Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shah Aur Zahra (Episode 19)

Shah Aur Zahra by Uzma Usman

“عرش بات سنو” وہ اسکی پشت پر کھڑا رہا بے چین سا دل لیکر، وہ اسکے سامنے روتی چلی گئی تھی، .وہ اسے جاتا دیکھتا رہا، چند لمحے پھر اپنے ہاسٹل کی طرف بڑھ گیا مرے مرے قدم لیئے۔

*****

کراچی کی ایک ٹھنڈی سی شام، موسم انتہائی خوشگوار،،

نورینہ کے لان میں کین کی کرسیوں پر، ہاتھ میں چائے کے کپ پکڑے، براجمان انساء اور نورینہ!

خاندان کے جڑ جانے کے بعد روٹین کی ملاقاتیں،

بڑھتی بے تکلفی، اعتماد، وہی جو نکاح کے بعد دو خاندانوں کو قریب لاتا ہے

“آپ عرش کی لو میرج کے حق میں کیوں نہیں تھیں؟” انساء نے اتنے عرصے سے دل میں کلبلاتے سوال کو راستہ دیا۔

“کیونکہ محبت کی بنیاد ہر رکھی جانے والی شادیوں کا اخختام اور انجام، جلدی اور برا ہوجاتا ہے” کپ جھک کر ٹیبل پر رکھتے نورینہ مسکرائیں

“ایسا ضروری تو نہیں ہے” انساء بے چین ہوئیں۔

“ہو سکتا ہے ایسا ضروری نا بھی ہو، ممکن ہے کئی جگہوں میں یہ رشتہ پائیدار ثابت ہوتا ہو، مگر میں رسک لینا نہیں چاہتی تھی میری اکلوتی بیٹی ہے عرش،اسکا اجڑنا میں افورڈ نہیں کر سکتی انساء” نورینہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھیں

“محبت ایک صدق جذبہ ہے، اور یہ آسمانی ہے، آپ کیسے کہہ سکتی ہیں محبت کی بنیاد پر ہونے والی شادیاں پائیدار نہیں ہوتیں؟” انساء بیگم کسی طور مطمئن نہیں ہو رہی تھیں

“مجھے ڈر لگتا ہے، میں نے اپنے خاندانوں میں محبت پر شادیاں ہوتے دیکھیں، انہیں،اجڑتا ایک دوسرے کو کوستے دیکھا، میں نے ان میں بیزاریت دیکھی، اکثیریت لو میرج والوں کا یہ حال تھا،جبکہ ارینج والے، سب ٹھیک ہیں سب نارمل ہیں، ماں باپ کی دعائیں، بیٹیوں کو کسی جہان میں دکھی نہیں ہونے دیتیں، آپ ہماری ہی مثال لے لیں، کس قدر سکون سے زندگی گزری ہے، بغیر کسی طعنوں کے، یا دل پر بوجھ لیئے، نا ماں باپ اپنی مرضی سے بیٹی بیاہنے کے بعد اس سے غافل ہوتے ہیں” وہ عرش کی ماں تھیں، دل سے سوچنے والی

“ماں باپ تو تب بھی غافل نہیں ہوتے جب بیٹیاں چھوڑ چھاڑ کر چلی جاتی ہیں، وہ خاموش ہوجاتے ہیں مگر غافل نہیں، نورینہ، ہم اپنے زمانے سے آج تک دیکھتے آرہے ہیں، محبت ہر دور میں کسی نا کسی شکل میں اپنا آپ منواتی رہی ہے، ہم کب تک اپنی اولادوں کی خوشیوں کا گلہ گھونٹتے رہیں گے؟ ہم کب تک اس لفظ “محبت” سے نفرت کرتے رہیں گے؟ ہر کسی کو ہوتی ہے محبت، انسان اپنے دل میں محبت کا نام لیکر جھانکے تو اسے پتا لگے گا، محبت ہے، یہ جذبہ اپنا وجود رکھتا ہے، یہ اٹل ہے، ہم خود کہیں نا کہیں کسی نا کسی زمانے میں اس جذبے کے زیر اثر آ جاتے ہیں، ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے، پھر ہم اپنی اولادوں سے کیوں محبت کا نام سن کر نفرت کرنے لگتے ہیں؟ کیا یہ منافقت نہیں؟ ” نرم سے لہجے میں وہ اپنا موقف بیان کر رہیں تھیں

