Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 11,12)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

“یہ مہمان بلائے تھے آپ نے سرور؟اچھا ہوا میں نے عرش کو نیچے نہیں بلایا،میری بیٹی..میری لاکھوں میں ایک بیٹی ایک 29سالہ “پورے مرد” کو دے دوں؟ صرف اس بنا پر کہ وہ آپکے دوست کا بیٹا ہے؟؟ عرش اکلوتی بیٹی ہے آپ کی ” نورینہ بیگم لاؤنج میں ٹہلتے غصے سے پھٹ رہی تھیں،

“بیگم ڈاکٹر اور انجینئر کوئی بچے نہیں ہوتے سالوں لگ جاتے ہیں..ڈگری لینے میں عمر کے ساتھ علم آتا ہے کرئیر بنتا ہے..آپ تو نجانے کس خوابوں میں ہیں، آسمان سے کوئی شہزادہ ہی آئے گا آپکے خیالوں پر پورا،”انسان کے بچوں” میں آپکو لاکھوں عیب نظر آتے ہیں” سرور خان غصے سے کہتے وہاں سے چلے گئے، عرش کو یونیورسٹی روانہ کرنا تھا صبح…

“اس سے بہتر تو وہی لڑکا تھا..اللہ…کیا نام تھا….شاہ ارسلان..ہاں..کتنی ملاحمت تھی چہرے پر..اور عمر بھی کم..کتنی پیاری جوڑی لگتی عرش کے ساتھ” مال والے واقعے کے بعد اسکی طرف سے چھائی بدگمانی ختم نا سہی کم ضرور ہوئی تھی۔ رہ رہ کر تاسف ہوا

وہ صوفے پر بیٹھ گئیں۔ “اللہ کچھ آسانی کردے..میری بچی کیلئے آسان فیصلہ کردے…میں نے تجھ سے مشورہ کئیے بغیر..انکار کردیا..اگر ایسے ہی بے جوڑ رشتے آتے..رہے..تو” وہ دہل سی گئیں، سر ہاتھوں میں گرا لیا۔

اتنے میں چوکیدار نے اندر آکر بتایا کہ وہی عورت آئیں ہیں جو ایک دو دن پہلے آئیں تھیں، انہوں نے اندر بھیجنے کا کہا

انشاء بیگم تھیں..وہ چونک گئیں..دوبارہ آنے کا مقصد ؟؟

سلام دعا کے بعد انساء نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا

“میں شاہ کی بات ڈال آئی..یہیں بلاک فور میں..بس اپنے بیٹے کیلئے لڑکی کی تلاش تھی اور میں گھر گھر جاکر لڑکیاں دیکھنے کے حق میں نہیں تھی..بس آپکی بیٹی کو ایک نظر دیکھا اور دل کو بھا گئی..تو کہہ ڈالا آپ سے،میرے بیٹے نے مجھ پر چھوڑا ہوا ہے، جسے چاہے پسند کروں…آپ نے انکار کیا تو میری رشتے کی بھانجی نے بتایا تھا ایک رشتہ بس وہاں ڈال دی بات..آپ بیٹی والے ہیں نجانے آس میں رہتیں تو میں چلی آئی، مسکرا کر خوش اخلاقی سے کہتے شاہ کی ماں نے بڑی بڑی اداکاروں کو پیچھے چھوڑا تھا

برفی کھاتی نورینہ کی آنکھیں ابل آئیں،، جلدی سے حلق میں اتاری۔

“مطلب عرش کا رشتہ آپ نے اپنی خواہش پر مانگا تھا؟؟؟” ملال کی ایک کیفیت تھی جو نورینہ پر ٹوٹی تھی۔

“تو کیا مطلب ہے آپکا میرے بیٹے کی خواہش پر میں یہاں آئی تھی؟؟” انساء بیگم کھڑی ہوگئیں..جیسے بہت غصہ آیا ہو جیسے انکا بیٹا پسند کرتا ہو انکی بیٹی کو ….اوہو..ایسی کوئی بات تھی بھلا؟؟نا جی نا…تاثرات نہیں گویا قیامت تھی…

“ارے میرا مطلب یہ نہیں تھا، آپ بیٹھیں تو سہی..مجھے کوئی اعتراض نہیں اب” وہ جلدی سے بولیں..وہ نرم سے تاثر اور روشن چہرے والا لڑکا ہائے میری عرش کے ساتھ کیا کمال جوڑی ہوتی..

“اعتراض نہیں مگر کس بات پر؟” وہ معصوم بن گئیں

“وہ آپنے اس دن عرش کے رشتے کا کہا تھا نا..تو میں نے کرلیا اسکے بابا اور دادی سے مشورہ انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں..” وہ جلدی جلدی بولتی گئیں

انساء بیگم کے دل کی کلی گویا کھل سی گئی..انکا دل کیا وہ رب کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں…مگر ابھی اداکاری لازمی تھی

“آپ اب جواب دے رہی ہیں..اور میں جو وہاں بات ڈال آئی..خیر کوئی بات نہیں میری بھانجی سنبھال لے گی مجھے تو آپکی بیٹی دل و جان سے پسند ہے..بس میرا بیٹا..” جان بوجھ کے بات ادھوری چھوڑی

“آپکابیٹا کیا؟؟”

“کچھ نہیں میں تو اسکی مرضی معلوم کرلوں گی “بہت فرمانبردار بیٹا” ہے میرا افف نہیں کرے گا، آپ بس مجھے عرش کا ہاتھ دے دیں” روکتے روکتے بھی آنکھوں میں آنسو چمکے۔

مم..میں عرش کو اور اسکے بابا اور دادی کو بلا کر آتی ہوں صبح..اسکی فلائٹ ہے تو تیاری میں لگی ہوئی ہے..” وہ سیڑھیوں کی جانب لپکیں اوپر پہنچ کر نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں..تھینک یو اللہ پاک میری دعا اتنی جلدی سننے کیلئے..بے شک ماں کی دعا اولاد کے حق میں سب سے اول قبول ہوتی ہے”

وہ عرش کے کمرے کی جانب گئیں…

******

ہیلو اسلام علیکم، عبدالہادی،” شاہ نے مسکرا کر موبائل کان سے لگایا۔

“وعلیکم سلااااام شاہ صاحب کیسے ہیں جناب..” نجانے وہ اس وقت اتنا تروتازہ تھا یا شگفتگی اسکے مزاج کا حصہ تھی۔

“پورٹ گرینڈ آجاو پیارے..، دوستوں کو پارٹی دی ہے تو آپکا آنا بھی بنتا ہے….نہیں نہیں منگنی نہیں..نکاح ہوگا..انشاءاللہ رخصتی آفٹر کمپلیٹ اسٹڈی….جی جزاک اللہ…. ہاں..اگلے ہفتے..

