Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 22,23)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 22,23)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
محبت کرتے ہیں مجھ سے؟” عرش نے سننا چاہا لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگانا چاہی۔
“بتا دوں گا، تمہیں تو بہت جلدی ہے خود سے محبت کروانے کی” شاہ واپس اپنے خول میں سمٹ گیا۔ جس چند لمحوں کے لئیے کھلا تھا۔
عرش بے مزہ ہوئی۔ حلق تک کڑوا ہوگیا۔
موبائل اسکرین کو گھورنے لگی۔
“میں رو دوں گی” عرش نے دھمکایا۔ شوں کر کے ناک چڑھائی
“رونے لگو تو بتانا ویڈیو کال کروں گا”مسکراتے ہوئے شاہ نے نچلا لب ہونٹوں میں دابا۔
“شاہ”عرش نے احتجاج کیا
“غلام جی کرے” وہ اسے تپانے لگا۔
“آپ ایسے ہی کرتے ہیں، آپ محبت کرتے ہیں میں جانتی ہوں، مگر اظہار نہیں کرتے، آپ بورنگ ہیں، آپ نہیں چاہتے آپکی بیوی خوش رہے، آپکو میری پرواہ نہیں، شاہ، آپ سن رہے ہیں، آپکو ذرا بھی احساس نہیں میرا…اس سے اچھا تھا….،،”” وہ خفا ہوکر جل کر بول رہی تھی شاہ سن رہا تھا اسی لئیے تو کال کی تھی، کہ اسکی بھڑاس سنے، تو احساس ہو، آج کا دن گزر گیا ہے،
ٹھنڈ سی پڑ رہی تھی دل میں کہیں، وہ برس رہی تھی غصے سے، اور یہ غصہ پھوار کی طرح برس رہا تھا۔ اپنی جون میں لیٹا ہوا شاہ، اپنی بیوی کی صلواتیں سن رہا تھا۔ جسے شرم نام کی چیز چھوکر نہیں گزری تھی، جو اظہار کروانے کیلئے شاہ سے حلف بھی لے سکتی تھی۔
****
سترہ ماہ بعد
وقت کا پہیہ رواں تھا۔ کبھی سست تو کبھی تیز۔
عرش پہلے کی طرح ہوگئی تھی ، ویسے ہی گھر میزن رونقیں بے فکری، اور وہی ٹینشن فری لائف!
دو سال ہاسٹل میں رہنے کے بعد پھر سے وہ گھر میں گھل گئی تھی،
شاہ کے آنے کے دن قریب آرہے تھے، عرش و شاہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں، دو سال کا عرصہ گزر گیا تھا۔ سمندر تیر لیا تھا اب رہ گیا تھا تو کنارہ…..!!
وہ دھڑا دھڑ شاہ ارسلان کیلئے شاپنگ کر رہی تھی، اسکے لئیے خریدے گئے گفٹس کا ایک انبار تھا جو سر اسے دینے والی تھی۔ شادی کی تقریبات میں بس مایوں، رخصتی اور ولیمہ ہونے تھے، شاہ ان رسموں کے خلاف تھا، مگر عرش زہرا کی دو دن کی ہڑتال کہ بعد معاملات بخوبی طے پا گئے تھے۔
وہ خوش تھی بے حد خوش….اسکا شوہر دو سالوں بعد لوٹ رہا تھا، وہ خوش تھی بے انتہا۔ وہ سرجن بن کر آرہا تھا
شاہ بھی مطمئن تھا۔ عرش اسکی تھی، اسکے دل کے قریب تو تھی ہی،اب زندگی کی ساتھی بننے والی تھی۔
خدا خدا کر کے وہ دن آ ہی گیا جس دن شاہ کو آنا تھا۔ کراچی ائیرپورٹ پر چلتے ہیں،جہاں انساء، شاہ زمان اور عرش تھے، دادی اپنی طبی وجوہات کی بناء پر نہیں آئیں تھیں،
عرش بے صبری سے اسکا انتظار کر رہی تھی بے چینی سے، دھرکتے دل کے ساتھ ہر لمحہ بڑھتی دھڑکن
________
خدا خدا کر کے وہ دن آ ہی گیا جس دن شاہ کو آنا تھا۔ کراچی ائیرپورٹ پر چلتے ہیں،جہاں انساء، شاہ زمان اور عرش تھے، دادی اپنی طبی وجوہات کی بناء پر نہیں آئیں تھیں،
عرش بے صبری سے اسکا انتظار کر رہی تھی بے چینی سے، دھرکتے دل کے ساتھ ہر لمحہ بڑھتی دھڑکن …
***
حتی کہ انتظار کوفت بن گیا،وہ گھڑی گھڑی بے چینی سے گھڑی کی طرف دیکھنے لگی تھی، اسکے برعکس انساء مطمئن کھڑیں تھیں
“امی کافی دیر نہیں ہوگئی؟ ابھی تک کیوں نہیں آئے؟” اس نے پاس کھڑی انساء کے کان میں سرگوشی کی۔
“ابھی تو ہمیں کھڑے ہوئے صرف پندرہ منٹ ہوئے ہیں عرش، اتنی دیر تو لگ ہی جاتی ہے کسٹم وغیرہ میں،تم تھک تو نہیں گئی” وہ اچنبھے سے اسے دیکھنے لگیں،
“آ..وہ..نہیں میں ٹھیک ہوں،”وہ گڑبڑا کر سامنے دیکھنے لگی۔
اچانک داہنی جانب سے چلتا ہوا انکے پاس آیا، کاندھے کی پشت پر کوٹ لٹکایا ہوا تھا، جو انگلیوں پر ٹکا ہوا تھا۔
گھنے بال جیل سے سیٹ تھے سائڈ سے ہلکے، وہی گھنی سیاہ مونچھیں، تروتازہ و شاداب چہرا، انساء اس سے مل رہیں تھیں اسے چوم رہی تھیں، وہ بے بنی کھڑی تھی۔ انساء اسے پیار کر رہی تھیں،وہ بس یک ٹک اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔ شاہ زمان اسکا کندھا تھپک رہے تھے۔ اس سے گلے مل رہے تھے۔ مگر شاہ کی آنکھیں..عرش پر ٹکی ہوئیں تھیں،وہ جنبش نہیں کر پا رہی تھی۔ شاہ کو اسکی آنکھوں میں تیرتی نمی بھی دکھائی دی۔
عرش کا دوپٹہ (جو اسنے سر پر جمایا ہوا تھا،اب ڈھلکنے کے قریب تھا) وہ اسٹیچو بنی کھڑی تھی۔
شاہ اسکے قریب آیا۔ اسکے ہاتھ تھامے۔ جیسے یقین دلایا ہو۔
“عرش؟” سلام کے بعد شاہ نے اسے مخاطب کیا۔ وہ ہنوز اسی کیفیت میں تھی۔ عرش نے نہیں سوچا تھا۔ کہ اسکی وہ محبت جو ان دو سالوں میں ٹھنڈی سی پڑ رہی تھی۔ اب ویسے ہی جاگ جائے گی۔ اسے اندازہ ہوا تھا کہ ایک تسلی تھی۔ شاہ اسکا ہے، اگر وہ نا آتا، بدل جاتا ، یا کچھ بھی….تو وہ مر جاتی۔ ہاں اتنی محبت محسوس ہوئی تھی عرش کو اس سے، وہ اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی۔
شاہ اسے کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ آنسو پونچھتے ہوئے سر ہلا رہی تھی۔ شاہ اسے اس کیفیت سے نکال رہا تھا جس میں شاید وہ خود بھی تھا۔ بےیقینی۔ اور مسرت…..