” تو کیا ہم آزادی دے دیں؟ کہ جایئے سر عام محبت کیجئے آپکو اجازت ہے آپ اپنے باپ بھائی کی عزت کو سڑکوں پر رولتی پھریں، موبائل پر گھنٹوں وقت برباد کرتی رہیں، یہی تو اہل یورپ کا طرز ہے انساء، آج دیکھئے وہ ذہن کو آزاد کرتے کرتے روشن خیالی کے چکروں میں کس قدر پستی میں گر چکے ہیں، یہ ہماری نسلیں بھی انہیں کہ نقش قدم پر چل رہی ہیں، تب ہی ہر طرف سے محبت کے علاوہ کوئی صدا سنائی نہیں دیتی!” نورینہ جذباتی ہوگئیں،

“آپکی بات درست ہے اس قدر آزادی درست نہیں، مگر اس میں محبت کا قصور نہیں ہے، یہ جو سڑکوں موبائیلوں میں محبت کے نام پر دھندے ہورہے ہیں،ان میں ایک فیصد بھی محبت نہیں ہے،ان میں یا تو مطلب ہے، غرض ہے، آرام طلبی، وقت گزاری ہے،

اصل محبت یہ نہیں ہے،” انساء بے چین ہو کر بول رہیں تھیں،

“لیکن آج کل تو یہ نسل اسی کو “محبت”کہتی ہے اس وقت کی خوبصورت گزاری کو زندگی بنانا چاہتی ہے، جو جتنا اچھا وقت گزرا دے وہ اتنا اچھا! اس سے اتنی ہی اچھی اور گہری محبت، بعد میں بھی یہی امیدیں رکھی ہوتی ہیں، نتیجے طلاقیں ہوتی ہیں، خواب ٹوٹتے ہیں، توقعات کا ڈھیر یونہی پڑا رہتا ہے” نورینہ کے الفاظ انکے دل کی ترجمانی کر رہے تھے

“جو بھی ہے، مگر اولاد کی مرضی سے اسکی شادی کروا دینی چاہیئے، اسے اسکا وہ حق ملنا چاہئے جو جائز ہے انساء، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالئ عنہما نے اپنے لیئے خود پیغام بھیجا، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایمانداری شرافت و نور سے متاثر ہو کر رشتہ بھیجا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا، نا ہی اس میں کوئی برائی تھی، یہ اسلام ہے، کہ آپ اپنے لیئے خاوند خود پسند کرسکتی ہیں، روایت ہے کہ انہوں نے بھی “پیغام بھیجا تھا قاصدوں کے ساتھ” خود نہیں گئیں تھیں، تو اس زمانے میں قاصد ہوا کرتے تھے، اب قاصد نہیں ہیں ، سہولیات ہیں، ماں باپ ہیں، انہیں قاصد بن جانا چاہئے حلال رستہ فراہم کرنا چاہئے، چودہ سو سال پہلے اگر ایک پاک دامن عورت اپنے لیئے خود سے کئی برس چھوٹے شخص کیلئے پیغام بھیجتی ہے، اور نکاح ہوجاتا ہے، تو یہ آج کا دور ہے، ہم کیوں اسلام کی اصل شکل کو مسخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ ہم کیوں اتنی تنگی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اہل یورپ کی آپ بات کرتی ہیں،تو وہ مسلمان نہیں ہیں،انکے مذاہب الگ ہیں، وہ اللہ کی حدود و قیود سے آزاد ہوئے پھرتے ہیں، کوئی بھی مسلمان اگر اللہ کی دائر کردہ حدود کے اندر رہ کر اپنے لیئے زندگی کا ساتھی ڈھونڈنا چاہتا ہے تو یہ جائز ہے، یہ میں نہیں کہہ رہی،، یہ تو اسلام ہے،یہ واقعات ہیں، ہم اولاد کو اسکا جائز حق بھی نہیں دیتے، اولاد کو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ اور اسکے رسول کی دائر کردہ حدود میں رہو، اللہ سے ڈرو، اور انہیں وہ حدیث سنا دینی چاہئے،جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی، کہ تم نکاح کیلئے دین والوں کو ترجیح دو،

