Shah Aur Zahra by Uzma Usman NovelR50705 Shah Aur Zahra (Episode 14)
Rate this Novel
Shah Aur Zahra (Episode 14)
Shah Aur Zahra by Uzma Usman
کلفٹن کے اس خوبصورت ساحل پر سفید ریت…اور ریت کے اختتام پر پاکستان کا ایک خوبصورت ترین پارک بن قاسم پارک خوبصورتی اور ہریالی میں اپنی مثال آپ،، پاکستانی 60فیصد ڈراموں کے اہم سین یہاں فلمبند کروائے جاتے ہیں، اسی پارک میں یا اسکے اطراف، یہاں کی ہاوسنگ سوسائٹی میں پروڈکشن ہاؤس ہیں اور کئی اداکاروں، سیاستدانوں، اور دیگر نامور لوگ یہاں مقیم ہیں،
پارک کی دائیں جانب کھڑا بحریہ آئکن….ڈالمن مال، اور ٹوئن ٹاورز، یورپ سے کسی طور کم نہیں
وہ ساحل پر آنے سے قبل اس پارک میں آئے پیلے پتھروں سے بنی باؤنڈری اور اسکے ساتھ ایک ٹریک…ماربل سفید ماربل سے بنا ہوا،
“یہ ساحل جیسی جگہ پر یہ سنگ مر مر لگانے کی کیا تک….” میمونہ بینچ پہ بیٹھتے تصاویر اتار رہی تھی۔ کیا ویو آتا تھا باؤنڈری سے جھانکتا ٹھاٹھیں مارتا سمندر..جسے دیکھ کر خدائی یاد آجاتی…
“پہلے یہاں تک سمندر ہوا کرتا تھا جہاں اب یہ ٹریک ہے،اس ٹریک پر چل آسانی سے مزار تک پہنچا جا سکتا ہے،” سن گلاسز لگاتے ہوئے شاہ نے اسے مطلع کیا،
“مزار؟ کون سے مزار؟” میمونہ اچھنبہ ہوئی
“عبداللہ شاہ غازی کا مزار،” جواب عرش کی طرف سے آیا تھا۔ وہ میمونہ کے ساتھ بینچ پر بیٹھی تھی
“ہم نے تو نہیں دیکھا مزار، مجھے بھی جانا ہے،” اس نے بچوں کی طرح ہونٹ لٹکائے،
“واپسی پر فاتحہ پڑھ لیں گے،ابھی اینجوائے کرو،”
شاہ نے ٹالا
“چلو بیچ پر چلتے ہیں،” وہ اٹھ کھڑی ہوئی،
شاہ اور میمونہ نے اسکی تقلید کی
“ساحل پر پہنچ کر میمونہ کی حالت دیکھنے والی تھی جیسے ہی اس نے پانی میں پاوں رکھا اور
اور میمونہ کو لگا وہ گول گھوم گئی ہے یا گرنے والی ہے، وہ بھاگ کر ان دونوں کے پاس آئی جو اس پر ہنس رہے تھے
“مجھے لگا میں گر جاوں گی، اسلئیے لڑکھڑا گئی، آپ دونوں کو مجھ پر ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے” وہ تلملائی
” محترمہ پانی میں پاوں رکھتے ہیں اور لہر آجائے، تو ریت پھسل جاتی ہے، ادھر کی ادھر، ادھر کی ادھر، کھڑے ہوئے انسان کو لگتا ہے وہ گھوم گیا ، یا دنیا گھوم گئی،” شاہ نے ہنستے ہوئے اسے سمجھایا
عرش اسے دیکھے گئی جو ہنستا تھا تو ستارے رقص کرتے تھے…اسکے بلکل پاس کھڑا کسی آسمان کے چاند کا ٹکڑا .