شاہ سر جھٹک رہا تھا جیسے خفا ہورہا تھا، کہ وہ رو کیوں رہی ہے؟”
عرش روتے روتے ہنس پڑی تھی۔ نفی میں سر ہلایا۔ “میں ٹھیک ہوں”
انساء شاہ زمان اور شاہ اور زہرا۔
وہ گاڑی میں بیٹھے شاہ نے اسے اپنے ساتھ استحقاق کے ساتھ۔ فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔
اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔ وہ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس سے چھوٹے چھوٹے سوال کر رہا تھا۔
انساء اور شاہ زمان اس سے باتیں کر رہے تھے۔ مسمرائز تھے تو شاہ اور زہرا……!!!!
****
گھر آکر شاہ نے ریسٹ کیا آدھے گھنٹے میں وہ واپس فریش ہوکر لاؤنج میں تھا۔
دادی سے ملا تھا وہ اپنے اختلافات بھلا کر اس سے تپاک سے ملی تھیں۔
عرش کچن میں تھی انساء کے ساتھ ملکر کھانا بنانے میں انکی مدد کر رہی تھی۔ وہ شاہ سے شرما رہی تھی یا جھجک رہی تھی یہ اسے خود بھی نہیں پتا تھا۔
شاہ کچن میں آیا وہ سنک میں رکھے چند برتن دھو رہی تھی۔
“تم ٹھیک سے میرے پاس بیٹھی بھی نہیں، میں واپس چلا جاؤں دل کر رہا ہے،” وہ خفا سا سینے پہ بازو لپیٹے سلیب سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔انساء لاؤنج میں تھیں۔
عرش چونک گئی
“ایسی بات نہیں ہے، مجھے سب سے ذیادہ خوشی ہے،” عرش نے منہ بنا کر کہا۔
“تم بہت پیاری ہوگئی ہو، بے حد، مجھے اپنی جاگیر محسوس ہورہی ہو، مجھے بہت خوشی ہوئی، کہ تم مجھے پک کرنے آئیں، میرے لئیے یہاں ٹہریں، میں نے تمہیں بہت مس کیا تھا، کتنا؟ یہ میں بتا بھی نہیں سکتا،” شاہ نے بلکل ہی الگ بات کردی۔ اپنی فیلنگس وہ چاہ کر بھی نہیں چھپا پا رہا تھا۔ وہ دل کے ہاتھوں مجبور نہیں بے بس ہورہا تھا۔
عرش نے پلکیں جھپکیں اسے پراوڈ محسوس ہوا۔ وہ مسکرائی۔ اسے شرارت سوجھی مطلب وہ نارمل ہورہی تھی۔
“مطلب یہ کہ میرے بنا آپکی زندگی ادھوری ہٹ آپ اعتراف کر رہے ہیں؟” عرش نے نچلا لب دبا کر شرارت سے کہا۔
وہ ہاتھ خشک رہی تھی
“ایک منٹ، میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا” وہ سیدھا ہوا شرارت پر اتر آیا۔
“اور آپ نے مجھے بہت مس کیا، رہنا بھی محال تھا؟” عرش آگے کو ہوئی۔
شاہ نے ہنس کر سر جھٹکا۔ وہ سدھر نہیں سکتی تھی۔
“اور بتاؤں میں نے کیا کیا محسوس کیا؟ کیا میرا دل کیا؟” شاہ ایک قدم آگے آیا۔ اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ وہ لمحوں میں پٹڑی سی اترا تھا۔
عرش گڑبڑائی۔ پیچھے کو ہوئی۔
اللہ اللہ شاہ سے بات کرنا کتنا مشکل تھا) بال کی کھال اتار لیتا تھا۔
وہ گڑبڑا کر چھڑی اٹھا کر سبزی کاٹنے کو مڑ گئی۔ اشارہ تھا کہ وہ مصروف ہے تو وہ چلا جائے۔
“میں کچھ کہہ رہا ہوں؟” وہ خفا ہوا اسکی پشت کو گھورا۔ پیاری ہی نہیں مغرور بھی ہوگئی تھی۔
“میں مصروف ہوں” عرش نے ٹھینگا دکھایا۔
شاہ نے “اچھا” کہا سر کو خم دیا اور آگے آیا۔ اسکے ہاتھ سے چھری لے کر سلیب پر رکھی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اوپر لے گیا۔
وہ ہاتھ چھڑا رہی تھی۔
“شاہ کیا ہے آپکو؟” وہ اسے ٹیرس پہ لے آیا تھا۔ اب سامنے کھڑا کر کے گھور رہا تھا۔ عرش اب دوپٹہ سنبھال لیتی تھی۔ وہ کندھوں پہ ڈھلکتا نہیں تھا۔ وہ پیاری نہیں دلکش ہوگئی تھی۔ اتنی کے اسکے وجود کی کشش تھی جو بڑھ گئی تھی۔ ایک وقار اور ٹہراو
” مجھے بتاؤ کیا کیا تم نے؟ کتب مس کیا مجھے؟ کیا میری یاد آئی اتنی؟” وہ اسکا وہی انداز سننا چاہتا تھا۔ جو اسکا خاصہ تھا۔
عرش متحیر تھی اسے گھورنے لگی۔
“آپ آج اظہار سننا چاہتے ہیں؟” عرش نے شرارت سے پوچھا۔