ہم اپنی اولاد کے دل کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں،ہم رعب میں رکھتے ہیں، ہم انہیں بولنے کا موقع نہیں دیتے ہم ڈرا کر رکھتے ہیں، اگر ایسی بات کوئی کر بھی دیں تو ہم نا پسندیدگی سے دیکھتے ہیں زدوکوب کرتے ہیں، یعنی ہم اللہ و رسول کو چھوڑ کر معاشرے کی ڈگر پر چلتے ہیں،ہم کمال کرتے ہیں،ہم پسندیدگی اور محبت کو دور کردیتے ہیں، ہم انہیں انکے جائز و شرعی حق سے محروم کردیتے ہیں، ہم حضرت خدیجہ کے طریقے کو بھول جاتے ہیں، ہمیں،اپنی روایات خاندان یاد رہتا ہے،” وہ بول رہی تھیں نورینہ خاموشی سے سن رہی تھیں،

“ہم خاندان کے جھنجٹ سے نہیں نکلتے، ہمیں اپنی اولادیں خاندان میں ہی بیاہنی ہیں، چاہے ان پڑھ،بے روزگار، رشتے ہوں،لڑکے ہیں تو انکے لیئے بھی خاندان سے ہی بہو لانی ہے، چاہئے وہ آکر غیروں سے برا سلوک کرے، باہر اچھے رشتے ہوں بھی تو ہم سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں ،گویا خاندان سے باہر نہیں، اللہ نا کرے غیر مسلموں کے گھر رشتہ کر رہے ہیں، ہماری تربیتوں کی کمی ہے یہ، ورنہ اسلام ایسا نہیں ہے، اللہ کی دائر کردہ حدود میں رہ کر کام کیا جائے تو وہ غلط ہو ہی نہیں سکتا،محبت تو پھر محبت ہے، آپکو پتا ہے شہداء میں سب سے افضل درجہ کونسا ہے؟” وہ بات کرتے ایک دم سوال پوچھنے لگیں،

“نہیں پتا؟ کس کا درجہ ہے؟”

“عاشق صادق کا” وہ مسکرائیں،

نورینہ شاکڈ رہ گئیں،

“شہداء کی فہرست میں پہلے نمبر پر عاشق ہیں،اور یہ عاشق وہ ہیں جنہیں انسان سے عشق ہوا ہو اور وہ اس عشق میں صادق رہے ہوں، اور بالآخر وہ گھل گھل کر شہید ہوجائیں!

اب یہ صادق ہونا؟ اسکا کیا مطلب ؟ یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہے کہ وہ کسی ایک کے رہیں فلاں فلاں، اسکا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے اصولوں پر رہتے ہوئے، کسی کو ایک نظر دیکھ لینے کے بعد اسے سے عشق ہوجائے، پھر انسان جان بوجھ کر دوسری نظر نا ڈالے، اس سے بات نا کرے، اس سے ملنے کی کوشش نا کرے، اسکا قصدا تصور نا جمائے، ہر ممکن کوشش کر ڈالے، کہ وہ اسکے حواسوں سے اتر جائے،مگر پھر بھی وہ محو نا ہو تو یہ انسان گھلنے لگ جائے، گھل گھل کر مر جائے تو ایسا عاشق صادق شہید ہے، کیونکہ وہ اس پر اختیار نہیں رکھتا تھا،،

یہ محبت بری نہیں ہے ہم نے برا بنا دیا ہے، ہم نے اسکی شکل مسخ کردی ہے، ہم نے اسے گرا دیا ہے،”

انساء بول رہیں تھیں،وہ ثابت کر رہیں تھیں کہ وہ شاہ کی ماں ہیں، نورینہ خاموش تھیں، وہ خاموش تھیں، مطلب وہ قائل ہوئیں تھیں!