__________
” محترمہ پانی میں پاوں رکھتے ہیں اور لہر آجائے، تو ریت پھسل جاتی ہے، ادھر کی ادھر، ادھر کی ادھر، کھڑے ہوئے انسان کو لگتا ہے وہ گھوم گیا ، یا دنیا گھوم گئی،” شاہ نے ہنستے ہوئے اسے سمجھایا
عرش اسے دیکھے گئی جو ہنستا تھا تو ستارے رقص کرتے تھے…اسکے بلکل پاس کھڑا کسی آسمان کے چاند کا ٹکڑا ……وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی، جیسے دل بھر رہی ہو
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟” شاہ نے گردن ترچھی کر کے اس پر نگاہ جمائی
“کک کچھ نہیں،” عرش نے گھبرا کر رخ بدلا
“پانی میں نہیں جانا؟” وہ جھک کر جینز کے پائنچے فولڈکرنے لگا
“عرش اسکے پاؤں دیکھے گئی سفید اور بالوں سے بھرے ہوئے، سڈول سے پاؤں۔
“نہیں مجھے نہیں جانا ڈر لگتا ہے،” عرش نے دھڑکتے دل کو سنبھالا
“کس سے ڈر لگتا ہے؟” وہ اب شرٹ کے بازو فولڈ کر رہا تھا
“پانی کی گہرائی سے، قدرت کو اتنے قریب سے دیکھنے سے ڈر لگتا ہے،” اسنے سچائی بتائی۔
“تمہیں تو مجھے دیکھنے سے بھی ڈر لگتا ہے،” بہت کائیاں تھا وہ۔
“آپ کون سے جن یا بھوت ہیں جو میں آپ سے ڈروں گی؟” عرش نے نگاہ چرائی
“اونہوں، میں نے کب کہا تم جنوں بھوتوں سے ڈرتی ہو، تم بس پیار سے ڈرتی ہو،” واپس آتی میمونہ کو دیکھتے اسنے کہا
“میں بس پانی سے ڈرتی ہوں، یہ سارے پنڈورے آپ نے کھولے ہیں،” عرش خفا ہوئی
“ہوں، پتا چل جائے گا،” شاہ نے سر کو خم دیا
“مجھے پیراشوٹ میں اڑنا ہے جیجو، مجھے بھی عرش کو بھی،” معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے میمونہ نے شاہ سے کہا
“یہ تو پانی میں قدم نہیں رکھ رہیں،اور اسے پیراشوٹ میں گھماو گی؟”
“میں بلکل نہیں جاؤں گی، مجھے مرنا نہیں ہے،کوئی نا بلائے مجھے،” عرش ریت کی جانب بڑھنے لگی مبادا وہ پکڑ کے اسے ہوا میں اڑا دیں
“اسے پکڑ کو میمونہ یہ بغیر پیراشوٹ کے اڑ رہی ہے”ہنسی دباتے ہوئے شاہ نے دور جاتی عرش کو دیکھ کر کہا
“میں اسکو لاتی ہوں آپ تین بلون اسٹارٹ کروائیں،” وہ بھاگی
شاہ دور ساحل پہ کھڑے پیرا شوٹ لئیے کھڑے لڑکوں کی طرف بڑھ گیا جو چند منٹوں کیلئے آپکو زمین سے آسمان کی سیر کروا دیتے ہیں، یہ آپ پر منحصر ہے آپ کتنا اسٹیمنا دکھا سکتے ہیں،
میمونہ عرش کو لے آئی
“شاہ میں نہیں بیٹھوں گی، مجھے اس پانی سے خوف آتا ہے، کہاں میں اس خوفناک سمندر کے اوپر اڑنے لگ جاؤں، آپکو مجھے مارنا ہے تو ایسے ہی مار دیں، میں ڈوب کے نہیں مرنا چاہتی،” عرش کو دیکھ کر لگ رہا تھا وہ ابھی رو دے گی
“تمہیں کچھ نہیں ہوگا عرش، میں ہوں ساتھ، تمہارے پاس، میرا ہاتھ تھام کے اڑنا، جیسے اللہ نے پہاڑ پر تمہیں میرے لئیے سلامت رکھا تھا ویسے ہی پانی پر بھی رکھے گا، بی بریو”