“ہاں اب لو میرج تو ہے نہیں جو اظہار سن سن کر دل بھر جائے، یہ نیا اظہار، یہ تو ضرورت ہے، عرش زہرا” وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔
عرش کا دل کیا وہ دل کھول کر رکھ دے،، وہ کیسے روئی
کتنا یاد کیا
کیسے سونے سے پہلے تاویلیں گھڑی۔
کیسے دن اور رات کئیے۔
وہ کیلینڈر جس پہ تھے سرخ نشاں
وہ ڈائری جو بھر چکی تھی
وہ تحفے جو اکھٹے بھرے پڑے تھے
ہر اس جگہ پہ جہاں شاہ کے قدموں کے نشان تھے
وہ اسے محسوس کرنے پہنچ جاتی۔
اسکا دل کیا وہ ہر چیز بتا دے۔
“میں نے آپکو بہت یاد کیا شاہ، اتنا کہ قابل بیان نہیں، اتنا کہ شمار نہیں، اتنا کہ بساط نہیں، اتنا اور اتنا” وہ دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے اسکے بازو پہ ہاتھ لپیٹ کر سر ٹکا گئی۔
“پہلے پہل ناممکن تھا رہنا، پھر مشکل، پھر کٹھن، پھر دو بھر، پھر کوفت، پھر صبر، پھر حوصلہ، پھر ، سکون، اب پھر سے ناممکن” وہ جگمگاتی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی۔
شاہ مسرور ہوا۔
“اور آپ؟” عرش نے امید سے پوچھا۔
“میں کیوں مس کروں گا تمہیں؟ مجھے یاد کرنے والی تھی نا؟ پھر میں کیوں کروں؟ ” اس بیان پر اس نے دل میں اٹھتی چیخوں کو بمشکل دبایا احتجاج کرتے دل کو مشکل سے سنبھالا۔
“شاہ” عرش نے پاؤں پٹخے۔ آنکھوں میں ڈھیر و ڈھیر خفگی اتر آئی۔ وہ منہ موڑ گئی۔
شاہ ہنسنے لگا جو سکون اسکے غصے میں تھا وہ پیار میں نہیں تھا۔ اور یہ چڑانے میں جو مزہ تھا وہ اظہار میں نہیں تھا۔
شاہ نے ہنستے ہوئے اسے گلے لگا لیا ایک ہاتھ سے۔ دوسرے ہاتھ سے سے اسکے ماتھے پہ آئی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑسیں۔ اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا۔ محبت عقیدت اظہار۔ بے چینیاں سب کچھ تھا۔ عرش کے گلے ختم ہوگئے۔ وہ آنکھیں موند گئی۔ اطمینان سے اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑے
وہ پرسکون تھی۔
“ایک سچ بتا دوں؟ میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر، تمہاری باتیں سنے بغیر، مجھے تمہارے علاوہ کسی کی چاہ نہیں عرش، اللہ نے مجھے میری عرش نہیں دی، مجھے دنیا میں ہی، نوازا ہے، اوقات سے بڑھ کر، مجھے بہت قدر کے تمہاری، بہت عزیز ہو مجھے، بے حد، مجھ سے بد گمان نا ہونا بس،، تم سن رہی ہو؟” وہ کہتے ساتھ اسکے چہرے پر جھکا۔
عرش کیا کہتی؟ (اللہ یہ بندہ مسلسل بول بھی نہیں سکتا)
“سن رہی ہوں بولیں نا،”عرش اسکے خاموش ہونے پر جز بز ہوئی۔
“بس کہہ دیا، اتنا ہی تھا”
“بس؟”
“ہاں تو؟ تمہیں کیا لگا؟ میں عاشقوں کی طرح مسلسل بولتا جاوں گا؟” وہ چڑ کر کہہ رہ تھا اب عرش سامنے کھڑی تھی۔
“اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے؟” عرش غرائی دانت پسیجے
“اب میں تمہاری طرح محبت میں پاگل تو نہیں ہوا پڑا، خاموش محبت تو کرتا نہیں، آفٹر آل دس از ارینج میرج” وہ چڑ کر کہہ رہا تھا۔
“اتنے عرصے میں فورسڈ میرج والوں کو بھی پیار ہوجاتا ہے، اگر ارینج بھی ہے، تو ہو جانی چاہئے محبت ” عرش نے وارن کیا۔ وہ غصے سے لال بھبھوکا ہورہی تھی۔ کیا تھا جو اسکا پرپوزل ریجیکٹ نا کرتی۔
“اب تم زبردستی محبت کرواو گی؟” شاہ نے مسکراہٹ دبائے پوچھا۔
“زبردستی؟” عرش کا پورا منہ کھل گیا۔ وہ مضحکہ خیز پوزیشن میں کھڑی سن ہوگئی۔ صدمے سے نکلنے میں چند لمحے لگے۔
وہ غصے سے شاہ کی طرف بڑھی۔ سارے ادب و آداب بھلائے۔ ساری اخلاقیات کو بالائے طاق رکھے۔ وہ اپنے محبوب شوہر کا قتل کرنے آگے بڑھی جو