***

امتحانات شروع ہوگئے تھے، اس دن کے بعد شاہ کئی بار اسے منا چکا تھا کہہ چکا تھا کہ وہ اب اسے لے جاتا ہے، وہ آوٹنگ پر چلے ساتھ مگر عرش آتی پڑھتی، یا غائب دماغی سے کتاب کو تکتی رہتی، جیسا تیسرا ٹیسٹ دے کر وہ چلی جاتی، کوشش کرتی شاہ سے سامنا کم سے کم ہو، وہ چہرا آنکھوں میں بس گیا تھا نظروں سے اوجھل ہوتا ہی نا تھا۔ ابھی بھی وہ اپنی مخصوص کرسی پر دونوں پاؤں اوپر کیئے رنج و الم کی تصویر بنے بیٹھے تھی، کھڑکی کے پٹ کھلے ہوئے تھے،

“آجائیں گے جیجو بی بی حوصلہ رکھو، اور نا ہی وہ وہاں کسی گوری چٹی میم سے شادی کریں گے،” میمونہ اسے اس طرح بیٹھے دیکھ کر پھر سے “تسلی” دینا شروع تھی

جو عرش کو تسلی کم اور “طنز” ذیادہ لگتے تھے،عرش کی کتابیں اسکے بیڈ پر کھلی پڑیں تھیں، باہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، وہی اسلام آباد کا مخصوص معتدل موسم!

“میں اس لیئے اداس نہیں بیٹھی میمونہ کہ شاہ وہاں کسی سے شادی کرلیں گے،” عرش نے بری طرح دانت کچکچائے

“پھر کیا بات ہے پھوٹو گی تو پتا چلے گا، بس اداس دیوی بنی باہر گھورے جارہے ہو جیجو تو نہیں کھڑے باہر”میمونہ کی ہر بات میں ایک طنز نا ہو؟ نا ممکن!

“تم سے شئیر کرنے اور جگتوں کا سامنا کرنے سے بہتر ہے میں خودکشی کرلوں” عرش جل کر بولی

میمونہ کندھے اچکا کر پڑھنے لگی،

عرش کو وہ پورے چاند کی رات یاد آئی جب میمونہ نے اسکا دل ہلکا کیا تھا، اب بھی کرلیتی تو کیا ہوجاتا؟ اسے جیسے مایوسی ہوئی۔

“اب میں تمہیں ہر وقت سمجھا نہیں سکتی،”میمونہ نے زور سے کتاب بند کی ، جیسے اسکی سوچ پڑھ لی ہو

“مم.میں نے کیا کہا؟” عرش روہانسی ہوئی، اس نے تو دل میں سوچا تھا اور مونی؟”

“خود ہی تو کہا تم سے شیئر کرنے سے بہتر خودکشی کرلوں، تو میں ہر وقت تمہاری خاطر سنجیدہ نہیں ہوسکتی، بندہ کبھی مذاق میں بھی اڑا دیتا ہے”وہ چٹخارا لے کر بولی،

عرش برے برے منہ بنانے لگی، اسے شاہ کی پھر سے یاد آئی امتحانات سے قبل وہ اسے اسی ٹائم باہر لے جایا کرتا تھا، اب کوچنگ ٹائم کے علاوہ بات ہی نا ہوتی تھی، وہ اپنی ٹف پڑھائی میں مصروف تھا، فارغ ہوتا اور کال کرتا بھی تو عرش ہوں ہاں کر کے کال کٹ کردیتی، دل بھر آتا، اسے دیکھنے کا دل کرنے لگتا!!!!

وہ دل کو مارتی من کو مارتی،،

مگر کب تک؟

*****

“تم مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو؟” وہ تیز تیز اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے آرہی تھی جب باہر کھڑے شاہ نے اسے جا لیا۔

“میں کیوں بھاگوں گی،” وہ نظریں چرائے،سامنے دیکھتے ہوئے بولی، دوپٹہ جو ہمیشہ کندھے پہ جھولتا تھا آج اس سے سر ڈھکا ہوا تھا مطلب عرش زہرا اچھی باتیں مان لیتی تھی!

“پھر تم اتنا آپ سیٹ کیوں لگنے لگی ہو ؟اور پیپر کیسا ہوا؟” وہ ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

“میں اپ سیٹ نہیں ہوں، سہی ہوا ہے پیپر،” وہ جواب دے کر نظریں جھکائے چلنے لگی۔

“پرسوں آخری پیپر ہے” شاہ نے اطلاع دی

“ہوں” عرش کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ آیا جسے اس نے مشکل سے اتارا

“اس بار فیس کا نہیں پوچھا تم نے، اپنے ٹیوٹر سے؟” وہ اچانک اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگا۔

عرش اسکا منہ تکنے لگی، چہرے پر مسکراہٹ آگئی،

“اب تھوڑی فیس لیں گے ٹیچر، جب پہلے نہیں لی،” وہ مسکرائی، ذہن میں چھائی مایوسی کافور ہوئی

“کیوں؟ ہوسکتا ہے پہلے نا لینا چاہتے ہوں جبکہ اب انکا دل کر رہا اجرت لینے کا؟” وہ آبرو اٹھائے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔

یونیورسٹی لان میں نصب بینچ پر وہ بیٹھ گئے تھے۔ “جب پہلے نہیں لی تو اب کیا لیں گیں، جبکہ اب تو ناں و نفقہ بھی ٹیچر کے ذمے ہے” وہ شریر ہوئی۔

“اب تو لے سکتے ہیں، کیا لیں گے یہ مجھ پر چھوڑ دو،” وہ مسکرایا بینچ سے ٹیک لگا لی،

“بتائیں تو اپنی بیوی سے کیا فیس چاہئیے آپکو؟” وہ بضد ہوئی

“بتا دوں؟ اسکے صبیح و روشن چہرے کو تکتے ہوئے شاہ نے پوچھا، وہ پلکیں بھی نہیں جھپک رہا تھا۔

عرش گڑبڑائی

“گھر کب جائیں گے؟” اسنے موضوع بدلا

“پیپرز کے بعد، اور اسکے بعد رزلٹ تک ویٹ اینڈ ریسٹ، اینڈ آفٹر دیٹ، انشاءاللہ کینیڈا فار اسپیشلائزیشن” وہ مطمئن تھا، عرش کا چہرہ پھر بجھ گیا۔ جو بات وہ لمحوں کیلئے بھولی تھی اب پھر سے یاد آگئی وہ رخ بدل کر دور دیکھنے لگی

“میرا یہ آخری سال ہے” عرش نے بتایا۔

“اسکے بعد تم مجھے یاد کرنا اور انتظار کیا کرنا، ویسے تم اداس ہو تو نہیں ہوگی؟ تھوڑی سی کیا پتا میں یاد آجاوں”شاہ نے مذاق میں کہا تھا، مگر عرش کے دل کو لگی،

وہ نچلا لب بے دردی سے کاٹتے ہوئے آنسو پی گئی، اسکا شوہر ظالم تھا اور اسے تسلی دینے والا بھی نہیں تھا عرش یہ بات جان گئی تھی،

“نہیں کروں گی یاد، انتظار کروں گی”وہ بدقت مسکرائی

“یہ تو میں دیکھ لوں گا” اسکی آنکھوں میں جھانک کر شاہ نے کہا تھا، اور عرش نے دھڑکتے دل کے ساتھ نگاہیں چرائیں، مطلب وہ جانتا تھا کہ وہ یاد کرے گی پھر بھی مذاق؟ عرش کو پھر سے رونا آیا اور شاہ پر غصہ،

وہ اس سے بات کیئے بنا ہاسٹل چلی گئی،

_________

اسکا شوہر ظالم تھا اور اسے تسلی دینے والا بھی نہیں تھا عرش یہ بات جان گئی تھی،

“نہیں کروں گی یاد، انتظار کروں گی”وہ بدقت مسکرائی

“یہ تو میں دیکھ لوں گا” اسکی آنکھوں میں جھانک کر شاہ نے کہا تھا، اور عرش نے دھڑکتے دل کے ساتھ نگاہیں چرائیں، مطلب وہ جانتا تھا کہ وہ یاد کرے گی پھر بھی مذاق؟ عرش کو پھر سے رونا آیا اور شاہ پر غصہ،

وہ اس سے بات کیئے بنا ہاسٹل چلی گئی،

****

“ہو سکتا ہے جیجو نے مذاق کیا ہو ” میمونہ نے کہہ تو دیا پھر پچھتائی۔

“یار حد ہوتی ہے مذاق کی بھی ” اب کی بار عرش نے الماری سے کپڑوں کا ڈھیر باہر پھینکا۔ وہ روتے ہوئے الماری خالی کر رہی تھی۔ پیچھے ڈھیر تھا جو اس نے لگایا تھا۔

“مطلب سب جانتے ہوئے بھی ڈھٹائی سے کہہ دیا “دیکھ لوں گا” میں کوئی مذاق ہوں، بیوی ہوں انکی، اور انہیں رتی برابر بھی پرواہ نہیں” اب کی بار اسنے ہاتھ میں آنے والا پرفیوم کپڑوں کہ ڈھیر پر زور سے پھینکا! اور ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیئے

“بیوی نہیں منکوحہ! میمونہ نے ڈرتے ڈرتے کہا

عرش غصے سے مڑی

“منکوحہ بھی بیوی ہی ہوتی ہے، بیوی کہ سر پر سینگ نہیں ہوتے، مطلب میں انکے گھر جا کر بیٹھ جاؤں تو ہی بیوی کہلاوں گی؟ انکے کام کروں گھر سنبھالوں تو ہی بیوی کہلاوں گی؟ نکاح کی کوئی حیثیت نہیں؟” عرش تن کر مجسمہ سوال بنی کھڑی تھی غصے سے،

“تم گھر جا کر نا بھی بیٹھو نا.. بی بی تو “پکی بیوی” ہی لگ رہی ہو اس وقت” میمونہ نے کتاب چہرےکے آگے کرلی۔

عرش نے افسوس سے اسکو دیکھا پھر سے مڑی اور وہی،،…… الماری سے کپڑے نکال نکال کر پھینکنے لگی،”

“تم جا کر انکو کہہ کیوں نہیں دیتی صاف صاف کہ تم ان کے بغیر نہیں رہ سکتی ایک پل بھی!” میمونہ نے پیٹرول کو آگ دکھائی۔ الٹا مشورہ!

عرش غصے سے اسکے پاس آئی، چہرہ تر اور سرخ تھا،

“تم،،،” انگلی اٹھا کر وارننگ دی، “تم اب… ایک لفظ نہیں بولنا” آگے آکر اسکی آنکھوں میں جھانکا،،دانت کچکچائے۔

” ورنہ قسم ہے مجھے…. میں تمہاری ساری کتابوں نوٹس..پورے سال کی محنت سمیت تمہیں بھی آگ لگا دوں گی” عرش نے اپنے عزائم بتائے، وارننگ دی۔

“نہیں بولتی اب کچھ” میمونہ نے منہ بنایا اور کتاب کے پیچھے منہ کرلیا، کیا بھروسہ تھا اس سرپھری کا مبادا جلا دیتی تو؟”

عرش پھر سے کمرے میں چیزیں اٹھا اٹھا کر پٹخنے لگی رونے لگی،،، بڑبڑانے لگی،،

“کمرہ سمیٹنا مجھے پڑے گا اس بی بی کو تو پھیلانے سے مطلب ہنہ،،،نصیب خراب” میمونہ ہلکے سے بڑبڑائی

****

امتحانات بخیر و عافیت نمٹ گئے، عرش کا منہ ہنوز انہی زاویوں پر تھا، نا ڈھنگ سے جواب نا دیتی نا کچھ سنتی،

شاہ پوچھتا تو ٹال دیتی ٹاپک بدل دیتی، اب رزلٹ کا انتظار تھا اور شاہ اور زہرا تھے!

میمونہ اپنے گھر چلی گئی، یہ بھی آنے کی تیاری میں لگے ہوئے تھے،شاہ کو کچھ وقت لگنا تھا یہ اسکا آخری سال تھا، پھر وہ باہر چلا جاتا اس یونیورسٹی میں یادیں ہی رہ جاتیں،،،

وہ سب سے مل رہا تھا، لنچ ڈنر فئیر ویلز میں مصروف تھا، اور عرش زہرا صرف اسکے لئیے یہاں ٹنگی ہوئی تھی ورنہ وہ اڑ کر گھر پہنچ جاتی!

روز شاہ سے جانے کا کہتی اور شاہ آج کل میں ٹال دیتا۔ آج میمونہ کو گئے بھی تیسرا روز تھا، امتحانات ختم ہوئے ایک ہفتہ، امی روز آنے کا کہہ رہیں تھیں، اور شاہ کی پارٹیز ہی ختم نہیں ہورہیں تھیں،،، سال تو یہ عرش کا بھی آخری تھا مگر اسکی میمونہ کے علاوہ کسی سے دوستی نا تھی تو اسکی مصروفیات اتنی نہیں تھیں،،

“آپ چلیں گے یا میں خود چلی جاؤں؟ ” عرش کے صبر کا پیمانہ لبریز تھا اب وہ کال پہ پھٹ پڑی….

“تم اکیلی کیسے جاؤ گی،؟” شاہ نے تفکر سے پوچھا

عرش کا دماغ بھک سے اڑ گیا…

“کیا مطلب کیسے جاؤں گی؟؟ پہلے کیسے جاتی تھی؟؟ ادھر میں آپکی وجہ سے اتنا انتظار کر چکی ہوں اب آپ کہہ رہے ہیں “میں اکیل کیسے جاؤں گی؟؟ میں آج ہی جا رہی ہوں، جب بھی جیسے بھی” وہ دانت پسیجتے آنسو پیتے ہوئے حتمی لہجے میں بولی، مطلب حد تھی کوئی پرواہ ہی نہیں؟

“مذاق کر رہا ہوں” شاہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا

“لیکن میں سنجیدہ ہوں، مجھے آج ہی جانا ہے، اگر آنا ہے تو آپ آئیں، ورنہ میں جب بھی جیسے بھی چلی جاؤں گی،” اسکے صبر کی حد تھی، “مطلب محبت آسانی سے مل جائے تو کوئی قدر نہیں؟” عرش کا دل رو دیا۔

“سنو..نہیں اکیلی مت جانا،” عرش کو لگا وہ کہے گا میں آتا ہوں،

“یہاں میرے ڈیپارٹمنٹ کی کچھ لڑکیاں ہیں، وہ بھی کراچی کی ہیں اور اب تک گئی نہیں ہیں وہ بھی جا رہی ہیں تم انکے ساتھ چلی جاؤ، میں تو آج انوائٹڈ ہوں”شاہ نے مشورہ دیا، عرش کے تلووں سے لگی سر پر بجھی اسکا دل دھاڑیں مار کر رونے کو چاہا۔ اسنے کچھ کہے بغیر کال کٹ کردی،،

اور گہرے گہرے سانس لیتے اس نے پاس پڑی کتاب شیشے پر دے ماری شیشے کو تو کچھ نا ہوا، مگر کتاب کا بیڑہ ضرور غرق ہوگیا، پتا نہیں لوگ کتاب پر غصہ کیوں نکالتے ہیں!!..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *