اور پتھروں کے پیچھے وادی اور پہاڑ…..
وہ ایک اونچے سے پتھر پہ چڑھ گئی اور نیچے جھانکنے لگی تھی۔ دل بند ہوا جا رہا تھا۔
“کوئی آجاو پلیز” کوئی مدد کردو میری دوست نیچے گر گئی ہے کوئی آجاو” وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ نیچے وادی میں چلائی تھی۔ دماغ کام نہیں کر رہا تھا ورنہ وہ انتظامیہ کے پاس جاتی مری کی انتظامیہ بہت اچھی ہے مگر دماغ بند تھا۔ اور دل،دل بند ہونے کے درپے تھا۔
پتھر پہ چڑھ کے اسنے اپنا پاؤں مضبوطی سے جمایا اور اور نیچے دیکھا۔
اسے عرش کی اونی ٹوپی نظر آئی۔
اور ایک ہاتھ،
مطلب وہ نیچے کھائی میں نہیں پہاڑ سے نکلے ہوئے ایک پتھر پہ گری ہوئی تھی۔ جو قریب ہی تھا۔ وہاں جایا جا سکتا تھا مگر..مگر کیسے..
اسے عرش کو دیکھ کر امید بندھی تھی۔ دماغ کام کیا تھا۔