اس سے بے تحاشہ محبت کرتا تھا مگر انہی انا کی خاطر اظہار کرنے کا روادار نہیں تھا۔ وہ آگے بڑھی شاہ نے اسکے ارادے دیکھے۔ اور ایک قدم پیچھے ہوا۔ دونوں ہاتھ اٹھا دئیے۔ اور ہنستے ہوئے نیچے چلا گیا مقصد اسکے عزائم سے بچنا۔
“آپ مجھ سے بچیں گے نہیں شاہ، میں چھوڑوں گی نہیں آپکو،” وہ غصے سے نتھے پھلاتی اسکے پیچھے تھی وہ لاؤنج میں آگئے صوفے پر انساء بیٹھی ہوئیں تھیں،وہ آگے آگے تھا عرش پیچھے آنکھوں میں پانی لئیے۔ غصے سے بولتی ہوئی۔
“امی دیکھیں، آپکے بیٹے کو زبردستی محبت کروانے کا کہا جا رہا ہے،وگرنہ سنگین نتائج کی دھمکی دے رہی ہے یہ اپکی ارینج بہو” وہ صوفے کے پیچھے کھڑا کہہ رہا تھا۔ انساء کا تو منہ کھل گیا۔ لفظ “زبردستی” سن کر اللہ وہ دن یاد آگئے شاہ کی اتری صورت، و بے بس لہجہ، وہ طویل سجدے۔ وہ بھی ہنس پڑیں،عرش آتش فشاں بن گئی۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سارا جہاں توڑ پھوڑ دیتی۔ اب شاہ اور جانتا تھا کیا نتائج ہونے تھے اس حملے کے،
عرش انساء کی پرواہ کئیے بغیر اس کے پیچھے بھاگی تھی۔ “میں چھوڑوں گی نہیں شاہ آپکو آئی ہیٹ یو، آئی ول کل یو ” وہ غصے سے بول رہی تھی ہنستے ہنستے شاہ کے پیٹ میں بل پڑ گئے تھے۔
وہ سر کو جھٹک رہا تھا اللہ یہ لڑکی بھی نا…
*****
شاہ کو احساس ہوا تھا کہ بیوی کو اس طرح نہیں کہنا چاہیے۔ یہ احساس بھی تب ہوا جب عرش کو منانا پڑا۔ ساتھ ہی شاہ کو احساس ہوا محبت سے مشکل کام بھی ہے، “بیوی کو منانا”
عرش غصے میں جانے کا کہہ رہی تھی بڑی مشکل سے شاہ نے اسے روکا تھا سمجھایا تھا۔ مذاق ایک طرف لیکن وہ عرش کو خفا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
ابھی اتنا مشکل ٹاسک لگ رہا تھا تو بعد میں کیا ہوتا؟ شاہ جھرجھری لے کر رہ گیا۔
وہ کراہ گیا تھا عرش نے اتنا ستایا تھا اسے، پورے تین گھنٹے وہ اس سے منتیں کرواتی رہی تھی۔ تب جا کر مانی تھی۔
***
شادی کی تیاریاں دھوم دھام سے شروع تھیں کارڈز چھپ کر آگئے تھے شاہ کی دعوتیں اور پارٹیز بھی ختم ہونے کے قریب تھیں۔
مایوں برات اور ولیمہ۔
پہلے عرش کی مایوں پھر شاہ کی، (یہ زبردستی کی مایوں تھی، شاہ کو بہت چڑ تھی ان فضول رسموں سے)
پھر سنڈے کو رخصتی
پیر کو ولیمہ۔
عرش جہاں بے حد خوش تھی وہیں اداس بھی۔ اماں ابا کا گھر چھوڑنا اتنا مشکل ہوگا یہ اسنے سوچا بھی نا تھا
اریب اور اظہر اسے چڑاتے۔ وہ لڑنے کے بجائے آنکھوں میں آنسو لے آتی۔ نورینہ کو چھپ چھپ کر آنسو بہاتے دیکھتی تو بے چین ہوجاتی۔ سرور خان اسکے پاس بیٹھتے تو چند ہی لمحوں میں اٹھ جاتے نجانے انہیں کونسے کام یاد آجاتے پھر وہ اسٹڈی روم میں انہیں آنکھوں کے کنارے خشک کرتا دیکھتی۔
تائی اماں، اسے لپٹا لیتیں۔ تایا ابا کسی چیز کی کمی نا ہونے دیتے۔
گھر میں گہما گہمی بڑھ رہی تھی اور مکینوں کے عرش سے جڑے دل اداس تھے۔
شاہ کی کالز آتیں،وہ بات کرتے کرتے رو دیتی۔
وہ سمجھاتا، اسے تسلی دیتا۔ کہ وہ اسکے ماں باپ اور فیملی سے اسے دور نہیں کر رہا،وہ یقین دہانی کرواتا وہ لمحوں کیلئے مطمئن ہوتی۔۔
پھر سے اسے یہ آنگن چھوڑنا یاد آتا تو آنکھوں سے ندیاں بہتیں۔
نورینہ کا دل بھر آتا تو اسے لپٹا لیتیں اللہ کیا رواج تھا۔ لخت جگر…جدا کرنا کتنا مشکل تھا۔ یہ کوئی عرش کے ماں باپ سے پوچھتا۔
Episode 23
لخت جگر…جدا کرنا کتنا مشکل تھا۔ یہ کوئی عرش کے ماں باپ سے پوچھتا
***
عرش مایوں بیٹھی تھی، اسے میمونہ نے تیار کیا تھا۔
پیلے جوڑے اور پھولوں کے زیور میں وہ خود بھی، گیندے کا پھول لگ رہی تھی، ماتھے پہ لٹکتا جھومر، ہاتھوں میں پھولوں کے کنگن، اور پیلا غرارہ، دھانی قمیض، ست رنگی چنری،،،،!!!!