شاہ کے چہرے پر عجیب مسکراہٹ تھی

******

کوئی عرش کا حال بھی پوچھتا..؟؟

________

عرش اور سرور خان تو دم بخود تھے..کہ پل بھر میں یہ کیا ماجرا ہوگیا؟؟

وہ ساری بات بتا کر اب خوشی سے باقاعدہ ہانپ رہیں تھیں۔

“کیا مطلب ہے آپکا؟؟ وہ جو لو میرج ارینج میرج کا آپ نے تکیہ کلام لگایا ہوا تھا…وہ سب کیا تھا؟” سرور خان پھر سے بے چین ہوئے تھے۔

“ارے…آپ بیٹھیں یہاں”سرور کو بازو سے پکڑ کر بیڈ پر ٹکایا اور خود برابر بیٹھ گئیں…عرش ہکا بکا کھڑی “ان دونوں” کو دیکھے جا رہی تھی۔ جو اسکے وجود سے بے نیاز تھے

“میں نے پہلے اس رشتے سے انکار اسلئے کیا تھا کیونکہ مجھے لگا تھا کہ یہ رشتہ لڑکے کے توسط ے آیا ہے، جب کہ اب مجھے پتا چلا بلکہ یقین ہوگیا ہے کہ وہ لڑکا انوالو نہیں ہے، تو اس رشتے میں کوئی برائی نہیں بلکہ..،بلکہ کمال جوڑی بنے گی دونوں کی اسلیئے میں انکار نا کرسکی”وہ جوش سے آنکھیں میچتے ہوئے ساری بات بتاتی گئیں

“کل تک تو آپکا کہنا تھا کہ وہ لڑکا انوالو ہے اور آپ مرتے دم تک لو میرج نہیں ہونے دیں گی یکایک یہ کایا پلٹ؟؟”سرور خان ابھی بہت الجھے ہوئے تھے۔

“دیکھیں اگر وہ لڑکا انوالو ہوتا…تو انکار کے بعد مجھے متاثر کرنے کی کوشش کرتا..ہاتھ آیا موقع کبھی نا جانے دیتا..آپکو پتا ہے مال میں…” انہوں نے مال والا واقعہ دہرایا تو سرور خان کے چہرے پر بھی اطمینان کی جھلک چھلکی۔

“مطلب یہ سو فیصد ارینج میرج ہے” وہ اٹھے اور کوٹ کے بٹن لگائے نیچے جانے کیلئے گویا تیار تھے۔

اگلے ہی لمحے وہ باتیں کرتے وہاں سے چلے گئے

عرش کے ذہن میں الفاظ ہتھوڑے کی مانند لگنے لگے، وہ سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی۔

“مطلب شاہ کی مما نے اسکا دوسری جگہ رشتہ ڈال دیا تب بھی اسے کوئی اعتراض نا تھا…امی کو اسنے متاثر تک نا کیا(اب عرش کو کیا معلوم ایک ماں کو “متاثر نا کرکے” کتنا “متاثر” کیا تھا، وہ واقف تھا یہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلنےوالا تب ہی ایک تیر سے نجانے کتنے شکار😉)نا ہی دوبارہ پیغام بھیجا..مطلب یہ واقعی “ارینج میرج”ہے؟ شاہ کو مجھ سےمحبت نہیں؟” پہلی بار اسکا دل دکھا..گلہ رندھ گیا…پچھلی ساری باتیں وہ یکسر فراموش کر چکی تھی۔

چند لمحوں کے بعد اسے بھی نیچے بلایا گیا تھا

وہ روبوٹ کی طرح چلتی گئی تھی انساء بیگم نے لپٹایا تھا آنکھوں میں پانی لئیے اسکا سر چوما تھا شگن کے روپے وارے تھے..اور ہاتھوں ہاتھ منگنی..نہیں جی..نکاح..کا پیغام دے دیا تھا جو کہ منگنی کی جگہ بہتر و مناسب فیصلہ تھا….

وہ سر ہلاتی رہی پھر کمرے میں آگئی۔ روبوٹ کی طرح ہی وہ کھانے پر آئی رات سوتے ہوئے بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھی سب اتنا اچانک ہوا تھا۔

پھر اگلی صبح وہ “منگنی شدہ”ہوکر ہاسٹل آئی تھی۔

*****

ہاسٹل میں اسکا سامنا میمونہ سے نا ہوا کیونکہ وہ اپنے گھر گئی ہوئی تھی اسے آج آنا تھا..عرش میکانکی انداز میں رات گزار کر صبح یونیورسٹی کیلئے تیار ہوئی اور یونیورسٹی آگئی..

یہاں وہاں نظریں دوڑاتے اسے لگا وہ یہ سب پہلی بار دیکھ رہی ہے…

وہ چلتی گئی.. کلاسز اٹینڈ کیں…وہ چھٹی ہونے پر کلاس سے باہر نکلی تو کچھ لڑکیوں نے آکر اسے مبارکباد دی..نجانے کس نے یہاں افواہ اڑا دی تھی

وہ سوال جواب کرنے کی پوزیشن میں بھی نا تھی۔ بس ٹکر ٹکر سب کی شکل دیکھے جاتی

ہر مبارکباد پر آنسوؤں کا طوفان اوپر کو اٹھتا جارہا تھا

“چپ اب” وہ ڈبڈبائی نظروں سے سب کو چپ کرواتی ہاسٹل بھاگتی آئی، لڑکیاں اسے رشک سے دیکھتی رہ گئیں

میمونہ آچکی تھی۔ (جسکو شاہ نے ساری بات بتا دی تھی،)

“عرش” سامان ٹھکانے لگاتی میمونہ نے سرخ چہرے والی عرش زہرا کو دیکھا تھا۔

عرش اندر آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔

“بہت مبارک ہو،مجھے شاہ نے بتادیا سب، کل آنٹی رسم بھی کر گئیں،” میمونہ نے اسے گلے لگایا اور اسکا ماتھا چوما.