عرش چند لمحے کچھ بول ہی نا پائی
میمونہ کے استفسار پر اسنے سر ہلایا کے وہ تیار ہے
“واہ جیجو” میمونہ نے سلیوٹ کے انداز میں ہاتھ پیشانی سے لگایا
شاہ اسے تھام کر پیراشوٹ والے کے پاس کے گیا اسکی کمر کے گرد، خود بیلٹ باندھے
“میں دوستوں کے ساتھ یہاں کئی بار رائڈ کے چکا ہوں، اسلیئے باندھنے آگیا ہے” عرش کے پوچھنے پر کہ اسے کیسے بیلٹ باندھنے آئے تو اسنے بتایا
پھر اپنا بیلٹ بھی اسنے خود باندھا اسکی مہارت دیکھ کر پیراشوٹ والے نے اس پر اعتماد کیا۔
“دیکھو بھائی، میرا کس کے باندھنا، ابھی میری شادی تو کیا منگنی بھی نہیں ہوئی، اکلوتی بیٹی ہوں میں اپنے ماں باپ کی، ابھی میری پڑھائی بھی ادھوری ہے، دنیا میں اچھے لوگ ویسے ہی کم ہیں میں نہیں چاہتی کہ تم غفلت کے مرتکب ہوکر ایک اچھی لڑکی کے قتل کے جرم میں جیل جاؤ ،” میمونہ رائڈ والے کو سختی سے سمجھا رہی تھی.
شاہ ہنس رہا تھا، اسے دیکھ کر میمونہ کو بھی ہنسی آگئی شاہ مطمئن ہوگیا تھا۔
پھر انکے بیلون پھولنے لگے یہ زمین سے اوپر جانے والے گیس سے چلنے والے پیراشوٹ تھے، نا کہ وہ جو اونچائی سے گرنے کے بعد کھلتے ہیں،کراچی کے اکثر ساحلوں پر منچلے ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں،”
انکی کمر سے بندھا ہوا ایک رسی نما کئی میٹر لمبا بیلٹ ساحل پر کھڑے کونڈے میں فکس تھا، اگر خدانخواستہ بلون میں کچھ ہوجائے تو انہیں آسانی کے ساتھ ساحل پر لایا جاسکے
انکے غبارے اوپر کو اٹھنے لگے تینوں ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر تھے چند فٹ کا فاصلہ،
عرش نے قرآنی آیات، و استغفار کا ورد شروع کردیا جبکہ میمونہ بہت ایکسائٹد تھی، اسکے منہ سے خوشی کے مارے آوازیں نکل رہیں تھیں،
چند سیکنڈ لگے تھے پھر وہ ہوا میں تھے اوپر، یہاں سے وہاں خود حرکت دینے پر غبارہ اسی سمت رخ کرلیتا، شاہ عرش کو ہی دیکھ رہا تھا جو بے حد گھبرائی ہوئی تھی، ساحل سے نظر ہٹا کر پیچھے دیکھو، تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے، یہاں سے وہاں ٹھاٹھیں مارتا سمندر، اور بے رحم سی بڑی بڑی لہریں، جسکا کہیں اختتام نظر ہی نا آتا تھا
میمونہ جسم کو حرکت دے کر اوپر سے اوپر جانے کے چکروں میں تھی، “اوہ مائی گاڈ، یہ تو عجوبہ ہے،.مجھے ایسا لگ رہا ہے میں آسمان سے دنیا دیکھ رہی ہوں یاہوو”میمونہ کی دور سے آواز آئی اتنی تیز ہوا تھی کہ آنکھیں نہیں کھلتی تھیں
،وہ عرش کو دیکھنے لگا،
اسکی آنکھیں بند سی ہورہی تھیں، اور غبارہ بدستور نیچے کی جانب تھا وہ مدہوش سی لگ رہی تھی نا کوئی آواز نا کچھ تیز ہوا کے تھپیڑوں سے اسکا چہرا جھول رہا تھا،
شاہ نے خود کو حرکت دی غبارے کا ہوا میں رخ موڑنے مشکل تھا پھر بھی وہ عرش تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اسکا غبارہ اسکے غبارہ سے ٹکرا کر مل سا گیا
شاہ نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے لگا لیا کہیں وہ گر نا جائے
وہ مدہوش سی تھی آنکھیں بھی بند شاہ کی گرفت میں آنے کے بعد اسے لگا وہ زمین پر ہے تو اسنے آنکھیں کھولیں
“مجھے بچا لیں شاہ میں مر جاؤں گی مجھے ڈوب کر نہیں مرنا” وہ اسکے سینے میں منہ چھپائے رو رہی تھی”
شاہ نے اسکی کمر پہ گرفت مضبوط کی، اسکا چہرا ہوا کے تھپیڑوں سے بچا کر سینے میں چھپایا، اور خود کو کوسا کیا ضرورت تھی اسے اس طرح مجبور کرنے کی،
بمشکل آنکھ کھول کر اسنے رائڈ والے کو اشارہ کیا کہ وہ انہیں کھینچ لے،
“عرش نیچے جا رہے ہم آنکھیں کھولو” اسکا چہرا تھپتھپایا۔ ہوا میں اڑتے زمیں سے کوسوں دور…وہ اسے فکرمندی سے خود سے لپٹائے بحفاظت زمیں پہ لایا۔خود سے پیراشوٹ الگ کرتے اسنے عرش کا پیراشوٹ کھولا۔
وہ مدہوش سی تھی اسکے بازو پہ جھولتی ہوئی،وہ چھوڑتا تو وہ گر جاتی،
“ہوجاتا ہے بھائی، کمزور دل لوگ بیٹھیں، تو تھوڑی دیر الٹی،چکر ہو جاتا ہے،” وہ لڑکا اسے پریشان دیکھ کر تسلی دینے لگا میمونہ بھی آگئی
وہ پیمنٹ کر کے میمونہ کے سہارے اسے گاڑی میں لے آیا اسکے کپڑے بھی ریت سے اٹے ہوئے تھے۔
“سر آنکھیں کھولو،ہم گاڑی میں ہیں،” پانی کی بوتل پکڑے گاڑی کی بیک سیٹ پر تھے
“یہ لو پانی پیو،” شاہ نے منرل واٹر اسکے منہ سے لگائی، وہ ابھی تک اسکے حصار میں تھی۔
“بس اور نہیں،” بمشکل آنکھیں کھول کر عرش نے دوبارہ اسکے سینے میں سر چھپا لیا۔ میمونہ کیا سوچے گی لوگ کیا کہیں گے، شاہ کیا سوچے گا ساری سوچوں کو پرے کر کے شاہ کے حصار میں تھی،بہتر محسوس کر رہی تھی مگر اٹھنا نہیں چاہتی تھی، آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی،اسکے سینے میں سر چھپائے آنکھیں بند کئیے ہوئے ان لمحوں میں تھی جب شاہ نے آگے بڑھ کر اسے خود سے لگا لیا تھا۔ جیسے ہر خطرے سے محفوظ کردینا چاہتا ہو،
“عرش تم ٹھیک ہو؟” شاہ نے اسکے ماتھے پر بکھرے بال ہٹائے ایک بازو اسکے گرد باندھا ہوا تھا
“ہمم میں ٹھیک ہوں، آپ ڈرائیو کریں،” وہ ہتھیلی سے اسکے سینے پر زور دیتی دور ہوئی
میمونہ آگے کی سیٹ پر پریشان سی ہوکر انکی جانب رخ کئیے بیٹھی تھی۔
شاہ نے سر ہلایا،
“آگے نہیں آو گی؟” شاہ نے اسے ٹھیک سے بٹھائے ہوئے پوچھا
“نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں” عرش نے نگاہیں چرائیں
“میمونہ تم یہاں آجاو اسے یہ پلادو” جوس کا ڈبا میمونہ کی طرف بڑھاتے ہوئے شاہ نے کہا،
وہ فرنٹ سیٹ پر آگیا وہ دونوں پیچھے،
“اب کہاں جانا ہے؟” میمونہ نے پوچھا
“گھر جانا ہے،عرش کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے،” گاڑی ریورس کرتے اسنے کہا
“نہیں مونی کو مبارک ولیج کے جائیں، میں اسکا ٹرپ نہیں خراب کرنا چاہتی،” عرش نے سکون سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا
“نہیں ہم کل پرسوں چلے جائیں گے، اتنا کوئی ضروری نہیں ہے ٹرپ،” میمونہ نے ڈپٹا
“ٹھیک کہہ رہی ہے میمونہ، اور یہاں سے چار گھنٹے صرف راستے میں لگ جائیں گے،اور وہاں دن میں دیکھنے گھومنے کا ہے،رات میں نہیں،” شاہ نے سمجھایا
“پھر پورٹ گرینڈ لے جائیں،وہاں جاتے جاتے آدھا گھنٹہ لگے گا، پھر دودریا پہ ڈنر پھر گھر” عرش کسی صورت گھر جانے پر آمادہ نا تھی
” میرا خیال ہے تم بلکل ٹھیک ہوگئی ہو، تمہیں اب چرنا آئی لینڈ لے جانا مناسب ہے”شاہ نے چھیڑا
“اللہ بچائے اس جزیرے سے جہاں انسان مچھلی کی طرح سمندر کے اندر جاتا ہے، سمندر پہ رائڈ کرتا ہے، دریا کے بجائے سمندر پہ کشتی چلائی جاتی ہے، اور لائف جیکٹ پہن کر، یعنی کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے،” عرش نے جھرجھری لی
“چرنا آئی لینڈ مطلب؟” میمونہ ایکسائٹد ہوئی
“چرنا آئی لینڈ،سیدھا سیدھا مطلب، جزیرہ، جہاں خطرے رقص کرتے ہیں،” عرش جل کر بولی
“وہاں قدرت کے شاہکار بھی رقص کرتے ہیں، وہاں چند سالوں میں دیوہیکل عین سمندر کے بیچ و بیچ نمودار ہونے والا دیوہیکل پہاڑ کھڑا ہے، وہاں حوصلہ نہیں، دل گردے لیکر جایا جاتا ہے” شاہ نے تفصیل کی
“مطلب فل خطرہ؟ فل فن؟” میمونہ کا جوش دیدنی تھا
“بی بی تمہیں نہیں بھیجوں گی میں، سہی سلامت گھر بھیجنا ہے،نا کہ قبرستان،”عرش غصہ ہوئی
“جیجو آپ ہمیں لے جائیں گے نا؟” معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے لہجے میں وہی شہد سمویا جو شاہ سے کام نکلواتےوقت آیا کرتا تھا۔
“دیکھتے ہیں” ٹالا گیا
وہ پورٹ گرینڈ پہنچے
“یہاں کیا ہے ویسے؟” میمونہ کی زبان میں کھجلی ہوئی
“پارک، شاپنگ، فوڈ ایریا، اینڈ فن لینڈ، اور ساحل،” شاہ نے بتایا۔
“واو، پورا پیکج ایک ساتھ،”
“میمونہ اور عرش پیچھے جبکہ شاہ دو قدم آگے تھا۔
“آٹس امیزنگ،” بے اختیار میمونہ کے منہ سے نکلا
ہریالی کے بیچ و بیچ برج کی طرح کھڑی عمارت نما گھر،
جسکی داہنی سائڈ سے ایک فوڈ اسٹریٹ گزر رہی تھی۔ چھوٹے برقی قمقموں سے سجاوٹ، اعلی اقسام کی خوبصورت ٹیبلز اور ایک قطار میں کھڑے خوبصورت سے کیبن میں پاپ کارن اور آئس کریم کی شاپس!
“پاپ کارن بیچنے کے اتنے خوبصورت انداز؟” وہ متاثر ہوئی (بس متاثر ابھی قائل ہونا باقی تھا
)
ہر دکان کے ساتھ کھڑا فانوس، اور خوبصورت آرائشی اشیاء سے سجی دکانیں،
ہر جگہ بیٹھنے کیلئے رکھی گئی چئیرز ٹیبلز۔
“مجھے نہیں پتا تھا پاپ کارن کی شاپس پنک بھی ہوسکتی ہیں،” پاپ کارن کے بڑے بڑے پیکٹ سے نکال کر کھاتے ہوئے میمونہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ وہ باؤنڈری کی طرف آگئے جسکے نیچے سمندر بہہ رہا تھا۔
“ایسا رہا ہے جیسے ہم کسی بڑے ٹائٹینک ٹائپ جہاز میں بیٹھے ہیں،” سمندر کی لہروں کو اتنے پاس ٹکراتے دیکھ کر میمونہ نے کہا
” شاہ یہ ہلتے کیوں ہیں؟ سمندر کے اوپر بنائے گئے پل؟ ہوٹل بھی؟، یہ ہمیشہ ہلتے ہوئے کیوں ہوتے ہیں؟ ایسا لگتا ہے جیسے ٹوٹنے والے ہیں، چلتی ہوئی گاڑی سے اس دن پل پر اترے کھڑے تھے،اور کوئی گاڑی گزرے تو یوں لگتا تھا جیسے گر جائے گا” عرصے سے ذہن میں کلبلاتے سوال کو عرش نے پوچھا
“یہ ہلتے نہیں ہیں ان میں لچک رکھی جاتی ہے،تاکہ یہ ٹوٹنے سے محفوظ رہیں،اسپرنگ سریا ڈالا جاتا ہے، تاکہ یہ وزن برداشت کرسکیں، ورنہ سخت اور بغیر ہلے کھڑے یہ پل، ہوٹل سب ٹوٹ جائیں، اگر ان میں لچک نا ہو” اسنے عرش کی الجھن دور کی
“آپ لوگ باتیں کریں میں چکر لگا کے آتی ہوں اکیلے” میمونہ کہتے ہوئے چلی گئی اب باؤنڈری پہ وہ دونوں اکیلے تھے۔
“تم اتنا ڈری کیوں؟” شاہ نے دونوں ہاتھ باونڈری پہ جمائے ہوئے تھے۔
” کب؟” وہ اپنے خیالوں سے چونکی
“جب پہراشوٹ میں تھے،”
“مجھے لگتا تھا ہماری ارینج میرج ہے، لو میرج نہیں، تو آپ کیوں میری پرواہ کریں گے؟ تو ڈر لگا کہیں میں گر نا جاؤں آپ کیوں بچائیں گے مجھے” اب کی باڑ عرش نے سکون سے بازو سینے پہ لپیٹے اس کی چوری پکڑی۔
“دیکھو اگر،،،”
“پلیز اب یہ نا کہیئے گا تمہاری جگہ کوئی اور بھی ہوتی تو میں اپنا حق سمجھتا اسکی پرواہ کرنا،” عرش نے اسکی بات کاٹی۔
شاہ کی چوری پکڑی گئی تھی وہ تھانیدارنی بنی اقبال “جرم” کروا رہی تھی
“کتنا بولتی ہو نا تم” اب کی بار شاہ نے آنکھیں پھیریں، وہ منہ پھیر کر مسکرایا تھا۔
_________
“تم اتنا ڈری کیوں؟” شاہ نے دونوں ہاتھ باونڈری پہ جمائے ہوئے تھے۔
” کب؟” وہ اپنے خیالوں سے چونکی
“جب پہراشوٹ میں تھے،”
“مجھے لگتا تھا ہماری ارینج میرج ہے، لو میرج نہیں، تو آپ کیوں میری پرواہ کریں گے؟ تو ڈر لگا کہیں میں گر نا جاؤں آپ کیوں بچائیں گے مجھے” اب کی باڑ عرش نے سکون سے بازو سینے پہ لپیٹے اس کی چوری پکڑی۔
“دیکھو اگر،،،”
“پلیز اب یہ نا کہیئے گا تمہاری جگہ کوئی اور بھی ہوتی تو میں اپنا حق سمجھتا اسکی پرواہ کرنا،” عرش نے اسکی بات کاٹی۔
شاہ کی چوری پکڑی گئی تھی وہ تھانیدارنی بنی اقبال “جرم” کروا رہی تھی
“کتنا بولتی ہو نا تم” اب کی بار شاہ نے آنکھیں پھیریں، وہ منہ پھیر کر مسکرایا تھا۔
“جو بھی بولتی ہوں سچ بولتی ہوں” عرش خفا ہوئی۔
“آپ مان کیوں نہیں لیتے یہ بات؟”
“تم منوانا آخر کیوں چاہتی ہو؟ تمہارے اپنے دل میں تو “کچھ”نہیں؟” شاہ نے بمشکل مسکراہٹ لبوں پہ روکی
“میرے دل میں ہوگا تو میں آپکی طرح چھپاوں گی نہیں” وہ پانی پہ پڑتی روشنیاں دیکھنے لگی۔
“تو اتنے عرصے سے خاموش کیوں ہو؟”شاہ سیدھا ہوا اور اسکی آنکھوں میں جھانکا۔ صاف دو ٹوک۔
“مم میں کیوں خاموش ہوں، کیا مطلب؟ میں آپ سے پوچھ رہی آپ مجھ پر ہی بات پلٹ رہے، صاف ظاہر ہے آپ ٹال رہے ہیں” عرش بڑی طرح گڑبڑائی
“اگر ٹال بھی رہا ہوں تو تم مجھ سے اگلوا نہیں سکتی عرش، ابھی تمہارا دل اور دماغ اتنے قابل نہیں” سیدھا سیدھا طنز ہی تھا
“آپ مجھے بے وقوف کہہ رہے ہیں؟” وہ رونکھی ہوئی اور نفی میں سر ہلاتے دو قدم پیچھے ہوئی۔
“میں کیوں تمہیں بے وقوف کہوں گا، بس تم مجھ سے اگلوا نہیں سکتی” وہ سادگی سے مسکرایا
“مجھے یہ چیلنج قبول ہے، مسٹر شاہ ارسلان، میں بہت جلد آپ سے اگلوا لوں گی تمام تر جزئیات سمیت” وہ بھی مسکرائی
“تم بھی مان لو گی پھر کہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہو؟” شاہ نے گردن ترچھی کی
“منظور ہے”
“اب چلیں دودریا؟ اگر آپ لوگوں کی باتیں ختم ہوگئی ہوں؟ مجھے بھوک لگ رہی ہے” میمونہ لدا پھندا بیگ لئیے انکے پاس آئی
“کھانے کے علاوہ بھی دنیا میں بہت کچھ ہے” عرش چڑ گئی۔
“مثلا؟” میمونہ نے برگر کی بائٹ لی
“اس سے مت پوچھو یہ کہہ دے گی کھانے کے علاوہ دنیا میں محبت بھی ہے بندہ وہ کرلے،” جواب شاہ کی طرف سے آیا
“شاہ یہ غلط بات ہے” عرش رکی دانت پسیجے۔ شوہر تھا تو کیا؟ سر پہ ہی چڑھا جا رہا تھا۔
“اچھا چلو باقی باتیں راستے میں کرلینا،” وہ کان لپیٹتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
پھر سارے راستے عرش نے وقفے وقفے سے اسے باتیں سنائیں تھیں، جس پر رتی برابر اثر نا تھا
میمونہ اسکی جلی کٹی باتیں سن کر ہنستی رہی۔