اسکا دل ہی نہیں بھر رہا تھا خود کو دیکھ دیکھ کر، میمونہ نے چوڑی دار پاجامہ، اور کرتی پہنی تھی، سر پر حسب عادت حجاب، وہ دونوں بہت ہی پیاری لگ رہی تھیں، نظر لگ جانے کی حد تک،
عرش ذرا بھی نروس نہیں تھی، نا ہی اسے کسی قسم کی روایتی گھبراہٹ تھی، جیسا کہ اسٹیج پر جانے سے قبل دلہنوں پر ہوتی ہے۔
میمونہ اور انساء اسے اسٹیج پر لے گئیں تھیں۔ وہ پورے اعتماد سے چلتے ہوئے جا بیٹھی تھی، گردن تھی کہ جھک ہی نہیں رہی تھی۔
“عرش آنکھیں نیچے کرو،”میمونہ نے کسی مہمان خاتون کی طرف دیکھتے ہوئے، دانت کچکچا کر ہلکے سے بولی تھی
“کیوں میں کیوں نیچے کروں؟” عرش نے بے دھیانی میں پوچھا۔
“کیونکہ تم دلہن ہو” میمونہ کا دل چاہا سر پیٹ لے، اپنا نہیں، اس کوڑھ مغز عرش زہرا کا۔
“تو میں نے کونسا ایسا کام کیا ہے؟ جو منہ جھکا کے بیٹھوں؟ مجھے اپنی شادی اینجوائے کرنے دو”وہ اترا کر بولی
“اٹھ کر لڈی بھی ڈال لینا، جا کر مہمانوں کو بھی ریسو کرلو، کھانا بھی کھلوا دو، تب بھی جی نا بھرے، تو اٹھ کر لڈی ڈال لینا بی بی” میمونہ جل کر بولی تھی۔
“تم طنز، طنز میں آئیڈئیے اچھے دے رہی ہو ویسے،”عرش اثر لئیے بنا مسکراتی رہی۔
“مجھے قسم ہے جو اب منہ کھولوں، جو مرضی آئے کرو” میمونہ روہانسی ہوکر بولی، ناک میں دم کردیتی تھی یہ لڑکی
“شکر ہے اللہ کا، میرے کانوں کو سکون میسر آیا” عرش نے پیچھے صوفے پر آرام سے ٹیک لگایا۔ گجروں کو چھیڑنے لگی۔
“تمہاری اولاد تمہاری شادی کی مووی دیکھ کر کہے گی، میری اماں کتنی بے شرم تھیں،” میمونہ سے ذیادہ دیر خاموش نا رہا گیا۔
“بے شرم نہیں،کانفیدنٹڈ” اسنے تصیح کی۔
وہ لڑ رہی تھیں، ہنس رہیں تھیں، نورینہ اسے دیکھ دیکھ کر اسٹیج سے دور ہورہیں تھیں،انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ عرش کو اپنے سینے میں چھپا لیتیں، مہمانوں کو ریسو کرتے، کھانا لگوانے، ہر کام کرتے ہوئے انکی نظر عرش زہرا پر تھیں، آنکھوں کے کنارے نم تھے۔
جب وہ اسٹیج پر رسم کرنے گئیں، تو عرش گم سم ہوگئی، انہیں دیکھ کر، جب وہ رسم کے بعد اسکے ماتھے پر بوسہ دینے لگیں، تو عرش انکا ہاتھ چومتے ہوئے رو پڑی، بے تحاشا
نورینہ نے اسے سینے سے لگا لیا جیسے آگ پر پانی ڈالا ہو۔
وہ انکے سینے سے چھپے روتی رہی میمونہ کی آنکھوں میں بھی پانی آگیا۔
****
اگلے دن شاہ کی مایوں تھی اور پھر اتوار کو رخصتی۔
شاہ سفید شلوار قمیض اور براون واسکٹ میں اپنی کتھئی آنکھوں کے ساتھ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ پاوں میں پشاوری چپل، اور جیل سے سیٹ بال،،، چہرے پہ سنجیدگی، اور جھکی آنکھیں، عرش کے برعکس، میمونہ نے ہر رسم کا خوب نیگ لیا تھا۔ اور ساری رسمیں بھی خود ادا کی تھیں،،،
****
خدا خدا کر کے رخصتی کا دن آ پہنچا، گہما گہمی تھی، بے حد،
مہمان کی آوازیں، چیزوں کا عین وقت پر گم ہوجانا، تیاریوں کا شور…..بیرونی برقی قمقموں کی جگمگاہٹ میں کھڑا گھر،،،
یہاں کے ہنگاموں سے دور ہوتے جاو تو، اوپر کمرے میں اپنے بیڈ پر عرش زہرا بیٹھی ہوئی تھی، ذرا آگے کو ہو کر، گولڈن، اور سرخ رنگ کے بھاری زرتار لہنگے اور راجھستانی جیولری میں وہ ملکہ عالیہ، نظریں جھکائے، دونوں ہاتھ گود میں رکھے پزل سی تھی، میمونہ اسے کھانا کھلا چکی تھی، اب وہ نیچے کسی کام سے گئی تھی۔ عرش اکیلی تھی۔
وہ آہستگی سے لہنگا پکڑ کر سہج سہج کر قد آدم شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ دوپٹے کا پلو سامنے سے موڑ کر وہ ہر زاویے سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ میک اپ ہلکا اور زیور بھاری تھا۔ لبوں پہ ہلکی گلابی کپ اسٹک تھی۔ خود کو پہچاننے میں دقت ہورہی تھی۔
شاہ کا تصور آتے ہی آنکھیں بار حیا سے جھک گئیں تھیں، پلکوں کی چلمن بھاری ہوگئی۔
“پتا نہیں آپکو کیسے لگوں گی، شاہ…!!” وہ سہی معنوں میں نروس تھی،
وہ پھر سے بیڈ پر بیٹھ کر میمونہ کا انتظار کرنے لگی اب ہال میں جانا تھا۔
****
وہ کب ہال میں آئی، کب رسمیں ہوئیں،کب کھانا کب رخصتی، کب اشکبار آنکھوں تلے وہ رخصت ہوئی، کچھ پتا ہی نہیں چلا، اب اسے انساء اور شاہ کی کچھ کزنز اسکے بیڈ پر چھوڑ گئیں تھیں، لال گلابوں اور بھاری گلدستوں سے سجا کمرہ، بیڈ کراون پورا گلابوں میں ڈھکا ہوا تھا۔
وہ پاؤں لٹکائے نیچے کی جانب کئیے، دل ہی دل میں درود پڑھ رہی تھی، آنکھیں جھکی ہوئی تھیں