عرش میں کوئی حرکت نا ہوئی

گہری گہری سانسیں لیتی اب عرش زہرا پھٹنے کو تھی۔ (ہاں دنیا کے سارے دلدر بیسٹی کے سامنے ہی نکلتے ہیں)

“تم ٹھیک ہو؟” اسے چھوا

“چپ” لال بھبھوکا چہرہ

میمونہ کو زور کی ہنسی آئی مگر وہ خاموش رہی

“اوکے میں چپ”اچھے بچوں کی طرح انگلی ہونٹ پہ رکھی۔

“ہوا کیا ہے” ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

جوابا عرش کو پھپھک پھپھک کے روئی تو سنبھالنا مشکل تھا میمونہ آدھے گھنٹے تک اسے خاموش کرواتی رہی ٹشو کا ایک انبار تھاجو عرش زہرا نے لگایا تھا۔

عرش زہرا نے ساری بات اسے بتائی..

“تو تمہیں اعتراض کس بات پر ہے؟، کیا تمہیں اس انجینئر سے منگنی نا ہونے کا دکھ ہے؟ “ریجیکٹ” ہونے کا دکھ ہے؟لو میرج نا ہونے کا دکھ ہے؟”یا ارینج میرج ہونے کا؟” ہنسی کو لبوں میں کہیں اندر دباتے ہوئے میمونہ نے اہم پوائنٹ اسکے سامنے رکھے۔

“تم جانتی ہو شاہ مجھ سے محبت کا دعویدار تھا” آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو بہہ رہا تھا

” ہاں تو تھا..اور تم اسے ناپسند کرتیں تھیں،ایک منٹ، کہیں تمہیں شاہ سے منگنی ہونے کا دکھ تو نہیں؟ کیونکہ تم اسے ناپسند کرتی رہی ہو؟” میمونہ بے چینی سے نیچے اتر گئی

“تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنی کٹھور ہوں..؟جو اے پلس کے بعد اپنی جان بچانے کے بعد بھی اسے ناپسند کرتی رہوں گی؟” اس دن جو ادراک ہوا تھا یہ اسکا اثر تھا جو آج عرش زہرا کے دل میں اسکی قدر ہوئی تھی۔ اسنے ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑے

“مطلب تم اسے پسند کرنے لگی ہو،اور وہ تمہاری محبت سے دستبردار ہوگیا،،ہممم تو یہ دکھ ہے؟”میمونہ اسکے گھٹنے پر ہاتھ رکھے ہمدردی سے بولی (دل تو لوٹیاں کھا رہا تھا،شاہ کی کارگزاری سن کر تو دل کر رہا تھا وہ اسکی بلائیں لے ڈالے)

عرش پھر رونے لگی تھی میومنہ غمگین صورت بنائے وہاں سے اٹھی اور واشروم میں بند ہوگئی…

عرش نے دروازے کی سمت میں دیکھا اور “سمجھ گئی کہ میمونہ بھی اسکا “دکھ”سمجھ گئی ہے”

اندر میمونہ ہنستے ہسنتے پیٹ پہ ہاتھ رکھے فرش پہ بیٹھ گئی تھی…

*****

شاہ یونیورسٹی کینٹین میں موجود تھا کہ وہاں عرش اور میمونہ آئیں تھیں۔ سوجی ہوئی آنکھوں والی عرش زہرا…

“وہ کچھ فاصلے پر بیٹھ گئیں، عرش کی نگاہیں بھٹک بھٹک کر اسکے چہرے کے گرد جا رہی تھیں..جو پہلے سے ذیادہ تروتازہ لگ رہا تھا رافیل ارسل لوگوں کا بل بھی پے کر رہا تھا (غالبا ٹریٹ دے رہا ہے،منگنی کی، عرش کے دل نے امید پکڑی)

وہ سب کھانا کھا کر بغیر ان دونوں کی طرف آئے چکے گئے تو عرش کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ انکی ٹیبل پر آیا اور اجازت لے کر بیٹھ گیا۔

میمونہ گلا کھنکارتی “ایکسکیوزمی مجھے اریبہ بلا رہی ہے” کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

“عرش اسٹرا کو گلاس میں گھماتے ہوئے کنفیوز سی تھی

شاہ اسکی اسٹڈی کے متعلق اس سے سوالات کرنے لگا

“آپ..آپ خوش ہیں؟” عرش زہرا نے ہمت پکڑ کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر بلکل ہی مختلف سوال کیا۔

“کس سے؟” معصومیت کی کوئی انتہا تھی،جس پر شاہ ارسلان تھا

“منگنی سے” عرش نے اب کی بار دانت کچکچائے

“اوہ ہاں خوش ہوں، بہت تعریف کر رہی تھیں امی،دوسری جگہ پتا نہیں کہاں انہوں نے بات کی تھی وہ بھی کینسل کردی، بہت اچھی لگی تم انہیں،” اوہو جیسے شاہ تو تب بھی ایسے ہی “نارمل” ہوتا جب “دوسری جگہ” اسکی بات پکی ہوجاتی۔

“آپکی چوٹ کیسی ہے؟”اور کچھ سمجھ نا آیا عرش کو تو رندھے ہوئے گلے سے پوچھے گئی۔

“بہت لگاؤ ہوگیا ہے میری چوٹ سے؟” کوئی کوندا سا لپکا تھا شاہ کی آنکھوں میں وہ ٹیبل پر جھکا تھا۔ وہ نظریں چرا گئی کن انکھیون سے اسے دیکھا..جو بھرے بھرے چہرے اور خوبصورت موچھوں کے ساتھ دنیا کا خوبصورت انسان لگ رہا تھا..دل تو جیسے کرچی کرچی ہوگیا۔

“ویسے بھی ان سوالوں کے رومانوی جواب تو وہاں ملتے ہیں جہاں لو میرج ہو، ہماری تو ارینج میرج ہے، ارینج میں تو ماں باپ کی خوشی میں خوش” جاتے جاتے وہ عرش کو آگ کے کنویں میں دھکا دے گیا۔

بری طرح نتھے پھلاتی عرش زہرا نے خبر تھی کہ یہ جملہ اب اسکا تکیہ کلام بننے والا ہے،”

*****

شاہ کو امی کی کال آئی تھی، دادی بے حد غصے میں تھیں، بے خبر رکھے جانے پر..اب نکاح اتوار کو ہونا تھا اور باقاعدہ شادی شاہ کے ڈاکٹر بننے کے بعد اور عرش کی یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد،

*****

اتوار کو نکاح تھا آج منگل تھی،

شاہ کا دل چاہنے لگا تھا وہ اس سے باتیں کرے اسے پوچھے وہ خوش ہے؟ وہ اسے کتنا خوش رکھ سکتا ہے وہ اس سے کتنا پیار کرتا ہے..منگنی کے یہ چند دن تھے پھر نکاح ہوجانا تھا..وہ ان دنوں کی خوبصورتی محسوس کرنا چاہتا تھا..

اسے ایک خیال آیا اور اسنے میمونہ کو کال لگائی..وہ اسکی دوست ہی نہیں “مددگار” بھی بن گئی تھی، جو ہر لمحہ کی رپورٹ اس تک پہنچایا کرتی

“جی کیا حکم ہے جیجو”وہ شوخی سے بولی

“سالی صاحبہ میری منگیتر کو کال پر باتیں کرنےپر آمادہ کریں اور پہلی کال بھی اسی سےکروائیں..کیونکہ میں تو بات نہیں کرنا چاہتا تھا نا” وہ اپنے کمرے میں بیڈ پرلمبا ہوکر لیٹ گیا کھلی ہوئی کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اسے نیند کی وادیوں میں لے جانے لگے۔

“آپ اس کی جان لے کر رہیں گے؟؟ اتنا روئی ہے نا آج وہ آپکے بی ہیوئیر کی وجہ سے…”وہ ساری بات بتاتی گئی جو عرش نے اسکے گوش گزار کی تھی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آنکھیں نیچے کیں نچلا لب دانتوں میں دابا، مونچھیں ذرا اور نیچے کو آکر اوپری ہونٹ چھپا گئیں تھیں….وہ مسکرایا تھا دل سے…

ابھی بہت امتحان باقی تھے

_________

چاندی کا تھال اس سیاہ گھنگھور آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ میں آنکھ مچولی کھیل رہا تھا سفید براق روئے کے گولوں جیسے بادل رات کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔ چودہویں کا چاند گویا اٹکلھیاں کر رہا تھا۔ یہاں سے وہاں تک ہر شے کو گویا بقعہ نور بنا رہا تھا، درخت بھی چاندنی میں نہائے ہوئے تھے۔ وہ ہاسٹل کی کھڑکی کھولے بیٹھی تھی۔ بال شانوں پر بکھرے، پشت پر پھیلے ہوئے تھے۔

میمونہ موبائل پکڑے کمرے میں داخل ہوئی (شاہ سے بات کر کے جو آئی تھی)عرش میں جنبش نا ہوئی۔ وہ اسکے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ وہ ہنوز ہتھیلی میں چہرہ لئیے، آگے کو ہوکر بیٹھی تھی، چہرہ چاند کی اس بے تحاشا روشنی میں روشن تھا…،

“تم سوئی نہیں،؟” میمونہ نے کھڑکی کا ایک پٹ موڑا، عرش نے چہرہ گھمایا جیسے وہ چونکی۔

“نہیں سوئی میں، مجھے نیند نہیں آرہی، مجھے سونا بھی نہیں ہے،” وہ واپس کھڑی سے باہر دیکھنے لگی۔

“چڑیل لگ رہی ہو اس طرح بیٹھی ہوئی،” میمونہ نے ماحول پہ چھائی فسوں خیزی کو ختم کرنا چاہا۔

عرش نے گردن گھمائی اور واپس باہر دیکھنے لگی۔ میمونہ جھرجھری لے کر رہ گئی۔ وہ واقعی ایک آتما لگ رہی تھی..خوبصورت..حسین اور اسرار سے بھری…!

“تم اداس ہو؟” میمونہ کو “اسکی خاموشی” حیرت میں مبتلا کر رہی تھی۔

“میں ٹھیک ہو میمونہ، میں اداس بھی نہیں ہوں….میں..میں خود کو بھی نہیں سمجھ پا رہی..مجھے نہیں پتا کیا ہورہا ہے..” کہتے کہتے عرش کی آنکھوں کے کنارے پر موتی چمکے۔

“ائیے…ادھر دیکھو میری طرف،” کندھوں سے پکڑ کر اسے اپنی طرف موڑا،

“میں صرف تمہاری دوست ہی نہیں تمہاری بہن بھی ہوں نا؟..مجھے بتاؤ گی نہیں؟ تمہیں پتا ہے عرش..تم نا اپنے تاثرات نہیں چھپا سکتی..مجھ سے تو بلکل بھی نہیں..میں تمہاری آنکھوں میں جھانک کر بتا سکتی ہوں تم اداس ہو یا خوش ہو..میں تمہاری دوست ہوں…پتا نہیں کیوں بہن بھائی کو ہی جسم اور روح کا حصہ کہتے ہیں..ہوتے بھی ہیں وہ، مگر دوست دل کا حصہ ہوتے ہیں یار…ہوتے ہیں نا؟” میمونہ نے اسکے ہاتھ تھامے۔

“ہوتے ہیں، نم آنکھوں سے سر ہلایا وہ اب ترچھی بیٹھی ہوئی تھی چاندنی آدھے رخ پر پڑ رہی تھی۔

“دوسروں کا نہیں پتا مگر میرے تو واقعی دل کا ٹکڑا ہے،” میمونہ کو دیکھتے ہوئے اسنے اعتراف کیا۔

“پھر بتاؤ مجھے کیا بات ہے” میمونہ نے اسکے آنسو صاف کئیے۔

(دوستوں کا یہ مطلب تھوڑی ہوتا ہے ہمیشہ ہنستے ہوئے ساتھ رہیں..دوست تو وہ ہوتے ہیں جو آپکے رونے میں بھی ساتھ ہوں…ضروری نہیں ہنسانے والے ہی بہترین دوست ہوں،ستانے والے بھی کبھی کبھی دل کا ٹکڑا ہوتے ہیں، آپکا دل ہلکا کرنے والے..بلا جواز آپکا ساتھ نا چھوڑنے والے آپکا غم چٹکیوں میں اڑا کر آپکو ہلکا پھلکا کردینے والے..)

عرش نے ہاتھ اپنی ہآنکھوں پر رکھے، بنا آواز پانی گرنے لگا…

“میمونہ..میں…بس میں ہی نہیں ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے..اسے زندگی میں کچھ ملے نا ملے..سچی محبت چائیے ہوتی ہے….شاہ..شاہ کو مجھ سے پیار نہیں ذرا بھی نہیں…ہے..اگر اسکی شادی میرے بجائے کہیں اور کردی جاتی تو..تو وہ تب بھی خوش رہتا…ماما تو خوش ہیں.

Episode 12

سب انکی مرضی کے مطابق ہوا..میرا دل دکھتا ہے..میں نے زندگی میں کسی شہزادے کی تمنا نہیں کی..نا ہی میں نے کسی رانجھے..پنوں..شاہ جہاں..یا رومیو کی تمنا کی..مجھے بس میرا..جو میرا ہو بے شک مجھ سے طوفانی محبت نا کرتا ہو مگر..مگر “محبت”کرتا ہو، میں سمجھتی تھی اسنے میری جان بچائی کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے مگر نہیں، میری جگہ کوئی اور بھی گرتا تو وہ بچانے جاتا..میں بھول گئی کہ وہ ڈاکٹر بن رہا ہے..مسیحا..ساری زندگی اسنے لوگوں کی جانیں ہی بچانی ہیں…” میمونہ نے اسکے چہرے کی جانب دیکھا، جو پورا آنسوؤں سے تر تھا۔ میمونہ کا دل کیا اسے سب سچ بتا دے..مگر نہیں اگر ابھی وہ بتا دیتی تو..عرش ٹوٹ سی جاتی۔ وہ اسے سچ بتا دیتی اسکے سارے گلے دور اور خواہش پوری ہوجاتی…مگر نہیں.یہ وقت نہیں تھا

اسے بس تسلی دینی تھی۔ کسی بھی بات سے دی جاسکتی تھی۔

میمونہ سوچ میں پڑ گئی “بہت دل دکھا لیا جیجو آپنے میری معصوم دوست کا تھوڑی سی لیک تو میں کر رہی ہوں، خود ہی نمٹیئے گا”

“میں تمہیں کچھ بتانے ہی آئی تھی عرش”اسکے آنسو صاف کئیے۔

مگر پہلے مجھے ایک سوال کا جواب دو، “کیا تم شاہ سے محبت کرتی ہو؟”

“بہت” لرزتی پلکیں بند ہوئیں

“کب سے؟”

“جب میں نے پہلی بار انجانے میں شاہ کی باتیں سنیں تھیں..، وہ ماضی میں کھونے لگی۔…………………………………… اردگرد کا ماحول لائیبری کے ماحول میں تبدیل ہوگیا اور ہاتھ میں مگ لئیے سردی میں شال لپیٹے واک کرتی عرش زہر یونیورسٹی میں چوتھا دن،

وہ رات اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ براجمان تھی وہ لائبریری کے باہر اور اندر اسٹوڈنٹس کا ہجوم تھا امتحانات قریب تھے اور شاہ وہاں سیڑھیوں پہ بیٹھا تھا۔

جب احمد اسکے پاس آیا۔

اور اسے دیکھتے ہی شاہ کو کوفت ہوئ تھی۔

“شاہ ثنا میر واقعی تم سے پیارکرتی ہے اور سیریس ہے اچھی لڑکی ہے فیملی بھی اچھی ہے اور کیا چاہتے ہو تم؟”

“میں اس سے شادی نہیں کرسکتا احمد”

اسے جی بھر کے تاو آیا تھا عجیب مصیبت میں جان پھنس گئ تھی

“یار شاہ تم سے شادی کیلئے کون کہہ رہا ہے کم سے کم تم اسے پازیٹیو رسپانس تو دے سکتے ہو؟ احمد جیسے ٹھان کر آیا تھا کہ شاہ سے “ہاں” کروا کر ہی جائے گا

” میں پازیٹیو رسپانس دے دوں سیدھے سیدھے تمہارا مطلب ہےمیں “ٹائم پاس ” کروں

اسے آگے تک لے آوں اور بعد میں مجھے شرم سے جھوٹ گھڑ کر بولنے پڑیں کہ میں شادی نہیں کرسکتا؟ یہ مجھے زیب نہیں دیتا” میرے ماں باپ نے مجھے ہمیشہ دھوکہ نا دینے کی تاکید کی ہے احمد مجھے اس میں کوئ دلچسپی نہیں ہے وہ اچھی لڑکی ہے، مگر میرے لیئے ٹھیک نہیں ہے…. یہ جا کر تم اسے کہہ دینا جس نے تمہیں سکھا کر میرے پاس بھیجا ہے” آخری الفاظ احمد کی انکھوں میں جھانک کر ادا کئے تھے اور احمد جیسے پول کھلنے پہ جزبز ہوا تھا آئیں بائیں شائیں کرتے وہ وہاں سے چلا گیا۔

شاہ ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا کافی کا مگ ہاتھ میں لئے پڑھائ سے بے نیاز واک کرتی عرش زہرا نے ساری گفتگو سنی تھی اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود اسے سمجھ آگئ تھی یہ بندہ بہت ڈیشنگ ہے

“خیر مجھے کیا” اسنے کندھے اچکائے تھے اور واک کرنے لگی تھی

وہ ماضی سے حال میں آئی چاندنی کی روشنی میں نہائی ہوئی حسین رات…

“تب ہی پتا نہیں کیوں میرے دل میں خود ہی شاہ کیلئے جگہ بن گئی تھی..میں نےاسے سوچا…دیکھا…لڑی..اگنور کیا مگر پھر بھی وہ میرے دل سے نہیں نکلا…پھر معجزے کی طرح میری زندگی میں آگیا مگر اسے مجھ سے محبت نہیں رہی” وہ سر جھکا گئی

میمونہ نے ایک ٹھنڈی سانس لی اسے شاہ پہ غصہ اور خود پہ افسوس ہوا جو دوست کی سائیڈ چھوڑ کر اس شاہ ارسلان کی سائیڈ لے لی تھی

“عرش دیکھو” میمونہ نے جلدی سے موبائل نکالا،

“تم سے کس نے کہا وہ تم سے محبت نہیں کرتا؟،یہ دیکھو ایک گھنٹہ پہلے اس کمرے میں آنے سے پہلے مجھے شاہ کی کال آئی وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے، اسنے مجھ سے ریکوئیسٹ کی کہ میں تم ے اسکی بات کرواوں وہ یہ دن محسوس کرنا چاہتا ہے..وہ تم سے محبت کرتا ہے، عرش تم ٹھیک کہہ رہی ہو ڈاکٹر کا کام زندگی بچانا ہے مگر..عرش ڈاکٹر مریضوں کیلئے رویا نہیں کرتے،” اس نے اسے وہ دیا تھمایا جو وہ گل کر چکی تھی عرش چونکی پہاڑ پر اپنے چہرے پر گرنے والے شاہ کے آنسو وہ محسوس کر سکتی تھی۔ وہ چونکی میومنہ کو دیکھا جو پرسکون تھی..اسکے دل کو قرار سا آیا۔

“مم..میں شاہ سے کل بات کروں گی ابھی مجھے نیند آرہی ہے” وہ آگہی کے اس لمحے میں ہر چیز سے نظریں چراتی بیڈ کی طرف بڑھ گئی

“چول” میمونہ مسکرائی۔

کھڑکی سے باہر آنکھ مچولی کرتا چاند بھی مسکرایا تھا۔

*****

اگلے دن میمونہ نے ساری بات اسے بتا دی تھی (سوائے عرش کے اعتراف کے) وہ شاک کے عالم میں سن رہا تھا

“عرش زہرا روئی؟؟، وہ بھی اسلیئے کہ اسے لگتا مجھے اس سے محبت نہیں؟” وہ انگلی سینے پہ رکھے پوچھنے لگا۔ حیرت…مسرت..جذبات کیا نہیں تھا ان آنکھوں میں

“بے حد روئی، اور اب آپکو اپنی محبت کا احساس اسے دلانا ہے تو دلائیں..ورنہ خیر ہے…وہ بھی کبھی آپکو دل میں جگہ نہیں دے گی..کمپرومائز کرلے گی، میں کچھ “ایسی کہانیاں” سناوں گی” میمونہ نے دھمکایا

“ایسا ہو سکتا ہے کیا؟” وہ مسکرایا چیلنجنگ مسکراہٹ،

“ایسا ہو سکتا ہے، اور ہوگا بھی، کیونکہ اگر آپنے اسے دوبارہ رلایا تو میں ساری بات اسے بتادوں گی آپکے ڈراموں سمیت” ساری کتابیں اکھٹی کر کے میمونہ نے ٹیبل پر بجائیں۔ اور آٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بھی میمونہ تھی عرش زہرا کی دوست

“ارے ارے…دھیرج دھیرج وعدہ کرتا ہوں دوبارہ نہیں رلاوں گا، کال بھی خود کرلوں گا مگر نکاح تک تم اپنا منہ بند رکھنا، اور تمہارا نکاح پر جو کراچی ٹور ہے اسکا سارا خرچ میرے ذمے” شاہ نے اسے “آفر” دی (رشوت لگ رہی،منہ بند رکھنے کی)

میمونہ جاتے جاتے رکی اور مسکرا کر پلٹی۔

“سوچ لیں جیجو، کراچی بہت بڑا ہے، اور میں پنجاب کی دھرتی کا وہاں سے موازنہ کرنے وہاں کا چپہ چپہ چھان ماروں گی” دونوں ہاتھ ٹیبل پر جمائے وہ جھکتے ہوئے شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولتی گئی

“منظور ہے” ٹیبل سے چابیاں اٹھاتے وہ اٹھا۔

“ابھی عرش کو مت کہنا کچھ بس تین دن رہتے ہیں، نکاح میں کل ہماری فلائٹ ہے امی نے دو دن پہلے آنے کا کہا ہے، اور تم ایک ہفتے والے دن وہاں تشریف لے آنا،” وہ حفاظتی اقدامات کر رہا تھا۔

نہیں بتاوں گی کچھ بھی وعدہ رہا” وہ چلی گئی

“اللہ کرے نا ہی بتائے کچھ، ان لڑکیوں کو سنا ہے ہر بات بیسٹی کو بتا کر ہی چین آتا ہے” شاہ بڑبڑایا تھا پھر کتھئی آنکھیں چندھیا کر گاڑی ڈھونڈنے لگا

*****

اور پھر شاہ کو موقع ہی نا ملا کال کرنے کا اگلے دن ان دونوں نے ساتھ کراچی جانا تھا وہ پہلے عرش کو اسکے گھر ڈراپ کر کے خود اپنے گھر چلا جاتا

وہ اسکے ہاسٹل کر باہر آکر کھڑا ہوگیا لاؤنج سے بہت دور۔ کیونکہ وہاں آتی جاتی لڑکیوں نے مبارکباد دینے کا ایک سلسلہ شروع کردینا تھا کوئی بعید نا تھی کہ میمونہ اور عرش کی دوستیں کوئی رسم ایجاد کرلیتیں، اسے نکاح کیلئے بھیجنے کی،

پہل عرش کی ماما کو اعتراض تھا کہ “اچھا لگتا ہے یوں دونوں منگیتر اکیلے سفر کریں، پھر عرش کے بابا بھی غصہ ہونگے،” وہ متامل تھیں نورینہ اور انساء بیگم میں اتنی بے تکلفی تو ہوگئی تھی کہ بلا تامل اپنے تحفظات کا اظہار کرسکیں۔

“ویسے بھی تو عرش اکیلی آیا جایا کرتی فلائٹ میں، نورینہ، تب بھی نجانے کتنے لوگ ہوتے ہونگے، یہ تو بہتر ہے شاہ ساتھ ہوگا تو وہ محفوظ ہوگی” چائے کا کپ ٹیبل پر دھرتے انساء بیگم نے “ساس پنا” دکھایا تھا۔ اور ثابت کیا تھا کہ وہ شاہ کی ماں ہیں اور لاجواب کرسکتی ہیں

پھر کچھ پس و پیش کے بعد نورینہ ماں گئیں تھیں۔

اب شاہ اکتا کر گھڑی دیکھنے لگا تھا آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا یوں کھڑے کھڑے،

وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی دیکھے اور گرلز ہاسٹل کے باہر کھڑا رہنے پر اسکینڈل بنے۔

مگر ان دونوں کو تو جیسے پرواہ ہی نہیں تھی۔

سیاہ شلوار سوٹ پشاوری چپل جیل سے سیٹ کئیے بال اور گھنی مونچھیں۔

وہ پودوں کیلئے بنائی گئی اونچی سی کیاری سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ دھوپ آنکھوں پر پڑتی تو وہ آنکھیں چندھیا لیتا گھنے ابرو آنکھوں ٹچ ہونے لگتے۔

گیٹ سے عرش زہرا نمودار ہوئی تھی۔ اور اس سے باتیں کرتی میمونہ۔

میرون رنگ کے کرتے شلوار میں دوپٹہ پورے کاندھے پر پھیلائے،پاؤں میں کھسہ پہنے ہوئے تھی۔بالوں کو غالبااسٹریٹ کر کے اسنے سیدھا چھوڑا ہوا تھا، اسکے برعکس میمونہ نے فان کلر کے دوپٹے سے اونچی حجاب بنائی تھی۔ اور لمبے کرتے میں ملبوس تھی وہ حجاب میں ہی رہتی تھی۔ سامان کا ایک کیس لئیے وہ آگے بڑھ رہیں تھیں شاہ کو اچھا نہیں لگا اسکے ہوتے ہوئے دو لڑکیاں سامان اٹھائیں

اسنے آگے بڑھ کر خاموشی سے سامان گاڑی میں رکھ دیا اور عرش کے لئیے بیک ڈور کھولا۔ اور انتظار کرنے لگا وہ دروازے کے پاس پہنچ گئیں

“اپنا خیال رکھنا، کل آجانا پلیز،” عرش میمونہ سے گلے ملتے لجاحت سے بولی

“آجاوں گی دعا کرو ماما اجازت دے دیں، وہ اسٹڈی کو لے کر بہت کانشس ہیں،”

“میں دعا کروں گی وہ تمہیں بھیج دیں،میں بہت اکیلا محسوس کروں گی خود کو تمہارے بغیر، آنٹی کو بھی انوائیٹ کریں گی امی، کیا پتا آجائیں،” وہ امید سے بولی

“انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا”

شاہ انکی گفتگو سننے سے قاصر تھا وہ انتظار کر رہا تھا کہ وہ بیٹھ جائے فلائٹ میں بس آدھا گھنٹہ رہتا تھا

“خدا حافظ” عرش گاڑی میں بیٹھی تھی

“کل آجانا، پیاری لڑکی ہم تمہارا انتظار کریں گے” شاہ نے عرش کی سائڈ والا ڈور بند کرتے سرگوشی کی تھی

“آجاوں گی انشاءاللہ آپ اسکا خیال رکھیئے گا” وہ مسکرائی

وہ ارسل کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھا عرش بیک پر

وہ گاڑی میں بیٹھ گیا، ارسل نے گاڑی اسٹارٹ کی اور پیچھے مڑ کر عرش کو دیکھا

“اسلام علیکم بھابھی، کیسی ہیں آپ؟” وہ شگفتگی سے مسکرایا۔

عرش زہر گڑبڑائی شاہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں الحمداللہ” وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی یہ دوسرا سفر تھا جو اس ٹرپ کے بعد شاہ کے ساتھ کر رہی تھی اس نے دل سے سارے لطف کو محسوس کیا جو اسکی ہمراہی سفر میں تھا۔

وہ سیٹ کی پشت میں سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی خیال تھا کہ مری ٹرپ والے سفر کی طرح یہ بھی کھڑکی سے باہر دیکھتے گزار دے گی مگر ارسل، وقفے وقفے سے اسے گفتگو میں شریک کر رہا تھا

شاہ نے شیشے کو اسکے چہرے پر فوکس کر کے سکون سے بیٹھ گیا اب یہ سفر اسکا چہرہ دیکھتے گزرنا تھا۔ وہ جو آنکھیں موندیں وقفے وقفے سے اسے دیکھتے نظریں چرا لیتی۔

__________

شاہ نے شیشے کو اسکے چہرے پر فوکس کر کے سکون سے بیٹھ گیا اب یہ سفر اسکا چہرہ دیکھتے گزرنا تھا۔ وہ جو آنکھیں موندیں وقفے وقفے سے اسے دیکھتے نظریں چرا لیتی۔

وہ سکون سے بیٹھا شیشہ اسکے چہرے پہ فوکس کر کے اسے تک رہا تھا عرش کی نگاہ پڑی تو وہ نگاہوں کے تصادم پر مسکرایا۔ عرش نے گڑبڑا کر لرزتی آنکھوں کو باہر دیکھنے پر لگا دیا

شاہ لب دانتوں میں داب کر جی بھر کے محفوظ ہوا تھا۔

*****

ائیر پورٹ کی لابی میں چلتے ہوئے وہ اسکے دو قدم پیچھے تھی۔ وہ اسکا سارا سامان بمع اسکے ہینڈ بیگ کے اٹھا کر چل رہا تھا۔

عرش کو اپنا بیگ چاہئیے تھا وہ موبائل نکالنا چاہ رہی تھی۔

تھوڑی قدموں کی رفتار تیز کرتے وہ اسکے ہم قدم ہوئی۔

“میرا بیگ دیں مجھے” آنکھیں سامنے کی طرف دیکھ رہی تھیں

“کیوں پھر سے سیلفی لیکر کہیں گرنا ہے؟” وہ ہنوز چلتا رہا سیدھے ہاتھ میں بیگ اور کوٹ، پکڑا ہوا تھا جو کہ کندھے سے پیچھے ڈھلکایا ہوا تھا۔ محض دو انگلیوں پہ ٹکا ہوا کوٹ اور بیگ۔

عرش کا منہ سرخ ہوا

“مجھے سیلفی نہیں لینی، ٹیکسٹ کرنا ہے، میمونہ کو اسکی شال میرے پاس رہ گئی ہے،” خفا آنکھیں اس پر سے ہٹائیں۔

“اچھا…؟ مگر یہ ضروری تو نہیں، گھر جا کر بتا دینا، میں نہیں دے رہا، ابھی چلو میرے ساتھ” وہ کہتے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

عرش کا منہ کھل گیا، دانت پیستے وہ اسکے پیچھے بھاگی،

“یہ میرا بیگ ہے آپکا نہیں، لائیں دیں مجھے، میں پکڑ سکتی ہوں،” وہ غصے سے گویا ہوئی

شاہ نے رک کر اسے دیکھا، سر کو دائیں جانب خم دیا جیسے کہہ رہا ہو “اوکے” اور بیگ آرام سے اسکی جانب بڑھا دیا۔ اسنے دبوچنے کے اسٹائل میں بیگ لیا اور بڑبڑاتے ہوئے اسکے پیچھے چلنے لگی، چند لمحوں بعد رکی “حق جتاتے ہوئے بھی اچھے لگتے آپ شاہ” لب کاٹتے ہوئے وہ خود سے گویا ہوئی بیگ کو خود میں بھینچ لیا۔ کسی قیمتی متاع کی

“عرش زہرا، نیم اناونس ہوگئے ہیں آنا ہو تو آجانا” وہ پیچھے گردن کرتے اسنے رکی ہوئی عرش کو کہا اور چلنے لگا۔ وہ بھاگی۔

*****

“یہ کیا؟؟” اچھنبھے سے کہتے وہ رک بیٹھتے بیٹھتے رک گئی۔

“کیا ہوا؟

“ہم دونوں کی سیٹ ساتھ ہے؟” وہ خفا نظر آرہی تھی

“کوئی مسئلہ ہے؟” سوالیہ انداز میں ایک آبرو اٹھایا “مجھے نہیں بیٹھنا آپکے ساتھ، آپ یہاں ایزی ہوکر بیٹھ جائیں، میں کسی اور کے ساتھ سیٹ ریپلیس کرلوں گی،” عرش وہ انسان ڈھونڈنے لگی، کوئی لڑکی، آنٹی، جو اسے کہے آو میرے ساتھ بیٹھ جاؤ، کوئی تو ایثاری جذبہ لئیے ہوگا۔