لب پہ اللہ کا نام لئیے نئی زندگی کی شروعات اللہ خوش ہوتا ہوگا، جو اپنی زندگی کی شروعات میں اسے یاد کرتے ہیں، اسکا نام لیتے ہیں،
اسے میمونہ نے، نورینہ نے دادی نے سب نے سختی سے کہا تھا لب پہ کچھ نا کچھ پڑھتی رہنا عرش، بلاوں سے، مصیبتوں سے بچنے کیلئے یہی وقت ہوتا ہے،،،،
دروازے میں کھٹکا ہوا اور شاہ اندر آیا عرش کے دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی۔
ہتھیلیاں تر تھیں،
ابھی تک شاہ کو دیکھا بھی نا تھا
“اسلام علیکم” سلام کرتے ہوئے وہ اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔
عرش نے لبوں کی جنبش سے بمشکل جواب دیا۔
“تم تھک تو نہیں گئیں؟ بیٹھے بیٹھے؟ میں نے ذیادہ انتظار تو نہیں کروایا؟” وہ فرینڈلی انداز میں بولا تاکہ وہ جھجکے نہیں،
عرش نے جوابا نفی میں سر ہلایا۔
“اچھا اٹھو ذرا” شاہ نے ہاتھ بڑھایا۔
عرش جو نظریں نا اٹھا پا رہی تھی، وہ ہاتھ کیسے اٹھاتی
شاہ سامنے کھڑا تھا۔
چند لمحے اسکے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے شاہ نے خود ہاتھ بڑھایا اور اسے اٹھایا۔ اپنے مقابل،
آنکھیں ہنوز جھکی ہوئی تھی۔
شاہ نے ٹھوڑی سے اسکا چہرہ اوپر کیا۔
عرش نے پہلی بار ذرا سی نظریں اٹھائیں
وہ مبہوت رہ گئی۔
متحیر
حیرت
خوشی،
واللہ، اتنا خوبصورت دلہا کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا وہ جو پہلے ہی مجسم حسن و وجاہت تھا، اب سنور کر پہنچ سے دور لگنے لگا تھا۔
کتھئی آنکھیں، جن میں غالبا شہد ڈالا گیا تھا۔
گلابی مائل لب، اوپری لب مونچھوں میں ڈھکا ہوا، اور ہلکی سی شیو۔
بھرا بھرا چہرہ۔ آج پہلی بار عرش نے اسکی آنکھ کے پاس چھوٹا سا تل دیکھا۔
آنکھوں کا نگہبان ۔
وہ مسکرا رہا تھا۔ اور عرش اسکے موتیوں جیسے دانت دیکھ رہی تھی۔ “یہ ڈاکٹر دوسروں کو تو بچائے گا مگر میری جان لے لے گا، اللہ” وہ سوچ کر رہ گئی۔
“تم سے خوبصورت کوئی ہے جہاں میں؟ ” شاہ نے اسے تکتے ہوئے پوچھا۔
عرش حال میں آئی۔ وہ اسے سراہ رہا تھا۔
“اونہوں”عرش نے نفی میں سر ہلایا۔ اپنے ہاتھ چھڑائے
“آپ؟” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی ذات کی نفی اسکا اقرار کر رہی تھی۔
“تم” شاہ نے نفی میں سر ہلایا وہ اسکے سارے حق تھے، جو وہ پاگل اسے دے رہی تھی۔
شاہ اسکا ہاتھ تھامے شیشے کے سامنے لے گیا۔ اسے کھڑا کر کر وہ ساتھ اسکا کندھا تھامے کھڑا ہوگیا۔
“دیکھ لو خود کو” وہ اسے شیشے کے سامنے چھوڑ کر خود پیچھے ہوگیا۔ دونوں ہاتھ پشت پر باندھ لئیے۔ فیصلہ خود کر کے اسے بتا گیا کہ وہ کتنی حسین ہے، عرش کی آنکھیں جھکی ہوئی اور نم تھیں،
وہ پلٹی
“شاہ” آنکھوں میں نمی تھی۔
“افوہ عرش،رو کیوں رہی ہو؟” شاہ بلا اختیار آگے آیا اسکے کندھے تھامے۔
عرش نے اپنا سر اسکے کاندھے پر ٹکا دیا۔ آنسو بہنے دئیے۔
“آپ میرے لئیے انعام ہیں شاہ” وہ اسکے کندھے میں سر چھپائے بولی۔
“اور تم؟ تم پتا ہے کیا ہو میرے لئیے؟”شاہ نے اسکی ٹھوڑی اوپر کی،
اسے آرام سے بیڈ پہ بٹھایا۔
اسکے گرد بازو کا حصار کھینچ دیا۔
“تم نعمت ہو میرے لئیے، جسکا شکر ادا کرنا مجھ پر واجب ہے،…. جسکی ناشکری پر یہ نعمت چھین لی جائے گی، جس کا شکر اللہ کی عطا ہے، تم میری محبت ہو عرش، میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے، بے حد،،،،میں نے اللہ سے مانگا ہے تمہیں،
تم اپنی ذات سے بڑھ کر عزیز ہو مجھے، میں تمہارے حقوق میں کوتاہی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، تم نا ملتی تو مر جاتا میں،،،” بولتے بولتے توقف کیا۔ عرش ٹٹکی باندھے اسے تک رہی تھی اسکے بازو پر سر ٹکائے۔
“تمہیں پتا ہے، میں عجیب تھا،،،اب نہیں ہوں، مجھے رنگ محسوس ہوتے ہیں، مجھے برسات خوشی دیتی ہے،مجھے موسموں کی شدت محسوس ہوتی ہے، میرا دل معمولی سی خوشی پر بھی خوش ہوتا ہے، میں غم پر بھی دکھی ہونے لگتا ہوں، مجھے تمہاری یاد آتی ہے، بےحد، کبھی کبھی میں نے بس ہوجاتا ہوں،” سجی سنوری عرش اسکے بازو سے لگی ہوئی تھی۔ شاہ کی آنکھوں کے کنارے چمک رہے تھے۔
عرش خاموش تھی۔ دم ساکت تھا۔ دھڑکن رکی ہوئی جیسے غور سے اسکا ایک ایک لفظ سن رہی ہوں۔
عرش نے ہاتھ بڑھایا اسکی آنکھوں کے کنارے پر انگلی رکھ کر پانی جذب کرلیا۔
شاہ نے اسکا ہاتھ تھام کر بے ساختہ لبوں سے لگا لیا۔
وہ جو ایک دوسرے کے بغیر ادھورے تھے وہ شاہ اور زہرا تھے!!
****
چند ہفتوں بعد..
شاہ کمرے میں آیا تو عرش نیند کی نا جانے کن وادیوں میں تھی۔ تھکا ہوا سا۔ ہاسپٹل جوائن کرچکا تھا۔ ابھی ڈیوٹی سے واپس آیا تھا۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ عرش اسکا انتظار کرتے کرتے سو گئی۔ تھی۔
عرش کی نیند بہت پکی تھی بچوں کی طرح
اسے ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ ڈال دیا جاتا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوتی۔
شاہ اپنا کوٹ صوفے پر ڈال کر فریش ہونے چلا گیا۔
واپس آیا تو ہلکی پھلکی شرٹ میں تھا۔ کھانا وہ ہاسپٹل میں کھا چکا تھا اب کسی چیز کی طلب نا تھی سوائے عرش کی آواز کے….!
وہ اسکے برابر بیٹھ گیا عرش کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی۔ دونوں ہاتھ ایک دوسرے کے اوپر تھے۔ مہندی سے سرخ
بال بکھرے ہوئے۔
وہ اسے تکتا رہا۔ سفید صراحی جیسی گردن۔ شاہ چند لمحے دیکھتا رہا پھر جھک کر عرش کی گردن پہ چہرہ رکھ دیا۔
عرش کو اپنی گردن پہ چبھن محسوس ہوئی، جیسے اتنی ساری چونٹیوں نے ایک ساتھ کاٹا ہو، وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور بے چینی سے اپنی گردن مسل رہی تھی۔ شاہ سیدھا ہوا۔
“کیا ہوا؟” شاہ نے اچھبنے سے پوچھا۔
“آپکی مونچھیں”عرش نے اسکی مونچھوں کی جانب اشارہ کیا
“کیا کیا میری مونچھوں نے؟” شاہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا لیا۔ اسکی آواز اسکی ڈوز مل گئی تھی۔
“چھبتی ہیں بہت” وہ منہ بسورنے اور پھر سے سونے کیلئے ڈولنے لگی۔
“اب کہہ دوں گا نہیں چھبیں گی”وہ ہنس پڑا۔
تارے رقص میں آگئے۔
*****
عرش سب میں گھل مل گئی تھی۔ ایسے جیسے برسوں سے وہیں رہتی آئی ہو،، انساء کو عرش کی صورت میں بیٹی مل گئی تھی۔ وہ دونوں کچن میں ڈھیر و ڈھیر باتیں کرتے ہوئے ہزاروں کام نمٹا لیتیں۔
شاہ اسے جم میں اپنے ٹیبل پر بٹھائے ورزش کرتا رہتا وہ کٹے ہوئے پھل اسے کھلاتی خود بھی کھاتی رہتی۔
دیر تک اسکا انتظار کرنا معمول بن گیا تھا۔
عرش پہلے کی طرح چہکنے لگی تھی وہ شاہ زمان کے ساتھ باتوں کے ریکارڈ لگاتی۔ کبھی لاونج میں سب کو اکھٹا کئیے کچھ بنا کر لاتی۔ سب ہی ٹھیک
تھے۔
ایسے ہی ایک دن لاؤنج میں عرش زہرا فروٹ ٹرائفل بنا کر لے آئی تھی۔ شاہ زمان ان چند دنوں میں روز شام کو کچھ نا کچھ میٹھا کھا کھا کر فربہ ہورے تھے۔
“بچی تو محبت میں بنا لیتی ہے آپ ہی ہتھ ہولا رکھا کریں، توند نکل رہی ہے” انساء نے انکے بھرے ہوئے باول کو دیکھ کر ٹوکا
“کوئی نہیں امی ابو ویسے ہی اسمارٹ ہیں، آپ کی نظر کمزور ہوگئی ہے،” جلدی میں ٹرائفل حلق سے اتارتے عرش نے لقمہ دیا۔
” میری بیٹی کی محبت شامل ہے اس میں انساء یہ نقصان نہیں دے گا”شاہ زمان بے فکر تھے۔
” میری بیٹی میری بیٹی تو یوں کہتے ہیں آپ جیسے میری تو کچھ لگتی ہی نہیں ہے زہرا” انساء نے ہاتھ میں پکڑا ہوا باول ٹیبل پر رکھا۔ روہانسی ہوگئیں
“ارے ارے امی،،” عرش اٹھ کر انکے پاس آگئی۔ کندھو سے تھام لیا۔
“میں تو آپکی ہی بیٹی ہوں، ابو کا بس ایسے ہی دل رکھ لیتی ہوں،،آپ بے فکر رہیں” مزے سے کہتے ہوئے شاہ زمان کو اشارہ کیا۔
شاہ خاموشی سے مسکراتے ہوئے ٹی وی دیکھتے ہوئے عرش کی چالاکیاں دیکھ رہا تھا۔
ساس سسر کو ماں باپ سمجھنے سے میکے کا دکھ کم محسوس ہوتا ہے یہ عرش کی لاجک تھی۔ رہنا تو ادھر ہی ہوتا ہے، اپنا گھر سمجھ کے بنا کے رہو۔ وہ سن کر ہنس دیتا۔
“لڑکیوں کو اتنا غیر سنجیدہ نہیں ہونا چاہئے،” یہ دادی نے منہ کھولا تھا۔ سب خاموش ہوگئے ڈرامائی انداز میں۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔
“ماں باپ کے گھر کی الگ بات ہوتی ہے، وہاں بیٹی ہوتی ہے، چہکتی ہوئی اچھی لگتی ہے، یہ سسرال ہے، کوئی ذمے دارے، کوئی سگھڑپن سمجھدار جھلک نظر آنی چاہئے” وہ غصے سے کہہ رہیں تھیں۔
عرش ہونک تھی خاموش،،چہرہ سرخ تھا ضبط سے۔
“اگر اس میں عقل نہیں تو تم ہی کچھ سکھا دو شاہ، اتنا پڑھے لکھے ہو،” اب شاہ کو بیچ میں گھسیٹا تھا۔
“امی میری بیٹی ہے عرش، کوئی بات نہیں، میرا گھر اور دل بھرتا ہے، اسکی باتوں سے”انساء نے ساس کو خاموش کروانا چاہا۔
“شاہ تم سمجھا نہیں سکتے؟” دادی ناگواری سے پوچھ رہیں تھیں،،
عرش کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ وہ رو دینے کے قریب تھی اسے لگا اب وہ کبھی بول نہیں پائے گی۔
“کم بولا کرو عرش، یہ ٹرائفل پاس کرو مجھے” کہتے ساتھ ہی وہ پاؤں پسار گیا۔ اپنے تئیں بات ختم کر چکا تھا، دادی کی نفسیات وہ جانتا تھا۔
جب تک وہ عرش کو ڈانٹتا نہیں وہ بولتی رہتیں، اور اب وہ پرسکون اور خاموش تھی۔
عرش کا چہرہ دھواں ہو رہا تھا۔ شاہ کی محبت کے دعوے اسے جھوٹے لگے۔ پل بھر میں دل بدگمان ہوا، ماضی کے تمام واقعات آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، وہ واقعی اس سے محبت نہیں کرتا تھا ورنہ یوں کہتا؟
شاہ کی زہرا کا دل ٹوٹ گیا۔ ان دو لفظوں سے..
__________
عرش کا چہرہ دھواں ہو رہا تھا۔ شاہ کی محبت کے دعوے اسے جھوٹے لگے۔ پل بھر میں دل بدگمان ہوا، ماضی کے تمام واقعات آنکھوں کے سامنے گھوم گئے، وہ واقعی اس سے محبت نہیں کرتا تھا ورنہ یوں کہتا؟
شاہ کی زہرا کا دل ٹوٹ گیا۔ ان دو لفظوں سے…..!!
****
انساء نے دادی سے کیا کہا تھا،، یا شاہ کا کیا ردعمل تھا۔ شاہ زمان کا دھواں چہرہ،، وہ سب چھوڑ کر مرے مرے قدموں سے چلتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی۔ کانوں میں ایک ہی تکرار تھی۔
“کم بولا کرو عرش، کم بولا کرو…” تذلیل سے چہرہ سرخ پڑ رہا تھا۔
وہ پاؤں گھسیٹتی بیڈ پہ بیٹھ گئی۔
آنسو گر رہے تھے چہرہ بے تاثر تھا ساکت
“محبت تو نہیں تھی تو دعوہ کیوں کیا تھا؟”
عرش نے خود سے سوال کیا
” مگر محبت؟؟؟” کونسی محبت؟ انہوں نے تو کوئی دعوہ ہی نہیں کیا بس پرپوزل کا کہا تھا” دماغ نے جتایا تھا۔ عرش کا وجود ہل گیا۔ کیا سفاک دماغ تھا۔
سارے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے، وہ بات بات پہ شاہ کا طنز کرنا،،، توجہ نا دینا….اور اسے فارگرانٹڈ لینا۔ عرش کا ہر مسام پسینہ میں بھیگا ہوا تھا۔
کیسا دھچکہ لگا تھا دل کو،، بے شک محبوب شوہر تھا مگر انا غالب آجائے کیسی محبت کہاں کی محبت…عرش نے ایک عزم کرلیا تھا۔ وہ مر جائے گی، ان بے قدروں کے سامنے منہ نہیں کھولے گی۔
ہائے رے دل آدم…. بندہ وقت پہ ساری نوازشات بھول کر اختلافات ہی یاد کرتا ہے،،،
****
شاہ کمرے میں آیا تھا وہ خلاف توقع پر سکون ہو کر بیٹھی ہوئی تھی، ٹی وی انہماک سے دیکھ رہی تھی۔
شاہ چونک گیا۔ وہ تو زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی کی توقع کر رہا تھا…یہاں تو مطلع ہی صاف تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟” شاہ نے اسکے کندھے پر سیدھا ہاتھ رکھا۔
“ہاں” یک حرفی جواب آیا تھا۔
“دادی کی باتوں کا برا تو نہیں لگا تھا نا؟؟” وہ عرش سے اتنی “معاملہ فہمی” کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ واہ کتنے روپ تھے عرش کے بریلئنٹ یار…!!
عرش نے دانت زور سے کچکچائے، اتنے زور سے کہ اگر اخروٹ داڑھ تلے ہوتا تو چورا چورا ہوجاتا۔ دادی کی بات کا کس پاگل نے برا ماننا تھا۔ وہ تو عمر کے اس پیرائے میں تھی جہاں انسان غصیلا ہو ہی جاتا ہے، اور انساء نے شاہ زمان نے سمجھا دیا تھا انہیں پھر عرش اتنی بد تہذیب یا کم ظرف نہیں تھی، جو ایک بزرگ کی طرف سے دل خراب کرتی۔
دل تو اس بے وفا اور دغا باز شوہر کی طرف سے خراب تھا۔ جسکی سماعتوں پہ بیوی کی باتیں گراں گزرتی تھی۔
عرش نے سارے الفاظ جو منہ سے پھٹنے کے قریب تھے۔ پہلی بار انہیں بمشکل حلق سے نیچے دھکیلا۔ اور کہا تو بس اتنا “نہیں میں کیوں برا مناوں گی” مسکرا دی۔
شاہ نے سر خم کو دیا۔