شاہ نے ناگواری سے نگاہیں پھیلائیں۔

“سنیں آپ یہاں آجائیں، میں آپکو بور نہیں ہونے دوں گی، میرے ساتھ ویسے بھی کسی انکل نے بیٹھنا ہے انکی سیٹ ہے، اور میں اکیلی کراچی جا رہی ہوں” وہ دبلی پتلی گوری رنگت کی لمبے سے ہونٹوں والی لڑکی تھی۔ جو مسکراتی تھی تو یہاں سے وہاں تک مسکراہٹ چلی جاتی تھی۔

ان دونوں کے بلکل پیچھے والی نشست پہ براجمان لڑکی خوش اخلاقی سے بولی۔

عرش نے شاہ کو استہزایہ نظروں سے دیکھا اور اسکی جانب بڑھی۔ ابھی اچھے لوگ باقی تھے دنیا میں، وہ تنی ہوئی گردن لے کر آگے ہوئے

“میں آپکو نہیں سسٹر، ان مسٹر سے کہہ رہی ہوں” وہ لمبے ہونٹوں والی لڑکی مسکرا کر ویسے ہی خوش اخلاقی سے بولی

شاہ نے منہ دوسری جانب پھیرا (ہنسی چھپانے کیلئے)

عرش زہرا تاسف سے سر ہلاتے ہوئے پیچھے کو ہوئی، اس لڑکی کی شکل میں ایک دم کیڑے نظر آنے لگے تھے، کتنی زہر لگ رہی تھی وہ حد سے ذیادہ۔ انسانیت سے تو گویا اعتبار ہی اٹھ گیا

وہ اپنی سیٹ پر جاکر دھم سے بیٹھ گئی، پاس کھڑے شاہ نے اسے دیکھا اور بیٹھنے سے پہلے اسکی آنکھوں میں جھانکا، ایک موقع سا آیا تھا اظہار نکلوانے کا

” جانا ہے کسی اور کے پاس ابھی ہو سکتا ہے کوئی بلا لے؟” آنکھیں چندھیا کر اگلی سیٹ کی بیک پر ہاتھ رکھے اسکی جانب جھکا۔

“نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں،”شرمندگی سے نظریں جھکائی تھیں

“سنو” شاہ نے بھرپور نگاہیں اسکے چہرے پر گاڑیں “جی بولیں؟” عرش نے دل کڑا کر کے اسکی آنکھوں میں جھانکا

“میں بیٹھ جاؤں ادھر؟ اسکے پاس؟” شاہ نے گھمبیر آواز اسکے کانوں میں گھولی، وہ لڑکی بدستور شاہ کو تک رہی تھی

عرش نے نگاہیں چرائیں، اپنے ساتھ والی سیٹ پر رکھا ہوا بیگ اٹھا کر اوپر کیبنٹ میں رکھا سیٹ خالی کی، اور بنا کچھ کہے رن وے پر جہاز دیکھنے لگی،

“میں نے جگہ بنانے کو نہیں کہا، پوچھا ہے؟ میں “وہاں” بیٹھ جاؤں؟” شاہ کے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبانے سے اوپری ہونٹ کا جھکاؤ ذیادہ ہوگیا،عرش کو اسکی موچھیں اسے شرارتی سی لگیں

“نہیں” جھکی ہوئی آنکھیں لرزیں

“جو حکم” سر کو خم دیتے وہ اسکے پاس بیٹھ گیا

کیا لطف تھا، کیا سرور تھا،جو اس “حق”میں تھا۔ “نہیں،” چند گھنٹوں کیلئے بھی اسے کسی اور کے پاس بھیجنا گوارا نہیں تھا۔

“سیٹ بیلٹ باندھ دوں؟” شرارتی سی نگاہ اس پر ڈالی جو گھبرائی ہوئی سی بدستور (حسب عادت) باہر دیکھنے میں مصروف تھی

“میں پہلی بار ٹریول نہیں کر رہی”

“اوکے” مسکراہٹ دبا کر وہ پرسکون ہوگیا اب جہاز ہوا میں تھا

“تم محبت کرتی ہو مجھ سے؟” شاہ نے سامنے دیکھتے سوال کیا

عرش چونکی، جھجکی دل سنبھالا تمام تاثرات کہیں اندر دبائے، چہرے پر ناگواری اور غصے کے تاثرات لائی۔

“بلکل نہیں،” اتنا بولنے والی لڑکی کی زبان سے بس اتنا ہی نکلا

“تم خوش ہو؟ سنڈے کو نکاح ہے “

“ایسے سوالوں کے اچھے جواب وہاں ملتے ہیں جہاں، لو میرج ہو، ارینج میں بس ماں باپ کی خوشی میں خوش ہوا جاتا ہے” اسکا سوال من و عن دہراتے عرش نے قرض چکایا

شاہ مسکرایا، سر کو خم دیا “جی اچھا”

عرش سونے کے کوشش کرنے لگی۔

“سر رکھ لو میرے بازو پر” یہاں وہاں دیکھتے شاہ نے مشورہ دیا

(اب یہ ذیادہ فری ہورہا ہے) عرش کو غصہ آیا

“بہت مہربانی آپکی” درشتی سے کہتے وہ ہلکی آواز میں غرائی۔

“غصہ کیوں ہورہی ہو ایسے ہی پوچھا بس” اسنے تلافی کی

“وہ گہرے سانس لیتی باہر ہوا میں تیرتے بادل دیکھنے لگی

کچھ لمحے یونہی خاموشی سے سرکے

“تمہیں پتا ہے عرش؟ You are the Only thing I Wanna touch” یہ آخری اظہار تھا جو وہ اسکے صبیح چہرے کو دیکھ کر کہتا گیا

بلا اختیار

عرش سرخ ہوئی گردن چہرہ…نچلا ہونٹ کاٹا پھر غصہ آیا بے حد

کچھ کہہ نا سکی اسے بے طرح گھورا

“اچھا سوری، اب میں چپ ہوں کچھ نہیں کہتا” بچوں کے سے انداز میں اسنے ہونٹوں پہ انگلی رکھی

“بہت مہربانی” وہ اب عہد کر رہی تھی نیند نا بھی آئی تو آنکھیں نہیں کھولے گی۔

یہ سارا سفر بھی شاہ نے اسے تکتے ہوئے گزارا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *